| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::::::: یہ ذریعہ رزق حلال نہیں ::::::: (1)روح والی چیزوں کی تصویر سازی ::::::: الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین، خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ، السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، اللہ سُبحانہ و تعالیٰ اِیمان والوں کو پُکار کر حُکم دیتا ہے ، (((یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِن طَیِّبَاتِ مَا رَزَقنَاکُم وَاشکُرُوا لِلّہِ اِن کُنتُم اِیَّاہُ تَعبُدُونَ))) (((اے اِیمان لانے والو ہم نے جو پاک (حلال )رزق تُمہیں دِیا ہے اُس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شُکر ادا کرو اگر واقعتا تُم لوگ صرف اُسی کی عِبادت کرتے ہو ( تو تب ہی ایسا کرو گے )))) سورت البقرۃ / آیت ١٧٢ ، ::::::: (١) روح والی چیزوں کی تصویرسازی ::: کِسی شک و شبہے کے بغیر اہل سنّت و الجماعت کے تمام مذاہب کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ ذی روح (یعنی روح والی کوئی بھی چیز ) کی تصویر بنانا حرام ہے ، اور اِس حرام کام کے ذریعے کئی گئی کمائی بھی حرام ہے ، ::::::: (٢) رُوح والی چیزوں کی تصویروں کی خرید و فروخت :::ایسی کتابوں ، اخباروں اور رسالوں (ڈائجسٹس ، میگزینز وغیرہ )کی خرید و فروخت ، جِن میں روح والی چیزوں کی تصویریں ہوں ، اور اُن کی خرید و فروخت نہ تو واقعتا ضرورت میں شامل ہوتا ہو اور نہ ہی جِن کو استعمال کرنا مجبوری ہو ، خاص طور پر ایسی کتابیں ، اخبارات ، رسالے ، ڈائجسٹ ، وغیرہ جِن میں ایسی تصویریں ہوں جو گُناہ کی طرف مائل کرنے اور گناہ کر گذرنے کا سبب ہوتی ہیں ، ایسی کتابوں ، رسالوں اخباروں وغیرہ کی خرید و فروخت حرام ہے ، اور ظاہر ہے اِس حرام کمائی پر پلنے والے کی دُعا کیسے قُبُول ہو سکتی ہے ؟ رُوح والی چیزوں کی بلا مشروط تصویر سازی ، بلا شک و شبہہ حرام کام ہے ، مکمل اجازت صرف بغیر رُوح والی چیزوں کی تصویر بنانے کی ہے ، اور رُوح والی چیزوں کی تصویر سازی ، تصویر بازی ، اورایسی تصویروں کی تجارت ، کے بارے میں کچھ مسائل تفصیل طلب بھی ہیں اور ضروری سیکھ و سمجھے جانے والے بھی ہیں ، مثلاً ، تصویر کِس ذریعے سے بنائی گئی ؟ اور کِس مقصد سے بنائی یا بنوائی گئی ؟ وغیرہ ، اِن مسائل کے بارے میں اِنشاء اللہ پھر کِسی مجلس میں ذِکر کیا جائے گا ، فی الحال تصویر سازی کے حرام ہونے کے چند دلائل ملاحظہ فرمائیے ، جو اِس بات کو انتہائی واضح کرتے ہیں کہ تصویر سازی کِسی بھی ذریعے سے کی جائے ، حرام کام ہے ، ::: دلیل 1 ::: عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اِنَّ اَشَدَّ الناس عَذَابًا عِندَ اللَّہِ یوم القِیَامَۃِ المُصَوِّرُونَ )( بے شک قیامت والے دِن اللہ کے پاس سب سے زیادہ عذاب پانے والوں میں سے تصویریں بنانے والے بھی ہیں ) صحیح البُخاری /حدیث ٥٦٠٦/کتاب اللباس / باب ٨٧، صحیح مُسلم / حدیث ٢١٠٩ /کتاب اللباس /باب ٢٦ ::: دلیل 2 ::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اِنَّ الَّذِینَ یَصنَعُونَ ہذہ الصُّوَرَ یُعَذَّبُونَ یوم القِیَامَۃِ یُقَالُ لہم اَحیُوا ما خَلَقتُم ) ( جو لوگ یہ تصویریں بناتے قیامت والے دِن اُنہیں عذاب دِیا جائے گا اور کہا جائے گا جو تُم نے تخلیق کِیا (اب ) اُسے زندہ (بھی) کرو ) صحیح البُخاری /حدیث ٥٦٠٧/کتاب اللباس / باب ٨٧، صحیح مُسلم / حدیث ٢١٠٨ /کتاب اللباس /باب٢٦، ::: دلیل 3 ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اِس فرمان مُبارک کی تفسیر خود ہی بیان فرمائی ، جو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت میں ہے کہ ::: میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ( مَن صَوَّرَ صُورَۃً فی الدُّنیَا کُلِّفَ یوم القِیَامَۃِ اَن یَنفُخَ فیہا الرُّوحَ وَلَیسَ بِنَافِخٍ ) ( جِس نے دُنیا میں کوئی تصویر بنائی قیامت والے دِن اُس پر یہ لازمی قرار دِیا جائے گا کہ وہ اُس تصویر میں روح ڈالے اور وہ ایسا نہیں کر سکتا ) صحیح البُخاری / حدیث ٥٦١٨ /کتاب اللباس /باب ٩٥، ::: دلیل 4 ::: ابی جُحیفۃ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ (اِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلی اللَّہ عَلیہِ و سلم نَہی عَن ثَمَنِ الدَّمِ وَثَمَنِ الکَلبِ وَکَسبِ الاَمَۃِ وَلَعَنَ الوَاشِمَۃَ وَالمُستَوشِمَۃَ وَآکِلَ الرِّبَا وَمُوکِلَہُ وَلَعَنَ المُصَوِّرَ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہِ وسلم نے خون اور کُتے کی قیمت سے منع فرمایا (یعنی اِن کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ) اور باندی (لونڈی )کی کمائی سے منع فرمایا(یعنی اُس سے کام کروا کر خواہ وہ کام حلال ہی ہو ، اُس کی کمائی اِستعمال کرنے سے منع فرمایا )، اور وشم کرنے اور کروانے والی پر لعنت کی ، اور سُود کھانے اور کِھلانے والے پر لعنت کی ، اور تصویر بنانے والے پر لعنت کی ) صحیح البُخاری /کتاب البیوع کی آخری حدیث ، ::: دلیل 5 ::: سعید بن ابی الحسن رحمہُ اللہ سے روایت ہے کہ ''' جاء رَجُلٌ الی بن عَبَّاسٍ فقال انی رَجُلٌ اُصَوِّرُ ہذہ الصُّوَرَ فَاَفتِنِی فیہا فقال لہ''' ادنُ مِنِّی '''فَدَنَا منہ ثُمَّ قال''' ادنُ مِنِّی '''فَدَنَا حتی وَضَعَ یَدَہُ علی رَاسِہِ قال ''' اُنَبِّئُکَ بِمَا سمعت من رسول اللَّہِ صَلی اللَّہ عَلیہِ و سلَّم سَمعت ُ رَسُولَ اللَّہِ صَلی اللَّہ عَلیہِ و سلَّم یَقُولُ ( کُلُّ مُصَوِّرٍ فی النَّارِ یَجعَلُ لہ بِکُلِّ صُورَۃٍ صَوَّرَہَا نَفسًا فَتُعَذِّبُہُ فی جَہَنَّمَ ) وقال ان کُنتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصنَع الشَّجَرَ وما لَا نَفسَ لہ ''' ''' ایک آدمی ابن عباس رضی اللہ عنہُ کے پاس آیا اور کہا میںیہ تصویریں بناتا ہوں مجھے اِس کے بارے میں فتویٰ بتائیے ، عبداللہ رضی اللہ عنہُ نے کہا ''' میرے قریب آؤ '''، وہ شخص قریب ہوا ، تو عبداللہ رضی اللہ عنہُ نے پھر کہا ''' میرے قریب آؤ '''، وہ شخص اور قریب آیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہُ نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا ''' میں تمہیں وہ بتاتا ہوں جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ ( ہر تصویر ساز جہنم میں جائے گا ، اُص نے جو جو بھی تصویر بنائی ہوگی اُس کے بدلے ایک جان بنا دی جائے گی جو اُسے جہنم میں عذاب دیتی رہے گی )''' اور پھر عبداللہ رضی اللہ عنہُ نے فرمایا ''' اگرتمہارا تصویر سازی کے بغیر گذارا نہیں تو درختوں (پودوں پھولوں وغیرہ) کی تصویریں بناؤ اور ایسی چیزوں کی تصویریں بناؤ جِن میں روح نہ ہو ''' ، صحیح مُسلم / حدیث ٢١١٠/کتاب اللباس والزینۃ/باب٢٦، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن ارشادات سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ کِسی بھی قِسم کی ''' تصویر سازی''' حرام ہے ، اور آخرت میں انتہائی شدید عذاب کا سبب ہے ، تصویر خواہ ، ہاتھ سے بنائی گئی ہو ، یا کِسی بھی آلے سے ، شرعی طور پر ایک ہی معاملہ ہے ، تفصیلات اِنشاء اللہ کِسی دوسری مجلس میں بیان کروں گا ، پس حرام کام سے کی گئی کمائی بھی حرام ہی ہوتی ہے ۔ اب اگر کوئی یہ سوچے کہ میں تصویر بناتا یا کھینچتا نہیں ، بلکہ بنواتا یا کھنچواتا ہوں ، لہذا یہ عذاب والے حُکم مجھ پر لاگو نہیں ہوتے ، تو اُس کے لیے یہ کافی کہ اگر وہ بلا ضرورت و بلا جبر و اِکراہ تصویر بنواتا ہے وہ ایک حرام ہونے کا سبب بنتا ہے اور اُس کام میں برابر کا شریک ہوتا ہے ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ فی زمانہ جدید آلات اور طریقوں کی بنا پر یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ فُلاں قِسم کی تصویر جائز ہے ، کچھ عرصہ پہلے کیمرے کے ذریعے بنائی گئی تصویر ، فوٹو گراف کو بھی کچھ ایسی ہی غلط فہمی کی بنا پر جائز کہا جانا شروع ہوا ، اور سبب یہ بتایا گیا کہ یہ تصویریں ہاتھ سے نہیں بنائی جاتی ہیں ، بلکہ یہ تصویر ہی نہیں ہیں ، بلکہ عکس ہیں جس طرح کسی چیز کا عکس آئینے میں ظاہر ہوتا ہے ، اسی طرح یہ تصویر عدسے کے ذریعے ایک مخصوص مواد پر ظاہر ہوتی ہے اور پھر کچھ کیمائی عمل کے ذریعے اسے ایک اور مواد پر منتقل کر لیا جاتا ہے ، پس یہ محض عکس ہے ، آج کل تقریباً اسی قسم کی بات ڈیجیٹل تصاویر کے بارے میں کہی جاتی ہے ، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ تصویر جو ہاتھ سے بنائی جائے ، یا کسی آلے کی مدد سے نقش کی جائے ، اس کے نقش ہو کر محفوظ ہونے کی کیفیت کسی کیمیائی عمل کی مرہون منت رہی ہو یا کسی طور کسی قسم کے برقی اشارات کی ، ہر صورت میں نتیجہ ایک نقش شدہ محفوظ تصویر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، جسے ہر دیکھنے والا تصویر ہی کہتا اور سمجھتا ہے ، اللہ تعالی ابد الابد تک ہونے والے ہر کام کو جانتا تھا اور جانتا ہے ، اور اللہ کی مکمل بے عیب حکمت ہے کہ اُس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان مبارک سے لفظ ''' صورۃ ::: تصویر ''' ادا کروا ، ہاتھ سے بنی ہوئی ، کسی اوزارسے تراش کر بنی ہوئی ، کسی مکینکل اور کیمیکل ایکشن کے نتیجے میں بنی ہوئی ، کچھ الیکڑیکل سگنلز پر مختلف دیگر الکٹریکل پراسسز کے نتیجے میں بنی ہوئی ، سب ہی تصویریں ، تصویر ہی ہیں ، اور ان کا ایک حکم ہے ، ان میں کوئی بھی آئینے میں نظر آنے والے عکس کی طرح نہیں ، کیونکہ آئینے میں کسی کا عکس اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک وہ آئینے کے سامنے ہو اور وہ عکس ایک لمحے کے لیے بھی کسی بھی طور محفوظ نہیں ہوتا ، جبکہ مذکورہ بالا ہر قسم کی تصویر کے لیے معکوس کا عکس معکوس فیہ میں محفوظ ہو کر کسی جگہ ، کسی مواد ، پر ظاہر ہوتا ہے ، خواہ وہ فرکشن آف سیکنڈز کی حد تک ہی محفوظ رہا ہو جیسا کہ ''' الائیو ٹرانسمیشن''' میں ہوتا ہے ، الیکٹرانکس کا تقریباً ہر طالب علم یہ جانتا ہے کہ کسی عدسہ سے منتقل ہونے والا عکس (روشنی کے مختلف اشارے) کسی الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے برقی اشارات میں تبدیل ہوتے ہیں ، پھر وہ اشارات احکام کے مطابق کسی اور الیکڑانک ڈیوائس یا سرکٹ میں پراسس ہو کر آوٹ پُٹ ڈیوائس پر جلوہ افروز ہوتے ہیں ، اس تمام پراسس میں وہ عکس برقی اشارات کی صورت میں محفوظ رہتا ہے پس اس کو کسی بھی طور آئینے میں نظر آنے والے عکس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ، اگر کسی چیز کے عکس کو کسی بہت ہی سست رفتار اور لو ریزولیش والے کیمرے اور پراسس کے ذریعے کسی آوٹ پُٹ ڈیوائس پر لایا جائے توبلا شک و شبہ اس چیز کو کیمرے کے سامنے سے ہٹا دینے کے کئی سیکنڈ بعد اس کا عکس آوٹ پُٹ ڈیوائس پر دکھائی دے گا ، جبکہ آئینے میں دکھائی دینے والے عکس کی یہ کیفیت نہیں ہوتی کیونکہ وہ کسی بھی طور کہیں محفوظ ہو کر کوئی تصویر نہیں بنتا، ::::::: حاصلِ کلام ::::::: پس تصویر خواہ ہاتھ سے بنی ہو ، یا کسی اوزارسے تراش کر بنی ہو ، یا کسی مکینکل اور کیمیکل ایکشن کے نتیجے میں بنی ہوئی، یا کچھ الیکڑیکل سگنلز پر مختلف دیگر الیکٹریکل پراسسز کے نتیجے میں بنی ہوئی ، وہ تصویر ہی ہے ، اور ہر تصویر کا ایک ہی حکم ہے ، کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس کی تخلیق کی نقالی ہے ، اسی لیے تصویریں بنانے والوں کو چیلنج کے طور پر اللہ کی طرف سے اس میں رُوح ڈالنے کا حکم ہو گا کہ میری تخلیق کی نقل کی تھی اب اس کو زندہ کر کے بھی دِکھاؤ اور وہ ایسا نہ کر سکیں گے اور ایسا نہ کرنے پر شدید عذاب دیا جائے گا ، جس تصویر میں یہ علت نہ ہو کہ روز قیامت اُس میں رُوح ڈالنے کا کہا جائے گا وہ تصویر کسی بھی طور حتیٰ کہ مجسمے کی صورت میں بھی بنائی جا سکتی ہے ، یعنی غیر ذی روح چیزوں کی تصویر ۔ اللہ ہم سب کو ہمت دے کہ ہم اپنے رزق کو حلال ذرائع سے حاصل کریں اور جتنا حلال میں ملے اُس پر صبر کریں ۔ و السلام علیکم مضمون کا برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 19-08-09 at 01:08 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
ویسے اس زمانے میں کون ہے جسکی تصویر نہیں بنی؟؟؟؟؟ شاہ عبداللہ، شاہ فہد بن عبدالعزیز، امام خمینی، قائد اعظم، نہرو، بش، ٹونی بلئیر، ماؤزتنگ، ابواعلی مودودی، علامہ اقبال، سرسید احمدخان، راجہ محمودآباد، آیت اللہ خامنہ ای، کوئی بھی تو نہیں بچا انکے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ فلسطین میں، لبنان میں، عراق میں، افغانستان میں جو مظالم ہوئے اگر تصویریں نہ بنتیں تو کیا ہمیں فقط زبانی کلامی پتہ چلتا؟؟؟؟؟؟ وسلام |
|
|
|
| عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (13-01-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Hyderabad/Karachi
عمر: 27
مراسلات: 615
کمائي: 10,774
شکریہ: 1,318
152 مراسلہ میں 208 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
bhai akhbar main khabar k hawale se tasveer shaya kerna theek hai lekin us ke liye yeh zaruri hai k tasveer shaya kerne k intahi zzaroorat ho . baaqi jahan tak baat hamare rehnumaon ki aati hai tu unki tasaveer bana galat hai.
|
|
|
|
| عمیر نعیم کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (02-04-08) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
آپکی فورم میں آمد کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ وسلام |
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سحر بہن ، یہ فقرہ پاک نیٹ کے صفحات کے آغاز میں نظر آنے والی تصاویر کے بارے میں ہے ، جن تصاویر میں قران کی آیت کے ساتھ بلکہ اس سے اوپر ذی رُوح مخلوق کی تصاویر لگائی گئی ہیں ، اللہ ہی جانے یہ کام کرنے والے بھإئی یا بہن کو اللہ کے کلام ساتھ یہ تصاویر جوڑنے کی کیا سُوجھی جبکہ ذی رُوح کی تصویر اللہ کی رحمت کے دور ہونے کے بنیادی اسباب میں سے ہیں ، اور کسی شرعی عُذر کے رُوح والی چیزوں کی تصویر سازی حرام ہے ، پس اللہ کے سامنے اپنا عُذر پیش کرتے ہوئے اور قارئین کے لیے سوچ کے دروازے وا کرنے کے لیے میں نے یہ فقرہ اپنے مراسلات میں شامل کیا ، سوال پوچھنے پر شکریہ سحر بہن ، جزاکِ اللہ خیراً ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,749
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,309 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل سہیل بھائی
میں اس بارے میں اپ سے چند سوالات کرنا چاہتی ہوں ۔ 1 ہاتھ سے بنائی ہوئی تصویر اور کیمرے سے اتاری ہوئی تصویر پر ایک ہی حکم کا اطلاق ہوتا ہے ۔ 2 ٹی وی کے بارے میں کیا حکم ہے ، اگر ٹی وی پر صرف قرآن یا اسلامی علم کے متعلق معلومات پر پروگرام دیکھیں جائیں ۔ اگر ٹی وی خود تصاویر کی حرمت کی وجہ سے حرام ہے تو اس پر اسلامی پروگرام کرنا کیسا ہے ۔ اور اگر کیمرے کی تصاویر بھی حرام ہیں تو عالم دین کی تصاویر کیوں کھینچی جاتی ہیں ۔ نوٹ ؛ ان سوالات کا مقصد علم میں اضافہ اور عمل کو اسلام کے مطابق کرنا ہے ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (12-01-10), منتظمین (13-01-10), احمد بلال (17-01-10), عادل سہیل (13-01-10), عبداللہ حیدر (13-01-10) |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس کے علاوہ میں یہ بھی جاننا چاہوں گا کہ مختلف فرقے اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اور رائے میں یہ اختلاف کیونکر پیدا ہوا ہے۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
منتظمین بھإئی ہاتھ کچھ ہلکا رکھیے ، بڈھے آدمی کو اتنا کام مت دیجیے ، اگر میں ان تفصیلات کو لکھنے لگوں تو یقین جانیے میری مشغولیات کے مطابق دیگر حصول علم سے متعلق باقی سارے کام ایک طرف رکھ کر بھی شاید کئی ماہ تک لکھنا پڑے گا ، لہذا بھائی جی فی الحال آپ بھی وہ مضمون پڑہیے جس کا ربط ابھی ابھی سحر بہن کو جواب میں دیا ہے ، منتظمین بھائی """ فرقوں """ کے اختلاف کی کوئی بات نہیں ہے ، ہاتھ سے بنائی ہوئی تصاویر اور کسی آلے کی مدد سے بنائی ہوئی تصاویر کا مسئلہ """ فرقوں """ کا نہیں اور نہ ہی """ مذہبی یعنی مسلکی """ اختلاف کا ہے ، بلکہ صرف """فقہی""" اختلاف ہے اور وہ بھی صرف چند وسائل کے اسلوب ءِ عمل سے لا علمی اور ناموں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ، اس کے بارے میں معلومات اسی مضمون میں موجود ہیں جس کا ربط سحر بہن کے لیے جواب میں دیا ہے ، باقی ان شا اللہ اگلی فرصت پر ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سحر بہن امید ہے کہ آپ کے پہلے سوال کا جواب آپ کو اس دھاگے کے بنیادی مراسلے کے آخر میں مل گیا ہو گیا ، کہ وہ چیز جسے """ صورۃ """ تصویر """ تصویر متحرک """ تصویر غیر متحرک """ سٹل پکچر """ موونگ پکچر """ فوٹو """ کہا جاتا ہے شرعی حکم میں ایک ہی چیز ہے ، صرف نام بدلنے یا بنانے کے انداز بدلنے سے سرعی حکم تبدیل نہیں ہوتا ، یہ قانون اصول الفقہ میں مقرر ہے اور شاید کسی کو اس پر اختلاف نہیں اور اگر ہو بھی تو اس اختلاف کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں کیونکہ اصول الفقہ کا یہ اصول کہ """ تغیر الاسم الشیء لا یغیر حقیقتہُ ::: کسی چیز کا نام بدلنے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی """ یہ اصول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس فرمان سے مستنبط ہے ((((( لَيَشرَبَنَّ نَاسٌ من أُمَّتِي الخَمرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيرِ اسمِهَا ::: میری اُمت میں لوگ ضرور شراب پیئں گے اور اسے کوئی اور نام دیں گے ))))) المستدرک الحاکم / حدیث ، سنن ابو داؤد / حدیث 3688 / کتاب الاشربۃ / باب 6 بَاب في الدَّاذِيِّ ، حدیث صحیح ہے ، پس میری بہن ، نام اور بنانے کے انداز تبدیل ہونے سے تصویر کا شرعی حکم تبدیل نہیں ہوا ، ان شاء اللہ اگلی فرصت میں آپ کے دیگر سوالات کے جواب بھی پیش کردوں گا ، و السلام علیکم۔ Last edited by عادل سہیل; 20-01-10 at 12:46 AM. |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | سحر (18-01-10) |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن میں پھر واضحکروں گا کہ یہ ایک حتمی رائے نہیں ہے۔ مختلف فرقوں میں اس کے بارے میں اختلاف پائے جاتے ہیں۔ اور جو بڑی بڑی علماء ٹی وی کی سکرینوں پر پائی جاتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فوٹو, ہوتا, فروخت, کیسا, کتابوں, ٹی, پاک, پروگرام, وجہ, قرآن, لوگ, چند, نظر, مکمل, مقصد, منتقل, متعلق, مسائل, مطابق, معلومات, آج, آدمی, اللہ, اسلامی, اضافہ, اطلاق, تصویر, تصاویر, جائیں, حکم, حدیث, حرام, خون, خود, دُعا, رفتار, زمانہ, سوالات, سرکٹ, شخص, علم, عالم, عادل, صبر, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کھانے کی چیزوں کے نام تلاش کریں | ALI-OAD | گپ شپ | 5 | 21-11-10 10:24 PM |
| گری پڑی چیزوں کے بیان میں | ابن آدم | متفرقات | 2 | 21-07-10 03:51 PM |
| محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں دھماکے کی تصویریں | فرحان دانش | پاکستان میں دہشت گردی | 1 | 28-12-09 07:14 PM |
| چھ چیزوں کو چھ چیزوں میں چھپا رکھا ہے | مسافر | عمومی بحث | 5 | 17-08-09 12:33 PM |
| بے کا چیزوں کو کارآمد کیسے بنائیں | مسافر | دلچسپ اور عجیب | 2 | 03-02-09 03:26 PM |