واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


::::: عورت کا حقیقی حُسن ''' حیاء ''' :::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-07-09, 02:20 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::::: عورت کا حقیقی حُسن ''' حیاء ''' :::::

::::: عورت کا حقیقی حُسن ''' حیاء ''' :::::

::::: عورت کا حقیقی حُسن ''' حیاء ''' :::::


بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شَرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ،:::بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :
اکیلے خالق اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی سب سے زیادہ بزرگی اور عِزت والی مخلوق اِنسان کی فطرت میں ایک ایسی صِفت عطاء فرمائی ہے جو یقینی طور پر خیر کا سبب بنتی ہے، جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِیمان کا حصہ قرار دیا ہے ((((( الإِیمَانُ بِضعٌ وَسِتُّونَ شُعبَۃً وَالحَیَاء ُ شُعبَۃٌ من الإِیمَانِ ::: حیاء اِیمان کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے ))))) صحیح البُخاری /حدیث 9/ کتاب الاِیمان /باب 2 ، صحیح مُسلم حدیث 35/کتاب الاِیمان/باب 12 سنن ابن ماجہ/ حدیث 58 / (9)باب فی الاِیمان، سنن النسائی /کتاب الاِیمان و شرائعہ/(باب) 16 ذکرُ شُعب الاِیمان، میں صرف آخری جز مروی ہے ،
جی ہاں ، یہ صِفت حیاء ہے جو اِیمان کی کمزوری کے ساتھ کم ہوتی ہے اور اِیمان کے بڑہنے سے بڑہتی ہے ، پس کسی میں پائی جانے والی حیاء سے اُس کے اِیمان کا قوت و منزلت کا اندازہ ہو سکتا ہے ، جیسا کہ سب سے اعلیٰ ترین اور مکمل ترین اِیمان والے ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حیاء کے بارے میں ابو سعید الخُدری رضی اللہ عنہُ کا فرمان ہے کہ ((((( کانِ رَسُول اللَّہِ عَلیہِ و عَلی آلہِ وَسلَّم أشدَّ حَیائً مِن العَذراءِ فی خِدرِھَا ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنی چادر میں لپٹی ہوئی کسی کنواری سے زیادہ حیاء والے تھے ))))) صحیح البُخاری /کتاب الادب / باب 77 ، صحیح مُسلم /کتاب الفضائل / باب 16 ،
اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پاکیزہ بیوی اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ '''''' ایک دفعہ اُن کی بہن أسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم جمعیاً اُن کے حجرہ میں داخل ہوئیں اور انہوں نے باریک لباس پہن رکھا تھا تو ((((( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان کی طرف سے چہرہ مُبارک پھیر لیا ))))) اور اِرشاد فرمایا ((((( یا أَسمَاء ُ إِنَّ المَرأَۃَ إذا بَلَغَت المَحِیضَ لم تَصلُح أَن یری منہا إلا ہذا وَہَذَا وَأَشَارَ إلی وَجہِہِ وَکَفَّیہِ ::: اے أسماء جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے حلال نہیں کہ ُاس میں سے کچھ نظر آئے ، سوائے اس کے اور اس کے ، اور(یہ فرما کر) اپنے چہرہ مُبارک اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی طرف اِشارہ فرمایا ))))) سنن ابو داؤد /حدیث 4104/ کتاب اللباس/ باب33، اِمام الالبانی نے صحیح قرار دیا،
اللہ کی عطاء کردہ اس صفت میں اور بہت سی صفات ہیں ، یعنی یہ ایک صفت انہی جگہ صفات کا مجموعہ ہے ، اور اس میں پائی جانے والی صفات میں سے سب سے أہم یہ ہے کہ حیاء کسی بھی اِیمان والے کو بخوشی اُس کی نظر کی حفاظت کرنے پر مجبور کرتی ہے اور اُس سے کہیں زیادہ کسی بھی اِیمان والی کوبا رضا و رغبت اُس کی نظر اور ساتھ ہی ساتھ ستر وحجاب یعنی پردہ داری اور پردے پر قائم رکھتی ہے ، وہ پردہ داری اور وہ پردہ جو اللہ نے اُس اِیمان والی پر فرض کر رکھا ہے ،
جب شرم و حیاء مردوں میں ایک اچھی تعریف کی گئی صفت سمجھی جاتی ہے تو عورتوں میں اس صفت کا ہونا کہیں زیادہ ستائش و تعریف والا ہے ، کیونکہ عورت کا دائمی اور ہمیشہ اور ہر کسی کو اس کی جگہ اور مُقام کے مطابق مرعوب اور جذب کرنے والا حُسن وہ ہے جو اُس عورت کے باطن میں موجود اِیمان سے منعکس ہو کر ظاہر ہوتا ہے ، شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ''''''' عورت کا حُسن اُس کی حیاء میں ہے '''''''
اور واقعتا یہ ہے بھی حقیقت ، ایسی حقیقت جس کا انکار کوئی عقل کا مارا ، شہوت رانی کا شکار ، غیرت و حیاء سے عاری ہی کر سکتا ہے ، جس کے معیار اللہ کی عطاء کردہ صفات کے مطابق نہ رہے ہوں ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ اور پسندیدہ صفات کے مطابق رہے ہوں ، پس وہ عورت کی بے پردگی اور بے حیائی کو حُسن سمجھتا ہے اور اُس کے حصول کی کوشش میں اپنی آخرت کی یقینی ذلت اور تباہی کما لیتا اور بسا اوقات دُنیا کی بھی ، اللہ ہر مُسلمان کو ہر گمراہی سے محفوظ رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ،
اِیمان والیوں کو اُن کے مالک اور خالق اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف سے عطاء کردہ اس بہترین اور پسندیدہ صفت ''' حیاء ''' کے عین مطابق اور اس کے عملی مفہوم و مطلوب کو اپنے کلام میں اِیمان والیوں کے انداز و اطوار اور اُن کے لباس کی حدود مقرر کرتے ہوئے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو یہ فرمانے کا حُکم دیتے ہوئے یوںبیان فرمایا کہ ((((( وَقُل لِّلمُؤمِنَاتِ یَغضُضنَ مِن أَبصَارِہِنَّ وَیَحفَظنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَا یُبدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنہَا وَلیَضرِبنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوبِہِنَّ::: اے رسول (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) آپ اِیمان والی عورتوں کو فرما دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں جُھکائے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریںاور وہ (اِیمان والیاں ) اپنی زینت (خود سے )ظاہر مت کریں ہاں جو (بلا اِرادہ )ظاہر ہو جائے (تو اس پر گناہ نہیں)اور ضروراپنی چادروں کو(صرف سروں پر ہی نہ رکھیں بلکہ) اپنے سینوں پر لیپٹ لیا کریں ))))) غور فرمایے ، اللہ سبحانہُ و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ''''' وَلَیَتَخذِنَّ خِماراً ::: اور وہ (اِیمان والیاں ) ضرور چادریں لیا کریں ''''' کیونکہ صرف چادر لینا حیاء کا وہ فطری تقاضا پورا نہیں کرتا جس کے مطابق اُسے بنایا گیا ، بلکہ وہ تقاضا چادر کو اس طرح ڈھیلے پن کے ساتھ لیپٹنے سے پورا ہوتا ہے کہ عورت کے جسم کے نشیب و فراز ظاہر نہ ہوں ، اور تقاضا ہے پردہ کرنا ، یعنی خود کو چُھپائے سِمٹائے رکھنا ہی عورت کی '''حیاء ''' کا اصل عملی مفہوم اور تقاضا ہے ، اب اگر اس کو پورا کرتے ہوئے کِسی اِیمان والی سے اپنی مرضی اور اختیار کے بغیر کچھ ظاہر ہو جائے تو وہ بے حیائی نہیں ،
عورت کی '''حیاء ''' کا یہ مذکورہ بالا تقاضا ، یہ اساسی عملی مفہوم اور مطلوب ، اور اُس میں سے یہ استثناء کسی مخلوق کی پرواز ء عقل کا شاخسانہ نہیں بلکہ خالق واحد و حقیقی اللہ تبارک و تعالیٰ کی مکمل اور بے عیب حِکمت میں سے ہے ، جیسا کہ اُس نے اپنے( مذکورہ بالا ) فرمان کے آغاز میں اِرشاد فرمایا ((((( وَلا یُبدِینَ زِینَتَھُنِّ اِلِّا مَا ظَھَرَمِنھا::: اور نہ ہی وہ (اِیمان والیاں ) اپنی زینت (خود سے )ظاہر کریں ہاں جو (بلا اِرادہ )ظاہر ہو جائے )))))
پھر اسی ''' حیاء ''' کا وہ مُقام بھی بیان فرمایا جہاں اگر اسے اسی طور برقرار رکھا جائے تو وہ فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث ہوتا ہے ، پس وہاں بھی اس ''' حیاء ''' سے رخصت عطاء فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((((( و لا یُبدِینَ زِینَتَھُنَّ اِلاَّ لِبُعُولتِھِنَّ أو آبَائِہِنَّ أَو آبَاء بُعُولَتِہِنَّ أَو أَبنَائِہِنَّ ،،،،،،، ::: اور (اِیمان والیاں) اپنی زینت کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے باپوں کے یا اپنے سُسروں پر یا اپنے بیٹوں پر ،،،،،،،))))) سورت النور / آیت31 ،
اللہ تعالیٰ کے ان فرامین سے صاف طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت کی ''' حیاء ''' کی اساس اور اصل حکمت اُسکا پردہ ہے اُسکا ڈھکا چُھپا رہنا ہے ،
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پردے کے ان احکامات کے آغاز میں اس بات کا حکم دیا کہ عورت اپنے آپ اور اپنی زیب و زینت کو کس طور ڈھانپ اور چُھپا کر رکھے ، اور پھر اُس حُکم میں سے خاوند اور دیگر کچھ رشتہ دار مردوں کے سامنے ہونے اور ان سے ،ملنے جلنے کے بارے میں کچھ محدود رُخصت عطاء فرمانے کے بعد پھر اُسی اصل کی طرف واپس لاتے ہوئے مزید حُکم فرمایا ((((( وَلَا یَضرِبنَ بِأَرجُلِہِنَّ لِیُعلَمَ مَا یُخفِینَ مِن زِینَتِہِنَّ ::: اور (اِیمان والیاں) اپنے پاؤں بھی زور سے مت ماریں تا کہ اُن کی چُھپی ہوئی زینت ظاہر ہو )))))
یعنی اس بات کی بھی اجازت نہیں دی گئی کہ اِیمان والی عورت اپنے پاؤں کو ہی اس لیے زور سے زمین پر رکھے یا مارے کہ اُس کی پازیب وغیرہ کی آواز ظاہر ہو اور کوئی غیر مرد اُس کی طرف متوجہ ہو ، سُبحان اللہ ، اِس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے عورت کے پاؤں کے زیور ، بلکہ اُس سے نکلنے والی آواز کو بھی چُھپائے رکھنے کا حُکم دیا ، اِن احکامات کو وہی دِل و دِماغ بخوشی قبول کرتا ہے جس میں اِیمان کی روشنی ہو گی ، اور جتنی زیادہ یہ روشنی ہو گی اتنا ہی زیادہ اِن احکامات پر عمل ہو گا اور جتنا زیادہ اِن پر عمل ہو گا اتنا ہی حُسن ظاہر ہو گا ، کیونکہ عورت کا حُسن اس کی بے پردگی میں نہیں ، اُس کی بے لباسی میں نہیں ، وہاں تو صرف ظاہری اور وقتی جاذبیت ہوتی ہے جو عموماً نفسانی خواہشات و جذبات پر منحصر ہوتی ہے جو اُس خواہش یا جذبے کے ساتھ ساتھ رُخصت ہو جاتی ہے ، اور پھر وہی بے پردگی ، بے حیائی اور عُریانیت زدہ ''' حُسن '''جو اللہ کی نافرمانی کروا رہا ہوتا ہے بے کیف لگتا ہے اور ہوس کا مارے ہوئے کسی اور بے حیاء کی تلاش میں لگ جاتے ہیں ،
عورت کا اصل حُسن وہ ہے جو مرد کو ہمیشہ اُس کا گرویدہ کیے رکھے اور وہ حُسن اُسکی ''' حیاء ''' میں ہے ، جس کی کشش ، جس کا احترام ، جس کی جاذبیت ہر رشتے اور تعلق کے مطابق الگ الگ ہوتی ہے اور ہمیشگی والی ہوتی ہے ،
پس اِیمان والیاں اپنے اِس فطری حُسن کو اللہ کی تابع فرمانی میں نکھارتی رہتی ہیں ، اور اِیمان والے اُنکے مددگار ہوتے ہیں ((((( وَالمُؤمِنُونَ وَالمُؤمِنَاتُ بَعضُہُم أَولِیَاء بَعضٍ یَأمُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنہَونَ عَنِ المُنکَرِ وَیُقِیمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤتُونَ الزَّکَاۃَ وَیُطِیعُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ أُولَـئِکَ سَیَرحَمُہُمُ اللّہُ إِنَّ اللّہَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ::: اور اِیمان والے اور اِیمان والیاں ایک دوسرے کے ساتھی ا ور مددگار ہیں (کہ) نیکی کا حُکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ اداکرتے ہیں اور اللہ اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کی اطاعت کرتے ہیں یہی ہیں جن پرجلد ہی اللہ رحم فرمائے گا بے شک اللہ بہت ہی زبردست اور حِکمت والا ہے ))))) سورت التوبہ / آیت71۔
لہذا ہر ایک اپنے اپنے اِیمان کی حالت اور اُس کی قوت اپنے اندر پائی جانے والی ''' حیاء ''' اور اُسکے بارے میں اپنے خیالات اور اپنے عمل کے ذریعے جان سکتا ہے ، کہ کون بے حیائی کو پسند کر کے خلافِ اِیمان کام کرنے والوں میں ہے اور کون با حیاء رہ کر نیکی اور خیر میں اپنے کلمہ گو بھائیوں بہنوں کا مدد گار ہے ، اللہ سب مسلمانوں کوسچا اِیمان والا بننے کی ہمت دے ، اور اس کی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اتباع کرنے میں ایک دوسرے کا مددگار بنائے۔ و السلام علیکم ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-07-09), مسافر (22-07-09), yashaka (04-08-09), احمد بلال (11-09-09), عبداللہ حیدر (24-07-09)
کمائي نے عادل سہیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
22-07-09 مسافر Jazak ALLAH 10
پرانا 22-07-09, 03:05 AM   #2
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم و جزاک اللہ خیرا یا عمی، آجکل کے پر فتن دور میں ان باتوں کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (22-07-09)
پرانا 22-07-09, 01:48 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-07-09, 04:04 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,078
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ عادل بھائی
پردے کے مطالق میں ایک سوال کرنا چاہوں گی
پردہ غیر مسلم عورتوں سے بھی اتنا ہی کرنے کا حکم ہے جتنا نامحرم مرد سے کرنے کا حکم ہے
اس کے پیچھے کیا حکمت پوشیدہ ہے ذرا وضاحت کردیں

اور ایک سوال اور ہے

اگر غیر مسلم ملک میں
ایک پردہ دار مسلمان خاتون کو ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے
اور وہاں یا تو غیر مسلم خاتون ڈاکٹر ہو یا مسلمان مرد ڈاکٹر
تو وہ خاتون کس کے پاس جائیں ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-07-09), مسافر (22-07-09), احمد بلال (11-09-09)
پرانا 22-07-09, 05:59 PM   #5
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,150
شکریہ: 1,693
1,084 مراسلہ میں 2,449 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ ہماری مسلمان بہنوں اور بھائیوں کی حیا سلامت رکھے
مسافر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-08-09, 03:01 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ عادل بھائی
پردے کے مطالق میں ایک سوال کرنا چاہوں گی
پردہ غیر مسلم عورتوں سے بھی اتنا ہی کرنے کا حکم ہے جتنا نامحرم مرد سے کرنے کا حکم ہے
اس کے پیچھے کیا حکمت پوشیدہ ہے ذرا وضاحت کردیں

اور ایک سوال اور ہے

اگر غیر مسلم ملک میں
ایک پردہ دار مسلمان خاتون کو ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے
اور وہاں یا تو غیر مسلم خاتون ڈاکٹر ہو یا مسلمان مرد ڈاکٹر
تو وہ خاتون کس کے پاس جائیں ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترمہ بہن ، سحر ،
مُسلمان عورت اور کافر عورت کا آپس میں پردے کا معاملہ اسی طرح ہے جس مُسلمان عورت کاخاوندکےعِلاوہ دیگر مردوں سے ہے( خیال رہے کہ یہ بات شرعی حُکم کی ہو رہی ہے ، نہ کہ کسی کی ذاتی شرم و حیاء کے مطابق ، اگر کوئی شرعی احکام میں نقص کے خیال کے علاوہ اس سے بڑھ کر شرم و حیاء اور غیرت والا رویہ رکھتا ہے توان شاء اللہ وہ زیادہ اجر پانے والا ہو گا )،
ایسا اس لیے کہ ہمیں اس بات کو کوئی دلیل نہیں ملتی کہ کافر عورت کو مُسلمان عورت کے لیے اجنبی مرد کے حُکم میں سمجھا جا سکے ،
سورت النور کی آیت ۳۱ میں پردے کے جو احکام ہیں ان کے مطابق مُسلمان عورت کو اپنے کچھ رشتہ داروں اور اپنے خاوند کے سامنے الگ الگ حد میں رہتے ہوئے اپنا آپ ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان میں اس کی مزید وضاحت ہے ، ان کی کچھ تفصیل پہلے مضمون میں گذر چکی ہے ،
اب ہم اگر اُن احکامات پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ عورتوں کے آپس کے پردے میں کافر عور ت کا معاملہ سوائے خاوند کے کسی محرم مرد کی طرح ہے ، کیونکہ وہاں کافر تو کیا مُسلمان عورتوں کے آپس میں پردے کا کوئی براہ راست کوئی ذکر نہیں ،
اس کو مزید سمجھنے کے لیے ہمیشہ کی طرح ہمیں صحیح سُنّت اور آثارءِ صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرف توجہ کرناپڑتی ہے ، اور وہاں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملتی کہ جب کافر عورتیں اِیمان والوں کی مقدس اور پاکیزہ ماؤں رضی اللہ عنہن کےپاس یا صحابیات رضی اللہ عنہن کے پاس آتی جاتی تِھیں تو وہ اُن کافر عورتوں سے اس طرح پردہ کرتی تِھیں جس طرح نا محرم مَردوں سے کرتی تِھیں ،
مُسلمان عورت کاکافرعورت سے خاوند کے علاوہ دیگر محرم مَردوں سے پردہ کرنے کی طرح پردہ کرنے میں حکمت یہ ہے کہ لا محالہ کافر عورت کسی مُسلمان عورت کے حُسن کی خوبیاں اس طرح چُھپائے نہ رکھے گی جِس طرح ایک مُسلمان اپنی مُسلمان بہن کی چُھپائے گی ، اور اس طرح کی باتوں کے نشر ہونے سے مُسلم معاشرے میں جو اور جتنی برائی پھیل سکتی ہے وہ ہر کوئی سمجھ سکتا ہے ، خاص طور پر موجودہ دور کی بے پردگی کے سبب مُسلم معاشرے میں جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ،
یہاں تک تو بات ہوئی شرعی احکام کے مطابق جائز نا جائز ہونے کی ، اور بہر صورت افضل یہی ہے کہ مسلمان عورت اپنے آپ کو جس قدر ممکن ہو چھپائے رکھے ، غیر محرم مَردوں سے بھی اور کافر عورتوں سے بھی ،
جی ، اگر کوئی ضرورت ہو تو مسلمان عورت اپنا آپ کسی کافر عورت کے سامنے ظاہر کر سکتی ، اور ایسی ضروریات میں سے طبی مدد کا حصول یا علاج بھی ہے ،
جہاں کہیں مُسلمان خاتون طبیبہ (لیڈی ڈاکٹر )میسر ہو تو سب سے پہلے اسی کی خدمات حاصل کی جانے کی پوری کوشش کی جانے چاہیے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر کسی مَرد ڈاکٹر کی بجائے عورت ڈاکٹر سے علاج کروانا زیادہ بہتر ہے ، کیونکہ اس میں اللہ کے طرف سے نازل کردہ ستر وحجاب کے احکام کی زیادہ پابندی ہوتی ہے ،
اللہ ہر مُسلمان کی عِزت وعِفت اور حیاء کو محفوظ رکھے ، اگر کسی مسلمان عورت کو ایسی ضرورت پیش آجائے کہ اس کی زندگی کا خطرہ ہو ، یا خود کو محدود رکھنا اس کے اختیار سے خارج ہو چکا ہو تو ((((( لا یُکلِّفُ اللہ نفساً اِلَّا وُسعھا :::اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا پابند نہیں کرتا )))))۔ سورت البقرۃ ، آیت ۲۸۲۔
اور ہر کوئی اپنے معاملات کے بارے میں خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کیا اُسکی استطاعت میں تھا ،اور ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ جانتا ہے ،
اللہ ہرایک مُسلمان کی عِزت و عِفت ، حیاء و غیرت کو محفوظ رکھے ۔ والسلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (03-08-09), احمد بلال (11-09-09), سحر (04-08-09), عبداللہ حیدر (03-08-09)
پرانا 03-08-09, 03:47 AM   #7
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,842
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,012 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کی پوسٹ کو پڑھ کر فاروق سرور بھائی یاد آگئے



(کبھی کبھی مزاق کا حق محفوظ رکھتا ہوں )
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 04-08-09, 03:29 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
آپ کی پوسٹ کو پڑھ کر فاروق سرور بھائی یاد آگئے



(کبھی کبھی مزاق کا حق محفوظ رکھتا ہوں )
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ،
اھلاً و سھلاً و مرحبا فیصل بھائی ، مزاح انسانی زندگی کا ایک جز ہے جسے اگر حدود میں رکھا جائے توخوشی کا سبب بھی ہو سکتا ہے ان شاء اللہ ، اور آپس کی محبت میں اضافے کا بھی ، باذن اللہ ، ایک دفعہ پھر خوش آمدید ،
ویسے بھائی فاروق سرور صاحب کی کوئی خبر تو معلوم کیجیے ، کافی دنوں سے آئے نہیں ، اللہ کرے باخیر و عافیت ہوں ، اختلافات اپنی جگہ لیکن اچھی دلچسپ شخصیت ہیں ،
اگر میرے پاس ان کا کوئی اور اتہ پتہ یا ذریعہ ربط ہوتا تو میں ضرور ان کی خیر و عافیت دریافت کرتا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد بلال (11-09-09)
جواب

Tags
color, green, فراز, فرض, پسندیدہ, نماز, نظر, مکمل, موجودہ, ممکن, اللہ, اجنبی, اعلیٰ, بہترین, تلاش, حدیث, رشتے, عورت, عقل, صفات, صفت, صاف, صحیح, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
عوامی حکومت کا اک اور کارنامہ naeemuddin خبریں 3 01-12-09 11:05 AM
عوج بن عوج کی عمر کتنی تھی؟ عرفان حیدر آئیے ذہانت آزمائیے 24 14-04-09 02:40 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:20 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger