| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,549
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::::::: خاموشی نجات ہے ::::::: بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شَرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ ::: بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں : عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما کا کہنا ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا (((((مَن صَمتَ نجا ::: جو خاموش رہا نجات پا گیا ))))) سُنن الترمذی / حدیث 2501 / کتاب صفة القیامة /باب 50 ،سلسلة الاحادیث الصحیحة / حدیث 536، اور معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ ُ ایک لمبی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( وَ ھل یکُبُ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلیٰ وُجُوھھم الَّا حَصائدُ السِنَتِھم :::تمھاری ماں تُمہیں کھو دے ، کیا لوگوں کو انکے مُنہ کی بل اگ میں پھینکے جانے کا سبب انکی ز ُبانوں کے پھل کے عِلاوہ کچھ اور بھی ھو گا ؟ ))))) سُنن ابن ماجہ /حدیث 3937 /کتاب الفِتن/ باب 12 ، سُنن الترمذی/حدیث 2616/ کتاب الایمان /باب 8 ، اور امام الترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ھے ، اور امام الالبانی نے کہا یہ حدیث اپنی تمام اسناد کے مجموعے کی بِنا پر صحیح ھے ، سلسلہ الاحادیث الصحیحہ/حدیث 1122 . پس یاد رکھنے والی بات ہے کہ ز ُبان کے شر سے صرف وہ ہی بچ سکتا ہے جو اللہ کی عطا کردہ توفیق سے اپنی ز ُبان کو شریعت کی لگام ڈال کر رکھے ، اور اس صرف وہاں استعمال کرے جہاں اس کا استعمال دِین دُنیا اور آخرت کے فائدہ والا ہو اور اسے دُنیا اور آخرت کی ذلت اور رسوائی سے بچانے کا سبب ہو ، انسان کے أعضاء میں سے اللہ کی سے سب سے زیادہ نافرمان سب سے زیادہ گناہ گار اور سب سے زیادہ باعث فساد ز ُبان ہے ، اِن سب کاروائیوں کے باوجود انسانوں کی اکثریت اپنی ز ُبان کے استعمال کے بارے میں لا پرواہی کا مظاہرہ کرتی ہے ، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست لگتا ہے کہ انسانوں کی اکثریت اپنے جسم میں پائے جانے والے اس چھوٹے سے لیکن انتہائی خوفناک ہتھیار کا خود ہی شکار ہوتی رہتی ہے ، اور اسے یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ گوشت کا یہ چھوٹا سا لوتھڑا اُسے اغوا کرنے اور جہنم میں ڈلوانے کے لیے شیطان کا بہت بڑا پھندہ بن جاتا ہے ، عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ """ وَاللَّه الذي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مَا عَلٰى وَجهِ الأَرضِ شَيءٌ أَحوَجُ إلى طُولِ سِجنٍ مِن لِسَانٍ::: اللہ کی قسم جس کے علاوہ کو ئی سچا معبود نہیں زمین کی پشت پر ز ُبان سے زیادہ کوئی اور چیز ایسی نہیں جو زیادہ تر قید رہنے کی حق دار ہو""" المعجم الکبیر للطبرانی /صحیح الترغیب و الترہیب /حدیث 2858 ، دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤ منین عُمر الفاروق رضی اللہ ایک دِن پہلے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین ابو بکر الصدیق کے پاس تشریف لے گئے تو وہ اپنی ز ُبان کو پکڑے ہوئے تھے ، عُمر الفاروق رضی اللہ عنہُ نے فرمایا """ مَه ، غفر اللهُ لَك ::: باز آیے اللہ آپ کی مغفرت کرے """ تو ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا """ إنّ هذا أوردني المَوارد ::: اس نے مجھ پر بڑی ھلاکت والے مواقع وارد کیے ہیں """ مؤطا مالک /کتاب الکلام / باب 5 ، صحیح مشکاۃ المصابیح ، خاموشی کی فضیلت کو سمجھنے کے لیے ہم کچھ اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ، بات کو چار اقسام میں تقسیم سمجھا جاتا ہے، (1) جو صرف نقصان دہ ہوتی ہے، (2) جو صرف فائدہ مند ہوتی ہے، (3) جو نقصان دہ بھی ہوتی ہے اور فائدہ مند بھی، (4) جو نہ نقصان دہ ہوتی ہے اور نہ ہی فائدہ مند، پس جو پہلی قِسم کی بات ہے اس سے بہر صورت باز ہی رہنا چاہیے تا کہ کسی کا کوئی نقصان نہ ہو ، اور اسی طرح تیسری قِسم والی بات کہ جس میں نقصان اور فائدہ دونوں ہوتے ہیں اس سے بھی باز رہنا ہی چاہیے تا کہ کسی کا کوئی نقصان نہ ہو ، اور جو چوتھی قِسم ہے وہ فضولیات میں شامل ہوتی ہے کہ اُس کا نہ کوئی فائدہ اور نہ ہی کوئی نقصان تو پھر ایسی بات میں وقت اور قوت صرف کرنا فضول ہی تو ہوا ، اور کسی بھی فضول کام میں خود کو مشغول کرنا حماقت ہی ہوتا ہے ، اور اس بات کا بھی امکان رہتا ہے کہ اپنے وقت اور قوت کو ضائع کرنے کے حساب میں کوئی گناہ ذمے پڑ جائے ، اسکے بعد صرف ایک ہی قِسم کی بات رہ جاتی ہے یعنی باتوں میں سےتین چوتھائی ((75% تو قابل استعمال نہیں اور صرف ایک چوتھائی یعنی وہ بات جو صرف فائدہ مند ہو وہی قابل استعمال ہے ، اور اس میں بھی خطرہ موجود ہے کہ اگر اس میں گناہ والی بات شامل ہو جو بظاہر تو دُنیاوی فوائد والی ہو لیکن آخرت میں نقصان اور عذاب کا باعث ہو ، مثلاً ریاء کاری والی بات ، جھوٹ ، غیبت ، تزکیہ ءنفس ، وغیرہ ، پس اس باقی رہ جانے والی ایک چوتھائی بات میں بھی بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے یہاں بھی ز ُبان کو شُتر بے مہار کی طرح چھوڑا نہیں جانا چاہیے ، ان باتوں کو جاننے کے بعد ،اور ز ُبان کی طرف سے وارد ہونے والی دوسری مصیبتوں اور تباہیوں کو جاننے کے بعد اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ کُن بات یہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرما دی کہ (((((مَن صَمتَ نجا ::: جو خاموش رہا نجات پا گیا ))))) ::::::: خاموش رہنا سیکھا جاتا ہے پس سیکھا جانا چاہیے ::::::: گو کہ کچھ لوگ اللہ کی طرف سے ہی خاموش طبع ہوتے ہیں یعنی کم بولتے ہیں لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ، تقریبا ہر ایک کو اچھا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بولے اور لوگ سُنیں بلکہ وہ ہی بولتا رہے اور لوگ بس اسے سنتے رہیں ، اس طرح سنے جانے کا نفس پر ایک عجیب اثر ہوتا ہے جو عموما برائی کی طرف لے جاتا ہے جس کا کم سے کم درجہ خود نمائی اور خود ستائشی کا پیدا ہونا ہوتا ہے ، پس اپنے نفس کے خلاف جہاد کرتے ہوئے خاموش رہنا سیکھنا پڑتا ہے اور اچھے مسلمان کو یہ سیکھنا ہی چاہیے کہ بغیر جائز ھدف کے بات نہ کرے اور دینی اور اُخروی فائدے اور نقصان کے بارے میں اچھی طرح سوچ سمجھ کر بات کرے ، مورّق العجلي (تابعی )رحمه الله کا فرمان ہے """"" تعلمت الصمت في عشر سنين ، وما قلت شيئًا قط إذا غضبت، أندمُ إذا زال غضبي ::: میں نے خاموش رہنا دس سال میں سیکھا اور جب غصے میں آتا تو کبھی کچھ بھی ایسا نہ کہتا کہ غصہ اترنے کے بعد اس کہے ہوئے پر شرمندگی ہو """"" سير أعلام النبلاء 4/353-355 . امام غزالی رحمہ اللہ ، الاحیاء میں لکھتے ہیں """"" کہا گیا کہ الربیع بن خثعم (رحمہُ اللہ ) بیس سال تک دُنیاوی باتوں کے لیے نہیں بولے جب صُبح ہوتی تو وہ قلم دوات اور کاغذ اپنے ساتھ رکھ لیتے اور دن پھر جو بولتے اسے لکھ لیتے اور شام کو (اس لکھے ہوئے کے مطابق) اپنا محاسبہ کرتے """"" سبحان اللہ ، اللہ کا خوف رکھنے والے اس طرح اپنے نفس سے جہاد کیا کرتے تھے ، اور اپنے بدن کے سب سے خوفناک اور خطرناک حصے کو قابو میں رکھا کرتے تھے ، کسی نے خوب کہا ہے کہ ز ُبان تمام نفسانی خواہشات کا مجموعہ ہوتی ہے اور اس کےخِلاف جہاد کرنا مشکل ترین جہادوں میں سے ہے اور نفس کے خلاف جہاد بدن کے خلاف جہاد سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ بدن تو محکوم ہے جبکہ نفس حاکم ہے جو بدن کو اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا حکم کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی یوسف علیہ السلام کا فرمان اللہ تعالیٰ نے ذِکر فرمایا کہ (((((وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ ::: اور میں اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دیتا بے شک نفس تو برائی کا حُکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے بے شک میرا رب بہت ہی بخشش کرنے و الا اور بہت ہی رحم کرنے والا ہے))))) سورت يوسف / آیت 53 پس نفس کے خلاف جہاد سب سے زیادہ شدید اور مشکل جہاد ہے جیسا کہ رسول الله صلى الله عليه و علی آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ((((( أفضل المؤمنين إسلاما من سلم المسلمون من لسانه ويده وأفضل الجهاد من جاهد نفسه في ذات الله وأفضل المهاجرين من جاهد لنفسه وهواه في ذات الله ::: ایمان والوں میں سب سے بہترین اسلام والا وہ ہے جو اپنی ز ُبان اور ہاتھ (کے نقصانات ) سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے ، اور سب سے بہترین جہاد (اُس کا ) ہے جو اللہ (کی اطاعت ) میں اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے ، اور بہترین مہاجر وہ ہے جو اللہ کی ذات میں (یعنی اللہ کی ذات کے فرامین اور احکامات کے مطابق ) اپنے نفس اور خواہشات کے خلاف جہاد کرے ))))) السلسلہ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث 1491 سلف الصالح رحمہم اللہ جمعیاً میں یہ نشانیاں اور صفات بدرجہ اُتم پائی جاتی تھیں ، صرف صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہی نہیں بلکہ ان سے بعد والوں میں بھی ، محمد بن واسع رحمہُ اللہ ( پانچویں طبقے کے تابعی ) نے اپنے ایک ساتھی مالک بن دینار رحمہ اللہ کو نصیحت فرماتے ہوئے کہا """ يا أبا يحيى ، حِفظُ اللِّسانِ أشدُّ عَلى النَّاس مِن حِفظ الدَّنانیر والدراهم ::: اے یحی کے باپ ز ُبان کی حفاظت کرنا لوگوں کے لیے دینار و درھم کی حفاظت سے زیادہ مشکل کام ہے """"" الصمت و الآداب اللسان ، باب ذم المداحین ، اِمام الأوزاعي رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ """" كتب إلينا عمر بن عبد العزيز رحمه الله : أما بعد ؛ فإن مَن أكثرَ ذِكر الموت، رضي مِن الدنيا باليسير ، ومَن عدَّ كلامه من عمله قل كلامه إلا فيما يعنيه ::: (امیر المؤمنین) عُمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں لکھا ؛ جس نے موت کا کثرت سے ذکر کیا وہ دُنیا کے تھوڑے (سے مال و جاہ) پر راضی ہو گیا اور جس نے اپنے عمل میں سے اپنی باتوں کو تیار کیا تو وہ صرف وہاں بولے گا جہاں اسے بولنا چاہیے اور یوں اس کی باتیں کم ہو جائیں گی """" سیر الأعلام النُبلاء / جلد 5 / صفحہ 133 ، اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم ایسے ایمان والے بن سکیں جو ز ُبان کی آفات اور مصائب کو پہچانتے ہیں اور ان سے ہر طور محفوظ رہنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔ و السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس مضمون کے ساتھ مندرجہ ذیل کا مطالعہ بھی کرنا ان شاء اللہ بہت فائدہ مند ہوگا ۔ """ بات ہی تو ہے """ ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ عادل بھائی
بہت مفید پوسٹ ہے اللہ ہمیں ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | ضِرار Derar (21-04-10) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جزاک اللٰہ۔ اللٰہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,549
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (19-03-10), ضِرار Derar (21-04-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,549
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, قید, ماں, اللہ, انسان, امیر, اسلام, اغوا, بہترین, بات،عادل سہیل،خاموشی،قید, جھوٹ, جلد, حکم, حدیث, حسن, خلاف, سیر, سال, غصہ, غصے, صفات, صفحہ, صُبح, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|