واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


جمہوریت دینِ ابلیس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-07-10, 01:42 AM   #1
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Lightbulb جمہوریت دینِ ابلیس

جمہوریت دینِ ابلیس

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جمہوریت دینِ ابلیس


اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَ نَسْتَعِیْنُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ
اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْ
فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیُکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ
اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ۔ اَمَّا بَعْدُ : فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ
یٰٓاَ یُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿﴾
ٰٓیاَ یُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّن نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا
زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ
بِہٖ وَالْاَرْحَامَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا ﴿﴾
ٰٓیاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا ﴿﴾لا یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ
وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ﴿﴾
اللہ کے ساتھ شرک کامظہر نظام ِجمہوریت
نظام ِ جمہوریت اللہ کے ساتھ شرک کا واضح مظہر ہے اور اس کے درج ذیل دلائل وشواہد ہیں۔
۱۔ جمہوریت
غیراللہ کا’’ بلادلیل ِشرعی ‘‘نظام ہونے کی بناپرنظام ِ شرک ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ!
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 21؀
کیا انہوں نے اپنے لیے (اللہ کے) کچھ ایسے شریکِ مقرر کر لیے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت کا ایسا کچھ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
۴۲: ا لشوریٰ۔آیت نمبر ۲
آیت ِبالاسے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین(اصول ،قانون و نظامِ زندگی؍کتاب وسنت) کی بجائے غیراللہ کاایسااصول قانون ونظامِ زندگی اختیار کرناکہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین سے دلیل نہ ملتی ہو اس غیراللہ کو اللہ کا شریک بنانا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ نظام ِجمہوریت :::غیراللہ::: کفار کا وضع کردہ نظامِ سیاست ہے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین سے دلیل نہیں ملتی ہے۔
۲۔ جمہوریت
کو اللہ کے دیئے نظامِ سیاست ’’خلافت‘‘ کی
کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجود اختیارکرناجہالت ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُج وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿﴾


جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔
( آلِ عمران۔آیت نمبر ۸۵ .3)
آیت اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ’’ اسلام کے دیئے ہوئے قانون ونظام کے سوا کوئی اور قانون ونظام اختیار کرنا‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی قابل ِ قبول نہیں ہے۔ ’’اسلام‘‘ایک مکمل نظام ِ حیات ہے جس میں اخلاقیات ،روحانیت ،معاشرت ، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر معاملے کے حوالے سے قانون و نظام ملتا ہے ۔ اسلام میں اللہ نے اہل ِ ایمان کو ایک مکمل نظام ِ سیاست ’’ خلافت ‘‘ دیا ہے ۔ اللہ کے دیئے ہوئے نظام ِ سیاست’’ خلافت‘‘ کی کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجودطاغوتوں کا وضع کردہ نظامِ سیاست ’’جمہوریت ‘‘ اختیار کرنا جہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی قابل ِ قبول بھی نہیں ہے وہیں اللہ کے دیئے ہوئے نظام ِ سیاست کی کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجودطاغوتوں کا وضع کردہ نظامِ سیاست اختیار کرنا واضح طور پرشرک بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ مِّنْمبَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا اِنَّک اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْن ﴿﴾
اور اگر تم نے اس ’’علم ‘‘(کتاب وسنت )کے بعد ، جو تمہارے پاس آ چکا ہے ، ان کی اھواء کی پیروی کی تو یقینا تمہارا شمار ظالموں ( مشرکوں)میں ہو گا۔
۲: البقرہ۔آیت نمبر ۱۴۵
نظام ِجمہوریت اپنے وضع کرنے والوں (امریکہ، برطانیہ ، فرانس وغیرہ)کے لیے مقدس دین کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے اس دین کی ترویج و اشاعت میں و ہ صبح وشام لگے رہتے ہیں اور صرف اس سے راضی ہوتے ہیں جو ان کے اس دین کو اپنا لیتا ہے۔ پاکستان میں بحالی وترقی ِ جمہوریت کے لیے پاکستان کے عوام سے بھی بڑھ کر امریکہ، برطانیہ وغیرہ کا بے چین رہنااس کا زندہ ثبوت ہے اور ان کفار کے آئے روز اخبارات میں یہ بیان پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ہم نظام جمہوریت کو پوری دنیا میں قائم کریں گیں،
اللہ تعالیٰ بھی اہل ِ ایمان سے ارشاد فرماتا ہے کہ
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ


ط قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْھُدٰی ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿﴾
یہودی اورنصرانی تم سے ہر گز راضی نہ ہونگے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگر اس ’’علم‘‘(کتاب وسنت) کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی اھواء کی اتباع کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہ ہوگا۔
۲: البقرہ۔آیت نمبر ۱۲۰
۳۔ جمہوریت کے بنیادی اُصول ’’شرکیہ ‘‘ہیں
نظام ِجمہوریت کے بنیادی اُصول اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا واضح اظہار ہیں مثلاً:
پہلا اُصول ِ جمہوریت
ملک کے مالک عوام


!
آمریت میں ’’فردِواحد ‘‘ملک کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے تو جمہوریت میں’’عوام ‘‘ملک کے مالک قرار دیے جاتے ہیں جب کہ ملک صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ اس نے اس ملکیت میں نہ کسی فرد واحد کو شریک کیا ہے اور نہ عوام کو ،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا


Ą۝
وہی (اللہ ) کہ جس کے لیے ملکیت (بادشاہی) ہے آسمانوں اور زمین کی اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا نہ ہی ملکیت ِملک میں اس کاکوئی شریک ہے ،جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر تقدیر مقرر کی۔
۲۵: الفر قان۔آیت نمبر۲
اللہ پر ایمان کے بعد فرد یا افراد کو ملک کا مالک قرار دینا ان کو اللہ کا شریک بنانا ہے۔ اس سے مراد یہ نہ لی جائے کہ ایک انسان کو گھر، زمین وغیرہ کا مالک پھر کیوں کہا جاتا ہے تو بھائیوں یہاں بات نظام، قانون کی ہو رہی ہے نہ کے کسی کی جائیداد کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔

__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 01:45 AM   #2
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دوسرا اُصول ِ جمہوریت

اقتدار کا سرچشمہ عوام

جمہوریت میں اقتدار کا سر چشمہ عوام کو قرار دیا جاتا ہے جب کہ اﷲ تعالیٰ اقتدار کا سر چشمہ اپنی ذات کو قراد دیتا ہے جیساکہ اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 26؀
کہوکہ اے اللہ! ملک کے ما لِک ! دیتا ہے تُو ملک (حکو مت ) جسے چاہتا ہے اور چھین لیتا ہے جس سے چاہتاہے ۔اور تُو عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تُوذلت دیتا ہے جسے چاہتا ہے،تیرے ہی ہاتھ میں خیر ہے اور تُو ہر چیز پر قادر ہے۔

۳ّ۔آل عمران ۔آیت نمبر۲۶

اللہ پر ایمان کے بعد عوام کو یا کسی اور کواقتدار کا سرچشمہ قرار دینا اﷲ کی صفت میں غیر اﷲکو شریک کرنا ہے ۔

عوام کو اقتدار کا سرچشمہ قرار دینے والوں کے ہاں اس سے مراد اگرصرف عوام کی پسند کا حکمران مقرر کرنا ہے تب بھی یہ اُصول شرک ہے کیونکہ اہل ِایمان کے حکمران کے لئے پسند کا بنیادی اختیاربھی اللہ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور حکمران کے تقررکے لئے شرائط اللہ نے خودطے کر دی ہیں اور اہل ِایمان کو اپنے معاملات مشورے سے طے کرنے کا بھی حکم دیا ہے یوں اللہ کی مقرر کردہ شرائط کی موجودگی میں تقرر ِحکمران کے لئے اہل ِایمان کا مشورہ شرائط ِخلافت سے مشروط ہوجاتا ہے نہ کہ انہیں اللہ کی شرائط سے بے نیاز رہتے ہوئے اپنی پسندکا حکمران مقرر کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔ اس کی تفصیل آگےجمہوریت اور شورائیت کے زمرے میں آئے گی ان شاءاللہ۔
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 01:48 AM   #3
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تیسرا اُصول ِ جمہوریت
حکم، قانون اور فیصلے کا اختیار عوام کی اکثریت کے پاس
اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ


’’
حکم ‘‘کا اختیار تو صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔
۱۲: یوسف۔آیت نمبر۴۰
مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ ۡ وَّلَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖٓ اَحَدًا 26؀
اُس کے سوا اُن کاکوئی ولی نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔
۱۸: الکہف۔آیت نمبر ۲۶
حکم(حکم ، قانون اور فیصلے )کا اختیار صرف اللہ کے لیے خاص ہے جبکہ آمریت اللہ کی بجائے فردِ واحد کی اھواء سے اخذکردہ حکم ، قانون اور فیصلے کے نفاذ کا نام ہے اور جمہوریت اللہ کی بجائے اکثریت کی اھواء سے اخذ کردہ حکم ،قانون اور فیصلے کے نفاذ کا نام ہے اور یہ چیز ان دونوں نظاموں کے اللہ سے شرک وبغاوت کے علمبردار ہونے کی واضح دلیل ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اھواء فردِ ِواحد کی تمام افراد پر چلتی ہو یا اکثریت کی اقلیت پر یا اقلیت کی اکثریت پر ، کسی نہ کسی تعدا د میں بندوں پر بندوں کی حاکمیت کا ثبوت ہے جب کہ اللہ بندوں کو بندوں کی ہرطرح کی حاکمیت سے آزاد کرتاہے اوراور حاکمِ شرعی کو بھی یہ حکم دیتا ہے کہ
يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ 26؀ۧ
اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے پس تم حق کے ساتھ لوگوں کے مابین فیصلے کرو اوراھواء کی پیروی مت کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقینا اُن کے لئے شدید عذاب ہے،کہ وہ یومِ حساب کو بھول گئے ہیں۔
۳۸: ص۔آیت نمبر۲۶
جمہوریت میں حکم ، قانون اور فیصلے کا بنیادی اختیارانسانوں کی اکثریت کے پاس ہے جبکہ انسانوں کی اکثریت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿﴾
مگرانسانوں کی


اکثر یت علم نہیں رکھتی۔۱۲: یوسف۔آیت نمبر۴۰
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر ہماری آیات سے غفلت برتتے ہیں۔
(


یو نس۔آیت نمبر۹۲)
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ 49؀
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔
۵: المائد ہ ۔آیت نمبر ۴۹
بَلْ جَاۗءَهُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ 70؀وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ 71؀ۭ
بلکہ آیا ہے وہ(رسولﷺ)ان کے پاس حق لے کر اوران کی اکثریت ’’حق‘‘ کو ناپسند کرتی ہے۔اور اگر پیروی کرنے لگے’’ حق‘‘ ان کی خواہشات ِ نفس کی توفساد برپا ہو جائے آسمانوں میں اور زمین میں اور ان میں جو ان کے درمیان ہیں، بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس انہی کا ذکر اور وہ اپنے ہی ذکر سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
۲۳: المؤمنون۔آیات نمبر ۷۰،۷۱
وَاِنَّ كَثِيْرًا لَّيُضِلُّوْنَ بِاَهْوَاۗىِٕهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ ١١٩؁
اور حقیقت یہ ہے کہ


اکثر لوگ بغیر علم کے اپنی اھواء کی بنا پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بے شک تیرا رب ان حد سے گذرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
۶: الانعام۔آیت نمبر ۱۱۹
وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦؁
اور اُن میں سے اکثر اللہ پہ ایمان نہیں رکھتے مگر یوں کہ وہ شرک بھی کرتے ہیں۔
(


۱۲: یوسف ۔۱۰۶)
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! حقیقت یہ ہے کہ علماء اورپیروں میں سے


اکثر ،لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔
۹: التوبہ۔آیت ۳۴
وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ١١٦؁
اگر تم لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلوگے جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض ظن کی پیروی کرتے ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
۶: الانعام ۔آیت۱۱۶


)
حکم ، قانون اورفیصلے کے لئے انسانوں کی اکثریت کی طرف رجوع کرنااور ان کی ا کثریت کے علمِ حقیقی سے جاہل، دین سے بے بہرہ اور فاسق ہونے کی بنا پران کی اکثریت کے فیصلے کو قانون کادرجہ دینا جاہلیت کے فیصلے کو قانون بنانے کے سواء اور کیاہو سکتا ہے، اور حالت یہ ہو تو جو لوگ بھی اس نظام کے تحت سلیکٹ ہوں گے ان کے بارے میں کیا امید کی جاسکتی ہے۝؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ 49؀اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 50۝ۧ
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے


اکثر فاسق ہیں۔(اگر یہ اللہ کے فیصلے سے منہ موڑتے ہیں ) تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔
۵: المائد ہ ۔آیات :۴۹،۵۰


)

محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 01:49 AM   #4
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شورائیت کے بہانے جمہوریت

جمہوریت پسنددینی راہنماکہتے ہیں کہ جمہوریت تو حقیقت میں شورائیت ہے اور شورائیت کا حکم

قرآن میں ملتاہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ

وَ اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ
ص

اور ان (اہل ِ ایمان ) کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔
۴۲: الشوریٰ ۔آیت :۳۸
)

ان دینی راہنماؤں کو پتہ ہونا چاہیے کہ قرآن میں شورائیت کا حکم ملتاہے تو ساتھ اس کا طریقہ بھی ملتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ

وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ ١٥٩؁

اور (اے نبی ﷺ)اِن سے مشورہ لیتے رہو معاملات میں، پھرجب تم پختہ فیصلہ کر لو تو پھر اللہ پر توکل کرو ۔
۳: آلِ عمران آیت: ۱۵۹

آیت سے شورائیت کا طریقہ واضح ہوتا ہے جس کے مطابق اس میں دو فریق ہوتے ہیں : مشورہ دینے والے اور مشورہ لے کر فیصلہ کرنے والا۔ آیت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ فیصلہ کرنے والامشورہ لینے کے باوجوداپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔

نبی ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا کرتے تھے لیکن فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتے تھے نہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے مشورے کے لازماًپابند ہوتے تھے۔ آپ ﷺ مشورہ لینے کے بعدفیصلہ کرتے ہوئے حا لات کی نزاکت کو بھی دیکھتے تھے اوراللہ کے حکم کو بھی اور اللہ کے حکم کو ہر بات پرمقدم رکھتے تھے، آپﷺ مناسب سمجھتے تو مشورہ قبول بھی فرما لیتے تھے چاہے ایک ہی فردکی طرف سے مشورہ ملتا ، چند کی طرف سے یا اکثریت کی طرف سے اور مشورہ چھوڑنامناسب سمجھتے تو چھوڑ بھی دیتے تھے مثلاً نبی ﷺ نے غروہ ِبدر میں ایک صحابی حباب بن منذررضی اللہ عنہ کے مشورے سے لشکر ِ مجاہدین کے پڑاؤ کی جگہ تبدیلی کی، اُحد میں جب بعض صحابہ نے مدینہ سے باہر نکل کرلڑنے کے حوالے سے شدید خواہش اورجوش وخروش کا مظاہرہ کیا تو آپ نے اپنی رائے کے برعکس باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ کرلیا مگربعد میں صحابہ نے محسوس کیا کہ باہر نکل کر لڑنے کی خواہش کے اظہارکے حوالے سے اُن سے زیادتی ہوئی ہے تو انہوں نے تقریباً متفقہ طور پراس سے دستبرداری کا اظہار کردیا مگراب آپﷺ نے باہر نکل کر لڑنے کا اپنا فیصلہ تبدیل نہ کیا اور فرمایا کہ

کوئی نبی جب اپنا ہتھیار پہن لے تو مناسب نہیں کہ اُسے اتارے تاآنکہ اللہ اس کے درمیان اور اس کے دشمن کے درمیان فیصلہ فرما دے ۔ احمد
شورائیت میں فیصلہ کرنے والے کے پاس لوگوں کا مشورہ آتا ہے نہ کہ فیصلہ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشورہ تب تک ہی مشورہ ہے جب تک چھوڑا بھی جا سکتا ہو، جب وہ چھوڑا نہ جاسکتا ہواوراُسے ماننا لازم ہو تو پھر وہ مشورہ نہیں ہوتا بلکہ فیصلہ ہوتا ہے ۔
جمہوریت میں ’’عوام‘‘ کے ووٹوں کے ذریعے فیصلہ سامنے آتا ہے نہ کہ مشورہ کیونکہ عوام کے ووٹوں کی اکثریت جس بات کے ساتھ ہو اُسے ماننا لازم ہوتاہے، اسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، اسکانفاذ لازم ہوتا، چاہے یہ فیصلہ حالات کی نزاکت کے خلاف ہو ، فطرتِ انسانی کے خلاف ہو یااللہ کے حکم کے خلاف ہو۔ یوں بھی عوام کے ووٹوں کی اکثریت جوبات کہہ رہی ہواُسے
’’عوام کا فیصلہ‘‘ ہی کہا جاتا ہے نہ کہ ’’عوام کامشورہ‘‘۔ جمہوریت میں دو گنواروں کے ووٹ مل کر پروفیسرکے ایک ووٹ پر بھاری ہوتے ہیں، دوچرسیوں؍پوڈریوں کے ووٹ مل کر ڈاکٹر کے ایک ووٹ پر بھاری ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن کا کام صرف عوام کے ووٹوں کے ذریعے آنے والے اکثریتی فیصلے (جاہلیت کے فیصلے )کو اقلیتی فیصلے سے الگ کرکے دکھانا ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دینی راہنماء اسلام کے نظام ِ’’شورائیت ‘‘ کے بہانے جمہوریت کو اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ شورائیت اور جمہوریت میں زمین وآسمان کافرق صاف نظر آتا ہے ۔

٭ جمہوریت پسند دینی راہنما جمہوریت اختیار کرنے کے لیے دلیل کے طور پرعثمان رضی اللہ عنہ کے بحیثیت خلیفہ تقرر کا واقعہ پیش کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عام لوگوں میں چل پھر کر یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کو بحیثیت خلیفہ پسند کرتے ہیں یا علی رضی اللہ عنہ کو؟ ان راہنماؤں کے بقول اُس وقت بھی آئندہ حکمران کے حوالے سے لوگوں کی اکثریت کی رائے معلوم کی گئی تھی اور جمہوریت بھی آئندہ حکمران کے حوالے سے لوگوں کی اکثریت کی رائے معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اس لیے اسے اختیار کرنے میں کیا حرج ہے۔
اس حوالے سے گذارش ہے کہ بات اگر رائے معلوم کرنے ہی کی ہو تب بھی اسلام میں رائے کی حیثیت واضح ہے، وہ فیصلہ کرنے والے کے لئے ہوتی ہے اور فیصلہ کرنے والے کی طرف سے لوگوں کی رائے اختیار کی بھی جاسکتی ہے اور چھوڑی بھی جاسکتی ہے ، لوگوں کی رائے جب واجب الاطاعت قرارپائے تو وہ رائے نہیں رہتی ’’ حقیقت میں فیصلہ قرار پاتی ہے ‘‘ اگرچہ اسے رائے کانام دیاجاتارہے۔ جمہوریت میں ’’اکثریتی رائے‘‘ کسی فیصلہ کرنے والے کے لئے (فیصلہ کرنے کے لئے) نہیں ہوتی بلکہ الیکشن کمیشن سمیت سب کے لئے واجب الاطاعت ہوتی ہے اس لئے وہ واضح طور پر فیصلہ ہوتی ہے نہ کہ رائے۔

محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 01:50 AM   #5
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چوتھا اُصول ِ جمہوریت: حکومت کی حرص
جمہوریت کا ایک اور اُصول حکومت کی حرص میں مبتلا ہونا ہے کیونکہ اس کے بغیر جمہوریت کی چکی چل ہی نہیں سکتی، حکومت کے حریص ایک دوسرے کے مقابل میدان میں اُتریں گے تب ہی لوگ اکثریتی فیصلے سے کسی ایک کو منتخب کریں گے۔ حکومت کی حرص میں مبتلا ہونے والے عام طور پرجذبہ ِ خدمت کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں اس کے برعکس اسلام میں ’’کسی کی طرف سے حکومت مانگنا اور اس کی حرص کرنا حرام ہے اورجس میں یہ چیز موجودہوتویہ حکومت کے لئے اُس کی نا اہلیت قرار پاتی ہے جیسا کہ نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ
ابو موسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے دو چچا زاد بھائیوں کے ساتھ نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا ان میں سے ایک بولا اے اللہ کے رسول ﷺہمیں کسی ملک کی حکومت دے دیجئے ان ملکوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دئیے ہیں اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم نہیں دیتے اس شخص کو جو اس کو مانگے اور نہ اس کو جو اس کی حرص کرے۔


(
مسلم:کتاب الامارۃ۔)
تم لوگوں کو معدن (معدنی کان سے نکلی ہوئی چیز) کی مانند پاؤ گے جو جاہلیت میں اچھا ہوتا ہے وہی اسلام میں بھی اچھا ہوتا ہے جب وہ دین کی سمجھ پیدا کرلے اور تم اس امر(خلافت) کے لیے وہی آدمی زیادہ موزوں پاؤ گے جو اس کو بہت بری چیز خیال کرے تا آنکہ ایسا شخص اس (خلافت)میں مبتلا کردیاجائے۔
مسلم:کتاب فضائل الصحابۃؓ
کلمہ پڑھنے والے کے لئے مانگنے کی بنا پر ملنے والی حکومت دنیا میں بھی اللہ کی مدد سے محروم رہتی ہے اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنتی ہے۔
جیسا کہ نبی ﷺ کے ا رشادات ہیں کہ!
لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ مَسْئَلَۃٍ وُّ کِلْتَ اَلِیْھَا وَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلِیْھَا
حکومت مت مانگوکیونکہ اگر یہ تجھے مانگنے پرملی تو تم (بے یارومددگار) اسی کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر بغیر مانگے ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائیگی۔
مسلم : کتاب الامارۃ۔عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ
اِنَّکُمْ سَتَحْرِصُوْنَ عَلَی الْاِمَارَۃِ وَسَتَکُوْنَ نِِدَامَۃً یَوْمَ الْقیَامَۃِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ
عنقریب تم حکومت کی خواہش کرو گے اور وہ قیامت کے دن باعثِ ندامت ہوگی پس وہ اچھی دودھ پلانے والی ہے اور بری دودھ چھڑانے والی ہے۔
بخاری: کتاب الاحکام۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
طلب کرنے کی بنا پر ملنے والی حکومت کے اللہ کی مدد سے محروم رہنے کے حوالے سے نبی ﷺ کا ارشاد کتنا حقیقت پر مبنی ہے اس کا ثبوت دنیا بھر میں کلمہ پڑھنے والوں کی ہر جمہوری حکومت کی مکمل ناکامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے اس سے آخرت کی سزا کے حوالے سے آپ ﷺکے ارشاد کی سچائی کااندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
طلب ِحکومت اگر چہ عام گنا ہ ہے لیکن جب ایسا غیر اللہ کے نظام’’جمہوریت‘‘ کی اتباع میں کیا جاتاہے تو پھر شرک کا عظیم گناہ بن جاتاہے پھر طلبِ حکومت کے گناہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے لوگوں کی نظر میں بڑا ثابت ہونا ضروری ہو جاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنی پارسائی اور خدمات کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جائے جب کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ
فَلَا تُزَکُّوْآ اَنْفُسَکُمْ


ط ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی
اپنی پارسائی کے دعوے مت کیا کرو، وہی جانتا ہے کہ متقی کون ہے۔
۵۳: النجم۔آیت :۳۲
پھر پارسائی اور خدمات ،ڈھنڈورے کے ذریعے جب لوگوں کے دکھاوے (ریاکاری) کی بھینٹ چڑھتی ہیں تو دین میں شرک ِ ا صغرقرار پاتی ہیں جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّ اَخَوِّفُ مَا اَخَافُ عَلَیکُمُ الشِّرْکُ الْا َ صْغَرُ قَالُوْا وَمَاالشِّرْکُ
الْا َ صْغَرُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ الرِّیَآءُ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ لَھُمْ یَوْمَ
الْقیَامَۃِ اِذَا جُزِیَ النَّاسُ بِاَعْمَالِھِمْ اِذْھَبُوْا اِلَی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ
تُرَاءُ وْنَ فِی الدُّنْیَا فَانْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ عِنْدَھُمْ جَزَاءً
مجھے تمہارے اوپر اصل خوف شرک اصغر کا خوف ہے ، پوچھا کہ اے اللہ کے رسول شرک ِاصغر کیا ہے ؟ فرمایا ’’ریا‘‘ ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دینے لگے گا تو ان(ریا کرنے والوں) سے کہے گا جاؤ اُن کے پاس کہ جن کے لئے تم دنیا میں ریا کیا کرتے تھے اور دیکھو کہ اُن سے تم کوئی جزا پا سکتے ہو؟

احمد: باقی مسندالانصار۔ محمود بن لبیدرضی اللہ عنہ

محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 01:57 AM   #6
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پانچواں اُصول ِ جمہوریت:پارٹی بازی
طاغوتوں کی یہ پرانی عادت رہی ہے کہ وہ لوگوں کو پارٹیوں گروہوں میں تقسیم کرکے رکھتے ہیں جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَهْلَهَا شِيَعًا
حقیقت یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا تھا۔

۲۸::القصص۔آیت:۴

جمہوریت سازطاغوتوں نے اصول ِجمہوریت وضع کرتے ہوئے اسی فرعونی روش کا اعادہ کیا ہے اور پارٹی بازی کو جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل کیا ہے۔ جمہوریت میں حکومت و اقتدار کے حریصوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ پارٹیوں میں تقسیم ہو جائیں، انہیں طاغوت کے پاس رجسٹر کرائیں اور اقتدار کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں ۔طاغوت لوگوں کو پارٹی بنانے اور انہیں اپنے پاس رجسٹرڈکروانے کی دعوت دیتے ہیں۔کلمہ پڑھنے والے جب طاغوتوں کی اطاعت میں پارٹیاں بناتے ہیں، انہیں طاغوت کے پاس رجسٹرڈ کرواتے ہیں اور اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں توایک طرف تو وہ طاغوت کی اطاعت کی بنا پرجہالت میں بھی مبتلا ہوتے ہیں اور دوسری طرف پارٹی بازی کی بنا پر اُمت کی وحدت کو پاراپارا کر دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرما چکا ہے کہ
وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ
﴿﴾لا مِنَ ا لَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَھُمْ و کَا نُوْا شِیَعًاط
کُلُّ حِزْبٍم بِمَالَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ﴿﴾

اور نہ ہو جاؤ مشرکین میں سے، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین میں تفرق اختیار کیا اور گروہوں میں بٹ گئے۔ اب جس گر وہ کے پاس
جو کچھ ہے اسی پر و ہ اِترا رہا ہے۔

۳۰::الروم۔آیات :۳۱،۳۲

٭
پاکستان میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین ۷۳ء میں شامل قراردادِمقاصد میں درج ذیل پیرے کی موجودگی میں جمہوریت کے اصولوں کی وہی تشریح اختیار کی جائے گی جو اسلام نے بیان کی ہے اس لئے اس تشریح کے ساتھ جمہوریت اختیار کرنے میں کیا حرج ہے؟

قرارداد کامذکورہ پیرایوں ہے کہ

’’
جمہوریت،آزادی ، مساوات ، رواداری اور عدل ِ عمرانی کے اصولوں کی،

اسلام کی بیان کردہ تشریح کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔‘‘

اسلام نے جمہوریت کے اصولوں کی کیا تشریح کی ہے اس کے حوالے سے گزارش ہے کہ جو نظام غیر اللہ نے وضع کیا ہو اس کے اصولوں کی تشریح بھی غیر اللہ ہی کی طرف سے آیاکرتی ہے ۔مثلاً پارلیمانی و صدارتی نظامِ جمہوریت کے اصول اور ان کی تشریح برطانیہ ، امریکہ اور فرانس سے ہی ملے گی نہ کہ اسلام سے۔ اسلام سے تو، جمہوریت کے غیراللہ کا، اللہ کے دین کی دلیلوں سے عاری اوراللہ کے دین کی دلیلوں کے مقابل نظام‘‘ ہونے وغیرہ کی بناپر، اسے اختیار کرنے اور نہ کرنے کے حوالے سے فیصلہ آئے گا جو کتاب و سنت کی روشنی میں یہی ہے کہ ’’اللہ کی بجائے غیر اللہ کا اور اللہ کے دین کے مقابل ومتضاد نظام ہونے اور اللہ کی بجائے اکثریت کو اختیارِ قانون سازی تفویض کرنے سمیت اپنے وجودمیں اللہ کے ساتھ شرک کی دیگر صورتیں سمیٹے ہونے کی بناء پر جمہوریت اختیار کرنا شرک ہے ‘‘۔
٭ دینی راہنماؤں میں سے جو لوگ جمہوریت اختیار کرتے اور اس کے ذریعے اقتدار میں آکر دین قائم کرنا چاہتے ہیں وہ اس کے لیے دلیل کے طور پرعثمان رضی اللہ عنہ کے بحیثیت خلیفہ تقرر کا واقعہ پیش کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عام لوگوں میں چل پھر کر یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کو بحیثیت خلیفہ پسند کرتے ہیں یا علی رضی اللہ عنہ کو؟ ان راہنماؤں کے بقول اُس وقت بھی آئندہ حکمران کے حوالے سے لوگوں کی اکثریت کی رائے معلوم کی گئی تھی اور جمہوریت بھی آئندہ حکمران کے حوالے سے لوگوں کی اکثریت کی رائے معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اس لیے اسے اختیار کرنے میں کیا حرج ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ رہنما یہ بھول جاتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کوجانے والے خلیفہ(امام ِشرعی)نے دیگر افراد کے ساتھ نامزد کیا تھا کہ آئندہ خلیفہ ان میں سے مقرر کیا جائے۔ وہ خود خلافت کے طلب گارنہ تھے نہ انہوں نے حصولِ خلافت کے لیے پارٹی بنائی تھی،نہ اس کے حصول کے لیے رائے عامہ ہموار کی تھی نہ اس کے لیے اپنی پارسائی کے دعوے کئے تھے، نہ اپنی خدمات کے ڈھنڈورے پیٹے تھے جب کہ جمہوریت میں درج بالا تمام حرام کام کرنے پڑتے ہیں۔

٭ بعض جمہوریت پسند دینی رہنماء کہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ کی پابندی کرنے سے جمہوریت پاک ہو کر اسلامی ہو جائے گی ۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ جب جمہوریت ہے ہی مجسم شرک تو یہ شرک نیک لوگوں کے اختیار کرنے سے اسلامی کیسے ہوجائے گا؟ مسلمانوں جیسا پردہ کرنے سے جیسے کوئی یہودن مسلمان نہیں ہوسکتی ‘ اسی طرح آرٹیکل ۶۲ اور۶۳ کا لبادہ اوڑھنے سے جمہوریت کا شرک بھی اسلامی نہیں ہوسکتا۔

٭
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم مغربی جمہوریت کے نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں گذارش ہے کہ اسلام کا مطلب تو ہے ’’غیراللہ کی اطاعت چھوڑکرصرف اللہ کی اطاعت‘‘ اور جمہوریت لوگوں کی اکثریت کی اطاعت کانام ہے اب اسلامی جمہوریت کے قائلین ذرا لوگوں کی اکثریت کی اطاعت (جمہوریت)کو صرف اللہ کی اطاعت (اسلامی) بنا کر بتائیں!․․․․․یقینا نہیں بنا سکیں گے تو وہ جان لیں کہ جیسے’’ اسلامی یہودیت ‘‘ یا ’’ اسلامی کیمونیزم ‘‘ کی اصطلاح کو حماقت کی دلیل سمجھا جائے گا اسی طرح’’ اسلامی جمہوریت‘‘ کی اصطلاح حماقت کی اعلیٰ ترین دلیل ہے۔

محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابوسعد (23-02-11), رفیع انجم (20-07-10), راجہ اکرام (17-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 01:59 AM   #7
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اکثریت کی اھواء
سے آئین و قانون سازی
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ط یَقُصُّ الْحَقَّ وَھُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ﴿﴾

حکم کا اختیار تو صرف اللہ کے لئے خاص ہے، وہ ہی حق بات بیان کرتا ہے اور وہ ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
((۶::الانعام۔آیت نمبر ۵۷
اللہ تعالیٰ نے حکم، قانون اور فیصلے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہوا ہے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ بندوں کے لئے حقیقت پر مبنی حکم ،قانون اور فیصلہ اللہ ہی جاری کر سکتا ہے کیونکہ بندوں کا خالق اور اُن کا ربِّ حقیقی ہونے کی بنا پر و ہی بہتر جان سکتا ہے کہ بندوں کے لئے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ۔
اَ لَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ﴿﴾



کیا وہ ہی نہ جانے گا جس نے تخلیق کیا ہے؟ حالانکہ باریک بین اور باخبر تو وہ ہی ہے۔


الملک۔آیت: ۱۴::۶۷

اللہ تعالیٰ نے کتاب و سنت کی صورت میں مبنی بر حقیقت حکم ، قانون اور فیصلہ نازل کردیاہے جو بندوں کے لئے دستورِ زندگی اورآئین کی حیثیت رکھتا ہے اور بندوں کو حکم دیا ہے کہ
فَا حْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآاَ نْزَلَ اللَّہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَ ھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَالْحَقِّ ط



تم اللہ کے نازل کردہ کے ساتھ ان کے مابین فیصلے کرو اور ان کی اھواء کی پیروی مت کرو، اس حق سے منہ موڑ کے جو تمہارے پاس آچکا ہے۔
۵: المائدہ۔آیت نمبر۴۸
اللہ کی طرف سے دستور ِزندگی اور آئین (کتاب و سنت )آ جانے کے بعد اسے نافذ کرنے اور اس سے دلیل لیتے ہوئے معاملات زندگی میں فیصلے کرنے کے سوا مزید آئین وقانون سازی کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی لیکن کلمات ِشہادت ادا کرنے والوں میں اللہ کے نازل کردہ آئین ودستورِزندگی کی موجودگی کے باوجودنہ صرف نئے قوانین کی بلکہ آئین (مملکت کے اصول ِاساسی کی دستاویز)کی بھی ضرورت محسوس کی جاتی ہے اور آئین سازی اور قانون سازی کا مکمل اختیار(اگر کوئی جرنیل آکر چھین نہ لے اور اپنے تِھنک ٹینک کے سپرد نہ کر دے تو)پارلیمنٹ کو حاصل رہتا ہے جیسا کہ پاکستان میں ہے۔
پاکستان میں آئین کا دم بھرنے والے جمہوریت پسند دینی راہنماء پارلیمنٹ کے اختیارِ قانون سازی کے حوالے سے یہ بات فخریہ کہتے ہیں کہ ممبران ِ پارلیمنٹ کا اختیارِ قانون سازی تو آئین کے تابع ہے اورآئین میں درج ذیل شقیں آ جانے سے ممبران کا اختیارِ قانون سازی محدود ہو گیا ہے ،وہ بنیادی طور پر کتاب و سنت ہی کے مطابق قانون سازی کے پابند ہیں البتہ وہ اپنی رائے (اھواء)سے قانون جاری کرنے کا اختیارصرف وہاں استعمال کرسکتے ہیں جہاں کتاب و سنت سے کوئی راہنمائی نہ ملتی ہو۔آئین کی وہ شقیں یوں ہیں
شق ۲(ا) : چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکتِ غیرے حاکمِ مطلق
ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدودکے
اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے۔

شق۲۲۷(۱): تمام موجودہ قوانین کو قر آ ن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے
مطابق بنایا جائے گا جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام ذکر کیاگیا ہے
اور کوئی ایسا قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکو رہ احکام کے منافی ہو۔
جمہوریت پسنددینی راہنماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آئین کی مذکورہ بالا شقوں کے تابع قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا معاملہ تو اس قانون سازی کے حوالے سے ہے جو آئین کے علاوہ ہے مگرخودوہ آئین جواللہ کے آئین کی موجودگی کے باوجودگھڑا گیا ہے اس کی قانون سازی (جسے آئین میں ترمیم کا نام دیا جاتا ہے )وہ کس کے تابع ہے ،دینی رہنما آئین کی درج ذیل شق سے وہ بھی دیکھ لیں
شق ۲۳۹(۵):
آئین میں کسی ترمیم پر کسی عدالت میں کسی بنا پر چاہے جو کچھ بھی ہو
اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
)




ازالہ ِشک کے لیے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ آئین کے احکام
میں سے کسی ترمیم کے مجلس ِشوریٰ ( پارلیمنٹ) کے کسی بھی اختیار پر
کوئی پابندی نہیں۔

٭ آئین کی درج بالاشق کے دونوں پیروں سے ایک یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آئین ۷۳ء اختلافات سے پُر اور ناقص ہے اسی بنا پر اس میں ترمیم کی ضرورت رہتی ہے اور غیراللہ کے وضع کردہ آئین اوراپنی طرف سے نازل کردہ آئین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا 82؀
کیا یہ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ غیراللہ کی طرف سے ہوتا تو یہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔
۴::النساء۔آیت:۸۲
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ١١٥؁
کامل ہے تیرے رب کی بات(کتاب و سنت) سچائی اور انصاف کے اعتبار سے،کو ئی اس کی بات کو تبدیل کرنے والا نہیں اور سب کچھ سننے اور جاننے والا وہی ہے۔
۶: الانعام ۔آیت: ۱۱۵


٭آئین کی شق ۲۔الف اورشق۲۲۷(۱) کے تحت ممبرانِ پارلیمنٹ کی طرف سے قانون سازی(بقول دینی راہنماؤں کے) قرآن و سنت کے مطابق ہوگی مگراِن راہنماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ خود آئین تو پھر بھی ممبران ِپارلیمنٹ کے اختیار ِ ترمیم کی زد میں رہے گا جس کی بنا پر وہ جب چاہیں شق ۲۔الف اورشق۲۲۷(۱) کو اُٹھا کر آئین ہی سے باہر پھینک سکیں گے اورآئین کے پاسدار دینی راہنما پھر کہیں اعتراض بھی نہ کر سکیں گے کیونکہ اس حوالے سے ان کے محبوب آئین کی اوپر بیان کردہ شق ۲۳۹(۵) اور(۶) خوب واضح کی گئی ہے۔لیکن یہ طاغوت کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پھر یہ اسلامی رہنماؤں کو دھوکہ کیسے دیں گیں؟



اپنی اس بات کے جوازمیں کہ ’’عوام کے نمائندے اپنی طرف سے قانون جاری کرنے کا اختیاروہاں استعمال کر یں گے جہاں کتاب و سنت سے کوئی رہنمائی نہ ملتی ہو‘‘ وہ دینی راہنمادرج ذیل حدیث پیش کرتے ہیں کہ
اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا اَرَادَ اَنْ یَّبْعَثَ مُعَاذًااِلَی الْیَمْنِ قَالَ کَیْفَ تَقْضِیْ اِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَاءٌ قَالَ اَقْضِی بِکِتَابِ اللّٰہِ قَالَ فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ قَالَ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَلَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ قَالَ اَجْتَھِدْ بِرَاْیِیْ وَلَا آلُو فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ صَدْرَہُ وَ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ مَا یُرْضِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ
جب رسول ُاللہ ﷺ نے معاذ بن جبل کو یمن روانہ فرمانے کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ نے اُن سے پوچھا کہ جب تمہارے پاس کوئی معاملہ آئے تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ کتاب ُاللہ سے فیصلہ کروں گا ۔ آپ ﷺ نے پوچھا اگر تم کتابُ اللہ میں نہ پاؤ تو ؟ انہوں نے عرض کیا ’’پھر سنت ِرسول ُاللہ کے ساتھ !‘‘ آپ نے پوچھا اگر تم سنت ِ رسول ُ اللہ میں بھی نہ پاؤ اور نہ کتابُ اللہ میں تو؟ توانہوں نے عرض کیا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گااور کوتاہی نہ کروں گا۔پس رسول ُاللہﷺ نے اُن کے سینے پر ہاتھ مارااورکہا کہ سب تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے فرستادے کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہے۔


(ابو داوٗد: کتاب ُالقضاء۔ اصحابِ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ)


حدیث ِبالا کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے ایک راوی حارث بن عمرو کو امام بخاری رحمۃاللہ علیہ سمیت دیگر چوٹی کے محدثین ضعیف قرار دے چکے ہیں یوں یہ ضعیف ترین حدیثوں میں سے ایک ہے ، رہی کسی معاملے میں کتاب و سنت سے راہنمائی نہ ملنے کی بات تو ان کے مکمل اور ہر ایک چیز کی وضاحت کے حامل ہونے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے ارشادات بہت واضح ہیں کہ
اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ
آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پرپسند کر لیا۔
۵: المائدہ۔آیت: ۳
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ 89؀ۧ
اور نازل کی ہے ہم نے تم پر یہ کتاب جو وضاحت کرنے والی ہے ہر ایک بات کی اور ہدایت ورحمت اور بشارت ہے اطاعت کرنے والو ں کے لئے۔
۱۶: النحل۔آیت:۸۹

آیاتِ بالا کی بنا پر کتاب و سنت میں راہنمائی نہ ہونے کی بات قطعی ناممکن ثابت ہوتی ہے ہاں البتہ ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی ڈھونڈنے والا ایک وقت میں کسی معاملے کے حوالے سے کتاب و سنت سے رہنمائی ڈھونڈ نہ سکا ہو ۔ایسی صورت میں اس کے لیے حکم ہے کہ وہ اہل ِ ذکر یعنی کتاب و سنت کے علماء سے پوچھ لے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ
فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 43؀ۙ
پس اہل ِ ذکر سے پوچھ لو اگر تمہیں پتہ نہ چلے تو۔
۱۶: النحل۔آیت:۴۳
یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ خصوصی طور پر’’ اہل ِذکر‘‘ کی طرف رجوع کرنے کا مقصد ہی یہ سامنے آتا ہے کہ اہل ِذکر اُس معاملے کے حوالے سے ’’ذکر‘‘ یعنی کتاب و سنت سے اللہ کے احکامات نکال کر بتائیں جس کا وہ علم رکھتے ہیں نہ کہ اپنی اھواء سے بتائیں اوراپنی پیش کی ہوئی بات کے لئے بھی کتاب وسنت سے دلیل پیش کریں کیونکہ اللہ کی طرف سے یہ ذکر نازل ہی اس لئے ہوا ہے کہ صرف اس کی اتباع کی جائے اور اس سے دلیل پیش کرتے ہوئے بات کی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ ۚ ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ 24؀وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25؀
کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں۔ کہو لاؤ اپنی دلیل، یہ ذکر ہے(دلیل کی خاطر) اُن لوگوں کے لئے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کے لئے بھی جو مجھ سے پہلے تھے مگر ان میں سے اکثر بے خبر ہیں اور حق سے منہ موڑتے ہیں۔ اور ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول بھیجا اُس کی طرف یہی وحی بھیجتے رہے کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں سو میری ہی عبادت کرو۔
۲۱: الانبیاء۔آیات: ۲۴،۲۵
لیکن کتاب و سنت سے راہنمائی خود ڈھونڈنا تو دور کی بات ہے یہ راہنمائی لینے کے لئے اہل ِذکر کی طرف بھی رجوع نہیں کرتے بلکہ انسانوں کی اکثریت کی طرف رجوع کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی رائے سے بتائیں اور انسانوں کی ا کثریت کے علمِ حقیقی سے جاہل، دین سے بے بہرہ اور فاسق ہونے کی بنا پر جاہلیت کا فیصلہ حاصل کرنے کے سواء اور کیاہو سکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ 49؀اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 50۝ۧ
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔(اگر یہ اللہ کے فیصلے سے منہ موڑتے ہیں ) تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔
۵: المائد ہ ۔آیات:۴۹،۵۰
اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا ۭوَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ١١٤؁وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ١١٥؁وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ١١٦؁
کہو ) تو کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف یہ ’’کتاب ‘‘پوری تفصیل کے ساتھ نازل کی ہے اور جن کو ہم نے یہ کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے سو تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا ۔ کامل ہے تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے،کو ئی اس کی بات کو تبدیل کرنے والا نہیں اور سب کچھ سننے اور جاننے والا وہی ہے۔اگر تم لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلوگے جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض ظن کی پیروی کرتے ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
۫الانعام ۔آیات:۱۱۴․․۱۱۶
اللہ کامفصل ،جامع وکا مل اور واضح آئین ودستور ِزندگی آ جانے کے بعد اسے نافذ کرنے اور اس کی دلیلوں کے ساتھ فیصلے کرنے کے سوا مزید آئین وقانون سازی کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی تو جو ایسا کرتا ہے وہ لامحالہ ظن وگمان؍اھواء ہی کی بنا پر کرتا ہے یوں وہ خواہ مخواہ اللہ کی جگہ لوگوں کا راہنماء(اللہ کا شریک) بن بیٹھتاہے جبکہ پاکستان میں ممبران ِ اسمبلی کی اکثریت کے اھواء پر مبنی فیصلوں کو قانون کادرجہ دیا جاتا ہے اورجو لوگ ان کے اھواء کے فیصلوں اور قوانین کی اتباع کرتے ہیں تووہ انہیں اللہ کا شریک بنانے ہی کے مرتکب ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ ۭ قُلِ اللّٰهُ يَهْدِيْ لِلْحَقِّ ۭ اَفَمَنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْٓ اِلَّآ اَنْ يُّهْدٰى ۚ فَمَا لَكُمْ ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ 35؀وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا ۭ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔـا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ 36؀
کہو! کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہو ؟کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے پھر بھلا بتاؤ جو(اللہ) حق کی طرف راہنمائی کرتاہے وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے یا کہ اُس کی(اتباع کی جائے) جوخود راہ نہیں پاتا اِلَّا یہ کہ اس کی راہنمائی کی جائے ؟ آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسے اُلٹے فیصلے کرتے ہو ۔حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثرلوگ محض ظن کے پیچھے چلے جا رہے ہیں حالانکہ ظن حق کی ضرورت کو کچھ بھی پورا نہیں کرتا ۔جو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے ۔
۱۰: یونس۔آیات: ۳۵،۳۶
٭انسانوں کے وضع کردہ آئین کے جواز کے سلسلے میں بعض لوگ میثاق ِمدینہ کی مثال پیش کرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ میثاق ِمدینہ مسلمین اور کفار کے درمیان ایک معاہدہ تھااور اس میں ہر متنازعہ معاملے میں آخری فیصلے کا اختیار نبی ﷺ کے پاس تھایوں یہ میثاق کفار سے ایسے معاہدے ہی کے لئے دلیل بنتا ہے جوکتاب و سنت کے تحت ہو جبکہ آئین ۷۳ء مسلمین اور کفار کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں بلکہ مسلمان کہلانے والے لوگوں کااپنے لئے اختیار کردہ آئین ہے جس میں کفار کی حیثیت اقلیت کی ہے مگر اس میں آخری فیصلے کا اختیار نبی ﷺ(کتاب وسنت) کی بجائے پاکستان کی سپریم کورٹ کو حاصل ہے اوریہ کورٹ آئین کے حوالے سے فیصلہ دینے کے لئے نبیﷺ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اپنی اھواء کی طرف رجوع کرتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65؀
سوقسم ہے تیرے رب کی(اے نبی ﷺ) ! یہ مومن ہو ہی نہیں سکتے جب تک یہ آپس کے اختلافات میں تمہیں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ فیصلہ تم کرو اسے دل میں ذرا سی بھی تنگی محسوس کئے بغیر سر بہ سر تسلیم نہ کر لیں۔
۴: النساء۔آیت:۶۵
اللہ کے نازل کردہ آئین کی موجودگی کے باوجود انسانوں کے وضع کردہ آئین کی موجودگی ضروری سمجھنے والے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ کتاب و سنت پربہترین عمل کرنے والے لوگوں یعنی خلفائے راشدین نے بغیر کسی نئی آئین و قانون سازی کے صرف اللہ کے نازل کردہ آئین کے تحت فیصلے کرتے ہوئے ایسا بہترین نظام ِ حکومت چلا یا کہ دنیا آج تک اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔اس بنا پر یہ کہنا تو قطعی بے جا ثابت ہوتاہے کہ نیا آئین اورنئے قوانین وضع کئے بغیر نظام ِحکومت چلایا نہیں جا سکتا۔

Last edited by محمد عاصم; 17-07-10 at 07:22 PM.
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (14-03-11), saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (17-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابوسعد (23-02-11), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 02:16 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ کس کی تحریر ہے ، حوالہ فراہم کردیجئے۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), رفیع انجم (20-07-10), رضی (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 02:35 AM   #9
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,060
کمائي: 18,839
شکریہ: 1,697
621 مراسلہ میں 1,243 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس کا مطلب ہے کہ موجودہ نظام جمہوریت مشرکانہ ہے

اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے
حسنین ایوب آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-07-10), کنعان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), آبی ٹوکول (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 04:42 AM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,866
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : hasnan_1983 مراسلہ دیکھیں
اس کا مطلب ہے کہ موجودہ نظام جمہوریت مشرکانہ ہے

اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے
بھئی مجھے کوئی بتلائے گا کہ اس مقالہ نگار سمیت دنیا میں اج کہیں اسلام ہے بھی یا نہیں ؟؟؟؟' کہیں اس مقالہ نگار نے اسلام کے ساتھ حس کم جہاں پاک والا معاملہ تو نہیں کردیا؟؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے آج پتا تو چلا کہ دنیا میں کہیں بھی اسلام کا وجود نہیں بلکہ ہر جگہ فقط کفر و شرک کا ہی ڈیرہ ہے ۔ ۔ ۔
سعودی عرب کہ جہاں بدترین آمریت کئی برسوں سے نافذ ہے سے لیکر تمام کے تمام مسلم ممالک کہ چاہے آمریت والے ہوں یا جمہوریت والے سب کے سب مشرک ٹھرے اور ان تمام ممالک کے حکمران اور عوام کٹر ترین مشرک کہ جو اللہ کے نظام کی بجائے بار بار کفر شرک کے نظام کو لانے اور چلانے کا باعث بنتے ہیں ۔ ۔ ۔
میرا تو اس مقالہ نگار کے بے اختیار صدقے چلے جانے کو جی کرتا ہے ہاہاہاہاہ سچ ہی کہا کسی نے خدا جب دین لیتا ہے تو حماقت آہی جاتی ہے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
ہادی (02-01-12), فاروق سرورخان (17-07-10), کنعان (18-07-10), منتظمین (17-07-10), مرزا عامر (17-07-10), ابوسعد (23-02-11), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10)
پرانا 17-07-10, 08:44 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,461
کمائي: 21,794
شکریہ: 770
1,037 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس راز کو اِ ک مردِ فرنگی نے کیا فاش + ہرچند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے

جمہوریت اِ ک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں + بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

( اقبال )
عبیداللہ عبید آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
19 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (14-03-11), saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (17-07-10), نورالدین (19-07-10), محمد عاصم (17-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابوسعد (23-02-11), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), حسنین ایوب (18-07-10), رفیع انجم (20-07-10), راجہ اکرام (17-07-10), رضی (18-07-10), عبدالقدوس (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 09:38 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس دھاگہ کے کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ، میری ناظمین سے گذارش ہے کہ اس دھاگہ کو خصوصی طور پر صرف معلوماتی جوابات کے لئے مخصوص‌کردیا جائے، بے معانی قسم کا اور ذاتی تبصرہ فوراً حذف کردیا جائے، چاہے وہ اصل لکھنے والے پر ہو، یہاں نقل کرنے والے پر ہو یا جوابات دینے والوں پر۔ ایسے مضحکہ خیز تبصرات کے لئے بہت سے دھاگہ کھلے ہیں۔ یہاں‌مقصد ہے کہ اس مراسلہ میں درج پیغام کا تجزیہ کیا جائے اور معلومات کو درست رخ دیا جائے۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
sahj (18-07-10), saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), منتظمین (17-07-10), محمد عاصم (17-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), رضی (17-07-10), عبدالقدوس (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 12:01 PM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
یہ کس کی تحریر ہے ، حوالہ فراہم کردیجئے۔
فاروق صاحب یہ میری اور میرے ایک اور بھائی ابو عبداللہ کی تحریر ہے۔
میں مصروف زیادہ ہوتا ہوں اس لیے زیادہ اُسی بھائی نے لکھا ہے میں نے اس میں لکھا ہوا ہے لیکن کم۔
ابھی یہ مضمون مکمل نہیں تھا مگر میں نے اس کو پوسٹ کردیا ہے تاکہ آپ بھائی اس پر تبصرہ کر سکیں باقی بھی جلد پوسٹ کر دونگا۔ ان شاءاللہ
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
16 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (14-03-11), sahj (18-07-10), saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (17-07-10), ھارون اعظم (17-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), راجہ اکرام (17-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 01:15 PM   #14
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,902
کمائي: 73,148
شکریہ: 26,780
3,502 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب رسول ُاللہ ﷺ نے معاذ بن جبل کو یمن روانہ فرمانے کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ نے اُن سے پوچھا کہ جب تمہارے پاس کوئی معاملہ آئے تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ کتاب ُاللہ سے فیصلہ کروں گا ۔ آپ ﷺ نے پوچھا اگر تم کتابُ اللہ میں نہ پاؤ تو ؟ انہوں نے عرض کیا ’’پھر سنت ِرسول ُاللہ کے ساتھ !‘‘ آپ نے پوچھا اگر تم سنت ِ رسول ُ اللہ میں بھی نہ پاؤ اور نہ کتابُ اللہ میں تو؟ توانہوں نے عرض کیا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گااور کوتاہی نہ کروں گا۔پس رسول ُاللہﷺ نے اُن کے سینے پر ہاتھ مارااورکہا کہ سب تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے فرستادے کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہے۔
ابو داوٗد: کتاب ُالقضاء۔ اصحابِ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ)

اس حدیث کو آپ نے ضعیف قرار دیا ہے-سب سے پہلے ہونا یہ چاہیئے کہ تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اور علماء مل کر بیٹھیں اور یہ فیصلہ کر لیں کہ کونسی احادیث قابل قبول ہیں- جب یہ فیصلہ ہو جائے تو ناقابل قبول احادیث کو ہمیشہ کے لئے کتابوں سے نکال دیا جائے- اسلام میں اجکل تفرقہ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک حدیث کسی ملا کے لیئے ضعیف، غریب،معلق وغیرہ وغیرہ اور دوسرے کے لیئے زندگی اور موت کا مسئلہ-
موضوع، معلق یعنی لٹکی ہوئی، غریب اور ضعیف روایات کی بنیاد پر اگر آپ کسی خلافت کی بنیاد رکھیں گے تو وہ خلافت بھی لٹکی ہوئی، غریب اور ضعیف ہوگی- اور یہ ضعیف خلافت کتنا عرصہ چلے گی - واللہ اعلم
میرا خیال ہے کہ میں نے موضوع سے ہٹ کر بات نہیں کی۔
__________________
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے توکون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیئے

اٰل عمران 160
مرزا عامر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10)
پرانا 17-07-10, 04:06 PM   #15
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Mirza Amir مراسلہ دیکھیں
اس حدیث کو آپ نے ضعیف قرار دیا ہے-سب سے پہلے ہونا یہ چاہیئے کہ تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اور علماء مل کر بیٹھیں اور یہ فیصلہ کر لیں کہ کونسی احادیث قابل قبول ہیں- جب یہ فیصلہ ہو جائے تو ناقابل قبول احادیث کو ہمیشہ کے لئے کتابوں سے نکال دیا جائے- اسلام میں اجکل تفرقہ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک حدیث کسی ملا کے لیئے ضعیف، غریب،معلق وغیرہ وغیرہ اور دوسرے کے لیئے زندگی اور موت کا مسئلہ-
موضوع، معلق یعنی لٹکی ہوئی، غریب اور ضعیف روایات کی بنیاد پر اگر آپ کسی خلافت کی بنیاد رکھیں گے تو وہ خلافت بھی لٹکی ہوئی، غریب اور ضعیف ہوگی- اور یہ ضعیف خلافت کتنا عرصہ چلے گی - واللہ اعلم
میرا خیال ہے کہ میں نے موضوع سے ہٹ کر بات نہیں کی۔
عامر بھائی میری کیا مجال کہ کسی بھی حدیث کو ضعیف یا موضوع وغیرہ کہوں، بھائی آپ نے جہاں سے اس کو پڑھا اس کے ساتھ ہی اس کی وضاحت بھی تھی کہ کیوں یہ حدیث ضعیف ہے، اس حدیث کو محدثین نے ہی ضعیف کہا ہے میں نے نہیں۔
حدیث ِبالا کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے ایک راوی حارث بن عمرو کو امام بخاری رحمۃاللہ علیہ سمیت دیگر چوٹی کے محدثین ضعیف قرار دے چکے ہیں یوں یہ ضعیف ترین حدیثوں میں سے ایک ہے ،

اور آپ کے اسی سوال کا جواب میں نے پہلے بھی دیا تھا آپ نیچے والے لنک کو دیکھیں۔ جزاک اللہ

نماز کی ادائیگی سنت کے مطابق
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10)
جواب

Tags
color, ہے۔, گئی, پاکستان, چین, مکمل, ملک, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, بے, ثبوت, حیات, دوست, دنیا, راستہ, سیاست, طور, عوام, عذاب, غیراللہ, صاف, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایس ایم ایس کو قانونی حثیت دینے کا فیصلہ جاویداسد خبریں 1 26-07-10 09:01 PM
عدالت کی فیس بک کو مانیٹر کرنے کی ہدایت جاویداسد خبریں 1 16-06-10 11:32 PM
ڈی ایس ایل کی شکایت کا خاص الخاص نمبر شازل عمومی بحث 8 20-05-09 09:12 PM
شہدادکوٹ :راکٹ حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ابن جلال خبریں 1 23-09-08 04:26 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger