|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! (کسی اجنبی عورت پر) دوبارہ نظر نہ ڈالنا، پہلی نگاہ تو تمہاری ہے۔ دوسری نگاہ کا تمہیں حق حاصل نہیں ہے”۔
(ابوداؤد) فائدہ:۔ بدکاری کی پہلی سیڑھی آنکھوں کی آوارگی ہے۔ اسی بناء پر اسلام نے سب سے زیادہ زور نظر کی پاکیزگی اور عفت پر دیا ہے۔ شوق و ارادے سے نامحرم عورت پر نگاہ ڈالنا ممنوع ہے خواہ وہ پہلی بار ہو یا دوسری بار۔ اچانک پہلی نگاہ کے بارے میں تو کہا جاسکتا ہے کہ اس میں دیکھنے والے کے شوق اور ارادے کا دخل نہیں ہے۔ لیکن دوسری بار تو شوق و ارادے سے ہی نگاہ ڈالتا ہے اس لیے وہ گناہگار ہے۔ پہلے نگاہ کو اسی لیے معاف فرمایا گیا ہے کیونکہ اس میں قصد اور ارادے کا دخل نہیں ہے۔ لیکن دوبارہ نگاہ ڈالنا اس لیے درست نہیں کیونکہ اس کے پیچھے نفسانی خواہش شامل ہوتی ہے۔ کسی پرائی عورت کے حسن و جمال پر نگاہ ڈالنا اور اس سے لطف اندوز ہونا نہایت خطرناک اقدام ہے۔ اس حرکت بےجا سے دل کی پاکیزگی باقی نہیں رہتی اور اس کا قوی امکان ہوتا ہے کہ وہ کسی فتنے میں مبتلا ہوکر اپنی عزت و عافیت دونوں گنوا بیٹھے۔ بدنگاہی کے مضرات اس قدر ہیں کہ بسا اوقات ان سے دنیا اور دین دونوں برباد ہوجاتے ہیں۔ آج کل اس مرض میں مبتلا ہونے کے اسباب بہت زیادہ پھیلتے جارہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بےپردگی ہے۔ اس بدنظری کے نتیجہ میں انسان عشق مجازی میں مبتلا ہوکر تڑپتا رہتا ہے۔ زندگی تلخ، نیند حرام، بےچینی، صحت خراب، دل و دماغ کمزور، کسی کام میں جی نہیں لگتا، خودکشی کے خیالات اور بسا اوقات اس پر عمل پیرا بھی ہوکر اپنے آپ کو جہنم کے سپرد کردیتا ہے۔ سکون کی نیند سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ اور یہ عشق مجازی عذاب الٰہی ہے جس طرح دوزخ میں موت اور زندگی کے درمیان انسان پریشان ہوگا۔ ”لاَ یَمُوتُ فِیھَا وَلاَ یَحیٰی”۔(الاعلٰی۔13)۔ اس بدنگاہی کی وجہ سے قلب میں جو ذکر و عبادت اور صحبت اہل اللہ سے انوار پیدا ہوتے ہیں ان کا ستیاناس ہوجاتا ہے اور قلب میں دوبارہ ایمانی حلاوت اور ذکر اللہ کے انوار بحال ہونے میں بہت وقت لگتا ہے۔ بدنگاہی کی ظلمت بہت مشکل سے دور ہوتی ہے۔ یہ بدنگاہی انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔ دراصل اسی بدنظری کا ایک شاخسانہ ہے کہ عورت کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اس کا حسن دیکھا جائے اور اس کا بسا اوقات اظہار لباس کی زینت میں، بالوں کی آرائش میں، باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسے ایسے خفیف جزئیات تک میں ہوتا ہے کہ جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں ان سب کے لیے ایک جامع اصطلاح ”تَبَرُجَ الجَاھِلِیہ” استعمال کیا ہے۔ ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لیے لذت نظر بننا ہو، تبرج جاہلیت کی تعریف میں آجاتی ہے۔ اس کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے۔ اس کو خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہیے کہ اس میں کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے۔ اگر ہے تو وہ اس حکم خداوندی کی مخاطب ہے۔ ”وَلاَ تَبَرجنَ تَبَرجَ الجَاھِلِیہِ اَلاولٰی”۔ (الاحزاب۔33)۔ ”اور قدیمی جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو”۔ قرآن نے واضح کردیا ہے کہ یہ تبرج جاہلیت ہے، جو اسلام سے پہلے تھی، اب بھی ہے اور آئندہ بھی، جب بھی کبھی اسے اختیار کیا جائے گا۔ یہ جاہلیت ہی ہوگی۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چاہے اس کا نام کتنا ہی خوشنما، دل فریب رکھ لیا جائے۔ مختصراً یہ ظاہر ہے کہ جب انسان آنکھیں کھول کر دنیا میں رہے گا تو سب ہی چیزوں پر اس کی نظر پڑے گی۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ مرد کی کسی عورت پر اور عورت کی کسی مرد پر کبھی نظر نہ پڑے۔ اس لیے علماء نے قرآن و احادیث کی روشنی میں فرمایا ہے کہ اچانک نظر پڑ جائے تو معاف ہے۔ البتہ جو چیز ممنوع ہے وہ یہ ہے کہ دوبارہ قصداً نگاہ ڈالی جائے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں سمجھنےاور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔آمین |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, قرآن, قرآن حکیم, قصد, نیند, نظر, موت, ممکن, آوارگی, آج, اللہ, انسان, اجنبی, اسلام, حکم, حسن, خودکشی, دل, دعا, زندگی, عورت, عبادت, عزت, عشق, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|