واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


اسلام ا ور جدت پسندی - از محمد الطاف گوہر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-07-09, 12:20 AM   #1
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,881
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اسلام ا ور جدت پسندی - از محمد الطاف گوہر

اسلام ا ور جدت پسندی - از محمد الطاف گوہر

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اور تمام انسانیت کو سلامتی ، عروج ، امن و عالمی بھائی چارہ کی کھلی دعوت دیتا ہے۔یہ خود سند و حجت ہے، جبکہ نا تو کسی مخصوص مکتبہ فکر اور مخصوص شعبہءزندگی کا مرہون منت ہے کہ اس کے پیمانے پہ پورا اترے او ر نا ہی اسے ہم اپنی کم علمی اور محدود سوچ کا پابند کر سکتے ہیں ۔ اکیسویں صدی میں اگر سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسلام کو سائنس کے پیمانے پہ تولیں بلکہ اگر تمام سائنسی پیش رفت کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ جو انکشافات آج سے چودہ سو سال پہلے ہو چکے ہیں ، آج سائنس کو صرف ان حقائق تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ جوں جوں انکشافات بڑھتے جا رہے ہیں ، اقوام عالم کی رغبت اسلام کیطرف بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ آج دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب صرف قرآن ہے جوکہ اسلام کی عالمگیریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔البتہ سائنسی علوم کا حصول اور تحقیق کا عمل مسلمان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ قرآن ہمیں غوروفکر کی کھلی دعوت دیتا ہے ۔
تمام الہامی ذرائع ایک اٹل حقیقت بیان کر گئے ہیں جو تبدیل نہےں ہو سکتی مگر انسان ابھی شعوری بالیدگی کے عمل سے گزر رہا ہے اور عقلِ کل نہےں بنا، لہذا جب انسانی ذہن اپنی خود ساختہ حد بندیاں توڑ کر آگے کی طرف بڑھتا ہے تو اسے روشنی کی نئی دنیائیں اور سوچوں کے نئے زاویے اور رابطے (Angles & Channels) دریافت ہوتے ہیں جبکہ الہامی باتیں ازل سے انتہا تک کی خبر دیتی ہیں۔کچھ لوگ جو فقط علمی اور فلسفیانہ جھمیلوں میں پڑے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ الہامی اور مذہبی علم کے آگے عقل کو استعمال نہےں کرنا چاہئے کیونکہ یہ دھوکا کھا جاتی ہے۔ انکی خدمت میں عرض ہے کہ علم کسی بھی لمحے کے لیے محدود نہےں کردیا گیا ، بلکہ ابھی تک کن فیکون کی صدا آ رہی ہے اور کائنات جو کہ مسلسل پھیل رہی ہے اور اپنے مرکز ( Zero Point ) سے دور ہوتی جارہی ہے جبکہ ہر لمحہ ہم ایک نئی جگہ پہ دریافت ہوتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں عقل جیسے انعام سے نوازا ہے کہ جو علم کی روشنی میں دیکھتی ہے اور علم وہ نور ہے جو ہمارا رابطہ حقیقت سے کروا دیتا ہے ، لہذا علم کے باعث عقل کو وہ ترو تازگی حاصل ہوتی ہے جو کہ کائنات کے اس پھیلاﺅ سے ہم آہنگی اور سنت خداوندی سے روشناس کرواتی ہے اور ایک محدود ذہن کو وسعت دیتی ہے۔ اگر ایک لمحہ کیلئے مان لیا جائے کہ جدت سے ہماری درشتگی اپنی جگہ پہ درست ہے اور عقل کو پس پشت ڈال دیں ، تو پھر ہم بلب، ٹیوب لائٹ ، فریج ، ایرکنڈیشن ، گاڑی ، الیکٹرانکس آلات، ہوائی جہاز، سمندری جہاز، ٹیلی فون، موبائل ، کمپیوٹر وغیرہ وغیرہ جو کہ بنی نوع انسانیت کیلئے ناگزیر ہو چکے ہیں ان کو اپنی زندگی میں شامل کیوں کرتے ہیں؟

ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے؛ ”بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں ) اللہ کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے) ہیں کہ اے پرور د گار تو نے اِس(مخلوق) کو بے فائدہ نہےں پیدا کیا۔ تُو پاک ہے، تو (قیامت کے دن)ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو“ (آل عمران آیت:190-191 )
”اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے اور ہر طرح کے میوں کی دو د و قسمیں بنائیں وہ رات کو دن کا لباس پہنا تا ہے۔ غور کرنے والوں کیلئے ان میں بہت سی نشانیاں ہیں“ (سورت الرعد آیت:3)
” وہ جس کو چاہتا ہے ، دانائی بخشتا ہے اور جس کو دانائی ملی بے شک اس کو بڑ ی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں“ (سورت البقرہ آیت: 2 69 )

یعنی قرآن پکار پکار کر عقل استعمال کرنے کو کہہ رہا ہے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور فکر کی کھلی دعوت دے رہا ہے۔اور اسی کے باعث زندگی میں تسلسل، اور عروج حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ انسان کی ترقی کے مدارج بھی یہی ہیں اور انہیں اعمال کے باعث ا نسان دائمی سکون، خوشی اور صحت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ قدرت نے کائنات کی ہر شے انسان کے لیے تخلیق کی ہے جس طرف بھی نظر دوڑائیں کائنات کی ہر شے آپکے آ پنے لیے نظر آئے گی او ر اپنے وجود کے ہونے کا مقصد کو پورا کر رہی ہوگی۔ پھولوں میں خوشبو ہمارے لیے ہے اور پھلوں میں رس ہمارے لیے ہے، آبشاروں کے گیت ہمارے لیے ہیں، سرسبز و شاداب پہاڑوں کی بلند چوٹیاں جو دلفریب نظارہ پیش کرتی ہیں وہ بھی ہمارے لیے ہیں حتیٰ کہ کائنات کی سب مخلوق (Creature) ہمارے لیے مسخر کر دی گئی ہے ۔ ازل سے ادیانِ عالم اِس کا درس دیتے آئے ہیں کہ ہمیں دوسروں سے روابط کس طرح رکھنا ہے، انسانیت کیلئے فائدہ مند کیسے ہونا ہے، اور لوگوں میں رہتے ہوئے زندگی کس طرح گزارنی ہے، وگرنہ اگر انسان نے ا کیلئے جنگل میں رہنا ہوتا پھر اس سب کی کیا ضرورت تھی۔ ہم نے سب کے ساتھ اِن روابط سے رہنا ہے جن کے باعث ایک صحت مند معاشرہ جنم لے اور زندگی کے ثمرات بحیثیت مجموعی حاصل کرنے ہیں ورنہ ایک شخص کی زندگی کے ثمرات اُس کیلئے بے معنی ہیں جب تک کہ وہ دوسروں کو اِس میں شامل نہ کرے۔

بے شک تجسس انسانی فطرت کا خاصہ رہا ہے اور اس کے بل بوتے پر انسانی ذہن نے مختلف ادوار میں جو کار ہائے نمایاں انجام دیئے ہیں ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اور اسی باعث امکانات کے اسرار کھلتے ہیں اور انسانی سوچ کو بلند فضاؤں میں پرواز کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ اب جبکہ شعوری بالیدگی کا دور دورہ ہے اور نئے نئے انکشافات نے پرانے اور دقیانوسی تصورات کی جگہ لے لی ہے دور حاضر کے مسلسل سائنسی انکشافات نے حقائق بیان کر کے شعوری پستی کی آنکھیں چکا چوند کر دی ہیں ۔ اگر پچھلی ابتدائی صدیوں کے انسان کو آج کے دور کے سلسلہء زندگی کو دیکھنے کا موقعہ ملے تو وہ سو فیصد غیر یقینی حالت میں چلا جائے گا کیونکہ پرانے وقتوں میں ایک انسان کیلئے ہوا میں اڑنا ،سمندر کے پانی میں سفر کرنا دور دراز کے فاصلے گھنٹوں میں طے کرنا یا پھر لاکھوں کلو میٹر دور بیٹھے شخص کو اپنی آنکھوں کے سامنے نہ صرف دیکھنا بلکہ بات بھی کر لینا یا پھر زمین کے کسی بھی کو نے سے دوسرے کو نے میں پلک جھپکتے میں بات کر لینا یا پھر اسے پیغام م بجھوا دینا کسی حیرت انگیز بات سے کم نہیں۔مگر آج کے انسان نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ یہ زمین ساری کی ساری اس کی دسترس میں آ گئی ہے اور یہ دنیا اب ایک چھوٹے سے بچے کے آگے صرف Mouse کی ایک Click کے فاصلے پہ ہے۔جبکہ فاصلے سمٹ چکے ہیں اور دنیا ایک Global Villageکی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ یہاں تک کہ دنیا کے ایک کونے میں سرکنے والے پتھر کی بازگشت دوسرے کونے میں سنای دیتی ہے۔مگر ہمارے دنیا کو ماپنے اور جاننے کے پیمانے وہی صدیوں پرانے ہیں؟

اس زمین پر ظہور انسانی سے ہر دور کے لوگو ں کا چند ایک سوالات سے واسطہ پڑتا رہا ہے جیسا کہ اس کائنات کا بنانے والا کون ہے؟ زمین پر زندگی کا آغاز کسیے ہوا ؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہم کیوں پیدا ہوئے اور کیو ں مر جاتے ہیں؟ آیا ان سب معا ملات کے پس پردہ کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی ہے یا پھر سارا عمل خود بخود ہو رہا ہے ۔ہر دور کے لوگوں میں کائنات کے خالق کو جاننے کا جوش و خروش پایا جاتا ہے (یہاں ایک اصول واضح کرتا چلوں کہ اگر کوئی شخص کسی مسئلے کا حل تلاش نہ کر سکے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو مختلف زاویوں سے جانچے ۔ یعنی تمام امکانات کا جائزہ لے) ا کثر اوقات دیانتداری سے مسئلہ کو حل کرنے کی کاوش خودبخود ہی مسئلہ کو آسان بنا دیتی ہے ۔لہذا انہی خطوط پر چلتے ہوئے لوگوں میں معاملات زندگی کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے ۔یہ جاننے کیلئے کہ اس کائنات کا خالق کو ن ہے لوگوں نے اس کائنات (آفاق)کی تخلیق سے متعلق تحقیق کرنا شروع کر دی۔ کائنات کے راز کو جاننے کیلئے مختلف روش اختیار کی گیں۔

لوگو ں کے ایک گروہ نے آفاق کو اپنا مرکز چن کر کائنات کے اسرار کو جاننے کیلئے اسکا ظاہری مطالعہ شروع کر دیا نتیجہ نا صرف قوانین اور مظاہر قدرت کو جانا بلکہ انتہائی مفید مشینری الیکٹرانکس کے آلات و دیگر ایجادات کا ایک ڈھیر لگا دیا ۔ان تحقیقات کی بدولت سائنس نے ترقی کی اور نت نئی ایجادات کا لا متناہی سلسلہ چل پڑا لہذا مستقل جستجو نے طبعی (Physical) اور زیستی (Biological) قوانین کے راز فاش کرنے شروع کر دیئے۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے باعث آجکا جدید دور ان لوگوں کی مستقل تحقیقات اور جدو جہد کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس کائنات کا ظاہری مطالعہ کیا ۔یہ تحقیق اپنی مسلسل پیش رفت کے باعث قدرت کے رازوں کو مسخر کرنے پر گامزن ہے ۔

پرانے وقتوں میں لوگ یہ تصور کرتے تھے کہ یہ دنیا صر ف چار عناصر سے ملکر بنی ہے ۔زمین، پانی اور آگ اور ہوا، پھر سائنسی ایجادات کا سلسلہ چلا اور زیادہ سے زیادہ انکشافات سامنے آنے لگے اور یہ طے پایا کہ کائنات108 عناصر سے ملکر بنی تھی ۔پھر ان 108عناصرکی پیچیدگیوں کے مطالعہ کے بعد یہ اخذ کیا گیا کہ یہ تمام عناصر صرف ایک ذرہ ایٹم (ATOM) سے ملکر بنے ہیں اور ان عناصر میں صرف فرق ایٹم کی ترتیب کا ہے۔
اسکے بعد کی تحقیق نے ثابت کیا کہ ایٹم ہی بنیادی ذرہ نہیں بلکہ الیکٹران ہی وہ بنیادی ذرہ ہے جو تمام دنیا کی اساس ہے۔ تاہم الیکٹران کی دریافت ایک مسئلہ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔الیکٹران اگرچہ بنیادی ذرہ کہلایا مگر یہ مطلق ذرہ والی فطرت ظاہر نہ کر پایا یعنی ایک وقت میں وہ متحرک بھی تھا اور غیر متحرک بھی۔ کبھی یہ ذرہ کا کردار ادا کرتا اور کبھی ایک لہر کی شکل میں ہوتا۔ یہ معاملہ سائنسدانوں کیلئے انتہائی پیچیدہ ہو گیا کہ وہ الیکٹران کی اصل تعریف کیسے کر سکیں ۔لہذا ایک نئی اخترا ع سا منے آئی اور الیکٹران دوہری خصوصیت کا حامل ٹھرا ے جو کہ لہر کے ذرات ا ور کبھی صرف ذرہ کی خصوصیت کا اظہار کرتا ۔ مگر جب اس الیکٹران پر مزید تحقیق جاری رکھی تو یہ کھوج ایک انتہائی درجے پر پہنچی کہ الیکٹران صرف اور صرف ایک کمترین توانائی کا ذرہ (Energy Particle)ہے اور یہ توانائی ہی کی خصوصیت ہے جو کہ اپنے آپ کو الیکٹران میں تبدیل کرتی ہے اور بعد میں اس مادے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ مشہور سائنسدان البرٹ آئینسٹاین کی مساوات ۲ E= MC بھی تمام مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہونے کے عمل کہ تقویت دیتی ہے۔ سائنسدانوں کی تمام تحقیق اب تک ہمیں یہاں تک لانے میں یقینی طور پہ کامیاب ہوئی ہے کہ یہ درخشاں توانائی اپنے بنیادی درجہ پر اس کائنات میں جاری و ساری ہے جبکہ ہر چیز ایک مخصوص جگہ گھیرتی ہے اور پھر توانائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

یہ تو بات ہو رہی تھی ا ن لوگوں کے بارے میں جنہوں نے مسلسل آفاق کی تحقیق سے زندگی کے چند اسرار کا اندازہ لگایا اور ہمیں ہستی کے نئے میدان میں لاکھڑا کیا۔ ان لوگوں کی سوچ تھی کہ اگر اس ظاہری کائنات کا کوئی خا لق ہے تو انکے وجود (جسم ) کا بھی کوئی خالق ہو گا ؟

لہذا اس سوچ سے وہ بھی اس تخلیق کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہیں ، انہوں نے اپنی تو جہ کائنات کے ظاہری وجود سے ہٹا کر اپنے وجو د (نفس) کے اسرار کی کھوج میں لگا دی ۔ اس طرح انہوں نے آفاق سے ہٹ کہ مطالعہ نفس میں دلچسپی لی اور اپنی ذات پہ تجربات کا ایک سلسلہ شروع کیا تا کہ اپنے اندر کے رازِ حقیقت کو سمجھا جائے اس طرح سے علم نورانی کے سلسلے نے وجود پکڑا یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ تمام تجربات انسان کے اپنے (Software ) یعنی ذہن (MIND ) پہ کئے گئے نہ کہ جسم پہ۔ لہذا انہوں نے نفس کو اپنی تحقیق کا مرکز بنایا اور اپنے جسم و ذات پر یہ تحقیق شروع کر دی او اپنی توجہ اپنے ا ند ر مرکوز کر دی جسکے نتیجہ میں نفوذ کرنے کے بہت سے طریقہ کار دریافت کیے تا کہ ا پنے اندر کا سفر کرکے اس اکائی (جز) کو تلاش کیا جا سکے جو کے انکو اس کائناتی حقیقت سے مربوط کرتا ہے ۔ اس کوشش نے علم نورانی (علم مراقبہ) کے عمل کو تقویت دی ۔ تمام طریقہ کار جو کہ مختلف طرح سے مراقبہ کے عمل میں نظر آتے ہیں وجود پائے۔ جس کا عمل دخل کم و بیش ہر مذہب کی اساس معلوم ہوتا ہے۔ آ ج مراقبہ کے عمل میں جو جدت اور انواع و اقسام کے طریقہ کار نظر آتے ہیں انہی لوگوں کے مرہون منت ہے جنہوں نے اپنے نفس کو تحقیق کیلئے چنا۔ ان تحقیقات اور مراقبہ کی مختلف حالتوں میں لوگوں نے محسوس کیا کہ اس سارے نظام عالم وجود میں شعوری توانائی کا نفوذ اور منسلکہ رشتہ ہے ۔

مراقبہ کی گہری حالتوں میں اب ہر فرد واحد کا واسطہ ایک ا ہم گہرا احساس دلانے وا لے وجود یعنی خودی ( میں،SELF) سے پڑا اور یہ اخذ کیا گیا کہ یہ جو سلسلہ کائنات میں توانائی کا عمل دخل نظر آتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک اعلی حس آگاہی (Supreme Consciousness) ہے جس کا اس کائنات میں نفوذ ہے ۔ اب ان تحقیقات مراقبہ اور سائنس میں کبھی کبھی ہم آہنگی ہونے کے ممکنات موجو د ہیں ۔ اس فطرت کی ہر شے کچھ نہیں سوائے ایک مطلق حس آگاہی کے ۔یہ ایک اعلی مطلق خبر آگاہی جسکا ہر طرف نفوذ ہے اور یہی وہ اللہ ہے جو کائنات میں ہمیں اپنی ذات کے اندر اور باہر محسوس ہوتا ہے
" اللہ نور السمٰوات ولارض"
"ھو اول و آخر ظاہر و باطن"
کبھی اپنی ذات (خودی) سے تعلق ہمیں ایک رابطہ ملتا ہے کہ ہم اپنے اللہ کو جانیں
"من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ"

جدت پسندی (Modernism) ، جدیدت ( Modernity) اور کلیسائی جدیدت (Modernism -Roman Catholicism) کے مثلث (Triangle) کے فرق کو سمجھتے ہوئے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جدت پسندی ایک فطری عمل ہے اور انسانی زندگی کے ارتقائی عمل کا جمود توڑنے کا باعث بھی ہے۔ جبکہ جدیدیت اور کلیسائی جدیدیت کو اس فطری عمل سے مدغم نہیں کرنا چاہئے ۔

mrgohar@yahoo.com

Last edited by گوہر; 31-07-09 at 10:21 PM.
گوہر آن لائن ہے   Reply With Quote
گوہر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (26-08-09)
پرانا 19-07-09, 12:31 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
گوہر (19-07-09)
پرانا 19-07-09, 11:27 PM   #3
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,881
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برآئے مہربانی میرے اس آرٹیکل کو سرورق پر منتقل کر دےں ، شکریہ
گوہر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گوہر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (21-07-09)
پرانا 02-10-09, 09:37 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جب اللہ تعالی کا فرمان تمام وقتوں کے لئے ہے تو اس میں جدید و قدیم کا تصور محال ہے۔ اسلام ایک جدید ترین مذہب ہے اور رہے گا۔ اس کا مقابلہ کسی طور جدت پسندی سے کرکے اس کو قدامت پسند ثابت نہیں‌کیا جاسکتا۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (03-10-09), راجہ اکرام (04-10-09), عبداللہ حیدر (03-10-09)
پرانا 03-10-09, 03:57 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق سرور بھائی کی بات سے ایک نئی جہت ایک نئی سوچ کا اضافہ ہوا۔ ماشا اللہ
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-10-09, 03:31 PM   #6
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,881
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ آپکے تبصرہ کا۔ اس سارے آرٹیکل میں ہر بات کا جواب موجود ہے جبکہ معاملہ اسلام کا نہیں مسلمان کا ہے کہ وہ صرف فلاسفی کے باعث جمود کا شکار نہ ہو بلکہ قرآن کی دعوت کے مطابق عمل پیرا ہو اور اسلام کی مختلف پیمانوں اور حجتوں پہ نہ ماپے کیونکہ اسلام کی عالمگیریت اور حقانیت ازلی اور ابدی ہے ، جبکہ دیگر سائنس ،ٹیکنالوجی اور دیگر جدت کی راہیں اب اس سے شناسا ہو رہی ہیں ۔ البتہ جدت تو مسلم قوم کا طرہ امتیاز رہا مگر اب ہماری قوم فقط لفظوں کے کھلاڑی اور کھوکھلی فلسفیانہ ملمع کاری کے ماہر بنتے جا رہے ہیں ، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام عالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی زندگیاں عملی راہوں پہ ڈالیں۔
گوہر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گوہر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (04-10-09)
پرانا 04-10-09, 06:04 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام گوہر بھائی
اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ اسلام ایک زندہ، آفاقی اور ہر وقت اور حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے والا دین ہے۔ اور رہتی دنیا تک کے لئے ہدایت کا منبع ہے۔
لیکن شرط صرف فکر و تدبر ہے، جیسا کہ آپ نے ذکر کیا۔ کیوں کہ کائنات میں نشانیاں صرف اولی الالباب کے لئے ہیں۔ جب تک مسلمانوں نے فکر و تدبر کا دامن تھامے رکھا فہم و ادراک کے نئے نئے ابواب ان پر وا ہوتے رہے، ہر دور اور حالات کے مطابق اسلام کی رہنمائی انے کے ساتھ رہی اور وہ روئے زمین پر اللہ کے خلیفہ اور حاکم بن کر رہے۔
لیکن جب فکر و تدبر کا دامن چھوٹا، اجتہاد کی جگہ تقلید نے لے لی، اصولوں کی جگہ شخصیات اہم ہو گئیں، اسلام کی حقیقی تعلیمات کی جگہ روایات رواج پانے لگیں، آزدی فکر و اظہار اور اختلاف رائے کو گستاخی اسلاف اور الحاد و ارتداد کا نام دیا جانے لگا تو پھر ””ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا““۔
ایام اللہ، آیات اللہ اور آلاء اللہ میں تفکیر سے جو راز آشکار ہوتے ہیں وہ ترقی کی کی راہ دکھاتے ہیں، اندھیرے میں روشنی اور دھوپ میں سایہ مہیا کرتے ہیں، طوفان طاغوت میں جب ناؤ ہچکولے کھانے لگے تو سہارا دیتے ہیں۔ لیکن اس کو صرف تقدیس و عقیدت کے لئے پڑھنا اور فکر و تدبر کی زحمت نہ کرنا اور پھر ترقی اور حکمرانی کی خواہش رکھنا ’’خیال است و محال است و جنوں‘‘

قرآن کریم بار بار کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اللہ کے نیک بندوں (عباد الرحمن) کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’’والذين إذا ذكروا بآيات ربھم لم يخروا عليھا صما وعميانا‘‘ کہ جب اللہ کی آیات ذکر کی جائیں تو بہروں اور اندھوں کی طرح ان پر نہیں گر پڑتے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ فکر و تدبر کو چھوڑ دیتے ہیں، اجتہاد سے کام نہیں لیتے تو وہ اللہ کے خاص بندوں میں شمار نہیں ہوتے، اور جب مسلمان من حیث المجموع اس بیماری کا شکار ہوں، اہل فکرو و دانش چراح رخ زیبا لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں تو پھر زوال کے لئے ذہنا تیار ہو جانا چاہیے۔
بد قسمتی سے گزشتہ پانچ سو سالوں سے مسلمان روایات پرستی عارضے سے دوچار ہیں اور اکثیرت یہ سب دین بلکہ عین دین سمجھ کر کر رہی ہے۔ ایسے میں اہل علم کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ قرآن کے پرچم کو دنیا میں عام کریں اور فکر و تدبر کے نئے دروازے کھولیں لیکن قرآن و سنت کی رہنمائی میں۔
پھر انشاء اللہ ترقی ہوگی، خوشحالی آئے گی اور دنیا میں اسلام کی برکتیں سب کے لئے عام ہوں گی۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-10-09, 01:43 AM   #8
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,881
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشااللہ ، بجا فرمایا آپ نے۔۔
گوہر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گوہر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (05-10-09)
پرانا 06-10-09, 12:28 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گوہر مراسلہ دیکھیں
مراقبہ کی گہری حالتوں میں اب ہر فرد واحد کا واسطہ ایک ا ہم گہرا احساس دلانے وا لے وجود یعنی خودی ( میں،SELF) سے پڑا اور یہ اخذ کیا گیا کہ یہ جو سلسلہ کائنات میں توانائی کا عمل دخل نظر آتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک اعلی حس آگاہی (Supreme Consciousness) ہے جس کا اس کائنات میں نفوذ ہے ۔ اب ان تحقیقات مراقبہ اور سائنس میں کبھی کبھی ہم آہنگی ہونے کے ممکنات موجو د ہیں ۔ اس فطرت کی ہر شے کچھ نہیں سوائے ایک مطلق حس آگاہی کے ۔یہ ایک اعلی مطلق خبر آگاہی جسکا ہر طرف نفوذ ہے اور یہی وہ اللہ ہے جو کائنات میں ہمیں اپنی ذات کے اندر اور باہر محسوس ہوتا ہے
" اللہ نور السمٰوات ولارض"
"ھو اول و آخر ظاہر و باطن"
کبھی اپنی ذات (خودی) سے تعلق ہمیں ایک رابطہ ملتا ہے کہ ہم اپنے اللہ کو جانیں
"من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ"
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
خوش آمدید گوہر بھائی ،
آپ کے اس منقولہ بالا پیرا گراف کی کچھ مزید وضاحت کا طلبگار ہوں ، کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کوئی الگ جدا ذات نہیں ؟ و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-10-09, 12:30 PM   #10
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,881
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ
عادل سہیل صاحب آپ یہ مکمل آرٹیکل پڑھیں اور کوئی نقطہ نظر قائم کریں
وحدت الوجود ۔ اختلافی یا غلط نقطہ نظر؟

Last edited by گوہر; 08-10-09 at 03:36 AM.
گوہر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
software, کمپیوٹر, پاک, قرآن, لوگ, نظر, موبائل, منصوبہ, معلوم, معاشرہ, آج, اللہ, اسلام, بھائی, تلاش, حل, حال, خبر, دریافت, رات, سفر, سائنس, صحت, صدا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پسند کے ممبر پر پسندیدہ تبصرہ کریں مسٹر رائٹ گپ شپ 16 04-04-11 11:07 PM
میری پسند رضی گانے 10 18-12-10 08:36 PM
آپکا پسندیدہ شعر اسد لطیف شعر و شاعری 11 15-03-09 07:06 PM
غرور اللہ کو ناپسند ہے naeemuddin میری ڈائری 0 26-02-09 08:49 AM
پسند کے ممبر سے پسندیدہ سوال کریں، مسٹر رائٹ گپ شپ 63 14-09-07 09:00 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger