| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10) |
|
|
#46 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10) |
|
|
#47 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر اجازت ہو تو ابھی اس کا جواب پیش کروں یا بعد میں کیونکہ ابھی آپ انڈر پریشر ہیں اور ہو سکتا ھے شائد آپ کی جو خصوصی گفتگو چل رہی ھے اس کا رخ بھی مڑ جائے اگر کور اپ کر سکتے ہیں تو بتا دیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#48 |
|
Senior Member
![]() |
عاصم مٹھو سلام،
آپ نے ایک بہترین آرٹیکل لکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس میں جو کوتاہی رہ گئی ہے اس میں آپ خود ہی اپنی سوچ سے تبدیلی کریں۔ سوالات سے میرا مقصد آپ کو تنگ کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس سوچ کو اجاگر کرنا ہے جو آپ آسانی سے نظر انداز کرگئے۔ انشاء اللہ دونوں مل کر کوشش کریں گے۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہم دونوں کی خاصطور پر اور باقی سب دوستوں کی رہنمائی فرمائیں۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10) |
|
|
#49 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اور ہاں جو بھی بات کریں توموضوع کے مطابق ہو اگر کسی اور موضوع کے بارے میں ہے تو آپ کو ابھی صبر کرنا ہوگا۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#50 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ بتا دیں جو کوتاہی رہ گئی ہے کیونکہ انسان جو بھی کام کرتا ہے وہ یہی سمجھتا کہ میں نے صحیح کیا ہے اگر وہ اس میں کوئی کمی محسوس کرئے تو وہ کسی کے بتانے کے بغیر ہی اس کو پورا کردیتا ہے۔ آپ مجھ سے عمر میں ۱۸۔۲۰ سال بڑے ہیں اور یقینا علم بھی مجھ سے زیادہ ہوگا، اس لیے آپ میری کوتاہی بتا دیں۔ اللہ ہم سب کی حق:::قرآن و سنت::: کی طرف رہنمائی فرمائے۔ آمین |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#51 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسی مراسلے میں یا پھر کسی دوسرے مراسلے میں میںنے پڑھا ہے کہ خلافت کے لیے
قریشی ہونا ضروری ہے۔ اور خلافت میں رائے صرف اہل مدینہ کی ہے ہو گی۔ کیا یہ سچ ہے تو اس پر روشنی ڈالی جائے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (20-07-10) |
|
|
#52 |
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
بھائی عاصم مٹھو سلام، ۔ کوتاہی بتانے کی نسبت سمجھانا پسند کروں گا ۔ انتہائی خلوص سے عرضکررہا ہوں۔ آپ نے اسلامی نظام کی یا نظام خلافت کی سب سے بڑی شرط رکھی ہے "قرآن و سنت " کی روشنی میں تما م احکام اور قوانین۔ لیکن باہمی مشورہ کی آیات کو آپ نے وہ اہمیت نہیں دی جن اہمیت کی وہ حامل ہیں ۔ آپ اپنے مراسلہ کو دیکھئے۔ 1۔ آپ نے سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر 21 سے ثابت کیا ہے کہ "کفار اور ان کے شرکاٰء کا نظام " اختیار کرنے کامطلب ہے دردناک عذاب ۔۔۔ متفق اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ کیا انہوں نے اپنے لیے (اللہ کے) کچھ ایسے شریکِ مقرر کر لیے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت کا ایسا کچھ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ لیکن جمہوریت کا وجود تھا ہی نہیں۔ فرد واحد کی حکومت جس کو اللہ کی مرضی کے خلاف دین بنانے والے شرکا ء سپورٹ کرتے تھے۔ --- دوسرا نکتہ آپ نے فراہم کیا سورۃ آل عمرا ن آیت نمبر 85 کہ اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرنا قابل قبول نہیں ۔ ایسے لوگ آخرت میں خسارہ میں ہوں گے۔ 3:85 وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُج وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔ یہاں یہ تاثر ملتا ہے کہ ایک مسلم حکومت میں غیر مسلمین کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ درست ہے کہ غیر مسلم عقیدہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن غیر مسلموں کو اللہ تعالی نے آخرت تک چھوٹدی ہے کہ وہ ایک مسلم حکومت کے تحت رہ سکیں۔ اس آیت سے ہم صرف یہ نکتہ اخذکرسکتے ہیں کہ ملک کے قوانین ضرور قرآن اور سنت کے مطابق ہوں گے لیکن ہر مذہب کو اپنی ٹقافت (شادی، بیاہ ، موت، پیدائش وغیرہ) اور اپنی عباد ت کی آزادی ہوگی۔ ثبوت : 18:29 وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا اور کہہ دیجیے کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے سو جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔ یقیناً ہم نے مہیّا کر رکھی ہے ظالموں کے لیے ایک ایسی آگ گھیر رکھا ہے ان کو جس کی لپٹوں نے۔ اور اگر پانی مانگیں گے تو پلایا جائے گا اُن کو ایسا پانی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا جو جُھلس دے گا منہ کو۔ بہت ہی بُرا ہے مشروب اور بہت بُری ہے وہ آرام گاہ۔ 109:6 لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے ہم اب تک یہ طے کرچکے ہیں: ان آیات سے ہم یہ نتائج اخذکرتے ہیں کے قانون قرآں و سنت کا ہوگا لیکن اس قانون کے تحت غیر مسلموں کو اپنے مذہب کو پریکٹس کرنے کی آزادی ہوگی۔ سلامتی اور انصاف اس کے بغیرممکن ہی نہیں۔ تما م فیصلہ باہمی مشورہ سے ہونگے، یعنی حکومت ورثے میں نہیں ملے گی۔ 42:38 وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے۔ اللہ تعالی کے قانون اور سنت رسول کی روشنی میں باہمی مشورہ سے فیصلہ ہونگے ، ان فیصلوںکو آپ باہمی معاہدات کہہ سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ ٹریفک کے لئے باہمی معاہدات (قانون) کے کاریں دائیں طرف چلیں گی یا بائیںطرف۔ اللہ تعالی نے بہت سے معاملات میں صرف اور صرف اصول بتائے ہیں لیکن اپنے بندوںکو آزادی دی ہے کہ وہ آپس میں طے کرلیں۔ (یہ اللہ کا قانون ہے کہ فیصلہ باہمی مشورہ سے کئے جائیں۔ ہم اس کو کسی طور بھی ختم نہیں کرسکتے نہ ہی اس کو تبدیل کرسکتے ہیں --- یہاں آپ سے معمولی سی کوتاہی ہوئی ہے کہ آپ نے اس کو نمائندوں کے چناؤ کے لئے استعال نہیںکیا) اللہ تعالی نے رسول اللہ کو بھی حکم دیا کہ فیصلے باہمی مشورہ سے کیجئے۔ باہمی مشورہ سے حاصل ہونے والے فیصلہ پر پختہ رہنے کا حکم 3:159 فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ سو یہ کتنی بڑی رحمت ہے اللہ کی کہ ہو تم (اے محمد) نرم مزاج ان کے لیے اور اگر کہیں ہوتے تم سخت مزاج اور سنگدل تو ضرور منتشر ہوجاتے یہ تمہارے گرد و پیش سے سو تم معاف کردو ان کو اور دعائے مغفرت کرو ان کے حق میں اور مشورہ لیتے رہو ان سے امور میں پھر جب پختہ فیصلہ کرلو تم تو توکّل کرو اللہ پر بےشک اللہ دوست رکھتا ہے توکّل کرنے والوں کو۔ یہ ضروری ہے کہ باہمی مشورہ سے نیک اور متقی انسان کو منتخب کیا جائے۔ دیکھئے کہ اچھا انسان کون ہے؟ 49:13 يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے ایک فرد یا ایک جماعت؟ یہی جماعت باہمی معاہدات ، باہمی مشورہ سے بنائے گی جو کہ ملکی قانون ہوگا۔ یہ جماعت اپنے لئے منتظم اعلی منتخب کرسکتی ہے۔ اس جماعت کے ارکان عام آدمی کے باہمی مشورہ سے منتخب ہونگے۔ آسان لفظوںمیں عام آدمی اپنے مشورے سے یعنی بیعت سے یا ووٹسے ایک جماعت ( قومی اسمبلی، مجلس شوری وغیر) بنائیں گے ، اس جماعت کے قیام کا حکم۔ 3:104 وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور چاہیے کہ رہے تم میں (ہمیشہ) ایک جماعت ایسے لوگوں کی جو دعوت دیتے رہیں اچھّے کاموں کا اور منع کریں بُرے کاموں سے اور یہی لوگ ہیں درحقیقت فلاح پانے والے۔ آپ غور کیجئے، یہ جماعت یعنی قانون ساز اسمبلی کیا کرتی ہے؟ نیک کاموں کے فروغ کے اصول اور برے کاموں سے روکنے کے اصول اور باہمی معاہدات ، کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں بناتی ہے۔ اگر آپ ان اصولوں کی روشنی میں دیکھئے تو ہم کو باہمی مشورہ سے ایک ایسی جماعت بنانے کی ضرورت ہے جو بری باتوں سے روکے اور اچھی باتوں کا حکم دے۔ اب اس جماعت کے بنانے کا طریقہ کیا ہوگا؟ موجودہ حالات میں پاکستانیوں نے طے کیا ہے کہ وہ آپس میں مل کر باہمی مشورہ کریں گے یعنی ۔۔۔ پہلے کچھ لوگ ایک دوسرے کو نامزد کریں گے۔ پھر ان نامزد شدہ افراد میں سے ایک کو اپنے علاقے یا حلقے سے منتخب کرلیںگے۔ یہ باہمی مشورہ عین قرآن کے احکام کے مطابق ہے۔ اب یہ منتخب شدہ افراد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جاکر اپنے منتظم اعلی یعنی صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ ووٹ بھی باہمی مشورہ کے مترادف ہے۔ ملک کا مالک اللہ لیکن حکومت کا انتظام مسلمانوں کا۔ اس نظام میں یقینی طور پر ملک کا مالک اللہ تعالی ہیں ۔ منتظم آتے اور جاتے ہیں۔ قانون اللہ تعالی اور رسول اکرم کا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں آج تک وہ تما م باہمی معاہدات جو باہمی مشورہ سے پاس ہوئے ہیں ۔ وہ تمام کے تمام خلاف قرآن نہیں۔ اگر پاکستان کا کوئی قانون خلاف قرآن ہے تو اس کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے بنکاری نظام کے بارے میں عبوری حکم موجود ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ جب تک علماء بنکاری کے ماہر ایک مترادف نظام پیش نہیںکرتے ۔ موجودہ بنکاری نظام عارضی طور پر جاری رہے گا۔ یہ ہے ایک اسلامی حکومت کا بنیادی ڈھانچہ۔ اس بارے میں جناب جسٹس مفتی تقی عثمانی نے ایک بہترین کتاب لکھی ہے۔ آپ حاصل کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ جنا ب 1973 کے آئین پر نظر ثانی میں بھی شامل رہے۔ پاکستان کا نظام حکومت مکمل طور پر امریکہ سے امپورٹڈ نہیں ہے۔ لیکن امریکہ کے نظام حکومت کی جڑوں کا سراغ "نظام خلافت " میں ملتا ہے۔ اس کے بارے میں معلومات بعد میں۔یہ ایک بنیادی سا مضمون ہے حکومت کے ڈھانچہ کے بارے میں۔ اس کے بعد ہم کو ریاست کے دوسرے اہم شعبوں، امن امان، عدلیہ ، دفاع، مالیات اور فلاح و بہبود کے شعبوں کے بارے میں بھی پڑھنا پڑے گا۔ قرآن حکیم ان معاملات کے بارے میں بھی بہترین اصول فراہم کرتا ہے۔ ان معاملات پر معلومات الگ دھاگوں میں انشاءاللہ۔ اس مراسلے کو غور سے پڑھنے کے بعد ۔۔۔۔ آپ اس دھاگہ کے عنوان پر غور کیجئے۔ Last edited by فاروق سرورخان; 20-07-10 at 11:03 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#53 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پاکستان کا قانون تھوڑا سا بھی امریکی نہیں بریطانوی ھے اور جو 1947 سے رائج ھے۔ والسلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#54 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جمہوریت میں ایسے قانون سازی نہیں کی جاتی جو سرتاسر قرآن و سنت کے خلاف ہیں؟؟؟ اس وقت پاکستان میں ۶۰۰ کے قریب ایسے قوانین موجود ہیں جو قرآن و حدیث کے خلاف ہیں تو یہ بھی اسی آیت کی زد میں ہیں۔ اللہ وہ نظام قبول نہیں کریں گے جو اللہ کے نظام کے مقابلِ پر بنایا گیا ہو۔ کیا اللہ نے ہم کو اسلامی خلافت کا نظام نہیں دیا؟؟؟ اس کا جواب چاہیے |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (20-07-10) |
|
|
#55 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آیت میں واضح ہے کہ اللہ ایسا کوئی دین قبول نہیں کرے گا جو دینِ اسلام کے علاوہ ہوگا ہمارے قبول کرنے کی بات کس نے کی ہے؟؟؟؟ الحمدللہ کہ مجھے معلوم ہے کہ ایک کافر اسلامی حکومت کے انڈر رہ سکتا ہے اور اس کو اپنے دین پر مکمل عمل کرنے کی بھی اجازت ہوتی ہے ہاں اس نے اسلامی حکومت کو جزیہ دینا ہوتا ہے۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#56 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
مگر خلیفہ اس مشورے پر عمل کرنے کا پابند ہے یا آزاد؟ میں جو اس معاملے کو ابھی تک سمجھا ہوں وہ یہی ہے کہ خلیفہ مشورہ کرئے گا مگر وہ اگر کسی کے بھی مشورے کو پسند نہیں کرتا ہو اس کو حق حاصل ہے کہ وہ جس طرح خود اچھا سمجھتا ہے اس طرح حکم جاری کردے۔ ایک بات زہن میں رکھیے گا میری اس بات کو خلیفہ کی اطاعت معروف کاموں کے ساتھ سمجھے گا۔ اگر وہ کوئی ایسا حکم جاری کرتا ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف جاتا ہو تو کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اور جب وہ کوئی بھی فیصلہ کرلے چاہے وہ کسی کے مشورہ کو قبول کر کے کیا ہو یا چاہے اپنی رائے پر کیا ہو دونوں حالتوں میں توکل اللہ پر ہی رکھنا ہے۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#57 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ آیات کو مطلب اور مفہوم اپنی سوچ سے کرتے ہیں جبکہ ہر کسی کی سوچ و فکر مختلف ہوتی ہے اسی لیے تو حدیث کی ضرورت پڑتی ہے کہ نبی علیہ السلام نے اس آیت کا کیا مطلب و مفہوم پیش کیا تھا خیر اس مسئلے پر آپ سے کبھی بات ضرور ہوگی ان شاءاللہ۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس سے ڈرنے والا ہے اور کون اس سے بےڈر ہے آپ نے اسی اصول کو لے کر قانون ساز اسمبلی کو بنادیا ہے جو کہ ایک خیران کن بات ہے۔ اور ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ی جماعت جو قانون بنائے گی وہ ملکی قانون ہوگا جبکہ قانون ہمارے پاس موجود ہے قرآن و صحیح حدیث کی صورت میں اب یہ قانون سازی کرنے کا حق آپ نے انسانوں کو کس دلیل سے دیاہے اس کی وضاحت فرما دیں؟؟؟ اور چاہیے کہ رہے تم میں (ہمیشہ) ایک جماعت ایسے لوگوں کی جو دعوت دیتے رہیں اچھّے کاموں کا اور منع کریں بُرے کاموں سے اور یہی لوگ ہیں درحقیقت فلاح پانے والے۔ آپ نے اس آیت کو ایسے لوگوں کے اوپر فٹ کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ اللہ کے اختیارات کو اپنے لیے حلال کیے بیٹھے ہیں اور اس طرح وہ اللہ کے شریک بنے ہوئے ہیں کہ جو مرضی ہے قانون بناتے رہیں اور ایسا ہی ہو رہا ہے اس وقت اور آپ ہو کہ ان جاہل انسانوں کو فلاح پانے والے قرار دے رہے ہیں۔ اصل میں یہ آیت قانون سازوں کے لیے نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ہے جو اللہ کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور بُرے کاموں سے روکتے ہیں اور اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں بناتی ہے آپ مجھے ایک وہ اصول اور قانون بتا دیں جو اس موجودہ قانون ساز اسمبلی نے قرآن و سنت کو مدِ نظر رکھ کربنایا ہو؟؟؟؟ آپ کہاں کی باتیں کرتے جارہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#58 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ جو اصول بنارہے ہیں اس کی ضرورت ہم کو نہین ہے ہم کو وہ اصول چاہیے جو اللہ اور اللہ کے نبی علیہ السلام نے ہم کو دیے تھے اور وہی اصول اپنا کر ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں بس۔ باقی لوگوں کے بنائے اصول و قوانین ہم کو نہیں چاہیے۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#59 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ قیامت تک لگے رہو اس طریقہ حکومت کو ثابت کرنے کہ یہ قرآن کا دیا ہوا نظام حکومت ہے تو بھی ایسا نہ کر سکیں گے۔ آپ پہلے اپنی ناقص عقل سے خود ہی کوئی اصول بناتے ہو اور پھر اس اصول کو لے کر اسے قرآنی اصول بنالیتے ہو تو جناب ایسے کسی جاہل کو تو مطمئین کیا جاسکتا ہوگا مگر جن لوگوں کو اللہ نے دین کا علم دیا ہے وہ آپ کے اصول کو کبھی بھی نہیں مانیں گے۔ اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور اپنی سوچ کو حدیث کا پابند بنائیں اگر آپ حق کو پانا چاہتےہیں تو۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#60 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 956
کمائي: 31,088
شکریہ: 1,294
713 مراسلہ میں 2,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عاصم بھائی اسلامی خلافت کے نفاذ کی مجھے ابھی تک صیحسے سمجھ نہیںآئی،چلیں کوئی عملی قدم اٹھائیں تاکہ بات واضح ہو سکے،فرض کریںہم پاکستان میںخلافت قائم کرنا چاہتے ہیں اور خلافت کیلئے سب سے ضروری ادارہ مجلس شوری ہے سب سے پہلے اس کا انتخاب ہونا چاہیے
میںآپ کو ٹاسک دیتا ہوںکہ آپ پورے پاکستان پر نظر دوڑائیں اور تمام لوگوںمیںسے مجلس شوری کے رکن منتخب کریں،اور ساتھ میںوضاحت بھی کریںکہ آپ نے کیا کرائٹیریا بنایا ہے جس سے مجلس شوری کے رکن کا انتخاب کریںگے۔ اس کے بعد سٹیپ بائی سٹیپ آگے بڑھیںگے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, گئی, پاکستان, چین, مکمل, ملک, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, بے, ثبوت, حیات, دوست, دنیا, راستہ, سیاست, طور, عوام, عذاب, غیراللہ, صاف, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایس ایم ایس کو قانونی حثیت دینے کا فیصلہ | جاویداسد | خبریں | 1 | 26-07-10 09:01 PM |
| عدالت کی فیس بک کو مانیٹر کرنے کی ہدایت | جاویداسد | خبریں | 1 | 16-06-10 11:32 PM |
| ڈی ایس ایل کی شکایت کا خاص الخاص نمبر | شازل | عمومی بحث | 8 | 20-05-09 09:12 PM |
| شہدادکوٹ :راکٹ حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق | ابن جلال | خبریں | 1 | 23-09-08 04:26 AM |