واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ



اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ


جمہوریت دینِ ابلیس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-07-10, 01:42 AM  
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Lightbulb جمہوریت دینِ ابلیس

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جمہوریت دینِ ابلیس


اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَ نَسْتَعِیْنُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ
اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْ
فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیُکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ
اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ۔ اَمَّا بَعْدُ : فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ
یٰٓاَ یُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿﴾
ٰٓیاَ یُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّن نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا
زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ
بِہٖ وَالْاَرْحَامَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا ﴿﴾
ٰٓیاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا ﴿﴾لا یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ
وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ﴿﴾
اللہ کے ساتھ شرک کامظہر نظام ِجمہوریت
نظام ِ جمہوریت اللہ کے ساتھ شرک کا واضح مظہر ہے اور اس کے درج ذیل دلائل وشواہد ہیں۔
۱۔ جمہوریت
غیراللہ کا’’ بلادلیل ِشرعی ‘‘نظام ہونے کی بناپرنظام ِ شرک ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ!
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 21؀
کیا انہوں نے اپنے لیے (اللہ کے) کچھ ایسے شریکِ مقرر کر لیے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت کا ایسا کچھ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
۴۲: ا لشوریٰ۔آیت نمبر ۲
آیت ِبالاسے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین(اصول ،قانون و نظامِ زندگی؍کتاب وسنت) کی بجائے غیراللہ کاایسااصول قانون ونظامِ زندگی اختیار کرناکہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین سے دلیل نہ ملتی ہو اس غیراللہ کو اللہ کا شریک بنانا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ نظام ِجمہوریت :::غیراللہ::: کفار کا وضع کردہ نظامِ سیاست ہے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے دین سے دلیل نہیں ملتی ہے۔
۲۔ جمہوریت
کو اللہ کے دیئے نظامِ سیاست ’’خلافت‘‘ کی
کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجود اختیارکرناجہالت ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُج وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿﴾


جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔
( آلِ عمران۔آیت نمبر ۸۵ .3)
آیت اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ’’ اسلام کے دیئے ہوئے قانون ونظام کے سوا کوئی اور قانون ونظام اختیار کرنا‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی قابل ِ قبول نہیں ہے۔ ’’اسلام‘‘ایک مکمل نظام ِ حیات ہے جس میں اخلاقیات ،روحانیت ،معاشرت ، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر معاملے کے حوالے سے قانون و نظام ملتا ہے ۔ اسلام میں اللہ نے اہل ِ ایمان کو ایک مکمل نظام ِ سیاست ’’ خلافت ‘‘ دیا ہے ۔ اللہ کے دیئے ہوئے نظام ِ سیاست’’ خلافت‘‘ کی کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجودطاغوتوں کا وضع کردہ نظامِ سیاست ’’جمہوریت ‘‘ اختیار کرنا جہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی قابل ِ قبول بھی نہیں ہے وہیں اللہ کے دیئے ہوئے نظام ِ سیاست کی کتاب وسنت میں موجودگی کے باوجودطاغوتوں کا وضع کردہ نظامِ سیاست اختیار کرنا واضح طور پرشرک بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ مِّنْمبَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا اِنَّک اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْن ﴿﴾
اور اگر تم نے اس ’’علم ‘‘(کتاب وسنت )کے بعد ، جو تمہارے پاس آ چکا ہے ، ان کی اھواء کی پیروی کی تو یقینا تمہارا شمار ظالموں ( مشرکوں)میں ہو گا۔
۲: البقرہ۔آیت نمبر ۱۴۵
نظام ِجمہوریت اپنے وضع کرنے والوں (امریکہ، برطانیہ ، فرانس وغیرہ)کے لیے مقدس دین کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے اس دین کی ترویج و اشاعت میں و ہ صبح وشام لگے رہتے ہیں اور صرف اس سے راضی ہوتے ہیں جو ان کے اس دین کو اپنا لیتا ہے۔ پاکستان میں بحالی وترقی ِ جمہوریت کے لیے پاکستان کے عوام سے بھی بڑھ کر امریکہ، برطانیہ وغیرہ کا بے چین رہنااس کا زندہ ثبوت ہے اور ان کفار کے آئے روز اخبارات میں یہ بیان پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ہم نظام جمہوریت کو پوری دنیا میں قائم کریں گیں،
اللہ تعالیٰ بھی اہل ِ ایمان سے ارشاد فرماتا ہے کہ
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ


ط قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْھُدٰی ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿﴾
یہودی اورنصرانی تم سے ہر گز راضی نہ ہونگے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگر اس ’’علم‘‘(کتاب وسنت) کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی اھواء کی اتباع کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہ ہوگا۔
۲: البقرہ۔آیت نمبر ۱۲۰
۳۔ جمہوریت کے بنیادی اُصول ’’شرکیہ ‘‘ہیں
نظام ِجمہوریت کے بنیادی اُصول اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا واضح اظہار ہیں مثلاً:
پہلا اُصول ِ جمہوریت
ملک کے مالک عوام


!
آمریت میں ’’فردِواحد ‘‘ملک کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے تو جمہوریت میں’’عوام ‘‘ملک کے مالک قرار دیے جاتے ہیں جب کہ ملک صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ اس نے اس ملکیت میں نہ کسی فرد واحد کو شریک کیا ہے اور نہ عوام کو ،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا


Ą۝
وہی (اللہ ) کہ جس کے لیے ملکیت (بادشاہی) ہے آسمانوں اور زمین کی اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا نہ ہی ملکیت ِملک میں اس کاکوئی شریک ہے ،جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر تقدیر مقرر کی۔
۲۵: الفر قان۔آیت نمبر۲
اللہ پر ایمان کے بعد فرد یا افراد کو ملک کا مالک قرار دینا ان کو اللہ کا شریک بنانا ہے۔ اس سے مراد یہ نہ لی جائے کہ ایک انسان کو گھر، زمین وغیرہ کا مالک پھر کیوں کہا جاتا ہے تو بھائیوں یہاں بات نظام، قانون کی ہو رہی ہے نہ کے کسی کی جائیداد کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔

__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10)
پرانا 19-07-10, 08:33 PM   #46
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
میرا سوال تشنہ ہے بھائی عاصم
جناب آپ کے سوال کا جواب زرہ تسلی سے دینا ہوتا ہے اور آپ کی باتوں اور سوالوں کو سمجھنا بھی ہوتا ہے نا اس لیے انتظار فرمائیں
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10)
پرانا 19-07-10, 08:41 PM   #47
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : asimmithu مراسلہ دیکھیں
والسلام بھائی

کنعان بھائی میں اس جمہوریت کا بلکل بھی حصہ نہیں ہوں بلکہ میں اس کے سخت خلاف ہوں وجہ یہ ہے کہ یہ نظام اسلام کے نظام خلافت کے مقابلے میں بنایا گیا باطل نظام ہے۔
اگر آپ یہ کہیں کہ آپ اس نظام کے تحت رہتے ہیں اس لیے اس کا حصہ ہیں تو میرے بھائی مجھے آپ یہ بتائیں کہ اللہ نے جتنےبھی نبی و رسل بھیجے کیا وہ اسلامی نظام میں بھیجے تھے؟؟؟
اگر نہیں تو کیا آپ ان کو بھی اسی باطل نظام کا حصہ کہیں گے؟؟؟
بلکل بھی نہیں کیونکہ انہوں نے اس باطل نظام کے خلاف دعوت و تبلیغ اور جہاد کیا تھا اور لوگوں کے بنائے ہوئے باطل نظام کو مٹا کر اللہ کا دیا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی تھی اس لیے وہ اس باطل نظام کے ایک فیصد بھی حصہ نہ تھے۔
ہم بھی اس نظام میں رہ تو رہے ہیں مگر اس کے خلاف دعوت و تبلیغ بھی کر رہے ہیں اور اس کی ووٹنگ میں یا اس کے باقی باطل کاموں میں بلکل بھی حصہ نہیں لیتے۔
آپ کا اندزہ غلط ہے کہ میں نے سحر بہن کی تحریر سے کچھ کاپی کیا ہے اگر ایسا ہے تو آپ اس کا ثبوت لائیں۔
اور اس کا نام یہی اچھا اور سچا تھا اسی لیے یہ نام رکھا ہے یہ شیطانی نظام ہے اور شیطان کے ایجنٹوں نے اس کو وضع کیا ہے۔ اس نظام کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو اس کو اسلامی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں وہ پہلے ہماری لکھی تحریر کو قرآن و سنت کے خلاف ثابت کریں اور یا اس میں پیش باتوں کا انکار کریں۔
مجھے افسوس اور دکھ ہو رہا ہے کہ ہم مسلمان ہو کر یہود و نصاری کا بنایا نظام پسند کیے بیٹھے ہیں وہ یہود اور عیسائی کے جنہوں نے مل کر اسلامی نظام خلافت کے خلاف پہلی جنگ عظیم لڑی تھی اور اس کو ختم کردیا تھا اور اس کے بعد آج تک جس نے بھی خلافت کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی اس کے خلاف جنگ کی گئی وہ کفار آج بھی اسلامی خلافت کے اتنے سخت دشمن ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ان کے باطل نظام کو بدلنے کے بجائے ان کے باطل اور کفریہ نظام کو اسلامی نظام ثابت کرنے کی ناپاک جسارت بھی کر رہے ہیں اور دعوی پھر بھی ایمان و اسلام کا ہے۔
اللہ نے جتنے بھی نبی اور رسل لوگوں کی رہنمائی کے لیے بھیجے ان کا کام ہی یہی تھا کہ
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ
اور بلاشبہ ہم نے ہر امت میں (اس بات کی تعلیم کے لئے کوئی نہ کوئی) پیغام رساں ضرور بھیجا ہے، کہ تم لوگ بندگی کرو اللہ کی اور بچتے رہو طاغوت سے،
النحل :آیت:۳۶
یعنی جو لوگ طاغوت:::سرکش::: بن چکے تھے اور اللہ کے نظام کی جگہ اپنے بنائے نظام و قوانین چلارہے تھے ان سےبچنے ان کا انکار کرنے کا حکم لے کر بھیجے گے۔
بات ہماری سمجھوں میں اس لیے نہیں آرہی کہ ہم نے اس نظامِ خلافت سمجھا ہی نہیں ہے اور جتنا سمجھا ہے وہ بھی تنقیدی نظر سےاسی لیے آج ہم کو اللہ کے نظام کے مقابلے پر انسانوں کا بنایا ہوا نظام اچھا لگ رہا ہے۔
حالانکہ سبھی یہی کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا خالق و مالک ہے تو کیا ایسا ممکن ہے کہ جس نے ہم کو خلق کیا ان سب جہانوں کو خلق کیا اور یہ سب کچھ بلا وجہ خلق کیا گیا ہے؟؟؟
جس نے ہم کو خلق کیا ہے یہ حق بھی اسی کا ہے کہ وہ ہمارے لیے قانون و نظامِ زندگی کا اصول وضع کرے اور اللہ نے یہ نظام بنا کر بھی دیا ہے جوکہ آج ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہی ہماری حق کی طرف رہنمائی کرے اور باطل سے بچائے۔ آمین
السلام علیکم عاصم مٹھو بھائی

اگر اجازت ہو تو ابھی اس کا جواب پیش کروں یا بعد میں کیونکہ ابھی آپ انڈر پریشر ہیں اور ہو سکتا ھے شائد آپ کی جو خصوصی گفتگو چل رہی ھے اس کا رخ بھی مڑ جائے اگر کور اپ کر سکتے ہیں تو بتا دیں۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), حیدر (26-07-10)
پرانا 20-07-10, 12:59 AM   #48
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,769
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عاصم مٹھو سلام،

آپ نے ایک بہترین آرٹیکل لکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس میں جو کوتاہی رہ گئی ہے اس میں آپ خود ہی اپنی سوچ سے تبدیلی کریں۔ سوالات سے میرا مقصد آپ کو تنگ کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس سوچ کو اجاگر کرنا ہے جو آپ آسانی سے نظر انداز کرگئے۔ انشاء اللہ دونوں مل کر کوشش کریں گے۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہم دونوں کی خاص‌طور پر اور باقی سب دوستوں کی رہنمائی فرمائیں۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10)
پرانا 20-07-10, 09:30 AM   #49
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم عاصم مٹھو بھائی

اگر اجازت ہو تو ابھی اس کا جواب پیش کروں یا بعد میں کیونکہ ابھی آپ انڈر پریشر ہیں اور ہو سکتا ھے شائد آپ کی جو خصوصی گفتگو چل رہی ھے اس کا رخ بھی مڑ جائے اگر کور اپ کر سکتے ہیں تو بتا دیں۔

والسلام
آپ جو بھی بات کرنا چاہتے ہیں کریں میں الحمدللہ کسی بھی پریشر میں نہیں ہوں۔
اور ہاں جو بھی بات کریں توموضوع کے مطابق ہو اگر کسی اور موضوع کے بارے میں ہے تو آپ کو ابھی صبر کرنا ہوگا۔
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10)
پرانا 20-07-10, 09:36 AM   #50
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
عاصم مٹھو سلام،

آپ نے ایک بہترین آرٹیکل لکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس میں جو کوتاہی رہ گئی ہے اس میں آپ خود ہی اپنی سوچ سے تبدیلی کریں۔ سوالات سے میرا مقصد آپ کو تنگ کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس سوچ کو اجاگر کرنا ہے جو آپ آسانی سے نظر انداز کرگئے۔ انشاء اللہ دونوں مل کر کوشش کریں گے۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہم دونوں کی خاص‌طور پر اور باقی سب دوستوں کی رہنمائی فرمائیں۔

والسلام
والسلام بھائی

آپ بتا دیں جو کوتاہی رہ گئی ہے کیونکہ انسان جو بھی کام کرتا ہے وہ یہی سمجھتا کہ میں نے صحیح کیا ہے اگر وہ اس میں کوئی کمی محسوس کرئے تو وہ کسی کے بتانے کے بغیر ہی اس کو پورا کردیتا ہے۔
آپ مجھ سے عمر میں ۱۸۔۲۰ سال بڑے ہیں اور یقینا علم بھی مجھ سے زیادہ ہوگا، اس لیے آپ میری کوتاہی بتا دیں۔
اللہ ہم سب کی حق:::قرآن و سنت::: کی طرف رہنمائی فرمائے۔ آمین
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10)
پرانا 20-07-10, 10:17 AM   #51
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی مراسلے میں یا پھر کسی دوسرے مراسلے میں میں‌نے پڑھا ہے کہ خلافت کے لیے
قریشی ہونا ضروری ہے۔
اور
خلافت میں رائے صرف اہل مدینہ کی ہے ہو گی۔

کیا یہ سچ ہے تو اس پر روشنی ڈالی جائے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (20-07-10)
پرانا 20-07-10, 10:58 AM   #52
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,769
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
بھائی عاصم مٹھو سلام،

۔ کوتاہی بتانے کی نسبت سمجھانا پسند کروں گا ۔ انتہائی خلوص سے عرض‌کررہا ہوں۔ آپ نے اسلامی نظام کی یا نظام خلافت کی سب سے بڑی شرط رکھی ہے "قرآن و سنت " کی روشنی میں تما م احکام اور قوانین۔ لیکن باہمی مشورہ کی آیات کو آپ نے وہ اہمیت نہیں دی جن اہمیت کی وہ حامل ہیں ۔
آپ اپنے مراسلہ کو دیکھئے۔
1۔ آپ نے سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر 21 سے ثابت کیا ہے کہ "کفار اور ان کے شرکاٰء‌ کا نظام "‌ اختیار کرنے کامطلب ہے دردناک عذاب ۔۔۔ متفق
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
کیا انہوں نے اپنے لیے (اللہ کے) کچھ ایسے شریکِ مقرر کر لیے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت کا ایسا کچھ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
لیکن جمہوریت کا وجود تھا ہی نہیں۔ فرد واحد کی حکومت جس کو اللہ کی مرضی کے خلاف دین بنانے والے شرکا ء‌ سپورٹ‌ کرتے تھے۔ ---

دوسرا نکتہ آپ نے فراہم کیا سورۃ آل عمرا ن آیت نمبر 85 کہ اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرنا قابل قبول نہیں ۔ ایسے لوگ آخرت میں خسارہ میں ہوں گے۔
3:85 وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُج وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔

یہاں یہ تاثر ملتا ہے کہ ایک مسلم حکومت میں غیر مسلمین کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ درست ہے کہ غیر مسلم عقیدہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن غیر مسلموں کو اللہ تعالی نے آخرت تک چھوٹ‌دی ہے کہ وہ ایک مسلم حکومت کے تحت رہ سکیں۔ اس آیت سے ہم صرف یہ نکتہ اخذ‌کرسکتے ہیں کہ ملک کے قوانین ضرور قرآن اور سنت کے مطابق ہوں گے لیکن ہر مذہب کو اپنی ٹقافت (‌شادی، بیاہ ، موت، پیدائش وغیرہ) اور اپنی عباد ت کی آزادی ہوگی۔ ثبوت :

18:29 وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا
اور کہہ دیجیے کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے سو جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔ یقیناً ہم نے مہیّا کر رکھی ہے ظالموں کے لیے ایک ایسی آگ گھیر رکھا ہے ان کو جس کی لپٹوں نے۔ اور اگر پانی مانگیں گے تو پلایا جائے گا اُن کو ایسا پانی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا جو جُھلس دے گا منہ کو۔ بہت ہی بُرا ہے مشروب اور بہت بُری ہے وہ آرام گاہ۔

109:6 لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
(سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے

ہم اب تک یہ طے کرچکے ہیں:
ان آیات سے ہم یہ نتائج اخذ‌کرتے ہیں‌ کے قانون قرآں و سنت کا ہوگا لیکن اس قانون کے تحت غیر مسلموں کو اپنے مذہب کو پریکٹس کرنے کی آزادی ہوگی۔ سلامتی اور انصاف اس کے بغیرممکن ہی نہیں۔

تما م فیصلہ باہمی مشورہ سے ہونگے، یعنی حکومت ورثے میں‌ نہیں ملے گی۔
42:38 وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں

یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے۔ اللہ تعالی کے قانون اور سنت رسول کی روشنی میں باہمی مشورہ سے فیصلہ ہونگے ، ان فیصلوں‌کو آپ باہمی معاہدات کہہ سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ ٹریفک کے لئے باہمی معاہدات (قانون) کے کاریں دائیں‌ طرف چلیں گی یا بائیں‌طرف۔ اللہ تعالی نے بہت سے معاملات میں صرف اور صرف اصول بتائے ہیں لیکن اپنے بندوں‌کو آزادی دی ہے کہ وہ آپس میں طے کرلیں۔ (یہ اللہ کا قانون ہے کہ فیصلہ باہمی مشورہ سے کئے جائیں۔ ہم اس کو کسی طور بھی ختم نہیں کرسکتے نہ ہی اس کو تبدیل کرسکتے ہیں --- یہاں آپ سے معمولی سی کوتاہی ہوئی ہے کہ آپ نے اس کو نمائندوں کے چناؤ کے لئے استعال نہیں‌کیا)

اللہ تعالی نے رسول اللہ کو بھی حکم دیا کہ فیصلے باہمی مشورہ سے کیجئے۔ باہمی مشورہ سے حاصل ہونے والے فیصلہ پر پختہ رہنے کا حکم
3:159 فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
سو یہ کتنی بڑی رحمت ہے اللہ کی کہ ہو تم (اے محمد) نرم مزاج ان کے لیے اور اگر کہیں ہوتے تم سخت مزاج اور سنگدل تو ضرور منتشر ہوجاتے یہ تمہارے گرد و پیش سے سو تم معاف کردو ان کو اور دعائے مغفرت کرو ان کے حق میں اور مشورہ لیتے رہو ان سے امور میں پھر جب پختہ فیصلہ کرلو تم تو توکّل کرو اللہ پر بےشک اللہ دوست رکھتا ہے توکّل کرنے والوں کو۔

یہ ضروری ہے کہ باہمی مشورہ سے نیک اور متقی انسان کو منتخب کیا جائے۔ دیکھئے کہ اچھا انسان کون ہے؟
49:13 يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے

عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے ایک فرد یا ایک جماعت؟ یہی جماعت باہمی معاہدات ، باہمی مشورہ سے بنائے گی جو کہ ملکی قانون ہوگا۔ یہ جماعت اپنے لئے منتظم اعلی منتخب کرسکتی ہے۔ اس جماعت کے ارکان عام آدمی کے باہمی مشورہ سے منتخب ہونگے۔ آسان لفظوں‌میں عام آدمی اپنے مشورے سے یعنی بیعت سے یا ووٹ‌سے ایک جماعت ( قومی اسمبلی، مجلس شوری وغیر) بنائیں گے ، اس جماعت کے قیام کا حکم۔
3:104 وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور چاہیے کہ رہے تم میں (ہمیشہ) ایک جماعت ایسے لوگوں کی جو دعوت دیتے رہیں اچھّے کاموں کا اور منع کریں بُرے کاموں سے اور یہی لوگ ہیں درحقیقت فلاح پانے والے۔

آپ غور کیجئے، یہ جماعت یعنی قانون ساز اسمبلی کیا کرتی ہے؟ نیک کاموں کے فروغ کے اصول اور برے کاموں سے روکنے کے اصول اور باہمی معاہدات ، کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں بناتی ہے۔

اگر آپ ان اصولوں کی روشنی میں دیکھئے تو ہم کو باہمی مشورہ سے ایک ایسی جماعت بنانے کی ضرورت ہے جو بری باتوں سے روکے اور اچھی باتوں کا حکم دے۔ اب اس جماعت کے بنانے کا طریقہ کیا ہوگا؟
موجودہ حالات میں پاکستانیوں نے طے کیا ہے کہ وہ آپس میں‌ مل کر باہمی مشورہ کریں گے یعنی ۔۔۔ پہلے کچھ لوگ ایک دوسرے کو نامزد کریں گے۔ پھر ان نامزد شدہ افراد میں سے ایک کو اپنے علاقے یا حلقے سے منتخب کرلیں‌گے۔ یہ باہمی مشورہ عین قرآن کے احکام کے مطابق ہے۔

اب یہ منتخب شدہ افراد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جاکر اپنے منتظم اعلی یعنی صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ ووٹ‌ بھی باہمی مشورہ کے مترادف ہے۔

ملک کا مالک اللہ لیکن حکومت کا انتظام مسلمانوں کا۔
اس نظام میں‌ یقینی طور پر ملک کا مالک اللہ تعالی ہیں ۔ منتظم آتے اور جاتے ہیں۔

قانون اللہ تعالی اور رسول اکرم کا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں آج تک وہ تما م باہمی معاہدات جو باہمی مشورہ سے پاس ہوئے ہیں ۔ وہ تمام کے تمام خلاف قرآن نہیں۔ اگر پاکستان کا کوئی قانون خلاف قرآن ہے تو اس کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے بنکاری نظام کے بارے میں عبوری حکم موجود ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ جب تک علماء بنکاری کے ماہر ایک مترادف نظام پیش نہیں‌کرتے ۔ موجودہ بنکاری نظام عارضی طور پر جاری رہے گا۔

یہ ہے ایک اسلامی حکومت کا بنیادی ڈھانچہ۔ اس بارے میں جناب جسٹس مفتی تقی عثمانی نے ایک بہترین کتاب لکھی ہے۔ آپ حاصل کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ جنا ب 1973 کے آئین پر نظر ثانی میں‌ بھی شامل رہے۔

پاکستان کا نظام حکومت مکمل طور پر امریکہ سے امپورٹڈ نہیں ہے۔ لیکن امریکہ کے نظام حکومت کی جڑوں کا سراغ "نظام خلافت " میں ملتا ہے۔ اس کے بارے میں معلومات بعد میں۔

یہ ایک بنیادی سا مضمون ہے حکومت کے ڈھانچہ کے بارے میں۔ اس کے بعد ہم کو ریاست کے دوسرے اہم شعبوں، امن امان، عدلیہ ، دفاع، مالیات اور فلاح و بہبود کے شعبوں کے بارے میں بھی پڑھنا پڑے گا۔ قرآن حکیم ان معاملات کے بارے میں بھی بہترین اصول فراہم کرتا ہے۔ ان معاملات پر معلومات الگ دھاگوں میں انشاء‌اللہ۔

اس مراسلے کو غور سے پڑھنے کے بعد ۔۔۔۔ آپ اس دھاگہ کے عنوان پر غور کیجئے۔

Last edited by فاروق سرورخان; 20-07-10 at 11:03 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), حسنین ایوب (23-07-10)
پرانا 20-07-10, 12:59 PM   #53
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
پاکستان کا نظام حکومت مکمل طور پر امریکہ سے امپورٹڈ نہیں ہے۔ لیکن امریکہ کے نظام حکومت کی جڑوں کا سراغ "نظام خلافت " میں ملتا ہے۔ اس کے بارے میں معلومات بعد میں۔
السلام علیکم

پاکستان کا قانون تھوڑا سا بھی امریکی نہیں بریطانوی ھے اور جو 1947 سے رائج ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (20-07-10), محمد عاصم (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10)
پرانا 20-07-10, 02:22 PM   #54
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
1۔ آپ نے سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر 21 سے ثابت کیا ہے کہ "کفار اور ان کے شرکاٰء‌ کا نظام "‌ اختیار کرنے کامطلب ہے دردناک عذاب ۔۔۔ متفق
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
کیا انہوں نے اپنے لیے (اللہ کے) کچھ ایسے شریکِ مقرر کر لیے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت کا ایسا کچھ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
لیکن جمہوریت کا وجود تھا ہی نہیں۔ فرد واحد کی حکومت جس کو اللہ کی مرضی کے خلاف دین بنانے والے شرکا ء‌ سپورٹ‌ کرتے تھے۔ ---
جی بھائی صحیح کہا کہ اُس وقت یہ باطل نظام نہیں تھا ورنہ اس سے بھی منع فرما دیا جاتا۔
تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جمہوریت میں ایسے قانون سازی نہیں کی جاتی جو سرتاسر قرآن و سنت کے خلاف ہیں؟؟؟
اس وقت پاکستان میں ۶۰۰ کے قریب ایسے قوانین موجود ہیں جو قرآن و حدیث کے خلاف ہیں تو یہ بھی اسی آیت کی زد میں ہیں۔
اللہ وہ نظام قبول نہیں کریں گے جو اللہ کے نظام کے مقابلِ پر بنایا گیا ہو۔
کیا اللہ نے ہم کو اسلامی خلافت کا نظام نہیں دیا؟؟؟
اس کا جواب چاہیے
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پرانا 20-07-10, 02:42 PM   #55
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
دوسرا نکتہ آپ نے فراہم کیا سورۃ آل عمرا ن آیت نمبر 85 کہ اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرنا قابل قبول نہیں ۔ ایسے لوگ آخرت میں خسارہ میں ہوں گے۔
3:85 وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُج وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔

یہاں یہ تاثر ملتا ہے کہ ایک مسلم حکومت میں غیر مسلمین کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ درست ہے کہ غیر مسلم عقیدہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن غیر مسلموں کو اللہ تعالی نے آخرت تک چھوٹ‌دی ہے کہ وہ ایک مسلم حکومت کے تحت رہ سکیں۔ اس آیت سے ہم صرف یہ نکتہ اخذ‌کرسکتے ہیں کہ ملک کے قوانین ضرور قرآن اور سنت کے مطابق ہوں گے لیکن ہر مذہب کو اپنی ٹقافت (‌شادی، بیاہ ، موت، پیدائش وغیرہ) اور اپنی عباد ت کی آزادی ہوگی۔ :
آپ یہاں میری بات کو غلط سمجھے ہیں ۔
آیت میں واضح ہے کہ اللہ ایسا کوئی دین قبول نہیں کرے گا جو دینِ اسلام کے علاوہ ہوگا ہمارے قبول کرنے کی بات کس نے کی ہے؟؟؟؟
الحمدللہ کہ مجھے معلوم ہے کہ ایک کافر اسلامی حکومت کے انڈر رہ سکتا ہے اور اس کو اپنے دین پر مکمل عمل کرنے کی بھی اجازت ہوتی ہے ہاں اس نے اسلامی حکومت کو جزیہ دینا ہوتا ہے۔
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پرانا 20-07-10, 02:52 PM   #56
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اللہ تعالی نے رسول اللہ کو بھی حکم دیا کہ فیصلے باہمی مشورہ سے کیجئے۔ باہمی مشورہ سے حاصل ہونے والے فیصلہ پر پختہ رہنے کا حکم
3:159 فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
سو یہ کتنی بڑی رحمت ہے اللہ کی کہ ہو تم (اے محمد) نرم مزاج ان کے لیے اور اگر کہیں ہوتے تم سخت مزاج اور سنگدل تو ضرور منتشر ہوجاتے یہ تمہارے گرد و پیش سے سو تم معاف کردو ان کو اور دعائے مغفرت کرو ان کے حق میں اور مشورہ لیتے رہو ان سے امور میں پھر جب پختہ فیصلہ کرلو تم تو توکّل کرو اللہ پر بےشک اللہ دوست رکھتا ہے توکّل کرنے والوں کو۔
مشورہ کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہوا ہے اس میں کسی کو بھی شک و شبہ نہیں ہے۔
مگر خلیفہ اس مشورے پر عمل کرنے کا پابند ہے یا آزاد؟
میں جو اس معاملے کو ابھی تک سمجھا ہوں وہ یہی ہے کہ خلیفہ مشورہ کرئے گا مگر وہ اگر کسی کے بھی مشورے کو پسند نہیں کرتا ہو اس کو حق حاصل ہے کہ وہ جس طرح خود اچھا سمجھتا ہے اس طرح حکم جاری کردے۔ ایک بات زہن میں رکھیے گا میری اس بات کو خلیفہ کی اطاعت معروف کاموں کے ساتھ سمجھے گا۔
اگر وہ کوئی ایسا حکم جاری کرتا ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف جاتا ہو تو کوئی اطاعت نہیں ہے۔
اور جب وہ کوئی بھی فیصلہ کرلے چاہے وہ کسی کے مشورہ کو قبول کر کے کیا ہو یا چاہے اپنی رائے پر کیا ہو دونوں حالتوں میں توکل اللہ پر ہی رکھنا ہے۔
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پرانا 20-07-10, 03:15 PM   #57
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
یہ ضروری ہے کہ باہمی مشورہ سے نیک اور متقی انسان کو منتخب کیا جائے۔ دیکھئے کہ اچھا انسان کون ہے؟
49:13 يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے

عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے ایک فرد یا ایک جماعت؟ یہی جماعت باہمی معاہدات ، باہمی مشورہ سے بنائے گی جو کہ ملکی قانون ہوگا۔ یہ جماعت اپنے لئے منتظم اعلی منتخب کرسکتی ہے۔ اس جماعت کے ارکان عام آدمی کے باہمی مشورہ سے منتخب ہونگے۔ آسان لفظوں‌میں عام آدمی اپنے مشورے سے یعنی بیعت سے یا ووٹ‌سے ایک جماعت ( قومی اسمبلی، مجلس شوری وغیر) بنائیں گے ، اس جماعت کے قیام کا حکم۔
3:104 وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور چاہیے کہ رہے تم میں (ہمیشہ) ایک جماعت ایسے لوگوں کی جو دعوت دیتے رہیں اچھّے کاموں کا اور منع کریں بُرے کاموں سے اور یہی لوگ ہیں درحقیقت فلاح پانے والے۔

آپ غور کیجئے، یہ جماعت یعنی قانون ساز اسمبلی کیا کرتی ہے؟ نیک کاموں کے فروغ کے اصول اور برے کاموں سے روکنے کے اصول اور باہمی معاہدات ، کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں بناتی ہے۔
آپ کی بعض باتیں میرے لیے تعجب کا باعث بنتی ہیں کہ آپ اپنے پاس سے جب کوئی اصول بنالیتے ہیں۔
آپ آیات کو مطلب اور مفہوم اپنی سوچ سے کرتے ہیں جبکہ ہر کسی کی سوچ و فکر مختلف ہوتی ہے اسی لیے تو حدیث کی ضرورت پڑتی ہے کہ نبی علیہ السلام نے اس آیت کا کیا مطلب و مفہوم پیش کیا تھا خیر اس مسئلے پر آپ سے کبھی بات ضرور ہوگی ان شاءاللہ۔
یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس سے ڈرنے والا ہے اور کون اس سے بےڈر ہے آپ نے اسی اصول کو لے کر قانون ساز اسمبلی کو بنادیا ہے جو کہ ایک خیران کن بات ہے۔
اور ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ی جماعت جو قانون بنائے گی وہ ملکی قانون ہوگا
جبکہ قانون ہمارے پاس موجود ہے قرآن و صحیح حدیث کی صورت میں اب یہ قانون سازی کرنے کا حق آپ نے انسانوں کو کس دلیل سے دیاہے اس کی وضاحت فرما دیں؟؟؟

اور چاہیے کہ رہے تم میں (ہمیشہ) ایک جماعت ایسے لوگوں کی جو دعوت دیتے رہیں اچھّے کاموں کا اور منع کریں بُرے کاموں سے اور یہی لوگ ہیں درحقیقت فلاح پانے والے۔
آپ نے اس آیت کو ایسے لوگوں کے اوپر فٹ کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ اللہ کے اختیارات کو اپنے لیے حلال کیے بیٹھے ہیں اور اس طرح وہ اللہ کے شریک بنے ہوئے ہیں کہ جو مرضی ہے قانون بناتے رہیں اور ایسا ہی ہو رہا ہے اس وقت اور آپ ہو کہ ان جاہل انسانوں کو فلاح پانے والے قرار دے رہے ہیں۔
اصل میں یہ آیت قانون سازوں کے لیے نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ہے جو اللہ کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور بُرے کاموں سے روکتے ہیں اور اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں۔
آپ لکھتے ہیں کہ
کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں بناتی ہے
آپ مجھے ایک وہ اصول اور قانون بتا دیں جو اس موجودہ قانون ساز اسمبلی نے قرآن و سنت کو مدِ نظر رکھ کربنایا ہو؟؟؟؟
آپ کہاں کی باتیں کرتے جارہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی۔
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پرانا 20-07-10, 03:19 PM   #58
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اگر آپ ان اصولوں کی روشنی میں دیکھئے تو ہم کو باہمی مشورہ سے ایک ایسی جماعت بنانے کی ضرورت ہے جو بری باتوں سے روکے اور اچھی باتوں کا حکم دے۔ اب اس جماعت کے بنانے کا طریقہ کیا ہوگا؟
افسوس کہ آپ نے جتنے بھی اصول بتائے ہیں اپنے پاس سے بنالیے جو کہ ہمارے لیے قابلِ قبول قیامت تک نہیں ہوسکتے۔
آپ جو اصول بنارہے ہیں اس کی ضرورت ہم کو نہین ہے ہم کو وہ اصول چاہیے جو اللہ اور اللہ کے نبی علیہ السلام نے ہم کو دیے تھے اور وہی اصول اپنا کر ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں بس۔
باقی لوگوں کے بنائے اصول و قوانین ہم کو نہیں چاہیے۔
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پرانا 20-07-10, 03:29 PM   #59
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
موجودہ حالات میں پاکستانیوں نے طے کیا ہے کہ وہ آپس میں‌ مل کر باہمی مشورہ کریں گے یعنی ۔۔۔ پہلے کچھ لوگ ایک دوسرے کو نامزد کریں گے۔ پھر ان نامزد شدہ افراد میں سے ایک کو اپنے علاقے یا حلقے سے منتخب کرلیں‌گے۔ یہ باہمی مشورہ عین قرآن کے احکام کے مطابق ہے۔
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ایسا پاکستانیوں نے نہیں چاہا بلکہ یہود اور نصاریٰ نے چاہا ہے یہ طریقہ حکومت پاکستانیوں کی ایجاد نہیں ہے بلکہ کفار کی ایجاد ہے کہ اس طرح آپ لوگ اپنے حکمران سلیکٹ کرو جبکہ ایسا حکم نہ ہی قرآن میں ہے اور نہ ہی حدیث میں ہے اور آپ کی ہمت کے آپ نے پھر بھی اس طریقہ کو عین قرآن کے مطابق کہا ہے۔
آپ قیامت تک لگے رہو اس طریقہ حکومت کو ثابت کرنے کہ یہ قرآن کا دیا ہوا نظام حکومت ہے تو بھی ایسا نہ کر سکیں گے۔
آپ پہلے اپنی ناقص عقل سے خود ہی کوئی اصول بناتے ہو اور پھر اس اصول کو لے کر اسے قرآنی اصول بنالیتے ہو تو جناب ایسے کسی جاہل کو تو مطمئین کیا جاسکتا ہوگا مگر جن لوگوں کو اللہ نے دین کا علم دیا ہے وہ آپ کے اصول کو کبھی بھی نہیں مانیں گے۔
اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور اپنی سوچ کو حدیث کا پابند بنائیں اگر آپ حق کو پانا چاہتےہیں تو۔
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پرانا 20-07-10, 03:48 PM   #60
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 956
کمائي: 31,088
شکریہ: 1,294
713 مراسلہ میں 2,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عاصم بھائی اسلامی خلافت کے نفاذ کی مجھے ابھی تک صیح‌سے سمجھ نہیں‌آئی،چلیں کوئی عملی قدم اٹھائیں‌ تاکہ بات واضح ہو سکے،فرض کریں‌ہم پاکستان میں‌خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں‌ اور خلافت کیلئے سب سے ضروری ادارہ مجلس شوری ہے سب سے پہلے اس کا انتخاب ہونا چاہیے
میں‌آپ کو ٹاسک دیتا ہوں‌کہ آپ پورے پاکستان پر نظر دوڑائیں اور تمام لوگوں‌میں‌سے مجلس شوری کے رکن منتخب کریں،اور ساتھ میں‌وضاحت بھی کریں‌کہ آپ نے کیا کرائٹیریا بنایا ہے جس سے مجلس شوری کے رکن کا انتخاب کریں‌گے۔
اس کے بعد سٹیپ بائی سٹیپ آگے بڑھیں‌گے۔
ابرارحسین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (20-07-10), کنعان (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10)
جواب

Tags
color, ہے۔, گئی, پاکستان, چین, مکمل, ملک, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, بے, ثبوت, حیات, دوست, دنیا, راستہ, سیاست, طور, عوام, عذاب, غیراللہ, صاف, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایس ایم ایس کو قانونی حثیت دینے کا فیصلہ جاویداسد خبریں 1 26-07-10 09:01 PM
عدالت کی فیس بک کو مانیٹر کرنے کی ہدایت جاویداسد خبریں 1 16-06-10 11:32 PM
ڈی ایس ایل کی شکایت کا خاص الخاص نمبر شازل عمومی بحث 8 20-05-09 09:12 PM
شہدادکوٹ :راکٹ حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ابن جلال خبریں 1 23-09-08 04:26 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger