| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10) |
|
|
#31 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,900
کمائي: 73,050
شکریہ: 26,776
3,500 مراسلہ میں 11,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (19-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10) |
|
|
#32 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم عاصم مٹھو بھائی آپ نے جو سیریل میں تھریڈ پیش کیا ھے اس میں جتنی بھی قرآن مجید کی آیات مقدسہ اور احادیث مبارکہ پیش کی گئی ہیں ان کو جتنی مرتبہ بھی پڑھیں دل کو سکون ملتا ھے۔ آپ نے جو اپنی تحریر کا ٹائٹل پیش کیا ھے "جمہوریت دینِ ابلیس" ہو سکتا ھے یہ آپکی نظر میں اہم ہو ، مگر آپ اگر تھوڑی توجہ فرمائیں تو آپ بھی اسی کا حصہ ہیں اس سے باہر نہیں ہیں، اور اگر اس کو آپ اس جیسا کوئی نام دیتے "خلافت، ملوکیت اور جمہوریت میں فرق" تو شائد مناسب ہوتا، اور شائد آپ کے تھریڈ کا شروع سے کچھ میٹیریل اسی سے حاصل کیا ہوا لگ رہا ھے، ہو سکتا ھے میری رائے ناقص ہو والسلام
__________________
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (18-07-10), فاروق سرورخان (19-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), حیدر (26-07-10) |
|
|
#33 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مراسلات: 16
کمائي: 649
شکریہ: 492
17 مراسلہ میں 60 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں عاصم بھائی سے متفق ہوں یہ نظام واقعی ابلیسی نظام ہے
جو دلائل دیے گے ہیں اس سے یہی کلیر ہوتا ہے اسلام کا نظام اگرموجود ہے تو اس کو کیوں نافذ نہیں کیا جاتا؟
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے saimali کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (18-07-10) |
|
|
#34 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
لسلام علیکم:
ماشا؟ء اللہ بہت اچھی بحث ہو رہی ہے ، یہاں میں یہ بات کرنا چوہوں گا کہ اصل موقف یہ نہیں ہے کہ: "جوقانون کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو وہ ٹھیک ہے"بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ "قرآن و سنت خود ہی قانون ہے اور جو اس کے علاوہ ہو گا وہ اس سے متصادم ہی ہو گا"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس طرح یہ ایک کتاب ھدٰی ہے اور اس کی مذہبی حیثیت اور حجت ہونے پر ہم کوئی شک و شبہ نہیں رکھتے بالکل اسی طرح یہ خود بخود اور احادیث صحیحہ اٹل قوانین کا درجہ رکھتی ہیں اور اس تشریعی حیثیت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نا کہ جمہوریت کی طرح کہ قرآن کی ایک آیت بھی ملک کے قانون کا درجہ حاصل کرنے کے لیے 300 اصلی و جعلی ڈگری والوں کے پاس کرنے کی محتاج ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔العیاذ باللہ۔ مثلا چوری کی سزا اسلام میں ہاتھ کاٹنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اگر اس کی سزا 10 سال قید رکھی جائے تو یہ اسلام کے قانون کے علاوہ خود شریعت سازی ہے اور یہی شرک فی الحاکمیت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولا یشرک فی حکمہ احدا۔الآیۃ ہاں انتظامی معاملات مثلا ٹریفک وغیرہ میں قانون سازی اسلام کی حدود میںرہتے ہوئے کی جاسکتی ہے یا جیسے معاشی نظام کے اصول اسلام نے بتا دیے ہیں اور ان میں رہتے ہوئے معاملہ کرنا اسلام ہے والسلام |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (19-07-10), محمد عاصم (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), حسنین ایوب (23-07-10), سحر (19-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ حیدر (19-07-10) |
|
|
#35 | ||||||||
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمن الرحیم فاروق بھائی آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جمہوریت اور خلافت ایک ہی چیز ہے مگر آپ نے اس پر کوئی بھی مدلل دلیل نہیں دی ہے اور رہا آپ کا فہم تو وہ ہم مان نہیں سکتے جب تک آپ کے فہم کی تعید قرآن اور صحیح حدیث سے نہ ہو۔ اب آتا ہوں آپ کے لکھے جواب کی طرف آپ نے لکھا ہے کہ اقتباس:
جی بھائی میں آپ کی اس بات سے متفق ہوں اور ہوا بھی ایسا ہی تھا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے بہترین اصحاب میں سے سب سے بہتر صحابی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی اور نیابت رسول کی ابتداء کی گئی۔ آپ مزید لکھتے ہیں کہ اقتباس:
لگتا ہے آپ کو یہاں کوئی غلطی لگی ہے میں اس کو جھوٹ بھی کہہ سکتا تھا مگر نہیں ممکن ہے آپ کو واقعی غلطی لگی ہو کہ جو آپ نے یہ لکھا ہے کہ :::بلکہ روایات سے ثابت ہے کرنے کے طریقے سے ایک سے زائید منتخب (سیلیکٹڈ) افراد میں سے کسی ایک کو چن لینے یا الیکٹ کرنے کا حکم کہ رسول اللہ صلعم نے بیعت(ووٹنگ)دیا::: اگر آپ اس کو ایسے ہی مانتے ہیں تو اس کی دلیل صحیح حدیث سے عنایت فرما دیں بصورتِ دیگر اپنی اصلاح فرما لیں کہ یہ ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو آپ علیہ السلام نے کسی فردِ واحد کو سلیکٹ کیا اور نہ ہی کسی جماعت کو سلیکٹ کیا کہ پھر بعد میں ان میں سے بیعت:: ووٹنگ ::کر کے کسی ایک کو اپنا خلیفہ چن لینا۔ امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی اس غلطی کا عتراف کریں گے اور پھر اس پر حدیث پیش کریں گے۔ آپ مزید لکھتے ہیں کہ اقتباس:
بھائی آپ سے یہاں بھی غلطی ہوئی ہے کہ اس وقت کی قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی جبکہ اس بات حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ آپ جو بھی ایسی بات لکھیں جو کہ نبی علیہ السلام یا اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہو تو ساتھ اس کا حوالہ ضرور دیں تاکہ بات کو اچھی طرح سمجھا جا سکے آپ نے اس اپنے دعوے کا بھی ثبوت قرآن یا حدیث سے دینا ہے۔ مزید آپ رقمدراز ہیں کہ اقتباس:
میرے بھائی صرف چند ایک انصار نے اس بات کا اظہار کیا تھا ان کے علاوہ آپ اور کوئی بھی قبیلہ ثابت نہیں کرسکتے آپ نے یہاں بھی غلطی کی ہے کہ جو لکھا ہے کہ ان کے قبیلہ کا خلیفہ ہو جبکہ ایسا نہیں ہے صرف انصار میں سے اس بات کا اظہار سامنے آیا تھا اور انصار میں بہت سے قبائل شامل تھے مثلا اوس اور حزرج۔ آپ مزید لکھتے ہیں کہ اقتباس:
یہ بھی آپ نے غلط الزام قریش پر لگا دیا کہ :::کیوں کہ اہل قریش ، اعلی ترین عہدہ اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے::: جبکہ اصل حقیقت اس سے مختلف تھی اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث پیش کی تھی کہ نبی علیہ السلام کا ارشاد ہے یہ امر یعنی خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی اور جیسے ہی یہ حدیث پیش کی گئی تو جو انصار کہہ رہے تھے کہ ایک خلیفہ یا اس کا نائب ہم میں سے بھی بنایا جائے تو وہ بھی نبی علیہ السلام کی بات کے سامنے خاموش ہو گے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑ کے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے دیکھا دیکھی وہاں پر موجود سب نے بیعت کر لی۔ اب اس بات میں اہلِ قریش پر یہ الزام لگانا کہ وہ یہ اعلی عہدہ اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے کہاں کا انصاف ہے؟؟؟ وہ سارہ واقعہ بھی مختصر پیش کردیتا ہوں۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ ، ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر سن لو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو، جس طرح عیسیٰ بن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا ہے اور تم صرف اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو پھر کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ اللہ کی قسم اگر عمر مرجائیں تو میں فلاں کی بیعت کرلوں تمہیں کوئی شخص یہ کہہ کر دھوکہ نہ دے کہ ابوبکر کی بیعت اتفاقیہ تھی اور پھر پوری ہوگئی، سن لو کہ وہ ایسی ہی تھی لیکن اللہ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے جس میں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی فضیلت ہو، جس شخص نے کسی کے ہاتھ پر مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بیعت کرلی تو اس کی بیعت نہ کی جائے۔ اس خوف سے کہ وہ قتل کردیے جائیں گے جس وقت اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی تو اس وقت وہ ہم سب سے بہتر ہے۔ مگر انصار نے ہماری مخالفت کی اور سارے لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور حضرت علی وزبیر نے بھی ہماری مخالفت کی اور مہاجرین ابوبکر کے پاس جمع ہوئے تو میں نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے ابوبکر ہم لوگ اپنے انصار بھائیوں کے پاس چلیں، ہم لوگ انصار کے پاس جانے کے ارادے سے چلے جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک بخت آدمی ہم سے ملے، ان دونوں نے وہ بیان کیا جس کی طرف وہ لوگ مائل تھی پھر انہوں نے پوچھا اے جماعت مہاجرین کہاں کا قصد ہے ہم نے کہا کہ اپنے انصار بھائیوں کے پاس جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا ہم تمہارے لئے مناسب نہیں کہ ان کے قریب جاؤ تم اپنے امر کا فیصلہ کرو میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم ان کے پاس جائیں گے چناچہ ہم چلے یہاں تک کہ سقیقہ بنی ساعدہ میں ہم ان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو ان کے درمیان دیکھا کہ کمبل میں لپٹا ہوا ہے میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ سعد بن عبادہ، میں نے کہا کہ ان کو کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ ان کو بخار ہے ہم تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ ان کا خطیب کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور اللہ کی حمدوثناء کرنے لگا جس کا وہ سزاوار ہے۔ پھر کہا امابعد، ہم اللہ کے انصار اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین وہ گروہ ہو کہ تمہاری قوم کے کچھ آدمی فقر کی حالت میں اس ارادہ سے نکلے کہ ہمیں ہماری جماعت کو جڑ سے جدا کردیں اور ہماری حکومت ہم سے لے لیں۔ جب وہ خاموش ہوا تو میں نے بولنا چاہا، میں نے ایک بات سوچی رکھی کہ جس کو میں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کرنا چاہتا تھا۔ اور میں ان کا ایک حد تک لحاظ کرتا تھا، جب میں نے بولنا چاہا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گفتگو کی وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور باوقار تھے۔ اللہ کی قسم جو بات میری سمجھ میں اچھی معلوم ہوتی تھی اسی طرح یا اس سے بہتر پیرایہ میں فی البدیہہ بیان کی یہاں تک کہ وہ چپ ہوگئے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے جو خوبیاں بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو لیکن یہ امر (خلافت) صرف قریش کے لئے مخصوص ہے یہ لوگ عرب میں نسب اور گھر کے لحاظ سے اوسط ہیں میں تمہارے لئے ان دو آدمیوں میں ایک سے راضی ہوں ان دونوں میں کسی سے بیعت کرلو، چناچہ انہوں نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑا اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے (عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں) مجھے اس کے علاوہ انکی کوئی بات ناگوار نہ ہوئی، اللہ کی قسم میں اس جماعت کی سرداری پر جس میں ابوبکر ہوں اپنی گردن اڑائے جانے کو ترجیح دیتا تھا، یا اللہ مگر میرا یہ نفس موت کے وقت مجھے اس چیز کو اچھا کر دکھائے جس کو میں اب نہیں پاتا ہوں انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ ہم اس کی جڑ اور اس کے بڑے ستون ہیں اے قریش ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے شوروغل زیادہ ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ مجھے اختلاف کا خوف ہوا میں نے کہا اے ابوبکر اپنا ہاتھ بڑھائیے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین نے بھی بیعت کی پھر انصار نے ان سے بیعت کی۔۔۔۔۔۔الخ صحیح بخاری:جلد سوم:کتاب:- جنگ کرنے کا بیان اب وہ حدیث بھی پیش کردیتا ہوں جس میں خلافت قریش کا حق کرار دی گئی ہے۔ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ اثْنَانِ احمد بن یونس، عاصم بن محمد، محمد ابن عمر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ امر(یعنی حکومت) قریش میں رہے گا، جب تک کہ ان میں سے دو آدمی بھی باقی رہیں گے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:کتاب: احکام کے بیان میں آپ مزید لکھتے ہیں کہ اقتباس:
میرے بھائی آپ کو تو یہ بھی علم نہیں ہے کہ پانچواں خلیفہ کون تھے، تو جناب پانچواں خلیفہ حسن رضی اللہ عنہ تھے لیکن ان کی خلافت کا دور بہت کم یعنی ۴۰ دن تھا آپ رضی اللہ عنہ نے ایسا عظیم کا کیا تھا جس کی مثال نہیں دی جاسکتی کہ مسلمانوں میں جو دو۲ گروپ بن گے تھے ان کو ایک جان بنا دیا تھا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے، اس بات کی پیشنگوئی نبی علیہ السلام نے بھی کردی ہوئی تھی اور دوسرا یہ کہ آپ نے لکھا کہ :::لیکن اہل قریش نہ ہونے کے باعث یہ دار لخلافہ عراق لے گئے::: جبکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی قریشی ہی تھے اور آپ فرما رہے ہیں کہ وہ قریشی نہ تھے بھائی آپ پہلے اس تحقیق کرلیا کریں تو پھر کوئی بات کیا کریں تو مہربانی ہوگی۔ اور آپ کو اس بات کی دلیل چاہیے ہوئی کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کس دلیل سے قریشی کہہ رہیں تو میں پھر آپ کو اس کی دلیل پیش کر دونگا۔ ان شاءاللہ آپ مزید رقمدراز ہیں کہ اقتباس:
اب یہ اصول پتا نہیں آپ نے کس آیت یا کس حدیث سے لیا ہے کاش کہ آپ اس اصول کہ :::سارے کے سارے مسلمان مل کر اپنا خلیفہ چنیں:::کی دلیل بھی ساتھ فرما دیتے تاکہ ہم لوگ آسانی سے آپ کی بات کو سمجھ اور مان سکتے اس طرح بلادلیل کے بات نہیں کرنی چاہیے کہ جس مین صرف کسی کی خواہشاتِ نفس شامل ہو اور میں آپ سے پھر یہی درخواست کرونگا کہ جب آپ ایسا کوئی اصول بیان کریں جو کہ اسلام بناکر پیش کیا جارہا ہو تو ساتھ اس کے اس کی دلیل قرآن کی آیت یا صحیح حدیث ضرور پیش کیا کریں ہم سب آپ کی سوچ اور فکر کے پابند نہیں ہیں بلکہ قرآن و صحيح حدیث کے پابند ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ آئندہ اس بات کا پاس رکھیں گے۔ آپ مزید لکھتے ہیں کہ اقتباس:
جو آپ نے اوپر بنائے ہوئے اصول پیش کیے ہیں نا تو یہ سوال اسی لیے پیش آیا ہے جبکہ وہ آپ کے اصول بھی غلط ہیں جو کہ قرآن و حدیث کی دلیل کے بغیر ہیں اس لیے وہ اصول رد ہيں قابلِ قبول نہیں ہیں اور نیچے والا سوال اور اس کا حل بھی اسی طرح خود ساختہ ہیں اسلام میں ایسا طریقہ کار سرِ سے موجود ہی نہیں ہے، جو آپ نے سوال لکھ کر ساتھ اس کا حل پیش کیا ہے یہی تو جمہوریت ہے جس کو آپ اسلام کے نظام خلافت کے ساتھ ملا رہے ہیں اور وہ بھی دلیل کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے خودساختہ اصولوں کے تحت، تو بھائی آپ اللہ کے نطام کے خلاف بنائے ہوئے نظامِ جمہوریت کو اسلامی بنانے کے چکر میں پتا نہیں کیا کیا لکھ رہے ہیں اس کی سمجھ نہیں آرہی۔ ابھی رات کے۲:۱۲ منٹ ہوچکے ہیں باقی آپ کے سوالوں کا جواب کل لکھوں گا ان شاءاللہ |
||||||||
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (19-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (19-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), سحر (19-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (19-07-10) |
|
|
#36 | ||||||
|
Senior Member
![]() |
آپ سے عرض۔۔۔۔ ایک مراسلہ میں ایک موضوع پر بات کیجئے۔ یا تو خلیفہ کے انتخاب پر یا پھر قانون سازی کے طریقہ پر ۔ اس سے بات کرنے میں آسانی اور نکات پیش کرنے می آسانی رہے گی۔
فاروق کا اقتباس: اقتباس:
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی شخص کو اپنی نیابت کے لئے منتخب (سیلیکٹ)نہیں کیا۔ 2۔ لیکن رسول اللہ صلعم نے ، حضرت ابوبکر (ر) کو اپنی جگہ امامت کرنے کا موقع دیا ، جس سے لوگوں نے یہ تاثر لیا کہ حضرت ابوبکر(ر) کے لئے رسول اکرم صلعم نے جانشینی کا اشارہ دیا۔ یعنی ابتدائی سیلیکشن۔ 3۔ رسول اللہ صلعم کی ایک روایت سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے بیعت کرنے کا حکم دیا ۔ آپ نے یہ روایت لکھی ہے۔ ایک دوسرے دھاگہ میں۔ آپ نے بیعت کس کی ہے کے مراسلہ میں یہ روایت لکھی ہے۔ آپ اس سے کچھ اور مطلب لیتے ہیں۔ لیکن اس کا واحد مطلب تھا کہ اپنی بیعت یعنی وفاداری کا ایک شخص سے اعلان۔ یعنی ووٹنگ۔ 4۔ دوسری طرف یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ جانشینی، نیابت یا خلافت حضرت علی کا حق تھی ، اس مقصد کے لئے یہ لوگ بہت سی توجیہات بھی لاتے تھے۔ اس طرحپہلی جانشینی کے لئے کم از کم دو عدد افراد نامزد ہوئے۔ 5۔ تواریخمیں مزید ایسے نام ملتے ہیں جو اہل مدینہ تھے اور اس جانشینی یعنی نیابت یا خلافت کے خوہش مند تھے، لیکن اہل قریش نے ان افراد کو ابتدائی خلافت کا موقع نہیںدیا۔ بلکہ ان کو کہا کہ خلافت(نیابت و جانشینی)صرف اہل قریش کا حق ہے۔ خلیفہ کے انتخاب کا مرحلہ: سب جانتے ہیںکہ ایک سے زائید خلافت کے لئے نامزد افراد میں سے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔ یہ بیعت کیا رسول اللہ کے حکم سے ہوئی؟ آپ خود ایک حدیث لکھ چکے ہیں دوسرے دھاگہ میں کہ رسول اللہ نے بیعت کا حکم دیا ۔یہ بیعت آپ ہاتھ سے کیجئے یا کاغذ کے پرزے پر اپنا انگوٹھا لگا کر۔ فرق صرف طریقہ کار کا ہے۔ آپ نے اپنا نمائند ہ چنا۔۔ ان تمام نکات کو میں نے ایک مختصر جملہ میں سمیٹنے کی کوشش کی۔ جس سے شائد کنفیوژن پیدا ہوا ۔ جبکہ قرائن سے میں نے یہ دلائیل دئے ہیں۔ آپ نے ان سب نکات کی روایات خود فراہم کی ہیں۔ آپ اوپر کے 6 نکات پر غور کرکے بتائیے کہ ایسا ہوا یا نہیں؟ِ میری اور آپ کی سوچ کا فرق یہ ہے کہ ان حقیقتوں سے جو میں نتیجہ اخذ کررہا ہوں وہ آپ اخذ کرنا نہیں چاہ رہے۔ لہذا میری کوشش ہوگی کہ آپ کو یہ پہلو بھی دکھاؤں۔ فاروق کا اقتباس: اقتباس:
اگر بیعت ہوئی تو کہاں ہوئی؟ ابوبکر(ر) کے خلیفہ منتخب ہونے سے حضرت علی کے طرفدار کیوں ناراض ہوئے؟ فاروق کا اقتباس: اقتباس:
اقتباس:
آپ نے تصدیق کردی۔ میں نے جان بوجھ کر اپنا طریق بیان مختلف رکھا تھا۔ فاروق کا اقتباس: اقتباس:
اقتباس:
آپ کا یہ بتانے کا بھی شکریہ کہ عمر (ر) نے سب سے پہلا ووٹڈالا ۔۔۔ جی بیعت کرنا ، یعنی اپنی وفاداری کا اعلان کرنا ۔۔۔ اور ووٹڈال کر اپنے نمائندہ کا انتخاب کرنا ایک ہی عمل ہے۔ ممکن ہے بہت سے لوگ اس بات کو نہ مانیں۔۔ لیکن کیا آپ دیکھ رہے ہیں کہ 1۔ انصار قبائیل جانشینی چاہتے تھے۔ 2۔ حضرت علی (ر)کو کچھ لوگ نامزد کررہے تھے۔ 3۔ حضرت ابوبکر کو کچھ لوگ نامزد کررہے تھے۔ اس میں ایک صاحب نے بڑھ کر پہلا ووٹ ایک امیدوار کو دے دیا۔ باقی لوگوںنے بھی اپنا ووٹ اسی امیدوار کو دیا۔ اور سب لوگوں نے اپنے لئے منتظم اعلی یعنی رسو ل اللہ صلعم کا سیاسی جانشین منتخب کرلیا۔ آپ اس کو خلافت کہتے ہیں۔ میں آپ سے متفق ہوں۔ کہ یہ خلافت ہے۔ جانشین یعنی خلیفہ کے انتخاب کا طریقہ ہے۔ یہ یقینی طور پر ورثہ میں ملنے والی پادشاہی نہیں ہے۔ پانچویں اور چھٹے خلیفہ کے بارے میں، میں کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا۔ جو آپ نے لکھ دیا وہ کافی ہے۔ چونکہ بات طریقہء انتخاب کی ہورہی ہے اس لئے اس سے ہماری بحث پر کوئی اثر نہیںپڑتا۔ اب آپ مجھے بتائیے کہ آج کے دور میں ہم قرآن و سنت کے مطابق خلیفہ کا انتخاب کیسے کریں گے؟ بیعت کیسے کریں گے، ہاتھ پکڑ کر یا ووٹڈال کر؟ کون لوگ بیعت کے قابل ہوں گے اور کیوں؟ جیسا کہ آُپنے لکھا کہ یہ سب کچھ قرآن و سنت کے لحاظ سے ہونا چاہئیے تو اس انتخاب کرنے کے طریقہ کے لئے یا تو قرآن سے آیات دیجئے یا صرف اور صرف سنت نبوی سے روایات۔ قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ صلعم کے حکم کے علاوہ کوئی مثال نہ دیجئے گا۔ آپ سے بس یہی ایک سوال ہے کیوںکہ خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں آپ کے فراہم کردہ کسی واقعے سے نااتفاقی نہیں۔ آپ نے جن واقعات کو تفصیل سے بیان کیا میں انہیں کو اختصار سے پیش کرنا چاہ رہا تھا۔ آپ کا تفصیل فراہم کرنے کا شکریہ۔ قانون سازی کے بارے میں بات الگ سے۔ ایک ایک کرکے بات کرلیجئے۔ آپ کو آیات بھی ملیں گی، اور دلائیل بھی۔ جو آپ کو مطمئن کردیں گی۔ فی الحال آپ صرف ایک سوال کا جواب دیجئے۔ جو اوپر نیلے رنگ سے ہے۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 19-07-10 at 11:13 AM. |
||||||
|
|
|
|
|
#37 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (19-07-10), مرزا عامر (19-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (20-07-10) |
|
|
#38 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,743
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم
عاصم مٹھو بھائی اور دیگر احباب ہم خلافت یا جمہوریت پر ایک خاص تناظر سے بحث کر رہے ہیں، پاکستانی جمہوریت کسی بھی طور پر مثالی نہیں کہ اس کو قابل تقلید نظام کے طور پر پیش کیا جا سکے اور خلافت کا وجود اس وقت ہے نہیں ۔۔۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم خلافت اور جمہوریت کو ''نطامِ حکومت'' کے طور پر بحث میں لائیں؟؟ آخر کار جمہوریت بھی کامیابی سے چل رہی ہے نہ، جہاں جہاں اہل لوگ اسے چلا رہے ہیں۔ اور خلافت بھی اپنے ابتدائی ادوار میں بہترین تھی، لیکن بعد میں جو کچھ مسلمانوں نے آپس میں سلوک رکھا /// بنو امیہ اور بنو عباس نے //// وہ کسی بھی طور پر قابل ستائش نہیں تھا۔ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جہاں بھی قدرت کے آفاقی اصول // انصاف // پر عمل ہوگا، سچے اور ایماندار لوگوں کے ہاتھ میں عنانِ حکومت ہو گی، وہ نظام کامیاب ہوگا ۔ واللہ عالم Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 08:01 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (19-07-10), مرزا عامر (19-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), آبی ٹوکول (19-07-10), حیدر (26-07-10) |
|
|
#39 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,900
کمائي: 73,050
شکریہ: 26,776
3,500 مراسلہ میں 11,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے توکون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیئے اٰل عمران 160 |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#40 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کنعان بھائی میں اس جمہوریت کا بلکل بھی حصہ نہیں ہوں بلکہ میں اس کے سخت خلاف ہوں وجہ یہ ہے کہ یہ نظام اسلام کے نظام خلافت کے مقابلے میں بنایا گیا باطل نظام ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ آپ اس نظام کے تحت رہتے ہیں اس لیے اس کا حصہ ہیں تو میرے بھائی مجھے آپ یہ بتائیں کہ اللہ نے جتنےبھی نبی و رسل بھیجے کیا وہ اسلامی نظام میں بھیجے تھے؟؟؟ اگر نہیں تو کیا آپ ان کو بھی اسی باطل نظام کا حصہ کہیں گے؟؟؟ بلکل بھی نہیں کیونکہ انہوں نے اس باطل نظام کے خلاف دعوت و تبلیغ اور جہاد کیا تھا اور لوگوں کے بنائے ہوئے باطل نظام کو مٹا کر اللہ کا دیا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی تھی اس لیے وہ اس باطل نظام کے ایک فیصد بھی حصہ نہ تھے۔ ہم بھی اس نظام میں رہ تو رہے ہیں مگر اس کے خلاف دعوت و تبلیغ بھی کر رہے ہیں اور اس کی ووٹنگ میں یا اس کے باقی باطل کاموں میں بلکل بھی حصہ نہیں لیتے۔ آپ کا اندزہ غلط ہے کہ میں نے سحر بہن کی تحریر سے کچھ کاپی کیا ہے اگر ایسا ہے تو آپ اس کا ثبوت لائیں۔ اور اس کا نام یہی اچھا اور سچا تھا اسی لیے یہ نام رکھا ہے یہ شیطانی نظام ہے اور شیطان کے ایجنٹوں نے اس کو وضع کیا ہے۔ اس نظام کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو اس کو اسلامی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں وہ پہلے ہماری لکھی تحریر کو قرآن و سنت کے خلاف ثابت کریں اور یا اس میں پیش باتوں کا انکار کریں۔ مجھے افسوس اور دکھ ہو رہا ہے کہ ہم مسلمان ہو کر یہود و نصاری کا بنایا نظام پسند کیے بیٹھے ہیں وہ یہود اور عیسائی کے جنہوں نے مل کر اسلامی نظام خلافت کے خلاف پہلی جنگ عظیم لڑی تھی اور اس کو ختم کردیا تھا اور اس کے بعد آج تک جس نے بھی خلافت کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی اس کے خلاف جنگ کی گئی وہ کفار آج بھی اسلامی خلافت کے اتنے سخت دشمن ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ان کے باطل نظام کو بدلنے کے بجائے ان کے باطل اور کفریہ نظام کو اسلامی نظام ثابت کرنے کی ناپاک جسارت بھی کر رہے ہیں اور دعوی پھر بھی ایمان و اسلام کا ہے۔ اللہ نے جتنے بھی نبی اور رسل لوگوں کی رہنمائی کے لیے بھیجے ان کا کام ہی یہی تھا کہ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ اور بلاشبہ ہم نے ہر امت میں (اس بات کی تعلیم کے لئے کوئی نہ کوئی) پیغام رساں ضرور بھیجا ہے، کہ تم لوگ بندگی کرو اللہ کی اور بچتے رہو طاغوت سے، النحل :آیت:۳۶ یعنی جو لوگ طاغوت:::سرکش::: بن چکے تھے اور اللہ کے نظام کی جگہ اپنے بنائے نظام و قوانین چلارہے تھے ان سےبچنے ان کا انکار کرنے کا حکم لے کر بھیجے گے۔ بات ہماری سمجھوں میں اس لیے نہیں آرہی کہ ہم نے اس نظامِ خلافت سمجھا ہی نہیں ہے اور جتنا سمجھا ہے وہ بھی تنقیدی نظر سےاسی لیے آج ہم کو اللہ کے نظام کے مقابلے پر انسانوں کا بنایا ہوا نظام اچھا لگ رہا ہے۔ حالانکہ سبھی یہی کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا خالق و مالک ہے تو کیا ایسا ممکن ہے کہ جس نے ہم کو خلق کیا ان سب جہانوں کو خلق کیا اور یہ سب کچھ بلا وجہ خلق کیا گیا ہے؟؟؟ جس نے ہم کو خلق کیا ہے یہ حق بھی اسی کا ہے کہ وہ ہمارے لیے قانون و نظامِ زندگی کا اصول وضع کرے اور اللہ نے یہ نظام بنا کر بھی دیا ہے جوکہ آج ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہی ہماری حق کی طرف رہنمائی کرے اور باطل سے بچائے۔ آمین |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (19-07-10), مرزا عامر (19-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (20-07-10) |
|
|
#41 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,743
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عاصم مٹھو بھائی ایسا لگا آپ جذباتی ہو رہے ہو میرے بھائی، لیکن کچھ بہت تلخ حقائق ہیں خلافت عثمانیہ کے ختم ہونے میں ، اپنے ہی مسلم بھائی اس سازش میں شامل تھے اور سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف جنگ بھی کی تھی اپنے لوگوں نے ہی۔۔۔ آپ اس طرح سے کیوں سوچ رہے ہو کہ سب غیر مسلم 'شیطانی' قوتیں ہیں اور صرف اور صرف مسلمانوں کو تباہ کرنا ہی ان کا واحد مقصد ہے، یقیناً یہود و نصاریٰ پر مکمل بھروسہ ممکن نہیں لیکن یہ بھی تو دیکھیں کتنے احسانات ہیںان کے انسانیت پر ۔۔۔ سب سے بڑی مثال تو آپ کا اس وقت انٹرنیٹ کا استعمال ہے، جو کہ بنایا ہوا بھی ان کا ہے اور چلا بھی وہی رہے ہیں۔۔ کوئی بھی چیز بذات خود بری نہیں ہوتی، اس کا استعمال اچھا یا برا ہوسکتا ہے۔۔۔ اور آخری بات، خلافت کے نفاذ کے خلاف شائد بہت کم لوگ ہوں گے مگر سب الجھن میں ہیں کہ نفاذ کرے گا کون؟ جو لوگ ہزاروں فتوی لگا چکے ایک دوسرے پر کفر اور شرک کے، وہ ایک پورے نظام پر متفق کیسے ہوں گے؟ ایک ایسے وقت میں جب کے مسلمانوں کی اپنی حالت انتہائی ناگفت بہ ہے، موجودہ نظام کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنا آسان ہوگا یا ایک ایسے نظام کی کوشش کرنا جس کی ابتداء کرنے پر ہی جھگڑا شروع ہوجائے گا۔۔۔۔ اللہ پاک ہم پر کرم فرمائے Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 08:01 PM. |
|
|
|
|
| ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا گیا | حسنین ایوب (23-07-10) |
|
|
#42 | ||||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اور پوری اُمت کو متحد کرنا اتنا مشکل نہیں ہے اگر لوگ قرآن و صحیح حدیث کو اپنا مکمل دین سمجھ لیں۔اور جبتک ہم لوگوں کی باتوں، لوگوں کی فہم و نظریات کو چھوڑ نہیں دیتے ایسا ممکن نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ متحد ہونے کے لیے اس بات کی قربانی ہم سب کو ضرور دینی چاہیے۔ |
||||
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (19-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ziamurtaza (19-07-10), حیدر (26-07-10), حسنین ایوب (23-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (20-07-10), عبداللہ حیدر (20-07-10) |
|
|
#43 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,743
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عاصم مٹھو بھائی آپ کی تفصیلی پوسٹ کا انتظار رہے گا ۔۔۔ جہاں تک میری تھوڑی سی سمجھ کا تعلق ہے، دو ہی طریقے ہیں تبدیلی کے خونی انقلاب: ایک جلد نافذ ہونے والا نظام، جو انگنہت خراج مانگتا ہے اور زیادہ دیرپا نہیں ہوتا، اپنے پیچھے کارفرما جذباتیت کے باعث خاموش انقلاب: ایک بتدریج، دلوں کو بدلنے والا نطام، دیرپا اور زیادہ قابلِ عمل آپکی تحقیق کا انتظار رہے گا دعا گو اور طالبِ دعا Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 08:00 PM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (19-07-10), محمد عاصم (19-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), حسنین ایوب (23-07-10), عبداللہ آدم (20-07-10) |
|
|
#44 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہاں عاصم مٹھو اور میری بحثکو یہ کہہ کر بند کیا جاسکتا ہے کہ بعد از نبی کسی قسم کی تاریخمعتبر نہیں۔ لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کا جمہوری نظام --- خلیجی ریاستوں مع سعودی عرب --- کے تازیانہ ہے۔ جس کے لئے بے تحاشہ رقوم پاکستان میں "جمہوریت کے غیر اسلامی ---- ہونے پر خرچ ہوتی ہیں۔ عاصم مٹھو کا شکر گزار ہوں کہ وہ ان نظریات کو سب کے سامنے لائے۔ انشاء اللہ تعالی سچ کیا ہے سب کے سامنے آ جائے گا۔ آپ کا سوال موضوع پر نہیں بلکہ اس سے ذاتی رنجش کی شدید بو آتی ہے۔ برادرنہ مشورہ ہے کہ نظریات فرق کی بحث کو ذاتی رنجش میں نہ تبدیل کیجئے یہ ایسا ہے جیسے کہ پوچھا جائے کہ " اوبامہ اور بش" کے پریزیڈنٹبننے کا آپ کو کیسے پتہ چلا۔ قرآن حکیم سے حوالہ دیجئے۔ والسلام |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, گئی, پاکستان, چین, مکمل, ملک, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, بے, ثبوت, حیات, دوست, دنیا, راستہ, سیاست, طور, عوام, عذاب, غیراللہ, صاف, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایس ایم ایس کو قانونی حثیت دینے کا فیصلہ | جاویداسد | خبریں | 1 | 26-07-10 09:01 PM |
| عدالت کی فیس بک کو مانیٹر کرنے کی ہدایت | جاویداسد | خبریں | 1 | 16-06-10 11:32 PM |
| ڈی ایس ایل کی شکایت کا خاص الخاص نمبر | شازل | عمومی بحث | 8 | 20-05-09 09:12 PM |
| شہدادکوٹ :راکٹ حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق | ابن جلال | خبریں | 1 | 23-09-08 04:26 AM |