| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10) |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() |
یہاں پر اور دیگر جگہوںپر ہم سب ن دیکھا ہے کہ لوگ یہ جملہ عام طور پر کہتے ہیںِ
خلافت میں اللہ کا حکم چلتا ہے۔ جبکہ جمہوریت میںبندوں کا حکم چلتا ہے۔ کیا ہم اس بات کو طے کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالی کا حکم کی حد کیا ہے؟ اوور کس مقام سے ہم حکم کو بندوں کا حکم کہیںگے؟
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#17 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم:
بھائی عاصم میری طرف سے اس دجل اور تلبیس کے دور میں اس جمہوریت نامی بت کی حقیقت آشکارا کرنے پر بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تب بھی لوگ یہی کہتے تھے جب قدیم جہالت کا دور دورہ تھ اور اج کی جدید جہالت میں بھی لوگ یہی کہتے ہیں کہ: أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ہم نے اس (عقیدۂ توحید) کو آخری ملّتِ (نصرانی یا مذہبِ قریش) میں بھی نہیں سنا، یہ صرف خود ساختہ جھوٹ ہے والسلام |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10) |
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
السلام علیکم رسول پرنور کی نبوت سے پہلے، دوران اور بعد ، دنیا میں ہر جگہ صرف بادشاہت موجود تھی۔ یہ نظام بادشاہت فرد واحد کی حکومت اور مذہبی سیاستدانوں کی بادشاہ گری سے بنتا تھا۔ اس کے برعکس رسول اکرم نے ایک نیا نظام پیش کیا، جس کو ہم نظام خلافت کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کو آپ نظام نیابت بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس نظام میں نیا حکمران ، سابقہ حکمران کا نائب یعنی خلیفہ قرار پاتا تھا۔ اس نیابت کے لئے اللہ تعالی نے اور اس کے رسول صلعم نے پہلے سے اعلان کرنے کا طریقہ روا نہیں رکھا بلکہ جو شخص بہترین ہو اس کو منتظم اعلی یعنی سابقہ منتظم کا نائب یعنی خلیفہ قرآر پایا۔ منتظم اعلی کا چناؤ: اس نئے منتظم اعلی کو خلیفہ کیوں کہا گیا؟ یعنی اس کو نائب کے نام سے کیوںپکارا گیا؟ نبی اکرم رسول اللہ تھے۔ خود انہوں ے واضح کردیا تھا کہ ان (ص) کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا۔ تو کیا جناب (صلعم) کی وفات کے بعد اس حکومت کو ختم ہوجانا چاہئیے تھا؟ ضروری تھا کہ یہ سیاسی حکومت چلتی رہے اور رسول اکرم (بطور سیاسی سربراہ اور منتظم ) کی نیابت اس وقت کا بہتر ترین شخصکرے۔ ہم یہ جانتے ہیںکہ صحابہ کرام ، رسول محترم (صلعم) کے تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ بہترین حضرات تھے۔ رسول اللہ صلعم کو خوب علم تھا کہ وہ ایک دن اس دنیا میں نہیں رہیں گے۔ اس کے باوجود جناب (صلعم) نے اپنی طرف سے کوئی شخص اس نیابت کے سلیکٹنہیں کیا ۔ بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے بیعت(ووٹنگ)کرنے کے طریقے سے ایک سے زائید منتخب (سیلیکٹڈ) افراد میں سے کسی ایک کو چن لینے یا الیکٹ کرنے کا حکم دیا۔ ایسا وہ تمام لوگ جو موجود تھے ان کے باہمی مشورہ سے ہوا۔ حضور صلعم کی وفات کے بعد، ان کی بیٹی یا داماد کو "سلطنت" یا "ریاست" ورثہ میں نہیں ملی۔ بلکہ اس وقت کی قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی اور منتظم اعلی کے عہدے کے امیدواروں میں سے ایک کو چنا گیا۔ بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ یہ نیا منتظم اعلی یعنی رسول اللہ کا نائب یعنی رسول اللہ کا خلیفہ ، ان کے قبیلہ سے ہو۔ اہل مدینہ چاہتے تھے کہ خلیفہ ان میںسے ہو۔ ان کو کوالیفائیڈ قرار نہیں دیا گیا۔ کیوںکہ اہل قریش ، اعلی ترین عہدہ اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔۔ پانچویں منتظم اعلی کا انتخاب بھی اسی طرح ہوا۔ لیکن اہل قریش نہ ہونے کے باعث یہ دار لخلافہ عراق لے گئے۔ اور ریاست کو موروثی ریاست میںتبدیل کیا۔ ہم کو اس سے کوئی سرو کار نہیں، کیوںکہ ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں اس منتظم اعلی، جس کو ہم صدر، وزیر اعظم، پریذیڈنٹ کہہ سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پسند ہے تو خلیفہ کہئیے۔ نائب کہئے ۔ جو چاہے کہئیے ، لیکن اس اعلی ترین انتظامی عہدہ کا ہونا ضروری ہے اور اس کے انتخاب کا خالص اسلامی طریقہ یہی ہے کہ سارے کے سارے مسلمان مل کر اپنا خلیفہ چنیں۔ ایسا کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ پاکستان کی صورت میں کیا سولہ کروڑ آدمیوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تاکہ "باہمی مشورہ" سے منتظم اعلی کا چناؤ ہو؟ یا پھر ہر شہر، ہر علاقہ اور ہر قبیلہ کے لوگ اپنے نمائندے جن پر ان لوگوں کو اعتماد ہو اور اعتبار ہو۔ منتخب کرکے ایک مجلس شوری میں بھیج دیں اور یہ مجلس شوری مناسب شخصکا اس اعلی ترین منصب کے ایک سے زائید سیلیکٹڈ (چنے ہوئے) لوگوں میںسے منتخب (الیکٹ)کرے؟ قانوں سازی، باہمی فیصلہ یا باہمی اصول: دور خلافت کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ باہمی مشاورت باقاعدگی سے ہوتی تھی۔ اس مشاورت سے اہم فیصلے کئے جاتے تھے۔ ان فیصلوں کو منتظم اعلی یعنی خلیفہ نافذکرتا تھا۔ کوئی خلیفہ مطلق العنان نہیں تھا۔ سامان کی رسد کے انتظامی شعبہ کے سربراہ کی تعیناتی ہو، عام آدمی سے زکواۃ وصولنے یا اس کو بانٹنے کا طریقہ ہو، اس کے لئے کارندوں یا انتظامی اداروں کی تشکیل ہو یا دشمنوں پر حملہ کرنے کے لئے جرنیلوں کا انتخاب۔ ان تمام امور کا فیصلہ ---- اللہ کے قوانیں کے تحت----- باہمی مشورہ سے ہوتا تھا۔ اس لئے کہ ہم آہنگی اور تنظیم ۔۔۔۔ باہمی مشورہ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ جب آپس میں طے پا جاتا تھا کہ کس کو کیا عہدہ ملے کا ، کس شعبہ اور ادارہ کا انتظام کس کے پاس ہے ۔ تو اس طے شدہ "باہمی معاہدہ " پر عمل کیا جاتا تھا۔ "باہمی معاہدہ " چاہے وہ شہر صاف کرنے کے لئے ہو، یا پولیس کے شعبہ کے قیام کے لئے۔ انتظامی امور کے بنیادی اصول ہمیشہ باہمی مشورہ سے طے پائے۔ یہ مسلمانوں میں اتحاد کی وہ مثال ہے جس سے ہماری اپنی ہی نہیں ۔ ہمارے اس وقت کے مخالفین کی تاریخبھی بھری پڑی ہے۔ باہمی صلاح، اور باہمی مشوری کے بغیر اتحاد ممکن ہی نہی۔ یہ ضروری ہے کہ باہمی مشورہ سے طے پانے والے معاہدہ ، اللہ تعالی کے قوانین کے تحت ہوں۔ رسول اکرم کی سنت اللہ تعالی کے قوانین سے مختلف نہیں۔ اللہ تعالی نے قرآن حکیم کی صورت میں سیاسی حکومت کے تمام شعبوںکے لئے اصول فراہم کئے ہیں۔ اللہ تعالی کی آیات ۔ حکومت میں انتظامی شعور، عدلیہ کے قیام، مقننہ کی تشکیل ، اور ان کے باہمی اشتراک سے تشکیل پانے والی حکومت کے اصول فراہم کرتی ہے۔ ہم آنے والے مراسلات میں اوپر فراہم کردہ آیات کا تجزیہ بھی کریں گے اور ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھیںگے کہ "نظام نیابت" یعنی "نظام خلافت" کیا جمہوریت ہے یا نہیں؟ انتظامی امور کے لئے "منتظم اعلی " یعنی خلیفہ کے انتخاب کے طریقہ اور "باہمی مشورہ" سے فیصلے کرنے کے اس مختصر سے انٹرڈکشن کے بعد آئیے ہم ان آیات کے ترجمہ پر غور کرتے ہیں جو اس مراسلہ میں فراہم کی گئی ہیں۔ 1۔ جمہوریت اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ! 42: ا لشوریٰ۔آیت نمبر 21 اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ کیا ان (بادشاہوں) کے وہ (پادری) شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے سورۃشوریٰ کی یہ آیت ان بادشاہوںکے لئے نازل ہوئی جو مطلق العنان بادشاہ تھے۔ اس وقت کے بادشاہوں نے اپنے شریک کار ایسے "پاپئیت سے بھرپور" لوگوںکو بنایا ہوا تھا ۔۔۔ جنہوں نے "من گھڑت دین بنارکھے تھے" -- "ایسے قوانین اور اصول جس کی اجازت اللہ تعالی نے نہیں دی تھی۔ یہ "پاپائیت" بعد میںاسلامی حکومتوں میں "ملائیت"بن کر داخل ہوئی۔ یہ شریک کار " دین کی ایسی قسم اور دین کے ایسے اصول " پیدا کردیتے تھے، جو بادشاہوںکی ذاتی خوہشات کی پیروی کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ ۔ ہم باقی مراسلے میں ایسے بادشاہوں کو جو اپنے پادریوں (بعد میں ملاؤں ) کے مدد لیتے تھے "پادشاہ اور پادری" کے نام سے یاد کریں گے ۔ چونکہ ان پادشاہتوں میں بہت سے پادری مل کر ایسی مذہبی انجینئیرنگ کرتے تھے اور ایسے اصول و قوانیں بناتے تھے کہ پادشاہ تو قتل سے بھی بچ جاتا تھا ، جبکہ عام آدمی کے لئے انصاف میسر نہیں تھا۔ اس طرح اقتدار پر یعنی عوام کی دولت پر ایک ٹولہ کا قبضہ رہتا تھا۔ انہی کے اولادیں بادشاہ اور انہی کی اولادیں پادری بنتی تھیں۔ اللہ تعالی نے اس قسم کے منتظم اعلی (پادشاہ) اور اس قسم کے مذہبی اصول بنانے والے (پادریوں ) کے لئے دردناک عذاب کی خبر دی ہے۔ اس نظام میں کسی قسم کا باہمی مشورہ شامل نہیں تھا۔ عام آدمی کی نہ پادری تک پہنچ تھی اور نہ ہی پادشاہ تک۔ اس آیت میں ا س پادشاہی نظام کی سخت مذمت کی گئی ہے جو پادشاہوں نے پادریوں کی مدد سے ایسے اصول و قوانین ، جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی تھی، وضع کرکے قائم کیا تھا ۔ بتائیے کہ ان پادشاہوں اور ان کے شرکاء پادریوں کے بارے میں کیوں دردناک عذاب کی خبر دی جارہی ہے۔ ان کا گناہ کیا بتایا جارہا ہے : ان لوگوں نے ایسے دین اختراع کرلئے ہیں جو اللہ کی اجازت اور مرضی سے نہیں اور پھر یہ پادری ان پادشاہوںکے شرکاء ہیں یقینی طور پر یہ آیت نظام خلافت کو برا نہیں کہہ رہی ہے۔ اس کے برعکس اسی سورۃ شوریٰ آیت 38 میں ان پادشاہوں اور ان شرکاء پادریوں کی مخالفت کرتے ہوئے۔ مومنوں کی تعریف بیان کی ۔ اور فرمایا کہ مومنوں کے فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتے ہیں، ایسے فیصلہ جو اقامو الصلاۃ کے بعد مل کر بیٹھنے سے ہوتے ہیں۔ الصلاۃ کا قیام ، قرآن حکیم صرف رکوع و سجود کے لئے استعمال نہیں کرتا بلکہ " باجماعت نماز " کے قیام کے لئے استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلفاء راشدین اور نبی اکرم صلعم کے فیصلوں کی جگہ مسجد ہی تھی۔ جہاں اہم انتظمی امور کے فیصلے اللہ کے احکام کے تحت باہمی مشورہ سے ہوتے تھے 42:38 وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے ایسے پادشاہوں کو جن کے شرکاء پادری ، اللہ کی مرضی کے بغیر دین بنا کر ان پادشاہوںکی مدد کرتے ہیں ----- ایک دردناک عذاب کی خبر سنائی ہے۔ جبکہ مومنوں کی نشانی اس خاصیت کو قرار دیا ہے کہ ایک اسمبلی میں بیٹھ کر باہمی مشورہ سے فیصلہ کیجئے ۔۔ یہی اللہ کا حکم ہے اور اس حکم کے مطابق فیصلے کرنا عین اللہ کے قانون کے مطابق ہے۔ ایک مراسلہ میں ایک آیت کا تجزیہ کروں گا، یہاں تک اپنے تبصرات پیش کیجئے۔ نکات پیش کیجئے ۔ بقیہ آیات پر تبصرہ بعد میں۔ ( جاری ہے) والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 18-07-10 at 09:29 AM. |
|
|
|
|
|
#19 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
فاروق بھائی قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے کہ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59ۧ اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، حکم مانو تم اللہ کا اور حکم مانو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان لوگوں کا جو صاحب امر ہوں تم میں سے ، پھر تمہارا اگر کسی بات پر آپس میں اختلاف ہوجائے تو تم اس کو لٹا دیا کرو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بہتر ہے (تمہارے لئے فی الحال) اور (حقیقت اور) انجام کے اعتبار سے بھی، النساء:آیت:۵۹ اس آیت سے ایک بات تو یہ ملی کہ اللہ اور رسول علیہ السلام کے بعد اطاعت کے قابل ہستی جو ہے وہ خلیفہ ہے مگر خلیفہ کی اطاعت مشروط ہے قرآن و حدیث کے ساتھ اس میں اللہ کا واضح حکم ہے کہ اگر تمہارا آپس میں اختلاف ہو جائے تو اس اختلاف کو لوٹا دو اللہ اور رسول علیہ السلام :::قرآن و حدیث:::کی طرف، کچھ لوگ حدیث کو دین کا جزء نہیں سمجھتے ان کا بھی اس آیت سے رد ہوا ، اور دوسرا اس آیت میں اللہ کا واضح حکم ہے کہ :::وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ :::یعنی وہ تم اہلِ ایمان میں سے ہی ہوں یہ شرط اللہ نے لگائی ہے کسی انسان نے نہیں۔ اور ایک بات یہ بھی کہ امیر سے اختلاف ہوسکتا ہے جب وہ اپنی اھواء:::خواہشاتِ نفس:::سے حکم دے تو پھر نہ تو اس کا حکم سناجائے گا اور نہ ہی اس کی اطاعت ہو گی، اس پر احادیث بھی موجود ہیں وہ بھی پیش کردیتا ہوں۔ نبی علیہ السلام کے ارشادات ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا اس نے آگ سلگائی اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس میں داخل ہو جاؤ، چناچہ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا، اور بعض نے کہا ہم تو آگ سے بچنے کے لئے اسلام لائے ہیں لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حال بیان کیا تو جن لوگوں نے اس آگ میں داخل ہونا چاہا تھا ان سے آپ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس میں رہتے اور لوگوں سے فرمایا کہ گناہ میں اطاعت نہ کرو، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:باب:امام کا حکم سننے اور اطاعت کرنے کا بیان جب تک کہ گناہ کا کام نہ ہو اسماعیل، ابن وہب، عمرو، بکیر، بسر بن سعید، جنادہ بن ابی امیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ عبادہ بن صامت کے پاس گئے وہ بیمار تھے، ہم لوگوں نے کہا اے اللہ کے بندے آپ اصلاح کردیں آپ کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو تاکہ اللہ آپ کو اس کا نفع پہنچائے، انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی آپ نے جن باتوں کی ہم سے بیعت لی وہ یہ تھیں، کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر ہم اپنی خوشی اور اپنے غم میں اور تنگدستی اور خوشحالی، اور اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور خلیفہ سے نزاع نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر، جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔ صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب: احکام کے بیان حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خِيَارُ أَئِمَّتِکُمْالَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَکُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَکُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِکُمْ شَيْئًا تَکْرَهُونَهُ فَاکْرَهُوا عَمَلَهُ وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اماموں میں سے بہتر وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں اور وہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور تم ان کے لئے دعاۓ مغفرت کرتے ہو اور تمہارے خلفاء میں سے برے خلفاء وہ ہیں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں اور تم انہیں لعنت کرو اور وہ تمہیں لعنت کریں عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول کیا ہم انہیں تلوار کے ساتھ قتل نہ کردیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تک اپنے حاکموں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے اس عمل کو ناپسند کرو اور اطاعت وفرمانبرداری سے ہاتھ مت کھینچو۔ صحیح مسلم:جلد سوم:باب : اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں ان ارشادات سے واضح ہوا کہ اطاعت صرف معروف کاموں میں ہے یعنی جو کام قرآن و صحیح حدیث سے ثابت ہو اس کو کرنا لازمی ہے اور ایسے کام کا حکم کہ جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو اس کو نہ سننا ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرنا ہے یعنی کہ خلیفہ کی اطاعت قرآن و حدیث کے ساتھ مشروط ہے۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ اگر امام خلیفہ عام مسلمانوں میں نماز قائم کرنا چھوڑ دے اور یا اس سے کوئی کفر بواح :::واضح کفر:::سرزد ہوجائے اور وہ توبہ نہ کرئے اور نہ ہی خلافت کو چھوڑئے تو اس کے خلاف بغاوت کرنا بھی جائز ہے بلکہ بغاوت کرنا فرض بن جاتا ہے۔ اور ان سے یہ بھی ملا کہ خلیفہ ہر معاملے میں قرآن و حدیث کا پابند ہوگا وہ خود مختار نہیں ہے کہ جو جی میں آئے کرئے جیسا حکم چاہے دے جو قانون چاہے بنائے، اس کو اگر کوئی انتظامی حکم چلانا ہے تو بھی وہ قرآن وحدیث کو مدِنظر رکھ کر بنائے گا کہ کہیں کوئی ایسا حکم نہ دے بیٹھوں کہ جو دین کے خلاف ہو، انتظامی امور سے مراد ٹریفک کا نظام، فوج کا نظام، جدید سائنسی معاملات میں بنایا جانے والا نظام یعنی جو بھی انتظامی امور ہوں گے ان میں بھی وہ گائڈلائن قرآن و حدیث سے ہی لے گا۔یعنی وہ کوئی بھی ایسا نظام نہیں چلائے جو دین کے ساتھ متصادم ہو۔ اور جو آپ نے دوسری تحریر لکھی ہے اس کے حوالے سے کوشش کرونگا کہ آج ہی لکھ سکوں۔ ان شاءاللہ |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (18-07-10) |
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() |
عاصم مٹھو ، سلام
آپ کے جواب کا شکریہ۔ آپ نے وضاحت کی کہ اللہ تعالی کے اور اس کے رسول صلعم کے حکم کی اطاعت اور پھر جو لوگ "اسلامی طور پر" صاحب اختیار ہوں ان کی اطاعت کی جائے۔ یہاںمیں ایک وضاحت چاہتا ہوں۔ اللہ تعالی نے اور اس کے رسول نے جو احکامات دئے ہیں ۔ وہ سب مسلمان جانتے ہیں۔ کیا ان احکامات اور اصولوں کے بعد بھی کسی قسم کے اصول آپس میں بنانے کی ضرورت ہے؟ کیا اگر آپ میں اور سب آپس میں کوئی اصول طے کرتے ہیں جو کہ ہم سب کے خیال کے مطابق اللہ تعالی کے قانون کے تحت ہے کیا ہم اس کو صرف انسانی قانون کہیں گے یا پھر ہم اس کو ایک قابل قبول قانون ، اصول یا معاہدہ مانیں گے؟ میںبنیادی طور پر یہ طے کرنا چاہتا ہوںکہ اللہ کا قانون کیا ہوتا ہے اور انسانوں کا قانون کیا ہوتا ہے؟ آسانی کے لئے کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی قانون اللہ تعالی کے قانون کے خلاف نہیں ہے تو وہ قابل قبول ہے؟ فی الحال آپ خلیفہ کو قانون سے الگ رکھئے۔ ایک مسلم ریاست میں خلیفہ ہی نہیں ہر ایک اللہ تعالی کے قانون کا پابند ہے۔ اس لئے ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ قانون کی کونسی قسم ہے جو اللہ کا قانون نہیں کہلائے گی؟ شکریہ۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 18-07-10 at 12:27 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10) |
|
|
#22 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,900
کمائي: 73,050
شکریہ: 26,776
3,500 مراسلہ میں 11,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مٹھو بھائی آپ کے مراسلہ نمبر 19 سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ کوئی خلیفہ، صدر، وزیر اعظم یا امیر اگر اللہ اور اس کے رسول کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو عوام اپنی بعت یعنی ووٹ کسی مناسب خلیفہ، صدر، وزیر اعظم یا امیر کے انتخاب کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔ اور موجودہ خلیفہ کا ووٹ کے ذریعے قلع قمع کر سکتی ہے- ملوکیت میں ملک اور بادشاہ ایک ہی چیز ہیں جبکہ خلافت یعنی جمہوریت میں خلیفہ اور مملکت علیحدہ علیحدہ ہوتی ہیں۔ اگر میں جمہوریت کی بات کر رہا ہوں تو پاکستانی جمہوریت:::فرعونیت کی بات نہیں کر رہا بلکہ حقیقی جمہوریت:::: خلافت کی بات کر رہا ہوں جس میں ملک کا صدر یا امیر یا خلیفہ اگر خطبہ دے رہا ہو تو عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ پوچھ سکے کہ آپ کا قد لمبا ہے اور یہ اتنا سارا کپڑا آپ کے جسم پر کہاں سے آیا؟
کیا یہ امیر یا خلیفہ اس وقت شرک کر رہا ہوتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ دریائے نیل کے کنارے اگر ایک کتا پیاس سے مر جائے تو یہ میری ذمہ داری ہے- یہ ہوتا ہے عوام کا اعتماد ایک مملکت کے صدر پر اور اس میں کسی قسم کا شرک نہیں ہے بلکہ یہ اس ملک کے خلیفہ کی ذمہ داری ہے۔ افسوس صد افسوس ہمارے اس طرز عمل کو یورپ خاص طور پر شمالی یورپ نے بھر پور انداز سے اپنایا اس کا نام خلافت سے بدل کر جمہوریت رکھ دیا تو ہم پریشان ہو گئے کہ کس قدر مشرکانہ نظام ہے کہ انسان کا بروسہ اللہ تعالٰٰی کی ذات سے ہٹ کر انسانوں پر ہو گیا- کیسا بے ہودہ نظام ہے کہ ایک صفائی کرنے والے کا بچہ اور ایک ڈاکٹر کا بچہ ساتھ ساتھ پڑھ رہے ہیں- کیا عجیب کام کیا ان مملکتوں نے کہ عورتیں بیوہ تو ہو جاتی ہیں لیکن انھیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیئے گھر گھر جا کر برتن نہیں مانجھنے پڑتے، اس بیوہ کے بچے بھی اسی اسکول میں پڑھتے ہیں جس اسکول میں ایک سرجن کے بچے۔ اور وہ بھی پورے اعتماد کے ساتھ- اس بیوہ کو مہینہ گزارنے کا معقول معاوضہ دیا جاتا ہے- اسے زکوٰۃ کوسی فرد واحد سے مانگ کر شرمندگی اٹھانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسی لئیے انتہائی کم آبادی ہونے کے باوجود یہ ممالک دنیا میں زبردست ترقی کر رہے ہیں- اگر حکومت عوام کی فلاح اور بہبود کی ذمہ داری لیتی ہے تو اس میں کوئی شرک نہیں- بلکل ایسے ہی جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کی اگر دریائے نیل کے کنارے کوئی کتا پیاس سے مر جاتا ہے تو یہ عمر کی ذمہ داری ہے- یہ ہے جمہوریت اور یہی ہے خلافت-
__________________
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے توکون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیئے اٰل عمران 160 |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#23 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اور دوسرا خلافت اور جہوریت میں فرق آپ کو نظر تب ہی آئے گا جب آپ یہ پوری تحریر پڑھ نہیں لیتے۔ خلافت اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے اور جمہوریت کفار یہود اور نصاریٰ کابنایا ہوا نظام باطل ہے آپ کس دلیل سے اس کو خلافت کے ساتھ تشبھہ دے رہے ہیں؟ یہ موجودہ حکمران اسی جمہوریت کی ہی دین ہیں، یہ ایک ایسا شیطانی نظام ہے جو اکثریت کو آگے لاتا ہے اور ہمارے پیارے نبی علیہ السلام کو اللہ نے منع کیا کہ وہ اکثریت کی بات کو مانیں۔اللہ کا ارشاد ہے کہ وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ١١٦ اگر تم لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلوگے جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض ظن کی پیروی کرتے ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ ۶: الانعام ۔آیت۱۱۶ دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے کہ بَلْ جَاۗءَهُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ 70وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ 71ۭ بلکہ آیا ہے وہ(رسولﷺ)ان کے پاس حق لے کر اوران کی اکثریت ’’حق‘‘ کو ناپسند کرتی ہے۔اور اگر پیروی کرنے لگے’’ حق‘‘ ان کی خواہشات ِ نفس کی توفساد برپا ہو جائے آسمانوں میں اور زمین میں اور ان میں جو ان کے درمیان ہیں، بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس انہی کا ذکر اور وہ اپنے ہی ذکر سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ۲۳: المؤمنون۔آیات نمبر ۷۰،۷۱ اور جبکہ یہ جمہوریت اسی اکثریت کو ہی آگے لاتی ہے اور حکومت اس کے ہاتھ میں تھما دیتی ہے۔ عامر بھائی آپ سے گذارش ہے کہ آپ یہ مضمون تفصیل سے پڑھیں اور پھر اس پر اپنی رائے دیں، جیسا کہ فاروق سرور بھائی کر رہے ہیں۔ جزاک اللہ Last edited by محمد عاصم; 18-07-10 at 01:44 PM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10) |
|
|
#24 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), حیدر (26-07-10) |
|
|
#25 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,668
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ سے ایک سوال ہے ۔ آپ کے خیال میں خلفائے راشدین کیا تھے ، مولوی یا کچھ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا تفصیل سے جواب دیے گا ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (18-07-10) |
|
|
#26 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
جمہوریت اگر کوئی اسلامی نظام ہوتا تو صحابہ کرام خلیفہ منتخب کرنے کے لیے ہر صورت اس پر عمل کرتے۔ خلفاء کا انتخاب ہمیشہ اہل مدینہ نے کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت اسلامی حکومت بیس بائیس لاکھ مربع میل سے زائد کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی لیکن نیا خلیفہ چننے کے لیے مدینہ کے اہل حل و عقد کا فیصلہ حتمی قرار پایا تھا۔ اگر جمہورت کا باطل نظام اللہ کے دین میں سے ہوتا تو معزز اور بلند مرتبہ صحابہ کرام عثمان ذو النورین، علی بن ابی طالب، زبیر بن العوام، عبد الرحمٰن بن عوف وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین بطور امیدوار کھڑے ہوتے، اپنے حامیوںکو متحرک کرتے، ہر قبیلے میں ان کے وفد جا جا کر لوگوںکو اپنے حق میںقائل کرنے کی کوشش کرتے، پھر کسی غیر جانبدار ذریعے سے ایک ایک شخص کی رائے نوٹ کر کے جیتنے والے امیدوار کو خلیفہ بنا دیا جاتا۔ لیکن واقعتا جو کچھ ہوا وہ سب کے علم میں ہے۔ اصل میں کچھ لوگوں کے نزدیک اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ دور حاضر کی جو چیز بھی انہیں پسند لگتی ہو اسے اسلام کی تعلیم ثابت کر کے دکھا دیں چاہے اس کے لیے کتنی ہی دور از کاز تاویلات سے کام کیوں نہ لینا پڑے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اگر انہیں اسلام کی کوئی بات پسند نہیںآتی تو وہ اسے عین اسلام ثابت کرنے کی بجائے کھلے عام کہتے کہ تہذیب نو کی فلاںچیز ہمیں ڈیڑھ ہزار برس پرانی باتوں سے بہتر لگتی ہے لیکن اس کے لیے اخلاقی جرات اور ذہنی غلامی سے نجات درکار ہے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (18-07-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), سحر (18-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10) |
|
|
#27 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بھائی اس بات سے پہلے میں نے ۲ آیات بھی نوٹ کی تھیں اور انہی آیات کے حوالے سے آگے والی بات کی جو آپ نے اقتباس میں دی۔ بھائی حکومت میں عوام کا اختیار تو کیا خلیفہ کا بھی کوئی اختیار نہیں ہوتا خلیفہ نے بس عوام کی سیاست و امارت کرنی ہوتی ہے ان کو باہم متحد رکھنا ہوتا ہے اور اللہ کا دیا ہوا قانون قائم کرنا ہوتا ہے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور اس کے خلاف چلتا ہے تو اس کو ۵ سال کی مہلت نہیں دی جاتی بلکہ عوام ہی اس کا محاسبہ کر لیتی ہے عوام کا کردار بہت ہے حکومت میں مگر یہ موجودہ نظام جمہوریت اسلام کے نظام خلافت کے خلاف بنایا گیا نظام ہے جوکہ کسی بھی مسلم کو قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے اور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں کوئی مولوی نہیں ہوں بلکہ ایک عام مسلم ہوں۔ آپ سے اور سب مسلمان بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اللہ کے نازل کردہ نطام کو سمجھیں اور جمہوریت کی جہالت کو بھی سمجھیں۔ جزاک اللہ |
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), فاروق سرورخان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), سحر (18-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (18-07-10), عبداللہ حیدر (18-07-10) |
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,900
کمائي: 73,050
شکریہ: 26,776
3,500 مراسلہ میں 11,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عاصم بھائی آپکے خیالات کی اور دین اسلام سے محبت کی میں قدر کرتا ہوں- میرے لئے یہ عنوان ذرا نیا ہے۔ مان لیتے ہیں کہ خلافت اور جمہوریت علیحدہ علیحدہ نظام ہیں
1- کیا آپ اسکی تفصیل بتا سکتے ہیں کہ چند دھائیوں کے بعد ہی خلافت نا کام کیوں ہو گئی اور جس طرح کی خلافت آپ چاہ رہے ہیں وہ اب تک بحال کیوں نا ہو سکی؟ 2- پاکستان کی موجودہ صورت حال میں کون خلیفہ بننے کا اھل ہے؟ 3- کون مقرر کرے گا؟ 4- کچھ نام ہیں ایسے آپ کے پاس؟ مجھے ان ناموں پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا-انشا اللہ تعا لٰی |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), منتظمین (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10) |
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() |
یہ ایک جھوٹی سی خبر آج کے اخبار ایکپریس میں چھپی ہے اور اس طرح کی بےشمار خبریں آپ اخبارات میں آئے روز پڑھتے ہوں گے۔
یہ کفار آخر کس لیے جمہوریت کے لیے اتنے پریشان رہتے ہیں؟؟؟ میں نے بش کا یہ بیان بھی پڑھا ہوا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ہم جمہوریت کو پوری دنیا میں قائم کر کے رہیں گے، امریکہ نے سعودیہ پر بھی دباؤ ڈال دیا ہوا ہے کہ وہ بھی جمہوریت کو نافذ کریں وہاں پچھلے چند سال پہلے بلدیاتی انتحابات کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔ جمہوریت اصل میں ان کفار کا نظامِ حیات ہے جو کہ ان لوگوں نے خلافت کے مقابلے پر بنایاہوا ہے اور جس طرح مسلم پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کو باقی باطل ادیان پر غالب کریں اسی طرح کفار بھی اپنے خودساختہ نظام کو پوری دنیا پر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو پیار اور لالچ سے مان جائے تو ٹھیک ورنہ اس کا انجام عراق اور افغانستان کی طرح کر دیا جاتا ہے آپ کو پتا ہی ہوگا کہ نہ تو افغانستان میں جمہوریت کا نظام تھا اور نہ ہی عراق میں، لیکن اب کفار نے ان دونوں اسلامی ممالک میں بھی اپنا گندہ ترین نظام جمہوریت کو قائم کردیا ہوا ہے۔ افغانستان میں جیسا تیسا بھی نظام تھا اس سے صرفِ نظر طالبان نے اس کو خلافت کا ہی نام دیا ہوا تھا اور امریکہ اور اسلام کے ابدی دشمن یہود ایسا قطناً نہیں چاہیں گے کہ وہ خلافت کو دوبارہ قائم ہونے دیں کہ جس کو ان کفار کے اباؤ اجداد نے اتنی محنت سے ختم کیا تھا پہلی جنگِ عظیم میں۔ عراق کی ایک اسلامی تنظیم نے پچھلے سال یہ علان کیا تھا کہ ہم عراق میں اسلامی خلافت کو قائم کر کے رہیں گے اس پر امریکہ نے کہا تھا کہ ہم ایسی ہر کوشش کو کچل دیں گے جو دنیا میں دوبارہ خلافت کے قیام کی کوشش ہو۔ اب بھی آپ لوگ اس باطل نظام کا دفاع کریں تو میں آپ کو کیا کہہ سکتا ہوں، آپ لوگ اپنی سی کوشش کر لیں مگر ہم کو اللہ کی مدد اور اس کی نصرت پر یقین ہے جو مومنین کا ہر میدان میں مددگار ہے۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), سحر (18-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (18-07-10) |
|
|
#30 |
|
Senior Member
![]() |
عامر بھائی آپ کے سوالات کا جواب آج رات کو لکھ کر تفصیل سے دونگا اور کل اس کو پوسٹ کردونگا۔ ان شاءاللہ
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), حیدر (26-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, گئی, پاکستان, چین, مکمل, ملک, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, بے, ثبوت, حیات, دوست, دنیا, راستہ, سیاست, طور, عوام, عذاب, غیراللہ, صاف, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایس ایم ایس کو قانونی حثیت دینے کا فیصلہ | جاویداسد | خبریں | 1 | 26-07-10 09:01 PM |
| عدالت کی فیس بک کو مانیٹر کرنے کی ہدایت | جاویداسد | خبریں | 1 | 16-06-10 11:32 PM |
| ڈی ایس ایل کی شکایت کا خاص الخاص نمبر | شازل | عمومی بحث | 8 | 20-05-09 09:12 PM |
| شہدادکوٹ :راکٹ حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق | ابن جلال | خبریں | 1 | 23-09-08 04:26 AM |