| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), نورالدین (19-07-10), محمدمبشرعلی (19-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (26-07-10), رفیع انجم (20-07-10), سحر (17-07-10), عبداللہ ناصر (22-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10) |
|
|
#181 |
|
Senior Member
![]() |
پھر سے پڑھئے۔ کوئی معاہدہ موجود نہیں۔ اصولون پر بات ہورہی ہے۔ وہ بھی قرآں و سنت کے اصول۔ آپ نے اپنے خیال کا اظہار کردیا اور قرآن و سنت کو وعدے پر رکھ دیا۔
یہ چھوٹی سی مثال سود اور تقسیط کا فرق سمجھاتی ہے۔ اب آپ کے قرآن و سنت کے حوالوں کا انٹظار ہے۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (30-07-10) |
|
|
#182 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آج بھی آ پ میں سے کسی تارک قرآن میں ہمت نہیں کہ صاف صاف کہہ سکے کہ اس کا ایمان ان کتب روایات پر ہے۔ پھر پوچھتا ہوں۔ کیا ان کتب روایات پر ایمان ہے؟ ہاںیا نا؟ جب تک ان کتب پر ایما ن نہ ہو، ان کتب سے خلاف قران مثالیں فراہم کرنے سے گریز فرمائیے۔
|
|
|
|
|
|
|
#183 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
پہلی بات:::::::::::::
یہ اس تھریڈ کا موضوع ہی نہیں ہے جو آپ سوالات فرما رہئ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری بات:::: اگر اپ کو غیر متعلقہ جواب چاہیں تو نیا تھریڈ بنائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جواب دینے والا میںاکیلا ہی نہیںہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان شاءاللہ۔ والسلام |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد عاصم (31-07-10) |
|
|
#184 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
میں آپ کی عزت صرف اس لیے کرتا ہوں کہ آپ مجھ سے بڑے ہیں۔ تارکِ قرآن ہم نہیں ہیں الحمدللہ۔ لاؤ دلیل اس پر کہ ہم قرآن کے خلاف چلتےہیں؟ اور دوسرا یہ کہ حدیث پر ہمارا ایمان ہے الحمدللہ مگر جو صحیح احادیث ہیں نہ کہ ضعیف اور موضوع روایات پر۔ اور آپ سے پھر یہ التماس کرونگا کہ آئندہ تارک قرآن نہ کہیے گا۔ کاش میرے پاس نیٹ کے لیے زیادہ وقت ہوتا تو دیکھتا کہ آپ کتنے پانی میں ہو، مگر افسوس کہ بہت کم وقت ہوتا ہے میرے پاس میں شاپ منیجر ہوں، اور ڈیوٹی ٹائم ۱۱ گھنٹے ہے۔ چلو پھر بھی اگر آپ اس مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں تو نیا دھاگہ بنا کر اس کا لنک مجھے پی۔ایم کر دیں۔ نیچے ایک کتاب دے رہا ہوں اس مطالعہ کریں مفید رہے گا ان شاءاللہ Last edited by محمد عاصم; 31-07-10 at 07:01 PM. |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (29-09-10), عبداللہ آدم (03-08-10) |
|
|
#185 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,514
کمائي: 95,886
شکریہ: 8,877
3,846 مراسلہ میں 12,777 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#186 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
![]() جب قرآن حکیم کو "خلاف قرآن داستانوں " سے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس وقت خیال نہیں آتا کیا اس عظیم کتاب کو ترک کردیا ہے؟ ہر وہ شخص جو "خلاف قرآن روایات " قرآن حکیم کی آیات کو مشکوک ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ محض"تارک قرآن " ہے بھائی کون کتنے پانی میں ہے یہ رہنے دیجئے۔ میںایک معمولی قسم کا قرآن حکیم کا طالب علم ٹھیرا۔ اور آپ کتب روایات کے عظیم عالم۔ قسم کھا کر کہہ دیجئے کہ ایک بار قرآن کا مکمل ترجمہ سوچ سوچ کر غور کرکے پڑھا ہے؟ اگر نہیں تو پھر "ترک قرآن " کسے کہتے ہیں؟ اب تک تو اس بات کا جواب ہی نہیںملا کہ ایمان کن کن کتب روایات پر ہے دعوے کی کوئی بنیا د تو ہو؟ جب ان کتب میں آپ خود ہی صحیحاور غلط کے قائیل ہیں تو پھر مجھ سے جھگڑا کیوں۔۔ آج تک یہ ہی طے نہیں ہوسکا کہ اصل ضعیف روایات کونسی ہیں۔ ("غلط "جان بوجھ کر لکھا ہے۔ تاکہ "ضعیف" کے پردے پیچھے نہ چھپ سکیں) صرف اس لئے کہ اپنی بات میں وزن پیدا کرسکیں؟ وہ بھی کردار کشی کرکے؟ یارو، تھوڑے سے عقل کے ناخن لو، یہ کیا کہ جو روایت آپ کے موقف کو کمزور کرتی ہے وہ فوراً ضعیف بنادی؟ اور جو آپ کے موقف کو مظبوط کرتی ہے وہ فوراں صحیح۔۔ کیا وجہ ہے کہ ضعیف روایات کو بھی آج تک ان کتب کی زینت بنا کر رکھ رکھا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ خلاف قرآن روایات پر بھی بدرجہ اتم ایمان ہے؟ کچھ تو ہے جس کی یہ پردہ داری ہے؟ کیا اس کچھ کو ہم "ترک قرآن" کہہ سکتے ہیں؟ اگر نہں تو کوئی اچھا سا باعزت نام تجویز کردیجئے۔ |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (01-08-10) |
|
|
#187 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اب میں سوال نہین دہراتا۔۔۔ یہ یقین کرلیتا ہوںکہ کچھ لوگوںکا ایمان کتب روایات پر ہے۔ ان کتب کی ہر "روایت" کو یہ لوگ "اللہ تعالی کی آیات " پر فوقیت دیتے ہیں۔ واپس اس موضوع کی طرف۔ |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (01-08-10) |
|
|
#188 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,101
شکریہ: 12,552
4,514 مراسلہ میں 15,387 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم محترم فاروق جناب من
سیدھی سی بات ہے ان دوست احباب کے لئے کہ جب کوئی سوال پوچھتا ھے تو اس کا جواب ہی دینا چاہئے اگر اس کا جواب نہیں تو پھر جذبات میں آ کر اپنی عقل کا الٹ استعمال کر کے سامنے والے کو فوراً "منکر فلاں فلاں" کہہ کر ماحول کو بگاڑنے کی کوشش میں جب خود پر اسی جیسا جواب ملتا ھے تو پھر گلہ کس بات کا، اس لئے اپنا فوکس موضوع پر رکھنا چاہئے نہ کہ سامنے والے کی شخصیت پر۔ سوال کوئی بھی کسی بھی مسلک، مذہب کا بشر پوچھ سکتا ھے اگر کاری کے پاس اس کا جواب ھے تو ایک سچے مسلمان کاری کی طرف اس کا جواب پیش کرنا چاہئے نہ کہ ابیوزنگ لینگوئج استعمال کر کے۔ جناب من بہت انتظار کے بعد آپ کو اس سوال کا جواب نہیں ملا جن سے کیا گیا تھا، میں ہی عزت و احترام سے کوشش کرتا ہوں شائد کچھ سمجھ میں آ جائے۔ جناب من آپ خود ہی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ میں ہر اس حدیث کو مانتا ہوں جو قرآن کی آیات کے ساتھ میچ کرتی ہو تو پھر دوسرں کو آپ کا یہ سوال پوچھنا "ہاں یا نہ" آپ کے پہلے قول کے متضاد/الٹ ھے۔ آپ کا سوال "ہاں یا نہ" کسی بھی طرح علمی معیار کے مطابق کسی بھی اصول پر پورا نہیں اترتا۔ اگر آپ اپنی کنورسیشن کے دوران سمجھتے ہیں کہ جو حدیث مبارکہ آپ کو پیش کی گئی ھے وہ قرآن سے مطابقت نہیں رکھتی تو آپ اس پر لکھ سکتے ہیں، قرآن کا کاری آپ کو اس پر بہتر جواب پیش کرنے کی کوشش کرے گا اگر پھر بھی آپ کا دل نہ مانے تو آپ دوبارہ مزید بہتر طریقہ کی گذارش کر سکتے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (01-08-10) |
|
|
#189 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اور میں فاروق صاحب کی تحریروں سے آپ کو یہ ثابت کر کے دے سکتا ہوں جہاں انہوں نے خود کہا ہے کہ میں ان روایات کو نہیں مانتا، تو جب وہ خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں تو اگر ہم ان کو ایسا ہی کہیں جیسا وہ خود کے بارے میں کہتے ہیں تو اس میں ان پر کیا الزام ہے؟؟؟؟ الزام تو انہوں نے لگایا ہے تارکِ قرآن کا جب کہ ہم نے ایسا کفریہ کلمہ نہیں بولا۔ اگر میرے جواب کی کسی کو سمجھ نہیں آئی تو دوبارہ وضاحب مانگ سکتا ہے مگر یہ الزام تو نہ لگائیں کہ جواب نہیں دیا اور جب کہ سوال بھی ہمارے ایمان کے متعلق ہو۔ |
||
|
|
|
|
|
#190 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کہ کون قرآن کو اپنی ناقص عقل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور کون صحیح معنی:::نبی علیہ السلام کی تشریح:::میں سمجھتا ہے۔ اگر قرآن کو سبھی اپنی اپنی عقل کے مطابق سمجھنے بیٹھ جائیں تو اُمتِ محمدی قیامت تک ایک جماعت نہیں بن سکتی کیونکہ ہر کسی کی عقل و سوچ مختلف ہے تو ہم قرآن کو وہی مفہوم دینے کے پابند ہیں جو اللہ کے نبی علیہ السلام کے جن پر یہ قرآن نازل ہوا جو مفہوم انہوں نے دیا ہے وہی ہم نے لینا ہے نہ آج کے کسی جاہل انسان کا پیش کردہ قرآنی مفہوم۔ فاروق صاحب کل رات میں نے آپ کی سہیل بھائی سے ہوئی بحث کا بھی کچھ حصہ مطالعہ کیا ہے آپ وہاں بھی دلائل سے خالی نظر آ رہے ہیں ہاں عقل کے گھوڑے آپ نے بہت دوڑائے مگر بےکار۔ |
|
|
|
|
|
|
#191 |
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمان الرحیم
إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَابِ اللّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلاً وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ 5:44 ہم نے تورات نازل کی کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے اس پر پیغمبر جو الله کے فرمانبردار تھے یہود کو حکم کرتے تھے اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے سوتم لوگو ں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑا مول مت لو اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کر لے جو الله نے اتارا تو وہی لوگ کافر ہیں وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنْزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ 5:45 اور ہم نے ان پراس کتاب میں لکھا تھا کہ جان بدلے جان کے اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور زخموں کا بدلہ ان کے برابر ہے پھر جس نے معاف کر دیا تو وہ گناہ سے پاک ہو گیا اور جو کوئی اس کے موافق حکم نہ کرے جو الله نے اتارا سو وہی لوگ ظالم ہیں وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِيهِ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ 5:47 اور چاہیئے کہ انجیل والے اس کے موافق حکم کریں جو الله نےاس میں اتارا ہے اور جو چیز الله نے اتاری ہے جو شخص اس کے موافق حکم نہ کرے سو وہی لوگ نافرمان ہیں وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَآ آتَاكُم فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ 5:48 ہم نے تجھ پر سچی کتاب اتاری جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کے مضامین پر نگہبانی کرنے والی ہے سو تو ان میں اس کے موافق حکم کر جو الله نے اتارا ہے اور جو حق تیرے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور واضح راہ مقرر کر دی ہے اور اگر الله چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا لیکن وہ تمہیں اپنے دیے ہوئے حکموں میں آزمانا چاہتا ہے لہذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو تو سب کو الله کے پاس پہنچنا ہے پھر تمہیں جتائے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے رب کی دھرتی رب کا نظام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (01-08-10), محمد عاصم (01-08-10) |
|
|
#192 |
|
Senior Member
![]() |
1۔ پچھلی کتب میں اور بعد کی کتب روایات میں بہت فرق ہے۔
2۔ کتب روایات اور حدیث نبوی میں بھی بہت فرق ہے۔ کتب روایات میں احادیث نبوی تو موجود ہیںلیکن ان کتابوں کے سارے کے سارے متن پر ایمان نہیں رکھا جاسکتا۔ میں جب بھی روایات کے خلاف دلیل دیتا ہوں ، قران حکیم کی آیات سے دیتا ہوں۔ قرآن حکیم میرا فہم نہیں۔ قرآن حکیم بہت ہی صاف صاف الفاظہیں۔ البتہ "تارک القرآن " حضرات، کی سمجھ میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی۔ نہ میں نے اس مقدس کتاب کو لکھا ہے اور نہ ہی اس کے تراجم کو۔ تو پھر ایسا کرنے پر "تارک قرآن" حضرات کی طرف سے منکر الحدیث کا نعرہ نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ بجائے اس کہ کہ اس کتاب کی آیات پر غور کریں اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کرنے کے لئے ، اس کتاب کو لکھنے والے کا فہم قرار دیتے ہیں۔ گویا اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں ؟ بھائی کنعان، آپ کے کمنٹس کا شکریہ، کتب روایات کی کسی بھی روایت کو جونہی قرآن کی آیت سے نامناسب ثابت کیا جائے تو اپنے روایات کے اثاثہ کی حفاظت کرنے کے لئے یہ "تارک قرآن " فوراً "منکر الحدیث " کا نعرہ بلند کرتےہیں۔ جن حضرات نے اس دھاگہ کو یہ رخ دیا ہے وہ پیچھے جائیں اور اپنے مراسلات کو حذف کرکے "منکر الحدیث" کے نعرے واپس لیں۔ میرا وعدہ ہے کہ میں یہ مراسلات حذف کردوںگا۔ تاکہ بحث ایک بار پھر منطقی راستہ پر چلے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#193 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,101
شکریہ: 12,552
4,514 مراسلہ میں 15,387 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
السلام علیکم جناب من میں خود اس بات کے خلاف ہوں اور یہی کہتا رہتا ہوں کہ گفتگو علمی کی جائے تو وہی مناسب ھے مگر کوئی بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں، سوال کوئی بھی بشر پوچھ سکتا ھے مگر جب جواب نہیں آتا تو پھر شارٹ کٹ میں فقہی اٹیک کرنے سے اپنے دل کو تسلی دینا کہ معرکہ آرائی کر لی ھے تو یہ غلط فہمی ہوتی ھے۔ یہ بات بھی یقینی ھے کہ کسی کو "منکر حدیث" یا اس کے علاوہ بھی کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو گے تو پھرجواب میں "تارک القرآن" یا اس جیسے الفاظ سننے کے بعد جو کیفیت آپکی ہوتی ھے وہی اس کی بھی ھے جسے آپ بھی کچھ کہہ رہے ہیں۔ اس کا بہتر حل یہی ھے کہ علمی گفتگو کی جائے، نہ کسی کو کچھ کہو نہ کوئی آپ کو کہے گا۔ والسلام |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (02-08-10), مرزا عامر (01-08-10) |
|
|
#194 |
|
Senior Member
![]() |
واپس آتے ہیں۔ اللہ تعالی کے دئے ہوئے نظام جمہوریت کی طرف جس کو عام طور پر خلافت یعنی نیابت کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔
۔۔ خلافت کی وجہ تسمیہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی یہ پوچھا جاتا تھا کہ رسول اللہ صلعم کے بعد خلیفہ یعنی ان کا نائب کون ہوگا۔ اور ان کی وفات کے عین بعد بھی یہ پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلعم نے کوئی وصیت کی ہے۔ لیکن خلافت کی وجہ تسمیہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی جانشینی نہیں ۔ لفظ "خلافت " کا استعمال قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی وجہ سے ہے جہاں اللہ تعالی نے زمین میں اپنی نیابت یعنی خلافت، یعنی عرف عام میں سیاسی اقتدار ، نیک کام کرنے سے مشروط کیا۔ خلافت کی وجہ تسمیہ اور خلافت کے لئے معیار کیا ہے؟ جب ہم اس کا جواب اللہ کے فرمان قرآن مجید میںتلاش کرتے ہیں تو زمین پر اللہ کا خلیفہ بننے کے معیار واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالی زمین کے اقتدار ، کا وعدہ فرماتے ہیں : 24:55 وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ وعدہ فرمایا ہے اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور کیے اُنہوں نے اچھے عمل کہ ضرور خلیفہ بنائے گا ان کو زمین میں جس طرح خلیفہ بنایا تھا اس نے ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے اور ضرور قائم کردے گا مضبوط بُنیادوں پر اُن کے لیے اُن کے اس دین کو جسے پسند کرلیا ہے اللہ نے ان کے لیے اور ضرور بدل دے گا ان کی حالتِ خوف کو امن سے۔ بس وہ میری عبادت کرتے رہیں اور نہ شریک بنائیں میرے ساتھ کسی کو اور جو کفر کرے گا اس کے بعد تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ ریاست کے کاروبار چلانے کے لئے قانون سازی کرنے کے لئے ایک جماعت کی تلقین۔ اجتماعی معاشرہ میں قانون ساز اداروں کا قیام۔ Establishment of Legisilative Bodies قرآن حکیم صرف انفرادی ہدایات و احکامات اور اصولوں پر ہی مبنی نہیں ہے، بلکہ پورے معاشرہ کے لئے اجتماعی احکامات کا ایک واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ جس میں قانون ساز ادارے کا قیام بھی شامل ہے۔ دیکھئے 3:104 اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں عموما اس سے مراد یہ لی جاتی رہی ہے کہ کچھ لوگ جمع ہوکر کبھی کبھار تبلیغ کرلیں یا لوگوں کو نصیحت کردی جائے۔ لیکن ایک آرگنائیزڈ یعنی منظم معاشرے میں آپ اس طرح کی Hobby Style مشغولیت سے باقاعدہ قوانین کا کام نہیں لے سکتے ۔ لہذا اس کے لئے ایک منظم ادارہ کے قیام کی ضرورت ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مومنین کے فیصلہ باہمی مشورے سے ہوتے ہیں اس بنیادی اصول کو قران ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ [AYAH]42:38[/AYAH] اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں اس مجلس شوری کے نمائندوں کے انتخاب کے لئے قرآن یہ گائیڈ لائینز فراہم کرتا ہے۔ دیکھئے [AYAH]46:19[/AYAH] اور سب کے لئے ان (نیک و بد) اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کئے درجات مقرر ہیں تاکہ (اﷲ) ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ان نمائندوں کو اس دنیا میں اور اسلامی معاشرے میں مناسب درجات پر فائز کرنے کے لیے انکے اعمال سے انکے درجات کا تعین ہوتا ہے۔اور چننے والوں کو اللہ تعالی ہدایت کرتا ہے کہ آپ اپنا اعتماد یعنی ووٹ یا بیعت ان لوگوں کے حوالے کریں جو اس کے مستحق ہیں دیکھئے [AYAH]4:58[/AYAH] بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں (الامانات Your trust) انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان (امانات) کے اہل ہیں، اور جب تم ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے اس تمام پروسیس میں وہ لوگ جو آپ سے مختلف خیالات رکھتے ہیں ان کو آپ کیسے شامل کریں؟ دیکھئے اللہ کی ہدایت کہ اپنے رسول کو نرم خوئی سے سب سے مشاورت کا حکم دیتا ہے۔ [AYAH] 3:159[/AYAH] (اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تُندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لئے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے اللہ کے نزدیک عزت کا معیار پرہیزگاری ہے، [AYAH]49:13[/AYAH] اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے عمر کی پختگی یعنی نمائندوں کی بلوغت کے معیار 40 سال، قرآن ان الفاظ میں کرتا ہے [AYAH]46:15[/AYAH] اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم فرمایا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف کے ساتھ جنا، اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانہ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور (پھر) چالیس سال (کی پختہ عمر) کو پہنچتا ہے، تو کہتا ہے: اے میرے رب: مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمایا ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے میری اولاد میں نیکی اور خیر رکھ دے۔ بیشک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں یقیناً فرمانبرداروں میں سے ہوں قرآن کریم ہم کو اللہ اور رسول کے ساتھ ان صاحب اختیار تمائندوں کے حکم کی تعمیل کا حکم دیتا ہے۔ [AYAH]4:59[/AYAH] اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے یہود و نصاری کے لئے قانون کیاہو، اللہ تعالی نے یہود کو تورات اور نصاری کو انجیل عطا فرمائی تھی، اور اس وقت اان کے فیصلے اور قوانین تورات کے مظابق تھے، اب قرآن کے آجانے کے بعد، ان آیات کی مدد سے فیصلے کئے جائیں گے۔ اس ضمن میں درج ذیل آیات دیکھئے، ان آیات کے ترجمے کو دیکھتے ہوئے، دوسرے انگریزی ترجموں پر بھی دھیان دیجئے، کیونکہ یہاں اردو گرامر میںتھوڑا فرق نظر آتا ہے۔ دیکھئے [AYAH]5:43[/AYAH] اور یہ لوگ آپ سے کیوں کہتے ہیں کہ ہمارے فیصلے کرو جبکہ ان کے پاس تورات ہے۔ جس میں اللہ کی احکام موجود ہیں، پھر یہ اس کے بعد (بھی حق سے) رُوگردانی کرتے ہیں، اور وہ لوگ (بالکل) ایمان لانے والے نہیں ہیں [AYAH]5:44[/AYAH] بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا، اس کے مطابق انبیاء جو (اﷲ کے) فرمانبردار (بندے) تھے یہودیوں کی فیصلے کرتے رہے اور اﷲ والے (یعنی ان کے اولیاء) اور علماء (بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے)، اس وجہ سے کہ وہ اﷲ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر نگہبان (و گواہ) تھے۔ پس تم (اقامتِ دین اور احکامِ الٰہی کے نفاذ کے معاملے میں) لوگوں سے مت ڈرو اور (صرف) مجھ سے ڈرا کرو اور میری آیات (یعنی احکام) کے بدلے (دنیا کی) حقیر قیمت نہ لیا کرو، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ کافر ہیں [AYAH]5:45[/AYAH] اور ہم نے اس (تورات) میں ان پر فرض کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے عوض آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے عوض کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں (بھی) بدلہ ہے، تو جو شخص اس (قصاص) کو صدقہ (یعنی معاف) کر دے تو یہ اس (کے گناہوں) کے لئے کفارہ ہوگا، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ ظالم ہیں [AYAH]5:47[/AYAH] اور اہلِ انجیل کو (بھی) اس ( موجودہ قرانی حکم) کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے جو اللہ نے اس میں نازل فرمایا ہے، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ فاسق ہیں لیکن عدل و انصاف، باہمی فیصلہ اور باہمی معاہدات پر قانون سازی پر حرف آخر، یہ کتاب۔ [AYAH]5:48[/AYAH] اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے اس مد میں [AYAH]5:49[/AYAH اور [AYAH]5:50[/AYAH] بھی دیکھیں۔ [AYAH]5:50[/AYAH] کیا یہ لوگ (زمانہ) جاہلیت کا قانون چاہتے ہیں، اور یقین رکھنے والی قوم کے لئے حکم (دینے) میں اﷲ سے بہتر کون ہو سکتا ہے قانون ساز اسمبلی، سینیٹ یا مجلس شوری کا قیام، تاریخ اسلام اور سنت رسول و صحابہ سے ثابت ہے کہ جب ووٹ یعنی استصواب رائے، بیعت کے ذریعے لیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی قریب کی نام نہاد اسلامی حکومتوں میں ایسی کسی اسمبلی، پارلیمنٹ یا شوری کے کوئی آثار کیوں نہیں ملتے؟ صاحبو، دوستو، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے قران کے اس جمہوری نظام کو ترک کردیا اور صفحوں کے صفحے ملوکیت یعنی بادشاہت پر لکھ ڈالے۔ پاکستان کا سیاسی نظام ، قرآن و سنت کے مطابق: 1۔ پاکستان کے آئین کی شق نمبر 2 دیکھئے: 2۔ ریاست کا مذہب: اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔ 3۔ اور اس سے پیشتر آئین کے ابتدائیہ میں لکھا گیا ہے ہم پاکستان کے عوام، بانیء پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کے اعلان کے عین مطابق، پاکستان ایک اسلامی اصولوں اور سماجی اناصف پر مبنی ایک جمہوری ریاست ہوگا 4۔ آئین کا آرٹکل نمبر 50 دیکھئے: ۔ 50۔ مجلس شوری ( پارلیمنٹ) مجلس شوری، پریذیڈنٹ، قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل ہوگی۔ اب دیکھئے آرٹیکل 2 ب 2۔ ب (1) قرآن کریم اور سنت رسول اکرم پاکستان کاقانون تمام قوانین پر اولیت رکھے گا یعنی سب سے بڑا قانون ہوگا۔ (1) The Holy Quran and Sunnah of the Holy Prophet (peace be upon him) shall be the supreme law of Pakistan . آج سے 1400 سال قبل جب اسلام کے سیاسی نظام جمہوریت کو اللہ تعالی نے اس دنیا میں متعارف کرایا تو اس وقت صرف اور صرف دنیا میں موروثی بادشاہت کا نظام تھا۔ ایک پادشاہ اپنے پادریوںکی مدد سے عوام کی دولت پر جم کر بیٹھ جاتا تھا۔ اور تھوڑے عرصے میں قتل سے اس کی پادشاہت کا خاتمہ ہوجاتا تھا۔اللہ تعالی نے اپنے بہت ہی بزرگ رسول اکرم صلعم کے ذریعے ایک ایسا نظام متعارف کرایا جس میںعام آدمی کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنا نمائندہ چنے اور اس کو حکومت اور اقتدار کا حق دے۔ یہ نظام جمہوریت ، اس وقت کے پادشاہوںکو نہیں بھایا ، اس طرحپھر بادشاہ کے بعد بیٹا موروثی طور پر بادشاہ بنا۔ وہی قتل کا سلسلہ چل پڑا۔ وہی پادری ملاء کے روپ میں نکل آیا۔ اس بار اس پادری کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹتھی تو وہ تھا " اللہ کا فرمان قرآن" ابلیس کے نمائندوں نے "اللہ کے فرمان قرآن " کا نطام جمہوریت "کتب روایات اور کتب فقہ" کے پردے میں چھپا دیا۔ اقتدار پر قبضہ رکھنے کے لئے طرحطرح کی روایات و فقہ کو جنم دیا۔ لیکن کسی پادری نے بھی اپنے پادشاہ کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان کو بھی "خلیفہ" کہہ کر پکارا۔ آج پھر وہی پادری چاہتے ہیں کہ عوام کے ہاتھ سے چناؤکا طریقہ نکل جائے۔ اور یہ پھر وہی نظام قائم کرلیں جس میں قانون بنانے والی ایک جماعت کے ہاتھ میں فیصلہ نہ ہو بلکہ فرد واحد کی حکومت ہو جو پھر ان ملاءنما پادریوںکے ہاتھوں -- پا بجولاں-- ہو۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ اس نظام میں باہمی مشاورت نہ ہو بلکہ "قرآن و حدیث " کے نام پر ان کی ذاتی خواہشات کی پیروی ہو۔ تاکہ پانچوں گھی میں ہو اور سر کڑاہی میںہو۔ روایات کی کتب کے انبار یہ لوگ اٹھا کر بیٹھے ہیں۔ اس طریقہ پر عمل سعودی عرب اور ایران میں ہورہا ہے ۔ ان ابلیسی پادریوں کی سازشوں کا تماشہ ایران عراق جنگ اور سعودی عراق جنگ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ جن ملکوںکی ابلیسی سیاسی قوتوں نے عراق کے دانت اکھاڑے۔ وہی ابلیسی قوتیں آج پاکستان پر چار طرف سے حملہ کررہی ہیں۔ ایک طرف یہی قوتیں پاکستان کی جمہوریت کی مخالف ہیں کہ ان کو خوف ہے کہ ان کے ملک کے عوام اگر اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کا کیا ہوگا۔ اس لئے یہ ابلیسی قوتیں ، "جمہوریت کو ابلیسی قرآر " دینے کا پرا پیگنڈہ کرتی ہیں اور پاکستان کے ملاءکو فنڈز فراہم کرتی ہیں ۔ دوسری طرف یہ پاکستان کی فوج میں مذہبی عناصر کو ابھارتی ہیں۔ جیسے ضیاءالحق، ۔۔۔۔ تیسری طرف یہ پاکستان کے سیاسی لیڈران کو چمکارتی ہیں جیسے نواز شریف، اور چوتھی طرف ان کا حملہ پاکستان میں "اسامہ بن لادن اور القاعدہ" کی مدد سے معاشی اور سیاسی استحکام کو تباہ کرنا ہے۔ اگر روپے کی لکیروں کو دیکھا جائے تو یہ لکیریں تہران اور ریاض جاکر ختم ہوتی ہیں۔ یہ "ابلیسی پراپیگنڈہ " اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک پاکستان کا حال عراق جیسا نہیں ہوجاتا۔ پاکستان کی تباہی اسی وقت ہی ممکن ہے جب پاکستانیوں کو یقین دلا دیا جائے کہ قرآن کا باہمی مشاورتی نظام جمہوریت عین اسلامی نہیں بلکہ "ابلیسی" ہے۔ Last edited by فاروق سرورخان; 02-08-10 at 05:59 AM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (02-08-10) |
| کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 02-08-10 | کنعان | قرآنی آیات سے نظام سمجھانے پر جزاک اللہ خیر | 10 |
|
|
#195 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
میں ان کے ناقص عقل کو قرآن و سنت سے بےکار کرونگا ان شاءاللہ انہوں نے جو قرآنی آیات کا غلط مفہوم پیش کیا ہے اور اس سے جمہوریت جو کہ یہود و نصاریٰ کا نظامِ حکومت ہے کو اسلامی بنانے کی ناپاک جسارت کی ہےاور اپنی ناقص عقل کو سچا ثابت کرنے کے لیے پوری امتِ محمدی کو غلط کہا ہے، اس پر اللہ ہی ان کی صحیح پکڑ کرے گا ان شاءاللہ اقتباس:
مسٹر فاروق کاش کہ میرے پاس زیادہ وقت ہوتا،خیر پھر بھی کل میں آپ کی باطل سوچ اور الزامات سے پرُ تحریر کا جواب پوسٹ کر دونگا۔ ان شاءاللہ |
||
|
|
|
| محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا | saimali (29-09-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, گئی, پاکستان, چین, مکمل, ملک, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, بے, ثبوت, حیات, دوست, دنیا, راستہ, سیاست, طور, عوام, عذاب, غیراللہ, صاف, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایس ایم ایس کو قانونی حثیت دینے کا فیصلہ | جاویداسد | خبریں | 1 | 26-07-10 09:01 PM |
| عدالت کی فیس بک کو مانیٹر کرنے کی ہدایت | جاویداسد | خبریں | 1 | 16-06-10 11:32 PM |
| ڈی ایس ایل کی شکایت کا خاص الخاص نمبر | شازل | عمومی بحث | 8 | 20-05-09 09:12 PM |
| شہدادکوٹ :راکٹ حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق | ابن جلال | خبریں | 1 | 23-09-08 04:26 AM |