واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


ستارون سیاروں کی چال ::: دوسرا اور آخری حصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-08-07, 01:48 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ستاروں سیاروں کی چال ::: دوسرا اور آخری حصہ

ستارون سیاروں کی چال ::: دوسرا اور آخری حصہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
سابقہ یعنی پہلے حصے میں بات یہاں رکی تھی کہ """ یہاں تک ذِکر کیے گئے ، اللہ تعالیٰ کے فرامین سے بڑی وضاحت سے پتہ چل جاتا ہے کہ ستاروں سیاروں کو بنانے کی کیا حکمتیں ہیں ، اِن میں کہیں اِشارۃً بھی اایسی کوئی بات نہیں ملتی کہ اللہ کی یہ مخلوق کِسی بھی دوسری مخلوق اور خاص طور پر اِنسان پر کِسی قِسم کو کوئی اثر رکھتا ہے یا کوئی فائدہ یا نقصان دے سکتا ہے """
اب سابقہ سے پیوستہ یہ کہ :::::
یہ بات تو تھی اِن ستاروں سیاروں کی ذات کے اثر پذیر ہونے کی اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اِن کی چال اور منزلیں جنہیں بُرج بھی کہا جاتا ہے ، اُن کے بارے میں خالق و مالک اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ، اِس بات کو سمجھنے کے لیے ابھی ابھی ذِکر کی گئی آیات میں سے حکمت ٢ اور حِکمت ٧ میں ذِکر کی گئی آیات کو بھی ذہن میں رکھیے اور مزید یہ ملاحظہ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (((((( تَبَارَکَ الَّذِی جَعَلَ فِی السَّمَآء ِ بُرُوجاً وَجَعَلَ فِیہَا سِرَاجاً وَقَمَراً مُّنِیراً ::: بزرگی ہے اللہ کی جِس نے آسمان میں بُرج بنائے اور آسمان میں چراغ (سورج) بنایا اور چمکتا ہوا چاند بنایا ))))) سورت الفُرقان / آیت٦١
اور اَرشاد فرمایا ہے (((((وَلَقَد جَعَلنَا فِی السَّمَاء ِ بُرُوجاً وَزَیَّنَّاہَا لِلنَّاظِرِینَ ::: اور یقینا ہم نے آسمان میں بُرج بنائے اور آسمان کو دیکھنے والوں کے لیے سجایا ))))) سورت الحِجر /آیت ١٦
اور فرمان پاک ہے ((((( وَالسَّمَاء ذَاتِ البُرُوجِ ::: اور قَسم ہے آسمان کی جو بُرجوں والا ہے ))))) سورت البُروج ، پہلی آیت،
اللہ تعالیٰ کے فرامین میں ''' بُروجا اور بُروج ''' کی تفسیر میں صحابہ اور تابعین کے دو قول پائے جاتے ہیں :::
::::::: (١) بُروج سے مُراد بہت بڑے ستارے ہیں جو دیگر ستاروں کی نسبت بہت واضح ہوتے ہیں ،
::::::: (٢) بُرج بلند اور کھلے محل کو کہا جاتا ہے ،
لہذا ''' بُرُوج ''' سے مُراد آسمان کی حفاظت کرنے والے فرشتوں کی رہائش گاہیں ہیں ،
لُغوی اعتبار سے کِسی بھی اونچی، صاف واضح طور پر نظر آنے والے چیز کو بُرج کہا جاتا ہے ،اِسی لیے کِسی چیز کے کھلے اظہار کو ''' التبرُّج ''' کہا جاتا ہے ، اونچی عمارتوں ، مِنار وں یا مِنار نُما عِمارتوں کو ''' بُرج '' اِسی بنیاد پر کہا جاتا ہے ، مندرجہ بالا دونوں قول اپنی اپنی جگہ درست ہیں ، جیسا کہ اللہ نے فرمایا ((((( وَلَقَد زَ یَّنَّا السَّمَآء َ الدُّنیَا بِمَصَابِیحَ وَجَعَلنَاہَا رُجُوماً لِّلشَّیَاطِینِ وَاََعتَدنَا لَہُم عَذَابَ السَّعِیرِ:::بیشک ہم نے دُنیا کے آسمان کو چراغوں (یعنی ستاروں سے ) سے سجایا اور انہیں شیطانوں کے لیے مار بنا دیا اور شیطانوں کے لیے ہم نے دوزخ کا جلانے والا عذاب تیار کر دیا ))))) سورت المُلک / آیت ٥
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب میں اور غیر عرب میں ستاروں اور اُن کی چالوں کا عِلم موجود تھا یعنی ''' عِلمِ نُجُوم''' اور ستاروں کی چال کو جاننے کے لیے اِس عِلم سے متعلق لوگوں نے کچھ بُرج تصور کر کے اُن کو نام بھی دے رکھے تھے جو آج تک اِستعمال ہو رہے ہیں ، یہ نام ، حمل ،ثور ،جوزاء ،سرطان ،اسد ،سنبلۃ ،میزان ،عقرب ، قوس ،جدی ،دلو ،حوت ہیں ،
قطع نظر اِس کے کہ بُرجوں کے یہ نام کہاں سے اور کیسے آئے ؟ کِسی بھی مُسلمان کے لیے اتنا ہی بہت کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں بُرج بنانے کا ذِکر فرمایا لیکن اُن بُرُوج (بُرجوں) کا ستاروں کی چال کے ساتھ متعلق ہونے کا کوئی ذِکر فرمایا نہ ہی بُروج ،ستاروں سیاروں ، اور اُن کی منزلوں ، کا اِنسانی زندگی یا کِسی بھی اور مخلوق پر اثر انداز ہونے کا ذِکر فرمایا نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی کوئی خبر ملتی ہے ، جی ہاں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو خبر ملتی ہے وہ اِس عقیدے اور خیال کی نفی کرتی ہے کہ ستارے سیارے بُروج ، ستاروں کی چالیں یہ سب کِسی بھی اور پر کوئی اثر رکھتی ہیں یا کوئی نفع و نقصان پہنچاسکتی ہیں ، یا اِنسانی شخصیات ، اُن کا مِزاج ، اُن کی صلاحیات اِن بُروج کے مُطابق ہوتی ہیں، یہ سب خیالات شیطان کی وحی ہیں جو وہ اپنے دوستوں کی طرف کی اور اُس وقت سے اب تک اُس کے پیروکار جِن اور انسان ، اِن خیالات کو پھیلائے جا رہے ہیں اور لوگوں کا اِیمان لوٹ رہے ہیں ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے عرب میں اور غیر عرب میں ستاروں اور اُن کی چالوں کا عِلم موجود تھا یعنی ''' عِلمِ نجوم''' اور لوگ اِسے تین طرح سے استعمال کرتے تھے :::
::::::: (١) تاریخ کا حساب رکھنے کے لیے::: اللہ تعالیٰ کے وہ فرامین جِن کا ذِکر اِس مضمون کے آغازمیںکِیا گیا ہے ، کے مُطابق یہ کام تو یقینا جائز بلکہ مطلوب ہے ،
::::::: (٢) موسم کا اندازہ کرنے کے لیے ، اور اِن میں سے کچھ ایسے تھے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ موسم میں تغیرات یہ ستارے خود کرتے ہیں ،،،،، جبکہ یہ عقیدہ یا خیال سراسر شرک ہے ، ،،،، اور کچھ یہ سمجھتے تھے کہ ستارے خود نہیں کرتے بلکہ اِن کی چالوں اور مختلف بُرجوں میں پہنچنے کی وجہ سے آسمان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو موسم کو بدل دیتی ہیں ، اور اِس سوچ کے پیش نظر وہ ستاروں سیاروں کی چالوں کا حِساب رکھتے تھے ، گو کہ یہ بات کوئی یقینی نہیں لیکن چونکہ یہ شرکیہ سوچ نہیں اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مُخالفت میں داخل ہوئے بغیر اِنسانوں کے فائدے والا کوئی اندازہ قائم ہو سکتا ہے ، لہذا اِس میں کوئی حرج نہیں ،
::::::: (٣) شیطان کی وحی پر عمل کرتے ہوئے اِن ستاروں سیاروں اُن کی چالوں اور بُرجوں کے حساب اور زائچے بنا بنا کر آنے والے وقت کی خبریں بناتے اور لوگوں کو وہ سب باطل عقائد سِکھاتے جِن کا پچھلے پیرا گراف میں ذِکر کیا گیا ہے ، اور جب اُن کی خبریں سچی نہ ہوتِیں تو کہتے ہم تو اندازہ کرتے ہیں جو کبھی نادرست بھی ہو ہی جاتا ہے ، اورآج کے مسلمانوں میں بھی ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں ''' عِلم نجوم ، ستاروں کی چال کا عِلم ہے ہم اندازہ کرتے ہیں اگر کبھی وہ غلط ہو جائے تو جیسے اللہ کا حُکم ''' کوئی اِن سے پوچھے تو ''' جب اللہ کے حُکم سے ہی ہونا ہے جو ہونا ہے تو پھر اِن کاموں میں کیوں سر کھپاتے ہو جو اللہ کے حُکم کے خِلاف ہیں ؟''' ،
اُن پہلے ''' عِلم نُجوم ''' والوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو ستاروں سیاروں کو اتنا زیادہ طاقتور اور بارسوخ مانتے تھے اور اپنے اِرد گِرد والوں کو بھی یہ ہی سِکھاتے تھے یہاں تک کہ واضح طور پر اُنکی بدنی عِبادت کرتے تھے ، جِیسا کہ اِبراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں اور ملکہ سبا کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے ، اور آج کے مسلمانوں میں بھی ایسے پائے جاتے ہیں جو اُن کے خیال کے مُطابق ستاروں کی خاص چالوں اور بُرجوں کی خاص حرکات یا بُرجوں کے خاص اوقات میں خاص عمل ادا کرتے ہیں اور نام صدقہ و خیرات کا دیتے ہیں ، اِنا لِلِّہِ و اِنَّا اِلیہِ راجِعُون،
اللہ تبارک و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حُدُود میں رہتے ہوئے حاصل کیا جانے والا عِلم ''' رحمانی عُلوم ''' میں شُمار ہوتا ہے ، اور اُن حدود میں رہتے ہوئے اُس پر عمل اللہ کے ہاں مُقبُول ہوتا ہے ، اِن شاء اللہ ،
اللہ سبحانہُ و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حُدُود سے باہر ہو کر حاصل کیا جانا والا عِلم ''' شیطانی عُلوم ''' میں سے ہوتا ہے اور اُس پر عمل اللہ کی ناراضگی اور عذاب کا سبب ہوتا ہے ،
اب تک جو آیات بیان کی گئی وہ سب اِس بات کی واضح دلیل ہیں کہ وہ ''' عِلمِ نُجوم ''' جو ''' ستاروں سیاروں کی چال ''' ''' بُرجوں ''' اور ''' منزلوں ''' وغیرہ کو بُنیاد بنا کر اللہ کی اِن مخلوقات کو وہ کُچھ بنا کر پیش کرتا ہے جو وہ نہیں ہیں اور اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے اُن کو اللہ کا شریک بناتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ اِس کلام کا کُفر یعنی اِنکار کرواتا ہے ، عقیدہ بھی اللہ کے قُران کا اِنکار ، اور عملی طور پر بھی اللہ کے قُران کا اِنکار ، یہ بات میری ذاتی سوچ یا سمجھ کی بنا پر نہیں کہی جا رہی بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فتویٰ ہے ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((((( مَن اَتَی عَرَّافاً اَو کَاہِناً فَصَدَّقَہ ُ فِیمَا یَقُولُ فَقَد کَفَرَ بِمَا اُنزلَِ عَلیَ مُحمَدٍ ::: جو کِسی (غیب کی خبر بتانے ) کے دعویٰ دار یا نجومی کے پاس گیا ، اور اُس کی کہی ہوئی بات کو دُرُست مانا ، تو اُس دُرُست ماننے والے نے جو کچھ مُحمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل کِیا گیا اُس کا کفر کیا ))))) المستدرک الحاکم / حدیث ١٥ ، اِمام الحاکم ، اور اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ، صحیح الترغیب و الترھیب ۳۰۴۷
رسول اللہ فرمایا ہے ((((( لَیسَ مِنَا مَن سَحرَ ( اَو سُحِرَ لَہ ُ) اَو تَکہَّنَ اَو تُکھِّنَ لَہ ُ اَو تَطیَرَ اَو تُطِیِرَ لَہ ُ ::: جِس نے جادُو کِیا (یا جِس کے لیے جادُو کِیا گیا ) یا جِس نے (کِسی بھی ذریعے سے ) غیب جاننے کی کوشش کی یا جِس کے لیے یہ کوشش کی گئی ، یا جِس نے (کِسی بھی ذریعے سے ) شگون لیا یا جِس کے لیے شگون لیا گیا ، وہ ( اِن سب کاموں سے کوئی بھی کام کرنے والا ) ہم میں سے نہیں )))))[/COLOR] سلسلہ الصحیحۃ / حدیث ٢٦٥٠ ،
اِس حدیث کی شرح میری زیرِ تیاری کتاب ''' وہ ہم میں سے نہیں ''' میں مل سکتی ہے ، وہاں کاہن ، عرّاف ، طیرہ وغیرہ کی تعریف اور فرق بیان کیا گیا ہے ،
مزید وضاحت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اِس روایت میں ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
((((( مَن اَقتَبَسَ عِلمَاً مِن النُّجُومِ اَقتَبَسَ شُعبَۃً مِن السَّحرِ ز َادَ مَا ز َادَ ::: جِس نے عِلمِ نُجُوم میں سے کوئی حصہ لیا ( سیکھا یا سوال کر کے کچھ جانا ) تو اُس نے جادُو کا حصہ لیا اور جتنا (علمِ نُجُوم میں سے) زیادہ کرے گا اُتنا ہی ( جادُو کے کُفرکا گناہ اُس پر ) زیادہ ہو گا ))))) سنن ابن ماجہ / حدیث ٣٩٠٥ / کتاب الطب /باب ٢٢ باب فی النجوم ، سنن البیہیقی الکُبریٰ ، حدیث ١٦٢٨٥ / کتاب القسامہ / باب ٢١ ما جا فی کراہیۃ اقتباس علم النجوم ، اِمام الالبانی نے حدیث کو صحیح قرار دِیا ، الصحیحہ ٧٩٣،
اِس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل وضاحت سے ''' عِلمِ نُجُوم ''' کو جادُو قرار دِیا ہے ، اور جادُو کو اللہ تعالیٰ نے کُفر قرار دِیا ہے ، اِس روایت کے عِلاوہ دو اور روایات بھی ''' المشکاۃ المصابیح / کتاب الطب و الرقی / باب ٢الکہانہ ''' میں ہیں جو اِس مندرجہ بالا روایت سے کہیں زیادہ الفاظ والی ہیں ، لیکن فی الحال مجھے اُن کی صحت کا پتہ نہیں لگ سکا اِس لیے اُنہیں ذِکر نہیں کر رہا ہوں ،
اُن میں سے ایک روایت کو اِمام شمس الدین محمد الذہبی نے اِسی مندرجہ بالا حدیث کو نقل کرنے کے بعد امیر المومنین علی رضی اللہ عنہُ کے الفاظ کے طور پر نقل کرتے ہوئے لکھا کہ """ علی(رضی اللہ عنہُ ) بن ابی طالب نے فرمایا ::: کاہن (نجومی ، دست شناس ،زائچے بنانے والا ، فال نکالنے والا وغیرہ ) جادُو گر ہے ، اور جادُ گر کافر ہے """ [/COLOR]الکبائر/ الکبیرۃ ٤٦ ،
اللہ تعالیٰ کے فرامین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن ارشادات سے صاف طور پر یہ طے پاتا ہے کہ جائز ''' عِلمِ نُجُوم ''' تاریخ کا حِساب رکھنے اور سالوں کی گنتی کرنے تک محدود ہے ، اِس کے عِلاوہ جو کچھ بھی ''' عِلمِ نُجُوم ''' یا ''' مخفی عُلوم ''' کے طور پر کِسی بھی ڈھنگ میں جو کچھ سیکھا سیکھایا ، پڑھا پڑھایا ، کِیا کروایا جاتا ہے سب کچھ ''' جادُو ''' کے زُمرے میں آتا ہے ، اور '''جادُو''' حرام ہے ، اور جادُو گر کافر ہے جِسے قتل کرنے کا حُکم دِیا گیا ہے ،
خاص طور پر ابھی ذِکر کی گئی دو احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہانت ( علمِ نُجوم ، ہاتھ دیکھنے دِکھانے ، قیافہ شناسی اور اِس جیسے دیگر عُلوم) کو اور شُگون لینے کو جادُو قرار دِیا ہے جادُو کی تفصیل '''جادُو ، جادُو گر ، اِن کی پہچان ، اِقسام ، اُن کاشرعی حُکم ، عِلاج ''' مضمون میں زیرِ تیاری ہے، اِن شاء اللہ تکمیل کے بعد کسی وقت اِسکو قسط وار ارسال کروں گا ،
اِس کے عِلاوہ معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہُ کی ایک حدیث جِس میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا ذِکر فرماتے ہیں ، بہت ہی فائدوں اور احکامات والی حدیث ہے ، اُس میں بھی شگون ، زائچے ، کہانت وغیرہ کے بارے میں بھی بڑی وضاحت ہے ، طوالت کے ڈر سے اُسے یہاں نقل نہیں کر رہا ہوں ، وہ حدیث اور اس کے کچھ شرح """ یہاں """ ارسال کی جاچکی ہے ،
گو کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے بعد کِسی بھی مسلمان کو کِسی اور دلیل یا حُجت کی حاجت نہیں ہوتی ، لیکن کُچھ دِلوں اور دماغوں پر منطق کا رنگ زیادہ چڑھا ہوتا ہے ایسے لوگوں کے لیے صرف اتنا ہی عرض کرتا ہوں کہ اپنے اِرد گِرد پھیلے ہوئے اَن گِنت ایسے نجومیوں ، قیافہ شناسوں ، دست شناسوں یعنی ہاتھ کی لیکریں دیکھ کر قسمت کا حال بتانے والوں ، فالیں نکال نکال کر مستقبل کا حال بتانے والوں ، ستاروں ، سیاروں ، اور برجوں کی چالوں کے فلسفے بیان کرنے والوں ، علم الاعداد کے نام پر اعداد کے زإئچے بنا بنا کر قیاس آرائیوں کرنے والوں اور اِسی قبیل کے دیگر لوگوں کے ذاتی حال ملاحظہ فرمائیے ، من پسند شادیاں کروانے والے ، خاوندوں کو بیویوں کا اور بیویوں کو خاوندوں کا محبوب بنانے والوں کی اپنی ازدواجی زندگی کا حال کیا ہوتا ہے ؟؟؟
لوگوں کو مستقبل کے خبریں دے کر اُنہیں ہدایات دینے والے ، رزق اور اولاد میں برکت کے وظیفے اور چارٹس وغیرہ بیچنے والے خود معاشی اور معاشرتی طور پر کِس حال میں رہتے ہیں ؟؟؟
کیوں اُن کے ستارے اور اُن کے بُرج اُن کی زندگیاں نہیں بدل پاتے ؟؟؟
کیوں وہ اپنے ستاروں اور بُرجُوں کے عُروج کے وقت سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے ؟؟؟
کیوں ان کے علم الاعداد کے زإئچے انہیں نقصانات سے بچا نہیں پاتے ؟؟؟
کیوں ان کے علم الاعداد کے زإئچے انہیں نقصانات سے بچا نہیں پاتے ؟؟؟
اور وہ لوگ جُوں کے تُوں ہی زندگی بسر کرتے کرتے آخر کار مر ہی جاتے ہیں ،
((((( فاعتبروا یا اَولیٰ الاَبصار ::: پس عبرت حاصل کرو اے عقل والو )))))
جو لوگ حقیقت جانے بغیر ، یا حق بات سامنے آنے کے بعد بھی پھر کِسی فلسفے ، منطق وغیرہ کا شِکار ہو کر اِس قِسم کے ''' مخفی عُلوم ''' جو در حقیقت ''' شیطانی عُلوم ''' ہیں ، اور انہیں اولیإء اور صالحین رحمہم اللہ سے بلا ثبوت و دلیل منسوب کیا جاتا ہے ، جو لوگ ان """شیطانی عُلوم """ کے دھوکے میں آ کر اِن پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، یا اِن کی تشہیر اور نشر کا سبب بنتے ہیں ، وہ بے چارے یقینا یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ اِس کا انجام کیا ہے ،
((((( وَیَتَعَلَّمُونَ مَا یَضُرُّہُم وَلاَ یَنفَعُہُم وَلَقَد عَلِمُوا لَمَنِ اشتَرَاہُ مَا لَہُ فِی الآخِرَۃِ مِن خَلاَقٍ وَلَبِئسَ مَا شَرَوا بِہِ اََنفُسَہُم لَو کَانُوا یَعلَمُونَ O وَلَو اََنَّہُم آمَنُوا واتَّقَوا لَمَثُوبَۃٌ مِّن عِندِ اللَّہِ خَیْْرٌ لَّو کَانُوا یَعلَمُونَ ::: اور لوگ وہ کُچھ سیکھتے ہیں جو اُن کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان دیتا ہے اوریہ بھی جانتے ہیں کہ جو کوئی اِس (عِلم ) کو خریدے (سیکھے ) گا اُس کے لیئے آخرت میں کوئی خیر نہیں اور کیا ہی بُرا ہے وہ ( آخرت کا وہ اجر) جِس کے بدلے اِنہوں نے اپنی جانیں بیچ دی ہیں اگر یہ جانتے ہوتے O اور اگر وہ اِیمان لاتے ( یعنی واقعتا اللہ کی بات پر یقین و اِیمان رکھنے والے ہوتے ) اور اللہ ( کی نافرمانی اور عذاب )سے بچتے تو یقینا اللہ کی طرف سے اُن کو بہترین خیر والا اجر ملتا اگر یہ جانتے ہوتے))))) سورت البقرہ / آیت ١٠١، ١٠٢ ،
اِن آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہاروت ماروت کا قصہ بیان فرماتے ہوئے بتایا ہے کہ جِن لوگوں نے اُن دو فرشتوں سے جادُو سیکھا اُن کے لیئے آخرت کی خیر میں کوئی حصہ نہیں ، بلکہ شدید عذاب ہے ، دُنیا کا حاصل کرنے کے لیے آخرت کا عذاب خرید لیا ، اور اپنی جانوں کے عوض خرید لیا کہ اب آخرت میں اُن کی جانیں صِرف عذاب ہی بھگتیں گی ، اللہ تعالیٰ ہر مُسلمان کو دُنیا اور آخرت کے ہر عذاب اور رسوائی سے محفوظ رکھے،
ہمارے جو مُسلمان بھائی بہن اِن عُلوم کی کِسی بھی قِسم کی تشہیر یا اشاعت کا باعث بنتے ہیں اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو فرمان سناتا چلوں کہ ((((( مَن دَلَّ علی خَیرٍ فَلَہُ مِثلُ اََجرِ فَاعِلِہِ ::: جِس نے خیرکا راستہ بتایا تو راستہ بتانے والے کو اُس خیر پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے ))))) صحیح مُسلم ، حدیث ١٨٩٣ / کتاب الاِمارۃ / باب ٣٨ ،
((((( کُلُّ بَنِی آدم خَطاءٌ وخَیرُ الخَطائِینَ التَّوَّابُونُ ::: آدم (علیہ السلام )کی ساری اولاد خطاء کرنے والی ہے اور سب سے اچھے خطاء کار وہ ہیں جو توبہ کر لیتے ہیں))))) [/COLOR]مستدرک الحاکم حدیث ٧٦١٧، حدیث حسن صحیح الجامع الصغیر حدیث ١٤١٥
ہم سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ ہم خیر پر عمل کرنے والے ،اُسکی راہ بتانے والے ہوں برائی اور گناہ کی نہیں ، اگر اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے ہمیں کوئی جھجھک نہیں تو اللہ اِس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ ہم اُسکی تابع فرمانی کرتے ہوئے کِسی شرم کا شکار نہ ہوں، اور اللہ کی طرف توبہ کریں ، حق بات کو قُبُول کریں اور اُس پر عمل کریں اُسکی تشہیر و اشاعت کریں۔
اپنی بات کا اختتام اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان پر کرتا ہوں ((((( وَ مَا کَانَ لِمُؤمِنٍ وَ لَا لِمُؤمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسوُلَہُ اَمراً اَن یَکُونَ لَھُم الخِیرَۃُ مَن اَمرِھِم وَ مَن یَعصِ اللّٰٰہَ وَ رَسُولَہُ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلاً مُبِیناً ::: اور جب اللہ اور اُسکا رَسُول کوئی فیصلہ کر دیں تو کِسی ایمان والے اور کِسی ایمان والی عورت کے لیئے( اللہ اور اُس کے رَسُول کے فیصلے کے عِلاوہ) کوئی اختیار باقی رہتا ہے ، اور جِس نے اللہ اور اُس کے رَسُول کی نا فرمانی کی تو یقینا کُھلی گُمراہی میں جا پڑا ))))) سُورہ الاَحزاب/آیت ٣٦ ۔
والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ۔
طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر ۔
Attached Files
File Type: rar STARS_3_STMPD=V1.rar (531.0 KB, 14 views)

Last edited by عادل سہیل; 21-01-11 at 09:49 PM.
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-03-09), سیپ (28-12-10)
پرانا 24-10-07, 12:04 PM   #2
Senior Member
 
عائشہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 500
کمائي: 2,389
شکریہ: 10
153 مراسلہ میں 251 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ستارون سیاروں کی چال ::: دوسرا اور آخری حصہ

عادل صاحب بہت ہی معلوماتی اور مفید مضمون ہے۔ ۔ ۔
عائشہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پہچان, پسند, قصہ, نظر, آج, ایمان, اللہ, انسان, بہترین, بھائی, حدیث, حسن, خبر, دُعا, رمضان, راستہ, زندگی, سیارے, ستارے, عورت, عقل, صحابہ, صحت, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ جاویداسد خبریں 1 15-12-10 09:56 PM
سیاسی یتیموں نے حکومت غیر مستحکم کرنے کیلئے سیاسی اداکاروں سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے: زرداری جاویداسد خبریں 0 01-10-10 07:27 PM
پاکستانی سیا ستدانوں کی پیروڈی راشد احمد سیاست 1 16-08-09 01:07 PM
نیا قومی ترانہ سیاستدانوں کا ! مزمل فاروق قہقہے ہی قہقے 2 04-08-08 03:47 AM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 01:49 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger