| اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
''ان پڑھ علماء'' ایک انوکھی اصطلاح مضمون کا عنوان پڑھ کر آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ مضمون نگار کے ہوش وحواس ٹھکانے نہیں ہیں جس نے آپس میں دو متضاد چیزوں کو ایک ساتھ جمع کر دیا ہے۔ ان کے عنوان کے پہلے جز میں جس چیز کی نفی کی گئی ہے، دوسرا جز اسی کو ثابت کر رہا ہے۔ بھلا کیا یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص ان پڑھ بھی ہو اور عالم کہلانے کا مستحق بھی ہو؟ جب وہ ان پڑھ ہے تو عالم نہیں ہو سکتا اور اگر عالم ہے تو ان پڑھ نہیں رہ سکتا۔ تعجب مت کیجئے! جدید دور کی اصطلاحات بھی جدید ہوتی ہیں۔ ماڈرن ازم کے طلسماتی نظام میں یہ طاقت موجود ہے کہ دو متضاد اشیاء کو ایک ہی صف میں بیک وقت جمع کردے۔ میں تو اپنی علمی بے مائیگی اور بے سمجھی کا بھر پور اعتراف کرتا ہوں اس لئے اگر ''اجتماع ضدین'' (دو متضاد چیزوں کے جمع کرنے) کا نیا فلسفہ میں اپنی طرف سے پیش کرتا تو آپ کو اس کے قبول کرنے میں تردد ہو سکتا تھا، لیکن یہ نظریہ تو مجھ سے پہلے ''ممتاز مفتی'' جیسے عقلمند دانشورنے پیش کیا تھا۔ گو وہ اپنے اس نظریہ کو صحیح معنوں میں تقویت دینے میں ناکام رہے تھے، لیکن گزشتہ کئی سالوں سے اپنے آپ کو'' عقل کل'' سمجھنے والے ہمارے صدر محترم اور ان کے بعض نمک حلال لکھاری اس غیر معقول نظریہ کو بڑی دانشمندی اور ڈھٹائی کے ساتھ ترویج دینے میں کوشاں نظر آرہے ہیں، صدر محترم متعدد بار، مختلف مواقع میں یہ ارشاد فرما تے چلے آرہے ہیں، کہ ''ان پڑھ علماء اسلام کی غلط تشریح کررہے ہیں''۔ (یعنی ان کی اور ان کے آقاؤں کی مرضی ومزاج کے خلاف) ان کا یہ ارشاد بھی میڈیا پر آچکا ہے کہ ''میں مذہبی عناصرکو جاہل قرار دیتا ہوں''۔ ہم صدر محترم اور ان کے عقلمند ''ہمنواؤں'' سے صرف یہ سوال کرتے ہیں کہ ''پڑھا لکھا'' ہونے کے معنی کیا ہیں؟ اور اس کا استعمال کس قسم کی مخلوق کے لئے ہوتاہے؟ اگر آپ فرمائیں کہ ''پڑھا لکھا'' اس شخص کو کہتے ہیں جس کو پڑھنا لکھنا آتا ہو تو یہ معنی مولویوں کے اندر درجہئ کمال کے ساتھ موجود ہے کیونکہ وہ صدر محترم اور ان کے رفقاء سے کہیں زیادہ پڑھنے لکھنے سے شغف رکھتے ہیں، اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں بھی علماء حضرات اپنے ''یومیہ اوقات''میں سے کم از کم آدھا وقت کتب بینی اور درس وتدریس میں صرف کرتے ہیں، موجودہ دور کے بڑے مصنفین بھی علماء ہی کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ماضی میں تو ان کی علمی اور تصنیفی خدمات کا اعتراف مسلمان ہی کیا غیر مسلموں کو بھی ہے۔ دور نہ جائیے ماضی قریب کے علماء میں سے صرف ''مولانا اشرف علی تھانوی ؒ'' کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے متجاوز ہے۔ اور اگر آپ کی نظر میں ''پڑھا لکھا'' ہونے کے مصداق صرف انگریزی داں ہیں تو اس فضیلت میں یورپ اور امریکہ کے ہوٹلوں میں برتن دھونے والے اور وہاں کی سڑکوں پر جھاڑو دینے والے افراد بھی آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں، بلکہ وہ آپ اور آپ کے رفقاء کے مقابلے میں زیادہ روانی کے ساتھ انگریزی بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہذا ان کو بھی ''پڑھے لکھوں'' کی فہرست میں شامل کرنے میں بخل سے کام نہ لیں۔ واضح رہے کہ علمائے کرام کے بارے میں ہر وقت ''ان پڑھ'' ہونے کا راگ الاپنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو مدارس میں آنے والے طلبہ کی نوعیت ، ان کی علمی استعداد اور یہاں کے نصابِ تعلیم سے بالکل ناآشنا ہیں اور صرف اپنے ذہنی مفروضوں یا محض بد گمانیوں کے سہارے مدارس اور اہل مدارس پر اس قسم کے بے تکے اعتراضات کی برسات کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس دینیہ میں داخلہ لینے کےلئے آنے والے طلبہ میں سے ایک اچھی خاصی تعداد ان طلبہ کی بھی ہوتی ہے۔ جو اسکولوں اور کالجوں سے ''میٹرک''یا اس سے اوپر کی دنیاوی تعلیم حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ پھر ان مدارس دینیہ میں سے بعض وہ بھی ہیں جن کے ہاں ''درس نظامی'' میں داخلہ کے لئے ''میٹرک'' شرط کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لئے وہ خودبھی اپنے ہاں ''عالم'' بننے کے خواہشمند طلبہ کو ''میٹرک'' کا نصاب پڑھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔( واضح رہے کہ حال ہی میں وفاق المدارس العربیہ نے اپنے تمام ملحقہ مدارس کے لئے میٹرک کو شرط قرار دیا ہے۔)جبکہ عام مدارس دینیہ میں گو مکمل طور پر''میٹرک'' کا نصاب نہیں پڑھایا جاتا مگر ان کے ہاں بھی ''درسِ نظامی'' شروع کرنے سے پہلے ایک تین سالہ مختصر سا نصاب پڑھایا جاتا ہے، جس میں طلبہ کو ''فارسی'' اور ''اردو'' کے علاوہ ریاضی اور انگریزی کی بھی اچھی خاصی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس مختصر نصاب سے گزرنے والا ہر طالب علم ''ریاضی'' اور ''انگریزی'' سے بھی کافی حد تک شُد بُد حاصل کرلیتا ہے۔ اگر بالفرض یہ سب کچھ نہ بھی ہو تب بھی مدارس میں پڑھایا جانے والا ''عالم'' کا نصاب اتنا مستحکم اور پختہ علمی استعداد پیدا کرنے کا حامل ہے، جس کو پڑھنے والا طالب علم، اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ سے علمی صلاحیت میں بہت بڑھ کر ہوتا ہے۔ اس کا بخوبی اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ یونیورسٹیوں کے اندر ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات میں اسلامی علوم کا جو حصہ زیرِ درس ہوتا ہے وہ مدارس کے یہاں ابتدائی درجات کے طلبہ کو پڑھایا جاتا ہے۔ جہاں تک ''درسِ نظامی'' کا تعلق ہے تو اس آٹھ سالہ نصاب میں طلبہ کو صرف، نحو، فلسفہئ قدیم، فلسفہئ جدید، تفسیر، اصولِ تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، ادب، فلکیات، علمِ عروض وقوافی، اور دیگر ڈھیروں علوم وفنون پڑھائے جاتے ہیں۔ مذکورہ بالا تعلیمی مراحل سے گزرنے اورذکر کردہ درجنوں علوم وفنون پڑھنے کے بعد بھی کسی شخص کو ''ان پڑھ'' کا طعنہ دینا سراسر ناانصافی اور عناد نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟ ہم ''پڑھا لکھا'' ہونے کے دعویداروں سے پوچھتے ہیں کہ ایک ''مسلمان'' ایک اسلامی معاشرہ میں زندگی کے شب وروز گزارنے کے باوجود بھی، اگر اسلام کی بنیادی تعلیمات جاننے، وضو اور غسل تک کے مسائل سمجھنے اور صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرنے پر بھی قادر نہ ہو، تو کیا صرف منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی کے دو چار بول بولنے سے وہ ''پڑھا لکھا'' ہونے کا مستحق بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔؟ بشکریہ: سہ ماہی مجلہ ندائے حرمین کراچی
__________________
![]() |
|
|
|
| میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (17-03-08) |
![]() |
| Tags |
| کمال, کراچی, پاک, قرآن, لوگ, مکمل, موجودہ, ممکن, مسائل, معاشرہ, امریکہ, اردو, اسلام, تعلیم, جاہل, حال, حضرات, خلاف, زندگی, شخص, علی, عالم, صلاحیت, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 17 | 23-02-11 08:37 PM |
| قوم کو بیچا بھی تو کتنے سستے داموں "اوبامہ کی جنگ"کتاب میں انکشافات | جاویداسد | خبریں | 2 | 14-10-10 04:44 AM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| "" کبھی کوششں نہیں کرنا "" | مژگان | شعر و شاعری | 4 | 06-12-07 10:48 AM |