| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
وضو کا بیان
وضو کرنے والی کو چاہئے کہ وہ وضو کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرکے کسی اونچی جگہ بیٹھےکہ چھینٹیں اڑ کر اوپر نہ پڑیں۔ اور وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ کہے۔ اور سب سے پہلے تین دفعہ گٹوں تک ہاتھ دھووے،پھر تین دفعہ کلی کرےاور مسواک کرےاگرمسواک نہ ہو توکسی موٹے کپڑے یا صرف انگلی سے اپنے دانت صاف کرےکہ سب میل کچیل جاتا رہے اگر روزہ دار نہ ہو تو غرارہ کر کے اچھی طرح سارے منہ میں پانی پہنچاوےاور اگر روزہ ہو تو غرارہ نہ کرےکہ شاید کچھ پانی حلق میں چلا جاوے، پھر تین بار ناک میں پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ ناک صاف کرے لیکن جسکا روزہ ہے وہ جتنی دور تک نرم نرم گوشت ہے اس سے اوپرپانی نہ لے جاوے ، پھر تین دفعہ منہ دھووے،سر کے بالوں سے لیکر ٹھوڑی کے نیچے تک اور اس کان کی لو سے اس کان کی لو تک سب جگہ پانی نہ جاوے، دونوں ابرؤں کے نیچے بھی پانی پہنچ جاوے ، کہیں سوکھا نہ رہے ، پھر تین بار داہنا ہاتھ کہنیوں سمیت دھووے پھر بایاں ہاتھ کہنیوں سمیت تین دفعہ دھووے،اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر خلال کرے،اور انگوٹھی، چھّلا،چوڑیجو کچھ بھی ہاتھوں میں پہنے ہوے ہو ہلا لیوے کہ کہیں سوکھا نہ رہ جا وے ،پھر ایک دفعہ سارے سر کا مسح کرے،پھر کان کا مسح کرے،اندر کی طرف کا کلمہ کی انگلی سے اور کان کے اوپر کی طرف کا انگوٹھوں سے مسح کرے، پھر انگلیوں کی پشت کی طرف سے گردن کا مسح کرے لیکن گلے کا مسح نہ کرے کہ یہ برا اور منع ہے ، کان کے مسح کے لئے نئے پانی لینے کی ضرورت نہیں سر کے مسح سے جو بچا ہوا پانی ہاتھ سے لگا ہوا ہو وہی کافی ہےاور تین بار داہنا پاؤں ٹخنے سمیت دھوئےپھر بایاں پاؤں ٹخنے سمیت دھوےاور بائیں ہاتھ کی چھنگلیاں سےپیروں کا خلال کرے اورپیر کی داہنی چھنگلیاں سے شروع کرے اور بائیں چھنگلیاں پر ختم کرے۔ یہ وضو کرنے کا طریقہ ہے۔ لیکن اس میں بعضی چیزیں ایسی ہیں کہ اگر اس میں سے ایک بھی چھوٹ جاوے یا کمی رہ جاوے تو وضو نہیں ہوتا۔ جیسے پہلے بے وضو تھی اب بھی بے وضو رہگی۔ ایسی چیزوں کو فرض کہتے ہیں اور بعض باتیں ایسی ہیں کہ ان کے چھوٹ جانے سے وضو تو ہو جاتا ہے لیکن ان کے کرنے سے ثواب ملتاہےاور شریعت میں ان کے کرنے کی تاکید بھی آئی ہے۔ اور اگر اکثر چھوڑ دیا کرے تو گناہ ہوتا ہے ایسی چیزوں کو سنت کہتے ہیں اور بعضی چیزیں ایسی ہیں جن کے کرنے سے ثواب ہوتا ہےاور نہ کرنے سے کچھ گناہ نہیں ہوتا۔ اور شرع میں ان کے کرنے سے ان کے کرنے کی تاکید بھی نہیں ہے اور ایسی با توں کو مستحب کہتے ہیں۔ مسئلہ ١۔ وضو میں فقط چار چیزیں ہیں۔ ایک مرتبہ سارا منہ دھونا ،ایک مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھونا،ایک بار چوتھائی سر کا مسح کرنا، ایک مرتبہ ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں کا دھونا،بس فرض اتنا ہی ہے۔ اس میں سے اگر ایک چیز بھی چھوٹ جائے گی یا کوئی بھی جگہ بال برابر سو کھی رہ جاوے گی تو وضو نہ ہوگا۔ پہلے گھٹوں تک دونوں ہاتھ دھونااور بسم اللہ کہنا اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کر ناسارے سر کا مسح کرنا،ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھونا،کانوں کا مسح کرنا ہاتھ اور پیر کی انگلیوں کا خلال کرنا،یہ سب باتیں سنت ہیں اور اس کے سوا اور جو باتیں ہیں وہ سب مستحب ہیں۔ مسئلہ٢ ۔ جب یہ چار عضو جن کا دھونا فرض ہے دھل جاویں گے تو وضو ہوجاوے،چاہے وضو کا قصد ہو یانہ ہو جیسے کوئی نہاتے وقت تمام بدن پر پانی بہالیوے اور وضو نہ کرے یا حوض میں گر پڑے یا پانی برستے میں باہر کھڑی ہو جاوے اور وضو کے یہ اعضاء تو وضو ہو جاوے گا لیکن ثواب وضو کا نہ ملے گا۔ سنت یہی ہے کہ اس طرح سے وضو کرے جس طرح سے ہم نے اوپر بیان کیا ہے اور اگر کوئی الٹا وضو کرے کہ پہلے پاؤں دھو ڈالے اور پھر سر کا مسح کرے پھر دونوں ہاتھوں کو دھوئے پھرمنہ دھو ڈالے یا کسی اور طرح الٹ پلٹ کر وضو کےتو بھی وضو ہو جاتا ہے مگر سنت کے موافق نہیں ہوتا اور گناہ کا خوف ہے۔ مسئلہ ٣ ۔ اس طرح بایاں ہاتھ،بایاں پاؤں پہلے دھویا تب بھی وضو ہوگیا مگر مستحب کے خلاف ہے۔ ایک عضوکودھوکردوسرےعضوکےدھونے میں اتنی دیرنہ لگاوےکہ پہلاعضوسوکھ جاوےبلکہ اس کےسوکھنےسےپہلےپہلےدوسراعض ودھو ڈالےاگرپہلاعضوسوکھ گیا تب دوسرا عضو دھویا تو وضو ہوجائے گا مگریہ بات سنت کےخلاف ہے۔ مسئلہ ٤۔ ہر عضو دھوتے وقت یہ بھی سنت ہے کہ اس پر ہاتھ بھی پھیر لیوے تاکہ کوئی جگہ سوکھی نہ رہ۔ سب جگہ پانی پہنچ جاوے۔ وقت آنے سے پہلے ہی وضو ،نماز کاسامان اور تیاری کرنا بہتراور مستحب ہے۔ مسئلہ ٥ ۔جب تک کوئی مجبوری نہ ہو خود اپنے ہاتھ سے وضو کرے کسی اور سے پانی نہ ڈالوائے اور وضو کرنے میں دنیا کی کوئی بات چیت نہ کرے بلکہ ہر عضو دھوتے وقت بسم اللہ اور کلمہ پڑاکرے اور پانی کتنا ہی فراغت کا کیوں نہ ہو چاہے دریا کے کنارے پر ہو تب بھی پانی ضرورت سے زیادہ خرچ نہ کرے اور نہ پانی میں بہت کمی کرے کہ اچھی طرح دھونے میں دقت ہو نہ کسی عضو کو تین دفعہ سے زیادہ دھووے اور منہ دھوتے وقت پانی کا چھینٹا زور سے منہ پر مارے نہ پھنکار مار چھینٹیں اڑاوے اور اپنے منہ اور آنکھوں کو بہت زور سے بند نہ کرےکہ یہ سب باتیں مکروہ اور منع ہیں۔ اگر آنکھ یا منہ زور سے بند کیا اور پلک یا ہونٹ پر جو کچھ سوکھا رہ گیایا آنکھ کے کوئے میں پانی نہیں پہنچاتو وضو نہیں ہوا۔ انگوٹھی، چھلے،چوڑی ،گنگن وغیرہ اگر ڈھیلے ہو کہ بے ہلائے بھی ان کے نیچے پانی پہنچ جائے تب بھی ان کا ہلا لینا مستحب ہےاگر ایسے تنگ ہوں کہ بغیر ہلائے پانی نہ پہنچنے کا گمان ہو تو ان کو ہلا کر اچھی طرح پانی پہنچا دینا ضروری اور واجب ہے۔ نتھ کا بھی یہ حکم ہے ، اگر سوراخ ڈھیلا ہے اس وقت تو ہلا نا مستحب ہے اگر تنگ ہو کہ بے پھرائے اور ہلائے پانی نہ پہنچے گا تو منہ دھوتے وقت گھما کراور ہلاکر پانی اندر پہنچانا واجب ہے۔ مسئلہ ٦ ۔اگر کسی کے ناخن میں آٹا لگ کر سوکھ گیا ہو اور اس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو وضو نہیں ہوا ،جب یاد آوے اور آٹا دیکھے تو آٹا چھڑا کر پانی ڈال لےاور اگر پانی پہنچانے سے پہلے کوئی نماز پڑھ لی ہو تو اس کو لوٹا دے اور پھر سے پڑھے۔ کسی کے ماتھے پر افشاں چنی ہو اور اوپر اوپر سے پانی بہا لیوے کہ افشاں نہ چھوٹنے پائے تو وضو نہیں ہوتا۔ ماتھے کا سب گوند چھڑا کر منہ دھونا چاہئے۔ مسئلہ ٧ ۔ جب وضو کر چکو تو سورہ انا انزلنا اور یہ دعا پڑھے،اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین واجعلنی من عبادک الصٰلحین واجعلنی من الذین لاخوف علیھم بلا ھم یحزانون۔ جب وضو کر چکو تو بہتر ہے کہ دو رکعت نماز پڑھے ،اس نماز کو جو وضو کے بعد پڑھی جاتی ہےتحیتہ الوضو کہتے ہیں ،حدیث شریف میں اس کا بہت ثواب آیا ہے۔ مسئلہ ٨ ۔ اگر ایک وقت وضو کیاتھا پھر دوسرا وقت آجائے اور ابھی وضو نہیں ٹوٹا تو اسی وضو سے نماز پڑھنا جائز ہے اور تازہ وضو کرے تو بہت ثواب ملتا ہے۔ جب ایک وضو کر لیا ابھی وہ ٹوٹا نہیں تو جب تک اس وضو سے کوئی عبادت نہ کر لے اس وقت تک دوسرا وضو کرنا مکرہ اور منع ہے۔ اگر نہاتے وقت کسی نے وضو کر لیا تو اس ہی وضو سے نماز پڑھنا چاہئیے،بغیر اس کے ٹوٹے دوسرا وضو نہ کرے ہاں اگر کم سے کم دو رکعت نماز اس وضو سے پڑھ چکی ہو تو دوسرا وضو کرنے میں کوئی ہرج نہیں بلکہ ثواب ہے۔ مسئلہ ٩ ۔ کسی کے ہاتھ یا پاؤں پھٹ گئے اور اس میں موم یا روغن یا اور کوئی دوا بھر لی (اور اس کے نکالنے سے ضرر ہوگا) اور بغیر اس نکالے اوپر ہی اوپر پانی بہا دیا تو وضو درست ہے۔ وضو کرتے وقت ایڑھی پر یا کسی اور جگہ پانی نہیں پہنچتا اور جب پورا وضو ہو چکا تب معلوم ہوا کہ فلانی جگہ سوکھی ہے تو وہاں پر فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں بلکہ پانی بہانا چاہیے۔ مسئلہ ١٠ ۔ اگر ہاتھ یا پاؤں وغیرہ میں کوئی پھوڑا ہے یا کوئی اور ایسی بیماری ہے کہ اس پر پانی ڈالنے سے نقصان ہوتا ہے تو پانی نہ ڈالے وضو کرتے وقت صرف بھیگا ہاتھ پھر لیوے اس کو مسح کہتے ہیں اور اگر یہ بھی نقصان کرے تو ہاتھ بھی نہ پھیرے اتنی جگہ چھوڑ دے۔ اگر زخم پر پٹی بندھی ہوئی ہو اور پٹی کھول کر زخم پر مسح کرنے سے نقصان ہو یا پٹی کھولنے میں یا باندھنے میں بڑی دقت اور تکلیف ہو تو پٹی کے اوپر مسح کرلینا درست ہے اگر ایسا نہ ہو تب پٹی پر مسح کرنا درست نہیں،پٹی کھول کر زخم پر مسح کرنا چاہیے۔ مسئلہ ١١ ۔اگر پوری پٹی کے نیچے زخم نہیں ہے تو پٹی کو کھول کر زخم کو چھون کر اور سب جگہ دھو سکے تو دھونا چاہیے اور اگر پٹی نہ کھول سکے تو ساری پٹی پر مسح کر لیوے جہاں زخم ہے وہاں بھی اور جہاں زخم نہیں ہے وہاں بھی۔ ہڈی کے ٹوٹ جانے کے وقت جو بانس کی کھچپیاں رکھ کر ٹکھٹی بنا کر باندھتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے کہ جب تک ٹکھٹی نہ کھول سکے ٹکھٹی کے اوپر ہاتھ پھیر لیا کرے اور فصد کی پٹی کا بھی یہی حکم ہے اگر زخم کے اوپر مسح نہ کر سکے تب پٹی کھول کر کپڑے کی گدی پر مسح کرے۔ اور کھولنے باندھنے والا نہ ملے تو پٹی ہی پر مسح کر لے۔ مسئلہ ١٢ ۔ ٹکھٹی یاپٹی کھل کر گر پڑے اور زخم بھی اچھا نہیں ہوا تو پھر باندھ لیوے اور وہی پہلا مسح باقی ہے پھر مسح کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، اگر زخم اچھا ہو گیا ہے کہ اب باندھنے کی ضرورت نہیں تو مسح ٹوٹ گیا اب اتنی جگہ دھو کر نماز پڑھے اور سارا وضو دوہرانا ضروری نہیں ہے۔
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان
مسئلہ ١ ۔ پاخانہ پیشاب اور ہوا جو پیچھے سے نکلے اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ اگر آگے کی راہ سے ہوا نکلے جیسا کہ کبھی بیماری سے ہوجاتا ہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اور اگر آگے یا پیچھے سے کوئی کیڑا جیسے کینچوا یا کنکری وغیرہ نکلے تو بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ مسئلہ ٢ ۔ اگر کسی کے کوئی زخم ہوا اس میں کیڑا نکلا یا کان سے نکلا یا زخم میں سے کچھ گوشت کٹ کر گر پڑا اور خون نہیں نکلا تو اس سے وضو نہیں ٹوٹا۔ مسئلہ ٣ ۔اگر کسی کی فصدلی یا نکسیری پھوٹی یا چوٹ لگی اور خون نکل آ یا یا پھوڑے یا پھنسی سے یا بدن بھر میں اور کہیں سے خون نکلا یا پیپ نکلی تو وضو جاتا رہا، البتہ زخم کے منہ ہی پر رہے زخم کے منہ سے آگے نہ بڑھے تو وضو نہیں گیا اور اگر کسی کے سوئی چبھ گئی اور خون نکل آیا اور بہا نہیں تو وضو نہیں ٹوٹا اور جو ذرا بھی بہ پڑا تو وضو ٹوٹ گیا۔ مسئلہ ٤ ۔ اگر کسی نے ناک سنکی اور اس میں جمے ہوئے خون کی پھٹکیاں تو وضو نہیں گیا۔ وضو جب ٹوٹتا ہےکہ پتلا خون نکلےاور بہ پڑے۔ سو اگر کسی نے اپنی ناک میں انگلی ڈالی پھر جب اس کو نکلا تو انگلی میں خون کا دھبہ معلوم ہوالیکن وہ خون بس اتنا ہی ہے کہ انگلی میں تو ذرا سا لگ جاتا ہے لیکن بہتا نہیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ مسئلہ ٥ ۔ کسی کی آنکھ کے اندر کوئی دانہ وغیرہ تھا وہ ٹوٹ گیا یا اس نے خود توڑدیا اس کا پانی بہ کر آنکھ میں تو پھیل گیا لیکن آنکھ کے باہر نہیں نکلا تو اس کا وضو نہیں ٹوٹا اور آنکھ کے باہر پانی نکل پڑاتو وضو ٹوٹ گیا۔ اسی طرح کان کے اندر دانہ ہو اور ٹوٹ جاوے۔ تو خون اور پیپ سوراخ کے اندر رہے اسی جگہ تک رہے جہاں پانی پہنچنا غسل کرتے وقت فرض نہیں ہے تب تک وضو نہیں جاتا ہے اور جب ایسی جگہ پر آجاوے جہاں پانی پہنچنا فرض ہے تو وضو ٹوٹ جاوے گا۔ مسئلہ ٦ ۔ کسی نے اپنے پھوڑے یا چھالے کےاوپر کا چھلکا نوچ ڈالا اور اس کے نیچے کا خون یا پیپ دیکھائی دینے لگا لیکن وہ خون اور پیپ اپنی جگہ پر ٹھہرا ہے کسی طرف نکل کر بہا نہیں تووضو نہیں ٹوٹا اور جو بہ پڑا تو وضو ٹوٹ گیا۔ مسئلہ ٧ ۔ کسی کے پھوڑے میں بہت بڑا گہرا گھاؤو ہو گیا تو جب تک خون پیپ اس گھاؤ کے اندر ہی اندر ہے باہر نکل کر بدن پر نہ آوے اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹتا۔ مسئلہ ٨ ۔اگر پھوڑے یا پھنسی کا خون آپ سے نہیں نکلا بلکہ اس نے دباکر نکالا ہے تو بھی وضو ٹوٹ جاوے گا جبکہ وہ خون بہ جاوے۔ مسئلہ ٩ ۔ کسی کے زخم سے ذراذرا خون نکلنے لگا اس نے اس پر مٹی ڈال دی یا کپڑے سے پہنچ لیا۔ پھر ذرا سا نکلا پھر اس نے پہنچ ڈالا اسی طرح کئی دفعہ کیا کہ خون بہنے نہیں پایا تو دل میں سونچے اگر ایسا معلوم ہو اگر پونچھا نہ جاتا تو بہ پڑتا تووضو ٹوٹ جائیگااگر ایسا ہو کہ پونچھا نہ جاتا تب بھی نہ بہتا تو وضو نہ ٹوٹے گا۔ مسئلہ ١٠ ۔ کسی کے تھوک میں خون معلوم ہواتب اگر تھوک میں خون بہت کم ہے اور تھوک کا رنگ سفیدی مائل یا زردی مائل ہے تو وضو نہیں گیا اور اگر خون زیادہ یا برابر ہے اور رنگ سرخی مائل ہے تو وضو ٹوٹ گیا۔ مسئلہ ١١ ۔اگر دانت سے کوئی چیز کاٹی اور اس چیز پر خون کا کوئی دھبہ معلوم ہوا یا دانت میں خلال کیا اور خلال میں خون کی سرخی ویکھائی دی لیکن تھوک میں بالکل خون کا رنگ معلوم نہیں ہوتا تو وضو نہیں ٹوٹا۔ مسئلہ ١٢ ۔ کسی نے جونک لگوائی اور جونک میں اتنا خون بھر گیا کہ اگر بیچ سے کاٹ دو خون بہ پڑے تو وضو جاتا رہا اور جو اتنا نہ پیا ہو بلکہ بہت کم پیا ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا اور مچھر یا مکھی یاکھٹمل نے خون پیا تو وضو نہیں ٹوٹا۔ مسئلہ ١٣ ۔ کسی کے کان میں درد ہوتا ہے اور پانی نکلا کرتا ہے تو یہ پانی کان سے بہتا ہے نجس ہے اگرچہ کچھ پھوڑا پھنسی معلوم ہوتی ہو بس اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاوے گا،جب کان کے سوراخ سے نکل کر اس جگہ آجاوے جس کا دھو نا غسل کرتے وقت فرض ہے اس طرح اگر ناک سے پانی نکلے اور درد بھی ہوتا ہو تو اس بھی وضو ٹوٹ جاوے گا۔ ایسے ہی اگر آنکھیں دکھتی ہوں اور کھٹکتی ہوں تو پانی بہنے اور آنسو نکلنے سے وضو ٹوٹ جاوے گا۔ اور اگر آنکھیں نہ دکھتی ہوں نہ ان میں کچھ کھٹک ہو تو آنسو نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ مسئلہ ١٤ ۔اگر چھاتی سے پانی نکلتا ہے اور درد بھی ہوتا ہے تو وہ بھی نجس ہے اس سے وضو جاتا رہے گا اور اگر درد نہیں تو نجس نہیں ہے اور اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا۔ مسئلہ ١٥ ۔اگر قے ہوئی اور اس میں کھانا یا پانی یا پت گرے تو منہ بھر قے ہوئی تو وضو ٹوٹ گیا اور منہ بھر کر قے ہوئی ہو تو وضو ٹوٹ گیا اور منہ بھر کر قے نہیں ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹا اور منہ بھر کر قے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مشکل سے منہ میں رکے اور قے میں نرا بلغم گرے تو وضو نہیں ٹوٹا جتنا ہو۔ منہ بھر ہو یا نہ ہو سب کا ایک حکم ہے اور قے میں خون گرے تو اگر پتلا اور بہتا ہوا ہو یو وضو ٹوٹ جاویگا چاہے کم ہو یا زیادہ ہو بھر منہ ہو یا نہ ہو اگر جما ہوا یا ٹکڑا ٹکڑاگرے اور بھر منہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر کم ہو تو وضو نہ جاوے گا۔ مسئلہ ١٦۔ اگر تھوڑی تھوڑی کرکے کئی دفعہ قے ہوئی لیکن سب ملا کر اتنی ہے کہ اگر ایک دفعہ گرتی تو بھر منہ ہوجاتی اور اگر ایک ہی متلی برابر باقی رہی اور تھوڑی تھوڑی قے ہوتی رہی تو وضو ٹوٹ گیا اور اگر ایک ہی متلی برابر نہیں رہی بلکہ پہلی دفعہ متلی جاتی رہی تھی اور جی اچھا ہو گیا تھا پھر دوہراکر متلی شروع ہوئی اور تھوڑی سی قے ہوگئی پھر جب یہ متلی جاتی رہی اور تیسری دفعہ پھر متلی شروع ہوکر قے ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ مسئلہ ١٧ ۔ لیٹے لیٹے آنکھ لگ گئی یا کسی چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھے بیٹھے سو گئی اور ایسی غفلت ہو گئی کہ اگر وہ ٹیک نہ ہوتی تو گر پڑتی تو وضو جاتا رہا اور نماز میں بیٹھے بیٹھے یا کھڑے کھڑےسو جاوے اور اپنا چوتڑ ایڑی دبالیوے اور دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے ٹیک نہ لگا وے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ مسئلہ ١٨ ۔بیٹھے بیٹھے نیند کا ای کایسا جھونکا آیا کہ گر پڑی تواگر گر کر فوراً ہی آنکھ کھل گئی ہو تو وضو نہیں گیا اور گرنے کے ذرا دیر بعد آنکھ کھلی ہو تو وضو جاتا رہا اور اگر بیٹھی رہی اور جھومتی رہی گری نہیں تب بھی وضو نہیں گیا۔ مسئلہ ١٩ ۔اگر بیہوش ہو گئی یا جنون سے عقل جاتی رہی تو وضو جاتا رہا۔ چاہے بیہوشی یا جنون تھوڑی دیر رہا ہو اور اگر تمباکو وغیرہ کوئی نشہ کی چیز کھا لی اور اتنا نشہ ہو گیا کہ اچھی طرح چلا نہیں جاتا اور قدم ادھر ادھر بہکتا اور ڈگمگاتا ہے تو بھی وضو جاتا رہا۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
مسئلہ ٢٠ ۔اگر نماز میں اتبی زور سے ہنسی نکل گئی کہ اس نے آپ بھی اپنی آواز سن لی اور اس کے پاس والیوں نے بھی سب نے سن لی جیسے کھل کھلا کر ہنسنے میں سب پاس والی سن لیتی ہیں۔ اس سے بھی وضو ٹوٹ گیا اور نماز بھی ٹوٹ گئی اور اگر ایسا ہوا کہ اپنے کو آواز سنائی دیوے اور سب پاس والیوں کو نہ سن سکیں اگرچہ بہت ہی پاس والی سن لے تو اس کی نماز ٹوٹ جاوے گی وضو نہ ٹوٹے گا اگر ہنسی میں فقط دانت کھل گئے اور آواز بالکل نہ نکلی تو نہ وضو ٹوٹا نہ نماز جاویگی۔ البتہ چھوٹی لڑکی جو ابھی جوان نہ ہوئی ہو زور سے نماز میں ہنسے یا سجدہٴ تلاوت میں بڑی عورت کو ہنسی آوے تو وضو نہیں جاتا ہاں وہ سجدہ اور نماز جاتی رہگی جس میں ہنسی آئی۔
مسئلہ ٢١ ۔ مرد کے ہاتھ لگانے سے یا یوں ہی خیال کرنے سے اگر آگے کی راہ سے پانی آجاوے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے،اس پانی کو جو جوش کے وقت نکلتا ہے مذی کہتے ہیں۔ مسئلہ ٢٢ ۔ بیماری کی وجہ سے رینٹ کی طرح جو لیس دار پانی آگےکی راہ سے آتا ہو تو احتیاط اس کہنے میں ہے کہ وہ پانی نجس ہے اور کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ مسئلہ ٢٣ ۔پیشاب یا مذی کا قطرہ سوراخ سے باہر نکل آیا لیکن ابھی اسی کھال کے اندر ہے جو اوپر ہوتی ہے تب بھی وضو ٹوٹ گیا۔ وضو ٹوٹنے کے لئے کھال سے باہر ضروری نہیں ہے۔ مسئلہ ٢٤ ۔ مرد کے پیشاب کے مقام سے جب عورت کا پیشاب کا مقام مل جاوے اور کچھ کپڑا وغیرہ بیچ میں آڑ نہ ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ایسے ہی اگر دو عورتیں اپنی پیشاب گاہ ملا دیں تب بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن یہ خود بہت برا اور گناہ ہے دونوں صورتوں میں چاہے کچھ نکلے چاہے کچھ نہ نکلےایک ہی حکم ہے۔ مسئلہ ٢٥ ۔وضو کے بعد ناخن کٹائے یا زخم کے اوپر کی مردہ کھال نوچ ڈالی تو وضو میں کچھ نقصان نہیں آیا نہ تو وضو کو دوہرانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اتنی جگہ کا پھر تر کرنے کا حکم ہے۔ مسئلہ ٢٦ ۔ وضو کے بعد کسی کا ستر دیکھ لیا یا اپنا ستر کھل گیا یا ننگی ہو کر نہائی یا ننگے ہی ننگے وضو کیا تو اس کا وضو درست ہے پھر وضو دہرانے کی ضرورت نہیں البتہ بغیر وجہ کے کسی کا ستر دیکھنا یا اپنا دیکھانا گناہ کی بات ہے۔ مسئلہ ٢٧ ۔جس چیز کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہ نجس ہو تی ہے اورجس سے وضو نہیں ٹوٹا وہ نجس بھی نہیں تو اگر ذرا سا خون نکلا کہ زخم کے منہ سے بہا نہیں یا ذرا سی قے ہوئی مگر بھر منہ نہیں ہوئی اور اس میں کھانا یا پانی پت یا جمع ہوا خون نکلا تو یہ خون اورقے نجس نہیں ہے اور اگر یا کپڑے یا بدن میں لگ جاوے اس کا دھونا واجب نہیں اور اگر منہ بھر قے ہوئی اور خون زخم سے بہ گیا تو نجس ہے اس کا دھونا واجب ہے اور اتنی قے کر کے کٹورے یا لوٹے کو منہ لگا کر کلی کے واسطہ پانی لیا تو وہ برتن ناپاک ہو جاوے گا اس لئے چلو سے پانی لینا چاہیے۔ مسئلہ ٢٨ ۔ چھوٹا لڑکا جو دودھ ڈالتا ہے اس کا بھی یہ ہی حکم ہے اگر منہ بھر نہ ہو تو بجس نہیں اور جب منہ بھر ہو تو نجس ہے اگر اس کے دھوئے بغیر نماز پڑے گی تو نماز نہ ہو گی۔ مسئلہ ٢٩ ۔ اگر وضو کرنا تو یا د ہے اور اسکے بعد وضو ٹوٹنا اچھی طرح یاد نہیں کہ ٹوٹا ہے کہ نہیں ٹوٹا تو اس کا وضو باقی سمجھا جاوے گا اسی سے نماز درست ہے لیکن پھر وضو کرنا بہتر ہے۔ مسئلہ ٣٠ ۔جس کو وضو کرنے میں شک ہو کہ فلاں عضو دھویا ہے یہ نہیں تو وہ عضو دھویا ہے کہ نہیں تو وہ عضو دوبارہ دھو لینا چاہیے اور اگر وضو کر چکنے بعد کچھ شک ہو تو پرواہ نہ کرے وضو ہو گیا،اگر یقین ہو گیا ہے کہ فلانی بات رہ گی ہے تو اس کو کر لیوے۔ مسئلہ ٣١ ۔ بے وضو قرآن مجید کا چھونا درست نہیں ہاں اگر اترا ہوا ہو تو اس سے چھونا درست ہے اور زبانی پڑھنا درست ہے اور کلام مجید کھلا ہوا رکھا ہےاس کو دیکھ کر پڑ ھا لیکن ہاتھ نہیں گایا یہ بھی درست ہے اسی طرح بے وضو ایسے تعویز کا اور ایسی تشتری کا چھونا بھی درست نہیں جں میں قرآن کریم کی آیات لکھی ہو خوب یاد رکھو۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, گمان, ٹھوڑی, ٹیک, قدم, قرآن, قصد, لوٹے, لڑکی, نیند, نماز, موم, مجید, معلوم, اللہ, حکم, خون, خلاف, دعا, روزہ, عورت, عقل, عبادت, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|