| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں معذرت خواہ ہوں کہ باوجود کوشش کے میں اَس صفحے میں فونٹ کے سائز اور کلر کو تبدیل نہیں کر سکا ، جب کہ میں بہت شدت سے ایسا کرنا چاہ رہا تھا تا کہ مضمون پڑھنے والے کو پڑھنے اور سمجھنے میں سہولت اور دلچسپی میسر ہو، بہر حال میں یہ مضمون ایک مناسب شکل و صورت میں پی ڈی ایف ، فائل کی صورت میں نتھی کیئے دے رہا ہوں ، اسے نیچے اتار(ڈاون لوڈ کر ) لیا جائے تو انشا اللہ پڑھنا بہت آسان اور اچھا محسوس ہو گا ۔اور کوشش کی جائے کہ اکرو بیٹ ریڈر کے پانچوں اصدار ( ففتھ ورژن ) سے نیچے والا ریڈر استعمال نہ کیا جائے ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- عنوان ::::: بات ہی تو ھے ::::: تمام تر خالص تعریف اس اللہ کی ہے جو اکیلا تمام تر مخلوق کو بنانے والا ہے ، اور اس سے بڑھ کر بہتر اور مُکمل طور پر بنانے والا کوئی نہیں اس نے اپنی سب سے بہترین مخلوق انسان کو بنایا ، اور اس انسان کو دیگر تمام مخلوق سے بڑھ کر نعمتیں قدرت اور وسائل عطاء فرمائے، ان ہی نعمتوں میں سے ایک نعمت '' زُبان '' ہے ، جی ہاں زُبان ، وہ بھی جو بولی جاتی ہے ، اور وہ بھی جِس سے بولا جاتا ہے ، اور جِسکے ذریعے ہم مُختلف اوازیں نکالتے ہیں وہ اوازیں جو مُختلف حروف اور الفاظ اور جملوں اور باتوں کی صورت میں ہم سُنتے اور سمجھتے ہیں ، ان میں کچھ الفاظ ، کُچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمارے لیئے دِین ، دُنیا اور اخرت میںاللہ کی خوشی ، اور اللہ کی طرف سے خیر اور عزت کا سبب بنتی ہیں ، اور کُچھ ایسی جو اللہ کی ناراضگی اور اللہ کے طرف سے عذاب اور ذلت کا سبب بنتی ہیں ، دیکھنے میں تو '' زُبان '' گوشت کا ایک لوتھڑا ہی ہے ، لیکن اسکی حرکت بسا اوقات کِسی کو تلوار کے وار یا زہر سے زیادہ نقصان دیتی ہے کبھی استعمال کرنے والے کو ، اور کبھی جِس کے لیئے استعمال کی جائے اس کو ، اور کبھی ان کو جِنکے لیئے اسے استعمال تو نہیں کیا گیا ہوتا لیکن اس کے وار کا وہ بھی شِکارہو جاتے ہیں ، ایمان والے اپنی '' زُبان '' کے استعمال کے بارے میں بہت ہی محتاط ہوتے ہیں اور فالتو باتوں سے دُور ہی دُور رہتے ہیں ، نہ کرتے ہیں نہ سُنتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا [[[ قَد افلَحَ المُؤمِنُونَ الَّذِینَ ھُم فِی صَلَاتِھِم خَاشِعُونَ O وَالَّذِینَ ھُم عَن اللَّغوِ مُعرِضُونَ O وَالذَّینَ ھُم لِلز ّکٰوۃِ فَاعِلُونَO وَالذَّینَ ھُم لِفُرُوجِھِم حَافِظُونَ O الّا عَلیٰ ازاوجِھِم او مِا مَلکَت ایمَانُھُم فَانَّھُم غَیرُ مَلُومِینَ O فَمَن ابتَغٰی وَراءَ ذَلِکَ فَاولِٰۤئِکَ ھُمُ العٰدُونَ O وَالَّذِینَ ھُم لِامَانَتِھِم رٰعُونَ O وَالَّذِینَ ھُم عَلٰی صَلوٰتِھِم یُحَافِظُونَ Oاولِٰۤئِکَ ھُمُ الوٰرِثُونَ O الَّذِینَ یَرِثُونَ الفِردُوسَطھُم فِیھَا خَالِدُونَO]]] [[[یقینا ایمان والے فلاح پا گئے O وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع ( اللہ کے سامنے انکساری) اختیارکرتے ہیں O اور وہ جو فالتو باتوں اور کاموںسے مُنہ موڑلیتے ہیں O اور جو اپنی زکاۃ ادا کرتے ہیں O اورجو اپنی شرمگاھوں کی حفاظت کرتے ہیں O سوائے اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں کے یقینا یہ ملامت کیئے جانے والوں میں سے نہیں ہیں O ( لہذا ) جو کوئی اسکے عِلاوہ کچھ اور چاہیں گے وہ ہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں O اور ( ایمان والے ) جو اپنی امانتوں اور وعدوں ( کی تکمیل )کا خیال رکھتے ہیں O اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں O یہی ہیں وارث O جو (جنّتِ) فِردوس کےوارث ہوں گے جِس میں وہ ہمیشہ رہیں گےO ]]]سورت المؤمنون / ایت ١ تا ٣ اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو پُکار کر حُکم دیتے ہوئے فرماتا ہے ، [[[ یَا ایُّھَا الَّذِینَ امَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَولا سَدِیدا O یُصلَح لَکُم اعمَالَکُم و یَغفِر لَکُم ذُنُوبَکُم وَمَن یُطِع ِ اللَّہ َ وَ رَسَولَہُ فَقَد فَاز َ فَوزًا عَظِیمَا ]]] [[[ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ ( کے عذاب )سے بچو ، اور سیدہی سیدہی (سچی ) باتیں کیا کرو O اللہ تمہارے تمام کام سنوار دے گا اور تمہارے گُناہ معاف کر دے گا اور جو کوئی اللہ اور اسکے رسول کی تابع فرمانی کرے گا یقینا بہت بڑی کامیابی حاصل کرے گا ]]] سورت الاحزاب /ایت ٧٠،٧١ اور فرمایا [[[ وَ مَا یَلفِظُ مِن قَولٍ الَّا لَدیہِ رَقِیبٌ عَتِید ]]] [[[ اور ( انسان ) ایک لفظ بھی جو زُبان سے نکالتا ہے ، تو اس کے پاس ( ہر لفظ کو حساب کے لیئے محفوظ کرنے والا ) نگران تیار اور حاضر ہوتا ہے ]]] سورت ، ق/ ایت ١٨ لہذا ہمیں اپنی '' زُبان '' کے استعمال میں یہ خیال رکھنا ہی چاہیئے کہ ہم اسے لغویات میں استعمال کر رہے ہیں ، یا صاف سیدہی سچی بات کرنے میں ، گُناہ میں استعمال کر رہے ہیں یا نیکی کمانے میں ، اللہ کی مخلوق کی بھلائی کےلیئے استعمال کر رہے ہیں ، یا انکی برائی کےلیئے ، مُسلمانوں کی جان مال عزت کے دفاع کےلیئے استعمال کر رہے ہیں یا ان پر حملے کر رہے ہیں ، بلکہ ان کو لُوٹ رہے ہیں یا لُوٹے جانے کا سبب بن رہے ہیں ،اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں یا اس کی ناراضگی اور عذاب کمانے میں ، دونوں صورتوں کا انجام ہمارے سامنے ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد اپ نے پڑھ لیا ، اب رسول اللہ صلی اللَّہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی مُلاحظہ فرمائیے [[[ انَّ العَبدَ لَیَتکَلمُ بالکَلِمَۃِ مِن رِضوَان ِ اللَّہِ لا یُلقی لَھَا بَالا، یَرفَعُ اللَّہ ُ بِھَا دَرَجَات ، وَ انَّ العَبدَ لَیَتکَلمُ بالکَلِمَۃِ مِن سَخطِ اللَّہِ ، لا یُلقی لَھَا بَالا، یَہوِی بِھَا فِی جَھنَم ]]] [[[ کبھی انسان اللہ کی رضا والی ایسی بات کرتا ہے جِس کا اسے خود بھی احساس نہیں ہوتا لیکن اللہ اس بات کی وجہ سے بات کرنے والے کے درجات بُلند کر دیتا ہے ، اور کبھی انسان اللہ کی ناراضگی والی ایسی بات کرتا ہے جِسکا اسے خود بھی احساس نہیں ہوتا لیکن اللہ اس بات کی وجہ سے بات کرنے والے کو جہنم میں ڈال دیتا ہے ]]] صحیح البُخاری /حدیث ٦٤٧٨/کتاب الرقاق/باب٢٣ ،،، ذرا غور فرمائیے یہ معاملہ ایسی باتوں کا ہے جِن کے شرعی حُکم اور اخرت میں ان کے نتیجے کا بات کرنے والے کو احساس نہیں ہوتا ، تو ان باتوں کا کیا معاملہ ہو گا جِن کے شرعی حُکم اور اخرت میں ان کے نتیجے کا بات کرنے والے کو عِلم ہو ، کتنی باتیں ہم بس کر دیتے ہیں اور کرتے ہی رہتے ہیں ، جو دِلوں کو جلا دیتی ہیں ، گھروں کو اجاڑ دیتی ہیں ، لوگوں کے مال اور حقوق کو تلف کر دیتی ہیں ، لوگوں کی محبتوں کو نفرتوں میں بدل دیتی ہیں ، پُر امن انسانوں کو وحشی قاتل اور جنونی مُجرم بنا دیتی ہیں ، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خود بات کرنے والا بھی اپنی ہی بات کا شِکار ہو جاتا ہے ، واہ ، یا ، ہائے ، دُنیا میں بھی ذلت و نُقصان اٹھایا اور پھر اخرت میں بھی وہ بات یا باتیں اسکے انتظار میں ہیں ابھی چند سطر پہلے اللہ تعالیٰ کا ایک فرمان نقل کیا تھا ، پھر پڑھیئے ، اللہ کرے کہ یہ بھی ہمارے دِلوں میں بیٹھ جائے [[[ وَ مَا یَلفِظُ مِن قَولٍ الَّا لَدیہِ رَقِیبٌ عَتِید ]]] [[[ اور ( انسان ) ایک لفظ بھی جو زُبان سے نکالتا ہے ، تو اس کے پاس (ہر لفظ کو حساب کے لیئے محفوظ کرنے والا ) نگران تیار اور حاضر ہوتا ہے ]]] سورت ، ق/ ایت ١٨ کتنی باتیں بس کی جاتی ہیں ، اور ان کی سچائی کا کچھ پتہ نہیں ہوتا انکی دُرُستگی کا کوئی ثبوت کرنے والے کو معلوم نہیں ہوتا،،،،، بات ہی تو ہے ،،،،، لیکن ، ایسی باتیں کرنے والے کا انجام کیا ہو گا ، سُنیئے ، رسول اللہ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ انَّ العَبدَ لَیَتَلّمُ بِالکَلِمَۃَ مَا یَتَبِینُ فِیھا یَزِل فی النَّارِ ابعَدُ مَا بَینَ المَشرِقِ، وَ المَغرِبِ ]]] [[[ کبھی انسان کوئی ایسا لفظ بولتا ہے جِسکی (سچائی کی ) کوئی دلیل نہیں ہوتی ، تو اس لفظ کی وجہ سے اسے جہنم میں مشرق اور مغرب کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ گہرائی میں پھینکا جائے گا ]]] صحیح مُسلم /حدیث٢٩٨٨ /کتاب الزُھدوالرقائق/باب٦ ، صحیح البُخاری /حدیث ٦٤٧٧/کتاب الرقاق/باب٢٣ ،، کہنے کو تو صِرف ، بات ہی تو ہے ،لیکن بات کیا کیا ہوتی ہے اور کیا کیا کرواتی ہے اور کروائے گی ، ذرا غور فرمائیے ، [[[1]]] قذف یعنی الزام تراشی ، [[[ بُہتان لگانا]]] کِسی مُسلمان مرد یا عورت پر الزام ، بہتان لگانا ، [[[ ١]]] اسکے کردار کے بارے میں ، یا [[[٢]]] اسکے ایمان کے بارے میں ، ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ ایک لمبی حدیث میں رسول اللہ صلی اللَّہ علیہ وسلم کا فرمان ہے [[[ وَ مَن بَھَتَ مؤمنا او مؤمنۃً حَبَسَہُ اللَّہ ُ فی ردغَۃ الخَبَالِ یوم القیامۃ حتیٰ یَخرُج مما قالَ و لیس بِخارجٍ ]]] [[[ جِس نے کِسی ایمان والے مرد یا عورت پر کوئی الزام لگایا ، تو اللہ تعالیٰ اس الزام لگانے والے کو اہل جہنم کو پیسنے والی جگہ میں قید کر دے گا اور وہ شخص وہاں سے اس وقت تک نہیں نکلنے پائے گا جب تک کہ وہ اپنے لگائے ہوئے الزام سے نہیں نکل پاتا ، اور ایسا کبھی نہیں ہوگا ]]] معجم الکبیر ، حدیث صحیح ہے ، مُسند احمد /حدیث ٥٥٤٤ ، ٥٥٥٢ [[[1]]] لفظ قذف کا عام مفہوم ہے کِسی پاکباز عورت پر بدکاری کا الزام لگانا،،،،، بات ہی تو ،،،،، جو بہت آسانی سی کر دی جاتی ہے ،،،،، لیکن ،،،،، اللہ کا فرمان ہے [[[ انَّ الَّذِینَ یرمُونَ المُحصَناتِ الغٰفِلٰتِ المُؤمِنَاتِ لُعِنُوا فِی الُّنِیا وَ الاٰخِرۃ وَلَہم عَذَابٌ عَظِیمٌ ]]] [[[جو لوگ پاک دامن ، بُرائی سے غافل ، ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ، ان پر دُنیا اور اخرت میں لعنت کر دی گئی ہے اور ان کے لیئے بہت برا بھاری عذاب ہے ]]] سورت النور/ایت ٢٣ ،،، اور دُنیا کی سزا کے طور پر فرمایا [[[وَالَّذِینَ یرمُونَ المُحصَناتِ ثُمَّ لَم یاتُوا بِاربَعۃ شُہدَاءَ فَاجلِدُوا ھم ثَمَانِیۃ جَلدَۃ وَلا تَقبَلُوا شَہادَتِہم ابَدا اولٰۤئِکَ ھم الفَاسِقُون ]]] [[[اور وہ لوگ جوپاک دامن عورتوں پر تهمت لگاتے ہیں ، اور پھر ( اس تہمت کے ثبوت کے طور پر ) چار گواھوں کو پیش نھیں کر پاتے ، تو ان تُہمت لگانے والوں کواسی ٨٠ کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی انکی گواھی قبول مت کرو یہ ہی فاسق لوگ ہیں]]] اللہ نے ایسا کرنے والوں کو دُنیا میں اسی ٨٠ کوڑے مارنے اور انکی گواہی ناقابل قبول ہو جانے کی سزا دی اور ان پر فاسق ہونے کا حُکم لگا دیا ، ذرا سوچیئے جو فاسق ہونے کی حالت میں مرے گا اس کا انجام کیا ہوگا ؟ اور یہ معاملہ صرف عورتون پر بدکاری کے الزام تک محدود نھیں بلکہ اگر کِسی مرد یا بچے یا بچی پر اس قِسم کا الزام لگانے کا بھی یھ ھی معاملھ ھے، جیسا کہ اوپر نقل کی گئی حدیث مین بیان ھوا ھے ، کہ ھر ایمان والے مرد اور عورت پر بھتان تراشی کا ایک ھی حُکم ھے ، افسوس اور صد افسوس کہ ھمارے مرد حضرات ایک دوسریے کو مُخاطب کرتے ھوئے یا کِسی کا ذِکر کرتے ھوئے ایک دو الفاظ بھت ھی کثرت سے استعمال کرتے ھیں جو بالکل بدکاری کا الزام ھوتے ھیں، اللھ ھمیں مُسلمانوں کی عزتوں کی حفاظت کرنے والا بنائے نہ کہ زُبان کا مزھ لیتے لیتے مُسلمانوں کے عزتیں لوٹنے والا ۔ [[[2]]] کسی مسلمان کے ایمان پر الزام لگانا ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ اذا قَالَ الرَّجُلُ لِاخِیھ '' یا کافِر '' فَقَد باءَ بِھا احدھما فَان کَانَ کَما قَالَ وَ الا رجعَت عَلِیھ ]]] [[[ اگر کوئی اپنے ( مسلمان ) بھائی کو کافر کھتا ھے تو ( یہ بات ) دونوں میں سی کِسی ایک پر ضرور سچی ھو جاتی ھے اگر تو وہ جِسے(کافر) کہا گیا ھے ویسا نھیں ہے تو وہ بات کہنے والے پر پوری ھو جاتی ھے]]] ( یعنی وہ کہنے والاکافر قرار پاتا ھے ) صحیح البُخاری/حدیث٦١٠٤/ کتاب الادب /باب ٧٣ ، صحیح مُسلم /حدیث ٦٠ ،،، ھم میں سے کتنے ایسے ھیں جو کِسی مُسلمان پر ناراضگی کا اظہار فرماتے ھوئے اسے منافق یا مُشرک وغیرھ کھتے ھوئے رتّی برابر بھی نھیں ہچکچاتے . [[[ 2]]] قسم اٹھانا ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، غلط ھونے کی صورت میں اللھ نے کُفارھ ادا کرنے کا حُکم دِیا ، اور اللھ کے عِلاوھ کِسی اور کی قسم اٹھانا یا کھانا حرام ھے ، شرک ھے ، رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ مَن کان حالفا فَلیحلف باللَّہ او لَیصمُت ]]] [[[ اگر کوئی قسم اٹھانا چاھے تو اللہ کی قسم اٹھائے یا خاموش رھے ]]] صحیح البُخاری /حدیث٢٦٧٩/کتاب الشھادات /باب٢٦ اور فرمایا[[[ الا مَن کان حالفا فَلا یحلف الَّا باللَّہ ]]][[[ خبرادار جو کوئی قسم اٹھانا چاہے تو اللہ کے علاوہ کِسی بھی اور کی قسم نہ اٹھائے ]]] صحیح البُخاری /حدیث٣٨٣٦/کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللَّہ علیہ وسلم / کتاب مناقب الانصار / باب٢٦ ، گو کہ رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کے حُکم مُبارک سے یھ صاف پتھ چلتا ھے کہ اللھ کے عِلاوہ کِسی بھی اور کی قسم اٹھانا حرام ھے ، لیکن پھر بھی ھمارے ھاں لوگوں کی عادات میں سے ہے کہ وہ طرح طرح کی قسمیں اٹھاتے رھتے ہیں ، کہیں بچوں کی قسم ، کبھی بڑوں کی قسم ، کبھی '''آپ کی قسم ''' ، کبھی قُران کی قسم ، کبھی کلمھ کی قسم ، کبھی کعبھ کی قسم ، کبھی بزرگوں ، ولیوں ، شہیدوں ، اور نبیوں کی قسم ، یہ سب قسمیں غیر اللھ کی ھیں،اور رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کے حُکم اور فیصلے کے مُطابق اللھ کے عِلاوھ کِسی بھی اور کی قسم اٹھاناکُفر اور شرک ھے ، اللھ تعالیٰ ھمیں اس سے بھی محفوظ رکھے ، مُقدس چیزوں یا کاموں کی قسم اٹھانے کے بارے میں لوگ زیادھ غلط فھمی کا شکار ھیں اور ان کاموں یا چیزوں کے تقدس کے وجھ سے انکی قسم اٹھاتے ھیں ، جبکہ اللھ تعالیٰ کے عِلاوہ کِسی بھی اور کا یہ تقدس اور حق نھیں کہ اس کی قسم اٹھائی جائے ، اور اسی لیئے رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے اللھ کے عِلاوہ کِسی کی بھی قسم اٹھانے سے منع فرمایا ھے ، مُلاحظہ فرمائیے ،،، عبداللھ ابن عُمر رضی اللھ عنھما نے کِسی کو کعبہ کی قسم اٹھاتے ھوئے سُنا تو کہا ::: اللھ کے عِلاوھ کِسی بھی اور کی قسم نھیں اٹھائی جاسکتی ، میں نے رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کو فرماتے ھوئے سُنا ھے کھ [[[ مَن حَلَفَ بِغَیرِ اللَّہ فَقَد کَفَرَ او أشرَکَ ]]] [[[ جِس نے اللھ کی عِلاوہ کِسی اور کی قسم اٹھائی تو اس نے کُفرکِیا یا شِرک کِیا]]] سُنن الترمذی / حدیث ١٥٣٥ / کتاب النذور و الایمان / باب ٨ ما جا فی کراھیة الحلف بغیر اللھ ، صحیح ، ارواءُ الغلیل / حدیث ٢٥٦١ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [[[ مَن حَلَفَ بِالامانَةِ فَلَیسَ مِنَّا ]]] [[[ جِس نے فرض عبادات [[[جیسے نماز روزھ حج وغیر ھ ]]]میں سے کِسی کی قسم اٹھائی تو وہ ھم میں سے نھیں ]]] سُنن ابی داؤد /حدیث ٣٢٥٣/کتاب الایمان و النذور/باب ٦ فی کراھیة الحلف بالامانة ، امام الالبانی نے فرمایا کھ یھ حدیث صحیح ھے سلسلة الاحادیث الصحیحہ/ حدیث ٩٤ ، یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ھے ، اس اور اس سے اگلی کے بعد والی حدیث کی شرح جاننے کے لیئے میری کتاب ''' وہ ھم میں سے نھیں ''' کا مُطالعہھ انشاء اللھ مُفید ھو گا ، ایک دفعہ ایک یھودی رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ::: اے مُحمد تُم لوگ تو اللھ کے ساتھ برابری کرتے ھو اور اللھ کے ساتھ شِّرک کرتے ھو ، تُم لوگ ایک دوسرے سے کہتے ھو ''' ما شاءَ اللَّھ ُ و شِئتَ ،جو اللھ چاھے اور تُم چاھو ''' اور کہتے ھو و الکعبہ ، کعبہ کی قسم ::: تو رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے [[[ صحابہ رضی اللھ عنھم اجمعین کو مُخاطب کرتے ھوئے ]]] حُکم فرمایا کہ اگر وہ قسم اٹھائیں تو کہیں [[[ و رب الکعبہ ]]] [[[ کعبہ کے رب کی قسم ]]] اور کہیں [[[ ما شاءَ اللّہ ُ ثُمَّ شِئتَ ]]] [[[ جو اللھ چاھے اور پھر جو تُم چاھو ]]] یعنی اللھ کی اجازت کے بعد اور اس کی دی ھوئی قدرت کے مُطابق جو تُم چاھو ، سُنن النسائی /حدیث ٣٨٧٢/ کتاب الایمان / باب ٩ الحلف بالکعبھ ، سلسلھ الاحادیث الصحیحة /حدیث ١٣٦ ، اور ھمارے لوگ زندھ و مردھ سچے اور نام نھاد بزرگوں اور ولیوں کے بارے میں اج یہی عقیدھ رکھتے ھیں کھ وھ جو چاھیں کر دیتے ھیں ، اور ان کی قسمیں اتھاتے رھتے ھیں ، جبکھ رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ مَن حَلَف َ فَقَال فِی حَلفِھ :: بِالَّاتِ و العُزی :: فَلیقُل :: لا الھ َ الَّا اللَّھ ُ :: و مَن قَالَ لِصَاحِبِھ تَعال اقامِرُکَ ، فَلیتَصدَّق ]]] [[[ اگر کوئی قسم اٹھاتے ھوئے اپنی قسم میں لات اور عزی کی قسم اٹھائے تو وھ کہے کھ اللھ کے عِلاوھ کوئی سچا معبود نھیں ، اور جو اپنے کِسی ساتھی سے کہے ، او میرے ساتھ بازی لگاؤ ( یعنی جوا کھیلو ) ، تو ایسا کہنے والا ( گناھ کی دعوت دینے پرکفارے کے طور پر ) صدقھ کرے ]]] صحیح البُخاری /حدیث ٤٨٦٠ / کتاب التفسیر / باب تفسیر سورت النجم / حدیث ٢ ،،صحیح مُسلم /حدیث١٦٤٧ / کتاب الایمان و النذور / باب ٦ اس حدیث میں رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے اللھ کے عِلاوھ باطل معبود کی قسم اٹھانے کے کفارے کے طور پر اللھ کے اکیلےمعبودِ حق ھونے کی شھادت دینے کا حُکم فرمایا ھے ، اور یھ اس بات کی دلیل ھے کھ اللھ کے علاوھ کِسی اور کی قسم اٹھانے والا ایسا شرک اور کبیرھ گُناھ کرتا ھے جِسکی وجھ سے تجدید اسلام کی ضرورت پیش اتی ھے ، اور اسکے تجدید اسلام کلیئے ھی رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے یھ حُکم دیا ھے کھ [[[ فَلیقُل :: لا الھ َ الَّا اللَّھ ُ ]]] [[[ وھ ( یعنی قسم اٹھانے والا ) کہے اللھ کے عِلاوھ کوئی سچا معبود نھیں ]]] دیکھئے رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے ایسی شخصیات جِن کو ولی اور اللھ کے قریبی سمجھ کر ان سے دُعائیں کی جاتی ھیں ، ان کے نام کے چڑھاوے چڑھائے جاتے ھیں ، نذریں منتیں مانی اور دی جاتی ھیں ، ان کی قسم کھانے والے کو فورا اللھ کے یک و تنھا سچا معبود ھونے کے اقرار کی زُبانی ادائیگی کا حُکم صادر فرمایا ، غور کیجیئے ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، ایک بات گویا کہ ایمان ختم کر دینے والی ھے اور دوسری ایمان کی تجدید کرنے والی ، اگر کوئی یہ سوچے کھ لات و عُزیٰ تو مکھ کے مشرکوں کے معبود تھے اور ہم جِن کی قسم اٹھاتے ہیں وہ تو مُسلمان اور اللہ کے ولی ہیں ،تو ایسا سوچنے والا غلطی پر ھے ، کیونکھ مکھ کے وھ مشرک بھی لات و عُزیٰ اور جِن جِن سے وھ اللھ کے عِلاوہ دُعائیں کرتے تھے اور ان کے ناموں پر چڑھاوے چڑھاتے تھے، ان میں سے کِسی کو بھی وہ اللھ کا شریک نھیں مانتے تھے ، بلکھ اللھ کے ولی اور اللھ کے ھاں بھت عزت اور مُقام رکھنے والے جانتے تھے، اور اس لیئے ان سے دُعائیں کرتے تھے کھ وہ ان کی دُعائیں اللھ کی سامنے پیش کریں ، اور ان دُعائیں کرنے والوں کو اللھ کے قریب کر دیں تا کہ اللھ تعالیٰ انھیں وھ دے دے جو وھ مانگ رھے ھیں ،[[[ الَا لِلَّھ الدِّینُ الْخَالِصُ وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مِن دُونِھ اوْلِیاء مَا نَعْبُدُھمْ الَّا لِیقَرِّبُونَا الَی اللَّھ زُلْفَی انَّ اللَّھ یحْکُمُ بَینَھمْ فِی مَا ھمْ فِیھ یخْتَلِفُونَ انَّ اللَّھ لَا یھدِی مَنْ ھوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ ]]] [[[خبرادار ، اللھ تعالیٰ کے لیئے ھی خالص عبادت کرنا ( جائز ) ھے ، اور جِن لوگوں نے اللھ کے عِلاوھ ولی بنا رکھے ھیں [[[ اور وہ لوگ یہ کہتے ھیں]]] کہ ہم انکی عِبادت ( یعنی ان سے دُعائیں اور انکے نام کے چڑھاوے ، نذریں منتیں ماننا اور دینا ، یھ سب کام عِبادت ھیں ) صرف اس لیئے کرتے ھیں کہ (یہ بزرگ ، ولی ہمیں ) اللھ کے نزدیکی لوگوں میں شامل کروا دیں ، یھ لوگ جِس میں اختلاف کر رہے ھیں ، اس کا (صحیح) فیصلہ اللھ خود کرے گا ، اور جھوٹے اور ناشُکرے لوگوں کو اللھ راہ نھیں دِکھاتا]]] سورت الزُمر /ایت ٢ اور دُعا عِبادت ھے ، جیسا کھ اللھ تعالی فرماتا ھے [[[ وَقَالَ رَبُّکُمُ ادعُونِی استَجِب لَکُم انَّ الَّذِینَ یستَکبِرُونَ عَن عِبَادَتِی سَیدخُلُونَ جَھنَّمَ دَاخِرِینَ ]]] [[[ اور تمھارا رب [[[فیصلھ کُن طور پر]]]کہتا ھے کہ مجھ سے دُعا کرو میں تمھاری دُعائیں قُبُول کروں گا ، بے شک جو لوگ میری عِبادت کرنے سے خود سری کرتے ھیں وھ بھت جلد ھی ذلیل ھو کر جھنم میں داخل ھوں گے ]]] سورت الغافر(المؤمن) / ایت ٦٠ ، اور رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے اس ایت کی طرف اشارھ فرماتے ھوئے ارشاد فرمایا [[[ الدُّعاءُ ھوَ العِبَادَة ، قَالَ رَبُّکُم ادْعُونِی استَجِب لَکُم]]] [[[ دُعا عین عِبادت ھے، (اسی لیئے ) تمھارے رب نے کہا ھے ، مجھ سے دُعا کرو میں تمھاری دُعائیں قُبُول کروں گا ]]] سُنن ابی داؤد /حدیث ١٤٧٦/کتاب الصلاة/تفریح ابواب الوتر /باب٣٥٤ باب الدُعاء، صحیح سُنن ابی داؤد / حدیث ١٣٢٩ پس ھر وہ چیز ، یا شخصیت جِس سےدُعا کی جاتی ہے اسکی عبادت ھو رھی ھے ، اللھ کےحقوق میں سے ایک حق ، اس کو دِیا جا رھا ھے، جو کام صرف اللھ تعالیٰ کے لیئے کیاجانا چاھئے وہ اس کے لیئے بھی کیا جا رھا ھے ، اللھ تعالیٰ کی صفات کا حامل اسکو بھی جانا جا رھا ھے ، کہیں کوئی مُشکل کُشا ھے، کہیں کوئی حاجت روا ھے ، کہیں کوئی داتا ھے ، کہیں کوئی جنّت کے دروازے لگائے ھوئے جنت میں داخلے کروا رہا ھے، کہیں کوئی اولاد دینے کیلیئے اجازت یافتہ ( لائسنس ھولڈر ، License holder ) ھے ، اور چونکہ زمانہ ماھرین کا ھےلھذا ان میں مختلف معاملات کے ماھرین ( specialist ) بھی ھیں تو کہیں کوئی بیٹے بانٹتا ھے اور کوئی بیٹیاں ، کوئی کاروبار کی ترقی کیلیئے اجازت یافتھ ھے ، تو کوئی من پسند رشتے کروانے والا ھے، اور ، اور ، اور ، اج مُسلمان ھو کر بھی ھم میں سےکتنےھیں جو مُشرکینِ مکھ سے بھی زیادھ شِّرک والے عقیدے رکھتے ھیں اور ان پر عمل کرتےھیں اور بُزرگوں اور ولیوں کو اللھ کےقریب کرنےوالا ھے نھیں بلکہ اپنی مرضی سے کام کرنے والا مانتے ھیں ، ،انَّا لِلَّہ و انَّا الیہ رَاجِعُون۔ یہاں ھمارا موضوع یہ نھیں تھا چلتے چلتے ذِکر ا گیا ،، بات ھو رھی تھی اللھ کے عِلاوھ کِسی اور کی قسم اٹھانے کی، جِس میں ھمارا حال یہ ھےکہ نہ جانے کِس کِس کی قسم اٹھائی جاتی ھے اور کیا کیا قسم اٹھائی جاتی ھے . اللھ تعالیٰ ھمیں اپنی زُبانوں کی حفاظت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے . [[[2]]] طلاق ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، کتنے گھر، کتنی زندگیاں ،کتنے خاندان اجڑ جاتے ھیں بلکھ بعض اوقات تو کئ زندگیاں ختم ھو جاتی ھیں. [[[ 3 ]]]جھوٹ ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، ایسی بات کرنے والے پر اللھ کی لعنت ھے ، اور اس کا ٹھکانہ جھنم ھے ، اور دُنیا میں بھی جھوٹے کی کوئی عزت و قدر نھیں ، خواھ لوگ اسکی باتوں پر خوش ھوتں ھوں ، اسکو بلا بلا کر محفلین منعقد کرواتےھوں ، لیکن عزت و قدر کچھ نھیں ھوتی بلکہ وھ بھانڈ اور میراثی سمجھا جاتا ھے ، یا ذرا مھذبانہ الفاظ میں '' فنکار '' یا '' انٹرٹینر '' ، اور پھر یہ بھی کہتے ھیں کہ لوگوں کو خوش رکھنا عِبادت ھے ، جھوٹ بول کر !!! حرام کام کر کے عِبادت !!! ؟ کِس کی عِبادت ھے ؟ اللھ کی یا شیطان کی ؟ رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا[[[ ویلٌ لِمَن یحدِثُ فَیکذِبُ لِیضحِکَ بِہ القَومَ ، وَیلٌ لَہ ُ ، وَیلٌ لہ ُ ]]] [[[ اسکے لیئے ہلاکت ھے جو کِسی کو ھنسانے کیلیئے جھوٹ بولتا ھے ، اسکے لیئے ہلاکت ھے ، اسکے لیئے ہلاکت ھے ]]] سُنن الترمذی / حدیث ٢٣١٥ /کتاب الزُھد / باب ١٠ ، ،حدیث حسن ھی ، صحیح الجامع الصغیر ، للالبانی ،حدیث ٧١٣٦ ، [[[5]]] غیبت یعنی [[[ ١]]] کِسی کا کوئی عیب یا برائی جِس کو لوگ نہ جانتے ھوں اور وھ لوگوں کیلیئے نُقصان دھ بھی نہ ہو ،اسکو لوگوں میں نشر کرنا ، اور [[[٢]]] کِسی کے بارے میں کوئی بھی ایسی بات جو اگر وھ شخص سُنے تو اسے بُرا لگے یا دُکھ پھنچے ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، اللھ تعالیٰ نے اسے اپنے مُردھ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر قرار دیا. سورت الحُجرات/ایت١٢ ، ھر مُسلمان سمجھ سکتا ھے کھ اتنا بڑا گُناھ کرنے والے کا انجام کیا ھو گا ؟ [[[6]]] نمیمہ یعنی لوگوں میں بگاڑ اور فساد اور دُشمنی پھیلانے والے قصے کھانیاں ادھر ادھر سُناتے پھرنا ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ لا یدخُلُ الجنّة قَتات ]]][[[ نمیمھ کرنے والا جنت میں داخل نھیں ھو گا ]]]صحیح البخاری /کتاب الادب /باب ٥٠. [[[7]]] لعنت کرنا باتوں باتوں میں کِسی کا ذِکر کرتے کرتے اسے لعنت کھنے یا اس پر لعنت بھیجنے والے بہت سُنائی دیتے ھیں ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ لعن المؤمِن کَقتلھ ]]] [[[ کِسی ایمان والے کو لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے برابر ھے ]]] معجم الکبیر ، مُسند احمد ، مسند البزار ، اور کِسی کو بغیر حق کے قتل کرنے والے کا انجام جھنم ھے . [[[8]]] گالی دینا ، جھگڑے والی بات کرنا ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا[[[ سباب المُسلم فُسُوقٌ و قِتالھ ُ کُفرٌ ]]] [[[ مُسلمان کو گالی دینا فِسق ھے اور اس سے جھگڑا کرنا کُفر ھے]]] صحیح البخاری /کتاب الادب /باب٤٤ ، اور ھمارے معاشرے میں ایک عام سی عادت ھو چُکی ھے کہ کِسی کا ذِکر کرتے ھوئے ایک دو گالی دینا کچھ بُرائی نھیں سمجھا جاتا ، بلکھ اگر اسکے بغیر بات کی جائے تو اسے کمزور سمجھا جاتا ھے، بے تکلف اور اچھی دوستی ایک دوسرے کو گالیاں دیئے بغیر بنتی نہیں، انَّا لِلَّھ وَ انَّا الِیھ رَاجِعُونَ ، ھم میں سے کتنے اس کا شِکار ھیں. [[[9]]] مذاق اڑانا ، طعنھ دینا ، عیب لگانا ، بُرے لقب دینا کِسی کی کمزوری سے فائدھ اٹھاتے ھوئے اسے کمتر جانتے ھوئے اسکا مذاق اڑانا ، کیونکہ وھ جواب دینے کی طاقت نھیں رکھتا ، یا کِسی کی کمزوری کو عیب بنا کر اسکو طعنھ دینا ، جیسے ابے گنجے ، او کالے ، ارے موتی وغیرھ ، کِسی کو بُرے القاب دینا ، مذاق کے نام پر گالیاں دیتے ھوئے کِسی کی عزت اچھالنا ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، اللھ تعالیٰ فرماتا ھے [[[ یٰۤایھاالَّذِینَ اٰمَنُوا لَا یسخَر قَومٌ مِن قَومً عَسٰی ان یکُونُوا خَیرا مِنھم وَ لَا نِساءٌ مِن نِساءٍ عَسٰی ان یکُنَّ خَیرا مِنھنَّ وَ لا تَلمِز ُوۤا انفُسَکُم وَلَا تَنَابَزُوا بِِالالقَابِ ط بِئسَ الاسمُ الفُسُوقُ بَعدَ الایمَانِ ج وَمَن لَم یتُب فَاولٰۤئِکَ ھمُ الظّالِمُونَ ]]] [[[ اےلوگو جو ایمان لائے ھو ، ایک دوسرے کا مذاق نھ اڑاؤ مُمکن ھے یہ ( جِنکا مذاق اڑایا جاتا ھے ) ان سے (جو مذاق اڑاتے ھیں) بھتر ھوں اورنھ ھی عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ، اور اپس میں ایک دوسرےکو عیب نھ لگاؤ، اور نھ کِسی کو بُرے لقب دو ،ایمان (قبول کر لینے) کےبعد (کُفر اور )گناھ والے نام (دینا) بہت بُرا ھے، اور جو (ان کاموں سے) توبھ نھ کرے وھ ھی ظالم ھے]]] سورت الحُجرات /ایت١١ ،، اس ایت میں ایک بات کافی غور طلب ھےکھ اللھ تعالیٰ نے سب ایمان والوں کو ایک عام حُکم دینےکے بعد عورتوں کو خاص طور پر حُکم دِیا ھےکا اس ایت میں ذِکر کِیا گیا ھے ، وھ باتیں کرنے والے اگر توبھ نھیں کرتے تو اللھ تعالیٰ نے انکو ظالم قرار دِیا ھے ، اورکِسی بھی قِسم کا کوئی بھی ظُلم کرنے والا ظالم ھوتا ھے[[[ واللَّھ ُ لا یحِبُ الظَّالِمِینَ ]]] [[[ اور اللھ ظُلم کرنے والوں کو پسند نھیں کرتا ]]] سورت ال عمران/ایت ١٤٠، اور [[[ الا لَعنت ُ اللَّھ عَلٰی الظالمِینَ ]]] [[[ بے شک ظُلم کرنے والوں پر اللھ کی لعنت ھے]]] سورت ھود/ایت ١٨ ، اور ظالموں کا تھکانا جھنم ھے. [[[ الا انَّ الظَّالِمِین فی عَذابٍ مُقِیم ]]] [[[ بے شک ظُلم کرنے والے ھمیشہ رھنے والے عذاب میں ھوں گے]]] سورت الشُّوریٰ /ایت ٤٥ اللھ تعالیٰ ھمیں ھر کِسی کے ظُلم سے محفوظ رکھے ، نھ کرنے والوں میں بنائے اور نھ جِن پر کیا جاتا ھے ان میں سے . [[[10]]] بے حیائی اور بے شرمی والی بات ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ لیس المؤمن بالطعان و لا اللعان و لا الفاحش و لا البذیء ]]] [[[ ایمان والا نھ تو طعنےدینے والا ھو تا ھے اور نھ ھی لعنت کرنے والا ، اور نھ ھی بُری بات کرنے والا ،اور نھ ھی بے حیائی کی باتیں کرنے والا ]]] صحیح الترمذی ١٦١٠ [[[11]]] بغیر یقینی عِلم کے جواب دینا اگر کِسی سے کوئی بات پوچھی جائے تو اکثریت کا حال یھ ھوتا ھے کھ وھ کوئی نھ کوئی جواب دے کر ھی سوال کرنے والے کو رُخصت کرتے ھیں ، کھ کھیں اس کی بارے میں یھ خیال نھ کر لیا جائے کھ وھ جانتا نھیں ، یھ معاملھ دینی فتوؤں میں زیادھ پایا جاتا ھے ، کیونکھ مسلمانوں کی عادت بنائی جا چکی ھے کھ وھ اپنے اپنے پسندیدھ اشخاص کی بات کو بلا دلیل مان لیتے ھیں ، اور بعض لوگ اپنی بات کو جاندار بنانے کے لیئے کہتے اور لکھتے رھتے ھیں کھ ـ '' حدیث میں ایا ھے '' ، '' حضور سے مروی ھے " وغیرھ ، اور انکی بات کو ان کا عقیدت مند بڑی ھی عقیدت اور یقین کے ساتھ قبول کرتا ھے ، دِین کا معاملھ جو ھوا ، لیکن دُنیاوی معاملات میں عام طور پر ایسا نھیں ھوتا عقیدت احترام اپنی جگہ ، ھر کوئی بات کی چھان پھٹک کرنا چاھتا ھے ، بہر حال ، معاملھ دینی ھو یا دُنیاوی جواب دینے والا تو جواب دے ھی دیتا ھے ،بات کر ھی دیتا ھے ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، ،، رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ مَن قَال عَلیّ مَا لَم اقُل فَلیتَبواء مَقعَدَھ، مِن النَّارِ ، وَ مَن استَشارَھ اخاھ، فاشارَ عَلیھ بِغَیر رُشدھ فقد خانَھ ،وَ مَن افتیٰ بِفُتیا غَیر ثبتٍ فِانَّمَا اثمھ علیٰ مَن افتیٰ ]]] [[[ جِس نی مجھ سے منسوب کر کے کوئی ایسی بات کہی ، جو میں نے نہ کہی ھو تو اسکا ٹھکانھ جھنم ھے ، اور جِس سے اسکا کوئی (مُسلمان) بھائی مشورھ طلب کرے اور وھ بغیر ھدایت والا ( یعنی جِسکی درستگی اور انجام وھ نھیں جانتا ) مشورھ دے تو اس نے اپنے ( مُسلمان )بھائی سے خیانت کے ، اور جِس نے ایسا فتویٰ دیا جو ثابت نھیں ھوتا ( یعنی سُنی سُنائی باتوں ، یا حُسنءِ ظن کی مُطابق ھو) تو اس( غیر یقینی اور غیر عِلمی فتوی پر عمل کرنے) کا گُناھ اس فتویٰ دینے والی پر ھے ]]] مُستدرک الحاکم/ احدیث٣٤٩،،، ھمارے ارد گِرد اکثر ایسے لوگ سُنائی اور دِکھائی دیتے ھیں جو دینی اور دُنیاوی معاملات میں فتویٰ ضرور دیتیے ھیں ، اور اس کی کوئی دلیل یا یقینی عِلم ان کی پاس نھیں ھوتا ، بس فرماتے ھیں ''' میرا خیال ھے کھ ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،'''' . اور اپنے خیالات کی بُنیاد پر اپنے ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔ [[[12]]] قول اور فعل کا تضاد ::: دوسروں کو خوب نصحیت کرتے رھنا اور خود اس پر عمل نھ کرنا ، اور ایسی باتیں کرنا جِن پر خود عمل نہ کیا جاءے ، یھ مُصیبت عام طور پر دین کی دعوت دینے والوں میں زیادھ پائی جاتی ھے ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، اللھ سُبحانھ و تعالیٰ نے ایسا کرنے والوں پر ناراضگی کا اظھار فرمایا ، [[[ یا ایھا الَّذِینَ اٰمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفعَلُونَ O کَبُرَ مَقتا عِندَ اللَّھ ان تَقُولُوا مَا لَا تَفعَلُونَ ]]] [[[ اے لوگو جو ایمان لائے ھو وھ بات کیوں کرتے ھو جِس پر عمل نھیں کرتے O جو تُم کرتے نھیں وھ بات کرنا اللھ کو سخت نا پسند ھے ]]] سورت الصف / ایت ٢،٣ ، اور جِس کا خاتمھ اس حال میں ھو جائے کھ اللھ اس سے ناراض ھو تو اس کی اخرت کا کیا حال ھو گا ؟ یھ بات شاید ھی کِسی مُسلمان کو معلوم نھ ھو. [[[13]]] اپنی یا کِسی کی اسکی موجودگی میں بغیر ضرورت تعریف ، برائی کرتے رھنا ، یا نیک ومتقی ھونے کا دعویٰ کرنا اکثر لوگ اپنے بارے میں بڑائی اور خوبیوں والی بات کرتے رھتے ھیں گویا کھ ان سے بڑھ کر اورشاید ھی کوئی ھو ، یا کِسی کو خوش کرنے کیلیئے یا کوئی مقصد حاصل کرنے کیلیئے اسکے سامنے اس کی تعریف کرتے ھیں ،،،،، بات ہی تو ،،،،، لیکن ،،،،، اللھ تعالیٰ نے اپنی یا کِسی اور کی بڑائی بیان کرنے سے منع فرمایا ھے ،سورت النجم/ایت٣٢ ، کِسی نے رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کے سامنے کِسی کی تعریف کی تو انھوں نے فرمایا [[[ تمھارا بُرا ھو]]]اور بار بار فرمایا [[[ تُم نی اپنے دوست کی گردن کاٹ دی ]]] پھر فرمایا[[[ اگر تُم میں سے کوئی اپنے کِسی بھائی کی اچھائی جانتا ھے اور اسکی تعریف کرنا ضروری سمجھتا ھے توکہے ، میرا خیال ھے کھ فُلان ایسا ایسا ھے ، میں اللھ کے سامنے کسی کی تعریف نھیں کر رھا ، اللھ ھی اس کے بارے میں بہتر جانتا ھے ( اسکے بارے میں )میرا خیال یوں ھے ]]] صحیح البخاری/حدیث٢٦٦٢/کتاب الشھادات/باب ١٦ ،،صحیح مُسلم/حدیث ٣٠٣٠/کتاب الزھد/باب ١٤ . زُبان کے غلط استعمال کے نتائج جی ھاں ، باتیں تو بھت ھیں جو ،،،،، بات ھی تو ھوتی ھیں ،،،،، لیکن ،،،،، کرنے والے کی دُنیا اور اخرت کی تباھی کا سبب بنتی ھیں ، اور ایسی تمام باتیں زُبان کا غلط استعمال ھیں ، اس مضمون کے اغاز میں رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کی ایک دو حدیثیں بیان کی گئی تھیں ، جو زُبان سی نکلی ھوئی بات کا انجام بتاتی ھیں ، چند ایک اور مُلاحظھ فرمائیے ،، ایک دفعھ عبداللھ [[[ ابن عباس ]]] تلبیہ کہتے ھوئے صفا پر چڑھے اور اپنی زُبان کو پکڑا اور پھر فرمایا ''' اے زُبان خیر کی بات کر فائدھ اٹھائے گی ، اور شر کی بات کرنے سے خاموش رھ ، اس سے پہلے کھ صرف ندامت ھی باقی رھ جائے ''' لوگوں نے پوچھا ''' کیا یھ اپ اپنی طرف سے کہہ رھے ھیں یا کہیں سے سُنا ھے ؟ ''' تو عبداللھ رضی اللہ عنہُ نے کہا ''' نھیں ، میں نے رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کو فرماتے ھوئے سُنا کھ [[[ اکثر خطایا ابن ادم فی لِسانھ ]]][[[ ادم کی اولاد کی زیادھ تر خطائیں اسکی زُبان میں ھوتی ھیں ]]] سلسھ الاحادیث الصحیحھ /حدیث٥٣٤ معاذ ابن جبل رضی اللھ عنھ ُ ایک لمبی حدیث مین بیان کرتے ھیں کھ ''' میں نے رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم سے پوچھا ::: کیا ھر بات جو ھم کرتے ھیں اس پر ھماری گرفت ھو گی ؟::: ''' تو رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ ثَکِلَتکََ امکَ یا مُعاذ ! وَ ھل یکُبُ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلیٰ وُجُوھھم الَّا حَصائدُ السِنَتِھم]]] [[[ تمھاری ماں تُمہیں کھو ئے ، کیا لوگوں کو انکے مُنھ کی بل اگ میں پھینکے جانے کا سبب انکی زُبانوں کے پھل کے عِلاوھ کچھ اور بھی ھو گا ؟ ]]] سُنن ابن ماجھ / حدیث ٣٩٧٣ /کتاب الفِتن / باب ١٢ ،، سُنن الترمذی /حدیث٢٦١٦ / کتاب الایمان / باب ٨ ، اور امام الترمذی نے کہا یھ حدیث حسن صحیح ھے ، اور امام الالبانی نے کہا یھ حدیث اپنی تمام اسناد کے مجموعے کی بِنا پر صحیح ھے ، سلسلھ الاحادیث الصحیحھ/حدیث ١١٢٢ . امام الطبرانی نے ''' معجم الکبیر/من اسمھ معاذ/ایوب بن کریز عن عبدالرحمان بن غنم ''' میں اور امام البیھقی نے ''' شعب الایمان / وجھ اخر موصول فی کتاب الحج/ الرابع و ثلاثون فی شعب الایمان و ھو فی باب حفظ اللسان عما لا یحتاج الیھ /فصل ٨''' میں اس حدیث کے اخرمیں رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی نقل کیا [[[ انَّکَ لَن تَزال سَالِما مِا سَکَتَّ فَاذا تَکلَّمتَ کُتِبَ لَکَ او عَلِیکَ ]]] [[[ تُم جب تک خاموش ھو محفوظ ھو ، جونہی بات کرو گے تو لکھ لی جائے گی ، یا تُمھارے حق میں یا تُمھاری خِلاف ]]] امام الالبانی نےاس اضافی جُملے کو بھی صحیح قرار دِیا ، صحیح الجامع الصغیر /حدیث ٥١٣٦ ، عبداللھ بن عَمر بن العاص رضی اللھ عنھما ، کا کہنا ھے کھ رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ مَن صَمَتَ نَجَا ]]] [[[ جو خاموش رھا ( اخرت میں) نجات پا گیا ]]] سُنن الترمذی / حدیث ٢٥٠١ / کتاب صفة القیامة /باب ٥٠ ، سلسلة الاحادیث الصحیحة / حدیث ٥٣٦، ابو ھریرھ رضی اللھ عنھ ُ سے روایت ھے کھ رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ مَن کَانَ یؤمِنُ بِاللَّھ و الیومِ الاخِرِ فَلیقُل خَیرا و لیصمُت ، ومَن کَانَ یؤمِنُ بِاللَّھ و الیومِ الاخِرِ فَلا یؤذِ جَارَھ ُ ،و مَن کَانَ یؤمِنُ بِاللَّھ و الیومِ الاخِرِ فَلیکرُم ضَیفَھ ُ ]]][[[ جو اللھ اوریومِ اخرت پر یقین رکھتا ھے وھ خیر کی بات کہے یا خاموش رھے ، اور جو اللھ اوریومِ اخرت پر یقین رکھتا ھے وھ اپنی پڑوسی کو تکلیف نھ دے ، اور جو اللھ اوریومِ اخرت پر یقین رکھتا ھے وھ مہمان کا اکرام کرے ]]] صحیح البُخاری /حدیث ٦٤٧٥ / کتاب الرقاق / باب ٦٣ حفظ اللسان ، انس بن مالک رضی اللھ عنھ ُ سے روایت ھے کھ رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم نے فرمایا [[[ لا یستقیمُ ایمان ُ عبدٍ حتیٰ یستقیمُ قَلبُھ، ولا یستقیمُ قلبُھ حتیٰ یستقیمُ لِسانُھ و لا یدخُلُ رِجلٌ الجَنَّةَ لا یامَن ُ جارُھ ُ بَوَائِقھ ]]] [[[ کِسی کا ایمان اسوقت تک دُرُست نھیں ھو سکتا جب تک اسکا دِل دُرُست نھ ھو ، اور کِسی کا دِل اسوقت تک دُرُست نھیں ھو سکتا جب تک اسکی زُبان دُرُست نھ ھو ، اور جو کوئی اپنے پڑوسی کو اپنے شرّسے محفوظ نھیں رکھے گا وھ جنّت میں داخل نھیں ھو سکتا ]]] مُسند احمد /حدیث١٣٠٧٩. گو کہ یہاں اس مضمون میں ، میں نے اس موضوع کو کافی مختصر رکھا ہے لیکن اللہ امید ھے کھ اللھ اور رسول اللھ صلی اللَّہ علیہ وسلم کے مندرجہ بالا فرامین ھمیں یھ سمجھانے کے لیئے کافی ھیں کھ ھمیں اپنی '''ز'بان''' کِس طرح استعمال کرنی چاھیئے ، اللھ کرے کھ ھم اس اھم معاملے کو سمجھ لیں اور اپنی باتوں کی اصلاح کر لیں اس سے پہلے کہ ھماری باتیں ھماری خِلاف بات کرنے لگیں. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، طلبگارِ دُعا رطلباگارِ ، عادِل سُھیل ظفر. امانت داری کا پاس رکھتے ھوئے کو ئی بھی قاری اس مضمون کو کِسی کمی بیشی کے بغیر نقل یا نشر کر سکتا ہے ، اور اس میں موجود مواد کو بھی کسی کمی بیشی کے بغیر استعمال کر سکتا ہے ۔ adilsuhail@gawab.com /// true honor http aff all at truehonor.net
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 25-04-10 at 10:14 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() |
میں آُ پ سے نہایت معذرت خواہ ہوں کہ آُپ سے رنگ اور سائز تبدیل نہیں ہوا بھائی
میں یہ تصویر اٹیچ کردیتا ہوں آپ کی آسانی کے لیے
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیر محترم بھائی
میں یہ دونوں بٹنز استعمال کر کے دیکھ چکا ہوں ، میرے لیے تو نتیجہ میں یہاں رائٹنگ فیلڈ میں ایچ ٹی ایم ایل کمانڈز ظاہر ہو جاتی ہیںمثلا اور فی الحال میں ان کے استعمال سے واقف نہیں ہوں ، اگر آپ مزید راہنمائی فرامئیں تو میرے لیے کچھ آسانی ہو جائے گی انشا اللہ ۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() |
جی نلکل عادل بھائی جب آپ بٹن دبائیں گے تو []میں کوڈ آجائے گا ٹیکسٹ کے دونوں طرف ، جب آپ مراسلہ ارسال کریں گے تو یہ کوڈ رنگ یا فونٹمیںتبدیلی کر دے گا۔
اصل میں اس ایم ایف میں WYSISYG ایڈیٹر نہیںہیے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام!
عادل بھائی اپنے بہت زبردست مضمون لکھا ہے اور سب سے اچھی بات اس میں یہ ہے کہ کوئی بات بغیر حوالے اور سند کے نہیں ہے ۔ اس میں بزرگوں نے فرمایا اور فلاںنے خواب دیکھے جیسی بدعات شامل نہیں ہیں۔ اگر کچھ لوگ بھی اس سے فلاح پا جائیں تو بہت خوشی اور آجر والی بات ہے۔۔ ہو سکتا ہے کہ اپ ابھی دیکھیں کے کم لوگ اس میںدلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدل جائیں گے انشاءاللہ۔ میں نے اپ کے مضمون میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں (رنگ اور سائیز میں) تا کہ اپ ان سے راہنمائی لے سکیں۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (24-04-10) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ماشا اللہ عادل بھائی بہت اچھا مضمون لکھا ہے آپ نے
اللہ ہم سب کو بھلائی کی توفیق عطا فرمائے
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم بھائی منتظمین ، بھائی عدنان
السالم علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، اللہ تعالی آپ کو خوش رکھے کہ آپ نے میری لکھی ہوئی بات پسند فرمائی ، اور اَس وجہ سے کہ میں نے ہر بات کے لیے قران اور صحیح سنت کا حوالہ درج کیا ہے ، یہ آپ کے عقیدے کی درستگی ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی نشانی ہے ، انشا اللہ ، اور میری کوئی طاقت یا صلاحیت نہیں سوائے اللہ کی عطا کردہ توفیق کے ، اور تمام تر خالص تعریف اُسی کے لیے ہے بھائی منتظمین ، اللہ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے اس مضمون کو رنگین کر دیا ، مجھے بھی اللہ تعالی نے سمجھ دے دی ہے کہ آپ کے اس صفحے کی اس لکھائی والی تختی Writing field پر رنگ برنگ لکھائی کیسے کی جا سکتی ہے ، میںایسے الفاظ استعمال کر رہا ہوں جو جالے کی جگہ web site کے علم کے لیے استعمال ہونے والے کئی انگریزی الفاظ کے ترجمے کو طور پر استعمال کئے جا سکتے ہیں السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rabab (26-04-10), عبداللہ آدم (24-04-10) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام!
ہم اللہ کے شکرگزار ہیں کہ ہم دین کے کسی کام آ سکے اور اپ ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ باقی فورمز پر وقت کے ساتھ ساتھ تجربہ بھی بڑھتا جائے گا۔ تو کام اور بھی آسان لگے گا۔ والسلام |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | rabab (26-04-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
ماشا اللہ عادل بھائی بہت اچھا مضمون لکھا ہے آپ نے
اللہ ہم سب کو بھلائی کی توفیق عطا فرمائے اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
عادل صاحب آپ کی پوسٹ صاف پڑھی نہین جا رہی |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
سب سے پہلے تو آغاز گفتگو پر سلام کرنے پر شکریہ قبول فرمایے ، اور اس لے بعد گذارش یہ ہے کہ یہ مضمون میرے پاک نیٹ پر ابتدائی مضامین میں سے ہے جب مجھے یہاں فارمیٹنگ کا ٹھیک سے اندازہ بھی نہیں تھا ، اب میں نے اسے ری فارمیٹ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ ابھی اس میں املا کی کافی درستگی درکار ہے ، ان شاء اللہ اگلی فرصت میں یہ کام بھی کرنے کی کوشش کروں گا ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
شکریہ عادل صاحب میں بھی اپنی ٹائپ کی غلطیون پر اب پہلے سے زیادہ توجہ دے رہا ہوں امید ہے آپ اس تھریڈ کو بالکل ٹھیک لکھ دیں گے ایک دفعہ پھر شکریہ |
|
|
|
| ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (28-04-10) |
![]() |
| Tags |
| فورمز, فرض, پسند, قید, لوگ, منافق, ماں, معلوم, معذرت, اللہ, الزام, انسان, انشا, اسلام, بہترین, بھائی, بچوں, تصویر, جوا, جواب, حدیث, حسن, طلاق, عورت, عبادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حکومت تو عوام کی دعائیں لگ گئ تو ---------- | Haya 786 | گپ شپ | 7 | 25-02-11 11:42 AM |
| عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 08:12 PM |
| ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے | Wahid Mahmood | شعر و شاعری | 1 | 12-03-10 12:10 AM |
| آؤ پشتو سیکھیں = راشہ پشتو ذدہ کہ | محمد کاشف حبیب | پشتو فورمز | 113 | 09-07-09 09:30 PM |
| تو نے کہا تو تیری تمنا ہی چھوڑ دی | Shani | شعر و شاعری | 3 | 19-11-08 09:22 PM |