واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-08-07, 03:18 AM   #1
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,483
شکریہ: 0
560 مراسلہ میں 1,026 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم

اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم

قرآن مجید اوردیگر علوم میں فرق

قرآن مجید تمام علوم کا سرچشمہ ہے لیکن ایک بنیادی بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ قرآن اور دیگر کتب میں فرق ہے۔ دیگر علوم پر مشتمل تمام کتب میں اپنے موضوع کے اعتبار سے ہی بحث کی جاتی ہے اور ایک Discipline کی کتاب دوسرے Discipline کے متعلق خاموش دکھائی دیتی ہے لیکن قرآن مجید تمام علوم کا خزانہ اور سمندر ہے۔ دیگر تمام علوم کی حیثیت جزوی ہے جبکہ قرآن مجید کا علم غیر محدود اور کلی ہے، اور تمام علوم کے مصادر و ماخذ کی حیثیت کا حامل ہے۔

ایک لطیف حقیقت

قرآن مجید کا علم تحریری صورت میں نظریاتی حیثیت کا حامل ہے۔ کسی بھی Theoryکو پرکھنے اور قابل عمل بنانے کے لیے اسے کسی تجربہ گاہ میں رکھا جاتا ہے۔ قرآنی علم کی تجربہ گاہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدسہ قرآن مجید کی عملی صورت میں ہمارے سامنے آئی ہے۔ چونکہ قرآنی علوم لامحدود ہیں اس لئے سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی لا محدود ٹھہری کیونکہ کوئی بھی محدود چیز لا محدود کا احاطہ نہیں کرسکتی۔

4۔ نتیجہ علم

سورہ علق کی تیسری آیت میں نتیجہ علم کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ جب انسان علم حاصل کرتا ہے تو پھر اس کی شخصیت اور اس کے افعال و اطوار پر اس کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ان اثرات کو نتیجہ علم کا نام دیا جاتا ہے یا یہ کہ حصول علم کے بعد انسان پر اس کے کیا اثرات مرتب ہونے چاہئیں۔ ارشاد خداوندی ہے۔

اقْرَاءْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ O

پڑھئے اور آپ کا رب بڑا ہی بزرگ و برتر ہے۔

(العلق، 96 : 3)

ہر عظمت کی عظمت اور ہر بلندی کی بلندی ذات باری تعالیٰ پر ختم ہوجاتی ہے۔ نہ اس کی کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، وہ ازل کا بھی مالک ہے اور ابد کا بھی، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ سب سے اعلیٰ اور برتر ہے۔ اس کا نور کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہے۔ تمام مخلوقات جاندار اور غیر جاندار سب اسی کے حکم کی پابند ہیں۔ آیات مقدسہ میں ناچیز انسان کو سب سے بڑی کائناتی سچائی سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ بڑائی، بزرگی اور برتری صرف ذات خداوندی کا خاصہ ہے، انسان محض عاجز و کمتر ہے۔ علم بھی انسان کو عاجزی اور فروتنی کا سبق دیتا ہے، اسے اللہ کی بندگی کا سلیقہ سکھاتا ہے، اس کے جلال و جمال کے ادراک کا ہنر بخشتا ہے۔ جب انسان علم کے نور سے قلب و ذہن کو منور کرلے توقدرتی طور پر اس کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کی گردن رب ذوالجلال کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھکتی، خوف خدا کے سوا ہر خوف اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اسے وقت کے یزیدوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارنے کا شعور عطا ہوتا ہے۔ وہ کسی فرعون کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ حاجت روائی کے لئے کسی قارون کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ وہ صرف اللہ اور اس کے رسول معظم کے در کا سائل بننے کا اعزاز حاصل کرتا ہے۔ خدا کی بڑائی اور عظمت کا اعتراف اور اپنے عجز اور کمزوری کا احساس اس کی شخصیت پر یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ


نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لئے
جہاں ہے تیرے لئے تو نہیں جہاں کے لئے


احساس عجز و انکسار

جب شاخوں کو اذن نمو ملتا ہے اور وہ ثمر بار ہوتی ہیں تو وہ بارگاہ خداوندی میں جھکتی ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ شکر ہوتا ہے لیکن اگر یہ شاخ جھکنے کی بجائے اکڑ جائے تو وہ ٹو ٹ جایا کرتی ہے، اس لئے کہ غرورو تکبر اللہ کے ہاں ناپسندیدہ افعال ہیں۔ اس طرح انسان بھی جب تحصیل علم کی راہ پر نکلتا ہے تو قدرت کے رازہائے سربستہ اس پر منکشف ہونے لگتے ہیں۔ وہ عجز و انکسار کا پیکر بن جاتا ہے اور کلماتِ تشکر و امتنان اس کے ہونٹوں پر حروف دعا بن جاتے ہیں۔ وہ رب ارض و سماوات کے جلال و جبروت کے پانیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ وہ عملاً بھی اقرار کرتا ہے کہ وہ ذات اقدس عظیم و کریم ہے، ہر بڑھائی اسی کے لئے ہے، تمام حروف ثناء بھی اس کی چوکھٹ پر سرنگوں ہیں۔ لیکن اس احساس عجز و انکسار کے برعکس اگر علم کا نتیجہ انسان پر یہ مرتب ہو کہ اس کے اندر اپنی بڑائی کا احساس جاگ اٹھے، دنیاوی کامیابیوں اور کامرانیوں کو منجانب اللہ کی بجائے اپنی ذات سے منسوب کرنے لگے، ثمرات کو اپنی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ سمجھنے لگے اور غرور و تکبر سے اس کی گردن اکڑ جائے تو وہ صحیح معنوں میں صاحب علم نہیں ہوگا بلکہ وہ تو جہالت کی انتہائی گہرائیوں کا رزق بن رہا ہوگا۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ پر غور کرنے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے لفظ اقرا ء کو دہرایا ہے، اور اس لفظ کے ساتھ اپنی بڑائی کا تذکرہ کیا ہے لہذا خدا کی بڑائی کے اعتراف کا علم کے نتیجہ کے طور پر ظاہر ہونا لازمی ہے۔ اگر علم انسان کی شخصیت پر یہ اثرات مرتب نہ کرسکے کہ وہ (انسان) تو عجز، انکساراورتواضع کا پیکر ہے، وہ فروتر، ناتواں اور خاک کی مانند پست ہے اور ساری بڑائی، عظمت، برتری، بزرگی اور کبریائی کا سزوار صرف اور صرف خالق کائنات ہے تو پھر وہ علم، علم نہیں گمراہی اور جہالت کا پلندہ ہے۔

احساس برتری کا خاتمہ

علم انسان کے اندر احساس بندگی کو اجاگر کرتا ہے، قلب و نظر کو عجز و انکسار کے پانیوں سے دھوتا ہے، انسان کے اندر سے احساس برتری اور غرور و تکبر کو چن چن کر نکال دیتا ہے۔ احساس برتری ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس کا علاج تقریباً ناممکن ہے۔ ذہنوں میں خدا بننے کا فتور اسی نفسیاتی بیماری کی کوکھ سے جنم لیتا ہے، فرعونیت اور نمرودیت کا ہر راستہ اسی احساس برتری کی وادی مکرو فریب سے گزرتا ہے۔ علم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اس بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر احساس برتری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ اعتدال اور توازن کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اگر انسان علم حاصل کر کے یہ سمجھنا شروع کردے کہ میں نے سب کچھ جان لیا ہے، تحصیل علم کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور میں ایک مکمل عالم بن گیا ہوں تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ اس علم کی گرد کو بھی نہیں پہنچا بلکہ جہالت کے گرد سفر کر رہا ہے۔

اظہار لا علمی ہی علم کی پہچان ہے

ارباب علم و دانش کا قول ہے کہ ’’اس نادان سے بچو جو اپنے آپ کو دانا سمجھتا ہے۔،، تحصیل علم کا عمل کبھی مکمل نہیں ہوتا، انسان ساری عمر طالب علم ہی رہتا ہے، علم پر مکمل دسترس کا تصور بھی محال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم میں اضافے کے ساتھ انسان کے دل میں بے خبری کا احساس بھی جاگز ین ہوجاتا ہے۔ علم کی دولت انسان کے پاس جتنی زیادہ ہوتی ہے اتنا ہی اسے اپنی کم آگہی کا ادراک ہوتا چلا جاتا ہے کہ علم تو ایک وسیع سمندر ہے، میں نے تو ابھی اس سمندر سے ایک قطرہ بھی نہیں لیا۔ جب انسان کا علم اپنے نقطہ کمال کو پہنچتا ہے تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اس کا دامن طلب تو ابھی خالی کا خالی ہی ہے سارا علم تو اللہ کے پاس ہے کہ وہی ہر علم کا سرچشمہ ہے۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنھم اور علم کی تعریف

علم انسان کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ علم کے سمندر سے عجز وانکسار کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنھم نے علم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا :

’’العجز عن درک الادراک ادراک،، یعنی یہ جان لینا کہ میں جاننے سے قاصر ہوں کا نام علم ہے۔ انسان تحصیل علم کے درجے میں جتنا بلند ہوتا ہے اس کی ذات پر اتنے ہی حقائق منکشف ہوتے ہیں۔ جوں جوں حقیقتیں بے نقاب ہوتی ہیں اور ان حقائق کی پہنائیاں اس پر آشکار ہوتی ہیں توں توں اس میں عجز و انکسار کی خوبیاں اجاگر ہوتی ہیں اور وہ خود کوذرئہ ناچیز تصور کرنے لگتا ہے۔ یہاں اس نکتے کی وضاحت ضروری ہے کہ عجز و انکساری کا یہ اظہار کسی بھی حوالے سے احساس کمتر ی (Inferiority Complex) کے زمرے میں شمار نہیں ہوسکتا، کیوں کہ یہ اظہار تو بہت کچھ پانے کے بعد ہوتا ہے، اور یہ اظہار رب العزت کے سامنے ہوتا ہے اس لئے کسی قسم کے احساس کمتری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک لمحہ فکریہ

ہماری کم ظرفی کا یہ عالم ہے کہ جو شخص چار کتابیں پڑھ لیتا ہے وہ خود کو مسند خدا پر بٹھا لیتا ہے۔ تکبر اور غرور کا پیکر بن جاتا ہے، رعونت اس کی آنکھوں سے شعلے برساتی ہے۔ وہ اس خود فریبی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اس کرہ ارضی پر اس سے بڑا کوئی عالم نہیں۔ وہ سب سے بڑا مقرر بھی ہے اور سب سے بڑا محقق بھی، سب سے بڑا عالم بھی وہی ہے اور سب سے بڑا مفتی بھی، وہ سب سے بڑا دانشور بھی ہے اور سب سے بڑا مجتہد بھی وہی ہے۔ یہ ایک ایسا خوفناک کیڑا ہے جو ذہن انسانی میں فتور پیدا کرتا ہے اور جب ذہن میں داخل ہوتا ہے تو انسان کی تمام تخلیقی قوتیں سلب ہوکر رہ جاتی ہیں۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ’’فوق کل ذی علم علیم،، یعنی ہر علم والے کے اوپر ایک اور علم والا ہے۔

مرتبہ علم نبوت

تکمیل علم کا انسانی دعویٰ بے معنی سی چیز ہے۔ علم تو ایک سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ علم اکتسابی (Earning Knowledge) بھی ہوتا ہے اورعطائی (God Gifted) بھی اللہ رب العزت اپنے برگزیدہ رسولوں اور نبیوں کو اپنی قدرت کاملہ سے علم کا نور عطا کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ختمی مرتبت محبوب رب دوجہاں ہیں، اللہ کے آخری رسول ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمین مبارکہ کی خیرات ہے۔ رب کائنات نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کن کن علوم سے نوازا اور کتنا نوازا، یہ ہمارے حیطہء شعور سے باہر ہے۔


سب کچھ عطا کیا ہے خدا نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
سب کچھ ریاض دامن خیر البشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے


جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئیے کہ تمام مراتب علم جہاں پہنچ کر ختم ہوجاتے ہیں وہاں سے مرتبہ علم نبوت کا آغاز ہوتا ہے۔ مرتبہ علم نبوت ساری کائنات کے مراتب علم سے ارفع ہوتا ہے۔ اس کے اوپر مرتبہ علم الوہیت ہے جس کا تصور بھی ذہن انسانی میں آنا محال ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مقدسہ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عظیم مرتبہ علم پر فائز تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے بھی ہمیں عجز و انکساری ہی کا درس ملتا ہے۔ مخلوقات خدا میں سے کوئی بھی مخلوق حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بحر علم کے ایک قطرے کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ارشاد خداوندی ہے :

وَمَا اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًاO

اور تمہیں بہت ہی تھوڑا ساعلم دیا گیا ہے۔

(بنی اسرائبل، 17 : 85)

علم کی ساری وسعت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن پاک کا ایک حصہ ہے، علم پیدا ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدسہ سے ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ

انا مدينۃ العلم و علی بابھا.

میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔

(مستدرک حاکم، 3 : 124)

ایک اور موقع پر فرمایا :

انا دارالحکمۃ و علی بابھا.

میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔

(جامع الترمذی، ابواب المناقب، 2 : 214)

چنانچہ کتاب بشرمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی سرچشمہء علم و عرفاں ٹھہرے۔ منبر پر کھڑے ہوکر کائنات کی ابتدا سے لیکر قیامت تک کے حقائق و حالات بیان کرنا، ہر سائل کے سوال کا جواب دینا، صرف اور صرف تاجدار کائنات کے علم معتبر ہی کا خاصہ ہے۔ اُس عالم کائنات نے تو ہم غلاموں کی حوصلہ افزائی، ہمیں تواضع اور انکساری کا درس دینے اور نتیجہ علم سمجھانے کے لئے اپنے غلاموں، ادنی شاگردوں اور اپنی صحبت مقدسہ سے فیض یاب ہونے والوں سے فرمایا کہ اپنے دنیاوی امور میں تم مجھ سے بہتر جانتے ہو۔ قربان جائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع و انکساری پر کہ آپ کے دامن اطہر میں عجز و انکساری کے پھول کھلتے تھے۔ آپ کے ہر ہر عمل سے اظہار بندگی ہوتا تھا۔ ہر لفظ بارگاہ خداوندی میں تشکر و امتنان کا مظہر بن جاتا تھا تو پھر عام انسانوں بلکہ پوری کائنات کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے۔ آج کا انسان اپنے کس علم پر اتراتا ہے، کس علم کے غرور سے اس کی بھویں تن جاتی ہیں اور وہ اپنے محدود، بہت ہی محدود علم کے بل پوتے پر رعونت اور تکبر کا پیکر بن جاتا ہے۔ لہذا عجز و انکسار ی اور اپنے دامن کے خالی ہونے کا احساس نتیجہ علم کے طور پر انسان کی زندگی میں ظاہر ہونا چاہئے۔


جھکنا ہی بلندی کی پہچان ہے


جب بارگاہ خداوندی سے انسان کو علم عطا ہوتا ہے تو وہ احساس ممنونیت کے پانیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کی جبین اپنے مالک کے حضور جھک جاتی ہے اور وہ سجدہء شکر بجا لاکر اپنی بندگی کا اظہار کرتی ہے۔ اگر علم اور عبادت کے زعم میں وہ حکم عدولی پر اتر آئے اور اس کی گردن اکڑجائے تو وہ شیطان مردود بن جاتا ہے، اس لئے کہ جھکنا ہی بلندی کی پہچان ہے۔ جب انسان اپنے اللہ کے سامنے جھکتا ہے تو پھر اللہ رب العزت اسے عزت اور بلندی عطا فرماتے ہیں۔ مخلوق خدا اس کی طرف علم کی پیاس بجھانے کے لئے کشاں کشاں چلی آتی ہے۔ انسان اپنے آپ کو جھکاتا چلا جاتا ہے اور اپنے علم کی پیاس بڑھاتا چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے بلند کرتا چلا جاتا ہے۔

حکیم الامت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ :


مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے


خلاصہ بحث یہ ہوا کہ علم کا نتیجہ تواضع، انکساری، عجز اور اظہار لا علمی کی صورت میں بندے کی شخصیت پر مرتب ہوتا ہے۔ عجز و انکساری کے جذبات اور ممنونیت کا احساس تشکر کے آنسو بن کر اس کی آنکھوں سے ٹپک پڑتے ہیں۔ علم اور تکبر کا باہمی کوئی تعلق (Relation) نہیں۔ جس دل میں تکبر آجائے وہاں علم کا بسیرا نہیں ہوتا۔ جہاں غرور اور نخوت کا ایک ذرہ بھی موجود ہو علم وہاں سے کوچ کر جاتا ہے۔ اس کے برعکس علم کو جہاں عاجزی اور انکساری نظر آتی ہے اسے وہاں رہنا عزیز ہوتا ہے۔ وہاں اسے راحت اور سکون ملتا ہے۔

5۔ ذریعہ تعلیم

ذریعہ علم اپنے عنوان کے لحاظ سے ایک وسیع تر بحث ہے اور اس کے ہر ہر پہلو پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ چونکہ سورہ علق کی روشنی میں اسلام کے تصور علم کا بیان ہورہا ہے اس لئے ہم اپنے موضوع کو سورہ علق کے مضامین تک ہی محدود رکھیں گے۔ ارشاد باری تعالی ہے :

الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِO

جس نے قلم کے ذریعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایا۔

(العلق، 96 : 4)

علم کی روشنی قلم کی نوک سے پھوٹتی ہے۔ حصول علم کی راہ میں قلم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوں تو حصول علم کے بہت سے دیگر ذرائع بھی ہیں لیکن اللہ رب العزت نے یہاں ان ذرائع کو بیان نہیں کیا بلکہ اس ذریعہ کو بیان کیا ہے جس سے روشنی کے اس سفر کا آغاز ہوا یعنی قلم کا بیان کیا جو علم کے حصول کا موثر اور معتبر ذریعہ ہے۔ چنانچہ علم کے سارے ذرائع اور راستوں کا اشارہ قلم کی طرف بطور نمائندگی کیا گیا ہے۔ قلم کے بیان سے حصول علم کے دیگر ذرائع کی نفی نہیں کی گئی البتہ قلم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ فروغ علم کی تحریک میں قلم کن کن حوالوں سے اپنی شاندار خدمات پیش کرتے ہوئے کون کون سے کارہائے نمایاں سر انجام دے سکتا ہے۔ یہاں اس نکتے کی وضاحت ضروری ہے کہ دوسرے تمام ذرائع سے جو علم حاصل ہوتا ہے اسے محفوظ کرنے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی یہی قلم ہے لہذا دیگر ذرائع علم کا اجمالاً ذکر بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔ انسان کو علم بہم پہنچانے والے درج ذیل ذرائع ہیں :

(1) حواس خمسہ ظاہری

قوت لامسہ، باصرہ، سامعہ، ذائقہ اور شامہ یعنی انسان چھونے، دیکھنے، سننے، چکھنے اور سونگھنے سے علم حاصل کرتا ہے۔ حصول علم کے ضمن میں ان ذرائع کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ وہ پانچ ذرائع علم ہیں جن کی بدولت انسان اپنے گرد و پیش سے ادراک کی سطح پر اپنا تعلق قائم کرتا ہے۔ یہ حواس مادی اور طبعی دنیا (Material and Physical World) میں حقیقتوں کا صرف ادراک (Perception) کرنے تک محدود ہیں۔ ان سے علم کا خام مواد (Raw Material) حاصل ہوتا ہے۔ جو چیز ان کے دائرہ کار سے باہر ہو اس کا ادراک تمام حواس مل کر بھی نہیں کرسکتے۔ علاوہ ازیں یہ حواس شعور، قوت تمیز اور قوت فیصلہ سے بھی محروم ہیں، اس لئے ان پر کلیتاً انحصار نہیں کیا جاسکتا۔
(2) عقل اور حواس خمسہ باطنی

ظاہری حواس خمسہ کے ادراک کو اعتبار کی سند عقل عطا کرتی ہے۔ حواس خمسہ ظاہری سے حاصل ہونے والے خام مواد کو مرتب اور محفوظ شکل میں علم (Knowledge) کا درجہ عقل ہی دیتی ہے۔ عقل کے پانچ گوشے یا حصے ہوتے ہیں جنہیں حواس خمسہ باطنی کہتے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں :

حس مشترک
حس واہمہ
حس خیال
حس متصرفہ
حس حافظہ
ان تمام حصوں میں باہمی نظم و ضبط اور افہام و تفہیم مثالی ہوتا ہے۔ گویا یہ عقل کی زنجیر کی پانچ مضبوط کڑیاں ہیں جو حواس خمسہ ظاہری سے حاصل ہونے والے ادراک کو مربوط شکل میں پیش کرتی ہیں، یعنی یہ حواس خمسہ باطنی ادراک (Perception) کو علم (Conception) کی صورت دیتے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حواس خمسہ ظاہری عقل کے محتاج ہیں اور عقل بھی حواس خمسہ ظاہری کی محتاج ہے۔ گویا دونوں گاڑی کے دو پہیئے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ایک پہیہ بھی متحرک نہ رہے تو علم و آگہی اور شعور کے سفر کا جاری رہنا ممکن نہ رہے۔

(3) وجدان (Ecstasy)

اس کائنات میں بہت ساری حقیقتیں اور علوم ایسے ہیں جو حواس خمسہ ظاہری اور عقل کے حیطہ ادراک میں کبھی نہیں آتے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو ذریعہ علم کے طور پر ایک اور باطنی سرچشمہ بھی عطا کیا ہے جسے وجدان کہتے ہیں۔ وجدان حصول علم کا ایک ایسا باطنی ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان غیبی حقائق اور مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ چشم بصیرت اور چشم روحانیت دونوں مل کر وجدان کا دروازہ کھولتے ہیں۔ وجدان کا دائرہ بھی نفسی اور طبعی کائنات (Psychic and Physical World) تک ہے۔ وجدان کے بھی پانچ گوشے ہوتے ہیں جنہیں لطائف خمسہ کہتے ہیں، یعنی :

لطیفہ قلب
لطیفہ روح
لطیفہ سر
لطیفہ خفی
لطیفہ اخفی
وجدان کے لئے تزکیہ نفس کی مختلف ریاضتوں اور مشقتوں کے ذریعہ نفسانی حجابات کو مرتفع کرنا پڑتا ہے گویا تزکیہ نفس وجدان کو مقامات بلند عطا کرتا ہے اور اس سے انسان کی دل کی آنکھ بینا ہوجاتی ہے، حقائق پر سے پردے اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں اور وجدان کشف کی صورت میں ایک موثر ذریعہ علم کے طور پر منصہ شہود پر آجاتا ہے یہ کیفیت کسی مرد حق (کامل)کی صحبت سے ملتی ہے، لیکن انسانی وجدان کی پرواز بھی نفسی اور طبیعی کائنات تک ہی محدود ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان کے تمام ذرائع علم ختم ہوجاتے ہیں۔

(4) وحی الہی

جہاں انسان کے تمام ذرائع علم کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے وحی الہی کی سرحد کا آغاز ہوتا ہے۔ حواس خمسہ ظاہری، عقل اور وجدان سے ماورا تمام حقائق کا علم صرف وحی الہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ یہ عطائے پروردگار ہے اور صرف اس کے نبیوں اور رسولوں کے لئے مخصوص ہے۔ عام آدمی اس ذریعہ علم تک رسائی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس ذریعہ علم کا عَلَم انبیا کے سروں پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ وحی الہی کا دروازہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا اور قیامت تک یہ دروازہ کسی پر نہیں کھلے گا۔ اب ہمیشہ کے لئے اس ذریعہ سے علم و عرفان کا نور حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اطہر ہی سے لیا جائے گا۔ چنانچہ ایسے تمام حقائق جو چشم عالم سے مخفی تھے، جن کی جستجو انسان ازل سے کرتا آیا ہے اور جس کی حتمی معرفت سے انسان کے حواس عقل اور وجدان سب قاصر ہیں، ان تمام حجابات کو اللہ تعالیٰ نے انوار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اٹھا دیا اور پیکر نبوت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے قدرت نے قیامت تک کے لئے انسانوں کو وہ سرچشمہ علم عطا کردیا جس پر علم کی ہر انتہا کو ختم کردیا گیا، جسے شہر علم کہا گیا کہ علم کے سارے راستے اس شہر علم کی دہلیز پر آکر ختم ہوجاتے ہیں۔ علومِ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر انسانی علم کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کا تصور بھی محال ہے۔

6۔ حد علم یا وسعت علم : Scope of Knowledge
سورہ علق کی روشنی میں اسلام کے تصور علم، مقصد علم، نصاب علم، ذریعہ علم اور نتیجہ علم پر اجمالاً بحث کے بعد اگر ذہن انسانی میں یہ سوال پیدا ہو کہ خدائے بزرگ و برتر نے انسان کو کیا کچھ سکھایا ہے اور اسے کن کن اشیا کا علم عطا کیا ہے؟ یا یہ کہ قرآن نے علم کی کوئی حد متعین کی ہے یا نہیں؟ تو سورہ علق کی پانچویں آیت میں ان سوالات کا مدلل جواب موجود ہے۔ فرمایا :

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمْ O

جس نے انسان کو (اس کے علاوہ بھی) وہ (کچھ) سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

(العلق، 96 : 5)

گویا قرآن نے انسان کے علم کی کوئی حدمقرر نہیں کی۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو وہ تمام کچھ سکھا دیا جس کا اس سے قبل انہیں ادراک نہیں تھا۔ یعنی کائنات کی تمام اشیاء اور کائنات کی جن حقیقتوں کے بارے میں انسان کچھ نہیں جانتا تھا خدائے علیم و خبیر نے انسان کو ان اشیاء اور ان حقیقتوں سے آگاہ کیا۔ ذہن انسانی میں شعور و آگہی کے ان گنت چراغ روشن کئے تاکہ وہ خیر و شر میں تمیز کر سکے۔ اللہ رب العزت انسان کو ہر ہر پیشے کا علم عطا کرتا ہے۔ اس کے بے حد علم کی بارش تو ہر انسان کے لئے عام ہے لیکن ہر انسان اپنے اپنے ظرف اور اپنے اپنے سامان طلب کے مطابق بارگاہ خداوندی سے نوازا جاتا ہے۔ یہ توانسان کی اپنی ہمت اور کوشش ہے کہ وہ کہاں تک رحمت خداوندی سے اکتساب شعور کرتا ہے۔ علم کے سمندر سے کہاں تک اپنی پیاس بجھاتا ہے۔ اس نے تو میدان علم کی کوئی حد متعین نہیں فرمائی۔ علم کے سمندر کی وسعت کا اندازہ اس ارشاد خداوندی سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ فوق کل ذی علم علیم یعنی ہر علم والے کے اوپر ایک اور علم والا ہے۔ یہ کہہ کر بات ہی ختم کردی کہ انسان حصول علم کی شاہراہ پر جہاں تک جانا چاہے جاسکتا ہے۔ علم کے اس وسیع و عریض سمندر سے فیض یاب ہوسکتا ہے اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ جس طرح اللہ کی اپنی ربوبیت و اُلوہیت میں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی رسالت میں کوئی حد نہیں اسی طرح علم کی بھی کوئی حد نہیں۔ علم کی چادر کائنات کی ہر شے پر محیط ہے۔ انسان کو جہاں تک رسائی حاصل ہوتی ہے وہ حصول علم کی شاہراہ پر اتنا ہی آگے بڑھتا ہے اور جب اپنے ظرف کے حساب سے اپنے حاصل کردہ علم کی انتہا تک پہنچتا ہے تو وہ نقطہ اس کے لئے مقام حیرت بن جاتا ہے اور حیرت کا کمال خاموشی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے :


اگر خموش رہوں میں تو تو ہی سب کچھ ہے
جو کچھ کہا تو ترا حسن ہو گیا محدود



ماخوذ از : “قرآنی تصور علم “ مصنّف : شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC]
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کمال, پہچان, پھول, پاک, واقعات, قرآن, مکمل, مقابلہ, منتقل, ماورا, مجید, world, آج, آدمی, اکبر, اللہ, اسلام, اعلیٰ, بندگی, تعلیم, دعا, راستہ, سیرت طیبہ, عقل, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کا مکمل تصوری البم عرفان حیدر کتاب گھر 15 26-12-10 07:39 AM
علامہ اقبال کا تصور خودی۔ محمدخلیل شاعر مشرق علامہ اقبال 31 03-12-10 12:14 AM
غامدی صاحب کا تصورِ سنت میاں شاہد اسلام اور عصر حاضر 7 18-11-09 10:23 AM
”اقبال کا تصور شاہین“ خرم شہزاد خرم اردو ادب سے اقتباسات 7 06-12-07 02:55 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ اول زبیر اسلامی نظریہ حیات 2 17-08-07 01:08 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger