واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


پردہ اور اپنی پسند کی شادی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-09-09, 09:35 AM   #1
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,543
شکریہ: 50,033
10,122 مراسلہ میں 32,017 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پردہ اور اپنی پسند کی شادی

پردہ اور اپنی پسند کی شادی

سوال: اسلامی پردے کی رو سے ہم کو جہاں بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں وہاں دو نقصانات ایسے بھی ہیں جن کا کوئی حل نظر نہیںآتا بجز اس کے کہ اس پر صبر شکر کر کے بیٹھ جائیں۔
فطرتا ایک تعلیم یافتہ آدمی اپنے ایک خاص ذوق کی بنا پر خواہش مند ہوتا ہے کہ شادی کے لیے ساتھی بھی اپنی مرضی کا منتخب کرے لیکن اسلامی پردے کے ہوتے ہوئے اس بات کا ہونا ممکن نہیں کہ کوئی لڑکا لڑکی اپنی پسند کا ساتھی چن سکیں۔بلکہ اس کے لیے وہ اپنے ماں باپ وغیرہ کے دست نگر ہوتے ہیں اور غیر تعلیم یافتہ والدین سے یہ توقع رکھ لینا کہ ایسا موزوں رشتہ ڈھونڈ لیں ایک فضول توقع پوتی ہے۔
دوسرا یہ کہ ایک لڑکی جو گھر سے باہر نہ نکلنے کی پابند ہو وہ ایسی وسعت نظر،فراست اور عقل عام کی حامل نہیں ہو سکتی کہ بچوں کی دور جدید کے مطابق تربیت کر سکے اور انکی ذہنی صلاھیتوں کو پوری طرح بیدار کر سکے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر با پردہ لڑکی نے بے پردہ لڑکی جتنی تعلیم حاصل کر بھی لی ہو تو بھی اسی ذہنی سطح کم ہو گی کیونکہ اس کو اپنے علم کو عملی طور پر پرکھنے کا کوئی موقع ہی نہیں مل سکا ہوگا۔ اس مسئلہ پر روشنہ ڈالیں،

جواب:
آپ نے اسلامی پردے کی جن خامیوں کا ذکر کیا ہے اول تو وہ ایسی خرابیاں نہیں کہ انسان نہ حل ہو سکنے والے مسائل و مشکلات کا شکار ہو جائے اور دوسرا یہ کہ دنیا میں آخر وہ کونسی چیز ہے جس میں کوئی نہ کوئی خامی نہ پائی جاتی ہو۔ لیکن کسی چیز کے مضر یا مفید ہونے کا فیصلہ اس کے صرف ایک یا دو پہلوؤں کا سامنے رکھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ مجموعی طورپراس میں مصالح کو غلبہ حاصل ہے یا مفاسد کو۔یہی اصول اسلامی پردے کے بارے میں بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے محض آپ کے بیان کردہ دو مسائل کی وجہ سے اسلامی پردہ کی پابندی کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔
بلکہ اگر ہر لڑکے کو لڑکی کے انتخاب کی کھلی چھٹی دے دی جائے تو اس سے اس قدر بھیانک نتائج نکلیں گے کہ ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور خاندانی نظام جہ کہ معاشرے کی پاکیزگی اور مضبوطی کا ضامن ہوتا ہے وہ تباہ ہو کر رہ جائے گا اور ایک وہمی مشکل کو حل کرتے کرتے "بے شمار حقیقی مسائل" کا شکار ہو جائیں گے ۔ اسی طرح آپکا یہ خیال کہ باپردہ لڑکی وسعت نظر اور فراست سے بے بہرا ہوتی ہے ،درست نہیں اور اگر اسے بالفرض اسے درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس میں پردے کا کوئی قصور نہیں۔ایک لڑکی باپردہ رہ کر بھی علم و فن میں کمال حاصل کر سکتی ہے اور اس کے مقابلے میں پردے سے باہر رہ کر بھی ایک لڑکی عقل و فراست سے کوری رہ سکتی ہے۔
البتہ بے پردہ لڑکی کو یہ فوقیت ضرور حآصل ہوگی کہ معلومات کے لحآظ سے چاہے وو وسیع النظر ہو یا نہ ہو لیکن تعلقات کے لحاظ سے انکی نگاہیں ضڑور پھیل جائیں گی ایسی حالت میں اگر موزوں ترین رفیق حیات کی تلاش میں کامیابی ہو بھی جائے تب بھی "جو نگاہیں وسعت کی عادی ہو چکی ہوں" انہیں سمیٹ کر "ایک مرکز تک محدود رکھنا" کوئی آسان کام نہیںہو گا۔

سوال: مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ آپ نے اسے بالکل معمولی مسئلہ قرار دیا ہے۔کامیاب شادی کی تمنا کرنا ایک جائز خواہش ہے اور اسیسے حالات پیدا کر دینا کہ جن کی وجہ سے ایک شخص کے لیے پسند کی لڑکی چننے کا راستہ بند ہو جائے میں انسانی مسرت اورشخصیت کے ارتقا کے لیے مضر سمجھتا ہوں اور دین فطرت کے منافی۔
ہمارے مروجہ ؂طریقے کے مطابق عورت زیادہ سے زیادہ گھر کی منتظم ہوتی ہے اور خاوند کی اور اپنی تسکین کا ایک ذریعہ۔ لیکن دو افراد کے اپنے آپ کو پوری طرح ایک دوسرے کے حوالے کرنے اور زندگی کے فرائض ایک بار کے بجائے خوشی خؤشی پورا کرنے کے جو امکانات اپنی پسند اور ذوق کی شادی کر لینے میں ہوتے ہیں وہ دوسرے کے انتخاب میں نہیں ہوتے۔
ایک دوسرے کے لیے قربانی ،محبت اور خؤش رکھنے کے فطری جذبہ کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ کسی ایسی لڑکی سے شادی کرے جسے اس نے تعلیم ،اطوار،کردار اور دوسری خوبیوں کی بنا پراپنی طبعیت کے مطابق اسکی باطنی خوبیوں کو پرکھ کرخود حاصل کیا ہو۔
یہ بات نا ممکنات میں سے ہے کہ پہلے تو کسی کی شادی کروا دی جائے پھر اس سے مطالبہ کیا جائے کہ اب اسے ہی چاہو اور ایسے چاہو جیسے تم نے اسے خود پسند کیا ہو۔ فطری پسند کے جذبے کو رکنے کی وجہ سے ہی یہ جذبہ اپنے لیے "دوسرے راستے" نکال لیتا ہے۔
پردے کی وجہ سے لڑکے اور لڑکے کے والدین ایک دوسرے کے بارے میں درست معلومات حاصل نہیں کر سکتے ۔بڑی سے بڑے آزادی جو اسلام نے دی ہے وہ یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کی شکل دیکھ لے۔ لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ کسی کی شکل چند سیکنڈ دیکھ لینے سے کیا ہو جاتا ہے۔
اسی طرح پردے کی پابندی کرتے ہوئے ایک لڑکی کس طرح طبقات الارض ،آثار قدیمہ ، انجنیرنگ اور ایسے علوم جن میں سروے اور دور دراز سفر کی ضرورت پڑتی ہے ،ان علوم کے لیے کس طرح خواتین کام کر سکتی ہیں۔اب کیا وہ ہر جگہ محرم کو ساتھ لیے پھرے؟
دیگرت علوم تو ایک طرف ررہے میں تو ڈاکٹری اور پردے کو بھی ایک دوسرے کی ضد سمجھتا ہوں ۔اول تو ڈاکٹری کی تعلیم ہی جسمانیات کی نگاہیں پھیلا دینے والی معلومات سے پر ہوتی ہیں اور حیا کے اس احساس کو ختم کر دینے کے لیے کافی ہوتی ہیں جس کی مشرقی عورتوں سے توقع کی جاتی ہے اور ڈاکٹر بن جانے کے بعد مریض کے لواحقین سے روابط کی اس قدر ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے لیے غیر مردوں سے بات چیت پر پابندی لگانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اب اگر ہم خواتین کو ڈاکٹری پڑھنے سے روکتے ہیں تو ہمین اپنے گھر کی خواتین کے علاج کے لیے مرد ڈاکٹر؂ز کے خدمات کی ضرورت پڑے گی اور رائج الوقت نظریہ حیا کے مطابق تو یہ زیادہ معیوب سمجھا جائے گا۔
آپ بتائیں کہ یہ اور ان جیسی الجھنوں کا اسلامی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے کس طرح حل ممکن ہے؟

جواب: شادی کے معالے میں آپ نے جو الجھنیں بیان کی ہیں وہ اپنی جگہ درست دہی ،اسکا حل کورٹ میرج کے علاوہ اورکیا ہے؟ ظاہر ہے جس تفصیل کے ساتھ رفیق زندگی بنانے سے پہلے لڑکی اور لڑکے کو ایک دوسرے کے اوصاف ، مزاج، عادات،خصائل اور ذوق و ذہن سے واقف ہونے کی ضرورت آپ محسوس کرتے ہیں،ایسی تفصیلی واقفیت دو چار ملاقاتوں میں،اور وہ بھی رشتہ داروں کی موجودگی میں حاصل نہیں ہو سکتی۔اس کے لیے مہینوں ایک دوسرے سے ملنا، تنہائی میں بات چیت کرنا، سیر و تفریح،سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا، اور بے تکلف دوستی کی حد تک تعلقات پیدا ہونا لازمی ہے۔ کیا آپ واقعی چاہتے ہیں کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان اس میل جول کے مواقع ہونے چاہییں ؟ آپ کے خیال میں ان جوان لڑکوں اور لڑکیوں کے اندر ان معصوم فلسفیوں کا فی صدی تناسب کتنا ہوگا کو سنجیدگی کے ساتھ صرف رفیق زنفگی کی تلاش میںیہ مخلصانہ تحقیقی روابط قائم کریں گے اور اس دوران ان جذبات کو قابو میں رکھیں گے جو خصوصیت کے ساتھ نوجوانی میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے ساتھ رکھتے ہیں؟ آپکو ماننا پڑے گا کہ شاید دو تین فیصدی کا تناسب بھی پوری آبادی میں سے ایسے لوگوں کا نہ نکلے۔باقی اس امتحانی دور میں ہئ فطرت کے تقاضے پورے کر چکے ہوں گے اور باقی جو دو تین فیصد بچ نکلیں گے وہ بھی اس شبہ سے نہ بچ سکیں گے کہ شاید وہ بھی باہم ملوث ہو چکے ہوں۔
پھر کیا ضروری ہے کہ جو لڑکے لڑکیاں اس تلاش و تحقیق کے لیے آپس میں میل جول کریں وہ لازماََ ایک دوسرے کو رفاقت کے لیے منتخب کر لیں گے؟ہو سکتا ہے کہ 20 فیصد دوستیوں کا نتیجہ نکاح کی صورت میں برآمد ہو۔ 80 فیصد یا کم از کم 50 فیصد کو تو دوسرے یا تیسرے تجربے کی ضرورت لاحق ہوگی۔اس صورت میں ان "تعلقات" کی کیا پوزیشن ہوگی جو دوران تجربہ آئیندہ نکاح کی امید پر پیدا ہو گئے تھے اور ان شبہات کے کیا اثرات ہوں گے جو "تعلقات" نہ ہونے کے باوجود ان کے متعلق معاشرے میں پیدا ہوں گے؟
پھر آپ یہ بھی مانیں گے کہ لڑکے لڑکیوں کے لیے ان مواقع کے دروازے کھولنے کے بعد انتخآب کا میدان بہت وسیع ہو جائے گا۔ایک ایک لڑکے کے لیے صرف ایک ہی ایک لڑکی مطمع نظر نہ ہوگی جس پر وہ نگاہ انتخاب مرکوز کر کے تحقیق و امتحان کے مراحل طے کرے گا اور یہی معاملہ لڑکیوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔بلکہ شادی کی منڈی میں ہر طرف ایک سے ایک جاذب نظر مال موجود ہوگا جو ہر لڑکے اور لڑکی کے سامنے بہتر انتخاب کے امکانات پیش کرتا رہے گا۔اسی وجہ سے اس بات کے امکانات کم سے کم ہوتے جائیں گے کہ جو تعلقات آزمائش کے لیے قائم کیے گئے تھے وہ بالآخر شادی پر ہی منتج ہوگے،
اس کے علاوہ یہ ایک فطری امر ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ جو تعلقات قائم کرتے ہیں ان میں وہ ایک دوسرے کو اپنی زندگی کا روشن پہلو ہی دکھاتے ہیں۔اور کمزور پہلو سامنے لانے سے گریز کرتے ہیں۔اس دوران شہوانی کشش اس قدر بڑھ چکی ہوتی ہے کہ وہ جلدی سے شادی کر لینا چاہتے ہیں اور اسی غرض سے دونوں ایک دوسرے سے ایسے ایسے عہد و پیمان باندھتے اور اتنی محبت اور گرویدگی کا اظہار کرتے ہیں کہ شادی کے بعد معاملات کی زندگی میں وہ عاشق و معشوق کے اس پارٹ کو زیادہ دیر تک نبھا نہیں سکتے،یہاں تک کہ ایک دوسرے سے مایوس ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔کیونکہ دونوں ان توقعات کو پورا نہیں کر پاتے جو عشق و محبت کے دور میں انہوں نے قائم کی تھیں۔ان کے سامنے ایک دوسرے کے وہ کمزور پہلو آ جاتے ہیں جو معاملات زندگی میں ہی ظاہر ہوا کرتے ہیں ۔عشق و محبت و دوستی کے دور میں کبھی نہیں کھلتے۔
اب آپ ان پہلوؤں پو بھی غور کر کے دیکھ لیں ۔پھر آپ مسلمانوں مئیں رائج طریقے پر بھی غور کر لیں۔موازنہ کر خود فیصلہ کریں کہ آپکو ان قباحتوں میں سے کونسی قباحتیں زیادہ قابل قبول نظر آتی ہیں۔ اس کے بعد بھی آپ اگر کورٹ شپ کو ہی زیادہ قابل قبول سمجھتے ہیں تو پھر آپکو مجھ سے بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔آپکو خود یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ آپ اس اسلام کے ساتھ اپنا تعلق رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں کہ جو اس راستے پر جانے کی ہرگز اجازت پر تیار نہیں۔
یہ کام اگر آپکو کرنا ہی ہے تو پھر کوئی اور معاشرہ تلاش کر لیں۔
عورتوں کی تعلیم سے متعلق آپ نے جن مشکلات کا ذکر کیا ہے تو پہلے آپ یہ بھی سمجھ لیں کہ فطرت نے عورت اور مرد کے دائرہ کار الگ الگ رکھے ہیں۔ اپنے فرائض انجام دینے کے لیے عورت کو جس تعلیم کی ضرورت ہے وہ اس کو ضرور ملنی چاہیے اور اسلامی حدود میں وہ پوری طرح دی جا سکتی ہے۔جن سے ذہنی و علمی ترقی بھی ہو۔اس معاملہ میں کوئی انتظامات نہ کرنا مسلمانوں کی کوتاہی ہے نہ کہ اسلام کی۔ لیکن وہ تعلیم جو مرد کے دائرہ کار کے لیے عورت کو تیار کرے ،صرف عورت ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ہے اور اسکی کوئی گنجائش اسلام میں نہیں۔ اس سلسلہ میں آپ کتاب "پردہ" کو بغور مطالعہ فرمائیں۔
تلخیص و ترجمہ
ابو االاعلیٰ مودودی: جنوری 1961
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (13-06-11), shafresha (02-09-09), ابرارحسین (27-03-10), عارف اقبال (27-03-10), عبداللہ حیدر (27-03-10)
پرانا 27-03-10, 02:07 AM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پردہ آج کل مغربی ممالک کی نظروں میں انتہا پسندی بن گیا ہے۔ فرانس میں‌ تو پہلے ہی سے اس کی مخالفت ہورہی ہے، اب اگلے کچھ سالوں میں برطانیہ اور امریکہ وغیرہ میں بھی اس پر پابندی لگانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (13-06-11), عبداللہ حیدر (27-03-10)
پرانا 27-03-10, 08:53 AM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,073
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس معاملے میں ہم کو صحابہ رضی اللہ عنہ کے طریقے کو دیکھنا چاہیے ۔
کہ اس وقت رشتے کیسے طے ہوتے تھے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کی بیٹی تھی ۔ ایسے دوست جن کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا ملانا گھر کے فرد کی طرح تھا ۔ اور اتنے قریبی دوست کے گھر والوں اور بیٹیوں کے مزاج سے انسان بخوبی
آگاہ ہوتا ہے ۔
ہمارے معاشرے قریبی رشتہ دار موجود ہونے کے باوجود بالکل انجان لوگوں کے پاس رشتے کیے جاتے ہیں جن خاندان اور لڑکی اور لڑکے کے مزاج کا والدین کو بھی علم نہیں ہوتا ۔ یہاں مندرجہ بالا مسائل جنم لیتے ہیں ۔
ہم دو extrem پر چلے جاتے ہیں ۔
ایک یا تو بالکل ہی انجان لوگوں میں شادی کریں گے یا پھر لڑکا یا لڑکی افئیر چلا کر شادی کریں گے ۔
اسلام ہم کو میانہ روی سکھاتا ہے ۔
کیوں ہم ایسے لوگوں میں اپنے بیٹا یا بیٹی کی شادی کرتے جن خاندان کو 10 یا 20 سال سے جانتے ہوں اور ان کا گھر انا جانا ہو ۔ اس طرح کا ملنے والوں میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے مزاج کو جانتے بھی ہیں اور غیر اسلامی فعل بھی سرزد نہیں ہوتا ہے ۔
اور جہاں تک لڑکیوں کا ڈاکٹر بنے کا تعلق ہے ۔
سرجری اور میڈیسن ڈیپارٹمنٹ میں اگر کو لڑکی جو اسٹوڈنٹ ہو وہ مرد پیشنٹ کو examin نا کرنا چاہتی ہو۔ تو وہ اپنے ٹیچر کو درخواست سے سکتی ہے ۔ تو اس لڑکی کو کبھی
examin کرنے کے لیے نہیں کہا جاتا ہے ۔
اور جہاں تک بات چیت کی بات ہے وہاں بھی ٹیچرز بہت خیال کرتے ہیں کبھی لڑکیوں کو مرد پیشنٹ سے بات چیت کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ہر شعبے میں خواتین کے پردہ اور عزت کا خیال کیا جاتا ہے مگر یہ خواتین پر بھی منحصر ہے کہ وہ اس بات کو اہمیت دیتی ہیں کہ نہیں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (13-06-11), فیصل ناصر (27-03-10), ھارون اعظم (27-03-10), ابرارحسین (27-03-10), رضی (27-03-10), عارف اقبال (27-03-10)
پرانا 27-03-10, 08:35 PM   #4
Senior Member
 
monee3s's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Muzaffarabad
عمر: 22
مراسلات: 989
کمائي: 20,288
شکریہ: 143
577 مراسلہ میں 1,180 بارشکریہ ادا کیا گیا
monee3s کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں monee3s کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام میں جس کو پردہ کیا جاتا ہے ہم اس سے انجان ہیں۔ صرف پورے کپڑے اور برقعہ پہننا پردے میں نہیں آتا۔ دیکھا جائے تو دیور اور بھائی کے بیچ میں بھی بردہ ہونا چاہیے مگر اس بات کا خیال کوئی نہیں کرتا بلکہ لوگوں کو تو اس بات کا علم ہی نہیں۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
monee3s آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے monee3s کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (13-06-11), فیصل ناصر (27-03-10), ھارون اعظم (27-03-10)
جواب

Tags
naqaab, parda, فن, کورٹ, کمال, پردہ:Veil, پسند, لڑکی, نظر, ممکن, ماں, مسائل, معاشرہ, آبادی, آدمی, انسان, اسلامی, بچوں, تلاش, ترک, تعلیم, حل, خواتین, راستہ, عورت, عقل, عشق, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پسند کے ممبر پر پسندیدہ تبصرہ کریں مسٹر رائٹ گپ شپ 16 04-04-11 11:07 PM
میری پسند رضی گانے 10 18-12-10 08:36 PM
آپکا پسندیدہ شعر اسد لطیف شعر و شاعری 11 15-03-09 07:06 PM
غرور اللہ کو ناپسند ہے naeemuddin میری ڈائری 0 26-02-09 08:49 AM
پسند کے ممبر سے پسندیدہ سوال کریں، مسٹر رائٹ گپ شپ 63 14-09-07 09:00 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:49 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger