|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
حضرت دانیال علیہ السلام بنی اسرائیل کے مقدس پیغمبر تھے۔ یہود کی بد اعمالیوں کی سزا کے طور پر جب بخت نصر بادشاہ نے عراق سے آکر یروشلم کو راراج کیا اور ہیکل سلیمانی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور تورات کے نسخے جلا ڈالے، یہود کا قتل عام کیا اور بچے کچھوں کو غلام بنا کر بابل لے آیا تو اللہ نے ان کی حالت پر رحم کھاتے ہوئے ان میں پھر سے انبیا بھیجنے شروع کر دیے۔ ان میں سے ایک حضرت دانیال تھے۔ آپ اپنی شخصیت اور کردار میں حضرت یوسف سے مماثلت رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل کے ان دونوں پیغمبروںکو آغاز میں غلام بنایا گیا اور پھر ایک اجنبی ملک میںاللہ تعالی نے ان کے تربیت کی حتی کہ وہ پیغبر بنے اور اور دنیاوی اعتبار سے بڑے عہدوں پر پہنچے۔ دونوں کو اللہ تعالی نے خوابوں کی تعبیر کا علم دیا تھا۔دونوں پر فتنہ درازوں نے تہمت لگائی لیکن اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے دونوں کی پاکیزگی اور پاکدامنی ایسے دلائل سے ظاہر کی کہ دشمن بھی معافی مانگنے پر مجبور ہو گئے۔
بخت نصر کے بعد نیبو شانے زار بادشاہ ہوا۔ اس نے ایک خواب دیکھا جس کا مطلب سمجھنے سے وہ قاصر تھا اس نے ملک کے تمام جادوگروں، کاہنوں اور مستقبل کا حال بتانے والوں سے تعبیر پوچھی مگرجب سب علم کے بے جا دعوی کرنے والے عاجز آگئے تو کسی نے بنی اسرائیل کے صاحب فہم نوجوان دانیال کا بتایا۔ اس نے ان کو بلایا۔ حضرت دانیال نےاللہ تعالی سے فریاد کی کہ ان ہر یہ علم مزید کھولا جائے اور اس خواب کی تعبیر صحیح صحیح انہیںسمجھا دی جائے۔ اللہ تعالی نے ان کی یہ دعا قبول کر لی اور ان کے دل میںخواب کا صحیح صحیح مطلب القا کر دیا۔ نیبو شانے زار کے خواب میں اس وقت کے بادشاہ سے لے کر قیامت تک آنے والے مختلف ادوار، حکوتوں اور بادشاہوں کے متعلق جو جوپیشگوئیاں کی گئے ہیں وہ حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہوئی ہیں۔ ماسوائے ان چند باتوں کے جن میں یہودیوںاور عیسائی حضرات نے تحریف کر دی ہے۔ حضرت دانیال نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے متعلق واضح پیش گوئی کی ہے اور یہ کہ یہ ایک ابدی اور ہمیشہ قائم رہنے والا دین ہو گا۔۔ یہاں پر ایک واقعہ بیان کرتے چلیں کہ جسے ابن اسحق، ابن ابی شیبہ، امام بیہقی، ابن ابی الدنیا اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے۔ حضرات فرماتے ہیں۔ جب حضرت عمر کے زمانےمیں طستور نامی شہر فتح ہوا تو فاتح فوج نے حضرت دانیال کا مزار دریافت کیا۔ آپ کا جسم مبارک ایک تابوت میںبالکل اصلی حالت میںبغیر کسی قسم کی تبدیلی کے موجود تھا۔ ان کے سر پر کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا جس پر اجنبی زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ دریافت کنندہ میں جن تابعین کے نام شامل ہیں ان میں ابو العالیہ اور معترف بن مالک مشہور ہیں۔ یہ حضرات تحریر لے کر حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے مشہور صحابی کعب احبار رضی اللہ عنہ جو پہلے اہل کتاب یہود سے تھے یہ تحریر عربی میںترجمہ کرنے کو کہا۔ حضرت ابوالعالیہ تابعی فرماتے ہیں یہ کہ اس ترجمہ شدہ تحریر کو پڑھنے والا پہلے میں تھا، اس میں درج تھا کہ تمہاری تمام تاریخ اور معاملات، تمہاری تقریر کی سحر آفرینی اور بہت کچھ جو ابھی واقع ہونے والا ہے۔ (ابن کثیر البدایہ والنہایتہ ض1، ص42، 40، بیہقی دلائل النوتہض1، ص381، ابن شیبہ المصنف 4، 7، الکرمی: شفاالصدورص 332( تورات میںحضرت عمر کے بیت المقدس میں فاتحانہ داخلے کا بھی ذکر ہے: مثلا زکریا کی سورت میںیہ آیت دی ہوئی ہے:اے صیحون کی بیٹی! خوشی سے چلاو۔ اے یروشلم کی بیٹی!مسرت سے چیخو۔ دیکھو تمہارا بادشاہ آرہا ہے۔ وہ عادل ہے اور گدھے پر سوار ہے۔ خچر یا گدھی کے بچے پر۔میںیوفرم سے گاڑی کو اور یروشلم سے گھوڑے کو علیحدہ کر دوں گا۔ جنگ کے پر توڑ دیے جائیں گے۔ اس کی حکمرانی سمندر اور دریا سے زمین کے کنارے تک ہو گی۔ یہ الفاظ واضح ہیں لیکن عیسائی اس حضرت عیسی بن مریم کے یروشلم میں تنہا مسافر کی حیثیت سے داخلے کو مراد لیتے ہیں۔ اونٹنی کے الفاظ کو انہوں نے اسیلیے گدھے سے تبدیل کیا ہے۔ یہ ان حضرات کی دیدہ دانستہ پیدا کردہ غلط فہمی ہے۔ اس لیے کہ بے شک مذکورہ پیش گوئیوں میں اسلامی فتوحات اور حضرت عمر کا نام نہیں دیا گیا۔ لیکن فارسیوں اور رومیوں مے سے کوئی بھی حکمران ایسا نہیں گزرا جس نے فارس کے ساحل سے بحر متوسط اور بحیرہ طبریہ سے عدن تک پورے علاقے پر حکمرانی کی ہوحقیقت صرف حضرت عمر پر صادق آتی ہے۔ اب ہم اصل واقعے کی طرف آتے ہیں۔ بادشاہ نے حضرت دانیال کو بلایا۔ جب یہ اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا: میں نے تیرے بارے سنا ہے کہ الہوں کی روح تجھ میں ہے اور نور اور دانش اور کمال حکمت تجھ میں ہیں۔ حکیم اور نجومی میرے خواب کو بیان نہیں کر سکے اور میںنے تیرے باری میں سنا ہے کہ تو تعبیر اور حل مشکلات پر قادر ہے۔ اور اگر تو اس کا مطلب بیان کرے تو ارغوانی خلعت پائے گا اور تیری گردن میںزرین طوق پہنایا جائے گا اور تو تیسرے درجے کا حاکم ہو گا۔ تب دانیال علیہ السلام نے کہا تیرا انعام تیرے پاس ہی رہے اور اپنا صلہ کسی دوسرے کو دے تو بھی میں بادشاہ کے لیے اس تحریر کو پڑھوں گا اور اس کا مطلب بیان کروں گا۔ (سورہ دانیال:ب5، آیت 3،18( اس کے بعد بادشاہ نے خواب سنایا اور حضرت نے اس کی تعبیر بیان کی۔ اس میں دنیا کی تاریخ کے مختلف ادوار اور مختلف حکومتوں کے آغاز اور انجام کے متعلق پیش گویئاں ہیں۔ ان میں سے جس پیش گوئی کا تعلق ہمارے دور اور ہمارے زمانے میں ہزاروں سال بعد ایک خاص حکومت کا قیام سے ہے اس کا نام انہوں نے نفرت کی ریاست اور گناہوں کی مملکت رکھا ہے۔ اس ریاست کے قیام سے دنیاکے انجام کا آغاز ہو گا اور اس میں گناہوں کی بھرمار سے یہ اپنے انجام کی طرف بڑھے گا اور یہی وقت دو مقدس روحانی شخصیتوں(جناب مہدی اور حضرت عیسی بن مریم( اور دو بڑے فتنوں (الدجال الکبر اور یاجوج ماجوج( کے ظہور کا ہو گا۔ حضرت دانیال کی پیش گوئی کے جس حصے سے ہمیں دلچسپی ہے وہ یہ ہے کہ : شملی بادشاہ کی جانب سے فوجیں تیار کی جائیں گی اور وہ محترم قلعے کو ناپاک کر دیں گی۔ پھر وہ روزانہ کی قربانیوں کو چھین لیںگی اور وہاں نفرت کی ریاست قائم کر دی جائے گی۔ اس عبارت میں محترم قلعے کو ناپاک کرنے سے مراد مسجد اقصی پر یہودیوں کا قبضہ اور وہاں خنزیر کے سموسوں اورکے ساتھ شراب نوشی مراد ہے۔ روزانہ کی قربانیاں چھیننے سے مراد نمازوں پر پابندی لگنا ہے۔ روزانہ کی قربانی سے عبادت مراد ہوتی ہے کیونکہ نماز روزانہ ہوتی ہے جبکہ قربانی روزانہ نہیں ہوتی۔ نفرت ی ریاست کو القدس(یروشلم( پر قبضہ کر کے یہاں گنہگار مملکت قائم کرے گی، اس سے موجودہ اسرائیلی ریاست مراد ہے۔ یہ ریاست قائم کیسے ہو گی اور اس کے کرتوت کیا ہوں گے ملاحضہ فرمایے: اور فوج اس کی مدد کریںگی اور وہ محکوم مقدس کو ناپاک اور دائمی قربانی کو موقوف کر دیںگے اور اجاڑنے والی مکروہ چیز نصب کریں گے۔ اور وہ عہد مقدس کے خلاف شرارت کرنے والوںکو برگشتہ کرے گا لیکن اپنے خدا کو پہچاننے والے تقویت پا کر کچھ کر دکھائیں گے۔(تورات: ص842۔۔۔ دانیال:ب11، آیت 31، 32( نفرت کی ریاست کی مدد کرنے والی افواج امریکہ اور برطانیہ ہیں۔ اجاڑنے والی مکروہ چیز کی تنصیب مسجد اقصی کی جگہ دجال کے قصر صدارت کا قیام ہے۔ شرارت کرنے والوںکو برگشتہ کرنے سے مراد عیسائی دنیا کو ورغلا کر صیہونی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا ہے۔اپنے خدا کو پہچاننے والوں کے کچھ کر دکھانے سے مراد فلسطینی فدائین کی بے مثال مزاحمت کی طرف اشارہ ہے اور یہ ان کی خدا پرستی اور خدا کے ہاں مقبولیت کی واضح خوش خبری ہے جو ان مظلوموں کے زخموں کا مرہم ہے۔ یہ ریاست کب قائم ہو گی؟ یہ ہماری اس بحث کا اہم ترین سوال ہے۔ حضرت دانیال فرماتے ہیں: پھر میں نے دو مقدس غیبی آوازوں کو کہتے سنا: یہ معاملہ کب تک اسی طرح چلتا رہے گاکہ میزبان اور مقدس مقام کو قدموں تلے روند دیا جائےگا؟ اس پر دوسری آواز نے جواب دیا دو ہزار تین سو دنوں کے لیے۔ پھر یہ مقدس مقام پاک صاف کر دیا جائے گا۔ (تورات:ص842۔۔۔۔ دانیال: ب8 آیت:13،14( اس پیش گوئ سے معلوم ہوا کہ نفرت کی ریاست 2300 سال بعد قائم ہوگی۔ کس لمحے سے 2300 سال بعد؟؟ یہ ہم آگے چل کر بتائیں گے۔پہل آخری پیش گوئی جس سے پتا چلتا ہے کی یہ ریاست 45 دن بعد ختم ہو جائے گی۔ حضرت دانیال فرماتے ہیں: اگرچہمیں فرشتوںکی یہ بات سن لی مگر میںاسے سمجھ نہیں سکا۔ چنانچہ میںنے اللہ تعالی سے دعا کی: اے اللہ! کھیل کس طرح ختم ہو گا؟ اللہ نے جواب دیا: دانیال اپنے کام سے کام رکھو۔ الفاظ پر قفل چڑھا دیے گئے ہیں اور معاملات پر مہر لگا دی گئی ہے۔ اب آخری وقت آنے پر سارا راز فاش ہو گا جس دن کہ قربانیاں چھین لی جائیں گی اور نفرت کی ریاست قائم کر دی جائے گی۔ اس کے بعد سے ایک ہزار دو سو نوے دن باقی رہ جائیں گے۔مبارک ہیں وہ لوگ لوگ جو ایک ہزار دو سو پینتیس کے اختتام تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن تم اپنا کام دنیا کے اختتام تک کرتے رہو۔ اور تمہیں آرام دیا جائے گا۔ (تورات: ص847، ب 12، آیت 8،13( عیسائی اور یہودی شارحین یہاں پہنچ کر سخت تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں، انہیںسمجھ نہیںآتا کہ اس میں وقت کا جو تعین کیا گیا، اس سے کیا مراد لیا جائے؟ کیونکہ دنیا میںایسی ریاست نہیں جو 2300 دنوں کے بعد قائم ہوئی ہو اور محض 45 دن قائم رہنے کے بعد ختم ہو گئ ہو (1290-1235=45)۔ مگر وہ تورات سے ہی مدد لے لیں اور آئینہ دیکھنے سے نہ ڈریں توتورات میں دنوں سے مراد سال لیا جاتا ہے۔ مثلا حزقیل میںہے:میں نے تمہارے لیے ایک دن کو ایک سال کے برابر کر دیاہے۔ لہذا اس آیت میں 45 دنوں سے مراد 45 سال ہیں۔اب پیش گوئی کے مطابق اس ریاست کا قیام 2300 سال بعد ہو گا۔ تورات و انجیل کے شارحین کے مطابق ان سالوںکا آغاز سکندر اعظم کے ایشیا فتح کرنے سے ہوتا ہےجو 333 قبل مسیح میںہوا۔ چنانچہ نفرت کی ریاست کا قیام 333 قبل مسیح کے 2300 سال بعد ہو گا۔ (2300-333=1967) یعنی 1967 میں یہی وہ سال ہے جسمیں اسرائیلی فوجیں القدس میں داخل ہوئیں اور مسجد اقصی کی ہولناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ اسرائیل اگرچہ 1948 میں بنا لیکن القدس(یروشلم( جس تک رسائی یہود کا اصل مقصد ہے وہ 1967 میں اسرائیلیوں کے قبضے میںگیا۔ ا اگر یہ ریاست اپنے قیام کے 45 سال بعد تباہ و برباد ہوتی ہے اور اس کی بربادی حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مہدی کی افواج کے ہاتھوں ہو گی اور یہ دجال اور گستاخ یہودیوں کے کلی خاتمے پر ہو گی تو پھر محققین کا کہنا ہے کہ (1967 + 45 = 2012) کے فارمولےسے نفرت کی اس گنہگار مملکت کا اختتام یا اختتام کے آغاز کا زمانہ 2012 کے آس پاس بنتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب وہ پوچھتے ہیں یہ سب کب ہو گا؟ کہ دیجیے : شاید عنقریب ہی ہو جائے۔ عالم عرب کے مشہور حق گو عالم ڈاکٹر سفر بن عبدالرحمن الحوالی جنہیںحق گوئی کی پاداش میںمتعدد برتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی ہیں ان کا کہنا ہے : یہ کوئی حتمی سال نہیں ہے۔ ہاں اگر یہودی حضرات ہم سے شرط لگانا چاہیں جیسے کہ اہل قریش نے حضرت ابو بکر صدیق سے شرط لگائی تھی تو ہم بلا کسی تردیدکے کہ سکتے ہیںکہ وہ اپنی شرط ہم سے ہار جائیںگے۔(یوم الغضب: ترجمہ رضی الدین سید : ص 174( یہود یہ شرط ہاریں یا نہ ہاریں ان کا ارض فلسطین ہارنا اور آخری بربادی کا شکار ہونا یقینی ہے۔ اور تورات کے مطبق مبارک ہیں وہ لوگ جو تقوی اور جہاد پر کاربند رہتے ہوئے مظلوموں کا ساتھ دل، زبان یا ہاتھ سے دیتے ہیں، ان کے لیے تنہایوں میںروتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں،ان کے لیے نیک جذبات رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ حشر کے متمنی ہیں۔ نفرت کی ریاست کے خاتمے پر اہل حق خوشی کے ترانے پڑھیں گےے، یروشلم پاک صاف ہو جائے گا۔ تمام اہل زمین اور آسمانی مخلوقات یہ کہتے ہوئے اللہ تعالی کی تعریف کریں گی: الحمد للہ! نجات، عظمت، عزت اور خوف سب کے لیے ہم خدا کے سزا وار ہیں کو ہمارا رب ہے۔ اس کے فیصلے درست ہیں کیونکہ اس نے طوائف کو سزا دی جس نے اپنی بدکاری سے روئے زمین کو بھر دیاتھا۔ اس نے اللہ کے بندوں کا خون بہایا تھا اور اللہ نےاس سے اس کا انتقام لے لیا۔ روئے زمین کو ظلم سے بھرنے والا امریکہ ہے اور اللہ کی سزاوں سے مراد ہوا، طوفان، زلزلے اور طاعون ہیں جو امریکہ کو ہر طرف سے گھیر لیں گے۔ عالمی شر کے خاتمے کے بعد عالمی خیر کا وقت آئے گا اور خدا اپنے وفادار بندوں کو انعام دے گا جو حق کی فتح پر عاجزی کے ساتھ اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ پھر میں لوگوں کے لیے ایک پاکیزہ زبان دوں گاجو اللہ کا نام پکاریں گے اور جو کندھے سے کندھا ملا کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر یہودی اور عیسائی محققین گنگ رہ جاتے ہیں کہ اگر آخری فتح ان کی ہوئی تو پھر کندھے سے کندھا ملا کر حمد کے گیت وہ کس طرح گائیں گے؟ یہان کا تجاہل عارفانہ اور اللہ کیآیات میںمعنوی تحریف ہے۔ پوری دنیا خصوصا عیسائی اور یہودی اچھی طرح واقف ہیں کہ اسلام کے علاوہ دنیا میں کوئی مذہب نہیں جس میں عبادت گزار بنیان مرصوص کی مانند نماز میں کندھے سے کندھا ملا کرکھڑے ہوتے ہیں اور ان کی زبان پرپاکیزہ تکبیرات اور حمد کا ترانہ(سورہ فاتحہ( جاری ہوتا ہے۔ کتاب : دجال کون ہے؟ تالیف : مفتی ابو لبابہ شاہ منصور۔ صفحہ نمبر 82 سے لے کر 89
__________________
ARUZ Last edited by shafresha; 30-09-09 at 09:41 AM. وجہ: حوالہ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کمال, یاجوج ماجوج, قید, لوگ, نفرت, موجودہ, مسجد, معلوم, آئینہ, اللہ, امریکہ, اجنبی, اسلامی, جواب, خون, خلاف, خدا, دیکھو, دریافت, دعا, سفر, عبادت, صحابی, صدارت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ورلڈ کپ کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب | زارا | کرکٹ | 0 | 18-02-11 10:43 AM |
| سندھ کابینہ کا افتتاحی اجلاس آج ہوگا | عبدالقدوس | خبریں | 1 | 01-11-08 12:35 PM |
| بیجنگ اولمپکس کا اختتام | حنا | کھیل اور کھلاڑی | 0 | 26-08-08 03:10 AM |
| فائر فوکس کے نئے ورژن کا افتتاح | محمدعدنان | کمپیوٹر کی باتیں | 2 | 19-06-08 01:32 PM |
| فائر فوکس کے نئے ورژن کا افتتاح | مسٹر گرزلی | خبریں | 2 | 18-06-08 10:37 AM |