| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنے آپ کو اِیمان اور عقیدے کے بارے میں شیطان کے وسوسوں سے کیسے بچایا جائے ؟
((( اِن اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدُہ، وَ نَستَعِینُہ، وَ نَستَغفِرُہ، وَ نَعَوُذُ بَاللَّہِ مِن شُرُورِ أنفُسِنَا وَ مَن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہ ُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ ، وَ أشھَدُ أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ ُ وَحدَہ ُ لا شَرِیک لَہ ُ ، وَ أشھَدْ أنَّ مُحمَداً (صلَّی اللَّہ عَلِیہِ و عَلٰی آلِہِ وسلَّم) عَبدہ، وَ رَسُولُہ ُ ۔ ( یَا أیّْھا الذَّینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ حَق َّ تُْقاتِہِ وَ لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ أنتُم مُسلِمُون َ ) آل عِمران :: ١٠٢ (یَاأیُّھا النَاسُ اتَّقُوا رَبَّکُم الَّذی خَلَقَکُم مِن نَفسٍ وَاحِدَۃٍ وَ خَلَق َ مِنھَا ز َوجَھَا وَ بَث َّ مِنھُمَا رِجَالاً کَثِیراً وَ نِسا ئً وَ اتَّقُوا اللَّہ َ الذَّی تَسَاءَ لُونَ بِہ ِ وَالأرحَامَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیکُم رَقِیباً ) النساءَ ::: آیۃ ١ ( یَا أیّْھا الذَّینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہ َ وَ قُولُوا قَولاً سَدِیداً ّ یُصلح لَکُم أعمَالَکُم وَ یَغفِر لَکُم ذُنُوبَکُم وَ مَن یُطِعِ اللَّہ َ وَ رَسُولَہ، فَقَد فَاز َ فَوزاً عَظِیماً ) الأحزاب ::: ٧٠ ، ٧١ ، أما بَعدُ ، بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں : ( اے اِیمان والو اللہ سے بچو جیسا کہ اُس سے بچنے کا حق ہے اور مسلمان ہونے کی حالت کے علاوہ مت مرنا ) ( اے لوگوں اپنے رب سے بچو ، جِس نے تمہیں ایک جان سے بنایا ، اور اُس ایک جان میں سے اُس کا جوڑا بنایا ، اور اُن دونوں میں سے بہت سے مرد اور عورتیں کو بنایا ، اور اللہ سے بچو جِس کے نام پر مانگتے ہو ، اور رشتہ داری توڑنے سے بھی بچو ، بے شک اللہ تُم لوگوں پر نگہبان ہے ) ( اے اِیمان والو اللہ سے بچو اور سیدھی سیدھی بات کیا کرو ّ ( اِس طرح ) اللہ تعالیٰ تُمہارے کام سنوار دے گا اور گناہ معاف دے گا ، اور جو اللہ اور اُسکے رسول کی تابع فرمانی کرے گا تو اُس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ) اِس کے بعد (ہماری بات یہ ہے کہ ) ::: )) (یہ مندرجہ بالا اِلفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ہیں جنہیں کتب الحدیث میں ''' خبطۃُ الحاجہ''' کہا جاتا ہے ) اور اب میں اپنی بات کا آغاز کرتا ہوں ::: ::: وسوسہ کا معنیٰ ::: وساوس ،وسوسہ کی جمع ہے، اور وسوسہ ہر وہ خیال یا بات یا وہم و گُمان ہے جو شیطان اِنسان کے دِل و دِماغ میں ڈالتا ہے ، اِمام الراغب الاصفہانی رحمہُ اللہ تعالیٰ کا کہنا ہے ''' گندہ خیال ''' ، اور اِمام البغوی کا کہنا ہے ''' ایسی خُفیہ بات جو بُرائی و گُمراہی کے لیے ہو ''' ، اور''' ہر ایسا خیال یا بات یا وہم و گُمان جو نفس میں داخل یا واقع ہو اور جِس میں خیرو نیکی و اچھائی نہ ہو ، سِوائے اِلہام کے کیونکہ اُس میں خیر ہوتی ہے اور وہ اِس لیے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور وسواس شیاطین کی طرف سے '''، اِمام ابن القیم رحمہُ اللہ تعالیٰ کا کہنا ہے ''' نفس میں کوئی بات ، خیال و گُمان وغیرہ ڈالنا ہی وسوسہ ہے یہ کام کبھی ایسی خُفیہ آواز میں بھی کیا جاتا ہے کہ جِسے وسوسہ ڈالا جا رہا ہو اُس کے عِلاہ کوئی دوسرا وہ آواز نہ سُن سکے اور کبھی بغیر آواز کے جیسا کہ شیطان بندوں کے نفس میں وسواس ڈالتا ہے ''' وسوسہ کبھی کِسی شیطان جِنّ کا کام بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ((( فَوَسوَسَ لَہُمَا الشَّیطَانُ لِیُبدِیَ لَہُمَا مَا وُورِیَ عَنہُمَا مِن سَوء َاتِہِمَا ::: تو شیطان نے اُن دونوں (یعنی آدم و حوا علیہما السلام ) کو وسوسہ ڈالا تا کہ اُن دونوں کی شرمگاہوں میں سے جو کچھ اُن سے چُھپا رکھا گیا تھا وہ اُن دونوں پر ظاہر ہو جائے ))) سورت الاعراف / آیت٢٠ ، اللہ تعالی نے وسوسہ ڈالنے والے کو ''' وسواس ''' نام دِیا اور بتایا کہ یہ شیطان ہی ہوتا ہے خواہ اِنسانوں میں سے ہو یا جِنّات میں سے ( مِن شَرِّ الوَسوَاسِ الخَنَّاسِO الَّذِی یُوَسوِسُ فِی صُدُورِ النَّاسِ O مِنَ الجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ::: وسوسہ ڈالنے والے خناس کے شر سے Oجو لوگوں کے دِلوں میں وسوسہ ڈالتا ہےO (یہ وسواس خواہ )جِنّوں میں سے اور(خواہ) اِنسانوں میں سے (ہو) ) سورت الناس، کبھی کبھار وسوسہ اپنے ہی نفس کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسَانَ وَنَعلَمُ مَا تُوَسوِسُ بِہِ نَفسُہُ ::: اور یقینا ہم نے اِنسان کی تخلیق کی اور ہم وہ وسوسے جانتے ہیں جو اُس کا نفس اُسے ڈالتا ہے) سورت ق / آیت ١٦، وسوسے اور سوسوے ڈالنے والوں کی پہچان کے بعد ان سے بچنے کے طریقوں کی بات ان شا اللہ اگلے ایک یا دو حصوں میں ہو گی ، جو بھائی اس مضمون کو پڑہیں وہ مجھے اس میں دکھائی دینے والے الفاظ کے سائز اور انداز کے بارے میں آگا فرمائیں ، خاص طور پر عربی عبارات کے بارے میں ، شکریہ ، و جزاکم اللہ خیرا ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 03-12-10 at 05:44 PM. |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ahadar002 (09-03-11), Arabian (07-07-09), sjk (08-07-09), فیصل ناصر (23-12-09), مرزا عامر (09-03-11), احمد غزنوی (09-07-09), ارشد کمبوہ (09-03-11), راجہ اکرام (24-12-09), ضِرار Derar (19-06-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,760
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,788 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشااللہ
اللہ آپ کو جزاے خیر عطا فرماے آمین |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے پیاسا کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (09-03-11), ضِرار Derar (19-06-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,760
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,788 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یعنی "اماں عائیشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا"والا طریقہ اپنایا آپ نے، ، ، (جب انہیں کویی دعا دیتا تو وہ وہی دعا اسے بھی دیتیں(
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے پیاسا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 244
کمائي: 5,308
شکریہ: 243
175 مراسلہ میں 383 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
قرآن کریم میں ہمارے لیے ساری تعلیم مکمل کرنے کے بعد آخر میں وساوس سے بچنے کی دعا کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ تعلیم ہمارے کسی کام نہ آے گی جب تک وساوس دور نہ ہوں ہونگے- کیا یہ درست ہے بھائ ؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، اللہ ہمیں اپنی ان ماوں کے فرمانبردار بیٹے بننے کی توفیق عطا فرمائے جنہیں اللہ نے ہماری مائیں قرار دیا ہے ، و السلام علیکم ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
خوش آمدید بھائی ماسٹر مقصود ، آپ کی بات منطقی طور پر تو بالکل ٹھیک ہے ، کہ جب تک ہمارے ایمان و عقیدے میں ڈالے جانے والے وساوس دور نہ ہوں گے باوجود ایمان کے ہم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعلیمات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے ، پس ان وساوس کا علاج ضروری ہے ، جس کا ذکر ان شا اللہ اگلے دو حصوں میں کروں گا ، رہا معاملہ ، اس سورت کے قران کے آخر میں ہونے کا سبب یہ مندرجہ بالا بات کو سمجھے جانے کا تو یہ محل نظر ہے ، کیونکہ قران کی موجودہ ترتیب اور ترتیب نزولی الگ الگ ہیں اور اس سورت کا سبب نزول بھی اس مذکورہ بالا بات کی موافقت نہیں رکھتا ، و اللہ اعلم ، بہرحال یہ محل نظر تو ہے محل نزاع نہیں ، ایک اچھی بات کی نشاندہی کرنے کا شکریہ ، اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | Arabian (07-07-09), پیاسا (17-08-08), ارشد کمبوہ (09-03-11), راجہ اکرام (24-12-09), ضِرار Derar (19-06-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اس مضمون کے پہلے حصہ میں جو کہ اس دھاگے کا پہلا مراسلہ ہے ، میں نے بقول منتظمین بھائی فونٹس کے ساتھ کچھ چھیڑ چھاڑ کر رکھی ہے ، اور قارئین سے گذارش کی تھی کہ """ جو بھائی اس مضمون کو پڑہیں وہ مجھے اس میں دکھائی دینے والے الفاظ کے سائز اور انداز کے بارے میں آگاہ فرمائیں ، خاص طور پر عربی عبارات کے بارے میں ، شکریہ ، و جزاکم اللہ خیرا """ لیکن مجھے کسی بھائی یا بہن کی طرف سے اس موضوع سے متعلق کوئی جواب موصول نہیں ، جس کی وجہ سے میں اس مضون کے اگلے حصے نشر نہیں کر پایا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
مقبول
|
جزاک اللہ خیرا۔اتنی اچھی باتیں شئیر کرنےکا بہت شکریہ۔
فونٹس کے بارے میں کیا کہنا ہے مجھے تو ٹھیک لگ رہے ہیں۔بس آخر میں آکر تھوڑے بڑے چھوٹے ہو گئے ہیں۔ |
|
|
|
| Arabian کا شکریہ ادا کیا گیا | ارشد کمبوہ (09-03-11) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، فونٹس بہت چھوٹے نظر آ رہے ہیں۔
والسلام علیکم |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ارشد کمبوہ (09-03-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ آپ کو بھی بہترین جزا عطا فرمائے، عرب بھائی ، فونٹس کے بارے مشورہدینے پر شکریہ ، اگے مراسلات کی دِکھاوٹ (اپیئرنس ) کے بارے میں بھی اپنی رائے سے نوازیے گا، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (09-03-11), ضِرار Derar (19-06-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ،
بھتیجے ، میں فونٹ سائز چار کرتا ہوں ، تو منتطمین بھائی کہتے ہیں کہ فونٹ سائز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ مت کیا کریں ، بھدا لگتا ہے ، اچھا اب اگلے مراسلے کے بارے میں بتایے گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (09-03-11), ضِرار Derar (19-06-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
:::::: شیطان کی طرف سے اِیمان اور عقیدے کے بارے میں ڈالے جانے والے وسوسوں سے بچنے کے دو طریقے ہیں :::::::
::: (١) پہلا طریقہ ::: احتیاطی یا پرہیزی طریقہ ::: یعنی کِسی وسوسے کا شِکار ہونے سے بچنے کے لیے احتیاط اور پرہیز اختیار کرنا ::: اور وہ یہ ہے کہ عقیدے اور اِیمان کے مسائل کا بڑی اچھی طرح سے چھان پھٹک کر قُران و صحیح سُنّت کے دلائل کے ذریعے عِلم حاصل کِیا جائے ، اور اُس عِلم کو بڑی اچھی طرح سے مضبوطی کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھا جائے اور اُس پر عمل پیرا رہا جائے، کیونکہ اسطرح عِلم حاصل کرنے اور اُسے ذہنی قلبی اور عملی طور پر یاد و نافذ رکھنے والوں پر شیطان کو وسوسے ڈالنے کا موقع نہیں ملتا ، اللہ کا یہ دُشمن جب کبھی اُنہیں اِیمان و عقیدے کے کِسی معاملے میں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اُن پر حملہ آور ہوتا ہے تو یہ لوگ اُس کے وسوسوں کو دُور کرتے ہوئے صحیح عِلم و اِیمان کی مدد سے اُس پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور اُسے ناکام ہو کر بھاگنا ہی پڑتا ہے ، سلف الصالح کے منہج و سمجھ کے مُطابق قُران و صحیح سُنّت کا عِلم رکھنے والا ایک عالم ، شیطان پر بغیراِس صحیح عِلم کے عِبادات کرنے والے ہزار عبادت گُذاروں سے زیادہ بھاری ہوتا ہے ، اور وہ اِس لیے کہ ایسا عالِم اللہ تعالیٰ کی ذات کو اُس کی صفات اور اُس کی مخلوقات کے ذریعے پہچانتا اور مانتا ہے لہذاحتی الامکان اپنے رب کی تعظیم و قدر اُس کی شان کی مُطابق کرتا ہے ، اور ہر حال میں اپنے واحد اور اکیلے مولا کے بارے میں اپنا گُمان واِیمان بہترین رکھتا ہے یہاں تک کہ اُس سے جا مِلتا ہے ، ::: (٢) دوسرا طریقہ ::: اگر دِل و دِماغ میں کوئی وسوسہ ڈال ہی دِیا جائے تو عِلم رکھنے والا مُسلمان مندرجہ ذیل چھ ذریعے اِستعمال کر کے اللہ کی مدد اور توفیق سے اُسے دُور کر سکتا ہے ::: اس دوسرے طریقے میں ہم چھ ذرائع کا ذکر کریں گے ان شاء اللہ ، ::: (١) پہلا ذریعہ ::: کوئی وسوسہ محسوس ہونے پر اُس میں مزید داخل ہونے سے گُریز کیا جائے بلکہ اُس سے متعلق ہر خیال اور ذریعے کو اللہ کی پناہ طلب کر تے ہوئے اپنے آپ سے دُور کر دِیا جائے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ((((( وَإِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیطَانِ نَزغٌ فَاستَعِذ بِاللّہِ إِنَّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌO إِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوا إِذَا مَسَّہُم طَائِفٌ مِّنَ الشَّیطَانِ تَذَکَّرُوا فَإِذَا ہُم مُّبصِرُونَ ::: اور اگر تُمہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ ڈالا جائے تو اللہ کی پناہ طلب کرو بے شک اللہ سُننے اور جاننے والا ہے Oتقویٰ اختیار کرنے والوں کو جب شیطان کا کوئی گروہ (یا کوئی اکیلاشیطان ) چھوتا ہے تو ))))) سورت الاعراف / آیت ٢٠٠، ٢٠١، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعیلماتِ مُبارکہ میں بھی یہ ہی طریقہ ملتا ہے کہ جیسا کہ ابی ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((((( یَأتِی الشَّیطَانُ أَحَدَکُم فیَقُول مَن خَلَقَ کَذَا مَن خَلَقَ کَذَا حَتی یَقُولَ مَن خَلَقَ رَبَّکَ فإذا بَلَغَہُ فَلیَستَعِذ بِاللَّہِ وَلیَنتَہِ ::: شیطان تُم میں سے کِسی کے پاس آ کر کہتا ہے (یعنی اُس کے دِل و دِماغ میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ) فُلاں چیز کِس نے بنائی؟ فُلاں چیز کِس نے بنائی ؟یہاں تک کہ یہ کہتا ہے کہ تُمہارے رب کو کِس نے بنایا ؟ اور اگر شیطان اُسے(یعنی جِس کو ایسے وسوسے ڈالے جا رہے ہوں ) یہاں تک لے آئے تو وہ اللہ کی پناہ طلب کرے اور اِن وساوس کو ختم کرے ))))) مُتفقٌ علیہ ،صحیح البُخاری / حدیث ٣١٠٢/کتاب بدء الخلق / باب ١١،صحیح مُسلم / حدیث١٣٤/کتاب الاِیمان/ باب ٦٠، لہذا لازم ہے کہ اپنے نفس کو وسوسوں کے خِلاف لڑنے کے لیے تیار رکھا جائے اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اللہ کے دُشمن سے جنگ کی جائے ، نہ کہ اُس کے ڈالے ہوئے وسواس کو صحیح ، عقلی ، منطقی بات وغیرہ سمجھ کر مانا جائے ، اِس سے بھی زیادہ بُرا یہ ہے کہ ایسے وسواس کو مان کر پھر اُن کو دُرست ثابت کرنے کے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح احکامات و ارشادات کی تاویلات کی جائیں اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی جہنم رسید کیا جائے ، کیونکہ اگر کوئی شیطان کے اِن وسوسوں کو تسلیم کر لیتا ہے تو لا محالہ مندرجہ ذیل تین بیماریوں کا شِکار ہو جاتا ہے ، ::: ( ١ ) ::: اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں شک کا شِکار ہونا ::: اور یہ کُفر و الحاد ہے ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے ((((( إِنَّمَا المُؤمِنُونَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَم یَرتَابُوا وَجَاہَدُوا بِأَموَالِہِم وَأَنفُسِہِم فِی سَبِیلِ اللَّہِ أُولَـئِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ ::: یقینا اِیمان والے تو وہ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر اِیمان لائے اور پھر شک کا شِکار نہ ہوئے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جِہا دکِیا وہ ہی ہیں (اپنے اِیمان میں)سچے ))))) سورت الحُجرات / آیت ٥١ ، ::: (٢) ::: اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے کاموں اور فیصلوں پر اعتراض ، قولاً یا فعلاً ::: مثلاً کِسی کو مالی یا بدنی یا معاشرتی طور پر اچھی حالت میں دیکھ کر یہ کہنا یا سوچنا کہ اِسے یہ کیوں ملا ہے ؟ اور اُس پر صبر نہ کرتے ہوئے اُس شخص کو نُقصان پہنچانے کی کوشش کرنا یا نُقصان پہنچانا وغیرہ ، اللہ سُبحانہُ و تعالٰ کے کام اور فیصلے پر اعتراض ہے اور یہ بھی کُفر کے زُمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں فرمان ہے ((((( لَا یُسئَلُ عَمَّا یَفعَلُ ::: اللہ جو کرتا ہے اُسکے بارے میں اُس سے پوچھا نہیں جا سکتا ))))) کیونکہ ((((( إِنَّ اللَّہَ یَفعَلُ مَا یُریدُ ::: یقینا اللہ جِس کام کا اِرادہ فرماتا ہے وہ ہی کرتا ہے ))))) اور ((((( إِنَّ اللَّہَ یَفعَلُ مَا یَشآ ءُ ::: یقینا اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے ))))) ::: (٣) ::: اِن وسواس کا شِکار ہوتے ہوتے مُسلمان اپنے ہی بارے میں شک کا شِکار ہو جاتا ہے کہ وہ مُسلمان بھی رہا ہے کہ نہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے عقیدے اور اِیمان کو قُران و صحیح سُنّت اور سلف الصالح کی تشریحات کی روشنی میں سمجھیں اور اُس پر عمل پیرا رہیں اور اُس کے دفاع میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں ، ::: دوسرا ذریعہ ::: اگر کِسی کو اِیمان و عقیدے کے بارے میں کوئی وسواس پیش آئیں تو اُن کے بارے میں براہ راست اور صاف اور کُھلے سوال نہ کرے ، کیونکہ جب تک وہ وسوسے اُسکے دِل و دِماغ تک محدود و محصور ہیں اُس وقت تک وہ عافیت میں ہے اور جب وہ وسواس یا کوئی ایک وسوسہ ہی اُس کی زُبان پر آ گیا تو یقینا وہ مُصیبت زدہ ہو جائے گا ، اور اِس کی دلیل ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کی یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ہے ((((( إِنَّ اللَّہَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِی عَمَّا وَسوَسَت أو حَدَّثَت بِہِ أَنفُسَہَا مَا لَم تَعمَل بِہِ أو تَکَلَّم ::: میری اُمت کے نفوس میں جووسواس ہوں یا جو بات نفوس( تک ہی ) ہو(اور) اُس پر عمل نہ کیا جائے اور نہ اُس کے بارے میںبات کی جائے ، اللہ نے اُن وساوس اور باتوں سے درگزر فرمایا ہے ))))) صحیح البُخاری / حدیث ٦٢٨٧/کتاب الاِیمان / باب ١٤، صحیح مُسلم حدیث ١٢٧/کتاب الاِیمان/باب ٥٨ ، مندرجہ بالا اِلفاظ صحیح البُخاری کی روایت کے ہیں ، ::: تیسرا ذریعہ ::: جب کوئی مُسلمان اپنے دِل و دِماغ میں کوئی وسوسہ پائے تو کہے ''' آمنت ُ باللِّہِ ::: میں اللہ پر اِیمان لایا ''' ::: ::: دلیل ::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((((( لَا یَزَالُ النَّاسُ یَتَسَاء َلُونَ حتی یُقَالَ ہذا خَلَقَ اللہ الخَلقَ فَمَن خَلَقَ اللَّہَ فَمَن وَجَدَ من ذلک شیأا فَلیَقُل آمَنتُ بِاللَّہِ ::: (اللہ کے بارے میں ) لوگ ایک دوجے سے سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا کہ یہ مخلوق تو اللہ نے بنائی ہے ، لیکن اللہ کو کِس نے بنایا ہے ؟ پس اگر کوئی شخص ایسی کوئی بات سُنے تو کہے ، میں اللہ پر اِیمان لایا ) (یعنی جو اللہ نے بتایا اُس پر اِیمان رکھتا ہوں اوراُس کے عِلاوہ کی کھوج نہیں کرتا ))))) صحیح مُسلم / حدیث ١٣٤ /کتاب الاِیمان / باب ٦٠ ، ::: ''' آمنت ُ باللِّہِ ::: میں اللہ پر اِیمان لایا ''' کہنے کی حِکمت ::: اِیمان بالغیب (غیب یعنی حواس خمسہ کی حدود سے باہر کی چیز یا بات ) کا پہلا واجب اللہ تعالیٰ کی ذات پر اِیمان لانا اور رکھنا ہے ، اور اِسی پر، اِیمان کے باقی ارکان کا دارومدار ہے ، پس اگر اِس میں شک واقع ہو گا تو باقی تمام ارکان میں یقینا شک واقع ہو گا اور تمام اعمال غارت ہو جائیں گے ، پس جب بھی کِسی وسوسے کا احساس ہو اوراللہ پر اِیمان لانے کا زُبانی اقرار کِیا جائے تو نتیجے میں دِل و دِماغ میں پایا جانے والا اِیمان طاقتور ہو گا اور اللہ کے حُکم سے وسواس دُور ہو جائیں گے ، رہا معاملہ اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی ذات پاک کے وجود میں ہونے اور ایک اکیلا خالق ہونے اور اکیلے عِبادت کا حق دار ہونے ، کا تو کثرت سے اِس کے عقلی اور نقلی دلائل مُیسر ہیں ، لیکن اُن دلائل کی بنا پر اِیمان لانا مطلوب نہیں بلکہ اِیمان بالغیب ہے ، اور یہ اِیمان بالغیب ہی مؤمن اور غیر مؤمن میں فرق کرتا ہے ، لہذا اِیمان والے کو اللہ کی ذات کے بارے میں سوچنے کی کوئی حاجت نہیں اور نہ ہی اللہ کی صفات کی کیفیات کے بارے میں سوچنے یا سوال کرنے کی ، اور اگرایسا کرے گا تو اپنا اِیمان خراب یا ختم کر لے گا اور ساتھ ساتھ خود کو ایسی مُشقت میں ڈالے گا جِس کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ، ایسا کام کرنے کی کوشش کرے گا جو وہ ہر گِز کر نہیں سکتا ((((( ذَلِکُمُ اللّہُ رَبُّکُم لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیء ٍ فَاعبُدُوہُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیء ٍ وَکِیلٌO لاَّ تُدرِکُہُ الأَبصَارُ وَہُوَ یُدرِکُ الأَبصَارَ وَہُوَ اللَّطِیفُ الخَبِیرُ::: یہ ہے اللہ تُم سب کا رب اُس کے عِلاوہ کوئی بھی سچا اور حقیقی معبود نہیں ہر ایک چیز کو تخلیق کرنے والا (وہی ہے) لہذا اُسی کی عِبادت کرو اور وہ ہر چیز پر وکیل ہے O اُسے کوئی بصارت (نظر ) نہیں جان سکتی اور وہ ہر نظر کو جانتا ہے اور وہ بہت لطیف اور انتہائی خبر گیر ہے ))))) سورت الانعام /آیت١٠٢، ١٠٣، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ((((( لَیسَ کَمِثلِہِ شيءٌ و ھُوَ السِّمِیعُ البَصِیرُ ::: اُس (اللہ)کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے ))))) سورت الشوریٰ / آیت ١١، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مضمون جاری ہے ۔ چوتھا ، پانچواں اور چھٹا ذریعہ الگ مراسلات میں ان شا اللہ ، مکمل مضمون کا برقی نسخہ ( پی ڈی ایف ) """ یہاں """ سے اتاریے ۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (29-06-10), ارشد کمبوہ (09-03-11), راجہ اکرام (24-12-09), ضِرار Derar (19-06-10), عبداللہ حیدر (24-12-09) |
|
|
#14 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 2
کمائي: 173
شکریہ: 3
2 مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
| عبدالسمیع کا شکریہ ادا کیا گیا | ارشد کمبوہ (09-03-11) |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل بھائی
السلام و علیکم اس تھریڈ کا پہلا مراسلہ کچھ اسطرحنظر آرہا ہے نیچے دئے ہوئے thumbnail کو کلک کریں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | ارشد کمبوہ (09-03-11) |
![]() |
| Tags |
| arabia, arabian, color, گذارش, پہچان, پیاسا, پاک, قران, نظر, مکمل, موجودہ, مؤمن, معلوم, ایمان, اللہ, بہترین, بھائی, تعلیم, جواب, حدیث, خوش, دعا, علاج, عبادت, صدیقہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ::: محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 24-12-07 12:01 AM |
| نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) | چاچا کمال | خبریں | 0 | 04-12-07 12:50 PM |
| نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 04-12-07 10:12 AM |
| اسلام آباد: سکولوں کے بچوں کا خاموش مظاہرہ پولیس نے لاٹھیوں اور تھپڑوں کی بارش کردی | محمدعدنان | خبریں | 0 | 13-11-07 09:48 AM |