واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


دینی ، دُنیاوی ، مذ ھبی !!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-12-07, 08:24 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,549
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

دینی ، دُنیاوی ، مذ ھبی !!!

’’’’’ دِینی ، دُنیاوی اور مذہبی ‘‘‘‘‘
بسم اللہ الرحمن الرحیمالسلامُ علیٰ مِن اَتبعَ الھُدیٰ و رحمۃُ اللَّہ و برکاتہُ سلامتی ہو اُس پر جو (اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ) ہدایت پر عمل کرتا ہے ، اور اللہ کی رحمت اور برکت ہو
ہم مسلمانوں میں بے شمار ایسے نظریات داخل کیئے گئے اور کیئے جاتے ہیں جو غیر اِسلامی ہوتے ہیں اور اُن میں سے کئی تو اِسلام دشمنی والے ہوتے ہیں ، جو مسلمان بھی اِن میں سے کِسی نظریہ کا شکار ہوتا ہے ، اگر اُسی پر عمل کرتے کرتے مر جائے تو اُس کی آخرت تباہ ہوتی ہے ، اور جیتے جی بھی وہ ایک اچھے مسلمان کی حیثیت سے جانا پہچانا نہیں جاتا ، بس برائے نام مسلمان ہوتا ہے ، لیکن اُس کا یہ برائے نام مسلمان ہونا بھی اسلام کے دشمنوں کو برداشت نہیں ہوتا لہذا نئے سے نئے ازم اور فلسفے مسلمانوں میں داخل کر کے اُن کو اُن کے دِین سے دور کیا جاتا ہے ،
انہی نظریات میں سے ایک ، دِینی اور دنیاوی معاملات کی تفریق ہے ، اِسی لیے ہم دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ ''' یہ تو دینی معاملہ نہیں ہے ''' ، ''' ارے صاحب ہر بات یا کام میں تو مذہب داخل نہیں کیا جا سکتا ''' و غیرہ وغیرہ ،
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کی زندگی کا کوئی بھی معاملہ دِین سے خارج نہیں ہوتا ، اور کِسی بھی معاملے سے دِین کو خارج نہیں کیا جا سکتا ، بشرطیکہ مسلمان ہو
، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :::: ( قُلْ اِنَّ صَلاَ تِی وَنُسُکِی وَمَحیَایَ وَمَمَاتِی لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِین O لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ اُمِرتُ وَاَنَا اَوَّلُ المُسلِمِین ) ( ( اے رسول ) فرمائیے شک میری نماز ، میرا قُربانی کرنا ، میری زندگی ، میری موت سب کچھ اللہ ، تمام جہانوں کے پالنے والے کے لیئے ہے O اور مجھے اِسی کا حُکم دِیا گیا ہے اور میں ( یہ بات )قُبُول کر کے (خود کو اللہ کے) حوالے کرنے والوں میں سب سے پہلا ہوں ) سورت الانعام/ آیات١٦٢،١٦٣،
بات صرف نماز روزے قربانی تک کی نہیں بلکہ ساری کی ساری زندگی اور بلکہ موت بھی اللہ کے لیئے ہے ، یعنی مسلمان کی زندگی میں سے کوئی بھی چیز کام ہو یا بات یا عقیدہ و نظریہ کوئی بھی چیز اللہ کے حکموں سے خارج نہیں ، بشرطیکہ مسلمان ہو ، اور اِسی لیئے اِسلام کو '''دِین ''' کہا گیا ہے ، '''مذہب''' نہیں ، ''' مسلک ''' نہیں ،
جی ہاں ، یہ بھی ہم غیر عرب مسلمانوں میں پائی جانے والی خوفناک غلطیوں میں سے ایک ہے کہ ہم نے عربی کے اُن اِلفاظ کو جو اسلامی اصطلاح (IslamicTermnology ) میں ایک خاص مفہوم رکھتے ہیں ، محض عربی زبان کے لفظ کا لغوی معنیٰ ( literal meaning) نہیں ہیں ایسے الفاظ کو بھی ہم نے اپنے معنی اور مفہوم دے رکھے ہیں ، اِن میں سے ایک لفظ ''' مذہب ''' بھی ہے ، جِسے ہم ''' دِین ''' کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ،جبکہ ''' دِین ''' اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے ، زندگی گذارنے کا مکمل ڈھنگ اور سلیقہ ، اور ''' مذہب ''' ایک یا کچھ معاملات میں کِسی انسان کی عقل و فہم کے مطابق بنائے گئے طریقے یا مسائل کے حل وغیرہ کا نام ہے ، اور لغوی طور پر لفظ """ مذہب """ دینی اور دُنیاوی دونوں معاملات کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اسلامی اصطلاحات میں لفظ """ مذہب """ کا مفہوم""" قران و سنت کے دلائل یا اجتہاد و قیاس کو دینی مسائل کے لیے ایک خاص طور پر استعمال کرنا ہے """ جیسا کہ حنفی مذہب ، مالکی مذہب ، شافعی مذہب ، مسلک اہل حدیث وغیرہ ، یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ """ مذہب """ ، """ مسلک """، """ منہج """ لغوی اور اصطلاحی طور ہر ہم معنی و مفہوم الفاظ ہیں ،

اِس بات کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے ( انا اَوْلَی الناس بِعِیسَی بن مَریَمَ فی الْاُولَی وَالآخِرَۃِ ) قالوا کَیفَ یا رَسُولَ اللَّہِ؟ قال ( الْاَنبِیَاء ُ اِخوَۃٌ من عَلَّاتٍ وَاُمَّہَاتُہُم شَتَّی وَدِینُہُم وَاحِدٌ فَلَیسَ بَینَنَا نَبِیٌّ) ::: ( دُنیا اور آخرت میں میرا حق لوگوں پر مریم کے بیٹے عیسی (علیہ السلام) سے زیادہ ہے ) ::: صحابہ نے پوچھا ، اے اللہ رسول وہ کیسے ؟ ::: فرمایا ( تمام نبی ایک باپ کی نسل ہونے کی وجہ سے بھائی ہیں اور اُن کی مائیں بہت سی ہیں ، اور سب نبیوں کا ''' دِین ''' ایک ہی ہے ، میرے اور عیسی ( علیہ السلام) کے درمیان اور کوئی نبی نہیں) متفقٌ علیہ ، یعنی امام البخاری اور امام مسلم نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ایک ہی صحابی (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ ) سے روایت کیا اور حدیث کا متن بھی ایک ہی ہے ۔
اِس حدیث میں تمام نبیوں کے دِین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی قرار دِیا ہے ، جبکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام انبیاء پر زندگی کے معاملات نمٹانے کے لیے جو احکام نازل کیئے گئے وہ کافی مختلف رہے ہیں ، اور یہ اِس بات کی دلیل ہے بُنیادی طور پر ''' دِین ''' عقیدہ ہے ، اور اُس عقیدے کی روشنی اور قیدمیں رہتے ہوئے اپنی زندگی کے ہر معاملے کو نمٹانے اور ہر کام کرنے کا ضابطہ ہے ، اگر دنیاوی کاموں کو ''' دِین ''' سے الگ رکھا جانا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سُنّتِ مُبارک کے مطابق بات کو واضح فرمادیتے کہ ''' تمام نبیوں کا دِین تو ایک ہے لیکن اُنکے مذہب الگ الگ ہیں '''جس طرح ایک باپ کی نسل لیکن مائیں مختلف ہونے کی وضاحت فرمائی ،
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ وہ ہر بات کو مکمل وضاحت سے بیان فرماتے اور یہ ذمہ داری اللہ کی طرف سے اُنہیںدی گئی تھی اور اللہ کی حفاظت میں اللہ کی مدد سے وہ اپنی ذمہ داری مکمل ترین اور بہترین طور پر پوری فرما گئے ،
ابو ذر الغِفاری رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: ''' ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس حال میں چھوڑا ہے کہ ہوا میں پر ہلاتے ہوئے کِسی پرندے کے پر ہلانے میں جو عِلم ہے وہ بھی ہمیں بتا دِیا ، اور پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ( مَا بَقِيَشِيءٌ یُقَرِّبُ مِن الجَنَّۃِ وَ یُبَاعِدُ مِن النَّارِ ، اِلَّا و قَد بُیَّنَ لَکُم ) ( کوئی ایسی چیز جو تم لوگوں کو جنّت کے قریب کرنے والی ہو اور دوزخ سے دور کرنے والی ہو نہیں بچی ، سوائے اِس کے وہ تم لوگوں پر واضح کر دی گئی ہے ) یہ حدیث اِمام الطبرانی نے اپنی '' معجم الکبیر '' میں روایت کی اور شیخ علی بن حسن نے ''' عِلم اصول البدع '' میں کہا کہ اِس کی سند صحیح ہے ۔
میرے اِس مضمون کا موضوع تکمیل دِین نہیں ، اِس موضوع پر ''' آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ''' کے زیر عنوان سوال و جواب کے سلسلے کی شکل میں تفصیلات موجود ہیں ، اور مختصر طور پر یہ سوال جواب ایک بڑے چارٹ کی شکل میں بھی زیرِتیاری ہیں ، اِس مضمون کے موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے کہتا ہوں ، پس ، ''' دِین ''' ایک ہی تھا (اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّہِ الاِسلاَمُ ) (بے شک اللہ کے ہاں دِین ( تو صِرف ) اِسلام ہے ) آل عمران / آیت ١٩ ،
اور ہے ، اور وہی رہے گا ، کیونکہ نازل کرنے والے نے اُسے مکمل کر دِیا اور اِس تکمیل کے بعد وہ اُس میں کوئی تبدیلی کرنے والا نہیں ( الیَومَ اَ کمَلت ُ لکُم دِینَکُم و اَتمَمت ُ علِیکُم نِعمَتِی و رَضِیت ُ لکُم الاِسلامَ دِیناً ) ( آج میں نے تم لوگوں کےلئیے تمہارا دِین مکمل کر دِیا اور تُم لوگوں پر اپنی نعمت تمام کر دی اور اِس بات پر راضی ہو گیا کہ اِسلام تمہارا دِین ہو ) سورت المائدہ/ آ یت ٣
اِنشاء اللہ تعالیٰ سننے اور پڑھنے والوں پر یہ بات واضح ہو چکی ہوگی کہ ''' دِین ''' ایک ہی تھا ، ہے اور رہے گا ،
''' مسلک ''' اور ''' مذہب ''' ہم معنی و مفہوم الفاظ ہیں ، ہر مسلمان کا ''' دِین ''' اِسلام ہی ہے ، ''' مذہب ''' یا ''' مسلک ''' مختلف کئے جا چکے ہیں ، اور مذاہب کے اختلاف سے بڑی مصیبت یہ ٹوٹی ہے کہ ''' مذہب ''' کو دِین سمجھ کر قران و سُنّت کی حجت تمام کیے بغیر،ایک دوسرے کو کافرو مشرک قرار دِیا جاتا ہے، ایک دوسرے سے قطع تعلقی کے فتوے جاری ہوتے ہیں ، بلکہ ایک دوسرے کے جان مال او رعِزت کو حلال کر لیا جاتا ہے ، اور جِن کو '''دِین '''سے کچھ لگاؤ ہو وہ اپنی اپنی زندگیوں کو گذارنے کے ڈھب او راطوار '''اپنے اپنے مذہب '''کے مطابق اختیار کرتے ہیں ، ''' دِین ''' کے مُطابق نہیں ، اور اُن میں سے بھی اکثریت زندگی کے معاملات کو دینی اور دنیاوی تقسیم کے نظریے کا شکار ہو کر الگ الگ کرتی ہے اور اُس میں بھی اپنی اپنی عقل اور سوچ کے مطابق معاملات کو دینی اور دنیاوی قرار دیا جاتا ہے ،
''' مذہب ''' ، ''' مسلک ''' کو دو قِسموں میں جانا جاتا ہے ، (١) فی الفقہ یعنی ، فقہی مذہب (٢) فی العقیدہ یعنی عقیدے میں مذہب ، پہلی قِسم کی بنیاد پر کِسی قسم کا نظریہ اخذ نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ دوسری قِسم کی بنیاد پر نظریات اخذ کیے جاتے ہیں اور وہی نظریات پہلی قِسم پر بھی اثر انداز نظر آتے ہیں ، اور زندگی کے ہر اُس معاملے پر اثر پذیر ہوتے ہیں جِس سے وہ متعلق ہوں ، اور کوئی بھی نظریہ جب تقویت پاتا ہے اور اُس کو حامل اُس میں کوئی شک نہیں رکھتا تو وہ اُس کا ''' عقیدہ ''' بن جاتا ہے ،
اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ''' مذہب ''' فقہ میں ہو یا عقیدہ میں ، اُس سے ماخوذ عمل یا نظریہ کِس حد تک اور کب درست ہو سکتا ہے ، اگر تو وہ بات یا عمل جو کِسی بھی ''' مذہب ''' میں مروج ہو ، لیکن قُران اور صحیح ، ثابت شدہ سنّت ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سمجھ کے مطابق ہو تو ہر مسلمان کو وہ قُبُول کرنا ہی چاہیے ، قطع نظر اِس کے کہ وہ اُس ''' مذہب یا مکتبِ فِکر ''' سے آ رہا ہے جس کا وہ پیرو کار ہے یا کِسی اور طرف سے ، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کِسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آئے ہوئے واضح اور سچے دالائل میں سے کِسی دلیل کے بغیر ، کِسی کے بارے میں صِرف حُسنِ ظن کی وجہ سے بات یا عمل کو اپنا لے ، پس کوئی بھی کام یا سوچ کِسی خاص ''' مذہب ''' جِس میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہو ، کی نشر و اشاعت یا ترویج یا نصرت کے لیے کیا جائے تو ظاہر ہے شرعاً وہ کام درست نہیں ہے ۔
''' مذہب ''' ، ''' مسلک ''' کی اِس تقسیم میں بند ہونے کی وجہ سے نصیحت اور حلال و حرام کی بات کو صرف ''' دینی مسائل یا معاملات ''' کے خانوں میں بند کر دِیا جاتا اور افسوس کہ ہم مسلمانوں کی اکثریت اپنے بہت سے معاملات کو دنیاوی سمجھ کر اُن ''' دینی مسائل یا معاملات ''' کے خانوں کے قریب سے بھی نہیں گذرتی ، جب کہ کوئی بھی بات جو قُران اور صحیح سُنّت کی دلیل کے ساتھ بیان کی جاتی ہے ہر مسلمان کی چرا لی گئی ہوئی میراث ہے لہذا جِسے جہاں یہ ملے اُسے ہر ایسی جگہ پر اُسے نشر کرنا چاہیئے جہاںسے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک وہ بات پہنچے ، اور نیک نیتی کے ساتھ ایسا کرنا چاہیئے ، کہیں ذاتی غرض یا کِسی خاص ''' مذہب و مسلک ''' کی ترویج کے لیئے نہیں ، اللہ کی رضا کے لیئے ، اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی ہدایت کے لیئے ، یہ اِیمان کی تکمیل کے لیئے ضروری ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لا یُؤمِنُ احدُکُم حَتیٰ یُحِبَّ لِاَخِیہِ۔۔ او قال ۔۔ لِجَارِہِ ما یُحِبُ لِنَفسِہِ ) ( تم سے کوئی اُس وقت تک (پورا) ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ( مسلمان) بھائی کے لیئے ۔۔ یا فرمایا ۔۔ اپنے (مسلمان )پڑوسی کے لیے وہ ہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ) صحیح مسلم/ حدیث ٤٥ ٨کتاب الاِیمان / باب ١٧ ،
کم علمی کی وجہ سے غلط نظریات او ر فلسفے وغیرہ کا شکار ہونے والے کچھ لوگ جو گناہ اور بے حیائی والے کام یا چیزیںلیے پسند کرتے ہیں دوسرے مسلمانوں کو بھی اُن میں مبتلا کرنا پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کےلیے یہ دوسری روایت بھی حاضر ہے جو کہ پہلی روایت کو مزید وضاحت سے بیان کرتی ہے ( والَّذِی نَفس مُحمد بِیدِہِ لا یُؤمِنُ احدُکُم حَتیٰ یُحِبَّ لِاَخِیہِ مِن الخَیرِ ) ( اللہ کی قسم جِسکے ہاتھ میں محمد کی جان ہے تم سے کوئی اُس وقت تک (پورا) ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ( مسلمان) بھائی کے لیے خیر میں سے وہ ہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ) سنن الترمذی، حدیث٥٠١٧ امام الالبانی نے حدیث کو صحیح قرار دِیا ۔
مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو اپنے لیے اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کے لیے یہ پسند نہ کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے '''دِین ''' کی صحیح سمجھ عطاء فرمائے اور اُس پر عمل کرتے ہوئے ہی ہمارا خاتمہ اِیمان پر فرمائے ، اور لوگوں کے بنائے ہوئے ''' مذاہب ''' اور اُن کے تعصب سے محفوظ رکھے ،
آئیے اِس کوشش میں سب ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور اللہ کے '''دِین '''کو اُس '''دِین '''کو جو اللہ نے تمام مخلوق کے اوپر سے اپنے عرش پر سے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ، نہ کہ '''دِین '''کے نام پر خود ساختہ ''' مذاہب ''' اورسنائے اور لکھے جانے والے ''' قصے کہانیوں ''' والے دِین کو ، ،
اپنی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد مبارک پر روکتا ہوں (مَن دَلَّ علی خَیرٍ فَلَہُ مِثلُ اجرِ فَاعِلِہِ) ( جو کِسی خیر (نیکی) کا راستہ دکھائے گا اُسے اُس خیر پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا ) صحیح مسلم ، حدیث١٨٩٣ ۔
طلبگارِ دُعا ، عادِل سہیل ظفر ۔

Last edited by عادل سہیل; 12-07-08 at 02:24 AM.
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-10), مجاہد حسین (14-02-08), محمد عاصم (23-06-10), محمدمبشرعلی (24-06-10), مرزا عامر (07-07-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (23-06-10), ضِرار Derar (23-06-10)
پرانا 23-06-10, 12:59 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
یعنی عادل صاحب
آپ یہ کہہ رہے ہو کہ
دین جو ہے وہ مذھب نہین
اور مذھب جو ہے وہ دین نہین
ضِرار Derar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-10), مرزا عامر (07-07-10), حیدر (23-06-10)
پرانا 23-06-10, 07:39 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے کہ وہ جو بتانا چاہ رہے ہیں کہ "فقہ" مذہب ہے جبکہ اسلام "دین" ہے۔ عبادات و رسُومات وغیرہ مذہب کا حصہ ہیں جبکہ اسلام ہم سے پورے کے پورے دین میں ڈاخل ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یعنی محض عبادات و رسومات سے بڑھ کر اپنی زندگی کے ہر معمول کو دین اسلام کے تابع بنائیں۔خواہ کاروبار ہو، عام میل جول ہو، دوستی دشمنی ہو، کھانا پینا ہو، سونا جاگنا ہو، باتیں کرنا اور چیٹنگ کرنا ہو، الغرض کچھ بھی ہو۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-10), محمد عاصم (23-06-10), محمدمبشرعلی (24-06-10), مرزا عامر (07-07-10), مسلم بھائی (24-06-10)
پرانا 23-06-10, 09:30 PM   #4
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,168
شکریہ: 5,036
1,496 مراسلہ میں 5,780 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
میرا خیال ہے کہ وہ جو بتانا چاہ رہے ہیں کہ "فقہ" مذہب ہے جبکہ اسلام "دین" ہے۔ عبادات و رسُومات وغیرہ مذہب کا حصہ ہیں جبکہ اسلام ہم سے پورے کے پورے دین میں ڈاخل ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یعنی محض عبادات و رسومات سے بڑھ کر اپنی زندگی کے ہر معمول کو دین اسلام کے تابع بنائیں۔خواہ کاروبار ہو، عام میل جول ہو، دوستی دشمنی ہو، کھانا پینا ہو، سونا جاگنا ہو، باتیں کرنا اور چیٹنگ کرنا ہو، الغرض کچھ بھی ہو۔
بلکل بھائی آپ صحیح سمجھے ہیں اور اس کے ساتھ ایک اور بات بھی داخل کر لیں وہ یہ کہ حکومت کا طریقہ بھی وہی لینا ہے جو ہم کو دین اسلام نے دیا ہے یعنی خلافت کا نظام نہ کہ اس کے مقابلے پر ہم جمہوریت کا باطل نظام لیں گے۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-10), محمدمبشرعلی (24-06-10), مرزا عامر (07-07-10), مسلم بھائی (24-06-10)
پرانا 24-06-10, 10:08 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
اب تو بات اور مشکل ہو گئی
ضِرار Derar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-10), مرزا عامر (07-07-10)
جواب

Tags
پسند, قران, نماز, مکمل, میراث, موت, مسائل, آج, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, اسلامی, بہترین, بھائی, جواب, حدیث, حسن, دُعا, راستہ, سوال جواب, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں اپنی ویب سائٹ پر ڈی وی ڈی ویڈیو کیسے چلاؤں سونیا ثانی Ask Experts ماہرین کی رائے 1 17-04-09 11:47 PM
اشاعت دین کیلئے ابن حسن رضوی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، مولانا عون نقوی عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:41 AM
بر طانوی ٹیم کا راولپنڈی مر دہ خانے کا دورہ،انسانی اعضاء کا تجزیہ ،ڈاکٹر وں سے سوالات ابو کاشان خبریں 0 14-01-08 01:11 PM
لاہور:ڈی سی ایچ ڈی کے کارکنوں نے پریس کلب کے باہر اور جیو کے کیمپ میں دیئے جلائے خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 10:58 AM
انتخابات کے بائیکاٹ کیلئے اے آر ڈی اوراے پی ڈی ایم کے مذاکرات تعطل کا شکار عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 08:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger