|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
سوال: اگر ہر چیز خدا کی مرضی ہی سے ہوتی ہے اور اس نے ہر چیز کا پہلے سے فیصلہ کر رکھا ہے تو پھر دنیا کے امتحان کا کیا مقصد ہے؟ اس صورت میں جہنم میں ڈالا جانا کیا ناانصافی نہ ہو گی؟ جواب: تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے ایک انسان کے اعمال پہلے سے طے (Pre-determined) کر رکھے ہیں جن کے مطابق وہ کسی کو جنت اور کسی کو جہنم میں ڈال دے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ سے ہر بات کا علم ہے۔ اس کے علم سے ہم نیک یا برے اعمال کرنے پر مجبور نہیں ہو جاتے۔ اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ تجربہ کار اساتذہ کسی طالب علم کو دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ فیل ہو گا یا پاس۔ ان کے اس اندازے سے طالب علم کبھی مجبور نہیں ہو جاتا کہ وہ محنت نہ کرے۔ یہ تو ایک عام انسان کے اندازے کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم یقینی اور حتمی ہے لیکن وہ کسی شخص کو اچھے یا برے عمل پر مجبور نہیں کرتا۔ محمد مبشر نذیر May 2006
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو پھر میشیت ایزدی کس چیز کا نام ہے؟
|
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() |
سب سے پہلے تو آپ کے لکھے ہوئے لفظ ایک لفظ کی تصحیح کرنا چاہوں گا اگر آپ برا نہ منائیں
ایزدی ایک غلط اور غیر اسلامی لفظ ہے ۔۔ اصل لفظ مشیت ایزدی نہیں ہوتا بلکہ مشیت الہی ہے ایزدی کی وضاحت کے لیے اسی فورم پر دیکھیے عادل سہیل صاحب کا یہ مراسلہ اور نیچے ہے اس کا متعلقہ اقتباس اللہ نہیں خُدا اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مندرجہ بالا نقطہ نظر عادل صاحب کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔ اللہ کو کسی بھی نام سے پکاریں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اللہ کو اللہ کے نام سے پکارنا احسن ہے ۔لیکن یہ کہنا کہ خدا کہنا غلط ہے یہ ایک متشدد بات ہے۔
میں اس موضوع میں اس پر بحث نہیں کروں گا۔ اپ دلائل دیں۔ میں انتظار کروں گا۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ کے مشیت کے متعلق ہمارے ہاں یہ عقیدہ راسخ ہو گیا ہے کہ ہر مصیبت اللہ کی مرضی سے وارد ہوتی ہے اس پر انسان کو صبر و شکر کرنا چاہیے ۔۔
لیکن اللہ فرماتا ہے ________ وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَۃ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ کہ ۔" تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے " سورۃ الشوری آیت 30 ترجمہ محمد جونا گڑھی یعنی جب انسان کوئی غلط عقیدہ اپنا لیتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو اس کا نتیجہ لازما مصائب و آلام ہی ہوتے ہیں ۔۔ تضاد کیوں۔؟ _____ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کا دعوی ہے کہ اس کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں ۔ لیکن جب ہم درج ذیل دو آیات کا موازنہ کرتے ہیں کہ : پہلی قُلْ كُلًّ مِّنْ عِندِ اللّہ "انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے " سور النساء آیت 78 دوسری مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَۃ فَمِنَ اللّہ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَۃ فَمِن نَّفْسِكَ " تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے " سورا النساء 79 تو بظاہر ان دونوں آیات میں اختلاف ہے مگر ایسا نہیں صرف سمجھنے کی بات ہے ۔۔ اللہ کا حکم دراصل اعمال کے نتائج کا اعلان ہوتا ہے۔ جیسے ہائی کورٹ میں کوئی کیس چل رہا ہو تو ایک دن ایسا آجاتا ہے کہ جج حکم سناتا ہے صاف ظاہر ہے کہ جج تمام مقدمہ کی تمام کاروائی کو ذہن میں رکھ کر سناتا ہے۔ اب جو حکم بھی وہ سنائے در اصل مدعی یا مدعا علیہ کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے اس طرح ذرا بغور دیکھیں تو دونوں آیات میں کوئی تضاد نہیں ۔۔ ' عزت ، ذلت، رزق _______ قرآن کریم میں ہے ۔ وَلكِن يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَہدِي مَن يَشَاء "لیکن وہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، " سورۃ النحل93 وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء "تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے تو جسے چاہے ذلت دے، " سور آل عمران ۔۔26 أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاء "کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالٰی جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ " سورۃ الزمر52 اب سوال _____ یہ ہے کہ وہ کب اور کیوں چاہتا ہے ؟ جب انسان اللہ کے قوانین کی پیروی کرتا ہے تو اللہ چاہتا ہے کہ اس کو ہدایت دے دے اور جب انسان مسلسل سر کشی کرتا ہے تو اللہ نہیں چاہتا کہ اسے ہدایت دے بلکہ وہ غضب ناک ہو کر اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے کہ کوئی ہدایت کی بات اس کے دل پر اترے ہی نہ ۔۔ اس طرح رزق کا معاملہ ہے کہ جب انسان اس کے لیے محنت ہی نہیں کرتا اور اللہ کے قانون کے مطابق رزق حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کا رزق تنگ ہوجاتا ہے جیسا کہ سورۂ نجم میں ہے کہ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلاَ مَا سَعَی "اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی ۔" .سورۃ النجم آيت 39 اور اسی طرح عزت اور ذلت کا معاملہ ہے کہ جب انسان قوانین فطرت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو قدرت اسے ذلت دیتی ہے اور جو قوانین فطرت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو اسے عزت دیتی ہے یہ باتیں در اصل اعمال کا نتیجہ ہیں ۔۔ ہم نے جو پڑھا اور سنا _______ " کہ ہر آنے والی مصیبت پہلے سے مقدر ہوتی ہے ۔ اسے کاتب تقدیر نے ہر ایک کی قسمت میں پہلے ہی لکھ رکھا ہوتا ہے اور انسان کچھ بھی کیوں نہ کر لے وہ آک رہتی ہے اور جب حقیقت یہ کہ انسان جو جی میں آئے کر لے آنے والی مصیبت ٹل نہیں سکتی تو اس پر رونا رلانا کیسا ۔۔ انسان کو صبر و شکر کر کے بیٹھ رہنا چاہیے اس کو راضی برضا کہتے ہیں جو اللہ کے نیک بندوں کی علامت ہے "[/B] سب سے پہلے تو یہ دیکھيے کہ ان آیات کے اس مفہوم کی رو سے ، اللہ تعالی کے قانون مکافات عمل کی ساری عمارت ، جو دین کی اصل اساس ہے ، دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے اللہ تعالی کے یہ ارشادات کہ: وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلاَ مَا سَعَی سور ہ النجم 39 "اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی ۔" مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَۃ فَمِنَ اللّہ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَۃ فَمِن نَّفْسِكَ " تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے " سورہ النساء 79 اللہ تعالی نہ تو کسی کو بلا وجہ ذلیل کرتا ہے اورنہ ہی یوں ہی عزت بخشتا ہے اس طرح اگر ان آیات کا مذکورہ مفہوم درست سمجھ لیا جائے تو یہ ارشادات خداوندی کی ( معاذاللہ) نفی ہے ۔ کیوں کہ قرآن کا من جانب اللہ ہونا دلیل ہی یہ ہے کہ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّہ لَوَجَدُواْ فِيہ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا اگر یہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بھی کچھ اختلاف پاتے ۔ سورہ النساء 82 چناں چہ جیسے کہ پہلے ہی عرض ہوچکا ہے قرآن کو سمجھ کر یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اعمال ہی کسی نتیجہ کا باعث ہیں اور کسی عمل کا نتیجہ ہی اس کی تقدیر ہے ۔ چند لوگوں کو یہ گوارا نہ تھا __________ لیکن یہ بات چند لوگوں کو جو عوام پر حکومت کرکے کھایا کرتے تھے گوارا نہ تھی کہ وہ عوام کو باور کراتے کہ جو انہیں مل رہا ہے وہ ان کے کسی اعمال کا نتیجہ ہے کیوں کہ بادشاہت میں تو رعایا بے بس ہوتی ہے بالکل بھیڑ بکریوں کی طرح ، عمل تو بادشاہ کا ہوتا ہے اور بادشاہ اپنے عمل کو غلط کہلوانا نہیں چاہتا اس لیے وہ اپنے ہر عمل کی خرابی جس کو ( بھوک ، ننگ ، بے روزگاری اور بیماری کی صورت میں ) عوام بھگتتے ہیں ، عوام کے سر یہ کہہ کر تھوپ دیتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی تقدیر کا حصہ ہے ۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔ Last edited by نورالدین; 11-03-10 at 12:58 PM. |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
پہلامراسلہ جو شروع کیا تھا وہ کاپی پیسٹ تھا لیکن یہ دھاگہ نمبر 5 کاپی پیسٹ نہیں ہے Last edited by نورالدین; 10-03-10 at 08:45 PM. |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی یہ فونٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کم کریں۔ یہ بہت چھوٹا ہو گیا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
میری رائے تو یہ ہے کہ تقدیر جیسے نازک موضوع کو سرعام نہیں چھیڑا جانا چاہیے جہاں بہت سوں کے غلط سمجھنے کا احتمال ہوتا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ہماری معاشرتی زندگی میں پائے جانے غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے چھیڑا ہے کیوں کہ تقدیر سے متعلق بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے میں نے ذاتی طور پر بھی کچھ نقصان اٹھایا ہے مگر اللہ نے ہر مصیبت میں سیکھنے کا کچھ نہ کچھ پہلو رکھا ہے جیسے ایک حدیث ہے " مومن ایک سوراخ سے ایک بار ڈسا جاتا ہے " اب اس نقصان سے جو کچھ میں نے سیکھا ہے اسے دوسرے بھائیوں کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہوں گا۔۔ مزید باتیں کرنا چاہوں گا اس وقت آفس کی چھٹی کا ٹائم ہو رہا ہے ملتے ہیں انشاء اللہ کل بہ شرط زندگی |
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اسلام میں کوئی چیز خفی یا چند لوگوں تک محدود نہیں ہے، نہ اسلام زندگی کے کسی ایک شعبے تک محدود ہے جیسا کہ کچھ لوگ گمان کرتے ہیں۔
|
|
|
|
|
|
#15 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,878
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
![]()
|
||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, pre, فیصلہ, ہے۔, کار, کرے۔, گا۔, پہلے, لگا, چیز, مقصد, مبشر, مطابق, اپنی, ایسا, اللہ, انسان, امتحان, تعالیٰ, خدا, دیکھ, دے, دنیا, شخص, علم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|