واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


تقدیر کا مسئلہ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-03-10, 04:00 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,090
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post تقدیر کا مسئلہ؟

تقدیر کا مسئلہ؟


سوال: اگر ہر چیز خدا کی مرضی ہی سے ہوتی ہے اور اس نے ہر چیز کا پہلے سے فیصلہ کر رکھا ہے تو پھر دنیا کے امتحان کا کیا مقصد ہے؟ اس صورت میں جہنم میں ڈالا جانا کیا ناانصافی نہ ہو گی؟

جواب: تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے ایک انسان کے اعمال پہلے سے طے (Pre-determined) کر رکھے ہیں جن کے مطابق وہ کسی کو جنت اور کسی کو جہنم میں ڈال دے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ سے ہر بات کا علم ہے۔ اس کے علم سے ہم نیک یا برے اعمال کرنے پر مجبور نہیں ہو جاتے۔ اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ تجربہ کار اساتذہ کسی طالب علم کو دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ فیل ہو گا یا پاس۔ ان کے اس اندازے سے طالب علم کبھی مجبور نہیں ہو جاتا کہ وہ محنت نہ کرے۔ یہ تو ایک عام انسان کے اندازے کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم یقینی اور حتمی ہے لیکن وہ کسی شخص کو اچھے یا برے عمل پر مجبور نہیں کرتا۔
محمد مبشر نذیر
May 2006
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-03-10), فیصل ناصر (10-03-10), محمدخلیل (13-09-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 05:26 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو پھر میشیت ایزدی کس چیز کا نام ہے؟
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
sahj (10-03-10), shafresha (10-03-10), فیصل ناصر (10-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 06:11 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,090
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default لفظ کی تصحیح

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
تو پھر میشیت ایزدی کس چیز کا نام ہے؟
سب سے پہلے تو آپ کے لکھے ہوئے لفظ ایک لفظ کی تصحیح کرنا چاہوں گا اگر آپ برا نہ منائیں
ایزدی ایک غلط اور غیر اسلامی لفظ ہے ۔۔ اصل لفظ مشیت ایزدی نہیں ہوتا بلکہ مشیت الہی ہے

ایزدی کی وضاحت کے لیے اسی فورم پر دیکھیے عادل سہیل صاحب کا یہ مراسلہ اور نیچے ہے اس کا متعلقہ اقتباس
اللہ نہیں خُدا
اقتباس:
''' خُدا ''' فارسیوں کا باطل معبود تھا ، جیسے ہندوؤں کا بھگوان ، اور فارسیوں میں بھی ہندوؤں کے بہت سے بھگوانوں کی طرح ایک نہیں تین ''' خُدا ''' تھے ، ایک کو وہ ''' خدائے یزداں اور خدائے نُور''' کہا کرتے تھے اور اِس جھوٹے مَن گھڑت معبود کو وہ نیکی کا خُدا مانتے تھے ، دوسرے کو وہ ''' خدائے اہرمن اور خدائے ظُلمات ''' اور اِس جھوٹے مَن گھڑت معبود کو وہ بدی کا خُدامانتے تھے ، اور تیسرے کو ''' خدائے خدایان ''' یعنی دونوں خُداؤں کا خُدا مانتے تھے ۔
آجکل ہمارےادیب اور شاعر حضرات ،بلکہ وہ لوگ جو دینی عالم کہلاتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو علماء کی صفوف میں ہوتے ہیں ، اُنکی تقریروں اور تحریروں میں اللہ کی بجائے ''' خُدا ''' کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ، اور اِس سے زیادہ بڑی غلطی یہ کہ معاملات کا ہونا نہ ہونا ، مرنا جینا ''' مشیتِ اللہ ''' کی بجائے ''' مشیتِ یزداں ''' اور ''' مشیتِ ایزدی ''' کے سپرد کر دیا جاتا ہے ، اور ''' بارگاہِ اللہ ''' کی بجائے ''' بارگاہِ ایزدی ''' میں فریاد کرنے کی تلقین و درس ہوتا ہے، ایک صاحب کی دینی کتاب میں تو رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ''' یزداں ''' کی بارگاہ میں دُعا گو دِکھایا گیا ہے ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔
اور رہا آپ سوال تو اس کا جواب ابھی دیتا ہوں ۔۔ ذرا سا انتظار ! ! !
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 06:52 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مندرجہ بالا نقطہ نظر عادل صاحب کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔ اللہ کو کسی بھی نام سے پکاریں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اللہ کو اللہ کے نام سے پکارنا احسن ہے ۔لیکن یہ کہنا کہ خدا کہنا غلط ہے یہ ایک متشدد بات ہے۔
میں اس موضوع میں اس پر بحث نہیں کروں گا۔ اپ دلائل دیں۔ میں انتظار کروں گا۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 07:59 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,090
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post اللہ کی مشیت

اللہ کے مشیت کے متعلق ہمارے ہاں یہ عقیدہ راسخ ہو گیا ہے کہ ہر مصیبت اللہ کی مرضی سے وارد ہوتی ہے اس پر انسان کو صبر و شکر کرنا چاہیے ۔۔

لیکن اللہ فرماتا ہے
________
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَۃ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ

کہ ۔" تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے "
سورۃ الشوری آیت 30 ترجمہ محمد جونا گڑھی
یعنی جب انسان کوئی غلط عقیدہ اپنا لیتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو اس کا نتیجہ لازما مصائب و آلام ہی ہوتے ہیں ۔۔

تضاد کیوں۔؟
_____
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کا دعوی ہے کہ اس کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں ۔ لیکن جب ہم درج ذیل دو آیات کا موازنہ کرتے ہیں کہ :
پہلی
قُلْ كُلًّ مِّنْ عِندِ اللّہ
"انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے "
سور النساء آیت 78
دوسری
مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَۃ فَمِنَ اللّہ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَۃ فَمِن نَّفْسِكَ
" تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے "

سورا النساء 79
تو بظاہر ان دونوں آیات میں اختلاف ہے مگر ایسا نہیں صرف سمجھنے کی بات ہے ۔۔ اللہ کا حکم دراصل اعمال کے نتائج کا اعلان ہوتا ہے۔ جیسے ہائی کورٹ میں کوئی کیس چل رہا ہو تو ایک دن ایسا آجاتا ہے کہ جج حکم سناتا ہے صاف ظاہر ہے کہ جج تمام مقدمہ کی تمام کاروائی کو ذہن میں رکھ کر سناتا ہے۔ اب جو حکم بھی وہ سنائے در اصل مدعی یا مدعا علیہ کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے اس طرح ذرا بغور دیکھیں تو دونوں آیات میں کوئی تضاد نہیں ۔۔
'
عزت ، ذلت، رزق
_______
قرآن کریم میں ہے ۔
وَلكِن يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَہدِي مَن يَشَاء

"لیکن وہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، "
سورۃ النحل93


وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء
"تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے تو جسے چاہے ذلت دے، "
سور آل عمران ۔۔26


أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاء
"کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالٰی جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ "
سورۃ الزمر52

اب سوال
_____
یہ ہے کہ وہ کب اور کیوں چاہتا ہے ؟
جب انسان اللہ کے قوانین کی پیروی کرتا ہے تو اللہ چاہتا ہے کہ اس کو ہدایت دے دے اور جب انسان مسلسل سر کشی کرتا ہے تو اللہ نہیں چاہتا کہ اسے ہدایت دے بلکہ وہ غضب ناک ہو کر اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے کہ کوئی ہدایت کی بات اس کے دل پر اترے ہی نہ ۔۔
اس طرح رزق کا معاملہ ہے کہ جب انسان اس کے لیے محنت ہی نہیں کرتا اور اللہ کے قانون کے مطابق رزق حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کا رزق تنگ ہوجاتا ہے جیسا کہ سورۂ نجم میں ہے کہ
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلاَ مَا سَعَی

"اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی ۔"
.سورۃ النجم آيت 39
اور اسی طرح عزت اور ذلت کا معاملہ ہے کہ جب انسان قوانین فطرت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو قدرت اسے ذلت دیتی ہے اور جو قوانین فطرت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو اسے عزت دیتی ہے یہ باتیں در اصل اعمال کا نتیجہ ہیں ۔۔

ہم نے جو پڑھا اور سنا
_______
" کہ ہر آنے والی مصیبت پہلے سے مقدر ہوتی ہے ۔ اسے کاتب تقدیر نے ہر ایک کی قسمت میں پہلے ہی لکھ رکھا ہوتا ہے اور انسان کچھ بھی کیوں نہ کر لے وہ آک رہتی ہے اور جب حقیقت یہ کہ انسان جو جی میں آئے کر لے آنے والی مصیبت ٹل نہیں سکتی تو اس پر رونا رلانا کیسا ۔۔ انسان کو صبر و شکر کر کے بیٹھ رہنا چاہیے اس کو راضی برضا کہتے ہیں جو اللہ کے نیک بندوں کی علامت ہے "[/B]
سب سے پہلے تو یہ دیکھيے کہ ان آیات کے اس مفہوم کی رو سے ، اللہ تعالی کے قانون مکافات عمل کی ساری عمارت ، جو دین کی اصل اساس ہے ، دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے اللہ تعالی کے یہ ارشادات کہ:
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلاَ مَا سَعَی
سور ہ النجم 39
"اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی ۔"
مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَۃ فَمِنَ اللّہ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَۃ فَمِن نَّفْسِكَ
" تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے "
سورہ النساء 79
اللہ تعالی نہ تو کسی کو بلا وجہ ذلیل کرتا ہے اورنہ ہی یوں ہی عزت بخشتا ہے
اس طرح اگر ان آیات کا مذکورہ مفہوم درست سمجھ لیا جائے تو یہ ارشادات خداوندی کی ( معاذاللہ) نفی ہے ۔ کیوں کہ قرآن کا من جانب اللہ ہونا دلیل ہی یہ ہے کہ
وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّہ لَوَجَدُواْ فِيہ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا
اگر یہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بھی کچھ اختلاف پاتے ۔
سورہ النساء 82

چناں چہ جیسے کہ پہلے ہی عرض ہوچکا ہے قرآن کو سمجھ کر یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اعمال ہی کسی نتیجہ کا باعث ہیں اور کسی عمل کا نتیجہ ہی اس کی تقدیر ہے ۔

چند لوگوں کو یہ گوارا نہ تھا
__________
لیکن یہ بات چند لوگوں کو جو عوام پر حکومت کرکے کھایا کرتے تھے گوارا نہ تھی کہ وہ عوام کو باور کراتے کہ جو انہیں مل رہا ہے وہ ان کے کسی اعمال کا نتیجہ ہے کیوں کہ بادشاہت میں تو رعایا بے بس ہوتی ہے بالکل بھیڑ بکریوں کی طرح ، عمل تو بادشاہ کا ہوتا ہے اور بادشاہ اپنے عمل کو غلط کہلوانا نہیں چاہتا اس لیے وہ اپنے ہر عمل کی خرابی جس کو ( بھوک ، ننگ ، بے روزگاری اور بیماری کی صورت میں ) عوام بھگتتے ہیں ، عوام کے سر یہ کہہ کر تھوپ دیتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی تقدیر کا حصہ ہے ۔۔


جاری ہے ۔۔۔۔

Last edited by نورالدین; 11-03-10 at 12:58 PM.
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 08:30 PM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,213
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,728 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی نورالدین السلام علیکم،
اسلامی سیکشن میں‌کاپی پیسٹ کرنے کی اجازت نہیں‌ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 08:36 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,090
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Exclamation کاپی پیسٹ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
بھائی نورالدین السلام علیکم،
اسلامی سیکشن میں‌کاپی پیسٹ کرنے کی اجازت نہیں‌ہے!
وعلیکم اسلام
پہلامراسلہ جو شروع کیا تھا وہ کاپی پیسٹ تھا لیکن
یہ دھاگہ نمبر 5 کاپی پیسٹ نہیں ہے

Last edited by نورالدین; 10-03-10 at 08:45 PM.
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 08:37 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی یہ فونٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کم کریں۔ یہ بہت چھوٹا ہو گیا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 10-03-10, 08:57 PM   #9
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,213
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,728 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
وعلیکم اسلام
پہلامراسلہ جو شروع کیا تھا وہ کاپی پیسٹ تھا لیکن
یہ دھاگہ نمبر 5 کاپی پیسٹ نہیں ہے
جی ہاں‌اُسی کی طرف اشارہ کررہا ہوں، کچھ ساتھیوں‌کو شکایت ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 09:16 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,090
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Question شکایت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
جی ہاں‌اُسی کی طرف اشارہ کررہا ہوں، کچھ ساتھیوں‌کو شکایت ہے!
خیریت ۔!
کیا شکایت ہے
بتائیں میں ہر ممکن طریقے سے اسے دور کرنے کی کوشش کروں گا
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 09:21 PM   #11
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میری رائے تو یہ ہے کہ تقدیر جیسے نازک موضوع کو سرعام نہیں چھیڑا جانا چاہیے جہاں بہت سوں کے غلط سمجھنے کا احتمال ہوتا ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (10-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 09:29 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,090
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Smile

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
میری رائے تو یہ ہے کہ تقدیر جیسے نازک موضوع کو سرعام نہیں چھیڑا جانا چاہیے جہاں بہت سوں کے غلط سمجھنے کا احتمال ہوتا ہے۔
میں نے یہ مسئلہ الجھانے کے لیے نہیں بلکہ
ہماری معاشرتی زندگی میں پائے جانے غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے چھیڑا ہے
کیوں کہ تقدیر سے متعلق بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے میں نے ذاتی طور پر بھی کچھ نقصان اٹھایا ہے
مگر اللہ نے ہر مصیبت میں سیکھنے کا کچھ نہ کچھ پہلو رکھا ہے
جیسے ایک حدیث ہے " مومن ایک سوراخ سے ایک بار ڈسا جاتا ہے "
اب اس نقصان سے جو کچھ میں نے سیکھا ہے اسے دوسرے بھائیوں کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہوں گا۔۔
مزید باتیں کرنا چاہوں گا
اس وقت آفس کی چھٹی کا ٹائم ہو رہا ہے
ملتے ہیں انشاء اللہ کل بہ شرط زندگی
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 09:59 PM   #13
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
میری رائے تو یہ ہے کہ تقدیر جیسے نازک موضوع کو سرعام نہیں چھیڑا جانا چاہیے جہاں بہت سوں کے غلط سمجھنے کا احتمال ہوتا ہے۔
کیا اپ بھی اسلام میں کچھ چیزوں کی خفی و سری ہونے پر یقین رکھتے ہیں؟ یا آپ کا خیال ہے کہ اکثریت جاہل ہے؟
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-03-10), نورالدین (11-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-03-10, 10:03 PM   #14
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام میں کوئی چیز خفی یا چند لوگوں تک محدود نہیں ہے، نہ اسلام زندگی کے کسی ایک شعبے تک محدود ہے جیسا کہ کچھ لوگ گمان کرتے ہیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-03-10), فیصل ناصر (11-03-10), نورالدین (11-03-10), منتظمین (10-03-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 11-03-10, 03:57 AM   #15
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,878
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
اسلام میں کوئی چیز خفی یا چند لوگوں تک محدود نہیں ہے، نہ اسلام زندگی کے کسی ایک شعبے تک محدود ہے جیسا کہ کچھ لوگ گمان کرتے ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر;
میری رائے تو یہ ہے کہ تقدیر جیسے نازک موضوع کو سرعام نہیں چھیڑا جانا چاہیے جہاں بہت سوں کے غلط سمجھنے کا احتمال ہوتا ہے۔
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (12-03-10), نورالدین (11-03-10), اخترحسین (10-09-10), عبداللہ حیدر (11-03-10)
جواب

Tags
color, pre, فیصلہ, ہے۔, کار, کرے۔, گا۔, پہلے, لگا, چیز, مقصد, مبشر, مطابق, اپنی, ایسا, اللہ, انسان, امتحان, تعالیٰ, خدا, دیکھ, دے, دنیا, شخص, علم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger