| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::::: سوال رقم 6::::: ::::: کیا عبادت کے معامالات میں ہم پر کوئی پابندی لاگو کی گئی ہے یا جیسے اور جِس طرح سے ہم چاہیں اپنی مرضی سے عبادات کرنے کی اجازت ہے ؟ ::::: جواب ::: ہم اپنی مرضی اور پسند سے بنائے یا اختیار کردہ طریقوں (عدد ، کیفیات ، اوقات وغیرہ ) پر عبادت نہیں کر سکتے ، ہمیں پابند کیا گیا کہ ہم عِبادت کے لیے صِرف وہ طریقے اپنائیں جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ہدایت کے مُطابق ہوں ۔ ::::: قُرآن سے دلائل ::::: ::: دلیل (1) ::: ( قلنَا اھبِطُوا مِنھَا جَمیِعاً فَاِمَّا یَاتِینَّکم مِنِی ھدًی فَمَن تَبِعَ ھدَيَ فَلَا خوفٌ عَلِیھِم وَلَا ھم یَحزَنونَ ، وَاَلَّذیِنَ کَفَروا وَ کَذَّبوا بِاَیَتِنَا اولۤئِکَ اَصحَاب اَلنَّارِ ھم فِیھا خَالِدونَ )( ہم (اللہ )نے کہا تم سب اِس (جنّت )میں سے نیچے اُتر جاؤ ، پس تمہیں میری طرف سے ہدایت آئے گی تو جِس نے میری ہدایت پر عمل کیا تو اُن کو کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ، اور جو میری آیات کا انکار کریں گے اور اُنہیں جھٹلائیں گے وہ جہنمی ہیں ، ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے ( سورت البقرۃ /آ یت٣٨،٣٩ ) ::: دلیل (2) ::: (کَاَنَ اَلنَّاسَ اُ مَۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اَللَّہ اَلنَّبِینَ مبَشِّرِینَ وَ منذِرِین َ وَ اَنزَلَ مَعھم اَلکِتَابَ لَیحکَمَ بَینَ اَلنَّاسِ فیِمَا کَانوا فِیہِ یَختَلِفونَ )( لوگ پہلے ایک اُمت تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے نبی بھیجے لوگوں کو خوشخبریاں سنانے اور ڈرانے والے ، اور اُن نبیوں کے ساتھ اللہ نے کتاب اُتاری تا کہ لوگ جِس بات میں اختلاف کریں اُس کا فیصلہ کتاب کے ذریعے کیا جائے ) ( سورت البقرہ /آیت ٢١٣ ) ::: دلیل (3) ::: ( قُل اِنَّمَآ اََنَا بَشرٌ مَثلُکُم یُوحیٰۤ اِليَّ اَنَّمَا اِلَہُکُم اِلَہٌ واحِدٌ فَمَن کانَ یَرجُو لِقاءَ رَّبہِ فَلیَعمَل عَملاًصالحاً و لا یُشرِک بِعِبادۃ رِّبِہِ اَحَداً )( (اے نبی )کہیے ، میں بھی تُم لوگوں کی طرح اِنسان ہوں ، لیکن بے شک ، میری طرف وحی ہوتی ہے ( کہ بے شک تم سب کا معبود ایک ہے تو جو اپنے رب سے ملنے کا یقین رکھتا ہے وہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عِبادت میں کِسی کو شریک نہ کرے ) ( سورت الکہف /آیت ١١٠ ) ( اِس آیتَ کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونا ، نبی انسان میں سے ہونا بھی ثابت ہے ، ہمارے کچھ مُسلمان بھائی کچھ اور عقیدہ بھی رکھتے ہیں ، چونکہ میرا اِس وقت کا موضوع وہ نہیں لہذا اپنے رواں موضوع ہر قائم رہتے ہوئے اُسے آگے بڑھاتا ہوں ) ::::: حدیث سے دلائل ::::: ::: دلیل (1) :::ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کُلُّ اُمَّتِی یَدْخُلُونَ الجَنَّۃَ اِلا من اَبَی ) قالُوا یا رَسُولَ اللَّہِ وَمَن یَاءَبَی ::: قال ( من اَطَاعَنِی دَخل الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ اَبَی )( میرے سارے اُمتی جنّت میں داخل ہوں گے سوائے بات سے اِنکار کرنے والوں کے ) صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا :: اے اللہ کے رسول ، کون بات سے اِنکار کرنے والا ہو گا ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( جو میری بات پر عمل کرے گا وہ جنّت میں داخل ہو گا اور جو میری بات نہیں مانے گا وہ اِنکار کرنے والا ہے ) صحیح البُخاری /حدیث ، ٧٢٨٠ / کتاب الاعتصام بالکتاب و السُّنۃ/ باب٢ الاقتدا بالسنن رسول اللَّہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچویں حدیث ، ::: دلیل (2) :::عبداللہ بن عُمر رضی اللہ عنھُما کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( لا یؤمِنُ اَحدُکُم حَتیٰ یِکُونُ ھواہُ تَبعاً لِمَا جِئتُ بِہِ ) ( تُم سے کوئی اُس وقت تک اِیمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اُسکی خواہشات میری ساتھ آئی ہوئی چیز ( یعنی کتاب اللہ اور سُنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کے مُطابق نہ ہو جائیں ) اِمام بغوی نے اپنی کتاب ''' شرح السُنّہ ''' میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ، ::: دلیل (3) ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( مَن عَمِلَ عَمِلاً لیس علیہِ اَمرُنا فھو ردٌ ) ( جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ کام مردود ہے ) ( صحیح مسلم ، حدیث ١٧١٨) اِس کے عِلاوہ اور بھی کئی احادیث اِس بات کی دلیل ہیں ، یہاں آخر میں بیان کی جانے والی حدیث سنت و بدعت میں فیصلہ کرنے والی اہم ترین احادیث میں سے ہے ، اِس کی تفصیل اِنشاء اللہ ایک الگ دھاگے کی صورت میں بیان کی جائے گی ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 15-03-08 at 06:42 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (16-03-08), مرزا عامر (07-07-10), ابن افضل (07-04-08), ضِرار Derar (23-06-10), عبداللہ حیدر (16-07-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
عادل صاحب یہ تو بتاو یہ جو ہم تسبیاں کرتے ہین سویرے یا شام کو یا کوئی کوئی خاص خاص خاص وقت مین خاص خاص گنتیوں میں یہ کیا غلط ہیں |
|
|
|
| ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (07-07-10) |
![]() |
| Tags |
| color, کہان, کوئی, کرتے, پانچ, پسند, وقت, لوگ, اللہ, السلام, انسان, بھائی, بتاو, جواب, حدیث, خاص, شام, عادل, عبادت, غلط, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں غیر ملکی کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دفتر | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 17-04-08 08:19 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 10:06 AM |