| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#31 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#32 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور آخر میں یہ کہہ کر آپ کے طنز اور تعصب پر مبنی عتراضات کا جواب روکتا ہوں ، کہ ، اگر آپ میں کچھ اخلاقی جرات ہے ، توکچھ امانت داری کا مظاہرہ کیجیے ، اور جن قارئین کو آپ نے اپنی لا علمی ، اور پر مبنی تصویری تجزیے ، اور خود ہی اپنے آپ کو درست کہہ کر یک طرفہ فیصلے ، اور مجھ پر """" حدیث کا مذاق """ اڑانے کا الزام لگا نے کے ذریعے اور پھر اس الزام کی بنا پر میرے بارے میں ایک اعلان کے ذریعے گمراہی کی طرف دھکیلا ہے اور اپنی آخرت میں اللہ ہی جانے کتنوں کی گمراہی اپنے ذمہلے لی ہے ، ان قارئین کو میرے یہ جوابت بھی پہنچا دیجیے ، تا کہ انہیں سچے علمی دلائل کی روشنی میں سچائی کا پتہ چل جائے اور آپ کی آخرت میں ان کی گمراہی کا بوجھ نہ رہے ، رہا مجھ پر فتویٰ لگانے کا معاملہ تو ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا جواب آپ سے اپنے رب کے سامنے لوں گا اور ان شاء اللہ اپنے رب سے اجر و ثواب پاؤں گا ، اللہ ہم سب کی غلطیاں معاف فرمائے اور اپنے درگزر اور بخشش والا معاملہ فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (27-07-09), تفسیر حیدر (27-07-09) |
|
|
#33 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب سہیل صاحب آپ کی اس پوسٹ میں کچھ باتیں جو مجھے ٹھیک نہیں لگی تھیں اس پر میں نے آپ کو 22 جولائی کو ایک پوسٹ لگا کر وہ وجہ جاننے کی کوشش کی تھی پھر 23 جولائی کو مکمل تفصیل سے آپکی اسی پوسٹ کے کچھ پکچر بلاگ بنائے تھے تاکہ آپ کو سمجھنے میں کوئی مشکل نہ ہو مگر آپ اپنی کمزوریوں کا جواب تو دے نہیں سکے اور مجھ پر قلم چلاتے رہے خیر مجھے ان باتوں کی کوئی فکر نہیں ھے کیونکہ جس کے پاس جواب نہیں ہوتا تو وہ ایسا ہی کرتا ھے آپ میرے لیے نئے نہیں ہیں میری ذات پر آپ نے جو لکھا ھے وہ میں آپ کو معاف کرتا ہوں اقتباس:
آپ ذرا اس پر بھی توجہ دیں شائد آپ کو مزید کچھ اور سمجھنے میں اضافہ ملے آپ نے یہ حدیث میرے لیے لکھی تھی اور اس کے بعد آپ نے اس پر کتنا عمل کیا وہ آپ کی اس کے بعد والی ساری پوسٹوں کو پڑھ کے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ھے آپ کو شرم دلانے کے لئے آپ کی مجھ پر لکھی ہوئی حدیث اب آپ پر اثر کرے گی |
||
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (01-08-09) |
|
|
#34 | |||||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
جناب عادل سہیل صاحب میں آپ کی طرف سے ہی انتظار کر رہا تھا تو بہت سوچ بچار اور اپنی تمام کوشش سے آپ کسی نتیجے تک تو پہنچے میری پوسٹ ڈلیٹ کروا دی تھی آپ نے مل کے اپنے دوست حیدر سے یہ کہہ کے کہ یہ مواد باہر سے لیا گیا ھے چلو آپ نے اپنی ناکام کوششوں کے باوجود جواب دے کے یہ تو ثابت کیا کہ وہ مود آپ کا اپنا ہی تھا باہر سے نہیں لیا گیا تھا جس کے لئے میں نے اڈمینسٹریٹر سے کچھ وقت مانگا تھا کہ میں اپنا موقف دوبارہ ضرور بیان کروں گا اس کے بعد چاہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جناب عادل سہیل صاحب ایک طرف آپ اپنے آپ کو عالم فاضل ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو آپ ناکام جواب دے رہے ہو اس میں آپ اپنے آپ کو نادان ثابت کر رہے ہیں۔ جب آپ کو یہ نہیں پتہ کہ آپکی پوسٹ کو پکچر بلاگ میں لگا کر میں نے سب کی آسانی کے لیے پیش کیا تھا جس کو آپ نے پہچاننے سے انکار کیا تو آپ کے دماغ کے بارے میں کوئی کیا مثال دے سکتا ھے ۔ عادل صاحب میں نے آپ کو یہ نہیں پوچھا تھا کہ آپ پورے قرآن میں سے مجھے اپنا جواب دکھائیں اور نہ ہی میں نے آپ کو یہ کہا تھا کہ آپ مجھے دنیا کی احدیث مبارکہ کی کتاہوں میں سے جواب دیں اور جان بوجھ کر نادان بننے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی زیادہ ہوشیاری دکھائیں ، اگر آپ اس فارم میں ایسی حرکت کریں گے تو آپ بھی جن اسلامی فارمز میں ممبر ہیں وہاں بھی یہ مسئلہ اٹھایا جا سکتا ھے اسی لیے جس مسئلہ کا آپ سے گفتگو کی جا رہی ھے اسی کا جواب دیں تو ہی اچھا ھے ورنہ آپ اپنی ٹیم کی نظروں میں بھی اپنی عزت کھو بیٹھیں گے کیونکہ وقتی طور پر وہ آپ کے بےجا عزت بچانے کے لیے مجھے نقصاں پہچاننے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن جانتے وہ بھی ہیں کہ آپ جواب دینے میں فیل ہیں کیونکہ آپ نے غلطی کی ھے ہر روز آپ نیا نے نیا جواب ڈھونڈ کے لگا رہے ہیں بھائی اپنے دل کو تسلی دے رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ غلطی آپ سے ہوئی ھے اور اپنے دل کو ہی تسلی دے رہے ہیں تو دیتے رہیں جب تک یہ پوسٹ یہاں ھے آپ اپنے دل کو تسلی کے لیے گاہے گاہے لکھتے رہیں گے۔ جس طرح سوالوں کا جواب آپ دینے کی کوشش کرتے ہیں ابھی تک پورے فارمز کی ہسٹری میں بڑے بڑے تعلیم یافتہ بھائی کام کر رہے ہیں انہوں نے بھی کبھی ایسی غلطی نہیں کی جس طرح کی غلطیاں آپ کر رہے ہیں عادل سہیل صاحب آپ نے خود ہی سوال بنا کے اپنی من مانی مرضی سے جواب اسطرح دینے کی کوشش کی ھے جیسے جواب آپ دے رہے ہیں ہر عقلمند جانتا ھے کہ میں نے کیا اعتراض لگائے تھے اور کیا پوچھا تھا اور آپ نے کیا جوابات دئے ہیں ، جو ٹرکس آپ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر وہ ٹھیک ہوتے تو میں ابھی تک اس فارم میں نہ ہوتا چلیں میں آپ کو پھر آخری بار پیچھے لے کا جاتا ہوں پوری تفصیل کے ساتھ اور اب بچوں کو جیسے سمجھاتے ہیں پھر اسی طرح کوشش کرتا ہوں ۔ اقتباس:
جناب عادل صاحب اپنے سوال کو پھر غور سے پڑھیں آپ نے سوال لکھا ہوا ھے سوال:- کیا اللہ کی عِبادت خوف اور لالچ کے ساتھ کی جانی چاہئیے ؟ اس کا صحیح جواب یہ تھا جواب:- اب ہم قرآن سے دیکھتے ہیں اللہ سبحان و تعالی کا فرمان وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا اور اسے ڈر اور طمع سے پکارو وَ اور ادْعُو هُ اسے پکارو خَوْفًا ڈر وَ اور طَمَعًا طمع سے الاعراف آیت 56 تفسیر ابن کثیر اردو - پارہ نمبر 8 - سورت الاعراف - آیت نمبر 56 اللہ تعالی اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ھے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ھے ۔ فرماتا ھے کہ اپنے پرودگار کو عاجزی ، مسکینی اور آہستگی سے پکارو ------------------------------- ------------------------------- اب عادل صاحب کو حرف بہ حرف سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ایک اسلامی فارم ھے اھل حدیث والوں کا اور وہاں ہر بندے کو ممبرشپ کی اجازت ھے وہاں پر سوال جواب والے سیکشن میں جس کو کوئی حاجت ہوتی ھے تو اپنے سوال یا سوالات وہاں درج کرتا ھے اور اسے قرآن اور احادیث کی روشنی میں جوابات دئے جاتے ہیں اور ممبران میں سے بھی اگر کسی کے پاس قرآن اور احدیث کی روشنی میں جواب ہوتا ھے تو وہ بھی جواب دے سکتا ھے یہ بات سوال جواب والی تو سمجھ آتی ھے لیکن عادل صاحب یہ سوال جو نمبر 8 پر ھے یہاں سوال پوچھنے والا کون ھے ، خود ہی سوال بنا دیا اور خود ہی جواب۔ کیا اس کو کم عقلی نہیں کہتے، اقتباس:
یہ پاکستانی اردو فارم ھے اور اس وقت ہم اس کے اسلامی سیکشن میں ہیں یہاں سب مسلمان آتے ہیں جن کا مختلف فرقوں سے تعلق ھے اور کسی بھی فرقہ پر کوئی پابندی نہیں ہر مسلمان والدین اپنے بچوں کی جب وہ سب سے پہلا لفظ جو سکھاتے ہیں وہ اللہ کا اسم مبارک ہوتا ھے اس کے بعد وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سکھاتے ہیں پھر کلمہ طیبہ اور اسی طرح وہ جوں جوں آگے بڑھتا ھے اس کو اپنی بساط کے مطابق دینی تعلیم بھی سکھاتے ہیں اس وقت فارم میں سب میچیور بندے ہیں اور کوئی بھی کسی کے مطابق جو نماز پڑھنے کا طریقہ میں کچھ تھوڑا سا الگ الگ ھے وہ نہیں بدل سکتا ہاں اگر کوئی نیا نیا مسلمان ہوا ھے اور وہ آپ سے یہ سوال کر رہا ھے تو آپ اس اپنا طریقے سکھائیں تو اس پر کچھ اثر ہو سکتا ھے۔ اب جو آپ نے سوال لکھا ھے عبادت کے متعلق وہ سوال اور جو نیچے آپ نے اس کا جواب لکھا ھے وہ جواب اور اس کے نیچے جو قرآن کی آیت لکھی ھے ایک بار پھر آپ اپنا سوال پڑھ کے تسلی کر لیں کہ سوال آپ کا اب بھی وہی ھے عبادت کے متعلق جاری ھے " اب عبادت کے متعلق سوال یہ ھے کہ؟ " اقتباس:
" اب عبادت کے متعلق سوال یہ ھے کہ ؟ " "کیا اللہ کی عِبادت خوف اور لالچ کے ساتھ کی جانی چاہئیے ؟" اب یہاں دیکھیں سوال کے بعد پھر ابھی تک سوال وہیں برقرار ھے لیکن اس میں تھوڑا اضافہ کر دیا گیا ھے اقتباس:
"اب عبادت کے متعلق سوال یہ ھے کہ ؟ " "کیا اللہ کی عِبادت خوف اور لالچ کے ساتھ کی جانی چاہئیے ؟" :::::::جواب ::::::: جی ہاں اللہ کی عِبادت اللہ کے عذاب کے خوف اور رحمت و جنّت کے لالچ کے ساتھ کرنی چاہئیے ، سوال عبادت کے متعلق کیا پھر سوال میں تھوڑی تبدیلی کی اور سوال پھر بھی عبادت کرنے پر قائم ھے اس لیے جو جواب دیا گیا ھے تو وہ جواب بھی اللہ کی عبادت کرنے پر ھے یہاں تک عبادت پر سوال اور عبادت پر جواب مکمل ہو گیا یہاں پر اگر قرآن سے کوئی آیت نہیں مل سکی تو اس پر حدیث مبارکہ یا جو بھی احادیث معلوم تھیں وہ لکھ دی جاتیں تو ٹھیک تھا اور اگر اس وقت کوئی صحیح حدیث نہیں ملی تھی تو بھی سوال کا جواب مکمل ہو گیا تھا ہر مسلمان نے اس جواب کو دل سے تسلیم کرنا تھا عادل صاحب جو آپ نے اللہ کی عبادت کی قرآن سے دلیل دینے کی کوشش کی ھے اب اس پر بھی آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں اقتباس:
"اب عبادت کے متعلق سوال یہ ھے کہ ؟ "کیا اللہ کی عِبادت خوف اور لالچ کے ساتھ کی جانی چاہئیے ؟" :::::::جواب ::::::: جی ہاں اللہ کی عِبادت اللہ کے عذاب کے خوف اور رحمت و جنّت کے لالچ کے ساتھ کرنی چاہئیے ، قُرآن سے دلیل وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اور لالچ کرتے ہوئے اُسے پکارو عادل سہیل صاحب اب آپ بتائیں کہ آپ کا سوال عبادت پر ھے اور آپ کے پھر سوال کا سوال عبادت پر ھے، پھر اس کے بعد آپ کا جواب بھی عبادت پر ھے اب جو عبادت کا جواب آپ قرآن سے دلیل میں پیش کرنے کی کوشش کی ھے وہ دعا/پکارو پر ھے اب آپ یہ بتائیں عبادت اور دعا میں کوئی فرق ھے یا نہیں میرے خیال میں پہلے آپ کو خود ضرورت ھے جاننے کی کہ عبادت اور دعا میں کیا فرق ھے ہر مسلمان بھائی جو عربی میں تھوڑا بھی عقل شعور رکھتا ھے وہ خود اسی آیت میں عربی میں پڑھ سکتا ھے وَا دْعُو هُ اور پکارو اسے 7:56 وَا عْبُدُ واْ اللّهَ اور تم اللہ کی عبادت کرو 4:36 اب تمام مسلمان بھائی قرآن میں جو اللہ تعالی کا کلام ھے اس میں عبادت اور دعا والی دونوں آیات آپ کے سامنے ہیں ----------------------------- ----------------------------- اب آپ کے لیے قرآن کی آیات ہیں اگر مہربانی کر کے سب ان آیات کو بھی پڑھ لیں تو آپ کو مزید عادل سہیل صاحب کے سوال پر جو گفتگو کی جارہی ھے اسے سمجھنے میں اور آسانی ہو گی اور اللہ سبحان تعالی آپ کو اس کا اجر عطا کریں گے وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ اور بیشک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے سُوۡرَةُ الشُّعَرَاء آیت 192 طس تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُّبِينٍ طا، سین ، یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں سورۃ النمل:27 , آیت:1 أَفَغَيْرَ اللّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنَزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً [6:114] کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کوئی اور (قانون بنانے والا) فیصلہ کرنے والا تلاش کرتا پھروں، حالانکہ اس نے پوری وضاحت سے تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے۔ ادْعُواْ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ 7:55 تم اپنے رب سے گڑگڑا کر اور آہستہ (دونوں طریقوں سے) دعا کیا کرو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللّهُ وَلاَ تَكُن لِّلْخَآئِنِينَ خَصِيمًا 4:105 (اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ اللہ کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا (النساء)۔۔۔ وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا 17:23 اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا (الاسراء)۔۔۔ آخر میں عادل صاحب کے لیے یہ قرآن کی آیت ھے إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ : ”بے شک اللہ درگزر بھی کرتا ہے اور مغفرت بھی قبول کرتا ہے“۔ 22:60 یہ جواب وہ ھے جو قرآن کے ساتھ سہیل صاحب نے اپنی مرضی سے اپنے سوال کو ملانے کی کوشش کی ھے اس پر ھے جو میرے پوسٹ قرآن پر پکچر بلاگ میں ڈلیٹ کرنے کے بعد میری درخواست پر لگائی گئی تھی اس کو ایڈمین فارم کے قانون کا پاس رکھتے ہوئے ڈلیٹ کر سکتی ھے ہر بڑے فارمز کی ایڈمین اور خاص ناظمین مجھے جانتے ہیں کہ میں نے کھبی بھی کسی مسلمان کے لکھے ہوئے ترجمہ پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کسی بھی حدیث کو ماننے سے انکار کیا ھے جو شریعت کے مطابق ہو اب ایک جواب جو حدیث مبارکہ پر ھے اس کا جواب بھی دینا باقی ھے وہ بھی وقت ملنے پر دے دیا جائے گا والسلام |
|||||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (28-07-09), خرم شہزاد خرم (01-08-09) |
|
|
#35 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
کنعان بھائی ، آپ اپنی بات مکمل فرمایے ، ان شاء اللہ پھر میری باری آئے گی ، فی الحال صرف یہ گذارش کرتا ہوں کہ اگر آپ احادیث میں بیان کردہ تفیسر اور ائمہ امت کی طرف بیان کردہ تفاسیر کو درست نہیں مانتے تو پھر میرا اور اپنا وقت ضائع مت کیجیے ، میں نے جو کچھ لکھاہے ، اس کو دھیرے دھیرے ، تحمل سے پڑھیے ، ان شاء اللہ بہت کچھ واضح ہو گا ، و السلام علیکم ۔ Last edited by عادل سہیل; 30-07-09 at 01:51 AM. وجہ: کتابت میں ایک غلطی کی تصحیح |
|
|
|
|
|
#36 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,759
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 36,998 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Last edited by فیصل ناصر; 29-07-09 at 03:35 AM. |
|
|
|
|
|
|
#37 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (29-07-09), خرم شہزاد خرم (01-08-09) |
|
|
#38 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
کنعان بھائی ، معاذ اللہ میں نے کہیں آپ کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہا جو آپ نے میرے بارے میں کہا ، بھائی تلملانے کی ضرورت نہیں ، میں نے اللہ کی عطاء کردہ روفیق سے آپ کے اعتراضات کی حقیقت دیگر صحیح احادیث کی روشنی میں واضح کی ، اور اس کے بعد مشورہ دیا کہ اب آپ اپنی مسلمانی کا جائزہ لیجیے ، لیکن آپ حسب سابق پھر بات کو کچھ اور طرح دکھانے کی کوشش کر رہے ، اور ان شاء اللہ اس میں بھی آپ کو کامیابی نہ ہوگی ، باذن اللہ ، جب آپ اپنی بات ، اپنے دلائل ، اپنے اعتراضات ، اپنے الزامات ، اپنے طعن و تشنیع مکمل کر چکیں تو بتا دیجیے گا ، ان شاء اللہ پھر میں ان کا جواب پیش کروں گا ، و السلامعلیکم۔ |
|
|
|
|
|
#39 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ
مَن تَشَاءُ وَتَـنْـزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ 3:26 یوں عرض کر، اے اللہ! ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے، بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (29-07-09), خرم شہزاد خرم (01-08-09) |
|
|
#40 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (30-07-09) |
|
|
#41 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
کچھ دن پہلے فارم میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور مارشل لاء کا بھی اعلان ہوا ھے تو ان سب سے قانون کا احترام کرتے ہوئے میں فارم میں موضوع پر ہی بات کروں گا ------------------------------------------------------------------------------- احادیث کی کتابوں کے تبقات محدثین نے روایات کی صحت و قوت کے لحاظ سے ان ادوار میں تیار ہونے والی تمام کتب حدیث کو چار طبقات پر تقسیم کیا ہے۔ طبقہ اولیٰ میں موطا امام مالک، صحیح بخاری اور صحیح مسلم تینوں کتابیں شامل ہیں جو صحت سند اور راویوں کی ثقاہت کے اعتبار سے اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ طبقہ ثانیہ میں سنن ابوداؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی شامل ہیں کیونکہ ان کتابوں کے بعض راوی ثقاہت کے اعتبار سے طبقہ اولیٰ کے مقابلے میں کمزور ہیں لیکن ان کو بہر حال قابل اعتماد مانا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ (م1176ھ) نے موطا امام مالک کو اپنی تحقیق کے مطابق صحیحین سے بھی بہتر درجہ دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو حجۃ اﷲ البالغہ ج: 1) طبقہ ثالثہ میں سنن دارمی (225ھ)، سنن ابن ماجہ (273ھ)، سنن بیہقی (457)، سنن دار قطنی (385ھ) طبرانی کی معاجم (360ھ) امام طحاوی کی کتب (221ھ) مسند شافعی (204ھ) اور مستدرک حاکم (405ھ) شامل کی جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں صحیح، حسن اور ضعیف ہر قسم کی روایات موجود ہیں لیکن قابل اعتماد روایات کا عنصر غالب ہے۔ طبقہ رابعہ میں ابن جریر طبری (310ھ) خطیب بغدادی (463ھ) ابو نعیم (403ھ) ابن عساکر (371ھ) دیلمی (509ھ) ابن عدی (365ھ) ابن مردویہ (410ھ) واقدی (207ھ) اور اسی نوع کے دوسرے مصنفین کی کتابیں شامل ہیں۔ ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک یہ تالیفات زیادہ تر کمزور اسناد سے مروی روایات کا مجموعہ ہیں لیکن ان کمزوریوں اور تسامحات سے ہٹ کر یہی کتب، تاریخ، اخلاقیات اور علوم و معارف کا بیش بہا خزانہ ہیں۔ عصر حاضر میں یہ کتب بھی نئی تحقیق و تخریج کے ساتھ چھپ کر مکتبوں کی زینت بن چکی ہیں اور ان کے حواشی پر محققین نے ان کی صحت و ضعف کی نشاندہی کردی ہے۔ ------------------------------------------------------------------------------- سند متن تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جو ایک خبر کی حیثیت رکھتی ہے اور خبر کی تحقیق کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے ۔ اللہ سبحان تعالی فرماتے ہیں : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا ( سورة الحجرات : 49 ، آیت : 6 ) اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کیا کرو ۔ جو حدیث میں اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہے ۔ ایسے شخص پر صحیح بخاری کی ہی متواتر حدیث صادق آتی ہے کہ : باب تغلیظ من الكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم وحدثنا محمد بن عبيد الغبري، أبو عوانة، عن أبي حصين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار البخاری 6197 - 110۔ تحفۃ الاشراف 12852 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص عمدا میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانا دوذخ میں بنالینا چاہیے ۔ وحدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا أبي حدثنا سعيد بن عبيد حدثنا علي بن ربيعة قال أتيت المسجد والمغيرة أمير الكوفة قال فقال المغيرة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن كذبا علي ليس ككذب على أحد فمن كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار البخاری 1291 ، مسلم 2154 ، 2155، 2156 ،الترمذی 1000 تحفۃ الاشراف 11520 حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے جو شخص مجھ پر قصدا افتراء کرتا ہے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہیے ------------------------------------------------------------------------------- نمونہ کے طور پر 2 احادیث مبارکہ پیش کر رہا ہوں کہ اگر کوئی ایک طرح کی حدیث ہو اور کتنے راویوں سے اکٹھی کی گئی ھو ان کے حوالے الگ الگ ہوتے ہیں اور ان کی عبارات بھی قدرے مختلف ہوتی ہیں وہ حدیث ہی کہلاتی ھے اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا عن عبد اﷲ بن بريدة الأسلمي، قال : قال النبيا : مَن کنتُ وليه فإنّ علياً وليه. و في رواية عنه : مَن کنتُ وليّه فعليّ وليّه. عبد اﷲ بن بریدہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس کا میں ولی ہوں تحقیق اُس کا علی ولی ہے۔‘‘ اُنہی سے ایک اور روایت میں ہے (کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ) ’’جس کا میں ولی ہوں اُس کا علی ولی ہے۔‘‘ 1. حاکم، المستدرک، 2 : 129، رقم : 2589 2. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 350، 358، 361 3. نسائي، خصائص امير المؤمنين علي بن ابي طالب رضي الله عنه : 85، 86، رقم : 77 4. عبدالرزاق، المصنف، 11 : 225، رقم : 20388 5. ابن ابي شيبه، المصنف، 12 : 84، رقم : 12181 6۔ ابو نعیم نے ’حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء (4 : 23)‘ میں اسے مختصراً ’مَن کنتُ مولاہ فعليّ مولاہ‘ کے الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 7. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 76 8۔ ہیثمی نے ’مجمع الزوائد (9 : 108-) میں اسے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بزار کی بیان کردہ روایت کے رجال صحیح ہیں۔ 9۔حسام الدین ہندی نے ’کنزالعمال (11 : 602، رقم : 32905) میں مختصراً ’مَن کنتُ مولاہ فعليّ مولاہ‘ کے الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 10. مناوي، فيض القدير، 6 : 218 امام حاکم نے اس روایت کو شرطِ شیخین کے مطابق صحیح قرار دیا ہے، اور اس حدیث کو ابو عوانہ سے ایک دوسرے طریق سے سعد بن عبیدہ سے بھی بیان کیا ہے۔ اُنہوں نے ’المستدرک‘ میں بریدہ اسلمی سے ایک اور جگہ (3 : 110، رقم : 4578 ـ) بھی اِسی حدیث کو مختصراً بیان کیا ہے۔ -------------------------------------- متذکرہ بالا حدیث کو دوسرے مقام پر ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یوں بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ما بال أقوام ينتقصون عليًّا، من ينتقص عليّاً فقد تنقصني، ومن فارق علياً فقد فارقني، إن عليّاً مني، وأنا منه، خُلق من طينتي و خُلقت من طينة إبراهيم، وأنا أفضل من إبراهيم، ذرية بعضها من بعض واﷲ سميع عليم، . . . و إنه وليکم من بعدي، فقلت : يا رسول اﷲ! بالصحبة ألا بسطت يدک حتي أبايعک علي الإسلام جديداً؟ قال : فما فارقته حتي بايعته علي الإسلام. ان لوگوں کا کیا ہو گا جو علی کی شان میں گستاخی کرتے ہیں! (جان لو) جو علی کی گستاخی کرتا ہے وہ میری گستاخی کرتا ہے اور جو علی سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوگیا۔ بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، اُس کی تخلیق میری مٹی سے ہوئی ہے اور میری تخلیق ابراہیم کی مٹی سے، اور میں ابراہیم سے افضل ہوں۔ ہم میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں، اللہ تعالیٰ یہ ساری باتیں سننے اور جاننے والا ہے۔۔ ۔ ۔ وہ میرے بعد تم سب کا ولی ہے۔ (بریدہ بیان کرتے ہیں کہ) میں نے کہا : یا رسول اللہ! کچھ وقت عنایت فرمائیں اور اپنا ہاتھ بڑھائیں، میں تجدیدِ اسلام کی بیعت کرنا چاہتا ہوں، (اور) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہ ہوا یہاں تک کہ میں نے اسلام پر (دوبارہ) بیعت کر لی۔ 1. طبراني، المعجم الاوسط، 7 : 49، 50، رقم : 6081 2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 128 ------------------------------------------------------------------------------- کوئی بھی ترجمہ جو قرآن اور حدیث مبارکہ سے کیا جاتا ھے تو اس ترجمہ میں کچھ باتیں جو (بریکٹ کے اندر) کے اندر لکھی جاتی ہیں اس کو قرآن اور حدیث کے عربی متن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس کو (بریکٹ) میں لکھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ اگر کوئی کم علم بھی ھے تو بات کو آسانی سے سمجھ سکے اور کچھ ناسمجھ لوگ اپنی مرضی سے کہیں بھی ضرورت نہ ہونے پر ( بریکٹ) کا استعمال کرتے ہیں اور ضرورت ہونے پر بھی ( بریکٹ) کا استعمال نہیں کرتے سُورة النِّسَآء آیت نمبر153 پیش خدمت ھے يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُواْ مُوسَى أَكْبَرَ مِن ذَلِكَ فَقَالُواْ أَرِنَا اللّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ اتَّخَذُواْ الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَلِكَ وَآتَيْنَا مُوسَى سُلْطَانًا مُّبِينًاO (اے حبیب!) آپ سے اہلِ کتاب سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے (ایک ہی دفعہ پوری لکھی ہوئی) کوئی کتاب اتار لائیں، تو وہ موسٰی (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا سوال کر چکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں ﷲ (کی ذات) کھلم کھلا دکھا دو، پس ان کے (اس) ظلم (یعنی گستاخانہ سوال) کی وجہ سے انہیں آسمانی بجلی نے آپکڑا (جس کے باعث وہ مرگئے، پھر موسٰی علیہ السلام کی دعا سے زندہ ہوئے)، پھر انہوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا لیا اس کے بعد کہ ان کے پاس (حق کی نشاندہی کرنے والی) واضح نشانیاں آچکی تھیں، پھر ہم نے اس (جرم) سے بھی درگزر کیا اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (ان پر) واضح غلبہ عطا فرمایا ------------------------------------------------------------------------------- حدیث ایسا قول، فغل اور تقریر جس کی نسبت رسول اللہ ۖ کی طرف کی گئی ہو- سنت کی بھی یہی تعریف ہے- یاد رہے کہ تقریر سے مراد آپ ۖ کی طرف سے کسی کام کی اجازت ہے- خبر خبر کے متعلق تین اقوال ہیں۔ 1/ خبر حدیث کا ہی دوسرا نام ہے۔ 2/ حدیث وہ ہے جو نبی پاک ۖ کی طرف منسوب ہو اور خبر وہ ہے جو کسی اور سے منسوب ہو۔ 3/ خبر حدیث سے عام ہے یعنی اس روایت کوبھی کہتے ہیں جو نبی ۖ سے منقول ہو اور اس کو بھی کہتے ہیں جو کسی اور سے منقول ہو- آثار ایسے اقوال و افعال جو صحابہ کرام اور تابعین کی طرف منقول ہوں- متواتر وہ حدیث جسے بیان کرنے والے راویوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہو کہ ان سب کا جھوٹ پر جمع ہوجانا عقلا محال ہو- آحاد خبر واحد کی جمع- اس سے مرد ایسی حدیث ہے جس کے راویوں کی تعداد متواتر حدیث کے راویوں سے کم ہو- مرفوع جس حدیث کو نبی پاک ۖ کی طرف منسوب کیا گیا ہو خواہ اس کی سند متصل ہو یا نہ- موقوف جس حدیث کو صحابی کی طرف منسوب کیا گیا ہو خواہ اس کی سند متصل ہو یا نہ- مقطوع جس حدیث کو تابعی یا اس سے کم درجے کے کسی شخص کی طرف منسوب کیا گیا ہو خواہ اس کی سند متصل ہو یا نہ- صحیح جس حدیث کی سند متصل ہو اور اس کے تمام راوی ثقہ' دیانتدار اور قوت حافظہ کے مالک ہوں- نیز اس حدیث میں شذوذ اور کوئی خرابی بھی نہ ہو- حسن جس حدیث کے راوی حافظے کے اعتبار سے صحیح حدیث کے راویوں سے کم درجے کے ہوں- ضعیف ایسی حدیث جس میں نہ تو صحیح حدیث کی صفات پئی جائيں اور نہ ہی حسن حدیث کی- موضوع ضعیف حدیث کی وہ قسم جس میں کسی من گھڑت خبر کو رسل اللہ ۖ کی طرف منسوب کیا گیا ہو- شاذ ضعیف حدیث کی وہ قسم جس میں ایک ثقہ راوی نے اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کی ہو- مرسل ضعیق حدیث کی وہ قسم جس میں کوئی تابعی صحابی کے واسطے کے بغیر رسول اللہ ۖ سے روایت کرے- معلق ضعیف حدیث حدیث کی وہ قسم جس میں ابتدائے سند سے ایک یا سارے راوی ساقط ہوں- معضل ضعیق حدیث کی وہ قسم جس کی سند کے درمیان سے اکھٹے دو یا دو سے زیادہ راوی ساقط ہوں- منقطع ضعیف حدیث کی وہ قسم جس کی سند کسی بھی وجہ سے منقطع ہو یعنی متصل ہو- متروک ضعیف حدیث کی وہ قسم جس کے کسی راوی پر جھوٹ کی تہمت ہو- منکر ضعیف حدیث کی وہ قسم جس کا کوئی راوی فاسق، بدعتی، بہت زیادہ غلطیاں کرنے والا یا بہت زیادہ غفلت برتنے والا ہو- علت علم حدیث میں علت سے مراد ایسا خفیہ سبب ہے جو حدیث کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہو اور اسے صرف فن حدیث کے ماہر علماء ہی سمجھتے ہوں- صحیحین صحیح احادیث کی دو کتابیں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم- صحاح ستہ معروف حدیث کی چھ کتب یعنی بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ- جامع حدیث کی وہ کتاب جس میں مکمل اسلامی معلومات مثلا عقائد، عبادات، معاملات، تفسیر، سیرت، مناقب، فتن، اور روز محشر کے احوال وغیرہ سب کچھ جمع کردیا ہو- اطراف وہ کتاب جس میں ہر حدیث کا ایسا حصہ لکھا گیا ہو جو باقی حدیث پر دلالت کرتا ہو مثلا تحفۃ الاشراف از امام مزی وغیرہ- اجزاء اجزاء جز کی جمع ہے- اور جز اس چھوٹی کتاب کو کہتے ہیں جس میں ایک خاص موضوع سے متعلق بالاستیعاب احادیث جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہو مثلا جزء رفع الیدین از امام بخاری وغیرہ- اربعین حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی بھی موضوع سے متعلقہ چالیس احادیث ہوں- سنن حدیث کی وہ کتب جن میں صرف احکام کی احادیث جمع کی گئی ہوں مثلا سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور سنن ابی داؤد وغیرہ- مسند حدیث کی وہ کتاب جس میں ہر صحابی کی احادیث کو الگ الگ جمع کیا گیا ہو مثلا مسند شافعی یا مسند احمد وغیرہ- مستدرک ایسی کتاب جس میں کسی محدث کی شرائط کے مطابق ان احادیث کو جمع کیا گیا ہو جنہیں اس محدث نے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا مثلا مستدرک حاکم وغیرہ- مستخرج ایسی کتاب جس میں مصنف نے کسی دوسری کتاب کی احادیث کو اپنی سند سے روایت کیا ہو مثلا مستخرج ابو نعیم الاصبہانی وغیرہ- معجم ایسی کتاب جس میں مصنف نے اپنے استاذہ کے ناموں کی ترتیب سے احادیث جمع کی ہوں مثلا معجم کبیر از طبرانی وغیرہ- اللہ ہم سب مسلمانوں کو قرآن اور صحیح احادیث پہ غور و فکر کرکے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ------------------------------------------------------------------------------- امام ابوداؤد سنن ابی داؤد کے مصنف سلیمان بن الاشعث الازدی السجستانی ہیں۔ ۲۰۲ھ میں آپ کی ولادت ہوئی، پانچ لاکھ حدیثوں میں سے چارہزار آٹھ سو حدیثوں کاانتخاب کرکے اپنی سنن میں ذکر کیا۔ سنن ابی داؤد کی منجملہ دیگر خصوصیات کے سب سے اہم خصوصیت ”قال ابوداؤد“ ہے۔ اس لفظ سے امام ممدوح کاجو اختلاف رواة، یا اختلاف رواة فی الالفاظ کی طرف باریک ترین اشارہ ہوتا ہے اس کا سمجھنا ایک انتہائی اہم کام ہوتا ہے۔ اس سنن کے علاوہ آپ کی اور بھی دوسری تصانیف ہیں، جو درجِ ذیل ہیں: (۱) مراسیل ابی داؤد، یہ مختصر سا رسالہ ہے۔ جس میں آپ مرسل روایات ذکر کرتے ہیں۔ یہ کتاب سنن ابی داؤد کے بعض نسخوں کے ساتھ بھی ملحق ہے۔ (۲) الردّ علی القدریہ، (۳) الناسخ والمنسوخ، (۴) ماتفرد بہ اہل الامصار، (۵) فضائل الانصار، (۶) مسند مالک بن انس، (۷) المسائل، (دیکھئے تہذیب) لیکن آپ کی جملہ تصانیف میں ”سنن ابی داؤد“ سب سے اعلیٰ و افضل ہے۔ ۲۷۵ھ میں بمقام بصرہ آپ کی وفات ہوئی۔ ------------------------------------------------------------------------------- اگر کوئی حدیث ایک ہی کتاب میں 10 راویوں سے بیان کی گئی ھے اور ان کی عبارات کچھ مختلف ہیں تو اس کے الگ الگ نمبر لگا کے پیش کیا جاتا ھے اگر کسی حدیث کہیں بیان کی جاتی ھے اور وہ حدیث دوسری 10 کتابوں میں بھی وارد ھے تو اس کے آخر میں اسطرح حوالے دئے جاتے ہیں اس میں اس حدیث کی عبارت ایک بھی ہو سکتی ھے اور کچھ تھوڑی مختلف بھی۔ صحیح ابو داؤد / حدیث ٧٥٨، صحیح ابن خزیمہ ، سنن البیہقی الکبریٰ/جماع ابواب صلاۃ الاِمام و صفۃ الائمۃ ، ، صفۃ الصلاۃ النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم / صفحہ ١٠٦ یہاں ایک بات قابل غور ھے جو سمجھانی بہت ضروری ھے اگر کوئی ایک حدیث پیش کرنی مقصود ھے وہ 10 کتابوں میں بھی وارد ھے تو ان دس کتابوں میں جو سب سے افضل حدیث کی کتاب ھے وہاں سے وہ حدیث لی جاتی ھے اور پیش کی جاتی ھے اور اس کتاب کا حوالہ پہلے نمبر پر دیا جاتا ھے اس کے بعد دوسری کتابوں کے حوالے دیے جاتے ہیں ------------------------------------------------------------------------------- اقتباس:
------------------------------------------------------------------------------- اوپر جو حدیث پیش کی گئی ھے اس کو ایک مضبوط دلیل سے پیش کیا گیا ھے اور اس کو حوالہ یہ بتا رہا ھے کہ صحیح ابوداؤد حدیث نمبر 758 ھے نیچے دو احادیث مبارکہ بھی پیش کی گئی ہیں جن کے حوالے کچھ اسطرح ہیں سنن ابوداؤد حدیث نمبر 784 سنن ابوداؤد حدیث نمبر 785 اب صحیح ابوداؤد حدیث نمبر 758 جو اپر پیش کی گئی ھے ایک سوال کے جواب میں اگر تو ممبر کو اپنی غلطی نظر آ رہی ھے تو وہ مان لیں کی ان سے غلطی ہو گئی ھے تو یہ ٹاپک یہیں ختم ہو جائے گا کیونکہ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ھے اور اپنی غلطی کو مان لینا ہی اچھا ہوتا ھے اور اگر ممبر یہ کہتا ھے کہ وہ حدیث بالکل ٹھیک ھے تو پھر صحیح ابوداؤد حدیث نمبر 758 میں جو حدیث لکھی ہوئی ھے اس کا لکن دے جہاں سے وہ حدیث نقل کی گئی ھے تاکہ اس لنک میں جو غلط حدیثیں پیش کر رہا ھے اس کو روکا جائے اور اگر لنک سے وہ حدیث نہیں لی تو جس کتاب سے صحیح حدیث نمبر 758 لی گئی ھے اس کتاب کا صفحہ یہاں اٹیچ کیا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اس کتاب میں پرنٹنگ کے وقت کوئی غلطی ہو گئی ہو ہر چیز صاف واضح ھے بحث کرنے سے پرہیز کیا جائے بحث کر کے انسان اپنے آپ کو تسلی دے سکتا ھے دوسرں کو نہیں۔ ------------------------------------------------------------------------------- یہ دونوں حدیث مبارکہ اسی دھاگے کی پوسٹ نمبر 5 سے لی گئی ہیں یہ دونوں حدیثیں سنن ابو داؤد شریف سے ہیں اور ایک حدیث مبارکہ کا نمبر 784 ھے اور دوسری حدیث مبارکہ کا نمبر 785 ھے ------------------------------------------------------------------------------- آج کل کے لوگ تھوڑی تھوڑی بات پر یہ کہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث ہے اور یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور جب ان سے پوچھتے ہیں کہ اس حدیث کی سند بھی تو بتاؤ تو حیران ہو جاتے ہیں کہ ہم نے ان سے کیا پوچھ لیا یا اتنا ہی پوچھ لیتے ہیں کہ چلو یہ تو بتاؤ کہ یہ حدیث احادیث کی کون سی کتاب سے دریافت کی ہے تو پریشان ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہوئے کہتے ہیں" کہ جی ہمیں تو اتنا علم نہیں کہ یہ حدیث کہاں سے آئی مگر ہے یہ حدیث اور یہ چيز ہم ادھر ادھر سے سنتے رہتے ہیں یا فلاں مسجد کے مولوی نے سنائی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے کسی بات کو منسوب کرنا ان سب چیزوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کسی حدیث کو آپ سے غلط طور پر منسوب کرنے کے سنگین نتائج دنیا و آخرت میں نکل سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے دین کے نام پر بہت سی گمراہیاں پھیلائی گئی ہیں۔ بہت سے ایسے گمراہ کن فرقے پیدا ہوئے ہیں جو قرآن اور سنت متواترہ کے قلعے میں تو کوئی نقب نہیں لگا سکے لیکن جعلی احادیث کے ذریعے انہوں نے بڑے اطمینان سے اپنے عقائد و نظریات کو زبردستی دین میں داخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے جلیل القدر اہل علم نے اس سلسلے میں انتہا درجے کی احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (31-07-09), خرم شہزاد خرم (31-07-09) |
|
|
#42 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,759
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 36,998 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
1 ؎کسی دوسری سائٹ سے لیا گیا مواد کاپی پیسٹ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے
اس کا خیال رکھیں 2 ؎ آپ نے مذکورہ حدیث کو صحیح تسلیم کرلیا شکریہ
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (31-07-09) |
|
|
#43 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,759
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 36,998 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
متعلقہ ناظمین سے گذارش ہے مذکورہ پوسٹ نمبر 41 سے کاپی پیسٹ شدہ مواد کو حذف کردیں
|
|
|
|
|
|
#44 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک بات آپ کو ذہن نشین کروانا چاہتا ہوں کہ قرآن اور حدیث جہاں سے بھی لیں گے وہ ایک ہی ہو گی چاہے اس کو 100 ویب سائٹس سے بھی چیک کر لیں یا قرآن سے دیکھ لیں یا احادیث کی کتابوں میں دیکھ لیں وہ سب جگہ پر ملے گی اور جو حدیث دوسری کسی بھی سائٹ سے نہ ملے تو اس کو ثبوت کتابی صفحہ میں دینا پڑے گا اگر ممبر اس کو ثبوت پیش کرنے میں فیل ہو جاتا ھے تو پھر اس پر فارم کی ذمہ داری ھے کہ کاروائی کرے جو صحیح ابوداؤد حدیث 758 لگائی گئی ھے کسی ممبر نے پہلے وہ یہ تو ثابت کریں کہ وہ حدیث ھے بھی یا نہیں وہ کہاں سے لی گئی ھے اس کو ثبوت ان کو کتابی صفحہ سے پیش کرنا ہوگا کہ صحیح ابوداؤد حدیث نمبر758 کہاں وہ عبارت لکھی ہوئی ھے جو انہوں نے پیش کی ھے ایک بات کا خیال رکھا جائے کہ جو حدیث بدل دی جاتی ھے وہ حدیث نہیں ہوتی۔ ان صاحب کے جواب کا انتظار رہے گا |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (31-07-09), خرم شہزاد خرم (31-07-09) |
|
|
#45 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
"معاذ اللہ" بہت اچھے خیالات ہیں آپ کے اقتباس:
ایک ممبر صاحب نے یہ حدیث لگائی ھے جو صحیح ابوداؤد حدیث نمبر 758 نظر آ رہی ھے اس میں جو عبارت لکھی ہوئی ھے وہ پوری عبارت حروف بہ حروف دکھا دیں جہاں سے انہوں نے لی ھے اگر وہ ممبر ثابت کرنے میں فیل ہو جاتے ہیں تو میں مسلمان ہوتے ہوئے دوسرے مسلمان پر انگلی نہیں اٹھاؤں گا اور ان کو معاف کر دوں گا۔ اور جو لوگ سمجھتے ہوئے بھی غلط بیانی کر رہے ہیں ان کو یہ یاد رکھنا چائیے کہ اللہ ھے اور دیکھ رہا ھے اور وہ دلوں کے حال بھی جانتا ھے |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (31-07-09), خرم شہزاد خرم (31-07-09) |
![]() |
| Tags |
| color, فورم, کنعان, کتابوں, پوسٹ, ویب, قرآن, لوگ, نظر, معلوم, اللہ, احتجاج, اردو, بھائی, ترمیم, جواب, حال, حدیث, خلاف, سٹاف, عقل, صفحہ, صاف, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 10:06 AM |