واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


تقدیر کا مسئلہ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-03-10, 04:00 PM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,089
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post تقدیر کا مسئلہ؟


سوال: اگر ہر چیز خدا کی مرضی ہی سے ہوتی ہے اور اس نے ہر چیز کا پہلے سے فیصلہ کر رکھا ہے تو پھر دنیا کے امتحان کا کیا مقصد ہے؟ اس صورت میں جہنم میں ڈالا جانا کیا ناانصافی نہ ہو گی؟

جواب: تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے ایک انسان کے اعمال پہلے سے طے (Pre-determined) کر رکھے ہیں جن کے مطابق وہ کسی کو جنت اور کسی کو جہنم میں ڈال دے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ سے ہر بات کا علم ہے۔ اس کے علم سے ہم نیک یا برے اعمال کرنے پر مجبور نہیں ہو جاتے۔ اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ تجربہ کار اساتذہ کسی طالب علم کو دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ فیل ہو گا یا پاس۔ ان کے اس اندازے سے طالب علم کبھی مجبور نہیں ہو جاتا کہ وہ محنت نہ کرے۔ یہ تو ایک عام انسان کے اندازے کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم یقینی اور حتمی ہے لیکن وہ کسی شخص کو اچھے یا برے عمل پر مجبور نہیں کرتا۔
محمد مبشر نذیر
May 2006
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-03-10), فیصل ناصر (10-03-10), محمدخلیل (13-09-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 11-03-10, 09:09 PM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ‌خیرا ، بھائی نور الدین ، آپ نے واقعتا ایک ایسے مسٕئلے پر بات شروع کی ہے جس کے بارے میں مسلمانوں کی اکثریت غلط فہمی کا شکار ہے ،
لیکن جیسا کہ عبداللہ حیدر نے کہا یہ مسئلہ کافی نازک ہے اس لیے میری گذارش بھی یہی ہے کہ جس طرح آپ نے اپنے پہلے مراسلے میں """ قدر یعنی تقدیر """ کی جامع تعریف کی ہے ، اس طرح ہی """ قضاء یعنی فیصلہ ، حکم """ کی بھی تعریف بھی بیان کر دیجیے کہ """ قضاء و قدر """ دونوں لازم و ملزوم ہیں اور دونوں کو سمجھنے سے ہی یہ معاملہ ان شاء اللہ ٹھیک سے سمجھ آ سکتا ہے ،
امید ہے آپ میری گذارش پر غور فرمإئیں گے ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-03-10), کنعان (12-03-10), نورالدین (12-03-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10), عبداللہ حیدر (12-03-10)
پرانا 11-03-10, 09:59 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
مندرجہ بالا نقطہ نظر عادل صاحب کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔ اللہ کو کسی بھی نام سے پکاریں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اللہ کو اللہ کے نام سے پکارنا احسن ہے ۔لیکن یہ کہنا کہ خدا کہنا غلط ہے یہ ایک متشدد بات ہے۔
میں اس موضوع میں اس پر بحث نہیں کروں گا۔ اپ دلائل دیں۔ میں انتظار کروں گا۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
انِّا للّہِ و اِنِّا اِلیہ راجِعُون
منتظمین بھائی ، متشدد کہنے پر شکریہ قبول فرمایے ،
میرے بھائی یہ معاملہ آپ کے ساتھ ہی نہیں ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو کسی معاملے یا کچھ معاملات میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود سے بہت باہر جا چکے ہیں اور جب انہیں اُن حدود میں واپس آنے کی دعوت دی جاتی ہے تو انہیں ان حدود کے اندر ہو جانا تنگی اور تشدد محسوس ہوتا ہے ،
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ ہمت دے کہ جس طرح ہم اُس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں داخل ہو کر وہیں زندگی بسر کرنے میں جو اصل حقیقی آزادی اور نرمی اور سکون ہے اس کی لذت حاصل کر سکیں اور ان حدود سے خارج ہو کر آخرت کی تنگی والی جس آزادی اور آخرت کی شدت والی جس نرمی اور اور آخرت کی بے سکونی والے جس سکون کے سراب کا ہم شکار ہیں اس کو پہچان سکیں ،
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کو کسی بھی نام سے پکارنے کی آزادی کا فتویٰ دینے پر اس کے علاوہ اور کیا کہوں کہ (((((قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُواْ بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ ::: (اے محمد ) فرمایے بے شک میرے رب نے برائیوں سے منع فرمایا ہے خواہ ظاہری ہوں یا چھپی ہوئی اور گناہ سے اور ناحق ظلم کرنے سے اور اس کہ تُم لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ جس کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور اس بات سے کہ تُم لوگ اللہ سے ایسی بات منسوب کرو جس کا تُم لوگوں کو عِلم نہیں ))))) سورت الأعراف/ آیت ، 33
منتظمین بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ حکم بھی توجہ کے ساتھ پڑھیے ((((( وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً ::: تُم اُس بات پر مت رکو (یعنی اس کو مت اپنا لو) جس کا تُمہارے پاس عِلم نہیں بے شک سماعت اور بینائی اور دِل اِن سب کے بارے میں پوچھا جائے گا ))))) سورت الإسراء/36،
غور کیجیے بھائی اللہ کے اس حُکم کے مطابق کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بلا عِلم و دلیل بات کرے ،
اس کے علاوہ میرے منتظمین بھإئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اس فرمان مبارک پر بھی غور فرمایے ((((( مَن تَقَوَّلَ عَلَىَّ ما لم أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنِ اسْتَشَارَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فاشار عليه بِغَيْرِ رُشْدٍ فَقَدْ خَانَهُ وَمَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا غَيْرِ ثَبْتٍ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ على من أَفْتَاهُ ::: جس نے مجھ سے منسوب کر کے کوئی ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو اس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا اور جس سے اُس کے مسلمان بھائی نے مشورہ طلب کیا اور اُس نے ہدایت والا مشورہ نہ دیا تو اُس نے اپنے مشورہ طلب کرنے والے بھائی سے خیانت کی اور جس نے بغیر ثبوت کے فتویٰ دیا تو اُس فتوے کا گناہ (اس پر عمل کرنے والوں کے ساتھ ساتھ)اس فتویٰ دینے والے پر ہو گا ))))) الستدرک الحاکم ، مسند احمد و لفظ لہُ ،
میرے بھائی اللہ کو خدا کہنے ، یا یزادں کہنے کے بارے میں """ اللہ نہیں خُدا """ میں جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ میرا ذاتی نظریہ نہیں ، اللہ تبارک و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین مبارکہ کے مطابق ہے ،
بھائی میرے آپ سے گذارش ہے کہ آپ اس موضوع پر ضرور بات کیجیے اور اُسی دھاگے میں بات کیجیے ، اس کے بعد اپنے اس فتوے پر غور فرمایے کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
اللہ کو کسی بھی نام سے پکاریں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اللہ کو اللہ کے نام سے پکارنا احسن ہے ۔لیکن یہ کہنا کہ خدا کہنا غلط ہے یہ ایک متشدد بات ہے۔
منتظمین بھائی اگر آپ اس موضوع پر لکھے گئے مواد کو میرا ذاتی اور متشدد نقطہ نظر سمجھتے ہیں اور اللہ کو ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بتائے ہوئے ناموں کے علاوہ اور ناموں سے پکارنے کو جائز سمجھتے ہیں تو شرعی طور پر آپ پر واجب ہوتا ہےکہ آپ میرے ذاتی متشدد نقطہ نظر کو مدلل طور پر غلط ثابت کریں تا کہ اس کو پڑھنے والے مسلمان کسی غلطی کا شکار نہ ہوں ، اور اللہ کو پکارنے کے بارے میں جو پابندی میں نے اپنے ذاتی متشدد نقطہ نظر کی بنا پر لگا دی ہے اس سے آزاد ہو جائے اور جس کا جو جی چاہے اس نام سے اللہ کو پکارتا رہے ، بھگوان کہے ، ایشور کہے ، گاڈ کہے ، یزادں کہے، خدا کہے، یا کچھ بھی کہتا رہے ،
میں آپ کے دلائل کا منتظر رہوں گا اِن شاء اللہ ، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 13-03-10 at 01:43 AM.
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-03-10), ھارون اعظم (12-03-10), نورالدین (12-03-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10), عبداللہ حیدر (11-03-10)
پرانا 11-03-10, 10:14 PM   #18
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عربی سے پہلے اللہ کوکیا کہتے تھے؟ عربی کی تاریخ تو شائد دو ہزار سال سے بھی پرانی نہیں ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 11-03-10, 10:39 PM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
عربی سے پہلے اللہ کوکیا کہتے تھے؟ عربی کی تاریخ تو شائد دو ہزار سال سے بھی پرانی نہیں ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
منتظمین بھائی ، """ اللہ نہیں خدا """ والے دھاگے میں چند ہی روز پہلے آپ نے یہ سوال کیا تھا اور میرے ساتھ ساتھ کچھ اور بھإئیوں نے بھی اس کے جواب دیے تھے ، میرا جواب یہ تھا :::
""""""" السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
منتظمین بھائی ، بھتیجے عبداللہ حیدر نے ایک بہت اچھا جواب پیش کیا ہے اس پر غور فرمایے ، اور اس میں دیے ہوٕے ربط پر موجود معلومات کا مطالعہ فرمایے ،
اس کے علاوہ اگر آپ صرف تاریخی طور پر یہ جاننا چاہیں کہ عربی زبان سے پہلے """ اللہ """ کو کیا کہتے تھے ؟ تو بھائی یہ تو واضح کیجیے کہ کونسی زبان کے بارے میں آپ یہ سوال کر رہے ہیں ؟
ہمیں قران پاک میں بنی اسرإئیل میں سب سے زیادہ نبیوں کے بھیجے جانے کی خبر ملتی ہے ، اور عرب کے علاقے میں یہ قوم با کثرت آباد تھی ، ان کی زبان """ عبرانی """ تھی ، اور عبرانی میں اللہ کو """ ایل """ کہا جاتا تھا ،
اسی سے """ اسرائیل """ یعنی """ عبداللہ """ یعنی """ اللہ کا بندہ """ہے ، جو کہ یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام ہے ،اور انہی کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا گیا ، اورکہا جاتا ہے ،
اسی طرح معروف فرشتے علیھم السلام جن کے ناموں کا قران میں ذکر ہوا ہے ان پر غور فرمایے ،،،
جبرئیل یعنی عبد اللہ ،
میکائیل یعنی عبید اللہ ،
اسی لفظ """ ایل """ کا ایک دوسرا تلفظ """ الاِل """ ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے جو عربی میں """ اللہ """ کہلایا ،
اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ """ اللہ """ """ ال ، اور الہ """ کا ادغام ہے ،
لفظ """ اللہ """ کی تاریخ کچھ بھی رہی ہو ، اس کا مصدر کچھ بھی رہا ہو، اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے اپنی ذات پاک کو اس نام سے متعارف کروایا ہے ،
پس ہمیں یا کسی کو بھی کوئی قدیم یا جدید نام اللہ کو دینے کی اجازت نہیں ، اگر سابقہ ناموں میں سے کوئی نام اختیار کرنا ہوتا تو اللہ‌خود ہی کر لیتا ، اسے پتہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد میں نے کسی پر وحی نازل نہیں کرنی ، اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ میرا یہ قران قیامت تک کونسے کونسے لوگوں تک پہنچنا ہے اور وہ کون کون سی زبان بولتے ہوں گے ، اور اپنی اپنی زبان میں """ الہ """ کو کیا کیا کہتے ہوں گے ، پھر بھی اللہ نے خود کو اللہ ہی کہا ، پس بہت سیدہی سادہی صاف ستھری سی بات ہے جسے اگر کوٕئی کوشش کرے تو ان شاء اللہ تھوڑی سے توجہ سے سمجھ سکتا ہے، """""""
اگر اس جواب میں آپ کی تسلی کا سامان موجودد نہیں تو مزید کا انتظام کیا جا سکتا ہے ، لیکن گذارش ہے کہ """ اللہ نہیں خدا """ والے دھاگے میں بات کر لیں تو ان شاء اللہ زیادہ بہتر رہے گا اور موضوع کے ،مطابق معلومات ایک جگہ پر جمع ہو سکیں گی ان شاء اللہ ، و والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-03-10), نورالدین (12-03-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10), عبداللہ حیدر (11-03-10)
پرانا 12-03-10, 11:28 AM   #20
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,089
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
۔ ۔ ۔ ۔ جس طرح آپ نے اپنے پہلے مراسلے میں """ قدر یعنی تقدیر """ کی جامع تعریف کی ہے ، اس طرح ہی """ قضاء یعنی فیصلہ ، حکم """ کی بھی تعریف بھی بیان کر دیجیے کہ """ قضاء و قدر """ دونوں لازم و ملزوم ہیں اور دونوں کو سمجھنے سے ہی یہ معاملہ ان شاء اللہ ٹھیک سے سمجھ آ سکتا ہے ،
امید ہے آپ میری گذارش پر غور فرمإئیں گے ، والسلام علیکم۔
وعلیکم السلام
جیسے جیسے مجھے وقت مل رہا ہے میں اس موضوع کو مکمل کر رہا ہوں ۔۔
بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا
آپ سے بھی گزارش ہے کہ اگر آپ بھی اس موضوع پر مزید کچھ کہنا چاہیں تو میرے لیے بڑی خوشی کی بات ہو گی ۔۔
ساتھ میں دعائے خیر مبشر نذیر صاحب کے لیے بھی جن کی باتوں اور خیالات سے ہم جیسے لوگوں کو نئی راہیں اور لوگوں کو سمجھانے کے لیے الفاظ ملتے ہیں۔۔

دعاؤں کا طلب گار رہوں گا ۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-03-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10), عادل سہیل (12-03-10), عبداللہ حیدر (12-03-10)
پرانا 12-03-10, 11:20 PM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام
جیسے جیسے مجھے وقت مل رہا ہے میں اس موضوع کو مکمل کر رہا ہوں ۔۔
بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا
آپ سے بھی گزارش ہے کہ اگر آپ بھی اس موضوع پر مزید کچھ کہنا چاہیں تو میرے لیے بڑی خوشی کی بات ہو گی ۔۔
ساتھ میں دعائے خیر مبشر نذیر صاحب کے لیے بھی جن کی باتوں اور خیالات سے ہم جیسے لوگوں کو نئی راہیں اور لوگوں کو سمجھانے کے لیے الفاظ ملتے ہیں۔۔

دعاؤں کا طلب گار رہوں گا ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی نورالدین ،
اللہ تعالیٰ آپ کو اُس کی رضا کے ساتھ فراغت عطا فرمائے ،
آپ اس مضمون کو مکمل کیجیے ، اللہ تعالی خیر کی توفیق میں اضافہ عطا فرمائے ، اگر کہیں کچھ کہنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو ان شاء اللہ ضرور کہوں گا ،
اللہ تعالیٰ مبشر نذیر صاحب اور ہر داعی الخیر کو بہترین اجر عطاء فرمائے اور اپنی حفاظت میں رکھے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-03-10), نورالدین (15-03-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 13-03-10, 12:28 AM   #22
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
منتظمین بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ حکم بھی توجہ کے ساتھ پڑھیے ((((( وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً ::: [B](اے محمد) آپ اُس بات پر مت رکیے جس کا آپ کے پاس عِلم نہیں بے شک سماعت اور بینائی اور دِل اِن سب کے بارے میں پوچھا جائے گا[/B] ))))) سورت الإسراء/36،
جب رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیے یہ حکم ہے تو پھر کسی اور کے لیے یہ گنجإئش کہاں کہ وہ بلا عِلم و دلیل بات کرے ،
انا للہ وانا الیہ راجعون
عادل سہیل بھائی آپ سے اس قسم کی سنگین غلطی کی توقع نہ تھی مجھے یعنی لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ ۔ اسے میں کیا سمجھوں ؟؟؟؟؟؟ آپکی نظم قرآن سے لا علمی یا کچھ اور؟؟؟؟؟؟
ایک تو قرآن پاک کی ‌آیت کا ترجمہ بنا سوچے سمجھے کیا اور اوپر سے تفسیری حکم بھی خود ساختہ لگایا کہ جس کا مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھرایا معاذاللہ ۔ ۔ ۔ اوہ خدا کے بندے نظم قرآن بھی کوئی شئے ہے یا نہیں ؟؟؟؟؟؟؟ اس سے ماقبل کی آیات اور اس سے مابعد کی آیات کا آپس میں جو تسلسل ہے اسے کیسے نظرانداز کردیا آپ نے ؟؟؟؟
اور میں پوچھتا ہوں بریکٹ میں جو لفظ اے محمد آپ نے لگایا ہے اس پر کیا قرینہ ہے ؟؟؟؟؟؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ‌ آیت پچھلی آیات کے تسلسل میں ہی چلی آرہی ہے اور اس کا مخاطب بالخصوص اس وقت کا عرب معاشرہ اور باالعموم ساری امت ہے نہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معاذ اللہ ثمہ معاذاللہ تمام تر معتبر مفسرین کے ہاں یہ مسلمہ اصول ہیں کہ ایسی تمام آیات کہ جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست مخاطب کرکے کسی گناہ کے کام سے تنبیہ فرمائی گئی ہو اس میں فقط مخاطب آپ ہیں جبکہ حکم میں مراد امت ہے لیکن مجھے حیرت ہے کہ یہاں پر اس آیت میں تو براہ راست مخاطب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پھر آپ نے ایک ایسا ترجمہ اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسا خود ساختہ تفسیری حکم کیسے لگادیا کہ جس کا مخاطب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھریں ۔ ۔ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

سورہ اسراء کی اس آیت سے پہلی والی آیات کا بغور مطالعہ کریں ۔ ۔ ۔

وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئاً كَبِيرًاO
31. اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہےo
31. And do not kill your children due to fear of poverty. We alone provide for them and for you (as well). Indeed killing them is a major sin.
32. وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلاًO
32. اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہےo
32. And do not even go near unlawful sex (adultery). Verily it is an act of lewdness and is the most evil way.
33. وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلاَ يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًاO
33. اور تم کسی جان کو قتل مت کرنا جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام قرار دیا ہے سوائے اس کے کہ (اس کا قتل کرنا شریعت کی رُو سے) حق ہو، اور جو شخص ظلماً قتل کردیا گیا تو بیشک ہم نے اس کے وارث کے لئے (قصاص کا) حق مقرر کر دیا ہے سو وہ بھی (قصاص کے طور پر بدلہ کے) قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے، بیشک وہ (اﷲ کی طرف سے) مدد یافتہ ہے (سو اس کی مدد و حمایت کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی)o
33. Do not kill any soul whose (killing) Allah has declared unlawful unless (killing him) is just (according to the law of Shari‘a). But whoever is killed unjustly, We have indeed given to his heir the right (of retribution), but he too has not to exceed limits in killing (by way of retribution). He is indeed helped (by Allah. The responsibility of his help and support will be on the government.)
34. وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولاًO
34. اور تم یتیم کے مال کے (بھی) قریب تک نہ جانا مگر ایسے طریقہ سے جو (یتیم کے لئے) بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے, اور وعدہ پورا کیا کرو، بیشک وعدہ کی ضرور پوچھ گچھ ہوگیo
34. And do not (also) go near the orphan’s property but in a way that is beneficial (to the orphan) until he reaches his maturity. And do fulfil the promise. No doubt the promise will be questioned about.
35. وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاًO
35. اور ناپ پورا رکھا کرو جب (بھی) تم (کوئی چیز) ناپو اور (جب تولنے لگو تو) سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ (دیانت داری) بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے (بھی) خوب تر ہےo
35. And measure in full whenever you measure out (anything), and (when you weigh anything) weigh with a straight balance. This (honesty) is better and much better with regard to its consequence (as well).
36. وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاًO
36. اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگیo
36. And, (O man,) do not follow that of which you have no (authentic) knowledge. Indeed the ear, the eye and the heart — each of them will be questioned.
37. وَلاَ تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاًO
37. اور زمین میں اکڑ کر مت چل، بیشک تو زمین کو (اپنی رعونت کے زور سے) ہرگز چیر نہیں سکتا اور نہ ہی ہرگز تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے (تو جو کچھ ہے وہی رہے گا)o
37. And do not walk arrogantly on earth. Certainly you cannot cleave the earth (with the force of your arrogance), nor can you reach the mountains in height. (You will remain what you are.)
38. كُلُّ ذَلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوهًاO
38. ان سب (مذکورہ) باتوں کی برائی تیرے رب کو بڑی ناپسند ہےo
38. The evil of all these (mentioned) acts is most despicable to your Lord.
39. ذَلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَى فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَّدْحُورًاO
39. یہ حکمت و دانائی کی ان باتوں میں سے ہے جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہیں، اور (اے انسان!) اﷲ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہرا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور اﷲ کی رحمت سے) دھتکارا ہوا ہو کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گاo
کیا آیت نمبر 36 سے ماقبل اور مابعد کی تمام آیات کا مخاطب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور مراد بھی آپ ہی ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (10-09-10), نورالدین (15-03-10), منتظمین (13-03-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10), شمشاد احمد (13-09-10), عادل سہیل (13-03-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 13-03-10, 01:36 AM   #23
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی عابد عنایت ، کافی دنوں بعد آئے ہیں اور ماشاء اللہ درست آئے ہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ، واقعتا آپ نے جس امر کی طرف توجہ کروإئی ہے وہ بھی درست ہے اور کسی عذر یا بحث کے بغیر ان شاء اللہ میں اپنے اس مراسلے میں کچھ تبدیلی کیےلیتا ہوں ، اس طرح ہمارے ہاں آتے رہیے ، ان شاء اللہ سب کا بھلا ہو گا ، ایک دفعہ پھر جزاک اللہ خیرا ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (15-03-10), منتظمین (13-03-10), مرزا عامر (10-09-10), آبی ٹوکول (13-03-10), اخترحسین (10-09-10), شمشاد احمد (13-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10), عبداللہ حیدر (13-03-10)
پرانا 13-03-10, 01:51 AM   #24
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی عابد عنایت ، کافی دنوں بعد آئے ہیں اور ماشاء اللہ درست آئے ہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ، واقعتا آپ نے جس امر کی طرف توجہ کروإئی ہے وہ بھی درست ہے اور کسی عذر یا بحث کے بغیر ان شاء اللہ میں اپنے اس مراسلے میں کچھ تبدیلی کیےلیتا ہوں ، اس طرح ہمارے ہاں آتے رہیے ، ان شاء اللہ سب کا بھلا ہو گا ، ایک دفعہ پھر جزاک اللہ خیرا ، والسلام علیکم۔
وعلیکم السلام پیارے بھائی مجھے آپ سے اسی قسم کے علمی رویہ کی توقع تھی جزاک اللہ خیرا ۔ ۔ ۔ اللہ پاک آپکی اس نادانستہ خطا کو معاف فرمائے آمین
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے اور آپکے ماں باپ بھی قربان ہم تو زرہ ناچیز سے بھی کم ہیں والسلام
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (10-09-10), نورالدین (15-03-10), منتظمین (13-03-10), مرزا عامر (10-09-10), اخترحسین (10-09-10), عادل سہیل (13-03-10), عبداللہ آدم (11-09-10), عبداللہ حیدر (13-03-10)
پرانا 13-03-10, 01:57 AM   #25
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام پیارے بھائی مجھے آپ سے اسی قسم کے علمی رویہ کی توقع تھی جزاک اللہ خیرا ۔ ۔ ۔ اللہ پاک آپکی اس نادانستہ خطا کو معاف فرمائے آمین
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے اور آپکے ماں باپ بھی قربان ہم تو زرہ ناچیز سے بھی کم ہیں والسلام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا،
بھائی عابد عنایت ، یہ اللہ کا مجھ جیسے پر کرم ہے کہ درست بات ماننے کی ہمت دیتا ہے اور کسی معاملے کو میرا ذاتی معاملہ سمجھنے کے وسوسے سے محفوظ رکھتا ہے ،
اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے ،
اللہ ہمیں ، اور جو کچھ اس نے ہمیں عطاء کیا ہے سب اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر قربان ہونا قبول فرما لے تو یقینا ہماری آخرت میں ہمارے لیے اس سے بڑی سعادت اور کامیابی کوئی اور نہ ہو گی ، ایک دفعہ پھر دعا گو ہوں کہ جزاک اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (15-03-10), منتظمین (13-03-10), مرزا عامر (10-09-10), آبی ٹوکول (13-03-10), اخترحسین (10-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10), عبداللہ حیدر (13-03-10)
پرانا 10-09-10, 02:57 AM   #26
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 6
کمائي: 274
شکریہ: 1
6 مراسلہ میں 14 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تمام دوستوں کو السلام علیکم!
میں بھی باقی دوستوں کی طرح اس بات سے متفق ہوں کہ مسئلہ تقدیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وضاحت ہونا ضروری ہے تاکہ ہمارے ایمان و عمل میں مضبوطی پیدا ہو اس کے علاوہ یہ بھی سچ ہے کہ اس مسئلہ کی زیادہ تشریح نہیں کی گئی۔
نور الدین بھائی اور دوسرے دوستوں سے گذارش ہے کہ میں یہ ایک حدیث مبارکہ بخاری شریف کے حوالے سے لکھ رہا ہوں ذرا اس کی وضاحت فرما دیں:
-----------------------------------------------------------------------------------
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 443 حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8
حسن بن ربیع ابوالاحوص اعمش زید بن وہب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ صادق و مصدوق تھے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت (جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔
شکریہ
والسلام
ijaz1976 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ijaz1976 کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (11-09-10), اخترحسین (10-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 10-09-10, 03:00 AM   #27
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 6
کمائي: 274
شکریہ: 1
6 مراسلہ میں 14 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس کے علاوہ صحاح ستہ کی اور بھی احادیث موجود ہیں اس مسئلہ کے متعلق جو ان شأاللہ بعدمیں پیش کی جائیں گی۔ میں خود اس مسئلے کے متعلق وضاحت کاطلبگار ہوں براہ کرم وضاحت فرما کر مشکور فرمائیں۔
اعجاز احمد
ijaz1976 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ijaz1976 کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (11-09-10), اخترحسین (10-09-10)
پرانا 10-09-10, 08:03 PM   #28
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 6
کمائي: 274
شکریہ: 1
6 مراسلہ میں 14 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مسئلہ تقدیر کے حوالے سے مزید احادیث:
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 561 حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8
عمر بن حفص ان کے والد اعمش زید بن وہب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ صادق المصدوق ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن اس کی ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے پھر چالیس دن میں نطفہ خون بستہ بن جاتا ہے پھر اتنی ہی مدت میں وہ مضغہ گوشت ہوتا ہے پھر اللہ ایک فرشتے کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے پس وہ اس کا عمل، اس کی موت، اس کا رزق اور شقاوت یا سعادت لکھ دیتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اور ایک آدمی دوزخیوں جیسا عمل کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو فورا اس کا نوشہ تقدیر آگے بڑھتا ہے اور وہ اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک آدمی اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ الٰہی آگے بڑھتا ہے اور وہ دوزخیوں جیسے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1855 حدیث مرفوع مکررات 15 متفق علیہ 11
قتیبہ، ایوب بن نجار، یحیی بن ابی کثیر، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے فرمایا کیا تم وہی آدم نہیں ہو جنہوں نے سب لوگوں کو پریشانی میں ڈالا اور جنت سے نکلوا دیا؟ تو حضرت آدم نے حضرت موسیٰ سے کہا کیا تم وہی موسیٰ نہیں ہو جن کو خدا نے اپنی رسالت اور اپنی کلام کے لئے پسند فرمایا؟ تو کیا تم مجھ پر ایک ایسی چیز کا الزام عائد کرتے ہو جسے خدا نے پہلے سے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم موسیٰ پر اپنی تقدیر سے غالب آ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2066 حدیث مرفوع مکررات 18 متفق علیہ 14
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، سعدبن ابی عبیدہ، ابوعبدالرحمن سلمی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع الغرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے کہ ہم لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، آپ کے پاس ایک چھڑی تھی آپ نے سرجھکا کر اس چھڑی سے زمین کو کریدناشروع کردیا، پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اور مخلوق نہیں جسکا ٹھکانا جنت اور دوزخ میں اور بدبخت ونیک بخت ہونالکھ نہ دیا گیا ہو، ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر ہم اپنی تقدیر پر کیوں نہ بھروسہ کرلیں اور کام کرناچھوڑ دیں،چنانچہ ہم میں جو شخص اہل سعادت میں سے ہوگا وہ اہل سعادت کی طرف چلا جائیگا اور ہم میں سے جو بدبختوں میں سے ہوگا وہ بدبختوں کا ساعمل کرے گا، آپ نے فرمایا کہ اہل سعادت نیک بختوں کے عمل میں آسانی دی جائے گی، اور اہل شقاوت کو بدبختوں کے اعمال آسان ہوں گے، پھر آپ نے آیت (فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی) 92۔ الیل) آخرتک پڑھی، یعنی جس نے دیا اور ڈرا اور نیکیوں کی تصدیق کی الخ (آیت) پھر ہم اس پر سختی کی راہ آسان کردیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 67 حدیث مرفوع مکررات 8 متفق علیہ 6
قتیبہ بن سعید، جریر، اسماعیل، قیس کہتے ہیں عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے، چونکہ ہمارے پاس کچھ نہ تھا، اس لئے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم خصی نہ ہوجائیں، تو آپ نے ہمیں اس فعل سے منع فرمایا پھر ہمیں ایک کپڑے کے عوض عورت سے نکاح کی اجازت دے دی، پھر آپ نے ہم پریہ آیت پڑھی، اے ایمان والو! وہ پاک چیزیں جو اللہ نے تم پر حلال کی ہیں حرام نہ کرو اور زیادتی نہ کرو، کیوں کہ اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا، (دوسری سند) اصبغ، وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، ابی سلمہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا میں جوان ہوں، اور مجھے خوف ہے کہ مجھ سے زنا نہ ہوجائے اور مجھ میں نکاح کی طاقت نہیں، آپ نے کچھ جواب نہ دیا، میں نے پھر یہی عرض کیا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر عرض کیا، تب بھی آپ نے کچھ جواب نہ دیا، میں نے پھر اسی طرح عرض کیا، آخر آپ نے جواب دیا، ابوہریرہ جو کچھ تیری تقدیر میں تھا قلم (اسے لکھ کر) خشک ہوگیا، اب حکم الہٰی میں تبدیلی نہیں ہوسکتی، چاہے تو خصی ہو یا نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1505 حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8
ابوالولید، ہشام بن عبدالمالک، شعبہ، سلیمان اعمش وہب عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے جو صادق ومصدوق ہیں فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رہتا ہے پھر یہ چالیس دن میں بستہ خون کی شکل میں ہوجاتا ہے، پھر چالیس دن میں گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالی فرشتہ کو بھیجتا ہے کہ اور چار چیزوں یعنی رزق، موت، بدبخت یا نیک بخت ہونے کے متعلق لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے بخدا تم میں ایک یا ﴿فرمایا﴾ آدمی دوزخیوں کا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ یا گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس پر کتاب ﴿نوشتہ تقدیر﴾ غالب آتی ہے پس وہ جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک شخص جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، اس پر کتاب غالب آجاتی ہے پس وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے، آدم نے الاذراع یعنی صرف ایک گز کا لفظ نقل کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1524 حدیث مرفوع مکررات 15 متفق علیہ 11
علی بن عبداللہ ، سفیان، عمرو، طاؤس، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ آدم اور موسیٰ نے بحث کیچنانچہ موسیٰ نے کہا اے آدم، آپ ہمارے باپ ہیں، ہمیں آپ نے محروم کیا اور جنت سے نکلوایا، آدم علیہ السلام نے کہا اے موسی، تم کو اللہ نے اپنے کلام کے ذریعہ برگزیدہ بنایا اور اپنے ہاتھ سے تمہاے لئے لکھا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جو اللہ نے میری تقدیر میں میری پیدائش سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا،چنانچہ آدم موسیٰ پر اس بحث میں غالب رہے یہ تین بار آپ نے فرمایا، سفیان نے بواسطہ ابوالزناد، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے مثل نقل کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2301 حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8
آدم، شعبہ، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو صادق و مصدوق ہیں، فرمایا کہ تم میں ہر ایک کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن اور چالیس رات جمع رہتا ہے پھر اسی طرح خون بستہ ہو جاتا ہے پھر اسی طرح خون کا لوتھڑا ہو جاتا ہے، پھر اس کے پاس فرشتہ بھیجا جاتا ہے جس کو چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے چنانچہ وہ اس کی روزی، اس کی عمر، اس کا عمل اور اس کا بد بخت یا نیک بخت ہونا لکھتا ہے، پھر اس میں روح پھونکتا ہے، پس تم میں سے ایک جنتیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے درمیان اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، اس پر تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے،چنانچہ وہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے، اور تم میں سے ایک شخص دوزخیوں کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو نوشۃ تقدیر غالب آتا ہے وہ جنتیوں کے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 537 حدیث مرفوع مکررات 1
حسن بن عرفہ، اسماعیل بن عیاش، یحیی بن ابوعمروشیبانی، عبداللہ بن دیلمی، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ اللہ تعالی نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا۔ پھر ان پر اپنا نور ڈالا۔ پس جس پر وہ نور پہنچا اس اس نے ہدایت پائی اور جس تک نہیں پہنچا وہ گمراہ ہوگیا۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علم پر قلم خشک ہوگیا۔ یہ حدیث حسن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2226 حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ہمدانی ابومعاویہ وکیع، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع رہتا ہے پھر اسی میں جما ہوا خون اتنی مدت رہتا ہے پھر فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار کلمات لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے اس کا رزق، عمر، عمل اور شقی یا سعید ہونا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک تم میں سے کوئی اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کر لیتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی اہل جہنم جیسے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جنت والا عمل کر لیتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2234 حدیث مرفوع مکررات 18 متفق علیہ 14
عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر اسحاق جریر، منصور سعد ابن عیبدہ ابوعبدالرحمن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ بقیع الغرقد میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا کر بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے اور آپ کے پاس ایک چھڑی تھی پس آپ نے سر جھکایا اور اپنی چھڑی سے زمین کو کریدنا شروع کردیا پھر فرمایا تم میں سے کوئی اور جانداروں میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا مکان جنت یا دوزخ میں اللہ نے لکھ دیا ہو اور شقاوت وسعادت بھی لکھ دی جاتی ہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم اپنی تقدیر پر ٹھہرے نہ رہیں اور عمل چھوڑ دیں؟ تو آپ نے فرمایا جو اہل سعید میں سے ہوگا وہ اہل سعادت کے عمل ہی کی طرف ہو جائے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ اہل شقاوت ہی کے عمل کی طرف جائے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم عمل کرو ہر چیز آسان کر دی گئی ہے بہر حال اہل سعادت کے لئے اہل سعادت کے سے اعمال کرنا آسان کر دیا ہے پھر آپ نے فرمایا ( مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی) تلاوت فرمائی جس نے صدقہ کیا اور تقوی اختیار کیا اور نیکی کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے نیکیوں کو آسان کر دیں گے اور بخل کیا اور لا پرواہی کی اور نیکی کو جھٹلایا تو ہم اس کے لئے برائیوں کو آسان کردیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2238 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 2
احمد بن یونس زہیر ابوزبیر، یحیی بن یحیی، ابوخیثمہ ابوزبیر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک بن جعشم نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے ہمارے دین کو واضح کریں۔ گویا کہ ہمیں ابھی پیدا کیا گیا ہے آج ہمارا عمل کس چیز کے مطابق ہے کیا ان سے متعلق ہے جنہیں لکھ کر قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے یا اس چیز سے متعلق ہیں جو ہمارے سامنے آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ان سے متعلق ہیں جنہیں لکھ کر قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے سراقہ نے عرض کیا پھر ہم عمل کیوں کریں زہیر نے کہا پھر ابوالزبیر نے کوئی کلمہ ادا کیا لیکن میں اسے سمجھ نہ سکا میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کئے جاؤ ہر ایک کے لئے اس کا عمل آسان کردیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2242 حدیث مرفوع مکررات 1 متفق علیہ 1 بدون مکرر
اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن عمر عزرہ بن ثابت یحیی بن عقیل یحیی ابن یعمر حضرت ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ مجھے عمران بن حصین نے کہا کیا تو جانتا ہے کہ آج لوگ عمل کیوں کرتے ہیں اور اس میں مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور تقدیر الہی اس پر جاری ہو چکی ہے یا وہ عمل ان کے سامنے آتے ہیں جنہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت نے دلائل ثابتہ سے واضح کردیا ہے تو میں نے کہا نہیں بلکہ ان کا عمل ان چیزوں سے متعلق ہے جن کا حکم ہو چکا ہے اور تقدیر ان میں جاری ہو چکی ہے تو عمران نے کہا کیا یہ ظلم نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ اس سے میں سخت گھبرا گیا اور میں نے کہا ہر چیز اللہ کی مخلوق اور اس کی ملکیت ہے پس اس سے اس کے فعل کی باز پرس نہیں کی جاسکتی اور لوگوں سے تو پوچھا جائے گا تو انہوں نے مجھے کہا اللہ تجھ پر رحم فرمائے میں نے آپ سے یہ سوال صرف آپ کی عقل کو جانچنے کے لئے ہی کیا تھا قبیلہ مزنیہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ لوگ آج عمل کس بات پر کرتے ہیں اور کس وجہ سے اس میں مشقت برادشت کرتے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں حکم صادر ہو چکا ہے اور اس میں تقدیر جاری ہو چکی ہے یا ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو احکام لے کرئے ہیں اور تبلیغ کی حجت ان پر قائم ہو چکی ہے اس کے مطابق عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ان کا عمل اس چیز کے مطابق ہے جس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر اس میں جاری ہو چکی ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں (وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا) موجود ہے اور قسم ہے انسان کی اور جس نے اس کو بنایا اور اسے اس کی بدی اور نیکی کا الہام فرمایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1270 حدیث مرفوع مکررات 11
مسدد، یحیی، عثمان بن غیاث، عبداللہ بن بریدہ، حضرت یعلی بن یعمر اور حضرت حمید بن عبدالرحمن الحمیری دونوں کہتے ہیں کہ ہم دونوں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ملے اور انہیں تقدیر کے بارے میں وہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں بتلایا آگے سابقہ حدیث کے مانند ذکر کیا اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ سے قبیلہ مزنیہ یاجہینیہ کے ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ ہم اعمال کرتے ہیں کیا یہ جان کر کریں کہ اس پر تقدیر واقع ہوچکی ہے یا یہ کہ یہ عمل بغیر تقدیر کے بس ابھی ایسا ہوگیا آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ یہ سمجھ کر تقدیر میں متعین ہوچکا ہے تو اس شخص نے یا چند لوگوں نے کہا کہ پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ بے شک اہل جنت کو جنت میں لے جانے والے اعمال کی توفیق ملتی ہے اور اہل دوزخ کو دوزخ میں لے جانے والے اعمال کی توفیق ملتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1273 حدیث مرفوع مکررات 2
محمد بن کثیر، سفیان عن وہب بن خالد حمصی، ابن الدیلمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابی ابن کعب کے پاس حاضر ہوا اور ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر سے متعلق کچھ شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں مجھے کچھ بتلائیں شاید اللہ تعالی میرے دل سے ان مشتبہات کو نکال دیں تو ابی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر اللہ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہیں تو عذاب دے سکتے ہیں اور وہ ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے اور اگر وہ ان پر رحم فرمائیں تو ان کی رحمت ان کے لیے ان کے اپنے اعمال سے بہتر ہوں گے اور اگر تو احد کے پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردے تو اللہ کی راہ میں وہ تجھ سے قبول نہیں فرمائیں گے یہاں تک کہ تو تقدیر پر ایمان لے آئے اور یہ نہ جان لے کہ تجھے جو کچھ (مصیبت وغیرہ پہنچی) وہ تجھ سے خطا ہونے والی نہ تھی اور جو تکلیف وغیرہ تجھے نہیں پہنچی وہ تجھے ہرگز پہنچنے والی نہیں تھی اور اگر اس اعتقاد کے بغیر تو مر گیا تو ضرور بالضرور تو آگ میں داخل ہوگا ابن الدیلمی کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا پھر میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بن یمان کے پاس آیا تو انہوں نے بھی تقریبا یہی کہا پھر میں حضرت زید بن ثابت کے پاس انہوں نے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی مجھ سے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 3 حدیث مرفوع مکررات 1
بندار، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، عاصم بن عبید اللہ، حضرت سالم اپنے والد عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم جو عمل کرتے ہیں کیا یہ نیا امر ہے؟ یا عرض کیا کہ نیا شروع ہوا ہے یا یہ پہلے سے تقدیر میں لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کی جا چکی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اس سے فراغت ہو چکی ہے اے خطاب کے بیٹے ہر شخص پر وہ آسان کر دی گئی ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے لہذا جو نیک بخت لوگ ہیں وہ نیک بختی کے عمل کرتے ہیں اور جو بدبخت ہیں وہ اسی کے لئے عمل کرتے ہیں اس باب میں علی خذیفہ بن اسید انس اور عمران بن حصین سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 5 حدیث مرفوع مکررات 12
ہناد، ابومعاویہ، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صادق مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ تم میں ہر ایک ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی حالت میں رہتا ہے پھر چالیس دن کے بعد گاڑھا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن میں گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے پھر اللہ تعالی اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار چیزیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے کوئی اہل جنت کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان بالشت بھر فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر الہی اس کی طرف سبقت کرتی ہے تو اس کا خاتمہ دوزخیوں کے اعمال پر ہوتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور ایک آدمی جہنمیوں کے اعمال کرتا ہے یہاں تک تقدیر الہی اس کی طرف دوڑتی ہے اور اس کا خاتمہ جنتیوں کے اعمال پر ہوتا ہے پس وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 15 حدیث مرفوع مکررات 1
ابوالخطاب زیاد بن یحیی البصری، عبداللہ بن میمون، جعفر بن محمد، ان کے والد، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لائے یہاں تک کہ وہ جان لے کہ جو چیز اسے ملنے والی تھی وہ اسے ہی ملی کسی اور کے پاس نہیں جا سکتی تھی اور جو چیز اسے نہیں ملنی وہ کسی صورت اسے نہیں مل سکتی اس باب میں حضرت عبادہ جابر اور عبداللہ بن عمرو سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث جابر کی حدیث سے غریب ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی حدیث سے پہچانتے ہیں اور عبداللہ بن میمون منکر حدیث تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1034 حدیث مرفوع مکررات 4
محمد بن بشار، ابوعامر عقدی عبدالملک بن عمرو، سلیمان بن سفیان، عبداللہ بن دینار، ابن عمر، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت (فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ) 11۔ہود:105) نازل ہوئی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا عمل اس چیز کے لئے کرتے ہیں جو لکھی جاچکی ہے ابھی نہیں لکھی ہے (یعنی تقدیر) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی چیز کے لئے جس سے فراغت حاصل کی جاچکی ہے اور اسے لکھا جاچکا لیکن ہر شخص کے لئے وہی آسان ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ ہم اس کو صرف عبدالملک بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 77 حدیث مرفوع مکررات 2
علی بن محمد، اسحاق بن سلیمان، ابوسنان، وہب بن خالد حمصی، حضرت ابن دیلمی فرماتے ہیں کہ میرے جی میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے مجھے ڈر ہوا کہ کہیں مجھ پر دین اور معاملہ یہ خیالات بگاڑ نہ دیں۔ میں ابی بن کعب کے پاس آیا اور عرض کی ، اے ابوالمنذر، میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے ہیں مجھے اپنے دین اور معاملہ کے خراب ہونے کا ڈر ہوا ہے مجھے تقدیر کے متعلق کوئی حدیث بیان کریں ممکن ہے اللہ مجھے اس سے کوئی نفع دے، انہوں نے بیان کیا اگر اللہ ہل سماء و ارض کو عذاب دینا چاہے تو عذاب دے سکتے ہیں ، تب بھی وہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہے اور اگر ان پر رحم کرنا چاہیں تو اس کی رحمت ان کے لئے ان کے عملوں سے بہتر ہو گی، اور اگر تیرے پاس مثل احد پہاڑ کے سونا ہو یا مثل احد پہاڑ کے مال ہو اور تو اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دے تو وہ تیری طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ تو تقدیر پر ایمان لے آئے، پس جان لے کہ جو مصیبت تجھے پہنچی تجھ سے ٹلنے والی نہیں تھی اور جو مصیبت تجھ سے ٹل گئی وہ تجھے پہنچنے والی نہیں تھی، اگر تو اس یقین کے علاوہ کسی اور یقین پر مر گیا تو جہنم میں داخل ہوگا۔ تجھ پر کوئی حرج نہیں کہ تو میرے بھائی عبداللہ بن مسعود کے پاس جائے اور ان سے سوال کرے، میں عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا انہوں نے ابی بن کعب کی طرح فرمایا اور مجھ سے کہا کہ کوئی حرج نہیں کہ تم حذیفہ کے پاس جاؤ اور سوال کرو میں حذیفہ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا انہوں نے اسی طرح کہا جیسے عبداللہ نے کہا تھا اور فرمایا کہ زید بن ثابت کے پاس جاؤ میں زید بن ثابت کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، اگر اللہ ہل سماء و ارض کو عذاب دینا چاہیں تو وہ ان کو عذاب دے سکتے ہیں تب بھی وہ ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہیں ، اور اگر ان پر رحم کرنا چاہیں تو اس کی رحمت ان کے لئے ان کے عملوں سے بہتر ہوگی اور اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہے یا احد پہاڑ کے برابر مال ہے اور تو اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دے وہ تیری جانب سے قبول نہیں کیا جائے گا حتی کہ تو تقدیر پر ایمان لے آئے، جان لے کہ جو مصیبت تجھے پہنچی ہے وہ تجھ سے ٹلنے والی نہیں تھی، اور جو مصیبت تجھے نہیں پہنچی وہ تجھ کو پہنچنے والی نہیں تھی، اور اگر تو اس کے علاوہ کسی اور عقیدہ پر مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 84 حدیث مرفوع مکررات 1
ابوبکر بن ابی شیبہ، مالک بن اسماعیل، یحییٰ بن عثمان، مولی ابی بکر، یحییٰ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ، حضرت ابوملیکہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور ان سے تقدیر کے متعلق کچھ اشکال ذکر کیے، انہوں نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ نے فرمایا جس نے تقدیر میں کسی قسم کا کلام کیا اس سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا اور جس نے اس قسم کا کلام نہیں کیا اس سے اس کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 92 حدیث مرفوع مکررات 3
محمد بن مصفی حمصی، لقیہ بن الولید، اوزاعی، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازوں پر نہ جاؤ اور اگر تم ان سے ملو تو سلام نہ کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 750 حدیث مرفوع مکررات 4
محمدبن بشار، ابوداؤد، ابن ابی زناد، ابان بن عثمان، حضرت ابان بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جو بندہ بھی ہر روز صبح اور شام کو یہ کلمات کہے ِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْئٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَائِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ تین بار۔۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اسے کوئی ضرر پہنچے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابان کو فالج تھا۔ ایک شخص انکی طرف (تعجب سے) دیکھنے لگا تو حضرت ابان نے اس سے کہا دیکھتے کیا ہو۔ حدیث ایسے ہی ہے جیسے میں نے بیان کی لیکن ایک روز میں پڑھ نہ سکا (بھول گیا) تاکہ اللہ تعالی اپنی اٹل تقدیر مجھ پر جاری فرما دیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1049 حدیث مرفوع مکررات 3
محمد بن صباح، سفیان بن عیینہ، ابن عجلان، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قوی مسلمان اللہ تعالی کو زیادہ پسند ہے ناتواں مسلمان سے ہر بھلائی میں تو حرص کر پھر اگر تو مغلوب ہو جائے تو کہہ اللہ تعالی کی تقدیر ہے اور جو اس نے چاہا وہ کیا اور ہرگز اگر مگر مت کر اگر شیطان کا دروازہ کھولتا ہے جب اس طور سے ہو کہ تقدیر پر بے اعتمادی نکلے اور انسان کو یہ عقیدہ ہو کہ یہ ہمارے فلاں کام کرنے سے یہ آفت آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
براہ کرم ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں تقدیر کی وضاحت فرمائیں۔
والسلام
اعجاز احمد
ijaz1976 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ijaz1976 کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (11-09-10), اخترحسین (10-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 10-09-10, 10:50 PM   #29
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 36,971
شکریہ: 4,903
808 مراسلہ میں 1,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تقدیر برحق ھیگی جے

























آھو
اخترحسین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا
ijaz1976 (13-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 13-09-10, 08:12 PM   #30
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 6
کمائي: 274
شکریہ: 1
6 مراسلہ میں 14 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان احادیث مبارکہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہیں جس کی تقدیر پہلے سے متعین نہ ہو جیسے کہ اوپر بیان کی گئی احادیث مبارکہ:
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2242 حدیث مرفوع مکررات 1 متفق علیہ 1 بدون مکرر
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1270 حدیث مرفوع مکررات 11
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1273 حدیث مرفوع مکررات 2
میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کسی عمل کی باز پرس نہیں ہوسکتی باقی سب سے باز پرس ہوسکتی ہے اور اگر وہ تمام مخلوق کو عذاب دینا چاہے تو یہ ظلم نہیں ہوگا اس لئے کہ ظلم ایک نقص ہے عیب ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اسی طرح اگر رحمت فرمائے تو یہ مخلوق کے اعمال کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے کیونکہ مخلوق تو اپنی ساری عمر عبادت میں گزار دے تو ایک ادنیٰ سی نعمت کے شکریہ کا حق بھی ادا نہیں کرسکتی کجا جنت جیسی نعمت کی قیمت ادا کرنا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بخشش اعمال کے ذریعے سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی لیکن اعمال کرنا اس لئے ضروری ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب حضرت محمد ﷺ کا حکم ہے اور ہر کسی کو انہی اعمال میں آسانی ملے گی جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے یعنی جنت یا دوزخ اور ان دونوں کے معاملات میں تقدیر الٰہی انسان پر غالب ہے۔ اعمال پر پکڑ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ قرآن مجیدمیں فرماتا ہے:
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 45؀ۧ(پارہ نمبر:22،سورہ: فاطر، آیت:45)
ترجمہ (مکہ) : اور اگر اللہ تعالٰی لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دارو گیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا (۱) لیکن اللہ تعالٰی ان کو میعاد معین تک مہلت دے (۲) رہا ہے سو جب ان کی میعاد آپہنچے گی اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا۔ (۳)
پس اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر کے برحق ہونے پر ایمان رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

Last edited by ijaz1976; 13-09-10 at 08:27 PM.
ijaz1976 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ijaz1976 کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (13-09-10)
جواب

Tags
color, pre, فیصلہ, ہے۔, کار, کرے۔, گا۔, پہلے, لگا, چیز, مقصد, مبشر, مطابق, اپنی, ایسا, اللہ, انسان, امتحان, تعالیٰ, خدا, دیکھ, دے, دنیا, شخص, علم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger