| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آ مین ،
کنعان بھائی ، یہاں تک آپ کے اعتراضا ت کے کافی جوابات ہو چکے ، اب آپ سے گذارش ہے کہ کوئی اور بات کرنے سے پہلے آپ ان عربی متون کا ترجمہ کر دیجیے جو میں نے نقل کیے ہیں ، کیونکہ ان میں آپ کے تما تر اعتراضات کے ایسے جوابات موجود ہیں جو آپ کے اعتراضات کو ختم کرنے والے ہیں باذن اللہ اور میری طرف سے نہیں ہیں ، و السلام علیکم ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (25-07-09), عبداللہ حیدر (24-07-09) |
|
|
#17 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، غیر متعلقہ مراسلے یہاں منتقل کر دیے ہیں۔
اپنے عقیدے کا جائزہ لیں کے فالتو مراسلے |
|
|
|
|
|
#18 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے ہر چیز واضع کر دی ھے تاکہ ہر لا شعور کو بھی سمجھ آ جائے آپ اگر اتنے قابل ہوتے تو مسٹر حیدر کے ساتھ مل کے وہ حرکت نہ کرتے جو بد اخلاقی تھی اور اس سے آپ نے اپنا آپ دکھا دیا ھے آپ کے لیے میں نے ٹریننگ سینٹر نہیں کھولا ہوا یہ آپ مجھے کیا عربی ترجمہ کہ رہے ہیں ان کو کسی سے بھی کوئی تعلق نہیں آپ کی پوسٹ پر اعتراض تھے جو میں نے پورے کر دئے ہیں آپ مجھ سے سوال تب کرو جب کہ میں نے کوئی ایسا دھاگہ لگایا ھے اور اس میں کوئی غلطی ہو گئی ھے آپ کا پاس میرے ساتھ سوال کرنے کا کوئی رائٹ نہیں ھے آپ کو یہ کہا ھے کہ قرآن کا ترجمہ کے ساتھ جو جواب ملایا ھے اس کی تصدیق کرو جو حدیث آپ نے لگائی ھے وہ اندھوں کو بھی نظر آ رہی ھے میں نے تو جو جواب دینے تھے دے دئے ہیں اب آپ کو ان کے لیے اپنا کام کرنا ھے میں نے اپنا ہوم ورک کر دیا ہوا ھے اب آپ نے کرنا ھے جو حدیث آپ نے لکھی ھے اور جو حدیث مسٹر حیدر نے لکھی ھے اس پر جواب دیں بھئی آگے بھاگنے کی ضرورت نہیں پہلے یہ مسئلہ تو حل کر لو پھر آگے بڑھیں گے مسٹر حیدر مجھے اب ان کی ضرورت نہیں جو آپ نے زہمت فرما کے لگا دی ہیں آپ تو دوسرے فارمز میں بھی رجسٹر ہیں میری طرح اپنی عزت کا تو خیال کیا ہوتا وہاں کیا منہ دکھاؤ گے وہاں تو پڑھے لکھے قابل بندے ہیں یہاں تو ایک عادل صاحب کو دیکھ کے ہی بہت کچھ سمجھنے کو ملا اللہ حافظ Last edited by کنعان; 24-07-09 at 08:05 AM. |
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (24-07-09) |
|
|
#19 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ اپنا جواب مکمل کرو میں یہیں ہوں کیا لکھا ھے اور کیا نہیں لکھا یہ نہیں دکھاؤ آپ نے کیا کہنا ھے وہ بتاؤ والسلام |
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (24-07-09) |
|
|
#20 | |||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کنعان بھائی ، واضح تو تب ہوا جب اللہ کی عطاء کردہ توفیق سے میں نے آپ کے اعتراضات کے تمام جوابات تفسیر اور حدیث کی کتابوں سے مہیا کر دیے ، الزام تراشی اور بد ظنی اچھی نہیں ہوتی کنعان بھائی ، میں نے کسی کے ساتھ مل کر کوئی حرکت نہیں کی ، اور نہ مجھے وہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں ، الحمد للہ میرا توکل میرے رب ہر ہے ، جس نے مجھے اس قابل بنا رکھا ہے کہ ایسے بچگانہ سوالات کے جوابات دے سکوں جو آپ نے کیے ، اقتباس:
ان شاء اللہ اب میں خود ہی ان کا ترجمہ پیش کر دوں گا ، تا کہ ہر قاری پر واضح ہو جائے کہ آپ کے وارد کردہ اعتراضات کی کیا حیثیت ہے ، اقتباس:
اس گفتگو میں مجھ سے سوال کرنے کا جتنا حق آپ رکھتے ہیں ، آپ سے سوال کرنے کا اتنا ہی حق میں بھی رکھتا ہوں ، ایسی گفتگو کا یہ اسلوب معروف ہے ، ایسا کیا کہ ایک شخص سوال کیے جائے اور وہ بھی کسی حجت کے بغیر اور جب اس سے سوال کیا جائے تو ،،،،،،،،،،،،،، اقتباس:
یہ تفسیر کس کی لکھی ہوئی ھے اور کہاں سے لی ھے اس کی وضاحت فرما دیں """""""" اور میں نے اس کے جواب میں تفاسیر سے حوالے مہیا کر دیے تھے ، ان سے فرار کیوں ہو رہے ہیں ؟ اقتباس:
بھائی میرے آپ نے جو تصویری کام بطور ہوم ورک کیا ہے اگر اس پر غور فرماتے تو شاید نہ یہاں پیش کرتے اور نہ ہی اپنے کسی بلاگ میں ، وہ تو آپ کے اپنےہی کیے ہوئے سوالات کا رد ہے ، غور فرمایے ، بھائی میں بوڑھا آدمی ہوں ، بھاگنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، اب خاطر جمع رکھیے ان شاء اللہ میں آپ کی خدمت میں حاضر رہوں گا ، و السلام علیکم۔ |
|||||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (25-07-09), عبداللہ حیدر (25-07-09) |
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی کنعان ، آپ نے اپنے مراسلہ رقم ۸ میں اپنے انتہائی محدود علم کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ تجزیہ پیش کیا اور اس کے بعد اپنے ہی اعتراضات کے بارے میں اپنے بلاگ ریڈرز کے لیے خود ہی اپنی درستگی کا فیصلہ صادر فرماتے ہوئے لکھا ::::: """"" میرے سوالات بالکل ٹھیک تھے حدیث پر عادل صاحب کے لیے ایک بات عرض کروں گا کہ حدیثوں کا ادب کرنا سکیھیں حدیثوں کے ساتھ مذاق کرنا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا آپ کی اس حرکت کی وجہ سے میں آپ کو مسلمان نہیں سمجھتا اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں کنا چاہتا """""" اس سے زیادہ کہنے کی ضرورت بھی نہیں کنعان بھائی ، اور ان شاء اللہ ، اللہ کے سامنے اتنا ہی اٹھانا نہ ہو سکے گا، احادیث سے مذاق کون کرتا ہے ،اس کا ان شا ء اللہ تفصیلی جواب آپ کو مل جائے ، اپنے اس خود کردہ فیصلے کے بارے میں یہ حدیث پڑہیے ، اور اپنی آخرت کے بارے میں کچھ غور فرمایے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( اذا قَالَ الرَّجُلُ لِاخِیہ '' یا کافِر '' فَقَد باءَ بِہا احدھما فَان کَانَ کَما قَالَ وَ الا رجعَت عَلِیہ ::: اگر کوئی اپنے( مسلمان ) بھائی کو کافر کہتا ھے تو ( یھ بات ) دونوں میں سی کِسی ایک پر ضرور سچی ھو جاتی ھے اگر تو وہ جِسے(کافر) کہا گیا ھے ویسا نھیں ہےتو وہ بات کہنے والے پر پوری ھو جاتی ھے))))) ( یعنی ایسا کہنے والا کافر قرار پاتا ھے ) صحیح البُخاری/حدیث٦١٠٤/ کتاب الادب /باب ٧٣ ، صحیح مُسلم /حدیث ٦٠ ،،، |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#22 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مشاء اللہ کیا خوب اسلوب ہے ، جب اپنی باتوں پر گرفت ہو تو ایسا ہوتا ہی ہے ، بھائی آپ نصیحت قبول نہیں فرماتے تو مت فرمایے ، ناراض ہونے سے بہتر ہے کی ایسی بات کہی ہی نہ جائے جسے پوری کرنے کی صلاحیت نہ ہو ، آپ تو عربی عبارات کا ترجمہ کرنے سے فرار اختیار کر گئے ، اور اپنی درستگی کا خود ہی فیصلہ کرتےہوئے مجھے مسلمان نہ ماننے کا اعلان کر کے علمی میدان میں سے فرار ہو چکے ، اب ان شاء اللہ میں اپنی باری پوری کروں گا ، باذن اللہ ، آپ کے تجزیے کا بھی ان شا اللہ وہی حال ہو گا جو آپ کے اس دعویٰ کا ہوا تھا کہ """ آپ کسی سے سوال نہیں کرتے """" اور بڑے فخر سے آپ نے اسے اپنا """ فن """ قرار دیا تھا ۔ و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (25-07-09), عبداللہ حیدر (25-07-09) |
|
|
#24 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کنعان بھائی ، آپ کے اس سوال کا جواب میں اپنے پہلے مراسلہ رقم 5 میں دے چکا تھا ، لیکن آپ کا حذف شدہ تصویری مراسلہ رقم 7 واپس ہونے پر دیکھا تو پتہ چلا کہ آپ نے اپنی غلطی چھپانے کے لیے کیسے پینترا بدلا ، جی ہاں ، پہلے تو آپ نے آپ کے اس مذکورہ بالا مراسلے میں ایک اعتراض اُٹھایا اور پھر میرا جواب دیکھ کر جو آپ کی غلطی کو واضح کرتا ہے ، آپ نے اپنے تصویری مراسلہ رقم 7 میں اپنے اس سوال کا ذکر تک نہیں کیا ، بلکہ بات کو بالکل بدل کر کچھ کا کچھ لکھ دیا اور اپنے اس سوال کا ذکر ہی نہیں کیا جو آپ نے سب سے پہلے کیا تھا جس کا جواب میں یہاں پھر سے دے رہا ہوں ، اگر آپ کے مراسلات تصویری نہ ہوتے تو میں ان میں لکھے ہوئے آپکے الفاظ یہاں ضرور نقل کر دیتا ، لیکن ان شاء اللہ حسب ضرورت کچھ ضرور یہاں نقل کروں گا ، آپکے اسطرح بات کو بدلنے سے آپ کے ارادے اور امانت داری کا پتہ چلتا ہے ، و اللہ المستعان ، جی تو میں نے آپ کو تفاسیر کے حوالے دیتے کہا تھا کہ ان کا ترجمہ آپ فرما دیجیے ، لیکن اپنی غلطی کو چھپائے رکھنے کی کوشش میں آپ نے ترجمہ نہیں کیا ، لیجیے ، میں نے اپنے مراسلہ رقم 5 میں جو تفسیری عبارات بمع حوالہ جات لکھی تھیں اب ان کو ترجمے کے اضافہ کے ساتھ دوبارہ لکھ رہا ہوں ، تا کہ ان شاء اللہ سب قارئین کو پتہ چل جائے کہ آپ نے جو سوالیہ اعتراضات کیے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے """""""" اور اب ملاحظہ فرمایے تفاسیر بمع ترجمہ ::::: بحوالہ تفیسر القران العظیم ، یعنی تفیسر ابن کثیر ::::: """"" ((((( وَٱدعُوهُ خَوفاً وَطَمَعاً ))))) أي خوفاً مما عنده من وبيل العقاب وطمعاً فيما عنده من جزيل الثواب ::::: ((((( اور اللہ کو پکارو خوف اور لالچ کے ساتھ ))))) یعنی اللہ کے پاس شدید عذاب میں سے جو کچھ ہے اس کے خوف سے اور اللہ کے پاس عظیم ثواب میں سے جو کچھ ہے اس کے لالچ میں (اسے پکارو ) """"" اور ملاحظہ فرمایے ::::: بحوالہ جامع البیان عن تاویل آیی القران ، یعنی تفسیر الطبری ::::: """""" ((((( وَٱدعُوهُ خَوفاً وَطَمَعاً ))))) : یقول : وأخلصوا له الدعاء والعمل، ولا تشركوا في عملكم له شيئا غيره من الآلهة والأصنام وغير ذلك، وليكن ما يكون منكم في ذلك خوفا من عقابه وطمعا في ثوابه وإن من كان دعاؤه إياه على غير ذلك فهو بالآخرة من المكذّبين، لأن من لم يخف عقاب الله ولم يَرج ثوابه لم يبال ما ركب من أمر يسخطه الله ولا يرضاه ::::: ((((( اور اللہ کو پکارو خوف اور لالچ کے ساتھ ))))) : ( اللہ تعالی )کہہ رہا ہے : اور اللہ کے لیے دُعا اور عمل خالص کرو اور اپنے کاموں میں اللہ کے علاوہ کسی کو بھی ( مختلف ) معبودوں اور بتوں میں سے اللہ کے لیے شریک مت بناؤ لیکن اس ( دُعا اور عمل ) میں جو کچھ بھی تمہاری طرف سے ہو وہ اللہ کی (طرف سے ملنے والی ) سزا کے خوف سے ہو اور اللہ کے ( ہاں ملنے والے ) ثواب کے لالچ میں ہو ، اور بے شک جو اللہ کو اس ( مقصد ) کے علاوہ پکارے گا وہ آخرت میں جھٹلائے گئے لوگوں میں ہو گا کیونکہ جو اللہ کی (طرف سے ملنے والی ) سزا سے نہ ڈرا اور اللہ کے ثواب کا امید وار نہ ہوا اسے کوئی خیال نہیں رہتا کہ کب وہ ایسا کام کر لے جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہو اور جسے اللہ پسند نہ کرتا ہو """"" اور ملاحظہ فرمایے ::::: بحوالہ الجامع لاحکام القران یعنی تفیسر القرطبی ::::: """"" ((((( وَٱدعُوهُ خَوفاً وَطَمَعاً ))))) أمر بأن يكون الإنسان في حالة ترقب وتخوّف وتأميل لله عز وجل، حتى يكون الرجاء والخوف للإنسان كالجناحين للطائر يحملانه في طريق استقامته، وإن ٱنفرد أحدهما هلك الإنسان ::::: ((((( اور اللہ کو پکارو خوف اور لالچ کے ساتھ ))))) اللہ نے حُکم دیا کہ انسان اس حالت میں رہے کہ اسے یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ اور سن رہا ہے اور خوف اور امید کی حالت میں رہے ، یہاں تک امید اور خوف انسان کے لیے پرندے کے دو ایسے پروں کی طرح ہو جائیں جو اسے راہ استقامت پر اٹھائے رکھیں ، اور اگر ان دونوں (یعنی خوف اور امید ) میں کوئی ایک اکیلا ہو گیا تو انسان ھلاک ہو گیا """""" کنعان بھائی ، آپ کے سوال اور اعتراض کا یہ جوابات امت کے أئمہ کی طرف سے ہیں ، آپ نے جب ان عبارات کو دیکھا تو اپنی تصویری مراسلہ رقم 7 میں اپنے پہلے سوال کا ذکر ہی نہیں کیا ، بلکہ پہلے تو میرے مضمون میں سوال و جواب میں لکھے ہوئے جواب پر جو اعتراض کیا ، اور پھر اپنے اس تصویری مراسلہ میں میرے اسی جواب کو درست مانا ، و للہ الحمد ، اور اپنے سوال کہ """" یہ تفسیر کس کی لکھی ہوئی ھے اور کہاں سے لی ھے اس کی وضاحت فرما دیں """" کی بجائے یہ لکھا کہ """"" جناب عادل صاحب میں نے آپ سے یہ نہیں کہا کہ آپ مجھے کہیں اور سے اپنے کہے ہوئے جواب کا جواب نکال کر دکھائیں ، آپ سے گذارش ہے کہ اسی قران کی آیت سے نکال کر دکھائیں جہاں آپ نے اپنا جواب ملانے کی کوشش کی ہے """"""" آپ کا اس طرح بات کو بدلنا اورآپ کے ایک اور دعویٰ کا آپ ہی کے ہاتھوں بطلان ہے ، الحمد للہ ، کہ آپ نے خود ہی اپنے اس پہلے سوالیہ اعتراض کا ذکر مکمل طور پر گول کرتے ہوئے گویا یہ اعتراف کیا کہ آپ نے یہ سوال لا علمی کی حالت میں اعتراض برائے اعتراض کے طور پر داغا تھا ، محترم بھائی ، امت کے اماموں کی طرف سے یہ تفسیر بیان ہوئی جو میں نے اپنے الفاظ میں نقل کی ، اور اسی آیت کی بیان ہوئی جس سے آپکو میرے جواب کو کوئی جوڑ پتہ نہیں چل سکا ، اور أئمہ نے یہ تفیسر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اسی فرمان کی روشنی میں بیان فرمائی جس پر نے کچھ اسی قسم کے لا علمی اور میری ضد پر مبنی سوالیہ اعتراضات کیے ، اب اس کے بعد ، ان شاء اللہ اُن سوالیہ اعتراضات کی باری ہے جو آپ نے حدیث کے بارے میں وارد کیے ، اور ان کے ساتھ ساتھ آپ کے تصویری مراسلے کے بارے میں بھی بات ہوتی رہے گی ، ان شاء اللہ ، چند ہی دنوں میں یہ سلسلہ مکمل ہو جائے گا اور باذن اللہ ہر قاری پر واضح ہو جائے گا کہ آپ کے ان سوالیہ اعتراضات یا اعتراضی سوالات کی کیا حیقیقت ہے ، اور جو دعوے آپ کرتے چلے آ رہے ہیں وہ کیا ہیں ، اور آپ کے تصویری مراسلہ رقم ۸ میں جو تجزیہ آپ نے پیش کر کے خود ہی اپنی درستگی کا فیصلہ فرما دیا ، اور مجھے مسلمان نہ ماننے کا اعلان فرما دیا اس کی حقیقت کیا ہے ، اور جس بات کو سبب بنا کر آپ نے یہ اعلان کیا وہ سبب خود آپ میں بدرجہ اتم موجود ہے ، اور ((((( أعوذ ُ باللہ ان أکونَ مِن الجاھلین ::: اور میں اللہ کی پناہ طلب کرتے ہو جاھلوں میں سے ہو جانے سے ))))) جوابات کی تکمیل میں چند دن لگ سکتے ہیں کیونکہ معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد بمشکل تمام مجھے دو ڈھائی گھنٹے میسر ہوتے ہیں ۔ اور ان شاء اللہ اس تاخیر میں یہ بہتری بھی نظر آتی ہے کہ قارئین محترمین کو ایک ایک کر کے آپ کے بے بنیاد اعتراضات کی سمجھ آتی رہے گی ، باذن اللہ ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#26 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
""""" وعن جابر بن عبد الله الأنصاري ، قال ، كان معاذ يتخلف عند رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فكان إذا جاء أم قومَهُ وكان رَجل مِن بني سلمة يقال له سليم يصلي مع معاذ، فاحتبس معاذ عنهم ليلة فصلى سليم وحده وانصرف، فلما جاء معاذ أخبر أن سليما صلى وحده وانصرف ، فأخبر معاذ ذلك رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، فأرسل رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم إلى سليم يسأله عن ذلك ، فقال ، إني رجل أعمل نهاري حتى إذا أمسيت أمسيت ناعسا فيأتينا معاذ و قد أبطأ علينا فلما احتبس علي صليت وانقلبت إلى أهلي، فقال ، رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ((((( كيف صنعت حين صليت )))) قال ، قرأت بفاتحة الكتاب وسورة ثم قعدت وتشهدت وسألت الجنة وتعوذت من النار وصليت على النبي صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ثم انصرفت ولست أحسن دندنتك ولا دندنة معاذ ((( فضحك رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم))))) وقال ((((( هل أدندن أنا ومعاذ إلا لندخل الجنة ونعاذ من النار ))))) ثم أرسل إلى معاذ ((((( لا تكن فتانا تفتن الناس إرجع إليهم فصل بهم قبل أن يناموا ))))) ثم قال سليم ستنظر يا معاذ غدا إذا لقينا العدو كيف تكون أو أكون أنا وأنت قال فمر سليم يوم أحد شاهرا سيفه فقال يا معاذ تقدم فلم يتقدم معاذ وتقدم سليم فقاتل حتى قتل فكان إذا ذكر عند معاذ يقول إن سليما صدق الله وكذب معاذ ، قلت لجابر حديث في الصحيح غير هذا ، رواه البزار ورجاله رجال الصحيح خلا معاذ بن عبد الله بن حبيب وهو ثقة لا كلام فيه ۔ ::::: اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہُما سے (روایت ہے کہ انہوں نے) کہا ، معاذ (معاذ رضی اللہ عنہ) رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس دیر تک رہتے تھے اور جب واپس جاتے تو اپنی قوم کی امامت کرواتے اور نبی سلمہ کا ایک شخص جسے سلیم (معاذ رضی اللہ عنہ) کہا جاتا تھا معاذ (معاذ رضی اللہ عنہ) کے ساتھ نماز پڑھتا تھا ، تو ایک رات معاذ (معاذ رضی اللہ عنہ) ان لوگوں سے (کافی دیر تک ) رکے رہے (یعنی ان کے پاس پہنچنے میں معاذ کو کافی دیر ہو گئی ) تو سلیم نے اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا ، جب معاذ (معاذ رضی اللہ عنہ) وہاں پہنچے توانہیں بتایا گیا کہ سلیم ( رضی اللہ عنہ ) اکیلے نماز پڑھ کر جا چکے ہیں ، تو معاذ (معاذ رضی اللہ عنہ) نے اس بات کی خبر رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو کی ، تو رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے سلیم کو بلوایا تا کہ ان سے دریافت فرمائیں ، تو سلیم ( رضی اللہ عنہ ) نے کہا میں سارا دن کام کرتا ہوں حتی کہ شام تک مجھ پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے ، تو اس کے بعد (معاذ رضی اللہ عنہ) ہمارے پاس آتا ہے ، اور (اس دن ) معاذ (معاذ رضی اللہ عنہ) نے ہمارے پاس آنے میں دیر کی اور مجھ پر بھاری ہوا تو میں نے اکیلے نماز پڑھ لی ، اور اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ گیا ، تو رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دریافت فرمایا ((((( تم نے جب نماز پڑھی تو کیا کیا ؟ ))))) سلیم ( رضی اللہ عنہ ) نے عرض کیا ، میں سورت الفاتحہ پڑھی اور سورت پڑھی اور بیٹھ گیا اور تشھد پڑھا اور جنت کا سوال کیا اور جہنم سے پناہ طلب کی اور میں نے نہیں جانتا کہ آپ کی بات اور معاذ کی بات ( یہاں تشہد میں ) کیا ہوتی ہے ، تو ((((( رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم مسکرائے )))))) اور ارشاد فرمایا ((((( کیا میں اور معاذ اس کے علاوہ بات کرتے ہیں کہ جنت میں داخل ہو جائیں اور جہنم سے پناہ طلب کرتے ہیں ))))) پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ((((( وہ لوگوں کو امتحان میں ڈالنے والا مت بنیں اور ان کی طرف ان کے سونے سے پہلے جا کر انہیں نماز پڑھایا کریں ))))) پھر سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا جلد ہی تم دیکھو معاذ رضی اللہ عنہ جب کل کو ہم دشمن سے ملیں گے کہ تُم کیا کرتے ہو یا میں اور تم کیسے ہوں گے پھر جہاد اُحد کے دن سلیم رضی اللہ عنہ اپنے تلوار سونتے ہوئے گذرے اور معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا ، آگے بڑھو معاذ ، لیکن معاذ رضی اللہ عنہ آگے نہیں بڑھے ، سلیم رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر جہاد کیا اور قتل کر دیے گئے ، اس کے بعد جب بھی معاذ رضی اللہ عنہ کے سامنے سلیم رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوتا تو وہ کہتے ، سلیم نے اللہ کی تصدیق فرمائی اور معاذ نے جھٹلا دیا ، میں (امام الھیثمی ) کہتا ہوں کہ صحیح (ابن حبان یا صحیح ابن خزیمہ ) میں جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ اور حدیث ہے ، اور یہ حدیث (امام ) البزار نے اپنی مسند میں روایت کی اور اس کے تمام روای صحیح والے ہیں سوائے معاذ بن عبداللہ بن حبیب کے اور وہ بھی معتمد (یعنی جس پر اعتماد کیا جاتا ہے ) ہیں ان کے بارے میں کمزوری یا عیب والی کوئی بات نہیں """"" لیجیے جناب اس مکمل روایت میں آپ کو """" اس کسی """ کا نام بھی مل گیا ، اور اس کے آخر میں امام الھیثمی رحمہ اللہ کی طرف سے اس مکمل واقعہ والی روایت کی صحت کا حکم بھی مل گیا ، اور اس کے علاوہ آپ کے دیگر اعتراضات کا جواب بھی ہے ، لیکن ان کا ذکر میں ان شاء اللہ الگ کروں گا ، تا کہ ایک ہی روایت کو دیکھ اور میرے دیے ہوئے حوالہ جات کو دیکھے بغیر آپ نے جو کہانی بنائی وہ ان شاء اللہ وہ سب پر واضح ہو جائے ، اور دیگر روایات کے الفاظ مثلا """ بھائی کے بیٹے """ کے بارے میں جو اعتراض آپ نے کیے ان شاء اللہ اس کا جواب بھی اگلے مراسلات میں ہو گا ، آپ نے اپنے تصویری مراسلہ رقم ۸ میں میرے لکھے ہوئے حدیث کے واقعہ اور عبداللہ حیدر کی طرف سے پیش کردہ آپ کے ہی کسی عالِم کے ترجمہ میں """ پڑھتے """ اور """ دعا کرتے """ کو سرکلائز کر کے گویا یہ تاثر دیا ہے کہ بات مخلتف ہے ، جناب اس منقولہ بالا روایت اور اس واقعہ کی تمام روایات میں """ اندندن """ اور """ ندندن """ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کیا ہے ، ذرا اس کا ترجمہ تو بتایے ؟ اور ، اب آپ اپنے مندرجہ ذیل الفاظ پر غور فرمایے کہ ::: """""" اس کسی کا کوئی نام تو ہوگا """""" اور دیکھیے کہ کون احادیث کا مذاق اڑا رہا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ آپ نے میرے نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے الفاظ مبارک پر اعتراض وارد کیا ہے ، ان شاء اللہ اگلے جوابات میں اس کی وضاحت بھی ہو گی ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (26-07-09), عبداللہ حیدر (26-07-09) |
|
|
#27 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کنعان بھائی آپ کے منقولہ بالا سوالیہ اعتراضات میں سے کچھ کا جواب تو اس مکمل واقعہ والی روایت میں ہے جو میں سابقہ مراسہ میں ارسال کر چکا ہوں ، اور باقی کے جوابات ان شاء اللہ مندرجہ ذیل روایات میں ملیں گے ، اور ان میں سب سے پہلے اوپر کوٹ کیے گئے سوال کی طرف آتا ہوں ، اس کا ایک جواب تو میں دے چکا ہوں جہاں مجمع الزوائد میں سے مسند البزار کی روایت میں اُس صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کیا ہے ، اور اب آپ کے اس سوال میں پوشیدہ طنزیہ اعتراض کی طرف آتاہوں کہ میں نے اپنے بنیادی مراسلے میں جو ترجمہ لکھا ،جس پر آپ نے کہانی بنائی ، وہ بالکل اسی ظرح ہے جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے ، پس آپ کا یہ اعتراض عادل سہیل پر نہیں ہوتا بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم پر ہوتا ہے ، اسے کہتے ہیں """" احادیث کا مذاق اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر طنز """" سنن ابو داود کی روایت ::::: کی بات پہلے کرتے ہیں کیونکہ اسی کو بنیاد بنا کر آپ نے وہ تصویری خاکہ تیار فرما کر اپنے قارئین کو غلط تاثر دینے کی بھر پور کوشش کی ہے ، عبداللہ نے جو ترجمہ پیش کیا وہ آپ ہی کے کسی عالم کا ہے ، اب آپ سنن ابو داود کے اصل متن کو دیکھیے ، بلکہ بقول آپ کے """ اگر آپ سرخ رنگ میں لکھا ہوا پڑھ سکتے ہیں """ تو غور سے پڑہیے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (1) حدثنا عُثمَانُ بن أبي شَيبَةَ ثنا حُسَينُ بن عَلِيٍّ عن زَائِدَةَ عن سُلَيمَانَ عن أبي صَالِحٍ عن بَعضِ أَصحَابِ النبي صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قال قال النبي صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم لِرَجُلٍ ((((( كَيفَ تَقُولُ في الصَّلَاةِ ))))) قال أَتَشَهَّدُ وَأَقُولُ اللهم إني أَسأَلُكَ الجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ من النَّارِ أَمَا إني لَا أُحسِنُ دَندَنَتَكَ ولا دَندَنَةَ مُعَاذٍ فقال النبي صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ((((( حَولَهَا نُدَندِنُ ))))) ترجمہ ::::: ہمیں عثمان بن ابی شییہ نے بتایا ،ہمیںحسین بن علی نے زائدہ کے ذریعے اور انہوں نے سلیمان کے ذریعے اور انہوں نے ابی صالح کے ذریعے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعے ، کہ ، نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےکسی آدمی سے فرمایا ((((( تُم نماز میں کیا کہتے ہو ))))) تو اس نے کہا ، میں تشھد کرتا ہوں اور کہتا ہوں اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہطلب کرتا ہوں ، میں نہیں جانتا کہ آپ کا ( تشھد میں ) دھیمے دھیمے بات کرنا اور معاذ کا دھیمے دھیمے بات کرنا کیا ہے ، تو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( اسی ( تمہاری بات ) کے ارد گرد ہم بھی ( دھیمے دھیمے ) بات کرتے ہیں )))))) یاد رہے کنعان بھائی ، تشھد کے بعد دُعا کی جاتی ہے ، اور دُعا اللہ کی عبادت ہے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ نے خود اصل کتاب دیکھی ہوتی تو آپ کو دونوں روایات نظر آ پاتیں ، (2) حدثنا يحيى بن حَبِيبٍ ثنا خَالِدُ بن الحرث ثنا محمد بن عَجلَانَ عن عُبَيدِ اللَّهِ بن مِقسَمٍ عن جَابِرٍ ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ قال و قال يَعنِي النبي صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم لِلفَتَى ((((( كَيفَ تَصنَعُ يا بن أَخِي إذا صَلَّيتَ ))))) قال أَقرَأُ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ وَأَسأَلُ اللَّهَ الجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ من النَّارِ وأني لَا أَدرِي ما دَندَنَتُكَ ولا دَندَنَةُ مُعَاذٍ فقال رسول اللَّهِ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ((((( إني وَمُعَاذًا حَولَ هَاتَينِ ))))) أو ((((( نحو هذا ))))) ترجمہ ::::: ہمیں یحی بن حبیب نے بتایا ، ہمیں خالد بن الحرث نے بتایا ، ہمیں محمد بن عجلان نے عبید اللہ بن مقسم کے ذریعے سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے معاذ رضی اللہ عنہ کا قصہ بتایا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے (کسی ) نوجوان سے دریافت فرمایا ((((( اے میرے بھائی کے بیٹے جب تُم نماز پڑھتے ہو تو کیا کرتے ہو ))))) اس نے کہا ، میں فاتحہ الکتاب پڑھتا ہوں اور اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ آپ کی اور معاذ ( رضی اللہ عنہُ ) کی بات کیا ہوتی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( میں اور معاذ انہی دو کے ارد گرد (بات کرتے ہیں ))))) یا ((((( اسی طرح کی بات کرتے ہیں ))))) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں روایات ، سنن ابو داود ، کتاب الصلاۃ ، باب ۱۲۸ ، باب فی تخفیف الصلاۃ میں آگے پیچھے ہیں ، اور صحیح ابو داود وہ کتاب ہے جس میں سنن ابو داود کی صحیح روایات ہیں ، اور ضعیف ابو داود وہ کتاب ہے جس میں سنن ابو داود کی ضعیف روایات ہیں ، اور ماشاء اللہ آپ یہ بھی نہیں جانتے اسی لیے اپنے تصویری مراسلے میں میری طرف سے لکھے ہوئے """ صحیح ابو داود """ اور عبداللہ حیدر والے ترجمہ میں """ سنن ابو داود """ کو بھی سرکلائز کر اسے ایک غلطی کے طور پر دکھایا ہے ، جب کہ یہ غلطی آپ کی ہے ، کہ آپ نے بلا جانے اس قسم کے اعتراضات کیے ، اور جانتے ہوئے کیے تو وہ انجانے میں کیے ہوئے سے کہیں زیادہ برے ہیں ، کسی نے کیا خوب کہا ہے ::: ان کُنتَ لا تدری فتِلکَ المُصیبۃ ::: و اِن کُنتَ تدری فالمُصیبۃُ أعظم آپ کے اعتراضیہ اور طنزیہ سوال """" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا ؟ اس کسی کا کوئی نام تو ہوگا """ کا جواب منقولہ بالا دو روایات میں ہے ، کہ :::: قال النبي صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم لِرَجُلٍ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے (کسی یا ایک ) شخص سے فرمایا ، اور ، و قال يَعنِي النبي صلی اللہ صلی علیہ و علی آلہ وسلم لِلفَتَى ::: اور فرمایا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے (اُس ) نوجوان سے ، اور اِس کے علاوہ ، میرے دیے ہوئے حوالہ جات میں سے صحیح ابن خزیمہ کی روایت ملاحظہ فرمایے اس میں بھی وہی الفاظ ہیں ::: اور صحیح ابن خزیمہ کی روایت ہے ، عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم لَرَّجُل ((((( ما تقول في الصلاة ))))) قال ، أتشهد ثم أقول اللَّهُم إنّي أسألُك الجَنَّة وأعُوذُ بِكَ مِن النَّارِ أما والله ما أحسن دندنتك ولا دندنة معاذ فقال النبي صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ((((( حولهما ندندن ))))) قال أبو بكر الدندنة الكلام الذي لايفهم اس راویت میں بھی وہی الفاظ ہیں کہ ::: قال رسول الله صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم لَرَّجُل ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ّ کسی یا ایک ) آدمی سے فرمایا ، اور اس روایت کے آخر میں لکھا ہے ::: قال أبو بكر الدندنة الكلام الذي لايفهم ::: ابو بکر (یعنی امام ابن خزیمہ اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ میں ) کہتا ہوں کہ """ الدندنہ """" اُس کلام کو کہتے ہیں جو ( پست آوازی کی وجہ سے ) سمجھا نہ جا سکے ، اسی صحیح ابن خزیمہ کی کتاب میں نے پچھلے ایک مراسلہ میں آپ سے """ أدندن اور ندندن """ کے معنی کے بارے میں سوال کیا تھا کیونکہ آپ نے اس کے معنیٰ پر بھی اعتراضیہ دائرے لگائے ہیں ، تو اب آپ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے بیان کردہ اس معنی کو پڑھیے ، اس واقعہ کی تمام روایات کو پڑھیے اور دیگر اعتراضا ت کی ہی لا علمی پر مبنی اپنے اِس اعتراض پر بھی غور فرمایے ، ان مذکورہ بالا روایات میں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے گفتگو فرمائی ، آپ اپنا طنزیہ اعتراض صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے کیجے گا اور ان سے پوچھیے گا کہ """""" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا ؟ اس کسی کا کوئی نام تو ہوگا """""" تو آپ صاحبان نے حدیث بیان کرتے ہوئے اس کا نام کیوں نہیں بتایا ؟ یاد کرواتا چلوں کہ اس صحابی رضی اللہ عنہ کا نام سلیم تھا ، جیسا کہ مسند البزار بحوالہ مجمع الزوائد کی روایت میں مذکور ہے ، اور یہ روایت میں ذکر کر چکا ہوں ، پس آپ کا یہ لا علمی پر مبنی سوال آپ کی شخصیت اور سوچ کا آئینہ ہے، و اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (27-07-09) |
|
|
#28 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
انسان کو اس کی ضد اور تعصب کہاں تک پہنچاتا ہے ، قارئین محترم دیکھتے چلیے ، کنعان بھائی ، """ بھائی کا بیٹا """ سنن ابو داود کی منقولہ بالا روایات میں سے دوسری روایت میں ہے ، اور صحیح ابن خزیمہ کی روایت جو """"كتاب الإمامة في الصلاة وما فيها من السنن ، باب ۱۲۹ """" میں ہے اور تقریبا سارا واقعہ اس میں بھی ہے ، اس روایت میں بھی یہ الفاظ ہیں ، کنعان بھائی ، یہ رسول اللہ صلی علیہ وعلی آلہ وسلم کے الفاظ مبارک ہیں ، آپ کا یہ پوچھنا کہ """" کونسا بھائی کا بیٹا تھا بھائی کا نام اور بیٹے کا نام کوئی نہیں تھا """ میرے الفاظ پر اعتراض نہیں ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے الفاظ پر ہے کہ معاذ اللہ بھائی اور بیٹے کا نام بتائے بغیر انہوں نے ایسا کیوں فرمایا ، میں تو اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ جو قول اور فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ثابت ہوا ، وہ حق ہے ، اور اس پر اس طرح اعتراضات ان کا انکار ہے ، غور فرمایے ، کنعان بھائی ، بلکہ ہر ایک قاری غور فرمائے ، کون """" احادیث کا مذاق """ ہی نہیں کر رہا بلکہ اپنی کم علمی اور سوء فہم اور تعصب کی بنا پر بلا سوچے ایسے اعتراضات کر رہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات مبارک پر ہیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بات پر ہیں ، اب اپنی مسلمانی کے بارے میں غور فرمایے۔ و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (27-07-09) |
|
|
#29 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک دفعہ پھر مجمع الزوائد والی روایت اور سنن ابو داود والی پہلی روایت میں بہت وضاحت سے ہے کہ سلیم رضی اللہ عنہ جنت کے حصول اور جہنم سے پناہ کا سوال تشہد کے بعد کرتے تھے ، جب کسی مسئلے کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو اس سے متعلق ایک ہی روایت کے ترجمے کو واجبی سے نظر سے دیکھ نتائج اخذ نہیں کیے جاتے ، ایسی حرکات سے خوب اچھی طرح پتپ چل جاتا ہے کہ اللہ نےکس کو کتنا علم دے رکھا ہے ، اور کون کس لیے اعتراضات کرتا ہے، اللہ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (27-07-09) |
|
|
#30 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سیرت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور احادیث اور خاص طور پر فقہ کا ادنیٰ سا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ وہ معاذ رضی اللہ عنہُ کون تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرنے کے بعد اپنے قبیلہ کے پاس جا کر انہیں نماز پڑھاتے تھے ، کیونکہ اس کے ساتھ نماز کے کئی مسائل منسلک ہیں ، حیرت ہے آپ کو اتنا بھی پتہ نہیں ، یا ، یہ اعتراض بھی صرف غلط فہمیوں کی تولید کے لیے کیا گیا ؟ ویسے اگر آپ اپنے اس تصویری مراسلے میں بغیر جانے تجزیہ بگاری کرنے کی بجائے اس سے کم قوت میرے دیے ہوئے حوالہ جات کے مطالعے میں لگا لیتے تو آپ طنزیہ اعتراضات کرنے سے بچ جاتے ، اور آپ کو یہ بھی نظر آجاتا ہے کہ ، میرے دیے ہوئے سننن البیھقی الکُبریٰ والے حوالے کی ایک روایت میں """" مُعاذ ابن جبل """" (رضی اللہ عنہ ) کا پورا نام مذکور ہے ، لیکن ،،،،،،،،،،،،،،،، انسان کو اس کی ضد اور تعصب کہاں تک پہنچاتا ہے ، اللہ ہمیں ہر شر اور شریر سے محفوظ رکھے ۔ و السلام علیکم ۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (27-07-09), عبداللہ حیدر (27-07-09) |
![]() |
| Tags |
| color, فورم, کنعان, کتابوں, پوسٹ, ویب, قرآن, لوگ, نظر, معلوم, اللہ, احتجاج, اردو, بھائی, ترمیم, جواب, حال, حدیث, خلاف, سٹاف, عقل, صفحہ, صاف, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 10:06 AM |