| ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
سوال :
کیا خفیہ شادی کرنا جائز ہے ؟ میری سہیلی نے مسجد میں جاکر ایک گواہ کی موجودگی میں والدین کے علم کے بغیر شادی کرلی توکیا یہ شادی قائم ہے ؟ میں جواب چاہتی ہوں اللہ تعالی آپ کو برکت سے نوازے جواب: الحمدللہ شادی میں ولی اوردو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے کیونکہ حدیث شریف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) ۔ اورایک حديث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( جوعورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیرشادی کرے اس کا نکاح باطل ہے ) ۔ تو اس بنا پر ضروری ہے کہ اگر ولی اس پر راضی ہو تو دو عادل گواہوں کی موجودگی میں نکاح کی تجدید کی جائے ۔ واللہ اعلم . شیخ محمد صالح المنجد |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیر
خفیہ شادی وہی ہوتی ہے جو عورت یا لڑکی اپنے گھر والوں کی اجازت کے بغیر کرتی ہے اور اَس پر اللہ کی طرف سے بھی ممانعت وارد ہے ، میں نے میاں بیوی کے حقوق کے بارے میں چند مضامین ارسال کیے تھے اُن میں اُس آیت کا ذَکر بھی کیا تھا ، اُن مضامین کا مطالعہ انشا اللہ مزید فائدہ مند ہو سکتا ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی لڑکی (03-10-09), عروج (22-10-10) |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم ولی کی بھی تعریف فرما دیں ۔ ولی کیا ہوتا ہے اور اس معاملہ میں حضرت عائشہ (رضی) کا عمل کیا تھا؟
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (22-10-10) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
محتاط اور صحیح موقف یہ ہے کہ نکاح کے لیے لڑکی اور ولی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ لڑکی راضی نہ ہو تو وہ نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔ اسی طرح ولی کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
آج کل حقوق نسواں کے نام پر لڑکی کے ازخود نکاح کر لینے کو جائز قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ حدیث میں واضح الفاظ ہیں کہ لا نکاح الا بولی "ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں" قرآن کریم کے الفاظ سے بھی یہی حکم مستنبط ہوتا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں جہاں مشرکوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا وہاں مردوں سے کہا گیا "تم نکاح نہ کرو مشرکوں سے" اور عورتوں کے بارے میں فرمایا "تم اپنی عورتوں کا نکاح مشرکین سے نہ کر کے دو"۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کا نکاح کرنے کی ذمے داری مردوں پر ڈالی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ حق والدین کا ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا: ان اشکر لی و لوالدیک (لقمان) "یہ کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر گزار رہ" اور فرمایا: و قضٰی ربک ۔ ۔۔ و بالوالدین احسانا (الاسراء) "اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو" غور کرنے کی بات ہے کہ والدین کے ساتھ "عدل" کرنے کا حکم دیا جاتا تو اس کی بجاوری بھی بڑی بات تھی۔ عدل سے مراد یہ ہے کہ جتنا اچھا سلوک والدین نے اولاد سے کیا ہو ویسا ہی وہ ان سے کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سے بڑھ کر احسان کا حکم دیا یعنی والدین کے حسن سلوک سے بڑھ کر ان سے اچھا برتاؤ کرنا۔ خود سوچیے، اس سے بڑھ کر قطع رحمی اور کیا ہو گی کہ بیٹی اپنے والدین کو شادی کی اطلاع بھی نہ دے یا ان کی رائے کو کسی درجے میں بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ دوسری طرف یہ امر ملحوظ نظر رہے کہ والدین کی نگاہیں جو حقائق دیکھ رہی ہوتی ہیں وہ بسا اوقات لڑکی سے اوجھل ہوتے ہیں۔ عشق و محبت کے سبز باغ ایسی لڑکیوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دیتے ہیں کہ وہ آنے والے مصائب سے بے پراہ ہو جاتی ہیں اور بعد میں ساری زندگی پچھتاتے میں گزرتی ہے۔ نقلی دلائل سے ہٹ کر ماں باپ کے جذبات کو دیکھیے، جو ایک بچی کو نازونعم سے پالتے ہیں، اس کے لاڈ پورے کرتے ہیں، اپنی استطاعت کے مطابق بہترین کھانا، بہترین رہائش اور بہترین لباس تعلیم فراہم کرتے ہیں اور ایک دن ان کی آنکھوں کی یہ ٹھنڈک کسی آشنا کے ساتھ فرار ہو کر "آزادی نسواں" کا نعرہ بلند کر دیتی ہے۔ کیا حقوق صرف گھر سے بھاگنے والی لڑکی ہی کے لیے رہ گئے ہیں؟ اس باپ کا کوئی حق نہیں جس نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے برسہا برس اس کی پرورش کی؟ اس کی ماں کو پہنچنے والی تکلیف سے کیا عورتوں کا کوئی حق متاثر نہیں ہوتا؟ بہنیں تو بھائیوں کو بڑی پیاری ہوتی ہیں، اس کے بھائیوں کے کرب اور دکھ کا حساب بھی کسی کے ذمے ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے صرف نظر کرکے انسان تکلیفوں اور دوسروں پر زیادتی کے سوا کچھ نہیں کما سکتا۔ و ان کثیرا من الخلطاء لیبغی بعضھم علیٰ بعض الا الذین امنوا و عملوا الصلحت و قلیل ما ھم (ص) Last edited by عبداللہ حیدر; 28-12-07 at 09:42 PM. |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (22-10-10) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمیں علمی موضوعات پر صرف مذہب ہی کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ جذبات کو اور معاشرتی رویوں کو۔۔
میرے سوال میں حضرت عائشہ (رضی) کے عمل کے متعلق بھی پوچھا گیا تھا جس کی تفصیل وصول نہیں ہوئی ہے۔ برائے مہربانی اس معاملے میں تمام مکتبہ فکر کا نقطہ نظر پیش کیا جائے۔۔ والسلام Last edited by عبداللہ حیدر; 28-12-07 at 12:02 AM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | عرفان حیدر (28-12-07), عروج (22-10-10) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
آپ کے سوالات چونکہ عادل بھائی سے تھے اس لیے میں نے ان میں دخل نہیں دیا۔ مجھے امید ہے کہ جلد ہی وہ حوالہ جات کے ساتھ تفصیل فراہم کر دیں گے ان شاء اللہ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | عرفان حیدر (28-12-07), عروج (22-10-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
اللہ آپ سب کو جزائے خیر دے ، اور دِین کو سمجھنے کا شوق و لگن مزید چمکائے ، منتظمین بھائی ، میں آپ کے سوال کے سوال کو سمجھ نہیں پایا ، ذرا وضاحت فرما دینجیئے ، انشا اللہ اطیمنان بخش جواب دینے کو کوشش کروں گا ، لیکن شاید دو وہفتے بعد۔ اسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (22-10-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین،
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِن کے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ، السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، آپ صاحبان کی گفتگو میں نکاح کے بارے میں کچھ سوالات کیے گئے ہیں ، اُن کے جوابات ملاحظہ فرمائیے ، تاخیر کے لیے معذرت خواہ ہوں ، پہلے تو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لی جانی چاہیئے کہ ولی کی اجازت اور مرضی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ، قسیم بھائی نے اپنے جواب میں ایک حدیث اور شیخ محمد صالح المنجد کے فتوے میں دو احادیث ذِکر کئی تِھیں ، میں اِس معاملے کو ذرا تفصیل سے بیان کرتا ہوں ، اِنشاء اللہ آپ صاحبان کے سوالات کے جوابات اِس میں آ جائیں گے ، ::::: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ::::: ::::: دلیل (١) :::: اللہ تعالیٰ کا حُکم ہے ( فَانکِحُوہُنَّ بِاَِذنِ اَھلِہِنَّ وَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ بِالمَعرُوف)( اور عورتوں سے اُن کے گھر والوں کی اجازت سے نکاح کرو اور اُن عورتوں کو اُن کی قیمت معروف طریقے پر ادا کرو) سورت النساء /آیت ٢٧، ::::: دلیل (٢) ::::: ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لَا نِکاحٌ اِلَّا بِوَلِيٍّ )( ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) حدیث صحیح ہے اور مستدرک الحاکم ، صحیح ابن حبان ، سنن ابی داؤو، سنن ابن ماجہ ، سنن الترمذی ، سنن البہیقی الکُبریٰ ، سنن الدارقُطنی اور حدیث کی دیگر کتابوں میں روایت کی گئی ہے ، ::::: دلیل(٣) ::::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اِیُّمَا امرَاَۃٍ لم یُنکِحہَا الوَلِیُّ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ ، فَاِن اَصَابَہَا فَلَہَا مَہرُہَا بِمَا اَصَابَ منہا فَاِن اشتَجَرُوا فَالسُّلطَانُ وَلِیُّ من لَا وَلِیَّ لہُ)( جِس عورت کا نکاح اُس کے ولی نے نہیں کیا اُس کا (ایسا) نکاح باطل ہے ، اُس کا (ایسا) نکاح باطل ہے ،اُس کا (ایسا) نکاح باطل ہے ،اگر مرد نے اُس عورت کے ساتھ ہم بستری کر لی تو عورت کو اُس کا مہر دِیا جائے گا اور اگر(اِس سے پہلے ہی) اُن لوگوں(یعنی ولیوں اور نکاح کرنے والوں ) میں (اِس نکاح کے بارے میں )اِختلاف ہو جائے تو جِس کا کوئی ولی نہیں اُس کا ولی حاکمِ وقت ہے) سنن ابن ماجہ /حدیث١٨٧٩ /کتاب النکاح /باب١٥ ،(اِس حدیث میں کئی دیگر احکام بھی ہیں لیکن ہم اپنے موضوع تک محدود رہتے ہوئے آگے چلتے ہیں) سنن ابو داؤد کی روایت کے الفاظ ہیں (اِیُّمَا امرَاَۃٍ نَکَحَت بِغَیرِ اِذنِ مَوَالِیہَافَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ، ثلاث مَرّاتٍ،،،،،)( جِس عورت نے بھی اپنے ولیوں کی اجازت کے بغیر خُود ہی اپنا نکاح کر لیا تو اُس کا نکاح باطل ہے ،تین مرتبہ فرمایا ،،،،،) حدیث ٢٠٨٣/کتاب النکاح /باب ٢٠، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرامین بہت وضاحت اور صراحت سے یہ حُکم بتاتے ہیں کہ بغیر ولی کی اجازت کے نکاح نہیں ہوتا ، کِسی مرد کو اجازت نہیں کہ وہ کِسی عورت یا لڑکی کے ولیوں کی اجازت کے بغیر اُس کے ساتھ نکاح کر لے ، اور اگرکوئی عورت یا لڑکی اگر اپنی مرضی سے نکاح کرے تو وہ نکاح باطل ہے ، یہاں ایک بات اچھی طرح سے سمجھنے کی ہے ، جِس میں بھائی منتظمین اور بھائی عِرفان حیدر کے سوال کا جواب ہے ، اور وہ یہ کہ ، ولی کی اجازت سے مُراد یہ نہیں کہ لڑکی یا عورت اپنی پسند یا مرضی سے اپنا رشتہ یا نکاح نہیں کر سکتی ، لڑکی یا عورت کو اِس بات کی مکمل اجازت ہے کہ وہ اپنی پسند کے مُطابق اپنے لیے شریک حیات اخِتیار کرے ، لیکن یہ اجازت نہیں کہ اپنا نکاح اپنے ولی کی اجازت کے بغیر کر لے ، خواہ اُس کے اختیار یا پسند کردہ مرد میں کوئی خامی یا عیب نہ ہو ، عورت بہر صورت اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کے مُطابق اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرے گی ، اگر کہیں کوئی ولی ظلم و زیادتی کر رہا ہے یا کِسی ذاتی مقصد یا خواہش کے لیے عورت کی پسند کو رد کرتا ہے تو عورت اپنا معاملہ قاضی یا حاکمِ وقت تک لے جا سکتی ہے ، لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم یہ جانیں کہ قاضی اور موجودہ عدالتوں کے ججز ، اِسلامی حاکمِ وقت اور موجودہ حاکموں میں آسمان و زمین کا فرق ہے ، ::::: ولی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ لڑکی یا عورت کی پسند کے خِلاف اُس کا نکاح کر دے ::::: ::::: دلیل (١) ::::: اللہ تعالیٰ کا فرمان (واِذا طَلَّقتُم النِّسَاء َ فَبَلَغنَ اَجَلَہُنَّ فلا تَعضُلُوہُنَّ اَن یَنکِحنَ اَزوَاجَہُنَّ )( اور اگر تُم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ طلاق شدہ عورتیں اپنی عدت پوری کر لیں اور پھر نکاح کرنا چاہیں تو اُن کو ظُلم کرتے ہوئے روکو نہیں ) سورت النساء /آیت ٤٢ ، یہ آیت کریمہ دیگر بہت سی آیات میں سے ایک ہے جِن میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو وہ معاشرتی عِزت و تحفظ فراہم کیا ہے جو مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے اِسلام کے عِلاوہ کِسی اور دِین میں نہ تھا اور نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے ، کیونکہ اور کوئی دِین آنے والا نہیں ، لیکن افسوس ، صد افسوس ، کہ اپنے دِین کا صحیح عِلم حاصل کیے بغیر ہم طرح طرح کے فلسفے اور آئیڈیوجیز پڑہنے اُن پر سر دُھننے اور اُن کو صحیح مان کر اُن کی نشر اشاعت پر خوب وقت و قوت خرچ کرتے ہیں اور اپنے ہی دِین کے خِلاف کرتے ہیں ، اور اِن ہی اِسلام دُشمن فلسفوں میں سے موجودہ دور کا وہ فلسفہ ہے جو ''' حقوقِ نسواں ''' ، ''' عورت کی آزادی ''' اور ''' مرد سے برابر ی ''' جیسے کچھ عنوانین میں نشر ہوتا ہے، اِس موضوع پر کچھ بات ''' حقوق الزوجین / خاوند کا رُتبہ و حیثیت ''' کے زیر عنوان مندرجہ ذیل رابطہ پر ارسال کر چکا ہوں ، http://forums.com.pk/showthread.php?t=8424 ::::: دلیل (٢) ::::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لَا تُنکَحُ الاَیِّمُ حتی تُستَامَرَ ، ولا تُنکَحُ البِکرُ َحَتَی تُستَاذَنََ)قالوا :::یا رَسُولَ اللَّہِ وَکَیفَ اِذنُہَا؟::: قال( اَن تَسکُتَ) ( کِسی اکیلی (بغیر خاوند والی) عورت کا نکاح نہیں کیا جائے جب تک اُس سے پوچھا نہ جائے، اور نہ ہی کِسی کنواری کا نکاح کیا جائے جب تک اُس سے اجازت نہ لی جائے ) صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا ::: اے اللہ کے رسول کنواری کیسے اجازت دے گی ؟ ::: تو فرمایا ( خاموش رہ کر ) صحیح البُخاری /کتاب النکاح /باب ٤٢، صحیح مُسلم /کتاب النکاح /باب ٩، اِیمان والوں کی والدہ محترمہ کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کِیا ::: اے اللہ کے رسول کنورای تو (ایسی بات سُن کر) شرمائے گی::: تو اُنہوں نے فرمایا ( رِضَاھَا صَمتُھَا ::: اُس کی خاموشی اُس کی رضا مندی ہے) صحیح البُخاری /کتاب النکاح /باب ٤٢ ، ::::: دلیل (٢) ::::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (الثَّیِّبُ اَحَقُّ بِنَفسِہَا من وَلِیِّہَا وَالبِکرُ تُستَامَرُ وَاِذنُہَا سُکُوتُہَا)( بغیر خاوند والی عورت (یعنی جو شادی شدہ رہ چکی ہو) اپنے ولی سے زیادہ اپنی ذات پر حق رکھتی ہے اور کنواری سے (بھی ) اجازت لی جائے گی اور اُس کی اجازت اُس کی خاموشی ہے) صحیح مُسلم /حدیث ١٤٢١/کتاب النکاح /باب٩، :::: اگر ولی لڑکی یا عورت کی رضامندی کے بغیر اُس کا نکاح کر دے تو عورت قاضی یا حاکمِ وقت کے ذریعے اپنا نکاح منسوخ کروا سکتی ہے ::: ::: دلیل (١) ::: خنساء بنت خِذام الانصاریہ رضی اللہ عنھا (جوپہلے شادی شدہ رہ چُکی تِھیں )کا نکاح اُن کے والد نے اُن کی رضا مندی کے بغیر کر دِیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر آئِیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا نکاح منسوخ کر دِیا ، صحیح البُخاری /کتاب النکاح /باب ٤٣ ، یہاں تک دو باتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں ۔ ::::: (١) عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرے گی اور اگر کرتی ہے تو وہ نکاح باطل ہے اور شرعاً اُس کی کوئی حیثیت نہیں ، ::::: (٢) ولی بھی عورت کی اجازت اور پسند کے بغیر اُس کا نکاح نہیں کرے گا ، اگر کر دیتا ہے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ قاضی یا حاکمِ وقت کے ذریعے اُس نکاح کو منسوخ کروا لے ، اب آتے ہیں منتظمین بھائی کے سوال کے پہلے حصے کی طرف کہ ::::: ولی کی تعریف کیا ہے ؟ ::::: اِس معاملے میں قُران و حدیث میں کوئی ایسی نص نہیں ملتی جِس کی بِناء پرنکاح کے ولی کی کوئی خاص تعریف یا معیار مُقرر کیا جا سکے ، عُلماء کے مُختلف اقوال ہیں ، اگر اُن کو یہاں نقل کیا جائے تو بات بہت لمبی ہو جائے گی اور شایدپڑہنے والوں کے لیے رواں موضوع کا تسلسل بالکل ختم ہو کر رہ جائے ، مختصراً یہ کہ سب سے بہترین بات جو میں نے پائی وہ علامہ نواب صدیق حسن خان قنوجی کی ''' الروضۃ الندیۃ شرح الدُرر البہیۃ /کتاب النکاح '''' (جلد ٢/صفحہ ٢٧، ٢٨، مطبوع مکتبۃ الکوثر ، الریاض ) میں ہے کہ ''''' ولی عورت کے ایسے قریبی ترین ،پھر قریبی رشتہ دار ہیں جو عورت کا نکاح خاندان سے باہر ، مُناسب اور برابری کی والی جگہ نہ ہونے کی صورت میں اپنی ذِلت و رسوائی محسوس کرتے ہوں (یعنی عورت اور خاندان کی دِینی ، معاشرتی و معاشی حیثیت و عِزت کا خیال کرتے ہوں) ، اور یہ احساس و پاسداریِ عِزت صرف باپ کی طرف کے رشتہ داروں تک محدود نہیں سمجھی جا سکتی بلکہ کبھی ماں کی طرف کے رشتہ داروں ، یا اگلی نسلوں کے رشتہ داروں (یعنی پوتے نواسے ، چچا کے بیٹے وغیرہ )میں یہ احساس زیادہ اچھے اور مضبوط طور پر پایا جاتا ہے ، لہذا یہ کہنا کہ نکاح کا ولی صرف باپ کی طرف سے رشتہ داروں میں سے ہو سکتا ہے ، یا یہ کہنا کہ صِرف وراثت میں حصہ دار رشتوں میں سے ہو سکتا ہے ، درست نہیں ، اور جو کوئی ایسا کہتا ہے تو اُس پر واجب ہے کہ وہ اِیسا کہنے کی کوئی دلیل لائے قُران و حدیث سے یا لُغت سے ''''' جی ہاں یہ بات ایک عام حُکم کی طرح معروف ہے کہ دِین کے کِسی بھی معاملے میں کِسی ایسے شخص کی کوئی بات قابل قُبُول نہیں ہوتی جِس کی عقل و عدالت میں کوئی نُقص پایا جاتا ہو ، اِنشاء اللہ ، ولی کی تعریف کیا ہے ؟ کے جواب میں اتنی بات کافی ہو گی ، اب آتے ہیں منتظمین بھائی کے سوال کے دوسرے حصے کی طرف کہ ::::: اِس معاملے میں عائشہ رضی اللہ عنھا کا عمل کیا تھا ؟ ::::: سب سے پہلے تو میں یہ گذارش کروں گا کہ رسول اللہ ، کِسی بھی نبی یا رسول ، کِسی بھی صحابی یا صحابیہ، کِسی بھی مر چکے نیک و عالِم مُسلمان کا ذِکر کرتے ہوئے اُن کے لیے حسبِ رُتبہ رحمت و برکت و سلامتی کی دُعا ، پوری طرح کیا کیجیئے ، لکھا کیجیئے ، کہ آپ کا لکھا ہوا کئی پڑہیں گے اوراِنشاء اللہ اُتنا ہی آپ کے اجر میں اضافہ ہو گا ، اور وہ دُعائیہ کلمات بالترتیب مندرجہ ذیل ہیں ، صلی اللہ علیہ وسلم، علیہ السلام ، رضی اللہ عنہُ ، رضی اللہ عنہا ، رضی اللہ عنہم ، رحمۃُ اللہ علیہ ، منتظمین بھائی ، آپ کے سوال میں استعمال شدہ اِلفاظ کا کوئی جواب اُس وقت نہیں دِیا جا سکتا جب تک آپ اپنے سوال کی مزید وضاحت نہیں کرتے ، کیونکہ میں نہیں سمجھ سکا کہ آپ نے اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کونسے عمل کے بارے میں دریافت فرمایا ہے ؟ آپ کے سوال میں سے کئی سوال نکالے جا سکتے ہیں مثلاً ، اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا اُن سے اجازت لے کر کیا گیا تھا ؟ یا یہ کہ اُنہوں نے اپنا نکاح خود کر لیا تھا ؟ یا وہ اِس نکاح پر راضی نہ تِھیں ؟ وغیرہ ، اگر آپ وضاحت فرما دیں تو اِنشاء اللہ جواب بھی آسانی اور وضاحت سے ارسال کر دوں گا، اخیراً یہ گذارش بھی کرتا چلوں کہ شریعتِ اسلامی میں وضع کیے گئے معاشرتی قوانین ، اللہ تعالیٰ اور اللہ کے حُکم و اجازت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، اِنسان کو اللہ کی طرف سے دیئے گئے جذبات کے مُثبت احساسات و نتائج کو بڑھاوا دینے اور اُجاگر کرنے کے لیے اور منفی احساسات و نتائج کو ختم کرنے کے لیے ہیں ، یہ نکاح و طلاق کے معاملات ، اور ولی و عورت کے حقوق کو ہی دیکھ لیجیے کہ اِن میں اُنہی جذبات کی مددگاری ہے جو معاشرے میں باہمی محبت ، عِزت ، عِفت ، حیا و غیرت کو تحفظ پہنچاتے ہیں اور بڑھاوا دیتے ہیں ، اور اُن جذبات کی تکمیل سے روکتے ہیں جو ایک دو یا چند لوگوں کی کوئی خواہش پوری کرنے کے لیے اجتماعی طور پر بڑی حدتک معاشرے میں سے باہمی محبت ، عِزت ، عِفت ، حیا و غیرت کو کم یا ختم کرنے والے ہوتے ہیں ، اب اگر ہم ''''' ہمیں علمی طور پر مذہب کو ہی مد نظر رکھنا چاہیئے نہ کہ جذبات کو اور معاشرتی رویوں کو ۔۔۔ ''''' کو اگر کچھ اِس طرح سے کہیں کہ ''''' ہمیں خاص طور پر دِینی معاملات میں صِرف قُران و سُنّت کے عِلم کے مد نظر ہی فیصلہ حاصل کرنا چاہیئے اور اُس عِلمی فیصلے کی مُطابق اپنے جذبات و معاشرتی رویوں کو ڈھالنا چاہیئے ''''' تو اِنشاء اللہ زیادہ مُفید اور جامع ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کے ظاہر و باطن کی اصلاح فرمائے ، اور دونوں زندگیوں میں خیر و عافیت اور اپنی رحمت والے معاملات فرمائے، آپ صاحبان کے اگلے سوالات کا منتظر رہوں گا ، السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ Last edited by عبداللہ حیدر; 16-01-08 at 01:23 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب بہت ہی اچھا اور تفصیل سے جواب دیا گیا ہے بات سمجھ میں آ گی ہے لیکن عبداللہ حیدر بھائی اور عادل سہیل بھائی آپ دونوں سے سوال ہے اگر عورت کی طرف سے کوئی ولی نا ہو مطلب عورت یا لڑکی دنیا میں اکیلی ہی ہو تو پھر اس کو کیا کرنا چاہے
اور اس کے علاوہ ایک سوال اور ہے اگر لڑکی لڑکا آپس میں شادی کرنا چاہے اور وہ دونوں راضی بھی ہو لیکن دونوں کی طرف سے کوئی ولی نا ہو تو پھر کیا صورت نکلتی ہے یا پھر لڑکی اور لڑکا ایسی جگہ ہو جہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی مسلمان نہ ہو جہاں کسی مسلمان قاضی یا گہواہوں کا ہونا ممکن نا ہو تو اس صورت میں لڑکی اور لڑکا کس طرح شادی کر سکتے ہیں
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
Last edited by عبداللہ حیدر; 02-07-08 at 01:31 AM. |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
بھائی مسٹر رائٹ آپ کے پہلے دو سوالات کا جواب ، ’’’ ولی کے بغیر نکاھ نہیں ہوتا ، دلیل (3) میں موجود ہے ، اور آپ کے آخری سوال کا جواب یہ کہ ایسا ہونا نامکمن ہے سوائے تخیلاتی کیفیت کے ، اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو دونوں یعنی لڑکا اور لڑکی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے نا محرم کی حیثیت میں دور رہیں گے اور صبر کریں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اُن کے لیے کوئی راستہ نہ کھول دے ، اس قسم کے سوالات کے بارے میں ایک صحابی کا واقعہ ہمارے لیے بڑا ہی نصحیت آموز ہے ، مسروق (تابعی ) رحمۃُ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ ’’’ میں ایک دفعہ اُبی ابن کعب (رضی اللہ عنہُ ) کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک نوجوان اُن سے ملا اور کہا ::: چچا جان اگر (کوئی معاملہ ) اس اس طرح ہو تو آپ کیا فتویٰ دیں گے ::: تو ابی ابن کعب رضی اللہ عنہُ نے فرمایا ::: اے میرے بھائی کے بیٹے کیا یہ معاملہ لبھی پیش آ چکا ہے ؟ ::: اُس نے کہا ::: نہیں ::: تو ابی ابن کعب رضی اللہ عنہُ نے فرمایا ::: تو پھر ہمیں ایسے معاملات میں بات کرنے سے معاف رکھو یہاں تک کہ وہ پیش آ جائیں :::: سنن الدارمی ، السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-09-09), پاکستانی لڑکی (03-10-09) |
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس طرح کے واقعات تو روزانہ ہی پیش آ رہے ہیں۔ کیا اپ اخبار اور نیوز نہیں سنتے ؟
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
اقتباس:
وسلام |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بھائی عرفان حیدر صاحب ، جہاں تک معاملہ خفت اُٹھانے کا تو میرے بھائی یہ اُس وقت ہی ہوگا جب ہم اپنے دِین کے اِن بنیادی احکام کا علم نہ رکھتے ہوں گے ، اور سنی سنائی باتوں اور فتویٰ جات پر عمل کرتے ہوں گے ، چلیے آپ کے کہنے پر یہ ہی سہی کہ اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آ جائے تو اَس کی تیاری ہونی چاہیئے ، تو بھائی میری سمجھ میں جو آتا ہے وہ میں لکھ چکا ہوں ، کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے نا محرم کی حیثیت میں دور ہی رہیں ، اور اپنا معاملہ قاضی کے پاس لے جائیں یا اگر قران و صحیح سنـت ہر عمل کرنے والا کوئی اسلامی حکمران ہو تو اُس کے پاس لے جائیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ’’’ فَالسُّلطَانُ وَلِیُّ من لَا وَلِیَّ لہُ ::: پس جس کا کوئی ولی نہیں حاکم (قاضی ) اُس کا ولی ہے ‘‘‘ اور اگر ایسا میسر نہ ہو تو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پابندی کریں اور صبر کریں ، اپنے لیے کوئی اور شریکَ حیات تلاش کریں ، اور اِس بات پر ایمان رکھیں کہ جو کچھ وہ اللہ کی رضا کے لیے چھوڑیں گے اللہ اُس سے کہیں زیادہ اچھا عطا فرمائے گا کیونکہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری دی ہے ’’’ من ترک شیئا للہ عوضہ اللہ خیرا منھا ::: جس نے اللہ کے لیے کوئی چیز چھوڑی دی اللہ اُسے اُس چیز سے زیادہ خیر والی چیز بدلے میں دیتا ہے ‘‘‘ مسند احمد ، صححہ الالبانی ، فی حجاب المراۃ المسلمۃ فی الصلاۃ ، والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ Last edited by عادل سہیل; 14-01-08 at 12:26 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل صاحب اپ نے فرمایا ہے کہ اپنا معاملہ قاضی کے پاس لے جائیں تو کیا اس طرح سے اپ "سول میرج" کا رستہ ہموار نہیں کر رہے ہیں؟
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فرض, واقعات, لڑکی, نیوز, چین, نظر, ممکن, ماں, مسجد, اللہ, انسان, انشا, اسلامی, بھائی, جواب, حدیث, خلاف, خبر, عورت, عبادت, عشق, صالح, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|