واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > ازدواجی زندگی



ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی


کامیاب ازدواجی زندگی کا راز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-01-10, 10:56 AM   #1
کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
Wahid Mahmood Wahid Mahmood آف لائن ہے 05-01-10, 10:56 AM

ایک کامیا ب از دواجی زندگی گزارنے کے لیے مر د اور عورت کے تعلقات کی درستگی اور ان کے روابط کی استواری ضروری ہے ۔ اور ان دو نوں کی اصلا ح سے ایک کا میا ب اور مثالی خاندان کی بنیا د پڑتی ہے اور ظاہر ہے کہ خاندانی نظاموں کی درستی ہی سے ایک کامیاب و متوا زن معا شرہ اور ایک صالح تمدن وجو د میں آتا ہے ۔ اس اعتبار سے جس معاشرے کے خاندانی نظامات بگڑ جائیں وہ ابتر و پر اگندہ ہو سکتاہے ۔ اسی بنا پر اسلام نے مر د اور عورت کے تعلقات کی درستی اور اصلا ح پر بہت زیادہ زور دیا ہے ۔ تا کہ مسلم معاشرہ ہر قسم کی افرا ط و تفریط اور ہر قسم کے نقائص سے پاک رہ کر فطرت کے اصولوں کے مطابق نشو و نما پا تا رہے ۔ چنانچہ اس موضوع پر حضرت شاہ ولی اللہ دہلو ی رحمتہ اللہ علیہ نے ” حقوق زوجیت “ کے عنوان سے جو کچھ تحریر کیا ہے اس کا خلا صہ پیش کیا جا تاہے ۔

میاں بیوی کے بندھن کی بنیاد

جان لو کہ میاں بیوی کا بندھن تمام خاندانی روابط میں سب سے بڑا، سب سے زیادہ نفع بخش اور سب سے زیادہ ضرورت کی چیز ہے ۔ کیوں کہ تمام لو گوں میں خوا ہ وہ عرب کے ہوں یا عجم کے سب میں یہی دستور ہے کہ تمدنی معاملات میں انہیں ہمیشہ عورت کی رفاقت و استعانت کی ضرورت لاحق رہتی ہے ، جو مر د کے لیے کھانے پینے اور لبا س کی تیا ری میں مدد کر سکے۔ اس کے مال اور بچوں کی حفاظت کر سکے اور شوہر کی غیر حاضر ی میں ا س کی نا ئب بن کر اس کے حقوق کی نگہداشت کر سکے ۔ اسی وجہ سے مذاہب و شرا ئع کی اکثر توجہ اس معاشرتی بندھن کو جہاں تک ممکن ہو سکے باقی رکھنے اور اس کے مقاصد کی وضاحت کرنے کی طر ف مبذول رہی ہے ۔ اس بندھن کے مقاصد کو پورا کرنا طر فین کی باہمی محبت اور الفت کے بغیر ممکن نہیں اور یہ باہمی محبت اور الفت چند امور میں مقید ہے : جیسے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ، ایک دوسرے کے ساتھ معا فی و درگزر کا رویہ ، ایسی با توں سے اجتنا ب جو دلوں میں کدورت و عداوت پیدا کرنے کا باعث ہوں ، اور ہنسی مذاق اور خوش مز اجی وغیرہ ۔ لہذا حکمت اس کی مقتضٰی ہے کہ ان با توں میں ترغیب دی جا ئے اور ان کے فوائد کے حصول پر ( میاں بیوی کو ) ابھا را جائے( تاکہ وہ ازدواجی اعتبار سے ایک کا میا ب زندگی گزار سکیں )۔

مسرت بخش زندگی کا ایک گُر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” عورتوں سے اچھا بر تا ﺅ کر و، کیوںکہ وہ پسلی کی ہڈی سے پیدا کی گئی ہیں ( جو ٹےڑھی ہو تی ہے) لہذا اگر تم اسے سیدھی کرنا چا ہو گے تو اسے توڑ دو گے ، اور اگر اسی طر ح چھوڑ دو گے تو ٹےڑھی ہی رہے گی ۔ “ شاہ صاحب تحریر کرتے ہیں : میں کہتا ہوں اس کے معنی یہ ہیں کہ میری نصیحت قبول کر و اور عورتوں کے بار ے میں اس پر عمل کر و۔ عورتوں کی فطرت میں کچھ ٹےڑھا پن اور کچھ خامی مو جو د ہے جو ایک لا زمی شے کی طر ح عورتوں کی فطرت میں برا بر جا ری رہتی ہے ۔ اس لیے جب کوئی شخص اپنے گھریلو مقاصد کی تکمیل کرنا چاہے تو اس کے لیے ضرور ی ہے۔ کہ بعض معمولی با توں سے تجا وز کر ے اور اپنی خوا ہش کے خلا ف پائی جا نے والی چیزوں پر اپنے غصے کو روکے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ”کوئی مو من مر د کسی مو من عورت سے عدا وت نہ رکھے ۔ اگر وہ اس کی کسی ایک عا دت کو نا پسند کر ے گا تو وہ اس کی کسی دوسری عادت سے راضی رہے گا ۔

عورتوں کے ساتھ حسن سلوک

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لو گ عورتوں کے بار ے میں اللہ سے ڈرو ۔ کیوں کہ تم نے انہیں اللہ کی اما نت میں لیا ہے۔ اور ان کی شر م گاہوں کو اللہ کے کلمے ( نکا ح کے دو بول ) کے ذریعے حلال کر لیا ہے ۔ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہا رے بستروں پر ان لو گوں کو نہ بٹھا ئیں جن کو تم نا پسند کرتے ہو ۔ ( مطلب یہ کہ وہ ناپسندیدہ مر د وں سے نہ ملیں ) اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں ہلکی سی مار مارو ۔ اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کے کھا نے اور کپڑے کی خبر گیری اچھے طریقے سے کر و۔ “

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” اور تم عورتوں کے ساتھ بہتر زندگی گزارو۔“
اس اصول کی تشریح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خورا ک ، پو شاک اور حسن ِ معاملہ کے ذریعے کی ہے ۔ چنانچہ وہ شریعتیں جن کا دارومدار وحی الٰہی پر ہے ، ان میں خورا ک اور اس کی مقدار کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے ۔ کیوں کہ مختلف ممالک کے باشندے کسی ایک چیز اور ایک مقدار پر متفق نہیں ہو سکتے ۔ اسی وجہ سے اس حکم کو مطلق رکھا گیا ہے۔ (حجتہ اللہ البالغہ : 136-135/2 ، مطبوعہ مصر )

زندگی جنت بھی جہنم بھی
یہ بیا ن مختصر ہونے کے با وجود نہا یت درجہ حکیمانہ ہے ، جس میں روح ِ شریعت کے ساتھ ساتھ ایک کا میاب زندگی گزارنے کا فلسفہ بھی دل نشین انداز میں سمجھا یا گیا ہے ۔ لہذا جو شخص ایک مسرت بخش زندگی گزارنے کا طالب ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مصنو عی او ر بنا وٹی طور طریقوں سے کلی طور پر اجتنا ب کرتے ہوئے زندگی کی اصل حقیقت سمجھنے اور پھر اس کے تقاضوں کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے کی کو شش کرے ۔ محض وقتی و عارضی فوا ئد اور دو روزہ عیش یا مو ج و مستی کے لیے اپنی ابدی مسرتوں اور حیا ت جاودانی کو قربان نہ کرے ورنہ وہ دینی و دنیا وی دونوں جہانوں کی سعا دتوں سے محروم رہے گا ۔ کیوں کہ ایک مصنوعی زندگی گزارنے کے چکر میں پڑ کر لو گ نہ صر ف اپنی زندگی کو دنیا ہی میں جہنم کا نمونہ بنا لیتے اور حقیقی خو شیوں سے محروم رہ جا تے ہیں بلکہ وہ اپنی آخرت بھی خرا ب کر لیتے ہیں ۔ یعنی نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے ۔

میاں بیوی کے حقو ق و فرائض
دنیا میں ایسی بہت سی قومیں پا ئی گئی ہیں ۔ جن میں عورت کا درجہ نہایت حقیر مانا گیا ہے ۔او ر اسے مر د کی ایک کنیز یا دا سی قرار دیتے ہوئے اس کے حقوق کو پوری طر ح نظرانداز کیا گیا ہے ۔ اس کے بر عکس چو دہ سو سال پہلے اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے تھے اور مرد و عورت کے درمیان صحیح حدود قائم کر تے ہوئے ان دونوں پر جو فرائض عائد کیے تھے وہ حد درجہ معتدل اور منصفانہ ہیں ۔ چنانچہ ایک مثالی معاشرے کی تعمیر کے لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنے اپنے فرائض وواجبات خوشدلی اور ایمانداری کے ساتھ ادا کرنے ضروری ہیں،و رنہ معا شرہ پنپ نہیں سکتا ۔

معاشرے کے استحکا م کی بنیاد
بہر حال ایک معا شرہ یا سماج کا استحکام خاندانی نظاموں کی مضبوطی کی بدولت ہوتاہے ۔ اور خاندانی نظاموں کی مضبوطی میاں بیوی کے تعلقات پر مبنی ہو تی ہے۔ اگر ان دونوں کے تعلقات درست ہوں تو پھر خاندان بھی مضبوط و مستحکم رہتا ہے ۔ ورنہ تا ش کے پتوں کیطر ح بکھر جاتاہے ۔ لہذا میاں بیوی کے تعلقات کی استواری ہر حا ل میں ضروری ہے ۔ یعنی دونوں محبت و الفت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے حقوق و فرائض پو ری ایمان داری اور خوش دلی کے ساتھ ادا کر تے رہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے خیرخواہ ہوں اور صحیح معنی میں ایک دوسرے کے جیون ساتھی بن کرزندگی کی کشتی کو کھینچنے کی سعی کریں ۔

 
Wahid Mahmood's Avatar
Wahid Mahmood
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 642 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 458
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے Wahid Mahmood کا شکریہ ادا کیا
J.S (06-01-10), mama_shalla (05-09-11), Real_Light (06-01-10), sahj (06-01-10), shafresha (06-01-10), یاسر عمران مرزا (06-01-10), منتظمین (06-01-10), راجہ اکرام (06-01-10), سحر (06-01-10), عبداللہ حیدر (06-01-10)
پرانا 06-01-10, 02:25 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,655
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (06-01-10), shafresha (06-01-10), Wahid Mahmood (06-01-10)
پرانا 06-01-10, 01:39 PM   #3
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,404
شکریہ: 9,614
4,227 مراسلہ میں 12,051 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عمدہ تحریر ہے جناب
بہت شکریہ
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
Wahid Mahmood (06-01-10)
جواب

Tags
color, کلی, کلمے, پاک, پسند, ممکن, محبت, معاشرہ, اللہ, اسلام, بچوں, تحریر, حال, حسن, خوش, خبر, دستور, روزہ, زندگی, سال, شخص, عورت, غصے, صالح, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger