| ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
تقريبا ايك برس سے ميرى ايك نوجوان كے ساتھ منگنى ہو چكى ہے اور اب ہمارا عقد نكاح ہو چكا ہے، ليكن عقد نكاح سے قبل وہ ميرا ہاتھ پكڑتا اور ميرا بوسہ ليا كرتا تھا، اور مجھے علم تھا كہ ايسا كرنا شرعا حرام ہے، تو كيا ہمارے نكاح كے بعد اللہ تعالى نے ہميں معاف كر ديا ہے، يا كہ گناہ ابھى تك ہم پر ہے، اور اس سے استغفار كرنا اور اس كا كفارہ ادا كرنا واجب ہے ؟
جواب: الحمد للہ : الخطوبۃ ( منگنى ) كا لفظ بہت سے لوگوں كے ہاں عقد نكاح كے بعد اور رخصتى سے قبل پر بولا جاتا ہے، اگر تو سوال سے يہى مراد ہے تو پھر آپ كے مابين جو كچھ ہوا اس ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ عقد نكاح مكمل ہوتے ہى عورت مرد كى زوجيت ميں آجاتى ہى، تو اس طرح ہر ايك دوسرے سے نفع اٹھا سكتا ہے. اور اگر خطبہ يعنى منگنى سے مراد صرف شادى كا وعدہ اور شادى كرنے پر اتفاق ہے اور عقد نكاح نہيں ہوا تھا تو پھر آپ كے مابين جو كچھ ہوا ہے وہ حرام فعل تھا، اور منگنى كى مدت كے مابين شريعت نے لڑكى كو ديكھنے سے زيادہ كچھ مباح قرار نہيں كيا، اور ديكھنے كا مقصد بھى يہ ہے كہ مرد اور عورت منگنى اور شادى كا عزم كر سكيں. اور آپ دونوں پر ـ اس حالت ميں ـ توبہ و استغفار كرنى اور اپنے كيے پر ندامت واجب ہے، ان گناہوں كے كفارہ كے ليے عقد نكاح ہى كافى نہيں، بلكہ آپ پر توبہ و استغفار واجب ہے. اور كفارہ كے بارہ ميں گزارش ہے كہ آپ دونوں نے جو كچھ كيا ہے اس كا كوئى معين كفارہ تو نہيں ہے، صرف يہ ہے كہ جو شخص توبہ كرتا ہے اس كے ليے مشروع ہے كہ وہ نفلى نماز، و روزہ، اور صدقہ وغيرہ جيسے اعمال صالحہ زيادہ سے زيادہ كرے. اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے: ﴿ اور يقينا ميں اسے بہت زيادہ معاف كرنے والا ہوں جو توبہ كرتا ہے، اور ايمان لاتا اور نيك اعمال كرتا ہے اور پھر ہدايت پر رہتا ہے﴾ طہ ( 82 ). |
|
|
|
| 23 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (28-12-10), amjad007 (03-11-11), shafresha (27-12-10), فیصل ناصر (01-12-08), فرخ ظفر (26-12-10), یاسر عمران مرزا (26-12-10), چیتا چالباز (09-12-08), منتظمین (24-12-07), محمد فدا (09-12-08), محمد عاصم (31-12-10), محمدمبشرعلی (02-10-10), محمدخلیل (30-11-08), ابو عمار (11-12-08), ابن جلال (01-12-08), تانیہ رحمان ستارہ (26-12-10), جمال عتیق (10-07-08), حیدر (26-12-10), راجہ اکرام (16-01-11), شمشاد احمد (12-08-10), شاہد جمیل حفیظ (30-11-08), طارق راحیل (30-11-08), عبدالقدوس (26-12-10), عبدالله (18-09-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھتیجے ، سوال کا جواب واضح کیجیے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
چچا جی، کیا واضح کروں؟ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2010
عمر: 23
مراسلات: 244
کمائي: 2,603
شکریہ: 465
166 مراسلہ میں 366 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شیرنگ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت شکریہ
بہت سارے ایسے سوالات ہوتے ہیں جو انسان پوچھنے میں شرماتا ہے اور اسکی بلاشبہ ایسی بہت سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں جن پر اللہ تعالی نے پردہ ڈال رکھا ہوتا ہے اگر وہ سب کے سامنے آ جائیں تو انسان کی عزت نیلام ہو کر رہ جائے۔ منگیتر کا ہاتھ پكڑنا ہی ایک غیر مناسب کام ہے اور بوسہ لینا مزید غیر مناسب کام، یہ سب کام شادی کے بعد اللہ تعالی کی اجازت سے ایک خاتون کو نکاح میں لے لینے کے بعد جائز اور حلال ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گھومنے جاتے ہیں یا ٹیلی فون پر لمبی لمبی بات کرتے ہیں اور ان باتوں میں بھی اسی قسم کی باتیں ہوتی ہیں جو ان کو شادی کے بعد ہی کرنی چاہیں۔ وہ سب بھی غیر مناسب ہے۔ اللہ تعالی کی بتائی ہوئی حدوں میں رہنا ہی انسان کے لیے منافع کا سودا ہے۔ عبداللہ بھائی بہت شکریہ اس مفید موضوع کو شئر کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام کے مطابق لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔ ہم جیس معاشرہ میں رہتے ہیں ۔ وہاں لڑکی کو دیکھنے کے لیے خواتین آتی ہیں ۔ اور پسند کرتی ہیں ۔ لیکن آج کل یہ بات عام ہو گئی ہے اور سنت کے مطابق کہا جاتا ہے کہ لڑکا لڑکی کو دیکھے گا ۔۔ دیکھنے کے بعد لڑکے کو اگر لڑکی پسند نہیں آتی وہ انکار کر دیتا ہے ۔۔۔ پھر اگلے رشتے میں بھی یہی ہوتا ہے ۔ تو کیا اس سے لڑکی کی عزت مجرو نہیں ہو گی ۔ اور اگر یہ لڑکا اور لڑکی کا دیکھنا کب تک ہے ۔۔ ؟
|
|
|
|
| تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا گیا | یاسر عمران مرزا (26-12-10) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
اپنے شریک حیات کو ایک نظر دیکھنا ضروری ہے۔ تاہم زیادہ بات چیت اور نت نئے رواج جیسے گھومنے پھرنے وغیرہ کی اجازت نہیں۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا | عبداللہ حیدر (26-12-10), غیاث (26-12-10) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
تانیہ بہن! ایکدوسرے کو دیکھنے کی اجازت اور ترغیب لڑکے اور لڑکی دونوںکے لیے ہے۔ اگر لڑکی ناپسند کرے تو رد کرنے کا اختیار اس کو بھی ہے اگرچہ والدین کی بات ماننے میں عموما خیر ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کا قابل عمل طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے گھر والے ایک دوسرے کو جان پرکھ لیں، جب یقین ہو جائے کہ فریق ثانی نکاحکے لیے سنجیدہ ہے تو دونوںکی ایک ملاقات کرا دی جائے جو علیحدگی میں نہ ہو۔ یہ لنک بھی دیکھیں: پردہ اور پسند کی شادی والسلام علیکم |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب تو الٹا ہے ۔ دونوں فریق بعد میں آتے ہیں ۔ لڑکے کی یہ ضد ہے کہ میں لڑکی دیکھ کر باقی باتیں طے ہوں گی ۔۔۔ اب لڑکی ملنے سے انکاری ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ گھر والے کریں ۔ میں نہیں ملنا چاہتی ۔ میری تصویر دیکھا دو ،،، جب کہ لڑکا لڑکی کے گھر والوں کی موجودگی میں ملنا چاہتا ہے ۔ اس سے پہلے بھی ایک لڑکا دیکھ چکا ہے ۔ اور انکار کر چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے لڑکی سامنے نہیں انا چاہتی ۔۔۔ جب لڑکے کو بتاتے ہیں تو وہی قرآن و سنت کی بات ۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (27-12-10), عبداللہ حیدر (27-12-10) |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
مسلمانوں کے درمیان ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے قرآن و سنت کے تقریبا ہر حکم کو مذاق یا اپنے مفادات پورے کرنے کا بہانہ بہا رکھا ہے۔ اس کا اصل حل اللہ کا ڈر اور تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نےقرآن مجید میں نکاح اور طلاق کے مسائل کے بیان کرتے ہوئے بار بار تنبیہ فرمائی ہے کہ ان معاملات میں اللہ کا ڈر اپنے دل میںرکھو، اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں ہے، اللہ تمہارے سینوں کے راز تک جانتا ہے وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا ڈر اور اس کی حدود کی پاسداری کا خیال ہی وہ چیز ہے جو قرآن و حدیثمیںبیان ہونے والے مسائل کے غلط استعمال سے باز رکھتا ہے۔ لڑکی کو دیکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کوئی شو پیس ہے جس کا جی چاہے اسے دیکھتا رہے۔ یہ اجازت صرف اس شخصکو دی جا سکتی ہے جس کی نیت کی درستگی کا حال قرائن سے معلوم ہو چکا ہو۔ اس کے بعد اگر لڑکے یا لڑکی میںسے کوئی ایک دوسرے کو ریجیکٹکرتا ہے تو یہ شادی کے بعد کی جدائی سے بہرحال بہتر ہے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (27-12-10), فیصل ناصر (27-12-10), کنعان (27-12-10), یاسر عمران مرزا (27-12-10), راجہ اکرام (16-01-11), عبدالقدوس (27-12-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہوتا, فرمائے, کرنی, لوگ, معاشرہ, اللہ, اچھی, انسان, اجازت, بھائی, جواب, جائیں, رحم, سودا, شیرنگ, شادی, شخص, عورت, عقد, عزت, غلطیاں, صالحہ, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ايسے لوگ اب پھرکبھي لوٹ کرنہيں آئيں گے | ALI-OAD | اپکے کالم | 4 | 14-06-11 02:06 PM |
| پاکستان ميں سيلاب کے متاثرين بے يارومددگار نہیں ہيں | Fawad | خبریں | 17 | 25-08-10 11:33 PM |
| كيا غير مسلموں كے استعال كردہ برتن دھونے لازمى ہيں ؟ | بنت آدم | علوم حدیث | 0 | 02-04-10 07:03 PM |
| آپ كيا كريں گے؟ | Atia jamali | بچوں کی تعلیم و تربیت | 18 | 11-11-09 03:11 PM |
| كيا وضوء اور نماز كے ليے صاف جگہ نہ ملنے پر نماز ميں تاخير ہو سكتى ہے ؟ | چیتا چالباز | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 0 | 05-01-09 09:16 PM |