واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > ازدواجی زندگی



ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی


حقوق الزوجین ::::: بیوی کے خاوند پر حقوق :::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-12-07, 08:45 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

حقوق الزوجین ::::: بیوی کے خاوند پر حقوق :::::


::::: حقوق الزوجین :::: میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق :::::
::::: بیوی کا رُتبہ و حیثیت :::::

بلا شک '''خاوند جی''' کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے ، اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے ، لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس برتری کو جب ،جہاں اور جیسے چاہے اِستعمال کرتا پھرے ، جِس خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو برتری عطاء فرمائی ،اِسی خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوندکو اپنی طرف سے دی گئی برتری کے استعمال کے لیے حد بندی کر دی ، اور وہ اللہ ہے جو اکیلا خالق ہے اور اُس کے عِلاوہ ہر کوئی اُس کی مخلوق ہے ، اور خالق اپنی مخلوق کے بارے میں کِسی بھی دوسری مخلوق سے بڑھ کر یقینی عِلم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے ،
پس اپنی حکمت سے اُس نے خاوند کو عظمت دی اور اپنی حکمت سے اُس کے لیے حدود مقرر فرمائیں اور اپنی کتاب میں اُن کو ذِکر فرمایااور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان مُبارک سے جب چاہا اُن حدود کو بیان کروایا ،
خاوند حضرات اپنی برتری کی سرشاری میں یہ مت بھولیں کہ اُنکے خالق و مالک نے اُنہیں برتری عطاء فرمانے سے پہلے اُنہیںیہ بھی بتا یا ہے کہ ( وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ )( اور عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق )ہے ) اور پھر فرمایا ( ولِلرِّجَالِ عَلِیھِنَّ دَرجۃٌ) ( اور ( اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ ) عورتوں پر مَردوں کا درجہ( بلند ) ہے ) سورت البقرۃ/آیت ٢٢٨
اور خاوند کے لیئے حُکم فرمایا( و عاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ ) ( اور اُن کے ساتھ نیکی والا رویہ رکھتا ہوئے زندگی بسر کرو ) سورت النساء /آیت٤،
عاشر کا لفظیٰ معنی ::::: مل جل کر زندگی بسر کرنا بنتا ہے ، اور میل جول بُرائی اور ظُلم والا بھی ہوتا ہے اور نیکی اور بھلائی والا بھی ، اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو یہ حُکم دِیا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی اور خیر والی زندگی بسر کریں ، نہ کہ بُرائی اور ظُلم والی ، یہ ایک عام اجمالی حُکم ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیتا ہے ، اورمزید وضاحت کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام صادر فرمائے ، آئیے اُن کا مُطالعہ کرتے ہیں ،
::::: خاوند پر بیوی کے حقوق::::: پہلا حق ::: بیوی کا مہر ادا کرنا :::::
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا حُکم ہے (وَآتُوا النَّسَاء صَدُقَاتِہِنَّ نِحلَۃً)( اور بیویوں کو اُن کا مہر ادا راضی خوشی ادا کرو) سورت النساء /آیت ٤ ،
اور مزید حُکم ہے (فَمَا استَمتَعتُم بِہِ مِنہُنَّ فَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ فَرِیضَۃ)( اور جو تُم نے اُن سے(جنسی) لذت و فائدہ حاصل کیا ہے اُس کے لیے اُن کی قیمت (مہر) ادا کرو ، یہ( تُم پر) فرض ہے ) سورت النساء /آیت ٢٤،
اور مزید حُکم فرمایا (فَانکِحُوہُنَّ بِاِذنِ اَہلِہِنَّ وَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ بِالمَعرُوف)( اور عورتوں سے اُن کے گھر والوں کی اجازت سے نکاح کرو اور اُن عورتوں کو اُن کی قیمت معروف طریقے پر ادا کرو) سورت النساء /آیت ٢٧
عورت اپنے نکاح کو جو مہر مقرر کرے اور جِس پر اُس سے نکاح کرنے والا اتفاق کر لے وہ مہر اُس عورت کا خاوند پر حق ہو جاتا ہے ، ہم بستری ہو چکنے کی صورت میں وہ خاوند وہ مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہے ، فوراً یا بعد میں جیسے بھی نکاح سے پہلے اتفاق ہوا تھا ۔
::::: اہم فوائد ::::: اُوپر ذِکر کی گئی آیات میں سے دوسری آیت مکمل پڑہی جائے تو ''' متعہ ''' کا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے ، اور آخری آیت کورٹ میرج اورکِسی عورت کا اپنے گھر والوں کی اِجازت کے بغیر نکاح کرنے کو حرام قرار دینے کے دلائل میں سے ایک ہے ،
::::: دوسرا حق ::::: خاوند بھی خود کو بیوی کے لیے صاف سُتھرااور بنا سنورا رکھے :::::
اُوپر بیان کی گئی دو میں سے پہلی آیت مُبارکہ کی تفسیر میں ، مُفسرِ قُران عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ::: ( مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اپنی بیوی کے لیے خود کو بنا سنوار کر رکھوں جیسا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بنی سنوری رہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ )( اور عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق ہے ) ) تفسیر ابن کثیر ، سورت البقرۃ / آیت ٢٢٨ ،
::::: تیسرا حق ::: نرمی والا رویہ رکھے اور اُسے (بلا حق ) تکلیف اور اذیت نہ پہنچائے :::::
بیوی کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی نافرمانی کے عِلاوہ اگر کِسی اور معاملے میں اُس سے کوئی غلطی ، کوتاہی وغیرہ ہوتی ہو تو خاوند اُسکے ساتھ نرمی والا رویہ رکھے اُس پر سختی نہ کرے اور زُبان یا ہاتھ سے یا کِسی بھی طور اُسے دُکھ یا اذیت نہ پہنچائے، اور صبر کرتے ہوئے اُسے سمجھاتا رہے ، اور اُسکی غلطیوں کوتاہیوں پر صبر کرنے کےلیے اُسکی نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف توجہ کرے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دِیا ( لَا یَفرَک مُؤمِنٌ مؤمنۃٌ اِن کَرِہَ مِنہَا خُلُقًا رَضِی مِنہَا آخَرَ ) ( کوئی اِیمان والا (خاوند) کِسی اِیمان والی (بیوی) کو غُصہ(و غم) نہیں دِلاتا ، اگر اُس (بیوی )کا کوئی کام خاوند کو نا پسند ہو تو کوئی دوسرا کام پسند بھی ہو گا) صحیح مُسلم / حدیث ١٤٦٩ /کتاب الرضاع / باب ١٨ ،
اور جیسا کہ ایک دفعہ ایک صحابی رضی اللہ عنہُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ::: اے اللہ کے رسول ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے ؟ ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اَن تُطعِمَہَا اِذ طَعِمتَ وَتَکسُوَہَا اِذا اکتَسَیتَ او اکتَسَبتَ ولا تَضرِب الوَجہَ ولا تُقَبِّح ولا تَہجُر اِلا فی البَیتِ ) ( (بیوی کا حق )یہ ہے کہ جب تُم کھاؤ تو اُسے بھی کِھلاؤ اور جب تُم (نئے) کپڑے پہنو یا کمائی کرو تو اُسے بھی پہناؤ ، اور نہ اُسکے چہرے پر مارو ، اور نہ اُسکے لیے (کچھ) بُرا ہونے کی دُعاء کرو ، اور نہ ہی گھر سے باہر کہیں اُسکو خود سے الگ کرو )[/SIZE] سُنن ابی داؤد /حدیث ٢١٤٢ /کتاب النکاح /باب ٤٢، مُسند احمد /حدیث ٢٠٠٢٥ / حدیث حکیم بن معاویہ /پہلی روایت ، سنن ابن ماجہ / حدیث ١٨٥٠ /کتاب النکاح/ باب٣،اِمام الالبانی نے کہا حدیث حسن صحیح ہے ۔
مضمون جاری ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ سے پیوستہ
::::: چوتھا حق ::: اُسے دِینی معاملات (اللہ کی توحید ، طہارت و نجاست ، حلال و حرام جائز ناجائز وغیرہ ) سِکھائے ، اور اُن کے مُطابق زندگی بسر کرنے میں اُس کی مدد کرے :::::
جی ہاں ، یہ بھی بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ خاوند اُس کی دینی تعلیم و تربیت میں واقع کمی پورا کرے ، لیکن ،،،،،افسوس ، صد افسوس کہ آج کتنے مُسلمان مَرد ایسے ہیں جو دادا تک بن جاتے ہیں لیکن اپنے دِین اِسلام کے وہ احکام بھی ٹھیک طور پر نہیں جانتے جِن کو جاننا اُن پر فرض ہے ، چہ جائیکہ وہ کِسی اور کو سِکھائیں، دُنیا داری کا ہر کام ، یا یقینا وہ کام جِس میں کوئی فائدہ متوقع ہو ضرور سِکھایا جاتا ہے ، لیکن دِین سیکھنے اور سِکھانے کے لیے نہ فُرصت ہے اور نہ ہی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ، اگر کبھی کوئی مسئلہ آن پڑا تو مولوی زندہ باد ، جو کہہ دے گا کر لیں گے ، کیا ضرورت ہے دردِ سر لینے کی ، اِنّا لِلِّہِ و اِنِّا اِلیہِ راجِعُون ، اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے ( اِس موضوع پر کچھ بات ''' قیامت کی نشانیوں ''' والی مجلس میں ہو چکی ہے ) ، تو یہ بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ اُسے اللہ کی توحید اور اُس کے دِین ، نہ کہ لوگوں کے ''' مذاہب و مسالک''' کی تعلیم و تربیت دے ،
جو اللہ پر اِیمان لائے ہیں اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کا حُکم ہے ( یَآ اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا اَنفُسَکُم وَاَہلِیکُم نَاراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَالحِجَارَۃُ ) ( اے وہ لوگو جو اِیمان لائے ہو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو (جہنم کی ) آگ سے بچاؤ ( وہ ایسی آگ ہے ) جِس کا ایندھن اِنسان اور پتھر ہیں ) سورت التحریم /آیت ٦ ،
اللہ کی ناراضگی ، اللہ کے عذاب ، جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانے کے حُکم پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اِنسان اللہ کی توحید کا ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کا ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سمجھ کے مُطابق عِلم حاصل کرے ، اُسکا قولی اور عملی طور پراِقرار کرے اور اُس پر عمل کرے ، کیونکہ جہنم کی آگ سے بچنے کا اِس کے عِلاوہ اورکوئی ذریعہ نہیں ، کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مشروط اور صحابہ کے فہم کے مُطابق تابع فرمانی کی جائے ۔
::::: پانچواں حق ::: بیوی کو گُناہوں سے بچائے رکھنا ، اُس کی عِزت و عِفت کی حفاظت :::::
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ( کُلُّکُم رَاع ٍ وَکُلُّکُم مسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ الاِمَامُ رَاع ٍ ومسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ وَالرَّجُلُ رَاع ٍ فی اَہلِہِ وہو مسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ ،،،،،)( تم میں ہر کوئی محافظ اور ذمہ دارہے ، اور ہر کِسی سے اپنی اپنی رعایا (یعنی جِس جِس کی نگرانی و حفاظت اُس کے ذمے تھی ) کے بارے میں پوچھا جائے گا ( یعنی اُن کے حقوق کی ادائیگی اور اُنکے کچھ کاموں کے بارے میں اِس نگران و محافظ سے پوچھ ہو گی اور وہ دُنیا اور آخرت میںجواب دہ ہے )،اِمام ( دِینی اور دُنیاوی راہنما و حُکمران) اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے اور اُسکے بارے میں اُسے پوچھا جائے گا ، مَرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اوراپنی رعایا (یعنی گھر والوں ) کے بارے میں جواب دہ ہے،،،،، ) صحیح البخاری / حدیث٨٥٣ /کتاب الجمعۃ / باب ١١ ( مکمل حدیث '''خاوند کے حقوق ''' میں حق ٦میں ذِکر کی گئی ہے)
چونکہ مَرد اپنے گھر والوں کے اعمال کے بارے میں جواب دہ ہوگا لہذا اُس کے گھر والوں کا اُس پر حق بنتا ہے کہ وہ اُن کو گناہوں سے بچائے اور اُن کی عِزت و عِفت کی حفاظت کرے ، اور بیوی گھر والوں میں سب سے پہلی ہوتی ہے ۔
مضمون جاری ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
گذشتہ سے پیوستہ
::::: چھٹاحق ::: کھانے پینے ، پہننے اوڑہنے کی ضرورت کو جائز حد میں رہتے ہوئے پورا کرنا :::::
::::: ساتواں حق ::: اپنی رہائشی معیار کے مُطابق رہائش مہیا کرنا :::::

اللہ تعالیٰ کا حُکم ہے ( وَعلَی المَولُودِ لَہُ رِزقُہُنَّ وَکِسوَتُہُنَّ بِالمَعرُوفِ لاَ تُکَلَّف ُ نَفسٌ اِلاَّ وُسعَہَا ) ( اور بچے کے باپ پرفرض ہے کہ اُن عورتوں (بچے کی ماں ، بیوی یا باندی ) کا کھانا پینا اور پہننا اوڑہنا نیکی (اور اپنی استطاعت) کے مُطابق پورا کرے کِسی جان کو اُس کی استطاعت سے زیادہ کا پابند نہیں کیا جائے ) سورت البقرۃ /آیت ٢٣٣
اِمام ابن کثیر رحمہُ اللہ تعالیٰ نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھا ''' اِس کا مطلب ہے کہ بچوں کے باپ پر اپنی خوشحالی اور تنگی دونوں حال میں ، بچوں کی ماؤں کا کھانے پینے اور پہننے وغیرہ کا خرچہ اُٹھانا فرض ہے ، جِس طرح معاشرے میں اُن جیسی دوسری عورتوں کا خرچ ہوتا ہے ، لیکن کِسی قِسم کی فضول خرچی کیئے بغیر اور تنگی دیئے بغیر ''' ۔
مزید فرمایا ( لِیُنفِق ذُو سَعَۃٍ مِّن سَعَتِہِ وَمَن قُدِرَ عَلَیہِ رِزقُہُ فَلیُنفِق مِمَّا آتَاہُ اللَّہُ لَا یُکَلِّف ُ اللَّہُ نَفساً اِلَّا مَا آتَاہَا سَیَجعَلُ اللَّہُ بَعدَ عُسرٍ یُسراً ) ( تا کہ مالدار اپنے مال میں سے ( بیویوں ) پر خرچ کرے اور جِس کا رزق تنگ کیا گیا ہے وہ بھی اُس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اُسے دِیا ہے اللہ نے جِس کو جتنا دیتاہے اُسی کے مُطابق پابند کرتا ہے ، جلد ہی اللہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا ) سورت الطلاق /آیت ٧،
مزید حُکم فرمایا ( اَسکِنُوہُنَّ مِن حَیثُ سَکَنتُم مِّن وُجدِکُم وَلَا تُضَارُّوہُنَّ لِتُضَیِّقُوا عَلَیہِنَّ ) ( جہاں تُم لوگ خود رہتے ہو وہاں اُن ( یعنی اپنی بیویوں) کو بھی رکھو اور اُن پر تنگی کرنے کے لیے اُن کے حقوق کی ادائیگی میں کمی مت کرو ) سورت الطلاق / آیت ٦ ،
سُنّت میں سے اِس کی ایک دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان بھی ہے جو دوسرے حق میں ذِکر کیا گیا، اور دوسری یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے عظیم خُطبہ میں جِسے عام طور پر ''' خُطبہ حج الوِداع ''' کہا جاتا ہے ، فرمایا ( فَاتَّقُوا اللَّہَ فی النِّسَاء ِ فَاِنَّکُم اَخَذتُمُوہُنَّ بِاَمَانِ اللَّہِ وَاستَحلَلتُم فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللَّہِ وَلَکُم عَلَیہِنَّ اَن لَا یُوطِئنَ فُرُشَکُم اَحَدًا تَکرَہُونَہُ فَاِن فَعَلنَ ذلک فَاضرِبُوہُنَّ ضَربًا غیر مُبَرِّحٍ وَلَہُنَّ عَلَیکُم رِزقُہُنَّ وَکِسوَتُہُنَّ بِالمَعرُوفِ) ( اور بیویوں کے معاملات میں اللہ (کی ناراضگی) سے بچو کیونکہ تُم نے اُن کو اللہ کی حفاظت کے ساتھ لیا ہے اور اُن کی شرمگاہوں کو اللہ کی اجازت سے (اپنے لیے) حلال کیا ہے اور اُن پر تُمہارا حق ہے کہ وہ کِسی ایسے (مرد یا عورت )کو تُمہارے گھر میں نہ آنے دیں جو تُمہیں پسند نہ ہو ، اور اگر وہ ایسا کریں تو ایسی مار مارو جوخطرناک نہ ہو ، اور اُن کاحق ہے تُم پر کہ اُن کا کھانا پینا اور پہننا اوڑھنا معروف طریقے پر پورا کرو ) صحیح مُسلم / حدیث ١٢١٨/کتاب الحج / باب ١٩ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
مندرجہ بالا پہلی دو آیات گو کہ اُن بیویوں کے بارے میں جنہیں طلاق دی جا چکی ہو ، لیکن ابھی وہ خاوند کی ذمہ داری میں ہوں ، شرعاً علیحدگی نہ ہوئی ہو ، لیکن حُکم اُن بیویوں کے بارے میں بھی ہے جِن کو طلاق نہ دی گئی ہو ، کیونکہ وہ بھی خاوند کی ذمہ داری میں ہوتی ہیں ، اِن مندرجہ بالا تینوں آیات میں اللہ کی طرف سے یہ حُکم دیے گئے ہیں کہ خاوند اپنی بیویوں کو کھانے پینے ، پہننے اوڑھنے ، اور دیگر ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے پیسے دیں یا خود ذمہ داری کے ساتھ وہ ضروریات پوری کریں ، اور اپنی رہائش کے مُطابق رہائش مہیا کریں ،اور یقینا یہ حق صِرف جائز طور پر یعنی شریعت کی حد میں رہتے ہوئے پورا کیا جائے گا ، بیوی کی ہر خواہش کو ضرورت سمجھ کر حلال و حرام کی تمیز رکھے بغیر پورا کرنا اُس کا حق نہیں ہے ،
::::: مسئلہ ::::: اگر کوئی خاوند اپنی بیوی بچوں کی جائز ضروریات کنجوسی کی وجہ سے پوری نہیں کرتا تو بیوی کو اجازت ہے کہ وہ خاوند کے مال میں سے اُس کی اجازت اور عِلم کے بغیر اپنی اور اپنی اولاد کی جائز ضروریات پورا کرنے کے لیے کچھ مال لے لیا کرے ،
::::: دلیل ::::: ہند بنت عُتبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ''' میرا خاوند ابو سُفیان (رضی اللہ عنہُ ) کنجوسی کرتا ہے اور میری اور میری اولاد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مُناسب مال نہیں دیتا ، اگر میں اُس کے عِلم میں لائے بغیر اُس کے مال میں سے کچھ نکال نہ لیا کروں تو (ہماری ضروریات پوری نہ ہوں ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( خُذِی ما یَکفِیکِ وَوَلَدَکِ بِالمَعرُوفِ) ( اُتنا (مال ) لے لیا کرو جو تُمہاری اور تمہاری اولاد کی جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو ) صحیح البُخاری /حدیث٥٠٥٤٩ /کتاب النفقات /باب ٩ ،
یہاں خواتین کو خوش ہونے سے پہلے یہ ضرور سمجھنا چاہیئے کہ صِرف جائز ضروریات پوری کرنے کے لیے خاوند کو پابند کیا گیا ہے ، اور صِرف جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بلا اِجازت اُس کامال لینے کی اجازت دی گئی ہے ، اور جائز و ناجائز اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور مقرر کردہ حدود کے مُطابق ہوتا ہے ، اپنی سوچ سمجھ ، معاشرتی عادات یا خاندانی مجبوریوں کی بِناء پر نہیں ۔
::::: حدود سے تجاوز کا خوفناک نتیجہ ::::: اگر بیویاں اپنے خاوند کی استطاعت سے بڑھ کر اُس پر بوجھ ڈالیں اور بغیر ضرورت کے مُطالبات کرتی رہیں تو اُس کا خوفناک نتیجہ صِرف اُن کے خاندان تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ سارے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے ، کیونکہ معاشرے میں مالی تغیرات کا دارومدار مَردوں کی مالی اور معاشی سرگرمیوں پر ہوتا ہے اور جب مَردوں کو اپنی اپنی استطاعت سے بڑھ کر مُطالبات و خواہشات پوری کرنا پڑتی ہیں تو پھر حلال و حرام ، جائز و ناجائز ، حق و نا حق کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اورہر کوئی صِرف مال حاصل کر نے کے چکر میں مصروف نظر آتا ہے اور سارا معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِنَّ اوَل مَا ہَلکَ بَنو اِسرَائِیلَ انَّ اِمرَاۃَ الفَقِیر کَانت تَکلِفُہُ مِن الثَّیابِ او الصَّیغِ _ او قَال مِن الصَّیغَۃِ _ مَا تَکلِف ُ اِمرَاۃُ الغَنِی) ( بنی اِسرائیل کو تباہ کرنے والی پہلی چیز یہ تھی کہ غریب آدمی کی بیوی اُس پر اپنے کپڑے لتے کا اُتنا ہی خرچ ڈالتی تھی جتنا کہ امیر آدمی کی بیوی ) سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث ٥٩١،
مضمون جاری ہے ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[SIZE="5"] گذشتہ سے پیوستہ
:::::آٹھواں حق ::: بیوی کی جسمانی (جِنسی ) ضرورت کا خیال رکھنا اور اُسے پورا کرنا :::::
جِس طرح فِطری طور پر مَرد کو جِنسی تسکین کی ضرورت ہوتی ہے اِسی طرح عورت کو بھی ہوتی ہے ، اور مَرد کی طرح ہی وہ بھی اپنی جسمانی (جِنسی) خواہش کی تکمیل چاہتی ہے ، جِس طرح بیوی پر خاوند کا حق ہے کہ وہ خاوند کو کِسی بھی حال میں اِس تعلق داری سے روکے نہیں ، جیسا کہ ''' خاوند کے حقوق''' میں حق ٣ میں بیان کر چکا ہوں ، اِسی طرح خاوند پر بیوی کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اِس معاملے میں پُر سُکون رکھے ، صِرف اپنی خواہش پوری کرنے کو ، ہر سال بچہ پیدا ہو جانے کو ہی بیوی کی تسکین نہ سمجھے بلکہ اپنی بیوی کی اِس انتہائی اہم فِطری ضرورت کا مکمل احساس حاصل کرے اور مکمل خبر رکھتے ہوئے بیوی کی یہ ضرورت پوری کرے ، اگر خاوند بیوی کی یہ خواہش ٹھیک طرح سے پوری نہ کر پائے ، تو پھر شیطان کا داؤ خوب چلتا ہے اور گُناہ کا راستہ کُھلتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر مُسلمان کی عِزت و عِفت کو محفوظ رکھے ، یا ازداوجی زندگی میں ایسی بے سکونی رہتی ہے جِس کا بظاہر کوئی سبب بھی دِکھائی نہیں دیتا ، کیونکہ عورت اندر ہی اندر جلتی کُڑھتی رہتی ہے اور اُس کی جلن مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہے ، اور خاندانی زندگی راحت و سکوں سے عاری رہتی ہے ، اور ''' خاوند جی ''' اپنی کمزوری یا نالائقی کو جانے بغیر بیوی کو بُرا بھلا کہتے اور بتاتے رہتے ہیں ، اور ، اور ، اور،،،،،،،،،،،،،،،
عُثمان بن معظون رضی اللہ عنہُ کا واقعہ معروف ہے کہ اُنہوں نے عِبادت کے لیے خود کو فارغ کر رکھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا ( یا عُثمانُ اِنِّی لَم اُومر بِالرَّھبَانِیۃِ ، اَرَغِبتَ عَن سُنَّتِی ؟ )( اے عُثمان مجھے راہبانیت کا حُکم نہیں دیا گیا ، کیا تُم میری سُنّت سے مُنہ پھیرو گے ؟ ) اُنہوں نے عرض کیا ::: نہیں اے اللہ کے رسول ::: تو فرمایا ( اِنَّ مِن سُنَّتی ان اُصلي و اَنام ، و اصُوم َ و اُطعَم ، و انکِحَ و اُطلِّقَ ، فَمَن رَغِبَ عَن سُنَّتِی فَلَیسَ منِّی ، یا عُثمانَ ، اِنَّ لِاھلِکَ عَلِیکَ حقاً ، و اِنَّ لِنَفسِکَ عَلِیکَ حَقاً ) ( میری سُنّت میں سے یہ ہے کہ میں سوتا بھی ہوں تو جاگتا بھی ہوں ،اور روزہ رکھتا ہوں تو کھاتا بھی ہوں ، اور نکاح کرتا ہوں تو طلاق بھی دیتا ہوں ، لہذا جِس نے میری سُنّت سے مُنہ پھیرا تو وہ مجھ سے نہیں ، اے عُثمان یقینا تمہاری بیوی کا تُم پر حق ہے اور تُمہاری جان کا تُم پر حق ہے ) سُنن الدارمی ، حدیث ٦١٦٩ / و مِن کتاب النکاح / باب ٣ کی حدیث ٣ ، حدیث حسن ہے، السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ، چوتھی جلد ، صفحہ ٣٨٧ ،
اِس حدیث میں ہمارے اِس رواں موضوع کی دلیل کے عِلاوہ اور بھی کچھ سبق ہیں اور حُکم ہیں ، اُن کی شرح میری زیرِ تیاری کتاب ''''' وہ ہم میں سے نہیں ''' میں موجود ہے ، سُنّت کی تعریف اور اقسام کا مختصر تعارف ''' وضوء کی سنتیں ''' کے آغاز میں ذِکر کیا گیا ہے ،
عبداللہ ابن عَمر ابن العاص رضی اللہ عنہما کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ وہ دِن بھر روزے میں رہتے ہیں اور رات بھر قیام کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے اِس خبر کی تصدیق فرمانے کے بعد فرمایا ( فَلا تَفعَل صُم وَاَفطِر وَقُم وَنَم فاِن لِجَسَدِکَ عَلَیکَ حَقًّا وَاِنَّ لِعَینِکَ عَلَیکَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَوجِکَ عَلَیکَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَورِکَ عَلَیکَ حَقًّا ) ( تو پھر جو تُم کر رہے ہو وہ مت کیا کرو روزہ بھی رکھو اور کھاو بھی ، کیونکہ یقینا تمہارے جِسم کا تُم پر حق ہے اور تُمہاری آنکھوں کا تُم پر حق ہے اور تُمہاری بیوی کا تُم پر حق ہے اور تُمہارے مہمانوں کا تُم پر حق ہے ) صحیح البُخاری / حدیث ١٨٧٤ /کتاب الصوم /باب ٥٤
اِس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے حقوق کے ساتھ بیوی کا حق بھی بیان فرمایا ہے ، جِس کی تفسیر ابو الدارداء اور سلمان رضی اللہ عنہما کے ایک واقعہ میں ملتی ہے اور وہ بھی صحیح البخاری میں ہی ہے ، اور وہ حدیث اِس بات کی بھی ایک اور دلیل ہے کہ بیوی کی جسمانی خواہش اور ضرورت کا خیال رکھنا خاوند پر بیوی کا حق ہے ، حدیث ٥٧٨٨ /کتاب الادب/باب ٨٦ ، اختصار کے پیش نظر اِس حدیث کو بیان نہیں کر رہاہوں ۔
::::: نواں حق ::: بیوی سے (جنسی) ملاپ کا حال کِسی بھی اور پر ظاہر نہ کرے :::::
ابو سعید الخُدری رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اِنَّ من اَشَرِّ النَّاسِ عِندَ اللَّہِ مَنزِلَۃً یَوم القِیَامَۃِ الرَّجُلَ یُفضِی اِلی امرَاَتِہِ وَتُفضِی اِلیہ ثُمَّ یَنشُرُ سِرَّہَا ) ( قیامت والے دِن اللہ کے ہاں بُرے ترین لوگوں میں سے وہ شخص بھی ہو گا جو (جنسی رغبت کے ساتھ اور ملاپ کے لیے) اپنی عورت (بیوی ، یا باندی )کی طرف مائل ہو اور وہ عورت بھی (اِسی طرح) اُس کی طرف مائل ہو ( اور پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد ) وہ شخص اپنی عورت کے راز بتاتا (یعنی جو کچھ ایک دوسرے نے کیا وہ ) پھرے ) صحیح مسلم / حدیث ١٤٣٧ /کتاب النکاح / باب ٢١
ترجمے میں قوسین () کے درمیان جو الفاظ ہیں وہ ایک دو دوسری روایات کی بنیاد پر ہیں ، چونکہ وہ روایت صحت کے اُس درجہ پر نہیں پہنچتی کہ اُنہیں کِسی حُکم کے لیے دلیل بنایا جائے ، اِس لیے اُن کو نہیں لکھ رہا ہوں ، اگر وہ روایات صحیح ہوتیں تو عورت کے لیے بھی بالکل واضح ممانعت ہوتی کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ ہونے والے جنسی معاملے کی خبر کِسی کو نہ کرے ، لیکن اِسکا یہ مطلب نہیں کہ عورت کو اجازت ہے ، کہ وہ اپنے اور اپنے خاوند کے درمیان ہونے والے جنسی معاملے کی خبر کر سکتی ہے ۔
الحمد للہ تعالیٰ ، یہاں تک ، میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کی بات مکمل ہوئی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور حق جاننے سمجھنے ماننے اور اپنا کر اُس پر عمل اور اُس کی تبلیغ و تشہیر کی توفیق عطاء فرمائے اور اُسی پر عمل کرتے کرتے ہماری اللہ سے ملاقات ہو ۔
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلبگارِ دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔

Last edited by عادل سہیل; 15-10-10 at 04:54 PM. وجہ: re formating
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (29-05-10), یاسر عمران مرزا (28-05-10), محمدخلیل (26-05-10), مرزا عامر (15-10-10), احمد بلال (27-05-10), زندگی (15-10-10)
پرانا 26-05-10, 09:42 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
Cool

السلام علیکم
کاونٹر بتاتا ہے اس آرٹیکل کو 736 دفعہ دیکھا گیا
میرے کو یہ بالکل سچ لگتا ہے
اسے بھی دیکھا ہی گیا ہے
پڑھا نہیں
کیونکہ یہ پڑھا جا سکتا ہی نہین
یار عادل صاحب لگتا ہے آپ کوئی خاص قسم کی سکرین استعمال کرتے ہو
جس میں چھوٹی چھوتی لکھائی بھی بڑی بڑی دکھائی دیتی ہو
جناب سب کا خیال رکھا کرو
شکریہ
ضِرار Derar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 26-05-10, 12:51 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کچھ کوشش کی ہے۔ باقی عادل صاحب خود کر لیں گے۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 26-05-10, 12:59 PM   #4
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حقوق الزوجین ::::: بیوی کے خاوند پر حقوق :::::


::::: حقوق الزوجین :::: میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق :::::
::::: بیوی کا رُتبہ و حیثیت :::::
بلا شک '''خاوند جی''' کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے ، اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے ، لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس برتری کو جب ،جہاں اور جیسے چاہے اِستعمال کرتا پھرے ، جِس خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو برتری عطاء فرمائی ،اِسی خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوندکو اپنی طرف سے دی گئی برتری کے استعمال کے لیے حد بندی کر دی ، اور وہ اللہ ہے جو اکیلا خالق ہے اور اُس کے عِلاوہ ہر کوئی اُس کی مخلوق ہے ، اور خالق اپنی مخلوق کے بارے میں کِسی بھی دوسری مخلوق سے بڑھ کر یقینی عِلم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے ،
پس اپنی حکمت سے اُس نے خاوند کو عظمت دی اور اپنی حکمت سے اُس کے لیے حدود مقرر فرمائیں اور اپنی کتاب میں اُن کو ذِکر فرمایااور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان مُبارک سے جب چاہا اُن حدود کو بیان کروایا ،
خاوند حضرات اپنی برتری کی سرشاری میں یہ مت بھولیں کہ اُنکے خالق و مالک نے اُنہیں برتری عطاء فرمانے سے پہلے اُنہیںیہ بھی بتا یا ہے کہ ( وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ )( اور عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق )ہے ) اور پھر فرمایا ( ولِلرِّجَالِ عَلِیھِنَّ دَرجۃٌ) ( اور ( اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ ) عورتوں پر مَردوں کا درجہ( بلند ) ہے ) سورت البقرۃ/آیت ٢٢٨
اور خاوند کے لیئے حُکم فرمایا( و عاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ ) ( اور اُن کے ساتھ نیکی والا رویہ رکھتا ہوئے زندگی بسر کرو ) سورت النساء /آیت٤،
عاشر کا لفظیٰ معنی ::::: مل جل کر زندگی بسر کرنا بنتا ہے ، اور میل جول بُرائی اور ظُلم والا بھی ہوتا ہے اور نیکی اور بھلائی والا بھی ، اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو یہ حُکم دِیا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی اور خیر والی زندگی بسر کریں ، نہ کہ بُرائی اور ظُلم والی ، یہ ایک عام اجمالی حُکم ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیتا ہے ، اورمزید وضاحت کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام صادر فرمائے ، آئیے اُن کا مُطالعہ کرتے ہیں ،
::::: خاوند پر بیوی کے حقوق:::::
:::::پہلا حق ::: بیوی کا مہر ادا کرنا :::::
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا حُکم ہے (وَآتُوا النَّسَاء صَدُقَاتِہِنَّ نِحلَۃً)( اور بیویوں کو اُن کا مہر ادا راضی خوشی ادا کرو) سورت النساء /آیت ٤ ،
اور مزید حُکم ہے (فَمَا استَمتَعتُم بِہِ مِنہُنَّ فَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ فَرِیضَۃ)( اور جو تُم نے اُن سے(جنسی) لذت و فائدہ حاصل کیا ہے اُس کے لیے اُن کی قیمت (مہر) ادا کرو ، یہ( تُم پر) فرض ہے ) سورت النساء /آیت ٢٤،
اور مزید حُکم فرمایا (فَانکِحُوہُنَّ بِاِذنِ اَہلِہِنَّ وَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ بِالمَعرُوف)( اور عورتوں سے اُن کے گھر والوں کی اجازت سے نکاح کرو اور اُن عورتوں کو اُن کی قیمت معروف طریقے پر ادا کرو) سورت النساء /آیت ٢٧
عورت اپنے نکاح کو جو مہر مقرر کرے اور جِس پر اُس سے نکاح کرنے والا اتفاق کر لے وہ مہر اُس عورت کا خاوند پر حق ہو جاتا ہے ، ہم بستری ہو چکنے کی صورت میں وہ خاوند وہ مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہے ، فوراً یا بعد میں جیسے بھی نکاح سے پہلے اتفاق ہوا تھا ۔
::::: اہم فوائد ::::: اُوپر ذِکر کی گئی آیات میں سے دوسری آیت مکمل پڑہی جائے تو ''' متعہ ''' کا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے ، اور آخری آیت کورٹ میرج اورکِسی عورت کا اپنے گھر والوں کی اِجازت کے بغیر نکاح کرنے کو حرام قرار دینے کے دلائل میں سے ایک ہے ،
::::: دوسرا حق ::::: خاوند بھی خود کو بیوی کے لیے صاف سُتھرااور بنا سنورا رکھے :::::
اُوپر بیان کی گئی دو میں سے پہلی آیت مُبارکہ کی تفسیر میں ، مُفسرِ قُران عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ::: ( مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اپنی بیوی کے لیے خود کو بنا سنوار کر رکھوں جیسا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بنی سنوری رہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ )( اور عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق ہے ) ) تفسیر ابن کثیر ، سورت البقرۃ / آیت ٢٢٨ ،
::::: تیسرا حق ::: نرمی والا رویہ رکھے اور اُسے (بلا حق ) تکلیف اور اذیت نہ پہنچائے :::::
بیوی کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی نافرمانی کے عِلاوہ اگر کِسی اور معاملے میں اُس سے کوئی غلطی ، کوتاہی وغیرہ ہوتی ہو تو خاوند اُسکے ساتھ نرمی والا رویہ رکھے اُس پر سختی نہ کرے اور زُبان یا ہاتھ سے یا کِسی بھی طور اُسے دُکھ یا اذیت نہ پہنچائے، اور صبر کرتے ہوئے اُسے سمجھاتا رہے ، اور اُسکی غلطیوں کوتاہیوں پر صبر کرنے کےلیے اُسکی نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف توجہ کرے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دِیا ( لَا یَفرَک مُؤمِنٌ مؤمنۃٌ اِن کَرِہَ مِنہَا خُلُقًا رَضِی مِنہَا آخَرَ ) ( کوئی اِیمان والا (خاوند) کِسی اِیمان والی (بیوی) کو غُصہ(و غم) نہیں دِلاتا ، اگر اُس (بیوی )کا کوئی کام خاوند کو نا پسند ہو تو کوئی دوسرا کام پسند بھی ہو گا) صحیح مُسلم / حدیث ١٤٦٩ /کتاب الرضاع / باب ١٨ ،
اور جیسا کہ ایک دفعہ ایک صحابی رضی اللہ عنہُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ::: اے اللہ کے رسول ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے ؟ ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اَن تُطعِمَہَا اِذ طَعِمتَ وَتَکسُوَہَا اِذا اکتَسَیتَ او اکتَسَبتَ ولا تَضرِب الوَجہَ ولا تُقَبِّح ولا تَہجُر اِلا فی البَیتِ ) ( (بیوی کا حق )یہ ہے کہ جب تُم کھاؤ تو اُسے بھی کِھلاؤ اور جب تُم (نئے) کپڑے پہنو یا کمائی کرو تو اُسے بھی پہناؤ ، اور نہ اُسکے چہرے پر مارو ، اور نہ اُسکے لیے (کچھ) بُرا ہونے کی دُعاء کرو ، اور نہ ہی گھر سے باہر کہیں اُسکو خود سے الگ کرو )[/SIZE] سُنن ابی داؤد /حدیث ٢١٤٢ /کتاب النکاح /باب ٤٢، مُسند احمد /حدیث ٢٠٠٢٥ / حدیث حکیم بن معاویہ /پہلی روایت ، سنن ابن ماجہ / حدیث ١٨٥٠ /کتاب النکاح/ باب٣،اِمام الالبانی نے کہا حدیث حسن صحیح ہے ۔
مضمون جاری ہے ،

گذشتہ سے پیوستہ
::::: چوتھا حق ::: اُسے دِینی معاملات (اللہ کی توحید ، طہارت و نجاست ، حلال و حرام جائز ناجائز وغیرہ ) سِکھائے ، اور اُن کے مُطابق زندگی بسر کرنے میں اُس کی مدد کرے :::::
جی ہاں ، یہ بھی بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ خاوند اُس کی دینی تعلیم و تربیت میں واقع کمی پورا کرے ، لیکن ،،،،،افسوس ، صد افسوس کہ آج کتنے مُسلمان مَرد ایسے ہیں جو دادا تک بن جاتے ہیں لیکن اپنے دِین اِسلام کے وہ احکام بھی ٹھیک طور پر نہیں جانتے جِن کو جاننا اُن پر فرض ہے ، چہ جائیکہ وہ کِسی اور کو سِکھائیں، دُنیا داری کا ہر کام ، یا یقینا وہ کام جِس میں کوئی فائدہ متوقع ہو ضرور سِکھایا جاتا ہے ، لیکن دِین سیکھنے اور سِکھانے کے لیے نہ فُرصت ہے اور نہ ہی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ، اگر کبھی کوئی مسئلہ آن پڑا تو مولوی زندہ باد ، جو کہہ دے گا کر لیں گے ، کیا ضرورت ہے دردِ سر لینے کی ، اِنّا لِلِّہِ و اِنِّا اِلیہِ راجِعُون ، اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے ( اِس موضوع پر کچھ بات ''' قیامت کی نشانیوں ''' والی مجلس میں ہو چکی ہے ) ، تو یہ بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ اُسے اللہ کی توحید اور اُس کے دِین ، نہ کہ لوگوں کے ''' مذاہب و مسالک''' کی تعلیم و تربیت دے ،
جو اللہ پر اِیمان لائے ہیں اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کا حُکم ہے ( یَآ اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا اَنفُسَکُم وَاَہلِیکُم نَاراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَالحِجَارَۃُ ) ( اے وہ لوگو جو اِیمان لائے ہو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو (جہنم کی ) آگ سے بچاؤ ( وہ ایسی آگ ہے ) جِس کا ایندھن اِنسان اور پتھر ہیں ) سورت التحریم /آیت ٦ ،
اللہ کی ناراضگی ، اللہ کے عذاب ، جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانے کے حُکم پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اِنسان اللہ کی توحید کا ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کا ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سمجھ کے مُطابق عِلم حاصل کرے ، اُسکا قولی اور عملی طور پراِقرار کرے اور اُس پر عمل کرے ، کیونکہ جہنم کی آگ سے بچنے کا اِس کے عِلاوہ اورکوئی ذریعہ نہیں ، کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مشروط اور صحابہ کے فہم کے مُطابق تابع فرمانی کی جائے ۔
::::: پانچواں حق ::: بیوی کو گُناہوں سے بچائے رکھنا ، اُس کی عِزت و عِفت کی حفاظت :::::
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ( کُلُّکُم رَاع ٍ وَکُلُّکُم مسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ الاِمَامُ رَاع ٍ ومسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ وَالرَّجُلُ رَاع ٍ فی اَہلِہِ وہو مسؤولٌ عن رَعِیَّتِہِ ،،،،،)( تم میں ہر کوئی محافظ اور ذمہ دارہے ، اور ہر کِسی سے اپنی اپنی رعایا (یعنی جِس جِس کی نگرانی و حفاظت اُس کے ذمے تھی ) کے بارے میں پوچھا جائے گا ( یعنی اُن کے حقوق کی ادائیگی اور اُنکے کچھ کاموں کے بارے میں اِس نگران و محافظ سے پوچھ ہو گی اور وہ دُنیا اور آخرت میںجواب دہ ہے )،اِمام ( دِینی اور دُنیاوی راہنما و حُکمران) اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے اور اُسکے بارے میں اُسے پوچھا جائے گا ، مَرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اوراپنی رعایا (یعنی گھر والوں ) کے بارے میں جواب دہ ہے،،،،، ) صحیح البخاری / حدیث٨٥٣ /کتاب الجمعۃ / باب ١١ ( مکمل حدیث '''خاوند کے حقوق ''' میں حق ٦میں ذِکر کی گئی ہے)
چونکہ مَرد اپنے گھر والوں کے اعمال کے بارے میں جواب دہ ہوگا لہذا اُس کے گھر والوں کا اُس پر حق بنتا ہے کہ وہ اُن کو گناہوں سے بچائے اور اُن کی عِزت و عِفت کی حفاظت کرے ، اور بیوی گھر والوں میں سب سے پہلی ہوتی ہے ۔
مضمون جاری ہے

گذشتہ سے پیوستہ
::::: چھٹاحق ::: کھانے پینے ، پہننے اوڑہنے کی ضرورت کو جائز حد میں رہتے ہوئے پورا کرنا :::::
::::: ساتواں حق ::: اپنی رہائشی معیار کے مُطابق رہائش مہیا کرنا :::::
اللہ تعالیٰ کا حُکم ہے ( وَعلَی المَولُودِ لَہُ رِزقُہُنَّ وَکِسوَتُہُنَّ بِالمَعرُوفِ لاَ تُکَلَّف ُ نَفسٌ اِلاَّ وُسعَہَا ) ( اور بچے کے باپ پرفرض ہے کہ اُن عورتوں (بچے کی ماں ، بیوی یا باندی ) کا کھانا پینا اور پہننا اوڑہنا نیکی (اور اپنی استطاعت) کے مُطابق پورا کرے کِسی جان کو اُس کی استطاعت سے زیادہ کا پابند نہیں کیا جائے ) سورت البقرۃ /آیت ٢٣٣
اِمام ابن کثیر رحمہُ اللہ تعالیٰ نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھا ''' اِس کا مطلب ہے کہ بچوں کے باپ پر اپنی خوشحالی اور تنگی دونوں حال میں ، بچوں کی ماؤں کا کھانے پینے اور پہننے وغیرہ کا خرچہ اُٹھانا فرض ہے ، جِس طرح معاشرے میں اُن جیسی دوسری عورتوں کا خرچ ہوتا ہے ، لیکن کِسی قِسم کی فضول خرچی کیئے بغیر اور تنگی دیئے بغیر ''' ۔
مزید فرمایا ( لِیُنفِق ذُو سَعَۃٍ مِّن سَعَتِہِ وَمَن قُدِرَ عَلَیہِ رِزقُہُ فَلیُنفِق مِمَّا آتَاہُ اللَّہُ لَا یُکَلِّف ُ اللَّہُ نَفساً اِلَّا مَا آتَاہَا سَیَجعَلُ اللَّہُ بَعدَ عُسرٍ یُسراً ) ( تا کہ مالدار اپنے مال میں سے ( بیویوں ) پر خرچ کرے اور جِس کا رزق تنگ کیا گیا ہے وہ بھی اُس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اُسے دِیا ہے اللہ نے جِس کو جتنا دیتاہے اُسی کے مُطابق پابند کرتا ہے ، جلد ہی اللہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا ) سورت الطلاق /آیت ٧،
مزید حُکم فرمایا ( اَسکِنُوہُنَّ مِن حَیثُ سَکَنتُم مِّن وُجدِکُم وَلَا تُضَارُّوہُنَّ لِتُضَیِّقُوا عَلَیہِنَّ ) ( جہاں تُم لوگ خود رہتے ہو وہاں اُن ( یعنی اپنی بیویوں) کو بھی رکھو اور اُن پر تنگی کرنے کے لیے اُن کے حقوق کی ادائیگی میں کمی مت کرو ) سورت الطلاق / آیت ٦ ،
سُنّت میں سے اِس کی ایک دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان بھی ہے جو دوسرے حق میں ذِکر کیا گیا، اور دوسری یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے عظیم خُطبہ میں جِسے عام طور پر ''' خُطبہ حج الوِداع ''' کہا جاتا ہے ، فرمایا ( فَاتَّقُوا اللَّہَ فی النِّسَاء ِ فَاِنَّکُم اَخَذتُمُوہُنَّ بِاَمَانِ اللَّہِ وَاستَحلَلتُم فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللَّہِ وَلَکُم عَلَیہِنَّ اَن لَا یُوطِئنَ فُرُشَکُم اَحَدًا تَکرَہُونَہُ فَاِن فَعَلنَ ذلک فَاضرِبُوہُنَّ ضَربًا غیر مُبَرِّحٍ وَلَہُنَّ عَلَیکُم رِزقُہُنَّ وَکِسوَتُہُنَّ بِالمَعرُوفِ) ( اور بیویوں کے معاملات میں اللہ (کی ناراضگی) سے بچو کیونکہ تُم نے اُن کو اللہ کی حفاظت کے ساتھ لیا ہے اور اُن کی شرمگاہوں کو اللہ کی اجازت سے (اپنے لیے) حلال کیا ہے اور اُن پر تُمہارا حق ہے کہ وہ کِسی ایسے (مرد یا عورت )کو تُمہارے گھر میں نہ آنے دیں جو تُمہیں پسند نہ ہو ، اور اگر وہ ایسا کریں تو ایسی مار مارو جوخطرناک نہ ہو ، اور اُن کاحق ہے تُم پر کہ اُن کا کھانا پینا اور پہننا اوڑھنا معروف طریقے پر پورا کرو ) صحیح مُسلم / حدیث ١٢١٨/کتاب الحج / باب ١٩ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
مندرجہ بالا پہلی دو آیات گو کہ اُن بیویوں کے بارے میں جنہیں طلاق دی جا چکی ہو ، لیکن ابھی وہ خاوند کی ذمہ داری میں ہوں ، شرعاً علیحدگی نہ ہوئی ہو ، لیکن حُکم اُن بیویوں کے بارے میں بھی ہے جِن کو طلاق نہ دی گئی ہو ، کیونکہ وہ بھی خاوند کی ذمہ داری میں ہوتی ہیں ، اِن مندرجہ بالا تینوں آیات میں اللہ کی طرف سے یہ حُکم دیے گئے ہیں کہ خاوند اپنی بیویوں کو کھانے پینے ، پہننے اوڑھنے ، اور دیگر ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے پیسے دیں یا خود ذمہ داری کے ساتھ وہ ضروریات پوری کریں ، اور اپنی رہائش کے مُطابق رہائش مہیا کریں ،اور یقینا یہ حق صِرف جائز طور پر یعنی شریعت کی حد میں رہتے ہوئے پورا کیا جائے گا ، بیوی کی ہر خواہش کو ضرورت سمجھ کر حلال و حرام کی تمیز رکھے بغیر پورا کرنا اُس کا حق نہیں ہے ،
::::: مسئلہ ::::: اگر کوئی خاوند اپنی بیوی بچوں کی جائز ضروریات کنجوسی کی وجہ سے پوری نہیں کرتا تو بیوی کو اجازت ہے کہ وہ خاوند کے مال میں سے اُس کی اجازت اور عِلم کے بغیر اپنی اور اپنی اولاد کی جائز ضروریات پورا کرنے کے لیے کچھ مال لے لیا کرے ،
::::: دلیل ::::: ہند بنت عُتبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ''' میرا خاوند ابو سُفیان (رضی اللہ عنہُ ) کنجوسی کرتا ہے اور میری اور میری اولاد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مُناسب مال نہیں دیتا ، اگر میں اُس کے عِلم میں لائے بغیر اُس کے مال میں سے کچھ نکال نہ لیا کروں تو (ہماری ضروریات پوری نہ ہوں ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( خُذِی ما یَکفِیکِ وَوَلَدَکِ بِالمَعرُوفِ) ( اُتنا (مال ) لے لیا کرو جو تُمہاری اور تمہاری اولاد کی جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو ) صحیح البُخاری /حدیث٥٠٥٤٩ /کتاب النفقات /باب ٩ ،
یہاں خواتین کو خوش ہونے سے پہلے یہ ضرور سمجھنا چاہیئے کہ صِرف جائز ضروریات پوری کرنے کے لیے خاوند کو پابند کیا گیا ہے ، اور صِرف جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بلا اِجازت اُس کامال لینے کی اجازت دی گئی ہے ، اور جائز و ناجائز اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور مقرر کردہ حدود کے مُطابق ہوتا ہے ، اپنی سوچ سمجھ ، معاشرتی عادات یا خاندانی مجبوریوں کی بِناء پر نہیں ۔
::::: حدود سے تجاوز کا خوفناک نتیجہ ::::: اگر بیویاں اپنے خاوند کی استطاعت سے بڑھ کر اُس پر بوجھ ڈالیں اور بغیر ضرورت کے مُطالبات کرتی رہیں تو اُس کا خوفناک نتیجہ صِرف اُن کے خاندان تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ سارے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے ، کیونکہ معاشرے میں مالی تغیرات کا دارومدار مَردوں کی مالی اور معاشی سرگرمیوں پر ہوتا ہے اور جب مَردوں کو اپنی اپنی استطاعت سے بڑھ کر مُطالبات و خواہشات پوری کرنا پڑتی ہیں تو پھر حلال و حرام ، جائز و ناجائز ، حق و نا حق کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اورہر کوئی صِرف مال حاصل کر نے کے چکر میں مصروف نظر آتا ہے اور سارا معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِنَّ اوَل مَا ہَلکَ بَنو اِسرَائِیلَ انَّ اِمرَاۃَ الفَقِیر کَانت تَکلِفُہُ مِن الثَّیابِ او الصَّیغِ _ او قَال مِن الصَّیغَۃِ _ مَا تَکلِف ُ اِمرَاۃُ الغَنِی) ( بنی اِسرائیل کو تباہ کرنے والی پہلی چیز یہ تھی کہ غریب آدمی کی بیوی اُس پر اپنے کپڑے لتے کا اُتنا ہی خرچ ڈالتی تھی جتنا کہ امیر آدمی کی بیوی ) سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث ٥٩١،
مضمون جاری ہے ،

[SIZE="2"] گذشتہ سے پیوستہ
:::::آٹھواں حق ::: بیوی کی جسمانی (جِنسی ) ضرورت کا خیال رکھنا اور اُسے پورا کرنا :::::
جِس طرح فِطری طور پر مَرد کو جِنسی تسکین کی ضرورت ہوتی ہے اِسی طرح عورت کو بھی ہوتی ہے ، اور مَرد کی طرح ہی وہ بھی اپنی جسمانی (جِنسی) خواہش کی تکمیل چاہتی ہے ، جِس طرح بیوی پر خاوند کا حق ہے کہ وہ خاوند کو کِسی بھی حال میں اِس تعلق داری سے روکے نہیں ، جیسا کہ ''' خاوند کے حقوق''' میں حق ٣ میں بیان کر چکا ہوں ، اِسی طرح خاوند پر بیوی کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اِس معاملے میں پُر سُکون رکھے ، صِرف اپنی خواہش پوری کرنے کو ، ہر سال بچہ پیدا ہو جانے کو ہی بیوی کی تسکین نہ سمجھے بلکہ اپنی بیوی کی اِس انتہائی اہم فِطری ضرورت کا مکمل احساس حاصل کرے اور مکمل خبر رکھتے ہوئے بیوی کی یہ ضرورت پوری کرے ، اگر خاوند بیوی کی یہ خواہش ٹھیک طرح سے پوری نہ کر پائے ، تو پھر شیطان کا داؤ خوب چلتا ہے اور گُناہ کا راستہ کُھلتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر مُسلمان کی عِزت و عِفت کو محفوظ رکھے ، یا ازداوجی زندگی میں ایسی بے سکونی رہتی ہے جِس کا بظاہر کوئی سبب بھی دِکھائی نہیں دیتا ، کیونکہ عورت اندر ہی اندر جلتی کُڑھتی رہتی ہے اور اُس کی جلن مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہے ، اور خاندانی زندگی راحت و سکوں سے عاری رہتی ہے ، اور ''' خاوند جی ''' اپنی کمزوری یا نالائقی کو جانے بغیر بیوی کو بُرا بھلا کہتے اور بتاتے رہتے ہیں ، اور ، اور ، اور،،،،،،،،،،،،،،،
عُثمان بن معظون رضی اللہ عنہُ کا واقعہ معروف ہے کہ اُنہوں نے عِبادت کے لیے خود کو فارغ کر رکھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا ( یا عُثمانُ اِنِّی لَم اُومر بِالرَّھبَانِیۃِ ، اَرَغِبتَ عَن سُنَّتِی ؟ )( اے عُثمان مجھے راہبانیت کا حُکم نہیں دیا گیا ، کیا تُم میری سُنّت سے مُنہ پھیرو گے ؟ ) اُنہوں نے عرض کیا ::: نہیں اے اللہ کے رسول ::: تو فرمایا ( اِنَّ مِن سُنَّتی ان اُصلي و اَنام ، و اصُوم َ و اُطعَم ، و انکِحَ و اُطلِّقَ ، فَمَن رَغِبَ عَن سُنَّتِی فَلَیسَ منِّی ، یا عُثمانَ ، اِنَّ لِاھلِکَ عَلِیکَ حقاً ، و اِنَّ لِنَفسِکَ عَلِیکَ حَقاً ) ( میری سُنّت میں سے یہ ہے کہ میں سوتا بھی ہوں تو جاگتا بھی ہوں ،اور روزہ رکھتا ہوں تو کھاتا بھی ہوں ، اور نکاح کرتا ہوں تو طلاق بھی دیتا ہوں ، لہذا جِس نے میری سُنّت سے مُنہ پھیرا تو وہ مجھ سے نہیں ، اے عُثمان یقینا تمہاری بیوی کا تُم پر حق ہے اور تُمہاری جان کا تُم پر حق ہے ) سُنن الدارمی ، حدیث ٦١٦٩ / و مِن کتاب النکاح / باب ٣ کی حدیث ٣ ، حدیث حسن ہے، السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ، چوتھی جلد ، صفحہ ٣٨٧ ،
اِس حدیث میں ہمارے اِس رواں موضوع کی دلیل کے عِلاوہ اور بھی کچھ سبق ہیں اور حُکم ہیں ، اُن کی شرح میری زیرِ تیاری کتاب ''''' وہ ہم میں سے نہیں ''' میں موجود ہے ، سُنّت کی تعریف اور اقسام کا مختصر تعارف ''' وضوء کی سنتیں ''' کے آغاز میں ذِکر کیا گیا ہے ،
عبداللہ ابن عَمر ابن العاص رضی اللہ عنہما کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ وہ دِن بھر روزے میں رہتے ہیں اور رات بھر قیام کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے اِس خبر کی تصدیق فرمانے کے بعد فرمایا ( فَلا تَفعَل صُم وَاَفطِر وَقُم وَنَم فاِن لِجَسَدِکَ عَلَیکَ حَقًّا وَاِنَّ لِعَینِکَ عَلَیکَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَوجِکَ عَلَیکَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَورِکَ عَلَیکَ حَقًّا ) ( تو پھر جو تُم کر رہے ہو وہ مت کیا کرو روزہ بھی رکھو اور کھاو بھی ، کیونکہ یقینا تمہارے جِسم کا تُم پر حق ہے اور تُمہاری آنکھوں کا تُم پر حق ہے اور تُمہاری بیوی کا تُم پر حق ہے اور تُمہارے مہمانوں کا تُم پر حق ہے ) صحیح البُخاری / حدیث ١٨٧٤ /کتاب الصوم /باب ٥٤
اِس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے حقوق کے ساتھ بیوی کا حق بھی بیان فرمایا ہے ، جِس کی تفسیر ابو الدارداء اور سلمان رضی اللہ عنہما کے ایک واقعہ میں ملتی ہے اور وہ بھی صحیح البخاری میں ہی ہے ، اور وہ حدیث اِس بات کی بھی ایک اور دلیل ہے کہ بیوی کی جسمانی خواہش اور ضرورت کا خیال رکھنا خاوند پر بیوی کا حق ہے ، حدیث ٥٧٨٨ /کتاب الادب/باب ٨٦ ، اختصار کے پیش نظر اِس حدیث کو بیان نہیں کر رہاہوں ۔
::::: نواں حق ::: بیوی سے (جنسی) ملاپ کا حال کِسی بھی اور پر ظاہر نہ کرے :::::
ابو سعید الخُدری رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اِنَّ من اَشَرِّ النَّاسِ عِندَ اللَّہِ مَنزِلَۃً یَوم القِیَامَۃِ الرَّجُلَ یُفضِی اِلی امرَاَتِہِ وَتُفضِی اِلیہ ثُمَّ یَنشُرُ سِرَّہَا ) ( قیامت والے دِن اللہ کے ہاں بُرے ترین لوگوں میں سے وہ شخص بھی ہو گا جو (جنسی رغبت کے ساتھ اور ملاپ کے لیے) اپنی عورت (بیوی ، یا باندی )کی طرف مائل ہو اور وہ عورت بھی (اِسی طرح) اُس کی طرف مائل ہو ( اور پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد ) وہ شخص اپنی عورت کے راز بتاتا (یعنی جو کچھ ایک دوسرے نے کیا وہ ) پھرے ) صحیح مسلم / حدیث ١٤٣٧ /کتاب النکاح / باب ٢١
ترجمے میں قوسین () کے درمیان جو الفاظ ہیں وہ ایک دو دوسری روایات کی بنیاد پر ہیں ، چونکہ وہ روایت صحت کے اُس درجہ پر نہیں پہنچتی کہ اُنہیں کِسی حُکم کے لیے دلیل بنایا جائے ، اِس لیے اُن کو نہیں لکھ رہا ہوں ، اگر وہ روایات صحیح ہوتیں تو عورت کے لیے بھی بالکل واضح ممانعت ہوتی کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ ہونے والے جنسی معاملے کی کِسی کو نہ کرے ، لیکن اِسکا یہ مطلب نہیں کہ عورت کو اجازت ہے ، کہ وہ اپنے اور اپنے خاوند کے درمیان ہونے والے جنسی معاملے کی خبر کر سکتی ہے ۔
الحمد للہ تعالیٰ ، یہاں تک ، میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کی بات مکمل ہوئی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور حق جاننے سمجھنے ماننے اور اپنا کر اُس پر عمل اور اُس کی تبلیغ و تشہیر کی توفیق عطاء فرمائے اور اُسی پر عمل کرتے کرتے ہماری اللہ سے ملاقات ہو ۔
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلبگارِ دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (29-05-10), ھارون اعظم (26-05-10), محمد رضوان (26-05-10), محمدخلیل (26-05-10), مرزا عامر (15-10-10)
پرانا 28-05-10, 09:43 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ ،
بھائی منتظمین ، اور بھائی فیصل ناصر جزاکما اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (29-05-10)
پرانا 28-05-10, 09:58 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ضِرار Derar مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
کاونٹر بتاتا ہے اس آرٹیکل کو 736 دفعہ دیکھا گیا
میرے کو یہ بالکل سچ لگتا ہے
اسے بھی دیکھا ہی گیا ہے
پڑھا نہیں
کیونکہ یہ پڑھا جا سکتا ہی نہین
یار عادل صاحب لگتا ہے آپ کوئی خاص قسم کی سکرین استعمال کرتے ہو
جس میں چھوٹی چھوتی لکھائی بھی بڑی بڑی دکھائی دیتی ہو
جناب سب کا خیال رکھا کرو
شکریہ
و علیکم السلام و رحمۃ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، ضِرار بھائی ،
آپ کے سارے مشورے بہت اچھے ہیں‌،
نصحیت تو ہوتی ہی اچھی ہے،
""" یار """ آپ کی بے تکلفی بھی اچھی لگی ہے ،
ضِرار بھائی میں کوئی خاص قسم کی سکرین استعمال نہیں کرتا ، یہ مضامین کافی پرانے ہیں اور اس وقت مجھے یہاں کے فونٹ سإئز کا درست اندازہ نہ تھا ،
ان شاء اللہ اگلی فرصت میں‌اس مضمون اور جن جن مضامین کے فونٹ سائز کے چھوٹے ہونے کا پتہ چلا اُن مضامین کو ری فارمیٹ کردوں گا ،
ضِرار بھائی میں تو سب کا ہی خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اس لیے بسا اوقات لغوی طور پر غلط بھی لکھ جاتا ہوں کہ عام زبان جاننے والا قاری بھی آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکے ، پھر بھی اگر کسی قاری کو کسی قسم کی کوئی مشکل ہو تو میں اُس کا ممنون ہوں گا کہ وہ اس کا اظہار کرے ، جس طرح آپ کر رہے اور کیے ہی چلے جا رہے ہیں
جزاک اللہ خیر ا، اگر اسی طرح قاری صاحبان تنقید کرتے رہیں تو ان شاء اللہ بہت خیر مل سکتی ہے ، والسلام علیکم ۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (29-05-10), مرزا عامر (15-10-10), ضِرار Derar (29-05-10), عبداللہ حیدر (28-05-10)
پرانا 29-05-10, 09:06 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
منتظمین صاحب
فیصل ناصر صاحب
عادل صاحب
سب کا شکریہ
فیصل ناصر صاحب آپ نے جو پوسٹ لگایا ہے
وہ کیا ری فارمیٹ سیمپل ہے
ضِرار Derar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-07-10), مرزا عامر (15-10-10)
پرانا 15-10-10, 04:56 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ضِرار Derar مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
کاونٹر بتاتا ہے اس آرٹیکل کو 736 دفعہ دیکھا گیا
میرے کو یہ بالکل سچ لگتا ہے
اسے بھی دیکھا ہی گیا ہے
پڑھا نہیں
کیونکہ یہ پڑھا جا سکتا ہی نہین
یار عادل صاحب لگتا ہے آپ کوئی خاص قسم کی سکرین استعمال کرتے ہو
جس میں چھوٹی چھوتی لکھائی بھی بڑی بڑی دکھائی دیتی ہو
جناب سب کا خیال رکھا کرو
شکریہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ،
ضرار بھإئی میں نے پورا آرٹیکل ری فامیٹ کر دیا ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (16-10-10)
پرانا 15-10-10, 05:46 PM   #9
Junior Member
اجنبی
 
زندگی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: kjdflkjfksfskdfsld
عمر: 22
مراسلات: 25
کمائي: 1,024
شکریہ: 26
23 مراسلہ میں 106 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے تو اتنا پتا ہے کہ بیوی کو خاوند کی خوشی کے لیے اس کی پر بات ماننی چاہیے
زندگی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
زندگی کا شکریہ ادا کیا گیا
گلاب خان (23-10-10)
پرانا 16-10-10, 09:13 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,736
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
Talking

بی بی جی
ایسے تو بڑ بڑ ہوتی ہے
گڑ بڑ ہوتی ہے
میان جی زیاتیاں کرتے ہین
ظلم کے کلاف بولنا چاہیے
ضِرار Derar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-10-10, 03:19 AM   #11
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,788
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زندگی مراسلہ دیکھیں
مجھے تو اتنا پتا ہے کہ بیوی کو خاوند کی خوشی کے لیے اس کی پر بات ماننی چاہیے
آفرین ہے آپ نے بہت خوبصورت بات کی لیکن موجودہ ماحول میں تو یہ بہت مشکل بات ہے عمل کرنے کے لئے۔ اگرچہ اس سے بہت ساری مشکلات اور مسائل سے بچا جاسکتا ہے
__________________

اَلسَّلامُ عَلیکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَتُہ
گلاب خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, فرض, کورٹ, پاک, پسند, مکمل, ماں, متوقع, معاشرہ, آج, اللہ, بچوں, توحید, تعلیم, حدیث, حسن, حضرات, خواتین, زندگی, غم, صاف, صبر, صحیح, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حقوق الزوجین ::::: خاوند کے بیوی پر حقوق ::::: عادل سہیل ازدواجی زندگی 8 16-10-10 09:02 AM
سرمایہ دارانہ نظام کا زوال Real_Light خبریں 8 21-04-09 08:57 AM
شیر کی لازوال محبت عبدالقدوس دلچسپ اور عجیب 2 22-12-08 09:33 PM
’امریکہ زوال پذیر طاقت ہے‘ محمدعدنان خبریں 0 30-04-08 07:10 AM
انسانی کمزوریاں Real_Light عمومی بحث 0 21-04-08 09:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger