|
|
#1 |
|
Administrator
![]() |
ایک تھا گورو ، بڑا نیک دھر ماتما ۔ دو اس کے چیلے تھے ، وفادار جاں نثار ۔ گورو کے خون کی جگہ اپنا پسینہ بہانے کے لیے تیار ۔ ایک کا شبھ نام پوربو مل تھا ، دوسرے کا پچھمی چند ۔ گوروجی جب لوگوں کو اپدیش دینے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کے بعد آرام کرنے کو لیٹتے تو چیلا پوربومل ان کی داہنی ٹانگ دباتا اور پچھمی چند بائیں ٹانگ کی ٹہل سیوا کرتا ۔ دونوں اپنے اپنے حصے کی ٹانگ کی مٹھی چاپی کرتے ، تیل چپڑ کر اسے چمکاتے ، جھنڈیاں اور گھنگرو باندھ کر اسے سجاتے ۔ اس پر مکھی بھی نہ بیٹھنے دیتے تھے۔ ایک روز کرنا پرماتما کا ایسا ہوا کہ گورو جی ایک کروٹ لیٹ گئے اور ان کی بائیں ٹانگ داہنی ٹانگ کے اوپر جا پڑی ۔ چیلے پوربومل کو بہت غصہ آیا ۔ اس نے فورا ایک ڈنڈا اٹھایا اوربائیں ٹانگ پر رسید کر دیا ۔ گوروجی نے بلبلا کر داہنی ٹانگ اوپر کر لی ۔ اب پچھمی چند کی غیرت نے جوش مارا ۔ اس نے اپنی لٹھیا اٹھائی اور داہنی ٹانگ کی خوب مرمت کی ۔ گوروجی بہت چلائے کہ ظالمو کیوں مارے ڈالتے ہو ہائے ، لیکن چیلے کب مانتے تھے ۔ گوروجی کی ٹانگیں سوج کر کُپا ہو گئیں ، مدتوں ہلدی چونا لگانا پڑا ۔
اب آگے چلیے ، کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ لالہ پچھمی چند کے کئی بیٹے تھے ، بڑے ہونہار اور ہوشیار ؛ پشاوری مل ، سندھو رام ، لاہوری مل اور بلوچ رائے ۔ لالہ جی کا دیہانت ہوا تو یہ ٹانگ انہوں نے ورثے میں پائی ۔ وہ گوروجی کی ٹانگ دباتے تھے لیکن کوئی ران کا حصہ زیادہ دباتا تھا ۔ کوئی پنڈلی پر زیادہ توجہ دیتا تھا ۔ اُخر ایک زبردست جھگڑا ہو اور طے ہوا کہ ہم اپنا حصہ الگ کر لیں گے ۔ لالہ پوکو مل نے کہا ، ہاں ہاں ٹھیک کر رہے ہو میں بھی اپنے حصے کی ٹانگ کاٹ کر لے جا رہا ہوں ۔ اب ان برخورداروں نے گنڈاسا منگوایا ۔ ایک نے ران سنبھالی ، بوری میں ڈالی ۔ دوسرے نے پنڈلی لے لی ، تیسرے نے گھٹنا ، چوتھے نے باقی کو سمیٹا اور گھر کی راہ لی اور اس کے بعد سبھی ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے ۔ گوروجی کیا کیا ہوا؟ مرے یا جیئے ۔ جیئے تو کتنے دن تک جیئے ۔ اس کا کہانی میں ذکر نہیں ۔ مصنف: ابنِ انشاء
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 184
کمائي: 490
شکریہ: 0
23 مراسلہ میں 42 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گروجی چیلے بہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
| Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (20-04-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب سبھی حق جمانے پر دھیان دینے لگیں تو اصل کی توجہ ختم ھو جاتی ھے پھر بٹوارہ ھی خسارہ بن جاتا ھے۔ اسلیے اپنی ذات سے نکل کر ملک وقوم کے فائدے اور نقصان کا سوچنا ھے۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فائدے, ھو, ھے, لگیں, نکل, نقصان, نثار, ملک, اپنی, اللہ, انشا, اصل, بھائی, توجہ, جواب, جاتی, جاتا, حق, خون, ختم, خسارہ, دینے, ذات, زندگی, سبھی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|