|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,615
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اماں... اچھے برے حالات تو آتے ہی رہتے ہیں نا... لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم بالکل ہمت ہارجائیں... کیا ہوا اگر ابو بیمار ہوگئے... جو ذات بیمار کر سکتی ہے، وہ شفا بھی تودے سکتی ہے نا... آپ اللہ سے دعا کریں... میں بھی کروں گا... لیکن اب دوبارہ ایسی بات مت کہیے گا...“
ساجد کی بات سن کر زبیدہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے... واقعی پریشانیاں آجائیں تو بچے وقت سے پہلے ہی بڑے ہوجاتے ہیں... زبیدہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی... اور پھر جلد ہی وہ سو گیا۔ زبیدہ کے دو بیٹے تھے... بڑا بیٹا نوکری کرتا تھا، لیکن تقریباً سال ہونے کو تھا، گھر سے ناراض ہو کر چلا گیا تھا... کوئی رابطہ کرتا... اور نہ کبھی پیسے وغیرہ بھجواتا تھا... زبیدہ کے شوہر نعیم صاحب نے بہت ڈھونڈا، لیکن کچھ پتا نہ چل سکا... نعیم صاحب بیٹے کی نوکری کے بعد مطمئن ہوگئے تھے اور اپنا کام چھوڑ دیا تھا... اب ایک دفعہ پھر مشقت میں پڑ گئے اور نئے سرے سے کام شروع کر دیا... لیکن مسلسل سخت محنت کے باعث ان پر مختلف بیماریوں نے حملہ کر دیا... ہر دوسرے دن کسی نئے مرض میںمبتلا ہوجاتے... جو کماتے، وہ انھی کے علاج معالجے پر لگ جاتا... گھر کے حالات مزید خراب تر ہورہے تھے... چھوٹا بیٹا ساجد ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا... زبیدہ ابھی اسے پڑھائی سے نہیں ہٹانا چاہتی تھی... جیسے بھی گزر بسر ہورہی تھی... ہورہی تھی اور اللہ کے فضل سے فاقوں تک نوبت نہیں پہنچی تھی... لیکن آخر وہ دن بھی آگیا جو ان دونوں کے لیے پریشان ترین دن تھا جب نعیم صاحب پر فالج کا حملہ ہوا... علاج معالجے کے لیے بہت رقم کی ضرورت تھی... وقتی طور پر تو اس نے ادھار رقم مانگ کر گزارا کر لیا... لیکن نعیم صاحب اب دوبارہ کام کرنے کے قابل نہیں رہ گئے تھے... گھر میں فاقوں کی نوبت آنے لگی تو زبیدہ نے شام میں ساجد کو ایک ورکشاپ پر بھیجنا شروع کر دیا... گھر کا خرچ اور پھر ادھار... زبیدہ اکثر اوقات تو بالکل ہی بہکی بہکی باتیں کرنے لگتی... آج بھی وہ ساجد کے پاس بیٹھی پریشانیوں کا تذکرہ کر رہی تھی جب ساجد اسے سمجھانے لگا... وہ اکثر اسے سمجھاتا رہتا تھا... البتہ نعیم صاحب کا مسئلہ بالکل الگ تھا... بڑے بیٹے کے گھر سے چلے جانے کے بعد وہ ساجد کے ساتھ بھی بات چیت کم ہی کرتے تھے... ساجد بھی ان کے اس رویے کو محسوس کرتا تھا، لیکن فی الحال وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا... نہ ہی انھیں دلاسہ دے سکتا تھا... کیونکہ اب زبان کے دلاسے کی بجائے عمل سے دلاسہ دینے کی ضرورت تھی... اور ساجد اب پختہ عزم کر چکا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں یہ ثابت کر دے گا کہ وہ اپنے بھائی سے بالکل مختلف ہے... اور سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے... کل ساجد کا آٹھویں جماعت کا رزلٹ تھا...زبیدہ اس کے رزلٹ کے لیے بہت فکر مند تھی، کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہی یہ چاہتی تھی کہ ساجد کو آگے بھی پڑھائے اور اس کے لیے اب اس کا اچھے نمبروں سے پاس ہونا ضروری تھا۔ رات کے تقریباًبارہ بجے زبیدہ کے کمرے سے اونچی اونچی آوازیں آنے لگیں... ساجد پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے امی ابو کے کمرے کی طرف چل دیا... ابھی وہ باہر ہی تھا کہ اسے محسوس ہواکہ اندر اسی کا نام لیا جارہا ہے... وہ وہیں رک گیا... اندر زبیدہ اور نعیم صاحب اولاد کے موضوع پر جھگڑ رہے تھے... دراصل زبیدہ ابھی تک جائے نماز پر بیٹھی ساجد کے رزلٹ کے لیے دعا کر رہی تھی اور نعیم صاحب کا موقف یہ تھا کہ اولاد جوان ہوجائے تو خود غرض ہوجاتی ہے... والدین کو صرف دعاؤں کے لیے چھوڑ دیتی ہے... اور جب اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجاتی ہے تو پھر اسے بددعاؤں کی پروا نہیں رہتی... اس کے برعکس زبیدہ ان سب باتوں کی نفی کر رہی تھی... کافی دیر یہ جھگڑا چلتا رہا یہاں تک کہ زبیدہ اکتا کر جائے نماز سے اٹھ ہی گئی، تب جا کر نعیم صاحب آرام سے سوئے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,615
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ساجد چپ چاپ کھڑا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اپنے بابا کو کیسے بتائے کہ ساری دنیا ایک جیسی نہیں... وہ اپنے بھائی جیسا کبھی نہیں کرے گا... لیکن وہ کچھ بھی نہ کہہ سکتا تھا...
رزلٹ تو ٹھیک ہی آگیا، لیکن حالات کے پیشِ نظر ساجد نے پڑھائی کو خیر باد کہا اور ایک دفتر میں چوکیداری کرنے لگا... تقریباً ایک سال تو سب ٹھیک رہا... اس کے بعد ساجد کی ڈیوٹی رات کے وقت کی لگ گئی... پھر کچھ عرصے بعد ایسا ہوا کہ وہاں چوری ہوگئی... اور دفتر کے مالکان حضرات نے کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ ساجد کو بھی حوالات میں بند کروا دیا... کیونکہ چوری کچھ اس نوعیت کی تھی کہ جب تک کوئی اپنے دفتر کا بندہ ساتھ نہ ہوتا... تقریباً ناممکن ہی تھا... لیکن یہ سب ہوا ایسے آناً فاناً کہ ساجد کو گھر رابطہ کرنے کا بھی وقت نہ مل سکا... اور پریشانی بھی اتنی تھی کہ کسی کو یہ کہنا بھی یاد نہ رہا کہ میرے گھر فون کر کے بتا دینا... ساجد بالکل بے گناہ تھا... تھانے میں بھی وہ چپ چاپ بیٹھا تھا اور آس پاس کے لوگوں کو دیکھ رہا تھا... جو ساتھی اس کے ساتھ آئے تھے... ان میں سے اکثر تو بالکل بے فکر تھے کہ جب قصور ہی کوئی نہیں تو پریشانی کیسی... ساجد کو بھی وہ حوصلہ دے رہے تھے... لیکن ساجد کی پریشانی اس لیے قطعاً نہیں تھی کہ وہ حوالات میں بند تھا... یا گھر والوںکی یاد ستا رہی تھی... بلکہ اسے دکھ تھا تو صرف اپنے بابا کی سوچ کا تھا... وہ یقینایہی سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ بھی گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے... بالکل ایسے جیسے اس کا بڑا بھائی دانش چلا گیا تھا... اور اسے بھی اب ایک سال ہوگیا تھا... ”میری ماں کتنی بڑی دلیلیں پیش کرتی تھی... بہت بڑے دعوے کرتی تھی... میرا ساجد ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنے گا... نجانے اس بے چاری کو کیا کچھ سننا پڑ رہا ہوگا...بابا تو ویسے ہی بیماری کے بعد بہت چڑ چڑے سے ہوگئے تھے... کون ہے یہاں میرا جو میری ضمانت کروا دے...“ ساجد ایسی باتیں سوچتا جارہا تھا اور مزید پریشان ہوتا جارہا تھا، کیونکہ اکثر لوگ ضمانت پر رہاہوچکے تھے... دو دن مزید اسے وہاں گزر گئے اور کوئی باہر نکلنے کی صورت نظر نہ آئی... وہ دعائیں بھی بہت کر رہا تھا... ظاہر ہے، اللہ کے سوا اور کون تھا جو اس پریشانی میں اس کی مدد کرتا... جب انسان ہر چیز سے مایوس ہوجائے تو صرف یہی دروازہ رہ جاتا ہے جو ہمیشہ کھلا ملتا ہے... آخر تین دن بعد ساجد کی ضمانت ہوگئی... کیس ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا... اس لیے ساجد حیران تھا کہ اس کی ضمانت کس نے کروائی... لیکن بہرحال جس نے بھی کروائی، کام تو اس نے نیکی کا کیا تھا... اب اس کا جی چاہ رہا تھاکہ اڑ کر اپنے گھر پہنچ جائے اور اپنے بابا کے سارے گمان جھوٹے کر ڈالے... ابھی وہ انھیں سوچوں میں گم تھا کہ وہ ایک آواز سن کر چونک اٹھا: ”جانتے ہیںساجد صاحب! آپ کی ضمانت کس نے کروائی۔“ ساجد نے جلدی سے مڑ کر دیکھا تو اس کا بڑا بھائی دانش کھڑا مسکرا رہا تھا... ساجدکچھ دیر تو اس کا منہ دیکھتا رہا، پھر نظریں جھکا کر پست سی آواز میں بولا ”شکریہ“ اور پھروہاں سے جانے لگا۔ دانش نے اسے بازو سے کھینچااور گلے لگا کر ملا: ”ساجد... ناراض ہو۔“ ساجد نے ناراض انداز میں ہی اس کی طرف دیکھا، لیکن خاموش ہی کھڑا رہا۔ ”ساجد... میں بہت شرمندہ ہوں تم سب سے... میں گھر واپس آنا چاہتا ہوں۔“ ”کیوں۔“ ساجد نے روکھے پن سے کہا۔ ”کیوں... کیا میرا گھر نہیں وہ... میرے ماں باپ نہیں؟“ ”اب گھر یاد آیا ہے... جب پہاڑوں جیسے بڑے غم دے کر جارہے تھے تب نہیں معلوم تھاکہ وہ میرا گھر ہے...میرے ماں باپ ہیں۔“ ”ساجد... صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے نا...تم مجھے معاف کر دو... امی ابو سے میں معافی مانگ لوں گا۔“ دانش نے عاجزی سے کہا۔ ”امی تو آپ کو کب سے معاف کر چکیں ہیں... بس ابو کو منا لو۔“ ”یعنی... تم مان گئے۔“ دانش نے مسکراتے ہوئے کہا... ساجد نے بھی مسکرا کر ہی جواب دینا مناسب سمجھا... اور دونوں گھر کو روانہ ہوئے جہاں ان کے والدین اپنے دونوں بیٹوں کی سلامتی کے لیے اور گھر آنے کے لیے نجانے کب سے ہاتھ پھیلائے دعائیں کر رہے تھے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (13-10-09), ملک بھائی (15-10-09) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
سادہ سی اور اچھی سی کہانی ہے، بہت شکریہ آپکا
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,615
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ یاسر بھائی آپکا بھی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| گمان, لوگ, نوکری, نماز, نظر, مکمل, ماں, معلوم, اللہ, انسان, بھائی, جواب, جلد, دعا, رات, زندگی, سال, شوہر, شام, علاج, عزم, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|