واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




پیار بھرے دو نین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-07-07, 04:59 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پیار بھرے دو نین

پیار بھرے دو نین

محمد فراز

خدا کسی دشمن کو بھی اندھا نہ کرے۔ آنکھیں نہ ہونے سے انسان کس قدر مجبور ہوجاتا ہے! اس کے سامنے کوئی بھی کھیل کھیلا جاتا رہے‘ وہ نہیں دیکھ سکتا۔ میں کسی اور کی بات نہیں کررہا ہوں اپنی ہی بات کررہا ہوں۔ مجھے نوّے فیصد یقین ہے کہ میرے اندھے ہوجانے کی وجہ سے میری بیوی بے حد خوش ہے۔ اوپری دل سے تو وہ میری دل جوئی کرتی رہتی ہے لیکن اندر ہی اندر وہ اس نوجوان ڈاکٹر کو چاہنے لگی ہے جو روزانہ دیکھنے کے لیے آتا ہے‘ اسی لیے تو بیماری کا بہانہ کرکے وہ پچھلے ایک ماہ سے بستر پر پڑی ہوئی ہے تاکہ ڈاکٹر روزانہ آئے اور دونوں کی ملاقاتیں آسانی سے ہوتی رہیں‘ لیکن اس سے پہلے بھی وہ اس ڈاکٹر سے کب نہیں ملتی تھی۔ اس نے پہلے بھی تو کئی بار بتایا تھا کہ آج شاپنگ کرتے وقت اس کی ملاقات ڈاکٹر سے ہوگئی تھی۔ پھر وہ اپنی کار میں اسے گھر تک چھوڑ گیا تھا۔

ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے‘ ہمیشہ کی طرح جب ڈاکٹر اسے دیکھنے کے لیے آیا تھا تو شاید اس کی نظر دوا کی شیشی پر پڑی تھی کیوں کہ میں اس کی آواز کمرے کے باہر کھڑا ہوا صاف طور پر سن رہا تھا۔ اس نے بڑے ہی پیار بھرے لہجے میں میری بیوی سے کہا تھا۔ ”ارے یہ کیا! ابھی تک شیشی میں ایک وقت کی دوا موجود ہے۔ لائو میں تمہیں خود پلادوں۔“

یہ سن کر میں اچانک کمرے میں داخل ہوگیا تھا اور میں نے ڈاکٹر سے کہا تھا۔ ”رہنے دو ڈاکٹر‘ میں تو موجود ہوں‘ خود پلا دوں گا۔“

اس وقت میری بیوی نے جو جواب دیا تھا اسے سن کر میرے تن بدن میں آگ سی لگ گئی تھی‘ اس نے کہا تھا۔ ”تم رہنے دو‘ خواہ مخواہ کسی چیز سے الجھ کر گر پڑو گے‘ ڈاکٹر صاحب خود ہی دوا پلا دیں گے۔“

یہ سن کر میں کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے رہ گیا تھا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے ڈاکٹر تین ایکّے دکھا کر میری بیوی کو مجھ سے جیت لینے میں کامیاب ہوگیا ہے‘ میرا مال میرے ہاتھ سے نکل کر اس کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔

ایسا تو کئی بار ہوچکا تھا جب میری بیوی نے اپنے چہیتے ڈاکٹر کی بات مانی ہو اور میری ٹھکرا دی ہو۔ میں یہ ساری باتیں چپ چاپ سہہ لیتا تھا۔ اپنے دل پر ہر زخم برداشت کرلیتا تھا۔ جو کچھ میرے ساتھ ہورہا تھا اسے برداشت کرنے کے سوا میرے پاس چارہ ہی کیا تھا لیکن گزشتہ روز جو کچھ ہوا‘ اس نے مجھ سے میری قوت برداشت چھین لی۔ میرا روں رواں سلگ اٹھا۔ آخر میں بھی تو ایک انسان ہوں۔ اندھا ہوں تو کیا ہوا ایک غیر مند مرد تو ہوں۔

بات یوں ہوئی کہ میں اپنے کمرے سے نکل کر اپنی بیوی کے کمرے کی طرف جارہا تھا۔ اندر ہونے والی باتوں کی آواز سن کر میں باہر ہی رک گیا۔ اندر ڈاکٹر اور میری بیوی مدھم آوازوں میں باتیں کررہے تھے۔ آخر یہ لوگ اتنی رازداری سے کیا باتیں کررہے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے میں بے چین ہوگیا۔ میں دروازے کی اوٹ میں چھپ کر ان کی باتیں سننے لگا۔

میری بیوی بڑی دھیمی آواز میں ڈاکٹر سے کہہ رہی تھی۔ ”ڈاکٹر صاحب آپ کے مجھ پر بڑے احسانات ہیں‘آپ میرے محسن ہیں‘ مگر آپ کو میری قسم‘ میرے شوہر کو یہ بات معلوم نہیں ہونا چاہیے۔“

”تم مجھ پر بھروسا رکھو‘میں اسے ذرا بھی شک نہیں ہونے دوں گا۔“میں نے ڈاکٹر کی سرگوشی سنی۔

میرے دل و دماغ میں شکوک کے جال پھیل گئے۔ میں کمرے کے اندر جانے کی بجائے اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ اپنے پلنگ پر پڑے پڑے میں دیر تک خیالوں کے تانے بانے بنتا رہا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں اندھا ہوگیا ہوں اس لیے میری بیوی نے نوجوان ڈاکٹر کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ وہ میری مجبوری سے فائدہ اٹھار ہی ہے اور میرے سامنے‘ میری ہی موجودگی میں محبت کا کھیل کھیل رہی ہے‘ وہ مجھے بے وقوف بنا رہی ہے‘ میری بے بسی کا مذاق اڑا رہی ہے۔ خدا نے اسے دو خوب صورت آنکھیں دی ہیں‘ شاید انھی کے غرور میں وہ مجھے ذلیل کررہی ہے۔

میں جانتا ہوں‘ پچھلے چند دنوں سے میری بیوی رات کو سوتے وقت اپنی آنکھوں میں سرمہ لگاتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک بار میں نے آہٹ پر اس سے پوچھا تھا کہ وہ کیا کررہی ہے تو اس نے کہا تھا کہ اب وہ سرما لگانے لگی ہے تب میں نے کہا تھا۔ ”پہلے تو تم سرمہ نہیں لگاتی تھیں لیکن اب روزانہ ہی سرمہ لگاتی ہو‘ اس کی کوئی خاص وجہ ہے کیا۔“

میرا سوال سن کر وہ ہنس پڑی تھی‘ پھر رک رک کر ایک عجیب سے پرمسرت لہجے میں اس نے کہا تھا۔ ”مجھے اپنی آنکھوں کی روشنی کچھ اور تیز کرنا ہے اس لیے روزانہ یہ قیمتی سرمہ لگاتی ہوں۔“

اس کی بات سن کر مجھے حیرت سی ہوئی تھی ہنستے ہنستے اس نے میری بے بسی پر کتنا گہرا طنز کیا تھا! مجھے اس سے ایسی امید نہیں تھی۔ اس نے میری بے چارگی کا میرے سامنے ہی مذاق اڑایا تھا۔ میرے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہورہے تھے‘ لیکن میں یہ چوٹ بھی برداشت کر گیا۔ میں نے جواب میں کچھ نہ کہا لیکن دل ہی دل میں سوچا‘ ٹھیک ہے‘ تمہارے اس طنز کا جواب مل جائے گا‘۔ تمہیں بے وفائی کا بدلہ ضرور ملے گا!

مجھے یاد آیا کہ ڈیڑھ سال قبل جب میری آنکھیں ٹھیک تھیں تو ایک دن میں اپنے دوست سے ملنے اس کے صابن کے کارخانے میں گیا تھا۔ وہاں سے میں ”کاسٹک سوڈے“ کا سفوف کسی فارمولے کے لیے ایک شیشی میں لے کر آیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ سفوف کی وہ شیشی میں نے اسٹور کی کس الماری میں رکھی تھی آج میں نے کسی طرح ٹٹول ٹٹول کر اسٹور سے کاسٹک سوڈے کا وہ سفوف ڈھونڈ نکالا ہے اور اس کی تھوڑی سی مقدار اپنی بیوی کی سرمے والی شیشی میں ملا بھی دی ہے۔ آج رات وہ اپنی آنکھوں کی روشنی بڑھانے کے لیے جب سونے سے پہلے سرمہ لگائے گی تو ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھوں کی روشنی کھودے گی۔ بالکل میری طرح وہ بھی اندھی ہوجائے گی لیکن میں اپنے خیال کو عملی جامع پہنا نہ سکا۔ جیسے ہی کھڑکھڑاہٹ سنی تو میں نے پوچھا کیا کررہی ہو جواب میں اس نے کہا تھا کہ سرما لگار رہی ہوں اور میں نے گویا اس پر چھلانگ لگا دی تھی۔ اس کے ہاتھ سے سرمہ کی شیشی گر گئی تھی جسے اس نے میرے کھڑے ہونے کی غلطی سمجھا تھا مگر وہ میری غلطی نہیں دانستہ عمل تھا اگر میں اسے سرمہ لگانے دیتا تو غلطی ہوتی اور یہ جاننے کے لیے میری بیوی کی ڈائری آپ بھی پڑھ لیں۔ اگر یہ غلطی کردیتا تو پھر میں بیوی کی ڈائری پڑھ کر پاگل ہوجاتا‘ کیوں؟

٭ ٭ ٭

کار کا وہ حادثہ انتہائی شدید تھا۔ کار سڑک سے اتر کر ڈھلوان میں قلابازیاں کھاتی ہوئی کافی دور تک لڑھکتی رہی تھی۔ اپنے شوہر کو اسپتال میں بے ہوش پڑا دیکھ کر میری چیخ نکل گئی لیکن ڈاکٹر کے سمجھانے پر میں نے خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ اس نے مجھے بیوہ ہونے سے بچا لیا تھا۔

اس حادثے کو اب تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ میرا شوہر اس حادثے کے ایک ماہ بعد ہی اسپتال سے گھر واپس آچکا تھا۔ آج بھی میں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہوں‘ لیکن اب سوچتی ہوں کہ اس سے تو بہتر یہی تھا کہ میں بیوہ ہوجاتی کیوں کہ اپنے شوہر کی لاچاری‘ بے بسی اور مجبوری مجھ سے دیکھی نہیں جاتی ۔ اس وقت میرے شوہر کے چہرے پر کتنی اداسی اور کتنی محرومی ہوتی ہے‘ جب صبح کا اخبار اپنے ہاتھوں میں لیے وہ اس کے صفحات الٹتا رہتا ہے۔ اس وقت مجھے اس پر بڑا ترس آتا ہے۔ میں اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کے پاس آکر بیٹھ جاتی ہوں اور اسے اخبار پڑھ کر سنانے لگتی ہوں۔ میں ہر ممکن کوشش کرتی ہوں کہ وہ خوش رہے۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ یہ محسوس کرے کہ کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا۔ میں ہر لمحہ ہر پل اس کے قریب رہتی ہوں تاکہ وہ میری آنکھوں سے اپنی دنیا کو روشن کرسکے‘ لیکن میں اپنی اس کوشش میں ذرا بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہوں۔

بہ ظاہر تو وہ ہنستا مسکراتا رہتا ہے۔ شاید مجھے وہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ میں خوش ہوں اور اپنی تاریک دنیا کا مجھے کوئی غم نہیں ہے‘ لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ محض اداکاری کررہا ہے۔ بے نور آنکھوں کا غم اسے اندر ہی اندر کھائے جارہا ہے‘ لیکن میں کیا کروں‘ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنے شوہر کے لیے کیا کرسکتی ہوں؟

مجھ سے اب اس کی یہ بے بسی‘ یہ مجبوری دیکھی نہیں جاتی۔ گھر کے اندر چلتے پھرتے کسی کرسی یا میز سے ٹکرا کر وہ گر پڑتا ہے تو میرے دل پر چوٹ سی لگتی ہے۔ اپنے دکھ کو میں اور صرف میں ہی محسوس کرسکتی ہوں۔ آنکھوں کے بغیر وہ کس قدر مجبور ہے‘ یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں‘ لیکن میں تھک گئی ہوں۔ اس دکھ کو برداشت کرتے کرتے میرے اعصاب شکستہ ہوگئے ہیں۔ میں کئی برسوں کی بیمار لگنے لگی ہوں۔ شوہر کی آنکھوں کا غم مجھے گھن کی طرح کھائے جارہا ہے‘ مگر ایسا نہیں کہ میں اپنے اندھے شوہر کے ساتھ خوش نہیں ہوں۔ اس کے پاس چاہت کی جو روشنی ہے‘ وہ آنکھوں کی روشنی سے زیادہ اہم ہے‘ میں اس سے بے پناہ محبت کرتی ہوں اور اس کی محبت سے بھی پوری طرح مطمئن ہوں۔ اس حالت میں بھی اس کو میرا کتنا خیال ہے‘ یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں۔

پچھلے سات آٹھ ماہ سے میں پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہوں میری یہ بیماری انتہائی خطرناک ہے۔ میں چپکے چپکے اپنا علاج کرا رہی ہوں‘ لیکن مجھے یقین ہے کہ میں زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہوں گی۔ میرے ڈاکٹر کا بھی یہی خیال ہے‘ مگر ابھی تک میں نے یہ بات اپنے شوہر کو نہیں بتائی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ اسے میری بیماری کا علم ہو اور وہ پریشان ہوجائے۔

میری مجبوری یہ ہے کہ پچھلے ایک ماہ سے میرا زیادہ تر وقت بستر پر لیٹے لیٹے گزرنے لگا ہے۔ مجبوراً مجھے اپنے شوہر کو یہ بتانا پڑا ہے کہ میرے پیٹ میں درد سا ہوتا ہے۔ یہ سن کر اس نے مجھے گھر کے تمام کام سے روک دیا ہے۔ اب وہ ہر وقت میرے قریب بیٹھا رہتا ہے۔ سچ! کہوں تو یہ اس کی محبت ہے جس کے سہارے میں آج تک زندہ ہوں۔ زندگی اور موت کے درمیان اگر کوئی آہنی دیوار حائل ہے تو وہ میرے شوہر کی بے لوث محبت ہے۔

جتنی دیر ممکن ہو‘ وہ میرے پاس ہی بیٹھا رہتا ہے میرے منع کرنے کے باوجود کبھی کبھی تو وہ رات بھر بیٹھا جاگتا رہتا ہے۔ وہ میرے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے۔ میں وقت پر دوائیں پیتی ہوں یا نہیں؟ گھر کی نوکرانی سے وہ اکثر پوچھتا رہتا ہے۔ جب کبھی میرے پیٹ کا درد کچھ شدت اختیار کرلیتا ہے تو وہ بے چین ہوجاتا ہے اور پریشانی کے عالم میں بار بار میرا ہاتھ چوم کر جذباتی انداز میں دبانے لگتا ہے۔ اف وہ کتنی محبت کرتا ہے مجھ سے! کتنی خوش نصیب ہوں میں کہ مجھے ایسا چاہنے والا شوہر ملا ہے۔ خدا سے ہمیشہ میں یہی دعا کرتی ہوں کہ اس کے پیار کا سایہ یونہی مجھ پر چھایا رہے۔

مگر میں جانتی ہوں کہ اب زیادہ دن زندہ نہیں رہوں گی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اب جھوٹے سپنے دیکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ انسان کو زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نگاہیں نہیں چرانا چاہئیں۔ مجھے معلوم ہے کہ شاید آنے والے دس پندرہ دن کے اندر ہی اندر میں موت کی گہری نیند سوجائوں گی۔ اس لیے جاتے جاتے میں نے اپنے شوہر کو ایک چھوٹا سا تحفہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ میرا یہ حقیر سا تحفہ اس کی بے لوث محبت کا بدل تو نہیں ہوسکتا لیکن اس کے سوا میرے پاس اور ہے کیا جو اس کی محبت‘ چاہت اور ہمدردی کا بدل ثابت ہوسکے۔

میں نے جو چیز اسے دینے کا فیصلہ کیا ہے‘ وہ میری آنکھیں ہیں۔ ہاں میں اپنی دونوں آنکھیں اسے دے جائوں گی۔ یہ میری بدقسمتی ہے کہ یہ خیال میرے دل میں بڑی دیر سے آیا‘ لیکن خیر جیتے جی یہ خیال آگیا۔ اس سے میں خوش ہوں‘ بہت خوش ہوں کہ جاتے جاتے اپنے شوہر کی اندھیری دنیا کو روشن کرجانے کا خیال میرے دل میں آگیا ہے۔ میں ایسا کرسکتی ہوں اور ایسا ضرور کروں گی۔ اس طرح میں مر کر بھی اس کے ساتھ رہوں گی۔ میں اس کی آنکھیں بن جانا چاہتی ہوں۔ ایسی خوش قسمت عورتیں دنیا میں کم ہوتی ہیں۔ جن کا محبوب ان کی آنکھوں سے دنیا دیکھے۔

میں نے ابھی تک اپنے شوہر کو اس سلسلے میں کچھ نہیں بتایا۔ اس کی دو وجوہ ہیں‘ پہلی تو یہ کہ میری موت کے بعد جب میرے ڈاکٹر کی زبانی وہ میری آخری خواہش سنے گا تو اس وقت میری اچانک موت کا غم تھوڑی دیر کے لیے وہ بھول جائے گا۔ دوسری خاص وجہ یہ ہے کہ اگر ابھی سے میں اسے یہ بات بتادوں تو ممکن ہے وہ انکار کردے کیوں کہ میں جانتی ہوں‘ وہ مجھ سے بے حد محبت کرتا ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ میری موت کے بعد ڈاکٹر میری آنکھیں نکالیں۔ یہ آنکھیں اسے عزیز بھی تو بہت ہیں۔ اس نے زندگی بھر مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دی تو پھر میری موت کے بعد یہ سب کچھ کس طرح برداشت کرسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی اس آخری خواہش کا اظہار میں نے صرف اپنے ڈاکٹر ہی سے کیا ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (26-12-08), Kamran_Tabasum (24-08-09), Real_Light (11-04-08), رضی (26-08-09), عبداللہ حیدر (25-08-09)
پرانا 07-08-07, 04:45 PM   #2
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
عمر: 36
مراسلات: 31
کمائي: 223
شکریہ: 0
8 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پیار بھرے دو نین

انمول محبت کی لازوال داستاں، بہت عمدہ شیئرنگ ہے۔
رفی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
رفی کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (25-08-09)
پرانا 08-08-07, 10:42 AM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پیار بھرے دو نین

شکریہ جناب
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (25-08-09)
پرانا 11-04-08, 12:20 PM   #4
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,924
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: پیار بھرے دو نین

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

بہت اچھا مراسلہ ہے
امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے
بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (25-08-09)
پرانا 05-11-08, 04:00 PM   #5
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پیار بھرے دو نین

بہت پیاری شیئرنگ ہے دردناک
ام طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (25-08-09)
پرانا 24-08-09, 01:08 AM   #6
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب کے پسند کرنے کا بہت شکریہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (25-08-09)
پرانا 24-08-09, 02:19 AM   #7
Senior Member
 
Kamran_Tabasum's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: rawalpindi
مراسلات: 1,088
کمائي: 13,372
شکریہ: 12,431
974 مراسلہ میں 2,846 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خرم شہزاد خرم مراسلہ دیکھیں
محمد فراز

خدا کسی دشمن کو بھی اندھا نہ کرے۔ آنکھیں نہ ہونے سے انسان کس قدر مجبور ہوجاتا ہے! اس کے سامنے کوئی بھی کھیل کھیلا جاتا رہے‘ وہ نہیں دیکھ سکتا۔ میں کسی اور کی بات نہیں کررہا ہوں اپنی ہی بات کررہا ہوں۔ مجھے نوّے فیصد یقین ہے کہ میرے اندھے ہوجانے کی وجہ سے میری بیوی بے حد خوش ہے۔ اوپری دل سے تو وہ میری دل جوئی کرتی رہتی ہے لیکن اندر ہی اندر وہ اس نوجوان ڈاکٹر کو چاہنے لگی ہے جو روزانہ دیکھنے کے لیے آتا ہے‘ اسی لیے تو بیماری کا بہانہ کرکے وہ پچھلے ایک ماہ سے بستر پر پڑی ہوئی ہے تاکہ ڈاکٹر روزانہ آئے اور دونوں کی ملاقاتیں آسانی سے ہوتی رہیں‘ لیکن اس سے پہلے بھی وہ اس ڈاکٹر سے کب نہیں ملتی تھی۔ اس نے پہلے بھی تو کئی بار بتایا تھا کہ آج شاپنگ کرتے وقت اس کی ملاقات ڈاکٹر سے ہوگئی تھی۔ پھر وہ اپنی کار میں اسے گھر تک چھوڑ گیا تھا۔

ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے‘ ہمیشہ کی طرح جب ڈاکٹر اسے دیکھنے کے لیے آیا تھا تو شاید اس کی نظر دوا کی شیشی پر پڑی تھی کیوں کہ میں اس کی آواز کمرے کے باہر کھڑا ہوا صاف طور پر سن رہا تھا۔ اس نے بڑے ہی پیار بھرے لہجے میں میری بیوی سے کہا تھا۔ ”ارے یہ کیا! ابھی تک شیشی میں ایک وقت کی دوا موجود ہے۔ لائو میں تمہیں خود پلادوں۔“

یہ سن کر میں اچانک کمرے میں داخل ہوگیا تھا اور میں نے ڈاکٹر سے کہا تھا۔ ”رہنے دو ڈاکٹر‘ میں تو موجود ہوں‘ خود پلا دوں گا۔“

اس وقت میری بیوی نے جو جواب دیا تھا اسے سن کر میرے تن بدن میں آگ سی لگ گئی تھی‘ اس نے کہا تھا۔ ”تم رہنے دو‘ خواہ مخواہ کسی چیز سے الجھ کر گر پڑو گے‘ ڈاکٹر صاحب خود ہی دوا پلا دیں گے۔“

یہ سن کر میں کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے رہ گیا تھا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے ڈاکٹر تین ایکّے دکھا کر میری بیوی کو مجھ سے جیت لینے میں کامیاب ہوگیا ہے‘ میرا مال میرے ہاتھ سے نکل کر اس کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔

ایسا تو کئی بار ہوچکا تھا جب میری بیوی نے اپنے چہیتے ڈاکٹر کی بات مانی ہو اور میری ٹھکرا دی ہو۔ میں یہ ساری باتیں چپ چاپ سہہ لیتا تھا۔ اپنے دل پر ہر زخم برداشت کرلیتا تھا۔ جو کچھ میرے ساتھ ہورہا تھا اسے برداشت کرنے کے سوا میرے پاس چارہ ہی کیا تھا لیکن گزشتہ روز جو کچھ ہوا‘ اس نے مجھ سے میری قوت برداشت چھین لی۔ میرا روں رواں سلگ اٹھا۔ آخر میں بھی تو ایک انسان ہوں۔ اندھا ہوں تو کیا ہوا ایک غیر مند مرد تو ہوں۔

بات یوں ہوئی کہ میں اپنے کمرے سے نکل کر اپنی بیوی کے کمرے کی طرف جارہا تھا۔ اندر ہونے والی باتوں کی آواز سن کر میں باہر ہی رک گیا۔ اندر ڈاکٹر اور میری بیوی مدھم آوازوں میں باتیں کررہے تھے۔ آخر یہ لوگ اتنی رازداری سے کیا باتیں کررہے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے میں بے چین ہوگیا۔ میں دروازے کی اوٹ میں چھپ کر ان کی باتیں سننے لگا۔

میری بیوی بڑی دھیمی آواز میں ڈاکٹر سے کہہ رہی تھی۔ ”ڈاکٹر صاحب آپ کے مجھ پر بڑے احسانات ہیں‘آپ میرے محسن ہیں‘ مگر آپ کو میری قسم‘ میرے شوہر کو یہ بات معلوم نہیں ہونا چاہیے۔“

”تم مجھ پر بھروسا رکھو‘میں اسے ذرا بھی شک نہیں ہونے دوں گا۔“میں نے ڈاکٹر کی سرگوشی سنی۔

میرے دل و دماغ میں شکوک کے جال پھیل گئے۔ میں کمرے کے اندر جانے کی بجائے اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ اپنے پلنگ پر پڑے پڑے میں دیر تک خیالوں کے تانے بانے بنتا رہا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں اندھا ہوگیا ہوں اس لیے میری بیوی نے نوجوان ڈاکٹر کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ وہ میری مجبوری سے فائدہ اٹھار ہی ہے اور میرے سامنے‘ میری ہی موجودگی میں محبت کا کھیل کھیل رہی ہے‘ وہ مجھے بے وقوف بنا رہی ہے‘ میری بے بسی کا مذاق اڑا رہی ہے۔ خدا نے اسے دو خوب صورت آنکھیں دی ہیں‘ شاید انھی کے غرور میں وہ مجھے ذلیل کررہی ہے۔

میں جانتا ہوں‘ پچھلے چند دنوں سے میری بیوی رات کو سوتے وقت اپنی آنکھوں میں سرمہ لگاتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک بار میں نے آہٹ پر اس سے پوچھا تھا کہ وہ کیا کررہی ہے تو اس نے کہا تھا کہ اب وہ سرما لگانے لگی ہے تب میں نے کہا تھا۔ ”پہلے تو تم سرمہ نہیں لگاتی تھیں لیکن اب روزانہ ہی سرمہ لگاتی ہو‘ اس کی کوئی خاص وجہ ہے کیا۔“

میرا سوال سن کر وہ ہنس پڑی تھی‘ پھر رک رک کر ایک عجیب سے پرمسرت لہجے میں اس نے کہا تھا۔ ”مجھے اپنی آنکھوں کی روشنی کچھ اور تیز کرنا ہے اس لیے روزانہ یہ قیمتی سرمہ لگاتی ہوں۔“

اس کی بات سن کر مجھے حیرت سی ہوئی تھی ہنستے ہنستے اس نے میری بے بسی پر کتنا گہرا طنز کیا تھا! مجھے اس سے ایسی امید نہیں تھی۔ اس نے میری بے چارگی کا میرے سامنے ہی مذاق اڑایا تھا۔ میرے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہورہے تھے‘ لیکن میں یہ چوٹ بھی برداشت کر گیا۔ میں نے جواب میں کچھ نہ کہا لیکن دل ہی دل میں سوچا‘ ٹھیک ہے‘ تمہارے اس طنز کا جواب مل جائے گا‘۔ تمہیں بے وفائی کا بدلہ ضرور ملے گا!

مجھے یاد آیا کہ ڈیڑھ سال قبل جب میری آنکھیں ٹھیک تھیں تو ایک دن میں اپنے دوست سے ملنے اس کے صابن کے کارخانے میں گیا تھا۔ وہاں سے میں ”کاسٹک سوڈے“ کا سفوف کسی فارمولے کے لیے ایک شیشی میں لے کر آیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ سفوف کی وہ شیشی میں نے اسٹور کی کس الماری میں رکھی تھی آج میں نے کسی طرح ٹٹول ٹٹول کر اسٹور سے کاسٹک سوڈے کا وہ سفوف ڈھونڈ نکالا ہے اور اس کی تھوڑی سی مقدار اپنی بیوی کی سرمے والی شیشی میں ملا بھی دی ہے۔ آج رات وہ اپنی آنکھوں کی روشنی بڑھانے کے لیے جب سونے سے پہلے سرمہ لگائے گی تو ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھوں کی روشنی کھودے گی۔ بالکل میری طرح وہ بھی اندھی ہوجائے گی لیکن میں اپنے خیال کو عملی جامع پہنا نہ سکا۔ جیسے ہی کھڑکھڑاہٹ سنی تو میں نے پوچھا کیا کررہی ہو جواب میں اس نے کہا تھا کہ سرما لگار رہی ہوں اور میں نے گویا اس پر چھلانگ لگا دی تھی۔ اس کے ہاتھ سے سرمہ کی شیشی گر گئی تھی جسے اس نے میرے کھڑے ہونے کی غلطی سمجھا تھا مگر وہ میری غلطی نہیں دانستہ عمل تھا اگر میں اسے سرمہ لگانے دیتا تو غلطی ہوتی اور یہ جاننے کے لیے میری بیوی کی ڈائری آپ بھی پڑھ لیں۔ اگر یہ غلطی کردیتا تو پھر میں بیوی کی ڈائری پڑھ کر پاگل ہوجاتا‘ کیوں؟

٭ ٭ ٭

کار کا وہ حادثہ انتہائی شدید تھا۔ کار سڑک سے اتر کر ڈھلوان میں قلابازیاں کھاتی ہوئی کافی دور تک لڑھکتی رہی تھی۔ اپنے شوہر کو اسپتال میں بے ہوش پڑا دیکھ کر میری چیخ نکل گئی لیکن ڈاکٹر کے سمجھانے پر میں نے خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ اس نے مجھے بیوہ ہونے سے بچا لیا تھا۔

اس حادثے کو اب تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ میرا شوہر اس حادثے کے ایک ماہ بعد ہی اسپتال سے گھر واپس آچکا تھا۔ آج بھی میں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہوں‘ لیکن اب سوچتی ہوں کہ اس سے تو بہتر یہی تھا کہ میں بیوہ ہوجاتی کیوں کہ اپنے شوہر کی لاچاری‘ بے بسی اور مجبوری مجھ سے دیکھی نہیں جاتی ۔ اس وقت میرے شوہر کے چہرے پر کتنی اداسی اور کتنی محرومی ہوتی ہے‘ جب صبح کا اخبار اپنے ہاتھوں میں لیے وہ اس کے صفحات الٹتا رہتا ہے۔ اس وقت مجھے اس پر بڑا ترس آتا ہے۔ میں اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کے پاس آکر بیٹھ جاتی ہوں اور اسے اخبار پڑھ کر سنانے لگتی ہوں۔ میں ہر ممکن کوشش کرتی ہوں کہ وہ خوش رہے۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ یہ محسوس کرے کہ کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا۔ میں ہر لمحہ ہر پل اس کے قریب رہتی ہوں تاکہ وہ میری آنکھوں سے اپنی دنیا کو روشن کرسکے‘ لیکن میں اپنی اس کوشش میں ذرا بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہوں۔

بہ ظاہر تو وہ ہنستا مسکراتا رہتا ہے۔ شاید مجھے وہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ میں خوش ہوں اور اپنی تاریک دنیا کا مجھے کوئی غم نہیں ہے‘ لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ محض اداکاری کررہا ہے۔ بے نور آنکھوں کا غم اسے اندر ہی اندر کھائے جارہا ہے‘ لیکن میں کیا کروں‘ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنے شوہر کے لیے کیا کرسکتی ہوں؟

مجھ سے اب اس کی یہ بے بسی‘ یہ مجبوری دیکھی نہیں جاتی۔ گھر کے اندر چلتے پھرتے کسی کرسی یا میز سے ٹکرا کر وہ گر پڑتا ہے تو میرے دل پر چوٹ سی لگتی ہے۔ اپنے دکھ کو میں اور صرف میں ہی محسوس کرسکتی ہوں۔ آنکھوں کے بغیر وہ کس قدر مجبور ہے‘ یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں‘ لیکن میں تھک گئی ہوں۔ اس دکھ کو برداشت کرتے کرتے میرے اعصاب شکستہ ہوگئے ہیں۔ میں کئی برسوں کی بیمار لگنے لگی ہوں۔ شوہر کی آنکھوں کا غم مجھے گھن کی طرح کھائے جارہا ہے‘ مگر ایسا نہیں کہ میں اپنے اندھے شوہر کے ساتھ خوش نہیں ہوں۔ اس کے پاس چاہت کی جو روشنی ہے‘ وہ آنکھوں کی روشنی سے زیادہ اہم ہے‘ میں اس سے بے پناہ محبت کرتی ہوں اور اس کی محبت سے بھی پوری طرح مطمئن ہوں۔ اس حالت میں بھی اس کو میرا کتنا خیال ہے‘ یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں۔

پچھلے سات آٹھ ماہ سے میں پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہوں میری یہ بیماری انتہائی خطرناک ہے۔ میں چپکے چپکے اپنا علاج کرا رہی ہوں‘ لیکن مجھے یقین ہے کہ میں زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہوں گی۔ میرے ڈاکٹر کا بھی یہی خیال ہے‘ مگر ابھی تک میں نے یہ بات اپنے شوہر کو نہیں بتائی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ اسے میری بیماری کا علم ہو اور وہ پریشان ہوجائے۔

میری مجبوری یہ ہے کہ پچھلے ایک ماہ سے میرا زیادہ تر وقت بستر پر لیٹے لیٹے گزرنے لگا ہے۔ مجبوراً مجھے اپنے شوہر کو یہ بتانا پڑا ہے کہ میرے پیٹ میں درد سا ہوتا ہے۔ یہ سن کر اس نے مجھے گھر کے تمام کام سے روک دیا ہے۔ اب وہ ہر وقت میرے قریب بیٹھا رہتا ہے۔ سچ! کہوں تو یہ اس کی محبت ہے جس کے سہارے میں آج تک زندہ ہوں۔ زندگی اور موت کے درمیان اگر کوئی آہنی دیوار حائل ہے تو وہ میرے شوہر کی بے لوث محبت ہے۔

جتنی دیر ممکن ہو‘ وہ میرے پاس ہی بیٹھا رہتا ہے میرے منع کرنے کے باوجود کبھی کبھی تو وہ رات بھر بیٹھا جاگتا رہتا ہے۔ وہ میرے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے۔ میں وقت پر دوائیں پیتی ہوں یا نہیں؟ گھر کی نوکرانی سے وہ اکثر پوچھتا رہتا ہے۔ جب کبھی میرے پیٹ کا درد کچھ شدت اختیار کرلیتا ہے تو وہ بے چین ہوجاتا ہے اور پریشانی کے عالم میں بار بار میرا ہاتھ چوم کر جذباتی انداز میں دبانے لگتا ہے۔ اف وہ کتنی محبت کرتا ہے مجھ سے! کتنی خوش نصیب ہوں میں کہ مجھے ایسا چاہنے والا شوہر ملا ہے۔ خدا سے ہمیشہ میں یہی دعا کرتی ہوں کہ اس کے پیار کا سایہ یونہی مجھ پر چھایا رہے۔

مگر میں جانتی ہوں کہ اب زیادہ دن زندہ نہیں رہوں گی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اب جھوٹے سپنے دیکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ انسان کو زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نگاہیں نہیں چرانا چاہئیں۔ مجھے معلوم ہے کہ شاید آنے والے دس پندرہ دن کے اندر ہی اندر میں موت کی گہری نیند سوجائوں گی۔ اس لیے جاتے جاتے میں نے اپنے شوہر کو ایک چھوٹا سا تحفہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ میرا یہ حقیر سا تحفہ اس کی بے لوث محبت کا بدل تو نہیں ہوسکتا لیکن اس کے سوا میرے پاس اور ہے کیا جو اس کی محبت‘ چاہت اور ہمدردی کا بدل ثابت ہوسکے۔

میں نے جو چیز اسے دینے کا فیصلہ کیا ہے‘ وہ میری آنکھیں ہیں۔ ہاں میں اپنی دونوں آنکھیں اسے دے جائوں گی۔ یہ میری بدقسمتی ہے کہ یہ خیال میرے دل میں بڑی دیر سے آیا‘ لیکن خیر جیتے جی یہ خیال آگیا۔ اس سے میں خوش ہوں‘ بہت خوش ہوں کہ جاتے جاتے اپنے شوہر کی اندھیری دنیا کو روشن کرجانے کا خیال میرے دل میں آگیا ہے۔ میں ایسا کرسکتی ہوں اور ایسا ضرور کروں گی۔ اس طرح میں مر کر بھی اس کے ساتھ رہوں گی۔ میں اس کی آنکھیں بن جانا چاہتی ہوں۔ ایسی خوش قسمت عورتیں دنیا میں کم ہوتی ہیں۔ جن کا محبوب ان کی آنکھوں سے دنیا دیکھے۔

میں نے ابھی تک اپنے شوہر کو اس سلسلے میں کچھ نہیں بتایا۔ اس کی دو وجوہ ہیں‘ پہلی تو یہ کہ میری موت کے بعد جب میرے ڈاکٹر کی زبانی وہ میری آخری خواہش سنے گا تو اس وقت میری اچانک موت کا غم تھوڑی دیر کے لیے وہ بھول جائے گا۔ دوسری خاص وجہ یہ ہے کہ اگر ابھی سے میں اسے یہ بات بتادوں تو ممکن ہے وہ انکار کردے کیوں کہ میں جانتی ہوں‘ وہ مجھ سے بے حد محبت کرتا ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ میری موت کے بعد ڈاکٹر میری آنکھیں نکالیں۔ یہ آنکھیں اسے عزیز بھی تو بہت ہیں۔ اس نے زندگی بھر مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دی تو پھر میری موت کے بعد یہ سب کچھ کس طرح برداشت کرسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی اس آخری خواہش کا اظہار میں نے صرف اپنے ڈاکٹر ہی سے کیا ہے۔
weldone khuram bhai bohat khoob weldone
Kamran_Tabasum آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 24-08-09, 03:32 AM   #8
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ جناب
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (25-08-09)
پرانا 25-08-09, 12:33 AM   #9
Senior Member
 
Kamran_Tabasum's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: rawalpindi
مراسلات: 1,088
کمائي: 13,372
شکریہ: 12,431
974 مراسلہ میں 2,846 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خرم شہزاد خرم مراسلہ دیکھیں
بہت شکریہ جناب
wel come khurram bhai
Kamran_Tabasum آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 26-08-09, 02:42 AM   #10
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کو بھی ویلکم جناب
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پاگل, لوگ, چین, نیند, نظر, موت, ممکن, محبت, معلوم, انسان, جیت, جواب, خوش, خدا, دوست, دل, دعا, رات, زندگی, سال, علاج, عالم, عزیز, غم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 25 03-02-12 09:14 PM
پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں khanamjan میری ڈائری 5 28-10-11 09:16 PM
مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ ابن جمال متفرقات 0 07-02-11 02:42 PM
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 1 20-08-08 09:56 PM
ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش عبدالقدوس فلمی دنیا 0 27-10-07 10:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:52 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger