واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




نیم حکیم خطرہ جان اور ببالے جان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-07-09, 09:44 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,623
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نیم حکیم خطرہ جان اور ببالے جان

نیم حکیم خطرہ جان اور ببالے جان

كسي علاقے ميں ايك تاجر كپڑے كا كاروبار كرتا تھا۔ وہ دور دراز كے شہروں ميں جا كر اپنا كپڑا بيچتا اور واپسي پر طرح طرح كي نئي چيزيں خريد لاتا جنہيں وہ اپنے شہر ميں فروخت كر ديتا۔ اس طرح اسے دور دراز كے علاقوں ميں بھي جانا پڑتا۔

ايك بار وہ كسي علاقے ميں مال بيچنے گيا۔ اس نے ايك درخت كے ساتھ اپنا اونٹ باندھا اور اس كے آگے خربوزے ڈال ديے اور خود بھي چھائوں ميں بيٹھ كر كھانا كھانے لگا۔ اچانك اونٹ كے گلے سے عجيب و غريب گھٹي گھٹي سي آوازيں نكلنے لگيں۔ اونٹ كے گلے ميں خربوزہ پھنس گيا تھا۔ تاجر نے ديكھا تو رو رو كر دہائي دينے لگا كہ "ميرے اونٹ كو بچالو۔"

لوگ دوڑے اور گائوں كے ايك سيانے حكيم صاحب كو لے آئے۔ حكيم صاحب نے بلا تردد اونٹ كو زمين پر لٹايا اور ايك اينٹ اس كي گردن كے نيچے ركھي اور دوسري اينٹ اس كي گردن كے اوپر آہستگي سے ماري، جس سے خربوزہ ٹوٹ گيا اور اونٹ بالكل ٹھيك ہو گيا۔

اگلے سال شديد بارشيں ہوئيں۔ تاجر كو اپنے شہر سے نكلنا دشوار ہو گيا۔ جو اس كے پاس جمع پونجي تھي وہ خرچ ہو گئي۔ اپنے شہر ميں اس كا كوئي كاروبار تھا نہ اس كے پاس كوئي ہنر تھا۔

بہت سوچ بچار كے بعد اس نے حكيم بننے كا فيصلہ كيا۔ اس نے ايك دكان بنا لي، چند جڑي بوٹياں ركھ ليں اور لگا لوگوں كو اوٹ پٹانگ دوائيں دينے۔

انہي دنوں شہر كے حاكم كا والد بيمار ہو گيا۔ اسے گلہڑ كا مرض لاحق ہو گيا تھا۔ گلہڑ ايك ايسا مرض ہے كہ جس كو لگ جائے اس شخص كا گلا بہت زيادہ پھول جاتا ہے، آج كل اس بيماري سے بچنے كے ليے آئيوڈين ملا نمك بہت مفيد ہے۔ بہرحال اس وقت گلہڑ كا مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا۔ لہٰذا حاكم شہر نے شہر ميں ڈھنڈورا پٹوا ديا كہ جو كوئي حاكم شہر كے والد كا كامياب علاج كرے گا اس كو بھاري انعام ديا جائے گا۔

جب نيم حكيم يعني اسي تاجر نے يہ اعلان سنا تو اسے اپنے اونٹ كے ساتھ پيش آنے والا پچھلے برس كا واقعہ ياد آگيا۔ اس نے اعلان كر ديا كہ وہ حاكم شہر كے والد كا علاج كرے گا۔ لوگ حيران رہ گئے كہ پورے شہر ميں صرف اسي كے پاس يہ علاج تھا۔ آخر وہ حاكم شہر كے گھر حاضر ہوا۔ وہاں اور بھي لوگ اكٹھے تھے۔ نيم حكيم نے حاكم شہر كے والد كو لٹايا۔

ايك اينٹ اس كي گردن كے نيچے ركھي اور دوسري اينٹ اوپر سے دے ماري۔

بس پھر كيا تھا، بابا جي اللہ كو پيارے ہو گئے۔ مجمعے ميں سے كسي نے بلند آواز سے كہا: "نيم حكيم خطرہ جان۔"

اس كے بعد نيم حكيم كے ساتھ جو ہوا سو ہوا مگر يہ كہاوت مشہور ہو گئي۔ اب جب بھي كوئي اناڑي كوئي مہارت كا كام كرنے لگے تو يہي كہاوت كہي جاتي ہے۔


( لی گی ہے کہاوتوں کی کتاب سے )
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (23-07-09)
جواب

Tags
color, فروخت, پھول, آج, اللہ, انعام, سال, شخص, علاج, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger