واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




ننانوے قتل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-01-08, 01:32 PM   #1
Senior Member
 
ابن ضیاء's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: Karachi - Pakistan
مراسلات: 328
کمائي: 6,989
شکریہ: 50
82 مراسلہ میں 184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ننانوے قتل

ننانوے قتل

پہلے زمانے ميں ايک شخص تھا اس نے نناوے آدميوں کو ناحق قتل کيا اس کے بعد اس کو فکر لاحق ہوئي کہ آخرت ميں ميرا کيا انجام ہوگا، اس نے لوگوں سے دريافت کيا کہ اس وقت روئے زمين ميں سب سے بڑا عالم کون ہے؟
لوگوں نے اسے ايک راہب يعني بني اسرائيل کے عبادت گذار کا پتہ بتا يا چناچہ يہ شخص اس عابد کے پاس پہنچا اور اسکے سامنے بيان کيا کہ ميں نے نناوے آدميوں کو قتل کيا اب ميري توبہ قبول ہوسکتي ہے؟
اس عابد نے جواب ديا اتنے ناحق قتل کے بعد تو بہ کا کيا سوال تو اس شخص نے اس عابد کو بھي قتل کر ديا اور سو قتل پورے کرلئے۔
دوبارہ توبہ کي فکر لاحق ہوئي تو پھر لوگوں سے دريافت کيا کہ اس وقت روئے زمين ميں بڑا عالم کون ہے؟
پھر ان کو ايک عالم کا پتہ ديا گيا يہ شخص ان کے پاس گيا اور عرض کيا کہ مين نے سو قتل کئے تو کيا ميري توبہ قبول ہو سکتي ہے۔
تو اس عالم نے جواب ديا ضرور توبہ قبول ہو سکتي ہے تمہارے اور توبہ کے درميان کيا چيز حائل ہے؟
ينعي کوئي رکاوٹ نہيں توبہ کا درواہ ہميشہ کھلا ہوا ہے۔
پھر ايک نيک لوگوں کي بستي کي طرف اشارہ کرکے فرمايا کہ فلاں علاقے کي فلاں بستي ميں چلے جائيں وہاں نيک لوگ آباد ہيں جو اللہ تعالي کي عبادت ميں مشغول رہتے ہيں جاکر ان ھيکي عبادت ميں شريک ہو جائيں اور اپني بستي کي طرف لوٹ کر نہ آئيں، کيونکہ يہ بري جگہ ہے۔
يہ شخص اس بستي ميں جانے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکل پٹا ٹھيک جب آدھا آدھا راستہ طے کرليا تو ملک الموت آپہنچا چونکہ اللہ تعاليکے نيک بندوں کي روح رحمت کے فرشتے قبض کرتے ہيں، جب کہ برے لوگ کي روہيں عذاب کے فرشتے قبض کرتےہيں اب اس شخص کي روح قبض کرنے کے بارے ميں دونوں قسم کے فرشتوں کي آپس ميں تکرار ہوئي۔
رحمت کے فرشتوں کا کہنا تھا چونکہ يہ گناہوں سے تائب ہو کر خالص اللہ تعالي کي طرف متوجہ ہو کر آيا ہے اس کي روح قبض کرنے کا حق ہمارا ہے۔
جبکہ عذاب کے فرشتوں کا کہنا تھا کہ اس نے تو کبھي کوئي نيکي نہيں کي يعني برا آدمي ہے لہذا اس کي روح قبض کرنے کا ہك ہمارا ہے۔
تو ان فرشتوں کے پاس ايک اور فرشتہ انساني روپ ميں حاضر ہوا دونوں فريق نے فيسلہ کيلئے انکو مقرر کيا تو انہوں نے فيصلہ سنايا کہ۔
جس برے گاؤن سے چل کر آيا ہے اور جس نيک لوگوں کي بستي کي طرف جا رہا ہے دونوں کے درميان فاسلہ کونا پيس جس کي طرف قريب ہوگا اس طرف کے فرشتوں کو روح قبض کرنے کا حق ہوگا چناچہہ زمين ناپي تولي گئي تو جس بستي کا ارادہ تھا اس طرف قريب تھا لہذا رحمت کے فرشتوں نے روح قبض کرلي۔
ايک دوسرے روائيت ميں ہے کہ نيک لوگو کي نستي کي طرف صرف ايک بالشت ہي قريب لہذا انہي ميں شمار کرليا گيا ايک اور روائيت ميں ہےکہ جب تکليف سے زمين پر گر پڑے تو لٹے ليٹے کھسکتے ہوئے کچھ اس بستي کي طرف ہوگئے يہي ان کے کام آگيا۔
اس واقع سے ايک تو يہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالي کي رحمت سے کبھي مايوس نہيں ہونا چاھئيے بلکہ رحمت خداواندي کي اميد کرتے ھوئے گناہوں سے خوب توبہ کر ليني چاھئيے کيونکہ حديث ميں ہے موت کے وقت سے پہلے پہلے جو بھي توبہ کرے گا اس کي توبہ قبول ہوگي بلکہ اللہ تعالي کو بندے کي توبہ سے بڑے خوشي ہوتي ہے۔
اس لئے انسان کو چاھئيے کہ جتنا بھي بڑا گناہ صادر ہا جوئے تو احساس ہوتے ہي فورا رب کريم سے معافي مانگ لے اور آئندہ کيلئے گناہ کے قريب بھي نہ جائے۔
دوسرا سبق يہ ملا کہ جس ماحول ميں رہ کر انسان گناہ ميں مبتلا ہو جائے اور آئندہ کيلئے يہ خطرہ ہو کہ يہاں گناہوں سے بچنا مشل ہےتو اس جگہ کو چھوڑ دينا چاھئيے، کيونکہ جگہ اور ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے چناچہ حديث ميں آتا ہے کہ۔
اللہ تعالي کے نزديک محبوب ترين جگيہں مسجديں ہيں اور مبغوض ترين جگہيں بازار ہيں۔
يہي وجہ ہے کہ انسان مسجد کے ماحول مين ہوتا ہے تو اس کيلئے عبادت آسان ہوتي ہے دل اس ک انرم رہتا ہے اللہ کي طرف توجہ رہتي ہے فکر آخرت دامن گير رہتي ہے۔
ليکن بازار کے ماحول میں دل سخت ہوتا ہے گناہ کرنا آسان ہوتا ہے بلکہ اگر کوئي بيچنا بھي چاہے اس کے لئے بھي بچنا مشکل ہوتا ہے اس لئے بازار ميں لڑائياں زيادہ ہوتي ہيں۔
لہذا انسان کو چاہئيے برے ماحول سے بچے اچھے ماحول کو اپنائے بلا ضرورت شديدہ اس ماحول میں نہ جائے۔
تيسرا سبق يہ ملتا ہے کہ ديني معاملات ميں رہمنمائي حاشل کرنے کيلئے صيح العقيد ديندار عالم کي طرف رجوع کرنا چاھئيے، جس کسي کو علمائ کي شکل ميں ديکھ ليا اس کو عالم سمجہ کر اس کا عقيدت مند ہوجانے يہ کوئي عقلمندي نہيں ہے بلکہ پہلے اچھي طرح ديکہ لے کہ واقع عالم ہے يا نہيں اس کے بعد اس سے رہنمائي حاصل کريں۔
اللہ تعالي سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو واقعے سے سبق حاصل کرکے ہر قسم کے گناہون سے توبہ کي توفيق نصيب فرمائے برے ماحول سے بچائے اور نيک اور اچھا ماحول نصيب فرمائے،آمين۔
ابن ضیاء آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ابن ضیاء کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 11-04-08, 09:55 AM   #2
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,923
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ننانوے قتل

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے
بہت شکریہ
امید ہے آپ مزید مراسلات ضرور مرحمت فرمائیں گے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
اللہ, جواب, دل, دعا, راستہ, شخص, عالم, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:11 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger