|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,563
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سید محمد اشرف
سرحد پار ہندوستان سے‘ سید محمد اشرف کی تحریر۔ اردو زبان پر جو وقت پڑا ہے۔ اس وقت بس چند ہی گنتی کے لکھنے والوں نے اردو کا چراغ جلا رکھا ہے۔ سید محمد اشرف کا شمار انہی چند گنتی کے لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ قارئین کے لیے یہی فخر کافی ہے کہ وہ آج کے دور میں اشرف صاحب کی تحریروں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ اگر اندھیرا زیادہ ہو تو ایک شمع کی روشنی بھی سورج بھر معلوم ہوتی ہے۔ وہ مہاوٹ کی اندھیری رات تھی۔ تیز‘ سرد ہوائیں وقفے وقفے سے شور مچاتیں اور چپ ہوجاتیں۔ دالان کے پردوں کے شگاف سے ہوکر بھیگی ہوئی ہوا کے جھونکے اندر آکر موٹے موٹے لحافوں میں چھید کیے دے رہے تھے۔ لوہا بجنے کی آواز ڈیوڑھی اور آنگن کو پار کرکے مدھم ہوتی ہوئی کانوں سے پھر ٹکرائی۔ اس سے پہلے ہم لوگ اس آواز کو وہم سمجھے تھے۔ مغربی دالان سے چچا نے لحاف سے منہ نکال کر قدرے بلند آواز میں کہا۔ ”دروازے پر کوئی ہے۔“ یہ کہتے کہتے وہ اٹھے اور سرہانے سے ٹارچ اور پلنگ کے نیچے سے ہاتھ بھرکا ڈنڈا اٹھا کر آنگن میں نکل آئے۔ ہم پردوں کے پیچھے دالان میں چپی مارے‘ لحاف لپیٹے‘ خاموش لیٹے تھے۔ ابا نے بہ دقّت لحاف کو خود سے الگ کیا۔ سرہانے کی طرف زمین پر رکھی لالٹین کی لو اونچی کی اور پلنگ کی پٹی پر پائوں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر کچھ سوچ کر تیزی سے اٹھے اور آنگن کو عبور کرتے ہوئے صدر دروازے پر اتنی تیزی سے پہنچے کہ چچا بڑے دروازے کی کنڈی بھی نہیں کھول پائے تھے۔ چچا نے مڑ کر دیکھا اور بڑے بھائی کو پشت پر دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا۔ کنڈی گرا کر صدر دروازے کے دونوں پٹ کھینچ کر کھولے۔ تیز ہوا نے دونوں بھائیوں کے بدن کا ہر وہ حصہ برف کردیا جو کھلا ہوا تھا۔ سامنے شبراتی کَھٹ بُنا سکڑا سمٹا شرمندہ سا کھڑا تھا۔ اتنی تیز سردی کے باوجود صرف ایک پرانی بنڈی پہنے تھا جس کا رنگ پہچاننا اس اندھیرے میں اور بھی مشکل تھا۔ ”گھر میں کوئی بچہ ہوا ہے۔ کان میں دعا پڑھوانا ہے۔“ اس نے سلام کرکے نیچے نظریں کیے مسکراتے ہوئے یہ اطلاع دی۔ ”مبارک ہو۔“ ابا نے کہا۔ ”لاحول ولا قوة الا....“ چچا زیر لب بڑبڑائے۔ ابا بولے۔ ”ایسا کرو شبراتی کے بچے کے سیدھے کان میں اذان پڑھو اور بائیں کان میں اقامت‘ کلمے کی انگلی سے شہد چٹائو اور چھوٹی چمچی سے نیم گرم پانی تھوڑا تھوڑا پلائو۔“ ”پانی وانی والی بات تو ٹھیک ہے۔ پر دعا آپ ہی کو پڑھنی ہے۔“ وہ کَھٹ بُنا کنمنایا۔ میں بھی اتنی دیر میں سرد ہوائوں سے الجھتا‘ دوڑتا‘ آنگن عبور کرکے ڈیوڑھی میں آکر دروازے کا پٹ پکڑ کر کھڑا ہوچکا تھا۔ ابا چچا سے بولے۔ ”تم شبراتی کے گھر ہو آئو۔ اذان اور اقامت پڑھ دینا۔“ پھر سرگوشیوں میں برہمی کے انداز میں بڑبڑائے۔ ”ہر سال ایک بچہ.... حد ہوگئی۔“ مجھ پر نظر پڑی تو ماتھے پر شکنیں نمودار ہوگئیں۔ ”تم سے کس نے کہا تھا یہاں آنے کو؟ چلو اندر جاکر لیٹو۔“ ”میں بھی کَھٹ بُنے کا بچہ دیکھوں گا۔“ ”نہےں! بچے ایسی جگہوں پر نہیں جاتے۔“ ”بھائی جان‘ جانے دو۔ دور کھڑا رہے گا۔“ چچا نے سفارش کی۔ جب ہم چچا بھتیجے شبراتی کے گھر پہنچے تو دروازہ اندر سے بند نہیں تھا۔ شبراتی کھنکھار کر اندر داخل ہوا۔ ”چھوٹے میاں آئے ہیں۔ پردہ کرلو۔“ اس نے قدرے بلند آواز سے کہا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی کچی مٹی کا ایک دالان نظر آیا اور کچھ بھی نہےں۔ میں نے اندھیرے میں غور سے دیکھا۔ ایک بے چھت کا‘ کمر کی اونچائی بھر کا‘ کچا بیت الخلا بھی دروازے سے ملحق تھا۔ یہ لوگ قدمچوں پر کھڑے ہوکر کمر بند باندھتے ہیں یا نیچے اتر کر؟ مجھے کچھ سوچ کر بڑے زور سے ہنسی آئی مگر میں نے چالاکی سے اسے ضبط کیا۔ دالان میں مٹی کے تھملے کے پیچھے کھٹیا پر لیٹی شبراتی کی عورت نے ادھڑی ہوئی رضائی سے سر اس طرح چھپایا کہ سرہانے کی طرف اس کے سیدھے ہاتھ نے مڑ کر کلائی کی ہڈی کی مدد سے ایک فریم سا بنا لیا۔ میں نے فوراً اندازہ لگایا کہ کَھٹ بُنے کی بیوی ایک عقل مند عورت ہے۔ اس طرح لیٹنے میں رضائی کے اندر سانس لینے میں بھی آسانی ہورہی ہوگی اور پردے کا پردہ ہوگیا۔ کھٹیا کے پاس زمین پر ایک کالی موٹی خوں خوار عورت المونیم کے تسلے میں خون میں ڈوبے چیتھڑے اور کچھ اس سے بھی زیادہ خوف ناک چیزیں لیے بیٹھی تھی۔ چچا نے اسے ”دائی ماں“ کہہ کر سلام کیا۔ جواب دینے میں اس کے دانت چمکے تو میں سہم اٹھا لیکن اس کی آواز اور لہجے میں بڑی نرمی اور ادب تھا۔ میرا دل چچا کے تیئں عقیدت سے سرشار ہوگیا۔ ماں کے ادھر ایک چھوٹے سے گدے پر سیاہی مائل سرخ لوتھڑا آنکھیں بند کیے پڑا تھا۔ ابھی اسے کپڑے نہےں پہنائے گئے تھے۔ مختلف رنگوں کے پرانے‘ موٹے‘ ادھڑے پھٹے کپڑوں سے اسے ڈھانپے رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ چچا نے جلدی جلدی سیدھے کان میں اذان اور الٹے کان میں اقامت کے کلمے پڑھے۔ ”شہد لائو۔“ چچا نے شبراتی کو مخاطب کیا۔ شبراتی نے دیوار کے سہارے پیال پر لیٹے بیٹھے اپنے حیران بچوں کے قریب جاکر سرگوشیوں میں کچھ پوچھا۔ وہ ”ناں ناں“ کرنے لگے۔ وہ گھبرایا ہوا بیوی کی کھاٹی کی طرف مڑا۔ ہم دونوں کو دیکھ کر بیوی سے کچھ بول نہیں سکا۔ چچا مجھے لے کر قریب کھسک آئے۔ وہ بیوی کی کہنی ہلا ہلا کر کچھ پوچھ رہا تھا جو رضائی کے اندر نفی میں سرہلا رہی تھی۔ وہ پوچھتے پوچھتے کھسیا گیا۔ اس کی آواز غالباً تیز ہوجاتی اگر چچا اس کا نام لے کر اسے قریب نہ بلا لیتے۔ ”شکر سے بھی کام چل جائے گا۔ شکر ہے؟‘ ‘ وہ خوش ہوگیا۔ تیزی سے اندر گیا اور بڑے بیٹے سے کچھ پوچھا۔ وہ دیر تک لہجے کو تیز اور آواز کو نرم بنا کر کچھ پوچھتا رہا۔ اچانک اس کا بڑا بیٹا بلبلا کر رونے لگا۔ ”ادھر آئو شبراتی!“ چچا نے تیز لہجے میں آواز دی۔ شبراتی کھسیایا ہوا ان کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ ”گھر میں تھوڑا سا چٹکی برابر گڑ ہوگا؟“ ”گڑکا تو مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ نہیںہے۔ مغرب کے بعد سارے بچوں کے ساتھ آج گڑ سے روٹی کھائی تھی۔ جو بچا تھا دائی ماںنے پانی میں گھول کر بچوں کی ماں کو پلوا دیا تھا۔“ میں نے دیکھا کہ چچا کے چہرے پر کچھ عجیب و غریب رنگ آرہا تھا۔ بہ دقت انہوں نے خود پر قابو پایا اور سمجھانے والے انداز میں دھیمے دھیمے شبراتی سے کہا۔ ”شہد‘ شکر‘ یا گڑ فرائض و واجبات میں نہیں ہیں۔ کانوں میں اذان دی جاچکی ہے۔ اب تم اسے گنگنا پانی پلا دینا۔ بچے کی ماں کو گرم گرم دودھ پلائو اور تب اس سے کہو کہ بچے کو دودھ پلائے۔ سمجھے؟“ شبراتی دالان میں گھسا۔ دیر تک گھسا رہا۔ سرگوشیوں میں بیوی اور بچوں سے باتیں کرتا رہا اور جب روہانسا ہوکر دالان سے باہر نکلا تو اس کے ہاتھ میں ایک برتن تھا جو ایسے گھروں میں عام طور پر دودھ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ چچا دیر تک ماں کی صحت‘ اس کی غذا اور اس غذا سے بچے پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں نرمی سے سمجھاتے رہے۔ شبراتی سب کچھ سنتا رہا اور نیت باندھے کھڑا رہا۔ تب چچا کی نظر اس برتن پر پڑی جو بالکل خالی تھا۔ ”چچا نے ”اونہہ“ کہہ کر میرا ہاتھ پکڑا اور تقریباً کھینچتے ہوئے گھر کی طرف لے چلے تھوڑی دیر بعد جب میں اماں سے تھوڑا سا شہد اور پتیلی بھر دودھ لے کر چچا کی نظر بچا کر شبراتی کے گھر کی طرف جارہا تھا تو آسمان کے نچلے حصے میں ایک میلی میلی صبح نمودار ہورہی تھی۔ ٭٭٭ ایوب دن بھر جانگیا پہنے گلی میں گھومتا رہتا۔ ناک بہتی رہتی اور میل کی تہیں جمتی رہتیں۔ ایک دن میں نے ابا سے کہا کہ کھٹ بنے کے بچے ایوب کو مدرسے میں بٹھا لیجیے۔ انہوں نے ہامی بھرلی۔ میں بھاگا بھاگا گیا اور ایک بغدادی قاعدہ‘ تختی‘ ملتانی مٹی اور کلک کے قلم خرید لایا اور باقی کے پیسے ابا کو واپس کردیے جو انہوں نے بغیر گنے جیب میں رکھ لیے۔ گھر سے بالٹی اور مگ لے کر چوک میں کھڑے ہوکر کنویں سے پانی کھینچ کھینچ کر میں نے اسے خوب نہلایا۔ وہ گورے رنگ کا نکلا۔ اس کے بال بہت چیکٹ تھے۔ بڑی مشکل سے صاف ہوئے۔ انگلیوں سے اس کے بالوں میں کنگھی کی۔ اس کی صورت لڑکیوں جیسی نرم نرم تھی۔ ابا نے مونڈھے پر بیٹھے بیٹھے تمام کاموں کا جائزہ لیا اور کہا۔ ”آج مکتب کا وقت تو ختم ہوگیا۔ تم اسے اس کی ماں کے پاس لے جائو اور کہو کہ قاعدہ اور قلم ایک پاک ستھرے بستے میں رکھیں اور کل صبح اسے صاف صاف کرتا پاجامہ پہنا کر مکتب بھیج دیں۔ میں بسم اللہ پڑھا دوں گا۔“ یہ کہہ کر انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ سکے نکالے اور مجھے دے کر کہا۔ ”ان کے بتاشے لے آنا۔“ اتنی صبح بتاشوں کی دکانیں نہیں کھلتیں۔ میں اسے لے کر اس کے گھر گیا۔ اس کے گھر میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی البتہ شبراتی کی سانس بہت پھولنے لگی تھی۔ میں نے ایوب کی ماں سے پاک صاف کرتا پاجامہ اور بستہ تیار کرنے کو کہا۔ وہ مجھے دیکھ کر سر پر دوپٹا برابر کرنے لگی تھی۔ میری بات سن کر ہاتھ وہیں کے وہیں رہ گئے۔ فجر کی نماز کے بعد منہ اندھیرے میں اس کے گھر پہنچا۔ ایوب تیار تھا۔ راتوں رات اس کے باپ کا پاجامہ کاٹ کر اس کے سائز کا کردیا گیا تھا۔ شبراتی لنگی پہنے سانس سے لڑ رہا تھا۔ ”بستہ کہاں ہے؟“ میں نے ماہر جاسوس کی طرح چاروں طرف نگاہیں پھینک کر سوال کیا۔ اس کی ماں کچھ نہیں بولی۔ پیٹھ موڑ کر ٹین کا بکس کھولا۔ اس میں صاف اور میلے کچھ کپڑے‘ دو تین پرانی مذہبی کتابیں اور تھوڑے سے تانبے کے برتن تھے۔ وہ الٹ پلٹ کر ہر کپڑے کو دیکھتی اور ہر کپڑے کی افادیت اسے بستے سے زیادہ نظر آتی۔ میں پیچھے سے صرف اس کے ہاتھ دیکھ پارہا تھا۔ اس کی انگلیوں کی حرکات سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کس کپڑے کو کتنی اہمیت دے رہی ہے۔ کپڑے دیکھتے دیکھتے اس کا ہاتھ صندوق کے فرش سے ٹکرایا۔ میں نے گردن اٹھا کر پیچھے سے ایوب کی ماں کے سر کے اوپر سے نیچے کی طرف دیکھا۔ کپڑے ختم ہوچکے تھے۔ صندوق کے فرش پر پیلے پرانے اردو اخبار بچھے ہوئے تھے۔ میں ایوب کی ماں اور شبراتی کو سنانے کے لیے تعلیم‘ اس کی اہمیت‘ مکتب اور اس کے لوازمات‘ کتابوں‘ قلم اور بستے کے بارے میں دیر تک باتیں کرتا رہا‘ یہاں تک کہ وہ تمام الفاظ ختم ہوگئے جو میں نے مکتب کے منشی جی سے سنے تھے۔ شبراتی یہ سب سن کر عالمانہ انداز میں سرہلاتا رہا اور زمین کو دیکھتا رہا‘ اتنی دیر تک دیکھتا رہا کہ مجھے شک ہونے لگا کہ وہاں کچھ سکے نہ پڑے ہوں۔ میں نے آگے بڑھ کر غور سے دیکھا وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں ایوب کی ماں کی طرف بڑھا۔ اس نے مجھ سے نظریں نہیں ملائیں‘ صندوق ایک طرف کرکے چپ چاپ بیٹھ گئی۔ میرے منہ سے بے ساختہ ”اونہہ“ نکلا۔ میں ایوب کا ہاتھ پکڑ کر تقریباً گھسیٹتے ہوئے گھر کی طرف چلا۔ اسے دروازے پر کھڑا کیا۔ اندر جاکر اماں کی نظر بچا کر قرآن شریف کا جزدان نکال کر لایا اور ایوب کا ہاتھ پکر کر مکتب کی طرف چلا جہاں ابا بیٹھے ہم دونوں کا انتظار کررہے تھے۔ رات کے لائے بتاشے ان کے قریب پڑیا میں بند رکھے تھے۔ مکتب کے باہر ایک کاہل وجود بیمار دن گھٹنوں کے بل دھیمے دھیمے رینگنے لگا تھا۔ ٭٭٭ شبراتی اور اس کی بیوی کا انتقال تین راتوں کے وقفے سے ہوا۔ کھٹ بنا پہلے رخصت ہوا۔ اسے دمے کا مرض تھا۔ اس کی بیوی کو دق تھی۔ ایوب اپنے بڑی بھائی بہنوں کے ساتھ میت کی چارپائی کے پاس خاموش کھڑا تھا۔ کفن کا انتظام ہوچکا تھا۔ میں ابھی ابھی نوکری سے چھٹی پر آیا تھا۔ سامان بھی ٹھیک سے نہیں رکھا تھا کہ یہ اطلاع ملی۔ ابھی میت نہیں اٹھی تھی۔ میں جنازے کے مختصر سے جلوس میں آکر شامل ہوگیا۔ محلے کی مسجد کے امام کا اصرار تھا کہ اول منزل میں دیر نہ کرو۔ ایک نئی جائے نماز کا انتظام کرو اور میت کو لے کر قبرستان چلو۔ ایوب امام صاحب کو لے کر ایک کونے میں گیا۔ جانے کیا ہوا کہ امام صاحب کے ماتھے پر شکنیں پھیل گئیں۔ میں نے دیکھا ایوب سب کی نظریں بچا کر دالان میں لٹکی شبراتی کی بنڈی کی جیبیں ٹٹول رہاہے۔ اس نے جیبیں الٹ دیں۔ چاند تارا بیڑی کا بنڈل اور ایک ماچس برآمد ہوئی اور کچھ نہیں تھا۔ کالی جیبیں بوڑھی گائے کے سوکھے تھنوں کی طرح لٹکی ہوئی تھیں۔ امام صاحب ایوب کو الگ بلا کر لے گئے۔ میں نے غور سے سنا۔ وہ اسے جنازے کی نماز کی اہمیت‘ تدفین میں عجلت اور قبر کے عذاب سے حفاظت وغیرہ کے بارے میں بہت سنجیدگی اور درد مندی کے ساتھ کچھ سمجھا رہے تھے۔ وہ آنکھیں نیچی کیے ان کی باتیں دھیان سے سنتا رہا۔ ایک لفظ نہیں بولا۔ یوں بھی اسے بولتے میں نے کبھی نہیں سنا تھا۔ اس کی آواز بھاری ہے یا متوازن‘ یا لڑکیوں کی طرح مہین‘ میں یہی سوچتا رہا۔ امام صاحب کا چہرہ اور لہجہ آہستہ آہستہ جہنم کی طرح سرخ اور تیز ہورہا تھا۔ ایوب کے بھائی بہن ان تمام باتوں کو ایک گو نہ احترام اور خوف کے ساتھ سنتے رہے۔ جب امام صاحب کو خیال آیا کہ دینی کتابوں کے وہ تمام حصے بیان کیے جاچکے ہیں جو اس موضوع پر انہیں یاد رہ گئے تھے تو وہ ایک عجیب سی بیزاری کے عالم میں ایوب کے سیاہ پڑتے چہرے کی طرف دیکھنے لگے‘ کہ مغرب کا وقت ہوچکا تھا اور ایوب کی ماں آنگن میں کفن اوڑھے لیٹی تھی۔ ایوب کھڑا ہوا مایوسی کے عالم میں ہاتھ مل رہا تھا۔ تب میں نے تیز نظروں سے امام صاحب کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ سہم سے گئے کہ ان کا رات کا کھانا اور عید کے کپڑے ہمارے ہی گھر سے جاتے تھے۔ وہ میت کی چارپائی کی طرف لپکے۔ ”حضرات! کلمہ پڑھتے ہوئے‘ میانہ روی سے‘ قبرستان کی طرف چلیے‘ اول منزل میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ یہی حکم آیا ہے۔“ وہ سرہانے لگے۔ میں پائینتی لگا۔ راستے بھر ”اونہہ اونہہ“ کی آوازیں کانوں میں آتی رہیں۔ بہت چاہا لیکن اندازہ نہیں ہوسکا کہ آوازیں کہاں سے آرہی ہیں۔ میرا ذہن نئی پرانی یادوں کو کھنگالتا رہا۔ دودھ کا خالی برتن‘ خالی صندوق میں بچھے پیلے پرانے اخبار اور بنڈی کی خالی لٹکی ہوئی جیبیں۔ میں نے چچا کو‘ خود کو اور امام صاحب کو مفید‘ عالمانہ اور مشفقانہ باتیں کرتے سنا۔ دور اور قریب کے ماضی کی آوازوں کی تکرار‘ کلمے اور درود کو مدغم کرتا‘ آپس میں الجھاتا‘ نکالتا‘ سلجھاتا‘ سنتا اور محو کرتا ہوا میں آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔ گرمیوں کی شامیں شفاف ہوتی ہیں لیکن اس دن کے سوگ نے انہیں دھندلاکر دیا تھا کہ ہمارے کاندھوں پر ایک میت تھی اور اس میت کے بچے ہمارے دائیں بائیں کلمہ درود پڑھتے دھیمے دھیمے چل رہے تھے۔ گیہوں کے تازہ کٹے کھیتوں میں ڈنٹھلوں سے پیروں کو بچاتے ہوئے۔ جب ہم قبرستان میں داخل ہوئے تو میں نے ایوب کے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔ اس نے میری طرف حیران سہمی سہمی نگاہوں سے دیکھا۔ مجھے ”اونہہ اونہہ“ کی آوازیں پھر سنائی دیں۔ اس بار میں جان گیا۔ یہ آوازیں امام صاحب کے ہونٹوں سے نکل رہی تھیں جو بیزاری اور مایوسی کے ساتھ میت اٹھائے اپنے قدموں کو کھینچتے ہوئے قبرستان میں داخل ہورہے تھے۔ عشا کے بعد جب رات شروع ہوچکی تھی‘ تب میں گھر سے نکلا اور شبراتی کے گھر والوں کی نظر بچا کر امام صاحب کو ایک نئی جائے نماز دے آیا۔ ٭٭٭ تار کا مضمون مختصر تھا۔ ”ایوب اسپتال میں دم توڑ رہا ہے۔ آپ کی ضرورت ہے۔ فوراً آجائیے۔“ نیچے اس کے بڑے بھائی کا نام لکھا تھا۔ میں اسی وقت چل پڑا۔ گھر پہ ابا نے بتایا کہ وہ ٹرک ڈرائیور بن گیا تھا۔ برسات کا موسم‘ تنگ سڑکیں‘ موسلا دھار بارش‘ سامنے سے آتے ٹرک کی تیز ہیڈ لائٹ اور ڈرائیور کی شراب نوشی‘ نتیجہ یہ ہوا کہ ایوب کا ٹرک بری طرح حادثے کا شکار ہوا۔ حادثے کی جگہ سے لے کر وطن کے اسپتال تک سیروں خون بہہ گیا۔ درمیان میں کوئی طبی سہولت بھی میسر نہیں آئی۔ میں نے جلدی جلدی جیب میں بہت سے روپے رکھے اور اسپتال پہنچا۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ اسپتال آبادی سے ہٹ کر ایک باغ کے کنارے بنا ہوا تھا۔ اسپتال میں ایوب کے بھائیوں اور سرکاری ڈاکٹر کے علاوہ میرا بچپن کا ساتھی ڈاکٹر نہال الدین بھی تھا جس پر مجھے زیادہ اعتقاد تھا۔ اسے دیکھ کر قدرے طمانیت کا احساس ہوا لیکن اس کا چہرہ بجھا بجھا تھا۔ مجھے بے چین دیکھ کر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ ”نواڑ کے پلنگ کا رواج شروع ہوا تو ان لوگوں نے نواڑ کا کام شروع کردیا۔ پھر دھیرے دھیرے شہروں کی دیکھا دیکھی سستے ڈبل بیڈ کا فیشن شروع ہوا تب یہ لوگ بالکل بے روزگار ہوگئے۔ ایوب نے مکتب میں بہ مشکل چار درجے پاس کیے۔ جب یہ سولہ برس کا ہوگیا تو اس نے مجھ سے عمر کا جھوٹا سرٹیفکٹ بنوا کر ٹرک کا لائسنس نکالا۔ تین چار برسوں تک اسی کام میں لگا رہا۔ ٹرک والوں کی زندگی کا تمہیں معلوم ہے۔ وقت پر کھانا نہ وقت پر سونا‘ ذہنی اذیتیں اور دن رات کا تشنج ایک طرف نتیجہ یہ ہوا کہ کم زور ہوگیا۔ تیز بارش میں سامنے والے شرابی ڈرائیور نے ڈپر نہیں دیا۔ اس نے بچانے کی بہت کوشش کی لیکن کم زور ہاتھوں سے بھاری ٹرک کا اسٹیئرنگ کتنا گھوم پاتا۔ سڑک کے کنارے شیشم کے ایک درخت سے ٹرک بری طرح ٹکرایا۔ سینے کی کوئی پسلی ایسی نہیں جو فریکچر نہ ہوؼ/div>
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
| Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا | Kamran_Tabasum (24-08-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت خوب خرم بھائی
|
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Kamran_Tabasum (24-08-09) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت پیاری شیئرنگ ہے ۔
|
|
|
|
| ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا | Kamran_Tabasum (24-08-09) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,563
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ سب کے پسند کرنے کا بہت شکریہ
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | Kamran_Tabasum (24-08-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: rawalpindi
مراسلات: 1,088
کمائي: 13,282
شکریہ: 12,431
974 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,563
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ کامران بھائی آپ کا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کمر, پاک, لوگ, چین, نوکری, نماز, مسجد, معلوم, اللہ, اردو, بھائی, بچپن, بچوں, جواب, حکم, خون, خوش, خرم, دل, دعا, رات, زندگی, عورت, عقل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|