واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




موت سے آب حیات تک

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-07-07, 11:09 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default موت سے آب حیات تک

موت سے آب حیات تک



محمد فاروق ضمیر


کار کا پہیہ پنکچر ہوا اور کربی کو جھلستے ہوئے صحرا میں پہیہ بدلنے کی مشقت سے گزرنا پڑا۔ پہیہ بدلتے ہوئے اس کا لباس پسینے کے باعث جسم سے چپک گیا۔ اسے اپنے آپ سے کراہت محسوس ہو رہی تھی۔ اچانک گھوڑے کی ہنہناہٹ سن کر اس نے مڑ کر دیکھا اور پھر وہ کئی لمحوں تک حیرتوں میں گم رہا۔ سو گز کے فاصلے پر کم از کم پچاس گھڑ سوار نیم دائرے کی شکل میں کھڑے تھے۔ ان کی نگاہیں کربی پر گڑی تھیں اور غصے سے سرخ چہروں سے ان کے برے ارادے ظاہر ہو رہے تھے۔

اس نیم دائرے سے غصیلی شکل کا ایک شہسوار گھوڑے کو دلکی چال چلاتا اس کی طرف بڑھا۔ کوئی اور گھوڑا پھر ہنہنایا۔ کربی اٹھ کر کھڑا ہوا۔ پسینہ اس کے ماتھے سے ٹپک رہا تھا۔ آنے والے کو اس نے فوراً پہچان لیا جو گھوڑے پر سوار اس کے قریب پہنچا اور گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے اس نے کہا: "السلام علیکم!"

کربی نے جواب دیا: "وعلیکم السلام شیخ یوسف!" پھر مصافحے کے لیے آگے بڑھا تو گھڑ سوار نے اس کا آگے پھیلا ہوا ہاتھ نظر انداز کر دیا۔ کربی صورت حال کی سنگینی اور نزاکت بھانپ کر خوفزدہ ہوگیا۔ وہ اس خطے کے آداب اور تمدن سے بہت اچھی طرح واقف تھا۔

وہ نابلس میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے شام ہی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ جب بڑا ہوا تو اعلی تعلیم کے لیے امریکا بھیج دیا گیا جہاں اس نے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ کیبل کمپنی نے اسے شام میں نابو کے مقام پر اپنی ایک کان میں اعلی عہدے کی پیش کش کی اور وہ شام واپس آگیا۔

وہ جانتا تھا کہ جب کوئی مصافحے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کر دے تو وہ دوست نہیں ہوتا۔

گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے شیخ یوسف نے کہنا شروع کیا: "کربی صاب! آپ کے خیمے کے باہر کالا اونٹ بیٹھ چکا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔ دو راتیں گزریں جب میرا ایک عزیز بنو زیاد قتل کر دیا گیا تھا۔۔۔۔"

کربی نے اپنے ہوش و حواس سنبھالتے ہوئے جواب دیا: "اللہ بنو زیاد پر اپنی رحمت نازل کرے! اس کی قبر سے ہمیشہ گلاب کے پھولوں کی مہک آتی رہے اور وہ کروٹ کروٹ۔۔۔۔"

شیخ یوسف نے بڑے تیز اور درشت لہجے میں کربی کی بات کاٹ دی۔ اس کا لہجہ بھی یکسر بدل گیا تھا۔ وہ بولا: "کربی صاب! تمھارے یہ خوشامدی جملے مجھے متاثر نہیں کر سکتے۔ تم اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مجھے ہرگز چکمہ نہیں دے سکتے۔ بنو زیاد کو تمھارے خیمے کے سامنے گولی ماری گئی تھی۔۔۔۔ کان کے اس علاقے میں جس کے بڑے افسر تم ہو۔۔۔۔"

معاملہ بگڑتا جا رہا تھا۔ کربی نے بڑے جذباتی انداز میں جواب دیا: "اس جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو شیخ یوسف جس نے آپ کو ورغلایا۔ ہاں جیسا آپ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو وہاں گولی ماری گئی تھی تو شیخ، وہ شخص آپ کے معزز قبیلے کا رکن نہیں تھا۔ وہ تو آوارہ گرد اور چور تھا۔ گارد کے سپاہیوں نے اسے میرے خیمے سے گھسٹتے ہوئے باہر نکلتے دیکھا۔ رات بڑی تاریک تھی، اس لیے کوئی اس کی صورت نہ دیکھ سکا۔ وہ خیمے سے کینوس کا بیگ چوری کرکے نکلا تھا، جس میں مزدوروں کی تنخواہ کی رقم تھی۔ گارد نے گولی چلائی اور وہ چور گر پڑا۔ جب ہم وہاں لالٹین لے کر پہنچے تو چور کے ساتھی اس کی لاش گھسیٹ کر لے جا چکے تھے۔ میں اس وقت پولیس اسٹیشن ہی سے آ رہا ہوں جہاں میں نے چوری کی رپورٹ درج کرائی ہے۔ وہ شخص چور تھا جسے گولی ماری گئی شیخ یوسف! آپ کا احترام۔۔۔۔"

"تم وقت ضائع کر رہے ہو کربی صاب۔" شیخ یوسف نے تیزی سے کہا۔ "تم جانتے ہو کہ یہاں کا قانون کیا ہے۔"

کربی نے اپنے آپ سے کہا۔ ہاں میں یہاں کا قانون جانتا ہوں۔ قتل کا بدلہ قتل۔۔۔۔ جان کے بدلے جان، دانت کے بدلے دانت۔۔۔۔ اور چونکہ چور اس علاقے میں اس کے آدمیوں سے مارا گیا ہے، اس لیے اس قتل کا ذمے دار بھی وہی ہے۔ مقامی اور قبائلی قانون کے تحت وہی سزا کا حق دار تھا۔

اس نے آنکھیں اٹھا کر سو ڈیڑھ سو گز دور کھڑے گھڑ سواروں کو دیکھا۔ نیم دائرے میں کھڑے تمام سوار اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ وہ تلواروں اور نیزوں سے لیس تھے۔ بعضوں کے پاس بندوقیں بھی تھیں۔ کربی نے سوچا شیخ یوسف کا ایک اشارہ پا کر وہ سب اس پر پل پڑیں گے۔ اس کی تکا بوٹی کرکے رکھ دیں گے۔ میں یہاں صحرا میں ہوں۔ دور دور تک کوئی جان دار ہے نہ آبادی۔ مجھے کسی طرف سے کسی طور مدد نہیں مل سکتی۔ کسی طرح بھی میں کسی کو اپنی جان بچانے کے لیے آواز نہیں دے سکتا۔ ترکی فوجوں کی چھاؤنی دور ہے۔۔۔۔ پولیس کا تھانہ اس سے بھی دور ہے اور کان کے محافظ بھی اس کی پہنچ سے باہر ہیں۔۔۔۔ اس نے اپنی کار کو کوسا جس کا پہیہ پنکچر ہوا اور اسے رکنا پڑا۔ وہ دشمنوں کے نرغے میں تھا۔ زمین سخت سنگلاخ تھی اور آسمان بہت دور۔۔۔۔ جان پر بنی ہو تو ذہن تیزی سے کام کرنے لگتا ہے۔۔۔۔ اور پھر اس نے بڑی سنجیدگی سے شیخ یوسف کو مخاطب کیا: "اے شیخ! میرا حلق پیاس سے خشک ہو رہا ہے۔ میں اس علاقے میں تمھارا مہمان ہوں اور میں جانتا ہوں کہ عربوں کی مہمان نوازی اپنی مثل آپ ہے۔ مجھے پانی پلاؤ۔"

شیخ یوسف کے چہرے پر بے چینی تھی۔ اس نے جلدی سے مشکیزے کے ساتھ لٹکا ہوا کدو کا بنا پیالہ اتار کر مشکیزہ کھولا اور پیالہ پانی سے بھر کر کربی کو تھما دیا۔ کربی نے پیالہ تھام کر ہاتھ اوپر اٹھائے اور پیالے کو ہونٹوں سے چھو کر پیچھے ہٹا لیا۔

"دیر مت کرو، جلدی سے پانی پیو۔" غصیلے شیخ یوسف کی درشت آواز صحرا میں گونجی۔ "جلدی پانی پیو اور بتاؤ تم تلوار سے مرنا پسند کرو گے یا بندوق کی گولی یا خنجر سے۔۔۔۔؟"

کربی نے ٹھہر ٹھہر کر کہنا شروع کیا: "اے شیخ! یہ تمھارے قبیلے کی روایت ہے کہ وہ شخص جو کھا یا پی رہا ہو، اسے کھانے اور پینے کے دوران میں کبھی قتل نہیں کیا جاتا، اس پر کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا۔"

"بڑ بڑ مت کرو۔ میں اپنی روایات تم سے بہتر سمجھتا ہوں۔" شیخ یوسف کے لہجے میں غصہ اور بے چینی نمایاں تھی۔ "جب تم پانی پی رہے ہوگے تو تم پر کوئی وار نہیں کرے گا۔ پیالہ جلدی سے خالی کر دو۔۔۔۔"

"ہاں، ہاں جب تک تم یہ پانی نہیں پی لو گے، تم پر نہ میں وار کر سکتا ہوں نہ میرے قبیلے کا کوئی فرد، لیکن باتیں مت بناؤ۔ اس سے تمھیں کچھ حاصل نہ ہوگا۔ تم اپنا اور میرا وقت ضائع کر رہے ہو۔ تمھیں مرنا ہے اور بس۔۔۔۔"

کربی نے ایک بھرپور نگاہ شیخ یوسف پر ڈالی۔ کدو کا بنا ہوا پیالہ دونوں ہاتھ میں اوپر اٹھایا اور پھر اسے الٹ دیا۔ پانی صحرا کی ریتلی زمین پر گرا جسے صدیوں کی جھلسی ہوئی ریت نے لمحوں میں جذب کر لیا۔

"شکریہ یا شیخ!" کربی نے کہا: "وہ پانی جسے ختم کرنے اور پینے سے پہلے تم اور تمھارے قبیلے کا کوئی فرد مجھ پر وار نہیں کر سکتا، صحرا کی ریت میں جذب ہوگیا ہے۔ اپنے آدمیوں سے کہو وہ ریت سے قطرہ قطرہ کرکے وہ پانی پھر سے اس کدو کے پیالے میں جمع کریں اور پھر میں اسے پی لوں۔ جب تک یہ پانی تم اور تمھارے آدمی ریت سے قطرہ قطرہ نکال کر پھر سے پیالے میں جمع نہیں کر لیتے، تم اور تمھارے آدمی مجھے کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہی تمھارا قاعدہ ہے۔ یہی قول تم نے مجھے دیا ہے۔۔۔۔ یا شیخ یوسف! میں جانتا ہوں تم اپنے قول پر جان دینے والے انسان ہو۔"

شیخ یوسف کے چہرے پر جو غصہ اور بے چینی تھی وہ بے بسی میں تبدیل ہوگئی۔ کربی خاموشی سے پھر کار کے پاس بیٹھ کر پہیہ کسنے لگا۔ اس کے دل سے خوف نکل چکا تھا۔

چند منٹوں بعد اس نے آنکھیں اوپر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔ جس خاموشی سے شیخ یوسف اسے ٹھکانے لگانے اپنے آدمیوں کے ساتھ آیا تھا، اسی خاموشی سے وہ جا چکا تھا۔

کربی نے زمین کے اتنے حصے کو دیکھا جس کی ریت کچھ نم اور بھربھری تھی۔

وہ مسکرایا: "یہ وہ آب حیات ہے جسے میں نے چکھا نہیں اور زندہ رہا۔ چکھ لیتا تو زندہ نہ رہتا۔۔۔۔"

وہ تیزی سے پہیے کے قبضے کسنے لگا!


__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (26-12-08), Real_Light (11-04-08), وسیم (03-12-08), طارق راحیل (03-12-08)
پرانا 11-04-08, 12:23 PM   #2
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,924
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: موت سے آب حیات تک

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

بہت اچھا مراسلہ ہے
امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے
بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-08, 09:01 PM   #3
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,247
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: موت سے آب حیات تک

بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طارق راحیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 24-08-09, 01:03 AM   #4
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

طارق بھائی آپ کابھی بہت شکریہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, پہچان, پولیس, پسند, لمحوں, چور, نظر, موت, آدمی, اللہ, انسان, بھائی, تعلیم, جواب, حال, خدا, دوست, شام, شخص, عزیز, صحرا, صدیوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) ایکسٹو متفرقات 2 09-03-11 02:54 PM
امام کی تلاوت اور جدید سائنس wajee اسلام اور معاشرہ 5 09-03-11 07:55 AM
نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاعقلی ثبوت عبداللہ حیدر عقیدہ رسالت 12 31-12-10 03:09 PM
ماہ مقدس رمضان اور تلاوت قرآن Real_Light ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 0 21-08-09 06:39 PM
موت ایک اٹل حقیقت !!!!!ایک منتخب تحریر وجدان آخرت 7 17-08-09 10:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:57 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger