واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




غلام جن کے کرشمے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-08-07, 09:55 AM   #1
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 24,802
کمائي: 2,339,094
شکریہ: 17,794
12,252 مراسلہ میں 28,472 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default غلام جن کے کرشمے

غلام جن کے کرشمے

غلام جن کے کرشمے

قبرستان میں ہو کا عالم تھا۔ رات کی تاریکی اور سناٹا مگر ایک سایہ قبرستان میں موجود تھا۔
نعمان آج بھی آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھ رہا تھا۔ گھر سے کچھ دور قبرستان میں بیٹھنا پچھلے چھ مہینے سے اس کا معمول بن چکا تھا۔ ایک بزرگ نے انہیں جن قابو میں لانے کا گر بتا دیا تھا۔اور اب نعمان ہر رات چلہ کاٹنے آ جاتا۔ آج اس کے چلے کی آخری رات تھی۔
نعمان سفید پوش گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔ کالج میں قدم رکھا تو احساس کمتری کا شکار ہو گیا۔ کوئی نئی کار میں آ رہا ہے تو کسی کے پاس زبردست موٹر سائیکل تھی۔ نت نئے لباس مگر یہ سب نعمان کے پاس نہیں تھا۔ یونیورسٹی میں اسے اپنا آپ اور بھی کم تر لگا۔ اس کے بابا جیسے تیسے اس کی تعلیم مکمل کروا رہے تھے۔ نعمان زندگی میں بہت کچھ پانا چاہتا تھا۔ فریحہ جیسی خوبصورت لڑکی جس سے اسے محبت تھی وہ بھی اس سے کتراتی تھی۔ ایک دن صاف کہ دیا کہ ہم دونوں میں سماجی لحاظ سے کافی فرق ہے اس لئے حقیقتوں میں جینا سیکھو ۔ آئیندہ مجھ سے بات نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا۔ اس دن نعمان کو اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہوا ۔ تھکا ہارا اور مایوس سا رہنے لگا۔
ایسے میں اس کی ملاقات اس بزرگ سے ہوئی جس نے کافی منت سماجت کے بعد جن قابو کرنے کا طریقہ بتا دیا۔

شروع شروع میں نعمان بہت ڈرا تھا لیکن اب عادت ہو گئی تھی۔ اچانک اسے اپنے گرد گھومتی ہوئی سرکوشیاں سنائی دیں۔ نعمان کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ سرگوشی بڑھتے بڑھتے ایک گرجدار خوفناک آواز میں بدلنے لگی ۔ کوئی تھا جو اس کے بنائے ہوئے دائروں کے ارد گرد غصے کی حالت میں تیزی سے گھوم رہا تھا۔ نعمان آنکھیں بند کئے پڑھتا جا رہا تھا۔ کبھی شیر کی گرج تع کبھی ہاتھی کی چنگھاڑ مختلف آوازیں آتی گئیں۔ اچانک خاموشی ہو گئی ۔ اور ایک آواز آئی۔ کیا چاہتے ہو۔ کیوں مجھے اپنے قابو میں کیا ہے۔
نعمان کو اسی لمحے کا انتظار تھا۔ آنکھیں بند رکھتے ہوئے اس نے کہا ۔ مجھے آقا تسلیم کرو۔ اور قسم کھاؤ کہ تم میرے غلام ہو۔
آواز آئی میں آپ کو آقا تسلیم کرتا ہوں اور غلامی کی قسم کھاتا ہوں مگر مجھے اور تکلیف نہ دو۔
نعمان نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کے سامنے ایک شخص کھڑا تھا ۔ جس کی سبز آنکھیں اور لال چہرا تھا۔ انسانوں کی طرح شکل تھی مگر کچھ تبدیلیاں دیکھ کر پتا چلتا تھا کہ وہ انسان نہیں ہے۔اسے دیکھ کر خوف محسوس ہوتا تھا۔
نعمان نے چلہ ختم کیا اور دائرے سے باہر آ گیا۔ وہ ڈرتے ڈرتے جن کے پاس گیا اور نام پوچھا ۔ جن نے کہا میرا نام اشرف ہے۔ نعمان کی حیرانگی پر اس نے بتایا کہ میں مسلمان جن ہوں ۔ مگر اپنی سرکشی کی وجہ سے اس پردے سے نکل آیا تھا جو انسانوں اور جنوں کے درمیان ہوتا ہے ۔ جیسے ہی پردے سے نکلا ایک اور دنیا مجھے نظر آئی ۔ میں بہت خوش تھا مگر میرے دماغ پر کچھ اثر سا ہونے لگا۔ میں اپنے آپ سے بے قابو ہوتا گیا۔ اور آج اچانک یہاں پہنچا تو پتا چلا کہ میں اب آپ کے زیر اثر آ چکا ہوں۔
نعمان نے پوچھا میں تمہیں کیسے بلاؤنگا ۔ مجھے یاد کرنا اور ہلکی سرگوشی میں وہی پڑھنا جو آج پڑھا تھا۔ جن کے جواب پر نعمان نے سمجھنے والے انداذ میں سر ہلا دیا اور کہا اب تم جاؤ۔

اگلی صبح نیند سے جاگتے ہی نعمان نے جن کو بلایا۔ سامنے جن نمودار ہوا۔ میرے لئے بہترین ناشتہ لاؤ۔
جن غائب ہو گیا آدھا گھنٹہ گزر گیا اور جن ابھی تک غائب۔ نعمان سوچنے لگا شاید پرستان سے ناشتہ لانے گیا ہو گا۔ کچھ دیر بعد جن نمودار ہوا تو اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی جس میں انڈوں کا آملیٹ ، دو پراٹھے اور چائے تھی۔ ایک پراٹھے کا کنارہ تھوڑا سا جلا ہوا تھا۔ نعمان نے چپ چاپ ناشتہ کرتے ہوئے سوچنے لگا کہ پرستان میں یہ بہترین ناشتہ ہے ۔ امی کے ہاتھ کا ناشتہ اگر پرستان والے کھا لیں تو پھر پتا چلے گا مزے دار ناشتہ کیسا ہوتا ہے۔ ابھی نوالہ منہ میں تھا کہ امی کی آواز قریب آنے لگی۔ نعمان گھبرا گیا مگر جب تک جن کو جانے کا کہتا امی اندر آ چکی تھیں۔ امی غصے میں کچھ کہہ رہی تھی مگر نعمان کا گھبراہٹ سے برا حال تھا ۔ یہ دیکھ کر ایک لمبی سانس لی جب امی جن کو نہیں دیکھ پائی۔ شاید جن صرف نعمان کو نظر آ سکتا تھا۔
امی کی جھلاہٹ بھری آواز آئی تم سے کہ رہی ہوں ۔ کیا تمہیں روز ناشتہ نہیں ملتا کیا ضرورت تھی کچن کا ستیاناس کرنے کی۔ سب کچھ بکھرا ہوا ہے۔ نعمان کو اب سمجھ آیا غصے سے جن کو گھورا جو شومئی قسمت امی سے ذرا فاصلے پر کھڑا تھا ۔ امی نے جوتا اٹھایا نعمان تم مجھے گھور رہے ہو۔ صورت حال نعمان کی سمجھ سے باہر تھی۔ نہی امی وہ ادھر دیوار پر چھپکلی نظر آئی تھی ۔ امی میں آئیندہ ایسا نہیں کرونگا اور کچن بھی صاف کر دونگا۔ نعمان کو اسی میں عافیت نظر آئی کہ غلطی مان لے۔ امی بڑبڑاتی ہوئی جیسے ہی گئی نعمان جن پر برس پڑا۔ تم ناشتہ میرے کچن سے کیوں لائے۔
جن نے ایک پل کے لئے نعمان کو گھورا پھر بولا تو کیا کسی اور کے کچن سے لاتا ۔ میں مسلمان ہون اور چوری گناہ ہے ۔ اگر چوری کا ناشتہ کرنا ہے تو خود چوری کرو مجھے کیوں گناہگار کرتے ہو۔ دنیا میں کیا سب کچھ ہوا سے پیدا ہوتا ہے۔ ناشتہ کسی نے بنایا ہوتا ہے اگر وہ میں لاؤں تو چوری ہے اسی لئے آپکے کچن سے خود بنا کے لایا تھا ۔ میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔
نعمان کا دل چاہا کہ اپنے بال نوچ لے۔ تو کیا تم میرے لئے سونا چاندی دولت بھی نہیں لاؤ گے؟
جن مسکرایا ، میں خود اپنے کھیتوں میں مزدوری کر کے دو وقت کی روٹی حاصل کرتا تھا ۔ میرے پاس دولت کے انبار ہوتے تو آج میں خود مزے نہ کر رہا ہوتا۔ اور چوری میں نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ میں نہیں کرتا۔
نعمان کو اپنے چھ مہینے کی محنت پر پانی پھرتا نظر آنے لگا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کہ اس جن کا کیا کرے۔
یونیورسٹی میں پتا چلا کہ تین مہینے بعد امتحان ہے ۔ نعمان کی تیاری کچھ نہ ہونے کے برابر تھی۔ فورا جن کو بلایا اور کہا کہ مجھے لائق بنا دو۔ جن نے بے بسی سے دیکھا اور کہا یہ میرے بس سے باہر ہے۔ نعمان نے عجیب سی نظروں سے جن کو دیکھا اور کہا پھر امتحان کے پیپرز مجھے لا کر دینا۔ جن نے نفی میں سر ہلایا تو نعمان کو انداذہ ہوا کہ یہ جن چوری نہیں کرے گا۔ جیسے بھی ہو مجھے پاس کرا دو نعمان نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔
پاس کرا دونگا مگر میرا کہنا ماننا پڑے گا۔ اور اس کے لئے وعدہ کرو۔
نعمان وعدہ کرتے ہی پچھتانے لگا کہ پتا نہیں کیا منوائے گا۔مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
اگر وعدہ توڑا تو میں خود بخود آپ کی قید سے آزاد ہو جاؤنگا جن مسکرایا۔
نعمان کی شامت آ گئی ۔ جن کے احکامات ناقابل قبول تھے مگر وعدہ کیا تھا تو نبھانا بھی تھا۔ورنی جن آزاد ہو جاتا۔ کھیل بند کرا دئے تھے جن نے ۔ دوستوں کی محفلوں سے منع کر دیا گیا تھا۔ ہر روز تین گھنٹے کمرے میں بند ہو کر پڑھنا پڑتا تھا۔ نعمان کا دل اکتا جاتا تو کتاب ایک طرف رکھ دیتا مگر جب جن کو سامنے مسکراتے ہوئے دیکھتا تو دوبارہ پڑھنا شروع کرتا۔ جن کی طرف سے ایک نئی پابندی کہ صرف انہی دوستوں سے دوستی رکھے جو جن کو پسند ہوں۔ وہی کھائے جو جن کہے ۔
نعمان کو ایسا لگنا لگا جیسے جن اس کا غلام نہ ہو بلکہ نعمان اس کا غلام ہو۔ بس ایک بات جو دماغ میں تھی کہ امتحان گزرنے کے بعد وعدہ پورا ہو جائے گا اور نعمان جن کی خوب خبر لے گا۔

امتحان ختم ہوا اور نعمان کا وعدہ پورا ہو گیا۔ یونیورسٹی میں دوستوں کی طرف سے الوداعی تقریب ہوئی ۔ سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔

نعمان نے جن سے گھر کے سارے کام کروائے ۔ جہاں اسے موقع ملتا وہ جن سے کام کرواتا ۔ تپتی دوپہر میں اسے کھڑا ہونے کا کہتا۔ جن پسینے پسینے آقا کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوتا۔ پنکھا بند کر کے جن کو سارا دن پنکھا جھلنے کے لئے کہا جاتا۔ نعمان جن پر اپنا غصہ نکال رہا تھا۔

وقت گزرتا گیا مگر غصہ کم نہیں ہونا تھا نہ ہوا۔
نعمان آج بھی جن کو ایک ٹانگ پر کھڑا کئے پنکھا جھلنے کو کہ رہا تھا ۔ اچانک دروازہ کھلا اور امی ابو دونوں اندر آ گئے ۔ نعمان نے چونک کر دیکھا ان کے چہروں پر بے انتہا خوشی تھی ۔ نعمان دیکھو تم نے ٹاپ کیا ہے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ دیکھو اخبار میں تمہاری تصویر چھپی ہے۔ نعمان کو اپنے کانوں پر اعتبار ہی نہ آیا۔ اخبار میں سچ مچ اس کی تصویر چھپی تھی۔ امی ابو اس کا ماتھا چوم رہے تھے۔ اور پھر تو جیسے اودھم مچ گیا ۔ ہر طرف سے مبارکباد ۔ سب اس پر رشک کرنے لگے تھے۔ بہت سے نوجوانوں کا آئیڈیل بن گیا۔
اگلے ہی دن ایک کمپنی سے اسے نوکری جس میں اسے بنگلہ ، کار اور اچھی خاصی تنخواہ کی آفر ہوئی تھی ۔ امی ابو کے مشورے پر اس نے نوکری کر لی۔ سب کچھ بدل گیا تھا۔
آج نعمان اپنے کمرے میں بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ اس نے جن کو بلایا - جن کے حاضر ہوتے ہی نعمان نے جن کا ہاتھ چوما اور اسے گلے لگا لیا۔ نعمان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ اپنے کئے پر شرمندہ تھا ۔ جن نے اسے معاف کر دیا ۔ اور خود بھی معافی مانگی ۔
آج سے آپ آزاد ہیں ۔ آپ جا سکتے ہیں۔
جن نے کہا ۔ انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ بے پناہ صلاحیتوں کا مالک۔ ایسا کیا ہے جس کے سامنے انسان بے بس ہو جائے۔ انسان جب کچھ کرنے پر آ جائے تو فاصلے سمٹنے لگتے ہیں ۔ مشکلیں آسان ہونے لگتی ہیں ۔ ہم جنات آپ لوگوں کی خوش قسمتی پر رشک کرتے ہیں۔ اور آپ کو خود اپنی پہچان ہی نہ ہو تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔
غلط کام کیا جائے یا کروایا جائے انسان کو اس کا خمیازہ مرنے کے بعد بھگتنا پڑتا ہے۔ تو کیوں نہ ایسے زندگی اپنائی جائے جس میں ہم اپنے دونوں جہان پا سکیں۔ جن تشکر بھری نظروں سے نعمان کو دیکھتے ہوئے غائب ہو گیا۔
نعمان تین سالوں میں ترقی کرتے ہوئے بہت آگے نکل گیا ۔ ایک پیارا سا بنگلہ بیوی بچے گھر کے بزرگ سب کچھ تھا س کے پاس۔ بہت سے لوگ تیز رفتار ترقی اور کامیابیوں کو دیکھ کر نعمان کو جن کہتے ہیں ۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (11-04-08), عروج (12-10-10)
پرانا 21-08-07, 11:27 PM   #2
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,444
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

bohat achi khani ha jnab
The Great آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-08-07, 03:38 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب۔ ہر شخص بذات خود ایک جن ہے بس مسلہ ہے کب بوتل سے نکلتا ہے۔۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (12-10-10)
پرانا 22-08-07, 04:04 PM   #4
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,125
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خرم بھائی آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں!!!!!!!
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-08-07, 04:12 PM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Zullu230 مراسلہ دیکھیں
خرم بھائی آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں!!!!!!!
یہ عبدالقدوس کی شیرنگ ہے
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-08-07, 04:29 PM   #6
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,483
شکریہ: 0
560 مراسلہ میں 1,026 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی شئنرنگ ہے پڑھ کر مزہ آیا ہے
زبیر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 11-04-08, 12:14 PM   #7
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,924
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: غلام جن کے کرشمے

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

بہت اچھا مراسلہ ہے
امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے
بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, پہچان, پسند, قید, قدم, لڑکی, نیند, نوکری, نظر, مکمل, موٹر سائیکل, محبت, آج, امتحان, بہترین, بھائی, تعلیم, جواب, خوش, خبر, خرم, دیکھو, شخص, عبدالقدوس, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:50 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger