|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,564
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بابا دين محمد ٹريكٹر سے ابھي اترا ہي تھا كہ اسے جہاز كا شور سنائي ديا۔يہ ايك جنگي جہاز كي آواز تھي۔ آواز بڑي كڑك دار تھي۔ دين محمد نے آواز كا تعاقب كيا تو وہ اڑتے ہوئے طيارے كي ايك جھلك ہي ديكھ سكا۔ طيارہ گولي كي رفتار سے آيا اور غائب ہو گيا۔ البتہ اس كي نظريں اب ايك اور چيز ديكھ رہي تھيں۔تھوڑي ہي دير ميں وہ اس چيز كو پہچان چكا تھا۔ يہ پيراشوٹ تھا اور پيرا شوٹ كے ساتھ ايك شخص بھي!
يہ منظر دين محمد كے چہرے پر پڑي عمر كي گہري لكيروں كو اور گہرا كر گيا۔ وہ سوچنے لگا كہ جنگي جہاز سے كسي كا پيراشوٹ سے اترنا اللہ خير كرے معاملہ كچھ الجھا الجھا لگتا ہے۔ اس كي نظريں اب پيراشوٹ پر لگي تھيں۔ ہوا كچھ اس رخ كي تھي كہ پيرا شوٹر اس كے كھيتوں ہي كي طرف آنے لگا۔ پھر نہ جانے كيا ہوا كہ اس كا رخ بدلنے لگا يقينا ايسا ہوا كا رخ بدلنے سے ہوا تھا اور بھلا سوائے اللہ كے ہوا كو رخ بدلنے سے كون روك سكتا ہے! اگلے چند منٹوں ميں دين محمد پريشان ہو چكا تھا۔ پيراشوٹر كا رخ اس كے آموں كے باغ كي طرف تھا۔ "اگر وہ اس باغ ميں گرا تو پھر! مگر كيا معلوم يہ شخص دوست ہے يا دشمن؟ يہ بھي ہو سكتا ہے كہ اپني ہي فوج كا كوئي جوان مشق كر رہا ہو ليكن اس علاقے ميں، جہاں درخت ہيں!" وہ خود ہي سوچتا رہا، اپنے آپ سے سوال كرتا رہا اور جواب ديتا رہا۔ آخر كچھ سوچنے كے بعد اس نے اپنا ٹريكٹر سٹارٹ كيا اس كا ہل عليحدہ كيا اور آم كے باغ كا رخ كيا۔ پيراشوٹر بد قسمتي سے ايك درخت پر گرا تھا۔ اس كا پيراشوٹ درخت كي ٹہنيوں سے الجھ گيا اور وہ خود بھي درخت كي ٹہنيوں سے ٹكرايا۔ ٹہنيوں سے ٹكراتے ٹكراتے وہ نيچے گر رہا تھا۔ جب دين محمد وہاں پر پہنچا تو بے چارا ہوا ميں لٹك رہا تھا۔ دين محمد نے بڑي مشكل سے ٹريكٹر كو باغ ميں داخل كيا۔ اس كام كے ليے اسے نالہ توڑنا پڑا تھا جو باغ كي حدود سے باہر تھا۔ جس درخت پر پيرا شوٹر لٹكا ہوا تھا، وہ باغ كے كنارے كے درختوں ميں سے ايك تھا۔ دين محمد نے ٹريكٹر اس كے نيچے كيا اور خود اس كي سيٹ پر كھڑا ہو گيا۔ اب وہ پيراشوٹر تك پہنچ گيا تھا جو اس وقت يا تو بے ہوش تھا يا اگلے جہان سدھار چكا تھا۔ دين محمد خاصا سمجھ دار آدمي نكلا۔ اس نے بڑي ذہانت سے پہلے پيراشوٹ كي رسيوں كا جائزہ ليا اور پھر انہيں تھوڑي سي جدوجہد كے بعد كھول ليا۔ وہ خاصے طاقتور جسم كا مالك تھا جب كہ پيراشوٹر اكہرے بدن كا تھا۔ اس كي عمر بھي اسے زيادہ معلوم نہ ہوئي۔ پيراشوٹ كي رسياں كھولنے كے بعد اسے كھڑے كھڑے بازوئوں ميں دبوچا اور پھر آہستہ آہستہ نيچے بيٹھنے لگا۔ ايسا كرتے ہوئے اس كي پوري طاقت خرچ ہو رہي تھي۔ ليكن جيسے تيسے وہ اسے نيچے اتارنے ميں كامياب ہو گيا۔ اتني دير ميں كئي دوسرے لوگ بھي وہاں پر پہنچ گئے تھے۔ سب عجيب عجيب تبصرے كر رہے تھے۔ اكثر كا خيال تھا كہ ہوائي جہاز سے اترنے والا بھارتي جاسوس ہے ليكن بابا دين محمد كو اس سے كوئي غرض نہيں تھي ۔ اس نے سب سے پہلے اس بات كا جائزہ ليا كہ وہ بے ہوش ہے يا فوت ہو گيا ہے۔ جلد ہي اسے معلوم ہو گيا كہ وہ بے ہوش ہے۔ اس نے ايك شخص سے چارپائي منگوائي۔ اس دوران وہ اس كي جيبوں كا معاينہ كر چكا تھا۔ مگر وہاں پر اس كي شناخت كي كوئي چيز نہيں ملي تھي۔ يہ بات اس كے ليے خاصي حيران كن تھي۔ بہركيف آدھ ايك گھنٹے كے بعد وہ ہوش ميں آ گيا اور بابا دين محمد اسے ٹريكٹر ميں بٹھا كر اپنے گھر لے آيا۔ ٭٭٭ "ميرا نام كامران ہے۔۔۔۔ فلائٹ ليفٹيننٹ كامران ميں پاكستان ايئر فورس ميں پائلٹ ہوں۔" اپنا تعارف وہ اس وقت كرانے پر مجبور ہو گيا تھا جب بابا دين محمد نے اسے صاف صاف كہہ ديا تھا كہ وہ اسے پوليس كے حوالے كرے گا يا فوج كے۔۔۔۔ دين محمد كے چہرے پر طاري سنجيدگي نے اسے يقين دلايا تھا كہ اس تنومند ديہاتي نے اگرچہ اس كي جان بچائي ہے، اسے بڑے اخلاق سے اپنے گھر ركھا ہے اس كي بڑي خدمت كي ہے ليكن اپنے ملك اور قوم سے وہ شديد محبت كرتا ہے۔ اس ليے تعارف كرائے بغير اس كي جان نہيں چھوٹ سكتي اور نہ جانے كامران پوليس يا فوج كے حوالے كيے جانے پر كيوں راضي نہ تھا۔ اس ليے اس نے اپنا تعارف كرايا تھا وہ كہہ رہا تھا: "ميں ايك شرط ہارنے پر جہاز سے كودا ہوں۔ جونيئر پائلٹ سے ميري يہي شرط لگي تھي كہ جو ہارے گا ، اس كو تمام شناختي نشانات كے بغير طيارے سے كودنا پڑے گا۔ طيارے سے كودنا تو ہماري مشق كا حصہ تھا، البتہ ہم نے شناخت كے بغير اور اس خطرناك علاقے ميں كودنے كو شرط ہارنے كي سزا بنا ديا تھا!" "اگر تم واقعي پاكستاني پائلٹ ہو تو تم فوج يا پوليس سے كيوں ڈرتے ہو؟" دين محمد نے سوال كيا۔ اس ليے كہ بغير كسي شناخت كے چھلانگ لگانے پر مجھے سزا نہ ملے۔" كامران نے فورا جواب ديا۔۔۔۔ كچھ توقف كے بعد وہ بولا۔ "بابا جي! كيا آپ نے ميرا جہاز نہيں پہچانا تھا، اس پر تو پاكستان كا جھنڈا بنا ہوا تھا۔۔۔۔اگر آپ جہاز نہيں ديكھ سكے تھے كسي اور سے كيوں نہيں پوچھ ليا!" "ہاں يہ بات تو تمہاري ٹھيك ہے۔۔۔۔ ليكن كيا پتا تم ايسے بھارتي جاسوس طيارے سے اترے ہو، جس پر پاكستان كا جھنڈا لگا ہو اتھا۔" دين محمد نے كچھ سوچتے ہوئے كہا۔ اس جواب پر كامران سٹپٹا گيا اور بولا: "بابا، پاكستان كي سرحد ميں اگر كوئي بھارتي جنگي جہاز داخل ہوتا ہے تو پورے ملك كے ريڈار چيخ اٹھتے ہيں۔اس ليے آپ براہِ كرم مجھے جانے ديں آپ كي خدمت، مہمان نوازي اور وطن سے محبت واقعي قابل تعريف ہے ليكن اسے ميرے ليے سزا نہ بنائيں!" اس دفعہ پہلي دفعہ دين محمد اس كي باتوں سے متاثر ہوتا لگتا تھا۔ اس نے سوچتے ہوئے كہا: "اچھا، تم يہ بتائو كہ تم نے شرط كيا لگائي تھي۔ جس كے ہارنے پر تم اتني مصيبت سے دوچار ہوئے ہو!" "شرط عام حالات ميں تو ميں بالكل نہ بتاتا مگر آپ ميرے محسن ہيں اس ليے بتائے ديتا ہوں ميرے دوست پائلٹ اسد نے پرسوں بادلوں كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ يہ چھوٹے چھوٹے بادل دراصل Cumulonimbus Clouds ہيں اور يہ ہوا كے ذريعے اكٹھے ہوں گے۔ پھر يہ بڑے تہ دار بادل بن جائيں گے اور مناسب ہوا ملنے پر بارش برسائيں گے۔ مجھے اچھي طرح معلوم تھا كہ اسد كا بادلوں كے متعلق كوئي علم نہيں ہے وہ تو نرا مولوي ہے، اس ليے ميں نے كہا كہ تم گپ لگاتے ہو، ايسے ہي اپنے علم كا رعب جھاڑ رہے ہواس پر بات بڑھتے بڑھتے شرط لگ گئي۔ اب جب ہم نے يہ طے كر ليا كہ جس كي بات غلط ثابت ہوگي وہ شناخت كے بغير جہاز سے چھلانگ لگائے گا!" كامران كي بات جيسے ہي ختم ہوئي۔ بابا دين محمد اچانك اٹھ بيٹھا اور بولا: "تم ہرگز پاكستاني نہيں ہو سكتے۔۔۔۔تم مسلمان نہيں ہو۔۔۔۔ تم ضرور دشمن كے ايجنٹ ہو۔۔۔۔" كامران دين محمد كے اس اچانك اعلان سے كچھ خوف زدہ سا ہو گيا بولا:"اب كيا ہوا باباجي آپ كو!" "اوئے، اگر تم مسلمان ہوتے تو نماز پڑھتے، كوئي اللہ توبہ كرتے۔۔۔۔اور۔۔۔" "اور كيا؟" "اور يہ كہ تم يہ شرط ہرگز نہ ہارتے۔۔۔۔اول تو شرط لگاتے ہي نہ، كيوں كہ مسلمان شرط نہيں لگايا كرتے ليكن اگر تم پڑھے لكھے جاہل بن ہي گئے تھے تو شرط نہ ہارتے!" "وہ كيسے بابا جي يہ عجيب بات كہي آپ نے!" "تمہيں پتا ہے تمہارے دوست اسد نے بادلوں كے متعلق جو بات بتائي تھي وہ اس نے كہاں سے پڑھي تھي؟" "يقينا كسي موسم كي كتاب سے پڑھي ہو گي!" كامران بولا۔ "نہيں۔۔۔۔ہرگز نہيں يہ تو ہماري مذہبي كتاب قرآن مجيد ميں بھي ہے يقين نہيں آتا تو ميں تمہيں ابھي دكھاتا ہوں!" يہ كہہ كر وہ فورا اٹھا، اندر الماري سے ايك قرآن مجيد لايا۔ يہ ايك با ترجمہ قرآن مجيد تھا۔ اس كي انڈكس ديكھ كر اس نے سورہ نور نكالي اور اس كي آيت نمبر كھول كر اس نے كامران كے آگے ركھ دي اور كہا پڑھو۔" كامران نے قرآن مجيد كو چھوئے بغير پڑھا لكھا تھا: "كيا آپ نے نہيں ديكھا كہ اللہ بادلوں كو چلاتا ہے، پھر انہيں ملاتا ہے، پھر انہيں تہ بہ تہ كر ديتا ہے پھر آپ ديكھتے ہيں كہ ان سے بارش برستي ہے۔" كامران جان گيا كہ بابا محمد دين اس قدر با اصول اور با اخلاق كيوں ہے۔ اس ليے كہ وہ پڑھا لكھا ہے اور قرآن كو سمجھ كر پڑھتا ہے۔ وہ بولا: "ميں سخت شرمندہ ہوں بابا جي، واقعي يہ تو قرآن ميں لكھا ہے۔۔۔۔ سچ ہے كہ ميں پڑھا لكھا جاہل ہوں۔۔۔۔ قرآن تو واقعي اللہ كا كلام ہے، اس كي اس بات نے ميرے كمزور ايمان كو مضبوط كر ديا ہے كيونكہ بادلوں كے متعلق يہ بات اس دور ميں بالكل نہيں كہي جا سكتي تھي! اتني دير ميں بابا دين محمد كے گھر زور سے دستك ہوئي اور جب دروازہ كھولا تو اندر آنے والے فوجي وردي ميں ايك نوجوان كو ديكھ كر كامران بولا: "اسد تم" "ہاں يار۔۔۔۔ ميں نے كہا كہ تمہاري اتني ہي سزا كافي ہے!"
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| 19 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | Haya 786 (27-10-08), Real_Light (11-04-08), shafresha (26-08-09), پاکستانی (26-08-09), وجدان (27-10-08), محمدمبشرعلی (05-10-10), معظم (09-12-10), wajee (26-08-09), yashaka (26-08-09), ام طلحہ (27-10-08), ابو عمار (26-08-09), ابوسعد (16-02-11), ابرارحسین (26-08-09), احمد بلال (20-08-10), حیدر (18-11-10), سیپ (18-05-08), عبداللہ آدم (11-12-10), عدنان دانی (21-08-10), عروج (09-12-10) |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2007
عمر: 36
مراسلات: 31
کمائي: 223
شکریہ: 0
8 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ، بہت خوب!
بہت ہی دلچسپ انداز میں نہ صرف کہانی پیش کی گئی بلکہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کے قرآنی معجزات میں سے ایک کو نہایت دلچسپ اسلوب میں بیان کیا گیا۔ لیکن جو عنوان دیا گیا وہ شاید اسلامی تعلیمات سے میل نہیں کھاتا میری مراد “شرط“ سے ہے۔ ویسے اگر کہانی کے مصنف کا نام بھی ساتھ دے دیا جاتا تو بہت ہی اچھا ہوتا۔ جزاک اللہ خیر |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,564
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب میری پوری کوشش ہوتی ہے کے مین مصنف کا نام بھی لیکھا کروں لیکن کہی دفعہ نام ساتھ نہین لکھا ہوتا |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 268
کمائي: 265
شکریہ: 1
68 مراسلہ میں 89 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا مراسلہ ہے
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,443
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ تحریر ہے اور ہمارے ساتھ شئیر کرنے کا بے حد شکریہ۔
|
|
|
|
| ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (29-10-08) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
چھا گئے ہیںجی واہ واہ کیا خوبصورت کہانی ہے۔ دل کو چھونے والی اور ایمان تازہ کرنے والی۔ بہت بہت شکریہ
|
|
|
|
| وجدان کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (29-10-08) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,564
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
خرم بھائی بہت اچھی تحریر ہے۔
|
|
|
|
| ابو عمار کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (26-08-09) |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,564
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پسند کرنے کا بہت شکریہ
لیکن یہ کہانی میری نہیں ہے |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
چلیں یوں کہہ لیتے ہیں کہ ایک اچھی تحریر شئیر کرنے کا شکریہ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا | خرم شہزاد خرم (26-08-09), عبداللہ آدم (11-12-10) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,564
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی اب بہت شکریہ آپ کا
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,615
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خرم بھائی اچھی شیرنگ کرنے پر شکریہ
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,173
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,058 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے پیش کریں
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پہچان, قرآن, قرآنی, لوگ, نماز, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, اسلامی, تحریر, تعارف, جواب, جلد, جاہل, دوست, دل, رفتار, شور, شناخت, شخص, طاقتور, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|