|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دو سمندری لہریں
نعيم احمد بلوچ يہ كہنے كو تو ايك مذاق تھا مگر اس نے مجھے ہلا كر ركھ ديا تھا۔ زندگي ميں پہلي مرتبہ مجھے اپنے وجود پر شرمندگي محسوس ہوئي تھي۔ ميرا دل چاہتا تھا كہ زمين پھٹ جائے اور ميں اس ميں سما جائوں۔ مجھے اپنے آپ پر شديد غصہ آيا تھا۔ ہو سكتا ہے كہ آپ اسے معمولي سي بات قرار ديں ليكن ميرے ليے تو يہ ڈوب مرنے كا مقام تھا۔ دراصل ہوا يہ كہ ہمارے كلاس فيلوز كا ايك گروپ سپين كي سير كے ليے نكلا ہوا تھا۔ ہم سب طلبہ فرانس كے شہر پيرس ميں واقع ايك يوني ورسٹي ميں پڑھتے تھے۔ بيٹھے بٹھائے چند دوستوں كو معلوم نہيں كيا سوجھي كہ سير كا پروگرام بن گيا۔ يوں ہم ايك ہفتے كا پروگرام بنا كر بذريعہ ہوائي جہاز سپين كے شہر ميڈرڈ جا پہنچے۔ سپين، ميں پہلي مرتبہ آيا تھا ۔ يہاں سير كے دوران غرناطہ، الحمرا اور دوسرے تاريخي مقامات ديكھ كر ميں حيران رہ گيا۔ ان كے متعلق سنا اور پڑھا تو ہوا تھا ليكن ديكھنے ميں جو محسوس ہوا وہ لفظوں ميں بيان نہيں ہو سكتا۔ ميرے زيادہ متاثر ہونے كي بڑي وجہ يہ تھي كہ ميں ايك مسلمان ہوں۔ ميرا تعلق ايك نو مسلم گھرانے سے ہے ۔ ميرے والد پہلے كيمونسٹ تھے پھر مسلمان ہو گئے۔ فرانس ميں ايسے بہت سے خاندان ہيں جنہوں نے اسلام قبول كيا ہے۔ ان كے اسلام قبول كرنے پر بعض لوگ ان سے خدا واسطے كا بير ركھتے ہيں، ميرے كلاس فيلوز ميں تو كوئي ايسا نہيں تھا ليكن جب ميں اسلام كے حوالے سے كوئي بات كرتا يا ان فضول كاموں سے انكار كر ديتا جو وہ كرتے تھے تو پھر وہ ضرور مجھے عجيب نظروں سے ديكھتے۔ اب بھي يہي ہوا ہم ايك ريسٹورنٹ ميں بيٹھے تھے۔ كھانا يا تو ميں چونكا كہ يہ گوشت حلال ہے يا حرام ۔ ميرے اس سوال پر مورس نامي كلاس فيلو بولا: "يہ كيا نخرے ہيں، اس "بي لال" كے (ميرا نام بلال ہے مگر مورس مجھے بي لال كہہ كر ہي بلاتا تھا، وہ بلال نہيں كہہ سكتا ) اس نے تو ناك ميں دم كر ركھا ہے۔ كبھي "ڈرنك" (شراب) نہيں كرنا، كبھي يہ نہيں كرنا، وہ نہيں كرنا۔۔۔۔ دوستوں ميں سبھي چلتا ہے!" مجھے بھي غصہ آگيا، ميں نے كہا: "ميں كوئي جانور نہيں كہ جو سامنے آئے، چٹ كر جاؤں، انسان ہوں اپنا اچھا بھلا ديكھ كر كھاتا پيتا ہوں۔" ميري اس بات پر مورس تنك كر بولا:"اچھا، تو ميں جانور ہوں يہ سب جانور ہيں۔" ميں نے كہا: "مجھے كسي كے جانور ہونے يا نہ ہونے سے غرض نہيں، ميں تو اپني بات كر رہا ہوں۔ ميرے خيال ميں جس طرح بدمزہ اور صحت كے ليے نقصان دہ چيز كھانے سے ہر كوئي پرہيز كرتا ہے، اسي طرح اس كھانے سے بھي پرہيز كرنا چاہيے جو اخلاقي لحاظ سے ٹھيك نہ ہو۔" ميں نے اتنا ہي كہا تھا كہ ايك دوسرا لڑكا فلپ بولا: "رہنے دو اپني تقرير۔۔۔۔ يہ اخلاق وخلاق كچھ نہيں ہوتا، سب لوگوں كي پسند نا پسند ہوتي ہے۔۔۔۔ تمہيں تو بہانہ چاہيے ہوتا ہے اپنے مذہب كي وكالت كا۔۔۔۔! مگر تم مسلمانوں كے پاس باتوں كے سوا كچھ نہيں۔۔۔۔ كبھي اپنے ماضي پر غرور كرتے ہو اور كبھي اپنے مذہبي لٹريچر پر۔۔۔۔ ميں نے كئي مرتبہ تم سے سنا ہے كہ تمہاري الہامي كتاب۔۔۔۔ كيا نام ہے اس كا۔۔۔۔ قارا۔۔۔۔ ہاں كاران۔۔۔۔" ميں نے لقمہ ديا "كاران نہيں قرآن۔۔۔۔" "ہاں، ہاں وہي! اس كے بارے ميں تم لوگوں كا دعويٰ ہے كہ وہ ايك معجزہ ہے۔۔۔۔ مگر كيا معجزہ ہے۔۔۔۔يہ كوئي نہيں بتاتا۔۔۔۔اور يہ معجزہ كس چڑيا كا نام ہے، غالبا غير سائنسي بات كو آپ معجزہ كہتے ہيں۔۔۔۔ مثلا آدمي پائوں سے چلتا ہے، مگر وہ اڑنے لگے تو يہ معجزہ ہے۔۔۔۔وٹ اے نون سنس! (كيا احمقانہ بات ہے)۔" اس تبصرے پر تمام لڑكے ہنس پڑے اور ميں سخت شرمندہ ہوا سچي بات ہے كہ ميں تو قرآن پڑھنا بھي نہيں جانتا تھا۔ بس اپنے والد صاحب سے جو كچھ سنا تھا اس كو سچ سمجھتا تھا، اور اس كي وجہ يہي تھي كہ وہ عيسائي گھر ميں پيدا ہوئے اور معلوم نہيں كتني كتابيں پڑھيں، كتنے لوگوں سے ملے، پھر كيمونسٹ ہوئے اور بعد ميں مزيد مطالعے كے بعد وہ اسلام لے آئے تھے۔ ميں اب كيسے خيال كرتا كہ وہ بلا وجہ مسلمان ہو گئے ہوں گے۔ يقينا اس كي كوئي مضبوط دليل ہو گي مگر يہ دليل كيا تھي ؟ وہ قرآن كو اللہ كا كلام مانتے ہيں مگر كيوں۔۔۔۔؟ميں يہ نہيں جانتا تھا اور اب جو فلپ نے سوال اٹھايا تھا اور ميرا جو مذاق اڑايا تھا، اس كا ميرے پاس كوئي جواب نہ تھا۔۔۔۔ ميں واقعي نہيں جانتا تھا كہ قرآن معجزہ كيسے ہے؟ اور معجزہ كسے كہتے ہيں؟ اور مجھے اس وقت خاموشي كے سوا كوئي حل نہ سوجھا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر افسوس ہو رہا تھا كہ ميں محض سني ہوئي باتوں كي بنياد پر مسلمان ہوں اور اسي كي بنياد پر دوستوں سے بحث كرتا رہا ہوں۔ اس وقت تو ميں خاموشي سے اٹھ گيا۔ دوستوں كے قہقہے كانوں ميں گونجتے رہے۔ مگر ميں سوائے كڑھنے اور سٹپٹانے كے كوئي كام نہ كر سكا۔ پھر اچانك ايك بات ذہن ميں آئي۔۔۔۔وہ يہ كہ محض سوچنے اور پريشان ہونے سے شرم ساري كا كوئي علاج ہو سكتا ہے؟ ظاہر ہے اس كا جواب نہيں ميں تھا۔ پھر نہ جانے ميرے دل ميں كہاں سے خيال آيا۔ ميں اسي وقت اٹھا، ايك بڑے بك سٹور پر پہنچا۔ وہاں مذہبي كتب پر مشتمل ايك بڑي الماري نظر آّئي۔ ميري نظريں جلد ہي مطلوبہ مذہبي كتاب تك جا پہنچيں۔۔۔۔يہ قرآن مجيد تھا۔ اس كا فرانسيسي ميں ترجمہ بھي ساتھ تھا۔ ميں نے اتنا مطالعہ تو كيا نہيں كہ ديكھتا كہ يہ ترجمہ كس كا ہے۔ ميں نے بس كتاب اٹھائي اور قيمت ادا كركے اسے اپنے ہوٹل كے كمرے ميں لے آيا۔ اب ميرا روزانہ كا معمول تھا كہ كم از كم ايك گھنٹا اس كا مطالعہ كرتا۔ ٭٭٭ ہماري سير ابھي جاري تھي اور اسي سلسلے ميں ہم اس وقت ايك فيري ميں بيٹھ كر سمندر كي سير كر رہے تھے۔ يہ فيري سياحوں سے بھري ہوئي تھي اور لوگ فيري كے سفر سے خوب لطف اٹھا رہے تھے۔ ہم طالب علموں كا گروپ بھي ايك ميز كے گرد بيٹھا ہوا خوش گپيوں ميں مصروف تھا۔ اچانك ہمارا گائيڈ بولا: "بھئي، آپ كو معلوم ہے كہ ہم اس وقت كہاں سفر كر رہے ہيں؟" ميں فورا بولا: "ہاں مجھے معلوم ہے يہ جبرالٹر ہے۔ اسے عربي زبان ميں جبل الطارق كہتے ہيں۔ اس ليے كہ يہاں ايك عربي سپہ سالار طارق بن زياد اتراتھا اور اس نے مختصر سي فوج كے ساتھ سپين فتح كر ليا تھا۔" "لو بھئي، ان صاحب كو تو مذہبي تقرير كرنے كا اچھا موقع مل گيا!" مورس بے زاري سے بولا۔ فلپس نے ميري دكھتي رگ پر ہاتھ ركھتے ہوئے كہا۔ "بي لال، بھئي ذرا معجزہ كے متعلق تو بتاؤ!" "اور قرآن كي كوئي خاص بات!" پاسچر نے ہانك لگائي اور ساتھ ہي تمام لڑكے ميرا مذاق اڑانے لگے۔ اس موقع پر ہمارے گائيڈ كو نہ جانے كہاں سے عقل آئي كہ اس نے ميرے چہرے پر غصے اور ناگواري كے تاثرات پڑھ ليے اور بولا: "بھئي، جبرالٹر كي ايك اور خوبي بھي ہے اور يہ بڑا ہي حيرت انگيز سائنسي مشاہدہ ہے۔۔۔۔" "وہ كيا ؟" ايك لڑكا بولا۔ "وہ يہ كہ يہاں بحر اوقيانوس بحر روم ميں گرتا ہے ليكن دونوں سمندروں كا پاني ايك كلوميٹر كي گہرائي تك كئي سو كلوميٹر آپس ميں مل نہيں پاتا۔ اور دونوں كي تيز لہريں مختلف درجہ حرارت كے ساتھ ايك دوسرے كے ساتھ ساتھ چلتي جاتي ہيں۔" لڑكے تو اس پر "حيران كن، ونڈر فل اور ناقابل يقين" جيسے الفاظ كہنے لگے ليكن ميرے ذہن ميں ايك خيال بجلي كي تيزي سے آيا۔ ميں گائيڈ كو مخاطب كرتے ہوئے بولا: "مسٹر مگاريو، تمہارے كہنے كا مطلب ہے كہ دونوں سمندروں كي لہروں ميں كثافت اور درجہ حرارت كي وجہ سے ايك ايسا تنائو پيدا ہو جاتا ہے جو ايك پردہ يا ركاوٹ بن جاتا ہے، اس كي وجہ سے يہ لہريں آپس ميں نہيں ملتيں اسے كثافتي ڈھلوان كہتے ہيں اور مسٹر مگاريو،شايد آپ يہ بھي بتا نا چاہتے ہيں كہ دونوں سمندروں كے پانيوں كا ذائقہ بھي مختلف ہوتا ہے!" "ہاں، بالكل بحر روم كا پاني كڑوا ہوتا ہے اور بحر اوقيانوس كا پاني اس سے كم كڑوا ہوتا ہے!" مگاريوكي بات جيسے ہي ختم ہوئي فلپ بولا: "واہ بھئي! سمندر كے متعلق تو بي لال كا بڑا علم ہے۔" ميں نے فلپ كي بات سني ان سني كردي اور مگاريو سے دوبارہ مخاطب ہوا: "اور مسٹر مگاريو، آپ كو معلوم ہے كہ سمندر كي اس طرح كي لہروں كے آپس ميں نہ ملنے كي وجہ حال ہي ميں دريافت ہوئي ہے۔۔۔۔ زيادہ سے زيادہ پچھلے پچاس ساٹھ برس پہلے۔اور دنيا ميں ايسے چند ہي مقامات ہيں جہاں يہ صورت حال ہے۔" "ہاں، بالكل درست۔۔۔۔ مگر تم كہنا كيا چاہتے ہو؟" مگاريو ميرے جوش سے تمتماتے چہرے كو ديكھ كر بولا۔ "ابھي بتاتا ہوں۔" ميں نے اتنا كہا اور وہاں سے اٹھ كر اپنے كيبن كي طرف بھاگا۔ وہاں سے ميں نے قرآن مجيد اٹھايا اور بے چيني سے مطلوبہ صفحہ تلاش كرنے لگا۔ مجھے وہ جلد ہي مل گيا۔ ميں نے جلدي سے اسے پڑھا اور پھر بھاگتا ہوا واپس آيا۔ مجھے اپنے جذبات پر قابو پانا مشكل ہو رہا تھا۔ يقين نہيں آرہا تھا كہ اللہ مجھ جيسے گناہ گار كي دعا اس قدر جلدي سن لے گا۔ ميں نے آتے ہي سب كو مخاطب كيا: "مورس، فلپ، پاسچر، مسٹر مگاريو تم سب سنو ديكھو ميں قرآن كي ايك سورہ رحمان ، يعني اس كے باب نمبر كي دو آيات كا ترجمہ سناتا ہوں سنو: "اس (اللہ) نے چھوڑے دو سمندر، دونوں ٹكراتے ہيں ليكن ان كے درميان ايك پردے كي ركاوٹ رہتي ہے جس كي وہ خلاف ورزي نہيں كرتے ۔ تو تم اپنے رب كي كن كن نعمتوں كو جھٹلائو گے؟" اور ايك دوسري جگہ يہي بات وضاحت سے كي گئي ہے۔۔۔۔ ديكھو يہ اس كا باب نمبر25 (سورہ فرقان) ہے۔ اس ميں لكھا ہے: "اور وہي (اللہ) ہے جس نے ملايا دو درياؤں كوايك كا پاني ميٹھا اور خوش گوار ہے اور دوسرے كا بہت نمكين اور كڑوا۔ اور ان كے درميان اس نے ايك پردہ اور مضبوط ركاوٹ كھڑي كر دي۔۔۔۔" يقينا اس بات سے لوگ ضرور واقف ہوں گے كہ سمندر ميں اس طرح كي دو لہريں آپس ميں نہيں ملتيں ليكن اس ميں ركاوٹ اور پردے كا ہونا اور اس كي وجہ سے كوئي بھي واقف نہ تھا۔اور ميں يہ بھي بتا دوں كہ يہ بات سبھي تاريخ دان جانتے ہيں كہ حضرت محمد صلي اللہ عليہ وسلم نے پوري زندگي سمندر كا سفر نہيں كيا۔۔۔۔ اب آپ خود ہي فيصلہ كريں كہ وہ كون ہستي تھي جس نے حضرت محمد صلي اللہ عليہ وسلم كو يہ بات بتائي كيا يہ اس بات كا ثبوت نہيں كہ قرآن اللہ كي كتاب ہے؟ اور محمد صلي اللہ عليہ وسلم اللہ كے رسول ہيں جنہيں يہ باتيں وحي كے ذريعے سے بتائي گئيں۔اور عرب كے قريب ترين جس علاقے ميں دو دريا پس ميں ملتے ہيں وہ "شط العرب" كا علاقہ كہلاتا ہے۔ يہاں دجلہ اور فرات كے درياپس ميں ملتے ہيں۔ اس ميں ايك كا پاني ميٹھا اور دوسرے كا كڑوا ہے۔ مجھے نہيں معلوم تھا كہ يہاں جبرالٹر ميں بھي يہي كيفيت ہے كہ يہاں بھي بحر اوقيانوس اور بحر روم اسي طرح آپس ميں ملتے ہيں جس كي خبر قرآن مجيد نے دي ہے۔۔۔۔دوستو، آپ بتائو قرآن مجيد كي معلومات معجزہ نہيں۔۔۔۔ معجزے كا مطلب ہے كہ ايسا كام جس سے عقل دنگ رہ جائے، جس كو سمجھنا انسان كے بس ميں نہ ہو۔ اب بتاؤ كيا تمہاري عقل ميں يہ بات سكتي ہے كہ سائنس كے جديد علم كے بغير كوئي انسان يہ بات بتا سكتاہے؟" وہ سب خاموش تھے۔۔۔۔ انہوں نے ميرا خوب مذاق اڑايا تھا۔۔۔۔ مگر اب ان كے پاس كہنے كو كچھ نہيں تھا۔ اب بولنے كي باري ميري تھي۔۔۔۔كچھ لمحوں كے بعد ميں پھر بولا: "اور دوستو، شايد تمہيں يقين نہ آئے، جب تم لوگوں نے مجھے شرمندہ كيا اور ميں نے فيصلہ كيا كہ ميں اب قرآن پڑھوں گا تو سب سے پہلے جس دن ميں نے قرآن كھولا۔۔۔۔اتفاق سے سورہ فرقان كي يہي آيت ميرے سامنے آئي اور اس كے ضمن ميں لكھا تھا كہ سورہ رحمان ميں بھي اسي بات كا ذكر ہے۔۔۔۔ورنہ ابھي ميں نے قرآن كا باب دوم يعني سورہ بقرہ بھي مكمل نہيں كي۔۔۔۔" سبھي لڑكے حيرت كي تصوير بنے مجھے ديكھ رہے تھے۔ مجھے يقين تھا كہ ان لڑكوں ميں اكثر اب مجھ سے قرآن لے كر اس كا مطالعہ كريں گے۔ ميں نے بھي حكمت اور عقل مندي سے كام ليا اور ان كا مذاق نہيں اڑايا۔ بلكہ ان كے سامنے قرآن كي بات ركھ كر خاموشي اختيار كرلي۔ان ميں سے كسي نے بات نہ كي۔ بس مورس نے قرآن مجيد كي ان آيات كو دكھانے كي فرمائش كي اور ميں نے وہ صفحہ اس كے آگے كر ديا۔ اس نے سارا صفحہ پڑھ ليا اور پھر خاموش ہو گيا۔ تھوڑي دير بعد جب ميں قرآن مجيد ركھنے اپنے كيبن ميں واپس گيا تو نہ جانے ميرے دل ميں كيا خيال آيا۔ ميں نے قرآن مجيد كھولا۔ ميرے سامنے قرآن كي جو آيات تھيں، ان كا ترجمہ پڑھ كر ميري نكھوں ميں آنسو آگئے۔ لكھا تھا: "اور جو لوگ ہماري راہ ميں جستجو كرتے ہيں، مشكلات جھيلتے ہيں، ہم ان پر اپني راہيں ضرور كھوليں گے اور بے شك اللہ تعاليٰ اچھے كام كرنے والوں كے ساتھ ہے۔" ميں يہ الفاظ پڑھ كر بے اختيار سجدے ميں گر پڑا۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2007
عمر: 36
مراسلات: 31
کمائي: 223
شکریہ: 0
8 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سبحان اللہ
پہلی بار میں کہانیوں کی شکل میں اسطرح قرآنی معلومات کا بیان پڑھ رہا ہوں۔ اللہ لکھنے والے کے ساتھ ساتھ آپکے اور اس فورم کے درجات مزید بلند کرے۔ آمین |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ جناب
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پسند, لوگ, لمحوں, موقع, معلوم, معجزہ, اللہ, انسان, اسلام, تلاش, جواب, جلد, حال, خوش, خلاف, خبر, خدا, دل, دعا, سفر, شہر, عقل, علاج, غرور, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|