واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




بیت گئے جو دن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-01-08, 07:59 PM   #1
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
عمر: 29
مراسلات: 14,897
کمائي: 5,560,008,152
شکریہ: 12,384
6,493 مراسلہ میں 15,156 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بیت گئے جو دن

بیت گئے جو دن

چل.... اندر چل....!“ کہہ کر ماں نے مجھے دھکا دیا اور میں اوندھے منہ کوٹھری میں جاگری۔ میں اٹھنے کی کوشش ہی کررہی تھی کہ کوٹھری کا دروازہ دھڑ سے بند ہوگیا اور اندھیرے کی عفریت نے اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ میں جو اندھیرے سے حد درجہ ڈرتی تھی مزید سہم اٹھی۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری ماں میرے ساتھ ایسا سلوک کرے گی۔ میرے قبیلے میں لڑکیوں کی پیدائش پر خوشیاں نہیں منائی جاتیں مگر میں نے یہ سنا تھا کہ میری پیدائش پر میرے والدین بہت خوش تھے۔

ہوش سنبھالنے پر بابا کو شفقت لٹاتے اور ماں کو مامتا بکھیرتے پایا۔ دونوں ہی مجھے حد سے زیادہ چاہتے تھے۔ عام طور پر ہمارے افغانستان میں لڑکیوں کو اتنی آزادی نہیں ملتی جتنی ماں باپ نے مجھے دے رکھی تھی۔ شہر سے لاکر اچھے اچھے کپڑے پہناتے مٹھائیاں دیتے۔ مجھے ہر قسم کی آسائش میسر تھی۔ ہمارے صوبے ”میدان“ میں اتنی آسائشیں لڑکیوں کے لیے خواب تھیں مگر مجھے ملتیں تھیں۔ پھر بھی مجھ پر اس دن ایسی سختیاں کی جارہی تھیں۔

دراصل اس میں میرے ماں باپ کا قصور نہیں تھا۔ قصور تھا تو حالات کا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو بستی والے انہیں بستی سے نکال دیتے کیونکہ مجھے اندھیری کوٹھری میں‘ اس کوٹھری میں جہاں جانور رکھے جاتے تھے وہاں رکھنے کا حکم صادر ہوا تھا۔ اسی حکم پر ماں مجھے یہاں دھکیل گئی تھی اور تب سے میں ایک کونے میں ڈری سہمی گم صم بیٹھی تھی۔ ہر پل مجھے یوں لگتا جیسے ابھی کسی کونے سے کوئی جن یا بھوت نکلے گا اور میرا گلا دبا دے گا۔ میں ڈری سہمی بیٹھی تھی۔ ہر طرف جانوروں کی گندگی پھیلی تھی۔ تعفن سے سانس لینا دو بھر تھا۔ اگر حالات ایسے نہ ہوتے تو شاید ماں باپ مجھے کبھی بھی اس گندگی میں نہ پھینکتے۔ یہ بھی تو ان کا پیار تھا کہ مجھے اس گندے کمرے میں رکھے ہوئے تھے ورنہ مجھے جس بیماری نے گھیر لیا تھا اس میں مبتلا شخص کو تو بستی سے نکال دیا جاتا ہے۔ اماں ابا نے جرگے سے ہاتھ جوڑ کر التجا کی تھی تب یہ حکم ہوا تھا کہ مریضہ کو انسانوں سے دور رکھو اور میں جانوروں کے درمیان پہنچا دی گئی تھی۔

....٭....

میرا پورا جسم زخموں سے چور تھا۔ جا بجا پھوڑے رس رہے تھے۔ پیپ اور خون بہہ رہا تھا۔ اگر کوئی پرانا واقف کار مجھے اس حالت میں دیکھ لیتا تو شاید پہچان بھی نہ پاتا کیوں کہ میری خوب صورتی خواب ہوگئی تھی۔ میرا چہرہ بھیانک ہوگیا تھا۔ اسی لیے مجھے روٹی اور پانی دینے والے بھی مجھ سے دور رہتے۔ ایک لمبی سی چھڑی میں ڈول باندھ کر مجھ تک پہنچایا جاتا۔ کوئی بھی میرے پاس آنا پسند نہ کرتا۔ انسانوں کی آواز سننے کے لیے ترس گئی تھی۔ جانوروں کے درمیان ہی زندگی گزر رہی تھی۔ آہستہ آہستہ میں خود کو بھی جانور ہی سمجھنے لگی تھی۔ عادت اطوار میں بھی ان کی جھلک نظر آنے لگی تھی۔

اس دوران میں ایک روز میری زندگی میں ایک حسین سی تبدیلی رونما ہوگئی۔ یہ تبدیلی بہت حسین تھی مگر میں سمجھ نہ سکی اس لیے دل بھر کر چیخی تھی۔ باہر نکالنے کی کوشش کرنے والوں سے خوب زور آزمائی کی تھی مگر ان لوگوں نے میڈم کے حکم سے مجھے باہر نکال ہی لیا۔ یہ میڈم بھی عجیب شخصیت تھیں۔ پاکستان کے شہر کراچی سے مریضوں کی تلاش میں ”میدان“ آئی تھیں۔ یوں تو وہ جرمنی کی تھیں مگر پاکستان میں خدمت خلق کرنے کے لیے رہ رہی تھیں۔ پتا نہیں کیسے انہیں میرے بارے میں پتا چل گیا تھا اور وہ مجھے لینے کے لیے آگئی تھیں۔

مجھے اس جانوروں والی کوٹھری سے نکالا گیا۔ میرے جسم سے بدبو کے بھبکے اٹھ رہے تھے۔ کپڑے پھٹ کر چیتھڑوں میں بدل گئے تھے۔ ایسی حالت میں ڈرائیور نے مجھے گاڑی میں بٹھانے سے انکار کردیا مگر وہ جو میڈم تھیں ناں انہوں نے منت سماجت کرکے ڈرائیور کو راضی کر ہی لیا اور مجھے اگلی سیٹ پر بٹھا دیا گیا۔ کسی نہ کسی طرح میں کراچی پہنچ ہی گئی۔

کراچی پہنچ کر مجھے میری ایڈ لیڈی لیپروسی سینٹر میں لایا گیا۔ یہاں پہنچ کر میری آنکھیں ہی کھلی رہ گئیں۔ اتنی عمدہ غذائیں دی گئیں۔ قیمتی سے قیمتی دوائیں دی گئیں کہ میں تیزی سے صحت یاب ہونے لگی۔ لباس کا بھی خیال رکھا جانے لگا نتیجہ یہ نکلا کہ میری صحت تیزی سے سدھرنے لگی۔

مجھے صحت یاب ہوتے دیکھ کر سینٹر کے تمام افراد خوش تھے۔ اسی اسپتال میں میرے علاقے ”میدان“ کے کئی اور مریض بھی داخل تھے جن سے میں خالی وقت میں باتیں کرتی۔ ہنسی مذاق ہوتا اور وقت تیزی سے گزرتا رہا۔

انہی لوگوں میں حسن بھی تھا وہ بھی میرے علاقے کا تھا اور اسے بھی وہی مرض تھا جو مجھے تھا لیکن اب وہ بھی روبہ صحت تھا۔ اس سے باتیں کرنا مجھے زیادہ اچھا لگتا تھا۔ اس کی باتوں سے مجھے اپنائیت کی خوشبو آتی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ اچھا لگنا قربت میں بدل گیا۔ میرا دل پوری طرح اس کی چاہت میں ڈوب چکا تھا۔ پھر ہم نے متفقہ طور پر ایک ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ہمارے اس فیصلے سے سینٹر کا ہر آدمی خوش تھا۔ ڈاکٹرز بھی خوش تھے کہ جو زخم مجھے لگ چکا تھا اس کا اب مداوا ہونے والا تھا۔

بال آخر اسپتال کے تمام اسٹاف کی موجودگی میں میرا نکاح حسن کے ساتھ ہوگیا اور میں نے ایک نئی زندگی کی شروعات کردی۔

ہمیں ایک ہوئے عرصہ گزر چکا ہے۔ اب میرے دو بچے بھی ہیں ہمارا گھرانہ مکمل ہے۔ ہم خوش خوش زندگی کی شاہراہ پر قدم بڑھا رہے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جذام لاعلاج مرض ہے ان کے لیے میری زندگی ایک کھلی کتاب ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم اور ہمارے بچے کتنے صحت مند ہیں۔ پھر بھی نہ جانے کیوں کبھی کبھی مجھے یہ خیال آجاتا ہے کہ کاش کوئی میرے بچپن کے دن بھی مجھے لوٹا دیتا۔
__________________
محمدعدنان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 11-04-08, 09:30 AM   #2
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,923
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: بیت گئے جو دن

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے
بہت شکریہ
امید ہے آپ مزید مراسلات ضرور مرحمت فرمائیں گے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پہچان, پاکستان, پسند, قدم, چور, نظر, مکمل, ماں, اللہ, بچپن, تلاش, حکم, حسن, خون, دل, زندگی, شہر, شخص, صوبے, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 05:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 12:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:47 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger