|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
لاؤ دو 5 ہزار وپے!
اُس نے اپنے دونوں ہاتھ میری ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔ میں نے بادل نخواستہ سر اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے اپنے میز کی دراز کھولی اور اُس میں رکھا ہوا چیک نکال کر اُس کے حوالے کردیا۔ کوئی چائے شائے کا پلانے کی ارادہ نہیں ہے میری جان؟ اُس نے خوامخوہ مُسکراتے ہوئے کہا، میں نے بیل بجا کر پیون سے چائے اور بسکٹ لانے کو کہا۔ یہ اُس کا ہر ماہ کا معمول تھا، ہر مہینے کی پانچ تاریخ کو وہ ملک الموت کی طرح نازل ہوتا اور مجھے سے بائیس د ن کے وعدے پر پانچ ہزار روپے اُدھار لے جاتامزے کی بات یہ ہے کہ وہ پابندی سے ہر ماہ کی بائیس تاریخ کو مجھے وہ رقم واپس بھی کردیتا، یہ سلسلہ ڈھائی سال سے چل رہا تھا۔ پہلی مرتبہ جب اُس نے مجھ سے اُدھار کا تقاضہ کیا تو میں نے غور سے اُس کے چہرے کی طرف دیکھاتھا! دراصل مجھے پانچ ہزار روپے کی رقم سُن کر حیرت ہوئی تھی۔ تم دو گے کیسے؟ میں نے جھجکتے ہوئے ہوچھا تھا، یار میں نے اپنے ایک دوست سے پیسے لینے ہیں وہ مجھے بیس بائیس دن میں دے دے گا تو اُس سے لے کر تمھیں دے دوں گا، اُس نے جواب دیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ ایک چھوٹی سی جاب کرتا ہے اور اُس کی ماہانہ تنخواہ تقریبا 8000 ہزار روپے ہے، مگر اگر وہ نہ دے سکا تو؟؟؟ میری آنکھوں میں اپنی بیوی کا چہرہ آگیا! پھر ناجانے کس خیال کے تحت میں اپنی میز سے اُٹھا اور کیشئیر صاحب سے پانچ ہزار روپے ایڈوانس لے کر اُسے دے دیا۔ گھر آکر بیوی سے بھی اس بات ذکر نہیں کیا کیونکہ مجھے اُس کی خفگی کا احساس تھا۔ خالد اور میری دوستی اسکول کے بعد کی تھی۔ وہ مجھ سے ۲ سال بڑا تھا اور ہم ایک ساتھ ایک ہی محلے میں رہتے تھے پھر کرکٹ کے میدان میں میچ دیکھتے ہوئے ہماری ملاقات ہوئی اور اور آہستہ آہستہ یہ ملاقات دوستی میں بدل گئی ۔اُس وقت ہم دونوں ہی غیر شادی شدہ تھے۔ میں برسر روزگار تھا اور وہ کسی جاب کی تلاش میں تھا اُس کے مالی حالات اچھے نہیں تھے۔ پھر ایک روز وہ میرے گھر آیا اور مجھے بتایا کہ اُسے نوکری مل گئی ہے، شاید کوئی گارمنٹس فیکٹری تھی۔ تنخواہ پانچ ہزار روپے ماہانہ ہے اور پانچ سو روپے حاضری الاؤنس، اُس نے مجھے بتایا۔ اچھا میں نے جواب دیا، سچی بات ہے کہ مجھے خوشی ہوئی تھی۔ کچھ عرصے کے بعد ہم نے علاقہ تبدیل کرلیا تھا ، اب ہمارا ملنا جلنا کم ہوگیا تھا، اسی دوران میری شادی کا پلان بنا۔ مہمانوں میں وہ بھی شامل تھا۔ کچھ عرصے بعد اُس کی شادی کی بھی خبر ملی مگر مجھے دعوت نامہ نہیں ملا۔ ایک دن صدر سے گذرتے ہوئے مجھے اپنے نام کی صدا سُنائی دی، پیچھے مُڑ کر دیکھا تو اُسے اشارہ کرتے ہوئے پایا۔ کہاں ہو یار اُس نے اشتیاق سے پوچھا، میں نے اپنی مصروفیات سے آگاہ کیا۔ سوری یار تمھیں شادی پر نہیں بُلا سکا، وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولا، دراصل سب کچھ ہوا ہی اتنی جلدی کہ میں کسی کو بُلا ہی نہیں سکا، اُس نے وضاحت کرنی چاہی مگر میں نے منع کیا اور گفتگو کا موضوع تبدیل کردیا۔ وہ میرے گھر کا پتہ اور میرا فون نمبر لے کر رخصت ہوا۔ پھر ایک دن اتوار کے دن گھر کی بیل بجی میں نے دروازے پر جا کر دیکھا تو اُسے اور اُس کی بیوی کو موجود پایا۔ ہم نے حتی المقدور اُن کی خاطر مدارت کی۔اس مرتبہ وہ میرے آفس کا پتہ اور فون نمبر لے کر رخصت ہوا۔ چند روز کے بعد وہ میرے آفس میں موجود تھا! یار مجھے پانج ہزار روپوں کی ضرورت ہے، ُاس نے لجاجت سے کہا! یہ سلسلہ پچھلے ڈھائی سال سے چل رہا تھا شروع شروع میں مرتبہ میری بیوی نے مجھ سے پوچھا کے یہ پانچ ہزار والا کیا معاملہ ہے؟ بس یار خالد نے مجھے لے لیئے ہیں وہ واپس کردیگا، میں نے بے یقینی سے جواب دیا تھا! اب میرابچہ بڑا ہو گیا تھا، بیوی کا مطالبہ تھا کہ اُسے کسی مونٹیسوری میں ڈال دیا جائے جبکے میں اس بات کا مخالف تھا۔ کچھ ہفتوںکی بحث کے بعد میںنے ہتھیار ڈال دیئے بلاآخر یہ طے پایا کے گھر کے قریب کُھلنے والے ایک چھوٹے اسکول میں ننھے فیصل کا ایڈمیشن کروادیا جائے۔ پانچ ہزار روپےڈپازٹ اور اور ڈیڑھ ہزار روپے کورس و یونیفارم کی فیس ہے بیگم نے مجھے اطلاع دیتے ہوئے کہا! میں نے وعدہ کیا کے اس تنخواہ پر ایڈمیشن کروادیا جائے گا۔ آنے والی پانچ تاریخ پر میں نے ارادہ کیا کے اس مرتبہ اُسے منع کردوں گا۔ پھر پانچ تاریخ بھی آپہنچی، وہ حسب معمول میرے آفس میں آدھمکا! لاؤ دو 5 ہزار وپے!، اُس نے اپنا پرانا مطالبہ دُھیرے سے دُھرایا۔ ۔ ۔ ۔ آؤ یار چائے پینے باہر چلتے ہیں ، میں نے بات کو گول مول کرتے ہوئے کہا اوراُس کا ہاتھ پکڑ کر آفس سے باہر نکل آیا۔ ہوٹل پر جائے پیتے ہوئے اُسے میں نے اپنی مجبوری سے آگاہ کیا ور بتایا اب شاید میں آئندہ پیسے نہیں دے سکوں گا۔ تمم ایسا کیوں نہیں کرتے کے کسی دوست سے اُدھار لے لو اور پھر جب تنخواہ ملے تو اُسے واپس کردینا؟ میں نے تجویز دی۔ اگر میں تھاری جگہ ہوتا تو یہی کرتا، میں نے اپنی بات کی تائید میں دلیل دیتے ہوئے کہا! دوست سے اُدھار!!! اُس کی آواز کسی کنوئیں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی! مجھے پانچ ہزار روپے کون اُدھار دیگا؟ اُس نے معصومیت سے کہا تم ایسا بھی کرسکتے ہو کے قسطوں میں واپس کردو، میں نے اُسے قائل کرنے کی کوشش کی! تم سے ڈھائی سال پہلے لیئے گئے 5000 ہزار روپے واپس دینے کے لیئے میں ہر ماہ کی بائیس تاریخ کو اپنے کیشئیر سے اُدھار لیتا ہوں اور پھر تم سے پانچ تاریخ کو اُدھار لے کر اُسے واپس کرتا ہوں، اور ایسا میں گذشتہ ڈھائی سال سے کررہا ہوں، اس دوران اتنے پیسے ہی جمع نہیں ہوتے کہ میں تمھارا اُدھار واپس کرسکوں، اُس نے چائے کا کپ تقریبا میز پر پٹختے ہوئے کہا! (ماخوذ) بطور خاص فیصل ناصر اور سحر بہن کے لیے! Last edited by shafresha; 15-02-10 at 03:14 PM. وجہ: چند الفاظکی تصیح |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
یہ کس کہانی کا خلاصہ / اقتباس/ حصہ ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا طنز ہے۔۔۔۔۔
ان لوگوں پر جو کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر چھوڑیں۔۔۔۔ جو مرضی ہے کہتے رہیں لیکن غریب اپنا پیٹ کب تک خالی رکھے گا۔۔۔ بھوک تو سب کو لگتی ہے۔۔۔ پانچ ہزار تنخواہ لینے والے کو بھی اور لاکھوں روزانہ کمانے والے کو ۔۔۔ لیکن ہزارون دے کر کھانے والے کو گولی کے بغیر نیند نہیں آتی اور مزدور سوجاتا ہے فٹ پاتھ پہ اخبار بچھاکر مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں لیتا
__________________
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو(حضرت علی) Visit My Blog http://www.homeopathypakistan.blogspot.com |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اب یہ بطور خاص، فیصل جانی،سحر آپی، جناب منتظمین اور کنعان بھائی جان کی خدمت میںپیش ہے!!!
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,056
کمائي: 75,410
شکریہ: 50,030
10,116 مراسلہ میں 31,993 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امیر بندوں کی خدمت میں ہی سوغاتیں پیش کرو۔
ہم جیسے غریب نہ کبھی یاد آئے ۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی عمدہ کہانی ہے۔۔۔ میرے خیال میں یہ کسی بھی اعلی درجے کے پبلشنگ ہاوس میں پبلش کی جا سکتی ہے۔
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
جناب اجازت دیں تو آپ کے نام کے ساتھ کہین اور شئیر کر لوں
؟ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہترین انداز سے لکھی آپ بیتی ھے یہ۔ ڈھیر ڈھیر مبارک۔ اللہ ایسی صلاحیتیں سبھی کو دان نہیں کرتا۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,312
کمائي: 24,937
شکریہ: 7,983
1,070 مراسلہ میں 3,201 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خالی تعریف سے توکسی کا پیٹ نہیں بھرتا-
مجبور ضرورت پڑنے پر اپنے میڈل بھی بیچ دیتے ہیں- |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کورس, کوشش, کنوئیں, کروادیا, کرنی, کس, گھر, گئی, وقت, وضاحت, نوکری, ملک, بیوی, بے, تلاش, جواب, خبر, دوست, سال, شادی, علاقہ, غور, صدا, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|