| اردو زبان http://urduzuban.org اردو زبان http://urduzuban.org |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس میں کوشش کروں گا کہ جب تک ممکن ہو سکے ۔ ۔ ۔ ایک کہاوت بیان کروں اور پھر اس کی وضاحت سے متعلق کہانی بھی بیان کر دوں تاکہ اس کے استعمال کا موقع محل معلوم ہو سکے۔ دعا کیجیے گا کہ میں اس میں تسلسل قائم رکھ سکوں۔آمین
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہا وت:ابے چھوڑ میرا پاؤں دکھتا ہے
مطلب: مکر و فریب سے کام لے کر اپنے آپ کو محفوظ کرنا کہتے ہیں ایک چالاک چور نے کسی مکان میں نقب لگا کر اندر داخل ہونے کے لیے پاؤں ڈالا۔ مالک مکان جو کہ جاگ رہا تھا اس نے اسکا پاؤں پکڑ لیا۔ چور نے بے تحاشہ چیخ ماری اور کہا "ابے چھوڑ میرا پاؤں دکھتا ہے"۔ مالک مکان نے انسانی فطرت اور ہمدردی کے تقاضے کہ تحت اسکا پاؤں چھوڑ دیا۔ادھر چور موقع پاتے ہی رفو چکر ہو گیا Last edited by حیدر; 14-10-09 at 12:14 AM. وجہ: proof |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہا وت: اپنی چیز کی توقیر دوسروں کی تحقیر
مطلب: اپنی چیز کی تعریفیں کرنا اور دھیان رکھنا جبکہ دوسروں کی چیز کو حقیر جاننا کہتے ہیں برپست دیوتا نے جنگل کے تمام چوپایوں کے نام ایک حکم جاری کیا کہ وہ اپنی اپنی اولاد کو اس کے پاس لائیں۔ جس کا بچہ سب سے زیادہ خوبصورت ہو گا اسکو انعام دیا جائے گا۔ چناچہ دوسرے جانوروں کے علاوہ بندر اور بندریا بھی اپنے بچے کو وہاںً مقابلے میں لائے۔ جب بندریا نے اپنے گنجے، چپٹی ناک والے اور بد ہیئت چہرے والے بچے کو بڑی مامتا کے ساتھ دیوتا کے سامنے پیش کیا تو تمام جانوروں نے بندر اور بندریا پر بڑا طنزیہ قہقہہ لگایا۔ اس پر بندریا نے سنجیدگی سے کہا یہ تو میں نہیں کہ سکتی کہ دیوتا میرے بچے کو انعام دیں گے مگر مجھ ماں کی آنکھوں میں سب سے پیارا اور خوبصورت بچہ اگر کوئی ہے تووہ صرف میرا ہے۔ Last edited by حیدر; 14-10-09 at 12:14 AM. وجہ: proof |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہاوت : اپنے کیے کا علاج نہیں
مطلب: کس نے کیا؟ ۔ ۔ ۔ خود ہی ۔ ۔ ۔تو پھر شکایت کیسی؟ کہتے ہیں ایک کسان تھا جس نے اپنے کھیت میں بہت گندم اگا رکھی تھی اور کافی ساری مرغیاں بھی تھیں۔ وہاں ایک لومڑی بھی موقع پا کر باڑ پھلانگ کر آ جاتی تھی اور ایک دو مرغیاں پار کر جاتی تھی۔ کسان اس کے ہاتھوں بہت تنگ تھا۔ ایک دن وہ لومڑی اس کے کے شکنجے میں آ گئی۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ کسان ۔ ۔ ۔اس لومڑی کو ڈنڈے مار کر ختم کر دیتا اس نے اس لومڑی کی دم سے فلیتہ باندھ کر اس کو آگ لگا دی ۔ لومڑی اس آگ کے عذاب سے بلبلا کر بھاگی قدرتی طور پر اسکا رخ اس طرف ہی ہو گیا جہاں گندم کٹی ہوئی پڑی تھی۔ جلی ہوئی دُم سے گندم میں آ گ لگ گئی اور ساری گندم جل کر برباد ہو گئی۔ کسان کف افسوس مل کر کہنے لگا "اپنے کئیے کا علاج نہیں" |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہا وت:
اتم سے اتم ملے اور نیچ سے نیچ پانی کو پانی ملے اور کیچ سے کیچ مطلب: میل ملاقات انہی لوگوں کے بیچ ہوتی ہے جو ہم مزاج ہوتے ہیں ۔ شریف کا میل شریف کے سا تھ اور رزیل کا رزیل کے ساتھ ہوتا ہے۔ حکایت ہے کہ کسی کسان کے کھیت میں سارس آ کر اس کے بوئے ہئے بیج کھا جاتے تھے۔ کسان نے جال بچھا کر سارس پکڑ لیے۔ ان میں ایک لم ٹنگو بھی پھنس گیا۔ لم ٹنگو نے کسان کی منت کی کہ وہ اسکو چھوڑ دے کیونکہ وہ سارس نہیں ڈھینگ ہے۔ اس نے اپنے پر دکھائے اور کہا کہ دیکھو میرے بازو اور پر سارس سے کتنے مختلف ہیں۔ کسان نے کہا مجھے تمہارے اس فرق سے کیا مطلب ۔ مین نے تو تم کو لوٹ مار کرنے والے سارسوں کے ساتھ پکڑا ہے اس لیے تم کو سزا تو ضرور ملے گی Last edited by حیدر; 14-10-09 at 12:15 AM. وجہ: proof |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہاوت: اندھا گائے، بہرا بجائے
مطلب: کوئی نا اہل کسی کام کر کرے تو اس وقت کہتے ہیں کہتے ہیں ایک اندھا اور ایک بہرا آپس میں دوست تھے۔ اتفاق سے انکو کسی امیر کے گھر کسی دعوت میں جانے کا موقع ملا۔ ساری رات ناچ گانا ہوتا رہا۔ صبح جب واپس ہوئےتو رستے میںیہ باتیں ہوئیں بہرا :کیوں بئیا ناچ کیسا رہا۔ ۔ ۔ ۔مزا ایا؟ اندھا:آج تو صرف گانا ہوا ۔ ۔ ۔ ناچ تو کل ہوگا۔ اس پر قریب سے گزرنے والے لوگوں نے کہا کہ دونوں ہی سچ کہہ رہے ہیں اور یہ کہ اندھا گائے بہرا بجائے |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
.................................................. ........
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہاوت: اندھے کے ہاتھ بٹیر لگا کہا روز شکار کریں گے
مطلب: اتفاق پر بھروسہ کرنا نادانی ہے کیا معلوم پھر ایسا اتفاق ہو یا نہ ہو کہتے ہیں ایک گاؤں میں کچھ دوست رہا کرتے تھے جنکو شکار کا بہت شوق تھا۔ وہ ہمیشہ شکار پر جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انکے اندھے دوست نے بھی ضد کی کہ اسکو بھی لے جایا جائے۔ جب وہ شکار پر گئے تو اس دن انکے ہاتھ کوئی شکار نہ لگا اور سارا دن ضائع ہو گیا۔ ان دوستوں نے اپنے اندھے دوست کر بُرا بھلا کہا کہ تمہاری وجہ سے آج کوئی شکار ہاتھ نہیں لگا۔ آخری وقت میں اندھے کو رفع حآجت کے لیے قریبی کھیت میں جانا پڑا۔ جونہی کھیت میں اپنی ضرورت کے لیے اسکو مٹی کا ڈھیلا اٹھانا پڑا اس کا ہاتھ قریب بیٹھے بٹیر پر جا پڑا۔ اس نے اس کو فورزََ پکڑ لیا۔ اور خوشی سے چلاتا ہوا باہر نکل آیا ۔ جب اس کے دوستوں نے دیکھا تو اسکی تعریف کرنے لگے۔ اندھے نے جوش مسرت سے کہا "اب ہم روز شکار کرنے آیا کریں گے" ۔ تب سے یہ کہاوت مشہور ہو گئی |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (06-11-11), ھارون اعظم (31-10-09), یاسر عمران مرزا (01-07-10), محمدعدنان (14-10-09), مرزا عامر (01-07-10), wajee (06-11-11), ابو عمار (06-12-10), ابن آدم (01-07-10), رانا امر (01-07-10), رضی (26-11-10) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہاوت:اندھیر نگری چوپٹ راجہ ۔ ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھاجا
مطلب: بادشاہ یا حآکم کی غفلت، بد عنوانی اور پل پل بدلتے احکامات کی وجہ سے انتظام سلطنت کے تباہ ہونے کے وقت کہتے ہیں پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گرو اور اسکا چیلا سفر میں تھے کہ انکا گزر ایک بستی سے ہوا۔ گرو نے اپنے چیلے کو بستی بھیجا کہ جاؤ اور کھانے کا کچھ سامان لے آؤ۔ چیلا جب بستی گیا تو اس نے دیکھا ہر چیز ٹکے بھاؤ بک رہی ہے۔ چیلے نے ارزاں سمجھ کر بہت ساری مٹھائی خریدی اور آ کر گرو کے سامنے تعریفیں کرنے لگا کہ یہ بستی بہت اچھی ہے یہیں رہ لیتے ہیں۔ گرو نے اپنے چیلے کو سمجھایا کہ تو ابھی بالک ہے یہ اندھیر نگری ہے یہاں سارے کام اندھا دھند ہوتے ہیں۔ تو میرے ساتھ چل ۔ لیکن چیلا نہ مانا۔ اس پر گرو نے اپنی راہ لی اور چیلا وہیں رہ پڑا۔ زیزیں سستی ہونے کی وجہ سے اس نے خوب کھانا پینا۔ اس وجہ سے وہ تھوڑے ہی دنوں میں پھول کر کپا ہو گیا۔ انہی دنوں نے ایک شخص کو حاکم نے پھانسی کی سزا دی۔ لیکن اس شخص کی گردن پتلی ہونے کی وجہ سے پھندا ڈھیلا تھا۔ جلاد نے حاکم کو مطلع کیا کہ اب کیا کریں۔ حاکم نے نادر شاہی حکم دیا کہ شہر سے کسی موٹے آدمی کو پکڑ کر پھانسی دے دو ۔ ۔ آج کسی نہ کسی کو پھانسی ضرور دینی ہے۔ جلاد نے اسی موٹے چیلے کو پکڑ لیا اور اسکو پھانسی چڑھانے لگا۔ اس پر چیلے کو استاد کی بات یاد آئی اور وہ خوب پچھتایا۔ اتفاق سے اس بات خبر گرو کو ہو گئی اور وہ بھاگا بھاگا آیا اور جلاد سے کہنے لگا کہ اس وقت جو کوئی اس پھندے سے پھانسی لگے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ جلاد نے لپک کر اپنی گردن ڈالنے کی کوشش کی۔ تو وزیر نے اسکو دھکا دے کو خود پھانسی پر لگنے کی کوشش کی۔ اسی جھگڑے میں ۔ ۔ ۔ حاکم کو خبر ہوئی تو وہ ترت وہاں پہنچا اور پھندا آپنی گردن ڈال کر ااس پر جھول گیا اور اس طرح انجام ہوا۔ اس وقت سے یہ کہاوت چلی آ رہی ہے کہ اندھیر نگر چوپٹ راجہ۔ ۔ ۔ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھاجا |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہاوت:اونٹ کی نکیل چوہے کی ہاتھ
مطلب:جب کوئی بڑا آدمی کسی رذیل یا کمینے کے ہاتھ آ جائے تو اسے مجبوراََ فرمانبرداری کرناپڑتی ہے۔ تاہم وقت آنے پر سب پول کھل جاتے ہیں کہتے ہیں ایک مرتبہ ایک اونٹ اپنے مالک سے رسی تڑوا کر جنگل بھاگ ایا اور گھاس چرنے لگا۔ چوہے نے موقع پا کر اس کی رسی پکڑ لی اور اسکو اپنے بل کی طرف کھینچنے لگا۔ اونٹ کی عادت تھی اطاعت کرنا سو وہ چل پڑا۔ یہاں تک کہ چوہا اپنے بل پر جا پہنچا ۔ ۔۔ مگر اب وہ حیران و پریشان تھا کہ اس لحیم و شحیم قدو قامت والے غلام کو کس طرح اپنے گھر میں داخل کرے۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,985
کمائي: 74,113
شکریہ: 49,814
10,058 مراسلہ میں 31,797 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہاوت: اونٹ کے گلے میں بلی
مطلب:اصل سے نفل کی زیادہ قیمت، قیمتی شے کے ساتھ سستی شے خریدنے کی شرط، بڑی عمر والے مرد کے ساتھ کم سن لڑکی کا بیاہ کہتے ہیں ایک شخص کا اونٹ کھو گیا۔ اس نے منت مانگی کہ اگر وہ اونٹ اسکو مل گیا تو وہ اسکو ایک ٹکے میں بیچ ڈالے گا۔ اتفاق سے وہ اونٹ اسکو واپس مل گیا۔ اب اس کو ایفائے قسم کی فکر ہوئی۔ آخر اسکو ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اس اونٹ کے گلے میں ایک بلی باندھ کر اس اونٹ کی قیمت ایک ٹکا کر دو۔ لیکن شرط یہ ہو کہ اس اونٹ کےساتھ بلی بھی لازمی خریدنی ہو گی جس کی قیمت 200 روپے ہے۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور نقصان سے بچ گیا۔ اس کے بعد سے یہ محاورہ مشہور ہو گیا۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (06-11-11), پاکستان دوست (26-11-10), یاسر عمران مرزا (01-07-10), مرزا عامر (01-07-10), wajee (06-11-11), ابو عمار (06-12-10), احمد بلال (01-07-10), رانا امر (01-07-10) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
![]() ![]() مزیدکاانتظار ہورہا ہے
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, پھول, وزیر, چور, موقع, ممکن, ماں, معلوم, آج, آدمی, انعام, امیر, استاد, بھائی, حکم, خبر, دیکھو, دوست, دعا, رات, علاج, عذاب, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) | ایکسٹو | متفرقات | 2 | 09-03-11 02:54 PM |
| امام کی تلاوت اور جدید سائنس | wajee | اسلام اور معاشرہ | 5 | 09-03-11 07:55 AM |
| نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاعقلی ثبوت | عبداللہ حیدر | عقیدہ رسالت | 12 | 31-12-10 03:09 PM |
| ماہ مقدس رمضان اور تلاوت قرآن | Real_Light | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 0 | 21-08-09 06:39 PM |
| موت ایک اٹل حقیقت !!!!!ایک منتخب تحریر | وجدان | آخرت | 7 | 17-08-09 10:12 AM |