|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,622
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں پچھلے کئی دنوں سے یہاں آرہا ہوں
دور سورج ایک نارنگی کے رنگ میں بدل چکا ہے۔ لہریں میرے ننگے پیروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی ہیں۔ اوپر آسمان پر دو بگلے فضا میں بلند ہیں ۔۔۔ میں سوچتا ہوں کیا وہ اپنا وعدہ نباہے گی ۔۔۔ کیا آج کی رات وہ آئے گی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیالات کہیں دور۔۔۔ بہت دور ماضی میں بھٹک جاتے ہیں۔ خیالات کی گہری دھند پرت بہ پرت صاف ہوتی ہے ۔۔۔ ایک ننھی لڑکی اور ایک ننھا لڑکا گیلی ریت میں دوڑتے ہیں۔ میں جیت گی ۔میں جیت گی ۔لڑکی خوشی سے چلاتی ہے۔ ہاں تم جیت گئیں ۔ آج تم جیت گئیں۔ لڑکا خوشی سے چلاتا ہے۔ پھر لڑکی ۔۔۔ لڑکے سے کہتی ہے۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہمیشہ کھیلنا چاہتی ہوں۔ بولو نا۔۔۔۔۔ کیا تم میرے ساتھ ہمیشہ کھیلوگے۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھیلوں گا۔ میں وعدہ کرتی ہوں میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھیلوں گی۔ دونوں ، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر دوڑتے ہیں۔ اور ریت میں گرجاتے ہیں۔ یہ کیا ہے ؟ میں تم سے جیتنا نہیں چاہتی ۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ساتھ چلنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیال کا ایک نیا صفحہ کھلتا ہے ۔۔۔ دیکھا نا میں نے کہا تھا نا کے میں بی اے میں فرسٹ ڈیویزن سے پاس ہوں گی۔ باں ۔۔۔۔ تم ہوگئیں۔ لیکن میں نے بھی تو بی ایس سی فرسٹ ڈیویزن میں کیا۔ مجھے پتہ ہم ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ چلو ساحل سمندر پرچلیں۔ مجھے آج کیوں ڈر لگا رہا ہے۔۔۔ایک دن تم چلے جاؤ گے۔ پگلی اگر میں جان کر بھی تجھے چھوڑنا چاہوں تونہیں چھوڑ سکتا۔ وہ کیوں!!۔۔۔ تو میری زندگی ہے تو میری روح ہے تو میرا دل ہے۔ تو میری آرزو تو میرا ایمان ہے۔۔۔ تو میں ہے اور میں تو۔۔۔ ہاں مگر مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ وہ کیوں!! ۔۔۔ تو کمزور ہے ۔۔۔ میری محبت سےذیادہ مضبوط تیرے دوسرے رشتہ ہیں۔تو ایک دن کیسی اور کی ہوجائےگی ۔ اس رات جب چاند نکلتا ہے اور مدوجزر واپس لوٹتا ہے ۔۔۔۔ لہریں ہمارے ننگے پیروں کو نہیں چھوتیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اسی طرح کی ایک رات تھی ۔ اسی جگہ ایک حسین چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔ ان روتی ہوئی آنکھوں میں چاند کا عکس ابھرتا ہے۔ اس کےگالوں پر آنسوؤں کی ایک لڑی بن جاتی ہے ۔ “ میں تمہیں یہ شہر چھوڑ کر نہیں جانے دوں گی “ ۔ مگر اب شہر میں ، میرے لیے کیا رکھا ہے۔؟ تم میری نہیں ہو پرائی ہو۔۔۔ میں تمہارا نہیں ہوں اب ایک اجنبی ہوں۔۔۔ آنسو ٹپک ٹپک کر ریت میں گرتے ہیں اور ان کےگرنے سے ایک جوہڑ بند جاتا ہے ۔۔۔ لہریں دوڑ کر اس جوہڑ کو اپنے میں سما لیتی ہیں۔ سمندر اور جوہڑ کی طرح ہم ایک ہوجاتے ہیں۔ مجھ سے وعدہ کرو تم ایک دن واپس آؤ گے ۔۔۔ ہمارے راستے اب مختلف ہیں تم کسی اور کی ہو ۔۔۔ ہمارے راستہ محتلف ہیں۔ مگر ہماری جان اور دل تو ایک ہیں نا۔۔۔ بولو ہیں نا۔۔۔ ہاں مگر تم کیسی اور کی ہو اور میں کوئی اور اجنبی۔۔۔۔ جاؤ ۔۔۔اگر تم کو جانا ہے ۔۔۔ میں تم کو نہیں روکوں گی ۔۔۔ مگر جب بھی چاند نکلےگا اور جب بھی مدوجزر واپس لوٹےگا ۔۔۔میں اس ساحل پر آؤں گی۔ ہاں ہمیشہ آؤں گی ۔۔۔بولونا ایک دن تم آؤگے۔۔۔ بولونا باں ۔ خیال کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے ۔۔۔ پندرہ سال بیت گے۔۔۔۔ آج بھی اس رات کی طرح ، دور سورج ایک نارنگی کے رنگ میں بدل چکا ہے۔ لہریں میرے ننگے پیروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی ہیں۔ اوپر آسمان پر دو بگلے فضا میں بلند ہیں۔ میں سوچتا ہوں کیا وہ اپنا وعدہ نبائے گی۔۔۔۔ کیا آج بھی وہ میرے ساتھ ساتھ اس ساحل سمندر پر چلے گی۔۔۔۔ کیا اب بھی وہ ساتھ کھیلے گی۔ اس نے کہا تھا کہ “ جب بھی چاند نکلےگا اور جب بھی مدوجزر واپس لوٹےگا ۔۔۔میں اس ساحل پر آؤں گی۔ ہاں ہمیشہ آؤں گی ۔۔۔بولونا ایک دن تم آؤگے۔۔ بولونا“۔۔۔ میں لوٹ آیا۔ کیا آج کی رات وہ آئے گی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورج غروب ہوچکا ہے۔ لوگ جاچکے ہیں۔ میں ساحل سمندر کی ایک بینچ پر بیٹھ جاتا ہوں۔ پانی اب میرے ٹخنوں تک پہونچ چکا ہے۔۔۔۔ سنئے ۔۔۔۔ میں گردن موڑتا ہوں ۔ یہ آپ کی تصویر ہے نا۔ تقریباً پندرہ سال کی لڑکی مجھے غور سے دیکھ رہی ہے۔ یہ لڑکی کیوں جانی پہچانی لگتی ہے! دھندلی تصویر میں ایک شبہیہ اُبھرتی ہے ۔ تصویر صاف ہوجاتی ہے مگر میری آنکھیں نم۔ تو یہ آپ ہیں۔۔۔ لڑکی روتی ہوتے ہوے میرے گلے میں باہیں ڈالتی ہے۔ آپ نے ہمیں بہت انتظار کرایا۔ چلئے وہ سامنے کی بلڈنگ میں ہمارا فلیٹ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی آتشدان کی راکھ کو لکڑی کریدتی ہے۔ میز پر میری تصویر رکھی ہے۔ میں اس کی طرف دیکھتا ہوں۔ "ایک ھفتہ پہلے ماں کا انتقال ہوگیا۔۔۔۔ میں اس ہفتہ دادی کے پاس تھی"۔ وہ روتے ہوئے کہتی ہے۔ میں روتا ہوں ۔۔۔میرا دل روتا ہے۔۔۔ میری روح روتی ہے۔ میرا بدن کانپتا ہے۔ " ہاں ابا ۔۔۔ ماں نے تمہارا آخری وقت تک امتظار کیا"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکی پاگل ہے۔ میں اس کا ابا نہیں۔۔۔ "جب ابو کا بانچ سال پہلےانتقال ہوا تو ماں نے سب کچھ بیچ کر یہاں فیلٹ لے لیا" ۔ وہ روتے ہوئے بولی۔ ماں نے ایک دن کہا کہ بیٹی۔ "میں جانتی ہوں کہ تم اپنے ابو سے بہت محبت کرتی تھیں اور میرے دل میں بھی تمہارے ابوکے لیے جگہ ہے۔ لیکن بہت عرصہ پہلے جب میں سات سال کی تھی مجھےایک لڑکا پسند آگیا۔ میری شادی کی رات تک وہ لڑکا اور میں ایک تھے۔ وہ لڑکا میری زندگی تھا، میری روح ، میرا دل ہے ، میری آرزو اور میرا ایمان تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ میں وہ ہوں اور وہ میں ۔۔۔ تم میری شادی سے پہلے اس دنیا میں آنے کا سفر شروع کرچکیں تھیں۔ اس کا علم صرف مجھ کو ہے۔ماں نے سب کچھ بتادیا۔۔۔ انہیں پیروں کا گھٹیا تھا۔وہ ہر روز اس بالکونی میں بیٹھ کر آپ کا انتظار کرتی تھیں۔ اور میں ساحل سمندر ہر آپ کو ڈھونڈتی تھی۔ ماں نے کہا اگر میں مر بھی جاؤں تو ہمت نا ہارنا۔۔۔" تیرے ابانےمجھ سے وعدہ کیا ہے تو ضرور آئے گا"۔۔۔ میں نے روتے ہوئے آگے بڑھ کر میری بیٹی کوگلے سے لگایا۔ دل نے کہا۔۔۔۔تیری بیٹی تیری جان ہے۔۔۔ اور وہ ۔۔۔ وہ جیسےتو بُھلا نہ سکا اب تیری روح ہے ۔۔۔۔ میں نے کہا ۔" اے دل۔۔آج میں کتنا خوش ہوں تو، اور میری یہ جان اور اُس کی روح ایک ہوگے ختم شدُ
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یوں تو کہانی میں بہت جان ہے ۔۔۔ لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آئی ۔ کہ وہ ابا کیسے ہو سکتا ہے جب کے اس کی ماں اس کو بتاتی ہے ،،،، جب کے شادی کی رات تک وہ اجنبی ہوتا ہے ۔۔۔۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب یہ مصنف سے پوچھنا پڑے گا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (09-11-10), پاکستانی (09-11-10), wajee (09-11-10), تانیہ رحمان ستارہ (10-11-10), شاہ جی 90 (09-11-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اتنی آسان سی بات سمجھ نہیں آتی
اوئے کون لوگ ہو تسی وہ لڑکا میری زندگی تھا، میری روح ، میرا دل ہے ، میری آرزو اور میرا ایمان تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ میں وہ ہوں اور وہ میں ۔۔۔ تم میری شادی سے پہلے اس دنیا میں آنے کا سفر شروع کرچکیں تھیں۔ اس کا علم صرف مجھ کو ہے۔ماں نے سب کچھ بتادیا۔۔۔ اس میں سب کچھ تو بتا دیا ہے اس نے اور ایک بات اور کہ کوئی کتنا ہی قریب کیوں نہ آ جائے انڈو پاک معاشرے میں نکاح سے پہلے اجنبی ہی سمجھا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے وہ لڑکا اس کا محبوب بھی تھا اور اجنبی بھی کمال کی تحریر ہے ۔ وجی یار کیوں رلاتے ہو ہمیں ۔ ایک ایسی داستان محبت جو کہ انسان کو کسی اور جہان میں لے جاتی ہے ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | wajee (09-11-10), تانیہ رحمان ستارہ (10-11-10) |
|
|
#7 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
کجھ سانوں وی دسو
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | تانیہ رحمان ستارہ (10-11-10), شاہ جی 90 (09-11-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شناسائی اور اجنبیت
معیار یقینا الگ الگ ہیں جی ہاں وہ رگ جاں سے زیادہ قریب ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے لیئے اجنبی ہو سکتے ہیں ۔ وجہ وہی ہے جو ہم نے بیان کر دی ہے |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور جو نئے بچے کے زندگی میں آنے کا سفر شادی سے قبل شروع ہو جاتا ہے اس سے اجنبیت ختم نہیں ہوتی؟
اور کیا یہ ’’اجنبیت‘‘ اس قدر قابل ستائش ہے کہ اس پر عش عش کیا جائے ؟؟ بھائی اپن کے ماگ میں یہ فٹ نہیں ہو رہی |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | شاہ جی 90 (09-11-10), عبداللہ آدم (11-11-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ جی
معاشرتی معیارات کی بات ہو رہی تھی اخلاقیات کی نہیں اس حوالے سے تو بات ہمارے مغز میں بھی نہیں بیٹھتی ہے |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وجی کہانی میں بے معنی بے مقصد الفاط کو ختم کر دو یا پھر اگر آپ یہ بتانا چاہتے ہو کہ محبت انسان کو اندھا کر دیتی ہے وہ بھول جاتا ہے سب کچھ پھر وہ بچی جو ان کی محبت کی ناجائز نشانی ہے ۔۔۔ تو اجنبیت کا استعمال کس طرح ۔۔۔ یہ میرا خیال ہے ۔۔۔ اگر برا لگا ہو تو معذات
|
|
|
|
|
|
#12 | ||
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاگل, پسند, لڑکی, ماں, محبت, آج, ایمان, اجنبی, تصویر, جیت, روتا, رات, راستہ, زندگی, سفر, سال, شہر, شادی, علم, عرصہ, غور, غروب, صفحہ, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|