واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




میرے خواب بکھر گئے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-05-09, 12:45 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default میرے خواب بکھر گئے

میرے خواب بکھر گئے

یہ کہانی میں نے اپنے بلاگ پہ لگائ تھی اکثرپاک نیٹ کے لکھنے والوں کے اپنے بلاگ ھیں مگر کچھ لوگ بلاگ نہیں دیکھتے اس لیے پاک نیٹ پہ بھی لکھ رھی ھوں

میرے خواب بکھر گئے


میں حیرت سے اپنے گھر میں آئے رشتے داروں کو دیکھ رھی تھی صبح بابا نے کہا تھا اللہ نے مجھے ایک بہن دی ھے میں بہت خوش تھی میں نے اسے دیکھا معصوم سی گڑیا سو رھی تھی میں نے اسے آہستہ سا ھاتھ لگایا تو تھوڑی سی حرکت کی میں دیکھ کر مسکرائ یہ گڑیا ھے مگر ھلتی بھی روتی بھی ھے شام تک میں اپنی دوستوں کے ساتھ کھیلتی رھی بابا پھوپھوکو لے آئے تھے وہ پتا نہیں کیوں بار بار آنکھیں صاف کر رھیں تھیں مجھے بھی دعا کے لیے کہا ماں کے لیے دعا کرو میں کیا دعا کرتی مجھے بہن چاھیے تھی وہ مجھے مل گئ ابا پریشان تھے پھر ساتھ والی خالہ نے مجھے گلے لگا کر رونا شروع کر دیا وہ کیا کہہ رھی تھیں مجھے سمجھ نہیں آرھا تھا وہ کہہ رھی تھیں اللہ کی مرضی اب بچوں کا کیا ھوگا میں اماں کو دیکھ رھی تھی ان کے منہ پہ کسی نے چادر ڈال دی تھی مجھے عجیب لگا میں نے چادر ھٹا دی اماں کہتی تھی منہ پہ چادر لے کر نہ سویا کرو میں نے کہا اماں کو سانس کیسے آئے گا پھوپھو نے روتے ھوئے کہا اب وہ اللہ کے پاس چلی گئیں ھیں ان کو سانس لینے کی ضرورت نہیں میں نے ابا سے کہا بہن اللہ کے پاس سے آئ تو اماں اللہ کے پاس کیوں چلی گئ بہن کو کون سمبھالے گا سب رونے لگے پھر اگلے دن اماں کو قبرستان میں چھوڑ آئے ابا نے مٹی کے ڈھیر کی طرف اشارہ کر کے بتایا یہ اماں کی قبر ھے اب وہ یہی رھیں گی اس مٹی میں اکیلی اندھیرے میں میں بار بار قبر کو دیکھ رھی تھی قبر سے مٹی ھٹا رھی تھی جیسے مٹی ھٹانے سے اماں ھنستی ھوئ نکل آئیں گی
اماں کے بنا گھر عجیب سا لگتا تھا پھوپھو اب ھمارے پاس رھتی تھی ایک بار وہ کسی کو بتا رھی تھیں
اگر یہاں کوئ ھسپتال ھوتا کوئ ڈاکٹر ھوتا تو اماں بچ جاتیں مگر اللہ کی مرضی - میں سوچنے لگی اگر اللہ نے انھیں اپنے پاس بلانا تھا تو ڈاکٹر کیسے ان کو روک سکتا تھا یہ ڈاکٹر کیا ھوتے ھیں بہت نیک انسان یا فرشتے جن کی بات اللہ بھی مانتا ھے میں نے پھوپھو سے پوچھا یہ ڈاکٹر کون ھوتے ھیں کیسے بنتے ھیں تو پھوپھو نے بتایا ڈاکٹر بننے کے لیے بہت پڑھنا پڑتا ھے بہت محنت کرنی پڑتی ھے تو میں نے سوچا میں ڈاکٹر بنوں گی پھر کسی کی ماں چھوٹے بچوں کو چھوڑ کہ اللہ کے پاس نہیں جائے گی
مین نے آج بہت دن کے بعد اپنا بستہ کھولا مجھے پڑھنا اچھا نہیں لگتا تھا اماں ھر وقت مجھے پڑھنے کے لیے کہتی تھی میں نے پڑھنا شروع کیا تو مجھے بہت مشکل لگ رھا تھا مگر آج میں پڑھ رھی تھی مجھے محنت کرنی ھے بہت زیادہ پڑھنا ھےمجھے ڈاکٹر بننا ھے پھوپھو نے چھوٹی کا نام پلوشے رکھا تھا وہ جب بھی روتی تھی لگتا تھا وہ اماں اماں کہہ رھی ھے میں آسمان کی طرف دیکھ کر اماں سے کہتی اماں پلوشے کو دیکھو تمہیں بلارھی ھے کیوں چھوڑ گئ ھمیں واپس آجاؤ مگر کہتے ھیں جو اللہ کے پاس ایک بار چلا جائے وہ واپس نہیں آتا میں نے پھر اماں کی قبر پہ جا کر وعدہ کیا میں ڈاکٹر بنوں گی بہت پڑھوں گی

میں امامہ جو پڑھائ سے بھاگتی تھی اب پڑھنے لگی جو اپنا بستہ چھپا دیا کرتی تھی کہیں اماں مجھے سبق یاد کرنے کا نہ کہہ دیں اب وہی بستہ میری زندگی تھا میں جو استانی کے مارنے سے بھی سبق یاد نہیں کرتی تھی اب کہنے سے پہلے ھی سبق یاد کرنی لگی میں وہی امامہ ھوں جیسے کھیلنا اچھا لگتا تھا پڑھتے ھوئے کبھی بھوک کبھی پیٹ میں درد ھو جاتا تھا اب پڑھتے ھوئے کھانا پینا بھولنے لگی
پھوپھو کہتی تھیں کتنا پڑھو گی میں نے کہا اتنا جتنا ایک ڈاکٹر کو پڑھنا چاھیے ڈاکٹر فرشتے کا دوسرا روپ ھوتے ھیں یہ مجھے ابا نے کہا تھا اور مجھے اب فرشتہ بننا ھے جو لوگوں کو زندگی دیتا ھے

میں نے دینیات کی کتاب میں پڑھا جب رسول ِ کریم کو پہلی وحی ھوئ تو حکم ھوا اقراء یعنی پڑھ - میں سوچنے لگی اللہ نے یہ کیوں نہیں کہا میری عبادت کرو صدقہ دو اور کام کرو صرف پڑھنے کا ھی کیوں کہا کیا پڑھنا اتنا اھم ھے پڑھنے سے انسان اللہ کو پہچان سکتا ھے اس کے قریب ھو سکتا ھے میں پہلے ھی اپنی پڑھائ پہ توجہ دیتی تھی اب پڑھائ میری زندگی بن گئ تھی قرآن کے بعد میں اپنی کتابوں کو عزت دینے لگی یہی وہ کتابیں تھی جن کو پڑھ کر انسان عالم بنتا ھے دنیا کو جانتا تھا اس کائنات کو سمجھتا ھے

پلوشے نے ایک بار مجھ سے پوچھا ماں کیسی ھوتی ھے میں نے کہا پھوپھو جیسی ھوتی ھے وہ بھی اماں کی طرح ھمارا خیال رکھتی ھیں وہ بھی ھم سے پیار کرتی ھیں اس نے مجھ سے پوچھا اماں تمہں کتنا پیار کرتی تھی تو میری آنکھوں میں آنسو آنے لگے مگر میں پلوشے کے سامنے نہیں روتی تھی
میں نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا آہستہ سے کہا اماں مجھ سے اتنا پیار کرتی تھی جتنا میں تم سے پیار کرتی ھوں میں نے ایک بار پھر عہد کیا میں ڈاکٹر بنوں گی میں نے ابا سے کہا ابا میں ڈاکٹو بنوں گی ابا نے کہا یہاں کوئ اپنی بیٹیوں کو اتنا نہیں پڑھاتا میں نے مضبوط لہجے میں کہا نہیں بابا میں نے ڈاکٹر بننا ھے پھر کوئ پلوشے کسی سے یہ نہیں پوچھے گی کہ ماں کسی ھوتی ھے اب کسی کی ماں بے موت نہیں مرے گی بابا کی آنکھوں میں آنسو آگئے انھوں نے خاموشی سے میرے سر پہ ھاتھ رکھا اور بنا کچھ کہے چلے گئے میں اب میٹرک میں تھی میرے رشتے آرھے تھے مگر ابا ٹال رھے تھے میں جانتی تھی ابا مجھے پڑھانا چاھتے ھیں مگر برادری کے سامنے کچھ نہیں کہتے میں نے آٹھویں کے بورڈ کے امتحان میں ٹاپ کیا تھا ابا نے مجھ سے کہا تھا اگر میں نے میٹرک میں بھی ٹاپ کیا تو مجھے کالج میں داخلہ دلادیں گے چاھے خاندان والے کچھ بھی کہتے رھیں

عید آنے والی تھی ھم شہر خریداری کرنے گئے پھوپھو اور پلوشے کپڑے دیکھ رھی تھیں میرا سارا دھیان پیچھلی طرف کتابوں والی دکان پہ تھا ابا نے کہا تم کیوں کوئ کپڑے نہیں دیکھ رھی میں نے آہستہ سے کہا ابا مجھے کتابیں لے دو کپڑے تو میرے پاس پہلے بھی بہت ھیں اتنی کتابیں ھمارے گاؤں کی کسی دکان پہ نہیں ابا ھنس پڑے پگلی کتابیں بھی لے دیتا ھوں پہلے عید کے لیے کپڑے لے لو میں نے جلدی سے ایک سو ٹ پسند کیا اور کتابوں والی دکان پہ بھاگ گئ وھاں اخبار کے پہلے صفحے پہ خبر تھی طالبان نے لڑکیوں کے ایک اور اسکول کو جلا دیا میں پڑھ کر پریشان ھو گئ یہ کون سا اسلام ھے اسلام میں تو پڑھنے کا حکم ھے وہ عورت ھو یا مرد اسکولوں کے بنانے پہ کتنا پیسہ لگتا ھے کتنے اسکول جل رھے ھیں آخر یہ سب کیوں ھو رھا ھے یہ سب کون کر رھا ھے اسلام تو چودہ سو سال سے ھے یہ کونسا نیا اسلام ھے جو تعلیم کو گناہ سجھتا ھے حضرت عائشہ تو سب کو درس دیا کرتی تھیں رسول ِ کریم کی زندگی میں ھی عورتیں جنگ میں حصہ بھی لیتی تھیں تلوار بازی گھڑسواری وہ گھر میں بند ھو کر نہیں سیکھتی تھیں میدان ِ جنگ میں مردوں کی مرھم پٹی کرتی تھیں جو ان کے لیے بالکل نا محرم ھوتے تھے ان کو پانی پلاتی تھیں گھر میں قید نہیں کی جاتی تھیں اب ایسا کیوں کیا جا رھا ھے میرے دل میں ھزار سوال تھے مگر جواب کسی کے پاس نہیں تھا

ایک دن مغرب کے وقت ھم نماز پڑھ کے فارغ ھوئے میں اور پھوپھو کچن رات کا کھانا بنا رھے تھے پلوشے کھیل رھی تھی ایک زور دار دھماکہ ھوا ھم سب خوف ذدہ ھو گئے میں پھوپھو کے گلے لگ گئ اور پلوشے میری ٹانگوں کے ساتھ چپک گئ اتنا زوردار دھماکہ پھوپھو زیرِلب دعائیں دھرانے لگی گلی میں شور تھا لوگ بھاگ رھے تھے سب مرد دیکھنے جا رھے تھے دھماکہ کہاں ھوا ھے پھر کسی نے بھاگتے ھوئے کہا لڑکیوں کے اسکول کو کسی نے دھماکے سے اڑا دیا پھر مجھے ھوش نہیں رھا مجھے یاد ھے میں بھاگ رھی تھی میرے سر پہ ڈوپٹہ تھا یا نہیں مجھے ھوش نہیں میں نے اسکول کی جگہ ملبے کا ڈھیر دیکھا دھواں‌اٹھ رھا تھا اینٹیں پتھر بکھرے ھوئے تھے ایسے لگ رھا تھا میرے خواَب بکھرے ھوئے ھیں اسکول نہیں جل رھا پورے گاؤں کا مستقبل جل رھا ھے میں دیوانہ وار رو رھی تھی اتنا تو اماں کے مرنے پہ نہیں روئ تھی آج لگ رھا تھا جیسے میری نہیں مجھ جیسی بہت سی لڑکیوں کی مائیں بنا علاج کے مر گئیں ھیں ابا نے میرا ھاتھ کھینچا تم یہاں کیا کر رھی ھو یہاں سب مرد ھیں گھر جاؤ میں ان کے گلے لگ گئ میں نے روتے ھوئے ان سے کہا
بابا اب گاؤں‌ کوئ ہسپتال نہیں بنے گا کوئ ڈاکٹر نہیں بن سکے گا اب کئ امامہ رات کو اٹھ کے اپنی ماؤں کو یاد کیا کریں گی کئ پلوشے لوگوں سے پوچھا کریں گی ماں کیسی ھوتی ھیں دنیا میں ھم دھشت گرد کے نام سے جانے جائیں گے لوگ ھمیں انتہا پسند کہیں گے جو اپنی عورتوں کو کسی پرندے کی طرح پنجرے میں قید کر کے رکھتے ھیں اب عیسائ فخر سے بیان دیں گے اسلام مساوات کا مذھب نہیں اسلام امن کا درس نہیں دیتا زبردستی کا درس دیا ھے اب بہت سے وہ لوگ جو اسلام کے قریب آرھے تھے اسلام سے دور ھو جائیں گے نفرت کرنے لگیں گے بہت سے لوگ اپنا پیسہ غیر ممالک میں ٹرانسفر کر دیں گے کہ یہاں امن ممکن نہیں
میرے ھونٹوں پہ بہت سے سوال تھے مگر جواب کون دیتا سب میری طرح بے بس تھے میرے سامنے میرے خواب جل رھے تھے اور میں انھیں جلتا ھوا دیکھ رھی تھی آپ میری جگہ ھوتے تو کیا کرتے ؟؟
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (22-05-09), راجہ اکرام (23-05-09), رضی (05-06-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 22-05-09, 12:49 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق پر پیش کریں اور ام غزل سے درخواست ہے کہ اس کو جلد جگہ دیں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (23-05-09), رضی (22-05-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 22-05-09, 01:02 AM   #3
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میرے ھونٹوں پہ بہت سے سوال تھے مگر جواب کون دیتا سب میری طرح بے بس تھے میرے سامنے میرے خواب جل رھے تھے اور میں انھیں جلتا ھوا دیکھ رھی تھی آپ میری جگہ ھوتے تو کیا کرتے
جواب نہیں ہے میرے پاس
.
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (23-05-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 22-05-09, 01:41 AM   #4
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,972
کمائي: 276,806
شکریہ: 33,219
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس بلاگ پر لگے ہوئے تبصرے بھی یہاں لگا دئے جائیں تو سونے پر سہاگہ ہوجائیگا
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (23-05-09), رضی (22-05-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 22-05-09, 02:06 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام فیصل بھائ

منتظمین سے پوچھتی ھوں اگر ان کی اجازت ھو گی تو اپنے بلاگ کے تبصرے یہاں لگا دونگی
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-05-09), راجہ اکرام (23-05-09), رضی (22-05-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 22-05-09, 02:08 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ لگا سکتی ہیں۔ لیکن یہ اجازت صرف ان بلاگز کے لیے ہے جو کہ ورڈ پریس ۔ پی کے پر ہیں۔ ورڈ پریس ۔ پی کے کے بلاگز اور ان کے لنک اپ پاک۔نیٹ پر آزادانہ دی سکتی ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-05-09), راجہ اکرام (23-05-09), رضی (22-05-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 22-05-09, 03:29 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ اور سلام منتظمین

ایک بات اور پوچھنی تھی میں ایک کہانی لکھ رھی ھوں اس کی پانچ سے سات اقساط ھونگی کیا وہ میں یہاں شروع کر سکتی ھوں قسط وار کہانیاں میں نے پاک نیٹ پہ نہیں دیکھی وہ میں اگلے ھفتے سے شروع کر دونگی
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-05-09), منتظمین (01-06-09), راجہ اکرام (23-05-09), رضی (22-05-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 31-05-09, 11:16 PM   #8
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپکی افسانہ نما کہانی پڑھی اچھی کاوش ھے لیکن اس میں بہت بڑا ایک فنی سقم ھے اگر برا نہ مانیں تو عرض کروں۔ کسی تخلیقی کہانی کے تین بنیادی اجزا ھوتے ھیں، آغاز، عروج اور اختتام ، آپکا آغاز بہت اچھا ھے اور آپ درست واقعات کے انتخاب سے عروج کی طرف گئیں ھیں لیکن انجام میں آپ نے صرف نا امیدی اور مایوسی چھوڑی ھے جوآپکی کہانی کا منتقی انجام نہیں بنتا اگر ڈاکٹر بننا کسی کا مسمم ارادہ ھو تو لڑکیوں کے اسکول ختم ھونے سے ارادہ ختم نہیں ھوتا اور سوات سارا پاکستان نہیں ھے۔ کیا اچھا ھوتا اگر آپ ارادے کی جستجو میں آگے بڑھتی ھوئی کہانی کو کسی اچھے موڑ پر ختم کرتیں۔ یہ صرف رائے ھے آگے آپکو جیسے اچھا لگے۔

سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (24-08-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 01-06-09, 03:14 AM   #9
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیا جی اگر اپ سلسلہ وار کہانی کو تسلسل کے ساتھ لکھیں اور مکمل کرنے کا وعدہ کریں تو سرورق پر براہ راست اس کو جگہ دی جائے گی۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 02-06-09, 02:55 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام سدید مسعود جی

شکریہ آپ کے تفصیلی تبصرے کا ۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے صحیح کہا کہانی کا اختتام اور طرح ھو سکتا تھا ۔ مگر میں نے ایسے کیا
آپ کے خیال میں حقیقت میں کتنی کہانیوں کا انجام خوشگوار ھوتا ھے ؟؟
لڑکیاں بہت سے خواب بنتی ھیں مگر کتنے خواب پورے ھوتے ھیں کبھی ذات برادری راستے ھیں آجاتی ھے ماں باپ چاھتے ھوئے بھی اپنی بیٹیوں کے خواب پورے نہیں کر سکتے
میں نے ایک کہانی لکھی تھی جس کا انجام تھا ماں خود حالات سے تنگ آکر اپنے بچوں کو مار دیتی ھے تو میرے بھائ نے مجھ سے بہت بحث کی تھی کوئ اور انجام لکھو کیا حقیقت میں ایسے نہیں ھوتا؟؟؟؟؟ اس ماہ 250 لوگوں نے خودکشی کی ھے انڈین مویز دیکھ دیکھ کر ھم ایسا ھی انجام چاھتے ھیں اور۔۔۔۔ سب ھنسی خوشی رھنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔
مگر دنیا میں ھمیشہ ایسا نہیں ھوتا سچ کڑوی ھوتا ھے اور زندگی بہت تلخ ھے
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (02-06-09), راجہ اکرام (24-08-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 02-06-09, 02:57 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
حیا جی اگر اپ سلسلہ وار کہانی کو تسلسل کے ساتھ لکھیں اور مکمل کرنے کا وعدہ کریں تو سرورق پر براہ راست اس کو جگہ دی جائے گی۔
سلام ۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کہانی کی ابھی دو اقساط لکھی ھیں دو اور لکھ لوں پھر شروع کرونگی پانچ سے سات اقساط ھونگی اس ھفتے تھوڑا بزی ھوں امید کے اگلے ھفتے تک لکھ لوں گی
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (02-06-09), راجہ اکرام (24-08-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 02-06-09, 03:12 AM   #12
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کہانی مکمل ہونے کے بعد براہ راست مجھے ارسال کر دیں میں‌ خود ہی اس کو مناسب طریقے سے سرورق پر پیش کروں گا۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (24-08-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 02-06-09, 03:37 PM   #13
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ھے میں‌نے بات کچھ اور کی ھے اور آپ کسی اور طرف لے گئی ھیں۔ بازار سے ایک گرائمر نما کتاب ملتی ھے ایم اے لیول کی ھے " اردو ادب میں داستان نگاری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری" جب میں نے ان کتب کو پڑھا تو لکھنے کے بارے میں میرے نظریات میں تبدیلی آئی ارسطو اپنی مشہور کتاب بوطیقا میں لکھتا ھے کہ تحریر دو قسم کی ھے المیہ اور طربیہ اور المیہ طربیہ سے افضل ھے یعنی ایسی کہانیان زیادہ اچھی ھوتی ھیں جن کا انجام خشگوار نہ ھو۔ لیکن آپکی کہانی کا انجام آپکے آغاز اور عروج سے مطابقت رکھتا ھو۔ کہانی انسان کے غم کا کتھارسس کرے۔ مثلا اگر ھم ایک کہانی میں‌ شروع میں ھنسنے کی باتیں‌کریں امید کی باتیں کریں اور پھر یکدم ناامیدی اور مایوسی کی باتیں شروع کر دیں تو بقول ارسطو ایسی تحریر میں اثر آفرینی کم ھو جاتی ھے۔ باقی ایک بات اور عرض کر دوں کہانی کہانی ھوتی ھے وہ نہ سارا سچ ھوتی ھے اور نہ سارا جھوٹ بلکہ لکھنے والے کا فن اسے جھوٹ یا سچ بنا دیتا ھے یہی اسکا حسن ھے اور یہ بھی میری رائے نہیں ھے بلکہ اردو کے جید نقاد اور انشا پرداز کہتے ھیں۔ باقی آپکی مرضی میں‌کون ھوتا ھوںآبکے قلم کی روانی کو روکنے والا اللہ آپکو خوش رکھے

سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
Haya 786 (04-06-09), راجہ اکرام (24-08-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 04-06-09, 10:36 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام سدید مسعود جی

شکریہ بہت بہت آپ کا اگر یہ کتاب کا نیٹ پر مل سکتی ھے تو بتا دیں میں ضرور پڑھونگی ۔ میں ابھی سیکھنے کے مرحلے میں ھوں تعریف سے حوصلہ آفزائ ھوتی ھے تو مثبت تنقید سے انسان سیکھتا ھے امید ھے آپ ائندہ بھی رہنمائ کرتے رھینگے
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (04-06-09), راجہ اکرام (24-08-09), شاہ جی 90 (28-07-09)
پرانا 04-06-09, 11:38 PM   #15
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اپکی پہلی قسط سرورق پر لگ چکی ہے۔ میں‌چند دنوں میں دوسری قسط بھی لگا دوں گا۔ میرا خیال ہے کہ 3 دن کے وقفے سے ایک قسط مناسب رہے گی۔ اپ کے پاس جتنی بھی قسطیں‌ہیں‌سب کی سب مجھے بھیج دیں۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (28-07-09)
جواب

Tags
کالج, کتابوں, پہچان, پسند, ورڈ, قید, قرآن, نفرت, نماز, مکمل, موت, ماں, بچوں, تعلیم, جلد, دھماکہ, دیکھو, درخواست, دعا, طالبان, عورت, عبادت, غزل, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:23 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger