واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




محب وطن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-07, 10:16 PM   #1
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
عمر: 29
مراسلات: 14,897
کمائي: 5,560,008,151
شکریہ: 12,384
6,493 مراسلہ میں 15,156 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default محب وطن

محب وطن

محب وطن

تحریر: علی عثمان قاسمی جیو اردو

ملک حیات احمد خان کو کون نہیں جانتا۔کیا آدمی ہیں۔ ان جیسا محّب وطن شخض میں نے یہی دیکھا خصوصاََ جب آج کل کے دور میں ملکی مفادات کاسودا اور حمیعت ملی کے عوض سیم وزَرا اکٹھا کرنے والے جا بجا ملتے ہیں۔جو اپنی نام نہاد دانشورانہ سوچ سے اس ملک کی ہی جٹریں کاٹنے پر تلے ہوئے نظر آتے ہیں جہاں سے کماتے اور کھاتے ہیں ملک صاحب کی حب الوطنیٰ کی نمایاں خصوصیت ان کی گونج گرج سے بھر پور ہے، تلوار کی طرح تیز چمکیلی، جسموں میں ارتعاش پیدا کر نی ان کی تقاریر ہیں۔ یہود بطور اٹمی طاقت یہود کے گھناؤ نے عزم چاک کرتے ہوئے پاکستان کے عالم مفادات کا داعی ثابت کرنے اور اغیار کی دھنوں پر مراثیوں کے طرح ناچنے والی این ۔ جی ۔ اوز کا مکر وہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے ان کی فی البدیہہ تقریر کی شعلہ بیانی سامیعن کو مبہوت کردیتی ہے۔

ہم بیرون ملک مقیم پاکستان ایسے لوگوں سے بہت محبت کرتے ہیںجن کے جذ بو ں میں خلوص چھلکتا ہے اور جو نہ صرف ملک کی دکھتی رگ کوایک ماہر نبض شناس کی طرح جانچ سکتے ہیں بلکہ اس کا مد اوا کرنے کا تر یاق بھی رکھتے ہیں خالی باتوں پر یقین نہیں رکھتے ملک صاحب کی عمر اگر چہ پچپن سال ہے لیکن قابل رشک صحت پائی ہے جوانوں کا سادم خم اور پھرتی ہے گھر گھر اور نگر نگر گھومے ہیں ملک کے چپے چپے کی خاک چھانی ہے۔ انہوں ن اپنی سیاسی جماعت کی جڑیں عوام تک گہری کرنے کے لئے دور دراز کا سفر پیدل طے کیا ہے۔ کوئی لینڈ کر وزر اور مسلم باڈی گارڈ لئے نہیں پھرتے دہیاتوں کے کچے پکے رستوں میں ،غلیظ کیچڑے سے اَئی راہوں میں وہ شلوار کے پائنچے ٹخنوںتک چڑھا کر اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں ایسے میں میں ان کا قائل کیو ں نہ ہوں کہ سیاستدان ہونے کے باوجود کر پشن کی چھینٹ تو دور کی بات ان کے مخالفین ان کی پاکدامنی کا سر عام اور برا ملا اعتراف کرتے ہیں تصور میں ان کی کچھ زمینیںہیں جن کی آمدنی پر ان کا اور ان کی سیاست کا دارو مدار ہے اپنی حصویات کی بنا پر مجھے یوںلگتا ہے کہ میرے ملک کی منجد ھار میں گھر کشتی کو کنارے لگانے کے لئے کسی اسیے ہی باہمت انسان کی ضرورت ہے جو نہ صرف ایمان دار ہے بلکہ کھرا پاکستانی ہونے اور خالصتاََ'' میدان پاکستان''سوچ کی بدولت غیر ملکی قوتوں کا آلہ َ کار نہیں بنے گا بلکہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صرف پاکستان کے مفاد محافظ ثابت ہو گا۔

تارکین وطن پاکستان کو اپنا پروگرام روشناس کروانے اور پارٹی فنڈ کے سلسلے میں امداد اکھٹی کرنے کی غر ض سے ملک صاحب بیرون ملک کے دورے پر تھے اور امریکہ کا ٹور مکمل کرنے کے بعد یورپ آئے۔ ناروے ان کے یورپ کی ٹور کا آخری سٹاف تھا۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، سوئٹرز رلینڈ،ڈنمارک اور سویڈن سے ہوتے ہوئے اور وہاں پر مقیم پاکستانیوں سے متعدد سیمینار، عشائیوں میں شرکت اور ملاقاتوں کے شہر اوسلو پہنچے۔ چونکہ وہ میری ہی دعوت پر ناروے آئے تھے لہذٰامیرے غریب خانے پر ان کا قیام تھا۔ میں نے کہا تھا کہ دبدبہ، شان و شوکت کی انہیں عادت نہیں تھی اگرچہ ان کی شخصیت شاہانہ تھی لیکن طبیعت کی فطری انکساری وعجز کی وجہ سے انہیں میرے چھوٹے سے تین کمروں کے فلیٹ میں رہنے پر کوئی اعتراف، شرزندگی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی ہی چھوٹے ہیں لیکن ملک صاحب کی عظمت کہ وہ کبھی اس بات پر شاکی نہیں ہوئے کہ انہیں فائیورسٹار ہوٹل''اوسلو پلازہ''میں کیوں نہیں ٹھرایا گیا۔ سادگی اور بے تکلفی کا یہ عالم تھاکہ گھر میں شلوار اور بنیان پہنتے تھے۔

مرغن غذا کے بجائے ماش کی دال پسند تھی۔ واھد سیاستدان تھے جو کرسی پر بیٹھنے کے بجائے دیہاتی انداز میں زمین پر چوکڑی مار کر بیٹھنے کو تر جیح دیتے تھے۔ بچوں سے دو دن گل مل گئے۔ مجھ سے کہنے لگے۔

''آپ نے مجھے گھر میں ٹھراکر برامان دیا ہے۔ یہ تو با لکل گھر والی بات ہوگئی۔ پچھلے ایک مہینے سے ہوٹلوں میں رہ رہ کر تنگ آگیا تھا، اپنائیت کا احساس دلوادیا آپ لوگوں نے اور وہ بھی میرے سوہنے ملک سے ہزاروں میل دور ہیں برف پوش جنت ہیں ۔''

سچی بات تو یہ ہے کہ میں دل میں ڈرا ہوا تھا اور خفت بھی محسوس کرتا تھا کہ اتنی اعلیٰ شخصیت، جن کی میں تہہ دل سے عزت بھی کرتا ہوں، ان کے قیام کا بہت اعلیٰ بندوبست نہیںکر سکا لیکن یہ بھی میری عقیدت تھی کہ میں نے ان کا ٹکٹ سپانسر کیا، اگرچہ میں بہت مال دار نہیں اور اوسلو میں رہائش پذیر ہوئے کچھ زیادہ برس نہیں گزرے، ٹیکسی چلاتا ہوں لیکن ملک صاحب جب تک مہمان رہے میں کام پر نہیں گیا تاکہ پوری دلجمعی کے ساتھ ان کی خدمت کر سکوں یہ بھی ایک قسم کااضافی خرچہ تھا جو بطور میزبان میں اٹھارہاتھا اگرچہ ملک صاحب مجھے اکثر کہتے کہ میں اپنے کام کا ہرج نہ کرو ں اور انہیں یا ترام پر سفر کرنے دوں لیکن اتنی بد اخلاقی کا مرتب میں ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔ اور ویسے بھی تین دنوں کی بات تھی اور پھر ملک صاحب نے واپس چلے جانا تھا۔ وہ چوبیس بیس سالوں سے یہاں رہ رہے تھے اور پاکستانیت کا پر چار کرتے ان کی زبان نہیں تھکتی تھی۔ دمڑی ہاتھ سے نہیں چھورتے تھے۔ ٹکٹ دے کر میں نے بلوایا، سیر بھی کر وائی اور جب تقریبات منعقد کروانے کی باری آئی تو سب سے پہلے آگے بڑھ کر صاحب کے ساتھ تصویریں کھنچوانے آگئے۔

ملک صاحب نے پورے امریکہ اور یورپ کے ٹور میں کلف شدہ شلوار کرتے پہننے نہیں چھوڑتے تھے پاؤں میںپشاوری چپل اور سر پر جناح کیپ سے ان کی تمکنت سے اضافہ ہوتا تھا۔ لمبا قد، چوڑا بازو، چہرے پر گھنی شاہانہ مو نچھیں، موٹی موٹی بھنویں، قدری ابھری ہوئی ناک اور خضاب زدہ کالے سیاہ بال کے علاوہ ان کی کف کھلی نہیں اور سخت گیرآنکھیں دیکھنے والوں پر ایسارعب طاری کرتی ہیںکہ لوگ آنکھیں ملانے کا حوصلہ نہیں پاتے۔ پوری شخصیت میں سخت گیری کا عنصر نمایاں ہے لیکن کہی بھی جابرانہ نقوش نہیں جھلکتے۔ ان کی سخت گیری میں قوم کے دکھ، اور مسائل کا بارِِگراں ضم ہوکر نس نس میںدوڑتا ہے جس کی تلخی اورکرواہٹ کا ذائقہ اپنی زبان پرمحسوس کرنے کے بعدان کے چہرے میں تناؤ آگیا ہے اور چہرے پٹھے کھچے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔

مختلف تقریبات میں ان کے ساتھ شرکت کا موقع ملا۔ اپنی تقاریر سے انہوںنے سماں باندھ دیا۔لوگوں کی پر جوش نالیاں ختم ہونے کو نہیں آتی تھیں ،اگرچہ ٹھیٹھ پنجابی تھے لیکن اردو زبان کے الفاظ کے ساتھ ایسا کیھل کھیلتے تھے کہ سننے والوں کی سانسیں گرم اور خون ابلتا ہوا محسوس ہونے لگتا تھا۔

یہ سب باتیں بتانے کے بعد اس حقیقت سے بھی انحراف ممکن نہیںکہ کسی شخص کے عادات وخصائل کا صیحح پتا اس وقت چلتا ہے جب آپ اس کے ساتھ چھت تلے وقت گزارتے ہیں چاہے کچھ عرصے کے لئے ہی سہی یہ شایدمیرا جذباتی اندھا پن تھا یا میں عقیدت کی رو میں بیٹھ کر ملک صاحب کو کو ئی مافوق الفطرت فرشتہ سیرت شخص سمجھ بیٹھا جو ہر برائی دور سے بھاگتا ہے اور جس دل قوم کے غم میں ہی چراغ مفلس کی طرح اتنا بجھا رہتا ہے کہ زندگی کی رنگینیوںمیں پڑنے کا نہ شوق باقی رہتا ہے نہ ہی شغف۔ اپنے گھر میں ٹھرانے کے لئے میںنے ان کو بچوں کا کمرہ خالی کروایاتھا۔رات کو سونے سے پہلے ان کے پاس آیا تاکہ پوچھ لوں کہ کسی اور چیز کی تو ضرورت نہیں۔

''بس جناب ایک گلا س اور آدھی بوتل لا دیجئے گا۔ سفر کی رکان اتارنے کے لئے کچھ پینے کو دل رہا ہے۔''وہ بالکل پر سکون، نارمل انداز میں بولے جیسے ان کا روئے سخن شراب نہیں پانی کی بوتل کی طرح ہے کچھ لمحوں کے لئے تو میں دم بخود کھڑا رہ گیا۔

مجھے حیرت زدہ دیکھ کر ملک صاحب کو چنداں حیرت نہیں شاید ان کے اتنے پاکستانی میزبان یہ فرمائش سن کر حیران ہوتے تھے کہ اب وہ اس کے عادی ہو چکے تھے آنکھیں موند کر بستر پر لیٹ گئے میں فرج میں سے شراب کی بوتل نکالنے لگااس مقصد کے لئے ایک چھوٹا سا فرج میرے بیڈ روم میں تھا جسے میں ہمیشہ تالہ لگا کر رکھتا تھا تاکہ بچوں کی اس تک رسائی نہ ہو سکے۔ خود تو کبھی کبھار ہی پیتا تھا، زیادہ تر مہمانوں کو سرو کرنے کے لئے دو چار بوتلیں سٹاک میں رکھنا پڑتی تھیں ایک تو اوسلو کا موسم ایسا سرد ہے کہ سال کی تو آٹھ ماہ برف باری ہوتی ہے شراب تو ایک جغرافیائی ضرورت ہے۔ جسم کو حرارت ملتی ہے۔دوسرے یہاں کا ماحول بھی ایسا ہے اگر شراب نہ پئیںتو دوستوں کے ساتھ نجی محفلوں میں آپ گھل مل نہیں سکتے۔

ملک صاحب کی عزت میرے دل میں بس اتنی کم ہوئی کہ وہ دیوتا کے مرتبے سے ایک بہت ہی اعلیٰ انسان اور محبّ وطن پاکستانی کے درجے پر فائز ہو گئے۔ ان کے ساتھ وقت خشگوار گزرا خصوصاََ کہ میں یہ محسوس کرنے لگا تھا کہ وہ اوتارنہیں میری طرح انسان ہیں جو غلطیاں بھی کر سکتا ہے اور تضادات کی انسانی سر شت بھی ان میں شامل ہے۔

ایک تقریب میں انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پرایسی دھواں دار تقریر کی کہ خواتین کی آنکھیں پرنم ہوگئیں لوگوں کی جذباتی وار فنگی دیکھنے لائق تھی کیونکہ ان کے نزدیک وہ ابھی ابھی مقدس رتبے پر فائز تھے اور میرے نسبتاََ کم پر جوش ہونے کی وجہ شاید ی تھی کہ میں انہیں اپنے سے بہتر انسان محسوس کرتا ہوں جو میرے ملک کے لئے اچھا کرنے کا خالص جذبہ رکھتا ہے لیکن اپنے سے بلند تر یا کوئی آسمانی درجہ دل میں نہیں رکھتا تھا۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان سے نا امید یا مایوس ہوگیا تھا بلکہ میں تو ہمیشہ اس کلئے کا قائل رہا ہوں کہ انسان کے اچھے پہلو نظر میں رکھنے چاہئیں، برے نہیں ملک صاحب کے اچھے پہلوؤں اور ان کی برائیوں اور کمزوریوں کا موازنہ پہاڑ اور روئی گولے کے وزن کا موازنہ کرنے کے مترادف ہے۔ شراب پینا بڑی عادت سہی لیکن پھر بھی ملک صاحب ان لوگوں سے حد درجہ بہتر تھے جو داڑھیاںرکھ کر نچلے درجے کی سیاست کرتے ہیں اور وہ سیاستدان جن کی داشتاؤں کا تا حساب نہیں لیکن نعرہ اسلام کا لگاتے ہیں۔

میرے لیے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ وہ نماز کے کتنے پابند نہیں ؟َایک تو سفر کی مشکلوں اور تعاون کی وجہ سے نماز کی عادت چھوٹ جاتی ہے اور دوسرے ناروے جیسے ملک میں خاص طور پر جہاں دن چڑھنے اور ڈھلنے کا پتا ہی نہیں چلتا،صرف گھڑی کی سوئیاں دیکھ ہر ایک نے اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق رات دن کے اوقات طے کر رکھیں، عشاء وفجر کی نماز میں محض چند گھنٹوں کا فرق ہو، پانچ وقت نماز قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے اتنے سالوں سے وہاں رہنے والے لوگوں کے لئے نماز کی اس شیڈول میں خود کو دھالنے میں مشکل ہوتی ہے تو دن کے مہمان سے کیا امید رکھی جائے کی وہ باقاعدگی سے نماز پڑھے گا،خصوصاََ جبکہ میرا گھر بھی اوسلو کے مضافات میں ہے جس کے ارگرد کوئی مسجد بھی نہیں کہ اذان کی آواز ہی سناء دے سکے۔

مجھے کچھ اتنااچھا نہیں لگتا تھا جب ملک صاحب خوامخواہ تو جیہات پیش کر کے اپنی شراب نوشی کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

''یہ تو میں صرف خون کو رواں رکنھے کے لئے پیتا ہوں۔اس سے خون کی سپلائی باڈی میں چپے چپے تک پہنچی ہے۔''ملک صاحب نے شراب پینے کا طبی عذر بیان کیا۔''اور پھر آپ کے سارے عظیم شعراء بھی تو شراب پیتے تھے۔ ملت اسلامیہ کا دردر رکھنے والے قوم کی زبوں حالی پر خون میں ڈولی ہوئی نظموں میں خالق ،سب شراب کے رسیا تھے۔

پینے سے ہی تو زہن چالو ہوتا ہے اور غم کی لذت سے آشنائی ہوتی ہے۔ اس لئے ساری اچھی شاعری شراب کے زیر اثر لکھی گئی ہے۔'' یہ ملک صاحب شراب پینے کا اخلاقی جواز پیش کر رہے تھے۔ روانگی سے ایک دن قابل میں ان کو شاپنگ کروانے کے لئے بازار لے گیا۔ اوسلو کی مشہور واکنگ اسڑیٹ کار ل یو ہان گاتا پر خوب رش تھا موسم گرما کے دن تھے اور چمکیلی دھوپ کے ایسے دن کم ہی نصیب ہوتے تھے لہذٰا مردوز ن منتصر لباس میں وا ک کر رہے تھے تاکہ سارج کی حد ت کو اپنی جلد پر محسوس کر سکیں ملک صاحب بغور ہر آنی والی کڑکی کے سراے کا جائز ہ لیتے میں نے ملک صاحب کا اشتیاق دیکھا تو سوچا ان کی حقیقی تفریحی کرواروں۔

''آئیں ملک صاحب میں آپ کی بگ ڈوئی کے Nude Keachپر لے چلتا ہوں۔ آج خوشگوار موسم ہے وہا ںخوب رش ہوگا۔'' ملک صاحب فورا تیا ر ہوگئے۔ ویسے بھی اوسلو میں شاپنگ کا ان کا خاص ارادہ نہیںتھا۔ امریکہ یورپ سے خاصاسامان لاد لائے تھے۔لوگوں نے ترت سے تحائف دیئے تھے۔ اور پھر اوسلو بہے مہنگا شہر ہے۔ ٹہکسوں کی شرھ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ میرے بے ھد اصرار کے باوجود وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں انہیں کوئی چیز خرید کر دوں۔ کہتے تھے کہ پہلے بھی بہت بوجھ بنے ہوئے ہیں مجھ پر یہ بھی ان کی اعلیٰ ظرفی تھی ورنہ پاکستان سے آسے والے ہر مہمان کا مزاج اس سے یکسر مختلف ہوتا تھا۔ اوروہ میزبان سے تحفت تحائف وصول کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔ملک صاحب کا تو یہ خیال تھا کہ میں انہیں ہولمن کولن لے گیا۔ جہاں دنیا کی سب سے بڑی (Ski)سکی جمیپ ہے وہاں ایک ریسٹورنٹ میں چائے پینے گئے تو ملک صاحب بل دینے کے لئے مجھ سے باقاعدہ لڑپڑے۔ اسی طرح میں انہیں ددیمن کی سرنگ،جو پہاڑوںمیں کاٹ کر بنائی گئی ہے، دکھانے لے گیا تو وہ بضد تھے کہ وہاں پہاڑی کے نزدیک واقع ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر آئسکریم کھائی جائے بشیر طیکہ بل وہ ادا کریں گے۔

ساحل پر پہنچ کر ملک حیات ایک ہی جگہ قطار درقطار لیٹے ہوئے برہنہمردوں اور عورتوںکو دیکھ کر بوکھلا سے گئے۔ ویسے تو بارز اور نا ئٹ کلبوں میں گھومے تھے ، نوپ لیس ویڑس سرو کرتے تھیں ، لیکن اتنی بڑی تعداد میں برہنہ لوگ انہوں نے شاید پہلی بار دیکھے تھے۔ کسی بیچ پر جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا لیکن پھر جلد ہی سنبھل گئے اور? انجوائے کرنے لگے۔ میں کچھ حیران ہوا میرا خیال تھا کہ وہ مجھے اسی بے ہودہ جگہ پر لانے پر خفگی سے ڈانٹیں گے لیکن ان کے چہرے کے تا ثرات سے یوں لگتا تھا کہ یولمن کولن ، ددیمن للے، ہامر ، دؤفوک میوزیم اور شاپنگ سنٹر ز کی سیر کروا کر تومیں پہلے جھک ہی مارتارہاہوں۔ شاید فرونسز پارک کے ننگے مجسمے بھی انہیں متاثر نہیں کر سکے تھے کہ وہ تو سنگ وخشت کے بے جان مرقع تھے بگ ڈوئی کر ان کے چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا کہ آج لایا ہوں انہیں صیحح جگہ پر جو ان کے کا م کی ہے اور ذوق سے مطابقو رکھتی ہے لیکن پھر انہیں اساس ہوا کے برہنہ لیٹے ہوئے یہ لوگ ان کی نظروں کا برا منا رہے ہے ان پر کوئے ٹکٹ تو نہیں لگتی تھی جسے خرچ کر ان کے جسموں کے مشاہدہ کرنے کا ان کا حق تھا ،اتنے سارے ننگوں میں دو شخص پورے لباس میں اور جن میں سے ایک نے ان کی نظر میں مضحکہ خیز کا ایپرن نما لباس پہن رکھا ہے ۔ ایک عجیب سی صورت حال پیدا کر رہے تھے ۔ مجھے کہنے لگے ۔ ''میاں میرا خیال ہے یہ لوگ برا مان جائے گئے ۔ عجیب بات ہے پورا لباس پہننے پر برا مانیں گے ۔چلو ساحل کے دوسری طرف چلیں 'وہاں بکنیاں والی نظر آئی ہیں۔''

ملک صاحب کی رنگین مزاج طبیعت کا مزید اندازہ روانگی کی رات کو بار میں ان کے قصے سن کر ہوا۔ شراب کی چسکیاں لیتے ہوئے وہ مجھے لندن میں گزاری رنگین شاموں کا احوال سنانے لگے۔ کل دوپہر ان کی پاکستان واپسی تھی اور شاید واپسی سے پہلی کھلی شراب آزادانہ طور پر پینے کا آخری موقعہ تھا۔ لہذا دو چار پیگ زیادہ ہی چڑھا گئے اور سر مستی کے عالم میں آگئے۔ میں البتہ کنٹرول ریٹ پر شراب پی رہا تھا کیونکہ مجھے بہر حال بعد میں ڈرائیونگ بھی کرنا تھی۔ ڈر تھا کہ اگر کثرت مے نوشی کی بناء پر چالان ہو گیا تو ٹیکسی چلانے کا تو کیا ڈرائیونگ کا لائسنس ہی کینسل ہو جائے گا اور پھر بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ویسے بھی میں کونسا کل پاکستان بھاگا جا رہا تھا کہ شراب کے لئے اس قدر بے صبری کا مظاہرہ کرتا۔

بات کا رخ موڑنے اور ملک صاحب کو سنجیدہ گفتگو کی طرف مائل کرنے کی غرض سے میں پاکستان کے مسائل کی بات چھیڑدی۔ نشے میں کسی سے سنجیدہ بات کرنے کی امید رکھنا عبث ہے اور یہ میری غلطی تھی کہ میں نے ملک صاحب کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

ملک صاحب۔ آپ اس ملک کا نظام دیکھیں۔ ناروے کا وزیراعظم عام لوگوں کی طرح گھومتا پھرتا ہے' سائیکل پر سواری کرتا ہے۔ کوئی دربان اٹھ کر اس کے لئے دروازہ نہیں کھولتا۔ 20 گاڑیاں ہوٹر بجاتی ہوئی اس کے آگے پیچھے نہیں دوڑتیں، عوام اتنے سفاک اور کڑے محتسب ہیں کہ حکمران خدمت شعاری کے علاوہ خوف کے جذبے سے بھی کسی غلطی کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ہر کسی کو معاشی تحفظ حاصل ہے، بچہ پیدا بعد میں ہوتا ہے پہلے اس کا وظیفہ جاری ہوتا ہے، دودھ کے ڈبے سے لیکر اعلی تعلیم کے اخراجات کی ذمے داری حکومت کی ہے، بے روزگاروں کو ماہانہ وظیفہ پاتا ہے' مکان کا کرایہ تک ملتا ہے۔'' ملک صاحب سر ہلا کر میری بات سنتے رہے ایسی باتیں وہ پاکستان میں بالعموم اور بیرون ملک پاکستانیوں کے منہ سے بالخصوص سننے کے عادی تھے لہذا چہرہ جذبات سے عاری رہا۔

''بس کیا کریں۔ ہمارے سوہنے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ان سیاستدانوں اورمخصوص مفاد پرست عناصر نے۔ لوٹ اور نوچ نوچ کر اس کے جسم کو پیپ پڑنے والے زخموں سے بھر دیا ہے۔

ان ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک صاحب نے گندی سی گالی دیتے ہوئے کہا لمحے میں کڑواہٹ اور آنکھوں میں نفرت کے طوفان کے جھکڑے چل رہے تھے۔ ہمارے ہاں دراصل پاکستانیت کا فقدان ہے۔ اہل اقتدار میں بھی اور عام لوگوں میں بھی۔ ان قوموں نے ترقی کیوں کی ہے؟ اس لئے کہ ا ن کے اعلی ترین افسر سے لے کر ایک طوائف تک محب وطن ہے۔ سچی حب الوطنی پائی جاتی ہے۔ محض جذباتی نعروں تک محدود ڈھونگ رچانے کے لئے۔ مخلص محبت ہے ان کے دل میں اپنے ملک کے لئے۔ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں آپ کو یقین نہیں آئے گا یہ لوگ کس حد تک حب الوطن ہیں۔'' میرے خیال میں ملک صاحب اگر اس شراب کے نشے میں چور نہ ہوتے تو شاید یہ واقعہ نہ سناتے۔ یا پھر توڑ مروڑ اور ردو بدل کر کے سناتے۔

''میں لندن میں تھا تو میرے ایک نیاز مند مجھے اسٹرپ کلب میں لے گئے' جہاں پر ننگی لڑکیاں ناچ رہی تھیں، ملک صاحب کے اسٹرپ کلب جانے کا تذکرہ سن کر میری دلچسپی میں اضافہ اور حیران ہونا لازمی تھا ''وہاں لڑکی ناچ رہی تھی اور ایک ایک کر کے اپنے بدن سے کپڑے علحیدہ کر رہی تھی اس نے انگلی کے اشارے سے میرے دوست کو اپنے طرف متوجہ کیا اور اسے کہا کہ میرے تنگ اور پھنسے ہوئے بلائوز کا ہک کھول کر اسے اتار دو اتنے سارے لوگ تھے وہاں پر۔ کلب بھرا پڑا تھا۔ قہقہے لگ رہے تھے' سگریٹ کے دھوئیں سے آنکھوں میں جان تھی اور اونچی آوازمیں موسیقی کان پھاڑ رہی تھی۔ اتنے سارے لوگوں میں اتنے بے ہنگم ماحول میں یہ سعادت صرف میرے دوست کے حصے میں آئی تھی۔ شو ختم ہونے کے بعد وہی لڑکی ہمارے ٹیبل پرہمارے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔

''میں نے کہا آپ بہت اچھا پرفارم کرتی ہیں۔ اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پنجابی لہجے میں۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ میرے دوست سے پوچھنے لگی کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ اپنی تعریف اورمیری انگریزی سن کر بہت خوش ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک صاحب نے اپنا پانچواں پیگ ختم کیا اور اگلے کا آرڈر دیا چہرے پر دوبارہ سنجیدہ تاثرات طاری ہوگئے۔

''باتوں باتوں میں' میں نے اس سے پوچھا آپ کا نام کیا ہے؟ کہنے لگی اینی نام ہے میرا۔''
''آپ برٹش ہیں' میں نے پوچھا''۔
''نہیں۔ جانتے ہو وہ یکایک سنجیدہ ہو گئی۔''
''تو پھر کس ملک سے تعلق ہے؟ میں نے کریدتے ہوئے پوچھا۔ ویسے ہی' مجھے کیا شوق تھا اس کے ملک کا نام جاننے کا' بس ویسے ہی بات چیت بڑھانے کے لئے پوچھ رہا تھا۔
''نہیں میں اپنے ملک کا نام نہیں بتائونگی۔ اس نے ہونٹ بھینچ کر اپنے نیم عریاں بدن پر نگاہ ڈالی اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔''
ملک صاحب قصہ ختم کرنے کے بعد اپنے سامنے پڑے شراب کے خالی مگ کی طرح خالی خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھنے لگے۔

''بس یہی فرق ہے۔ ہم لوگوں میں پاکستانیت نہیں ہے۔ ان لوگوں کی تو طوائفیں بھی ہم سے زیادہ محب وطن ہیں''۔ ملک صاحب بھرائی ہوئی آواز میں بولے۔ ''کیا ملک ہیں' کیا لوگ ہیں اور کیا حب الوطنی ہے۔ ایک طوائف بھی ملک کی عزت کی پاسداری کرتی ہے۔ آہ۔ ایک طوائف تک ہم سب سے زیادہ حب الوطن ہے۔''

ملک صاحب بات ختم کر چکنے کے بعد خاموش رہے۔ اور پھر کچھ لمحوں بعد آنسو ٹپکنے اور رونے کا سلسلہ شروع ہوا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے ساون بھادوں کی جھڑی لگ گئی ہو۔
__________________
محمدعدنان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
champion_pakistani (11-04-08), Real_Light (11-04-08), منتظمین (22-11-07)
پرانا 22-11-07, 03:07 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: محب وطن

بہت ہی خوب تحریر ہے اور آج کل کے حالات کے پس منظر میں تو بہت اچھی جچ رہی ہے۔


والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 11-04-08, 02:10 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,923
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: محب وطن

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر

بہت معیاری شئرنگ ہے

امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے
خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے

رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 11-04-08, 02:32 PM   #4
Senior Member
 
champion_pakistani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2007
مقام: چاندنی چوک
عمر: 24
مراسلات: 1,857
کمائي: 19,016
شکریہ: 684
655 مراسلہ میں 1,172 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: محب وطن

بہت معیاری شئرنگ ہے
شکریہ!
champion_pakistani آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 11-04-08, 02:34 PM   #5
Senior Member
 
TapalDanaDar's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 583
کمائي: 3,606
شکریہ: 194
226 مراسلہ میں 384 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: محب وطن

السلام علیکم
بہت ہی عمدہ شئرنگ ہے۔
TapalDanaDar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیراعظم, قصہ, لندن, لمحوں, نفرت, چور, نماز, ناروے, نظر, مسجد, آج, ایمان, امریکہ, بچوں, تلاش, تحریر, تعلیم, خواتین, راستہ, شاعری, علی, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:52 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger