|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
جہاں اوشا کا بھائي رہتا تھا وہ جگہ شہر سے بالکل الگ تھلگ تھي تيس ہزاري سے دور آگے ايک پہاڑي سي تھي اس کے نيچے کچھ کوارٹرز رائے بہاردر موہن لال نے دو دو کمروں کے بنواکر بے لوگوں پر بڑا احسان کر رکھا تھا، کوارٹروں کے بالکل پاس سے ايک سڑک کتوں کے ہسپتال کو جاتي تھي، اگ رچہ اس ميں کتون کا نہيں بلکہ کتے کے کاٹے انکا علاج ہوتا تھا، کوارٹروں کے بالکل مقابل ايک پتي ستي ہنو مان جي کا مند تھا،آس پاس سے يا ان کوارٹروں ميں سے کوئي بھي مندر ميں نہيں جاتا تھا، حالانکہ ان کو کواٹروں ميں رہنے والے سب ہندو تھے،خدا جانے وہ اس مندر ميں کيوں نہيں جاتے تھے، ليکن شہر کے بيچ بسنے والے دھني سيٹھ اکثر وہاں بھينٹ چڑھانے آيا کرتے تھے، ہر منگل کے دن خاصہ ميلہ سا لگ جاتا، کہتے ہيں کہ مندر کے باورام کشن جي بھگوان کو پہنچتے ہوئے تھے، اور وہ منہ مانگي منتيں ديتے تھے، خاص کرجن سيٹھ ساہوکاروں کے گھر اولاد نہيں ہوتي تھي، بس ايک چٹکي راکھ کي اس پر بات تو دھرم کي يہ تھي کہ باوارام کي يہ تھي کہ بادام کشن دب بھر کشن دن بھر ہنو مان جي کے مندر کے ساتھ والي کوٹھري ميں رہتا تھا وہ اکيلئے ميں عورتوں کا منہ نہيں ديکھنا چاہتا تھا، کيونکہ عورت گناہ کي جڑ اور مايا کا روپ ہوتي ہے، اس لئے بے چاري عورتوں کو راکھ کي چٹکي لينے اس اندھيري کو ٹھري ميں جانا پڑتا تھا باواجي ان کا منہ ديکھتيں نہ عورتيں ان کا، قدرت خدا کي چٹکي ميں اتني کرامت ہوتي تھي کہ سيٹھانيوں کي گود ميں پورے نو ميہنے کے بعد ايک تندرست بچہ کھيلنے لگتا، عورتيں ہاتھ جوڑ کر کہتيں دھن دھن باوارام کشن جي سو برس جئيں۔
ہنو مان جي کي مورتي سے زيادہ باوارام کشن جي کي پوجا کي جاتي تھي، عورتيں آرتي اتارتيں قيمتي چڑھاوے چڑھاتيں باجے گاجے کے ساتھ چاندي کے چھتر باوارام کشن جي کيلئے لے کر آتيں، بھجن منڈيلاں باوارام کشن جي کے گيت گانے بلائي جاتيں جو گاري بجاتي کواٹروں کے سامنے گزرتي تھي، اس لئے کواٹروں ميں رہنے والوں کو کافي وقت محسوس ہوتي تھي، وہ ہر وقت اپنے دروازے بند رکھتے جو زرا کھاتے پيتے تھے انہوں نے دروازوں پر حقيں لٹکالي تھيں، اوروں نے ٹاٹ کے پردے وہ نہيں چاہتے تھے کہ سڑک سے يہ گزرتا ہوا ہجوم گھر ميں بيٹھي ہوئي ان کي ہوروں کو ديکھے دوسرے انہيں باوارام کشن جي کي انمول چکٹي کي کوئي ضرورت نہيں تھي، ان کي عورتيں آگے ہي بچے دينے ميں ايک دوسرے کا ريکارڈ توڑنے پر تلي ہوئي تھيں۔ اوشاکا کا بھائي انبالے سے تبديل ہوکر دلي آيا تھا،ايک تو پچاس روپے تنخواہ ديں اس پر اتنا بڑا کنبي روٹي ہي مشکل سے چلتي تھي تو بيچارہ چقيں کہاں سے لاتا، اوشاکا کي ماں بھي ہر وقت دروازہ بند رکھتي، اس گھٹے گھٹے ماحول ميں اوشاکاجي کا جي گھبراتا ليکن ماں کہتي بيٹي پرديس کا معاملہ ہے، سڑک کے کنارے گھر ہے، جتنا پردہ ہو اتنا ہي اچھا ہے، اوشاکا خاموش ہوجاتي ان کواٹروں کے پچھواڑے کي طرف تو کوئي آتا جاتا نہيں پھر نہ معلوم کيوں ان لوگوں کو اندھيرے ميں رہنا پسند ہے۔
__________________
![]() |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کچھ ہي دنوں کے اندر اوشاکا کا دل اچاٹ ہوگيا، وہ سوچتي يہ گھر ہے جيل خانہاس کا دل چاہتا کہ ان بند دروازوں کو توڑ ڈالے کسي سےبات کرے، کسي سے کھيلنے کبھي کبھي اسے بھائي پر بڑا غصہ آتا کہ وہاں سے کہيں گھمانے کيوں نہيں لے جاتا، ليکن اس کا بھائي کرتا بھي کيا، صبح آٹھ بجے دفتر جاتا رات کو دير سے گھر آتا، بے چارے کو کپڑے تک بدلنے کا ہوش نہيں رہتا تھا، پھر بہن کو سير کيسے کراتا۔
شام کا وقت تھا، اوشاکا جي بہت اداس تھا، اس نے اوڑھني سنبھالي اور يوں ہي مکان کے پچھواڑے چلي گئي اس کي حيراني کا ٹھکانہ نہ رہا جب اس نے ديکھا کہ ايک کمرے پر سے چق اٹھي ہوئي تھا اور ايک خوبصورت لڑکي سفيد ساتھي پہنے کھڑي نظر آرہي تھي پھر اس کي حيرت خوشي ميں تبديل ہوئي اس کا جي چاہا کہ اس لڑکي سے بات چيت کرے، يوں تو ان کواٹروں ميں اور بھي بہت سي لڑکياں تھيں، ليکن نہ معلوم کيوں اوشاکا کا دل ان سے گھبراتا تھا، وہ لڑکياں دن بھر يونہي اونٹ پٹانگ باتيں کرتي رہتي تھيں، ليکن يہ لڑکي اوشاکا کو ان سب سے مختلف لگي، لڑکي اس کو ديکھ کے مسکرائي اوشاکا بھي مسکرادي، پھر دونوں ايک دوسرے کے نزديک آگئيں۔ لڑکي بولي ميرا نام ايملي ہے ہم لوگ ابھي پندرہ دن ہوئے اس کواٹر ميں آئے ہيں، پہاڑ گنج گونمنٹ اسکول ميں ٹيچر ہوں، اوشا نے کہاں ميں نے پہلے کبھي آپ کو نہيں ديکھا، آپ اسکول سے گھر کسي وقت لوٹتي ہيں؟ شام چار بجے ميرا اسکول چھٹتا ہے اور پھر ميں ٹيوشن کرنے چلي جاتي ہوں ايملي نے جواب ديا، تو پھر آپ رات کو گھر لوٹتي ہونگي، جي ہاں کوئي آٹھ بجے کے قريب، اس تھوڑي سي بات چيت ہي دونوں ايک دوسرے کے قريب آگئيں، ايملي کارنگ بہت صاف تھا، رخسارگلابي اور جسم گداز، اس کے حسن ميں صبح بنارس کي دلکشي تھي اور ہونٹوں پر ہر وقت ايک مسکراہٹ کھيلتي تھي، اس سے آنے سے ان کواٹروں ميں بسنے والے نوجوان کي تو مانو کايا پلٹ گئي تھي، اب چقوں اندر زندگي حرکت کرنے لگي، اور چقین بھي ہر وقت پڑني نہيں رہتي تھيں، ہر نوجوان سليقے سے کپڑے پہنتا روز قہقہے لگانا اور ہميشہ بال سنوارنے کے گھر سے باہر نکلتا، جب وہ صبح پڑھانے اسکول جاتي تو اکثر نوجوان اس کے استقبال کيلئے کھڑے ملتے، آہيں بھرتے سيٹياں بجاتے ايک دوسرے کے گلے ميں باہيں ڈال ديتے ليکن ايملي دوسري لڑکيوں کي طرح ان نوجوانوں کو ديکھ کر جھجکھتي نہيں تھي، وہ بے نيازي سے گزرجاتي ، اس سے ان کے تن بدن ميں آگ لگ جاتي وہ سمجھتے کہ عيسائي لڑکياں چٹکياں بجاتے بغل ميں آجاتي ہيں وہ چلاتے ذات کي عيسائي اور نخرے ديکھو اور پھر دھيرے سے کہرے حرام زادي۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کواٹروں ميں رہنے والے ہندو بوڑھے اس عيسائي فيملي کے آجانے سے بہت ناخوش تھے اس سے ايک طرف تو انہيں اپنے لڑکوں کے بگڑ جانے کا انديشہ تھا اور پھر چھوٹ چھات کے بڑے قائل تھے، ان کي عورتيں ہميشہ ساڑھي کو پنڈالي پر سے اوپر اٹھا کر چلتي تھي کہ کسي ناپاک چيز سے ان کا دامن نہ چھوجائے، چاہے جسم ننگا ہو ليکن چھوت چھات زندہ باد، ايملي کي ماں بھي کون سي کم تھي، وہ خود بھي ہندو، مسلمان اور حيراني کي بات تو يہ کہ عيسائيوں سے بھي ميل ملاپ نہيں رکھتي تھي، کسي برادري والے کو اپنے خوند جا حقہ پينے نہيں ديتي تھي، اگر کوئي چيز بھولے بھٹکے پڑوس سے آبھي جاتي تو وہ بچوں کو کھانے نہيں ديتي، ايک کونے ميں رکھ ديتي اور جب حلال خور آتا تو اسے دے ديتي، وہ ہر وقت يہ جتانے کي کوشش ميں لگي رہتي کہ تم لوگ کون ہوتے ہو پرہيز کرنے والے ميں خود تم لوگوں سے ملنا نہيں چاہتي اور نہ پسند کرتي ہوں، بات دراصل يہ تھي کہ ايملي کي ماں ذات کي برہمن تھي چھوت اچھوت پر ايمان رکھنے والي کڑ برہمن پھر پچپن ہي ميں وہ ايک برہمن سے بياہ دي گئي ليکن خدا کو کچھ اور ہي منظور تھا، جواني ميں ايملي کے باپ پر وہ بري طرح ريجھ گئي اور براہمنوں کي تاريخي چھت چھات ہٹ دھرمي اور نفرت دھري کي دھير رہ گئي، اور وہ گھر چھوڑ کر اس اچھوت کے ساتھ بھاگ کھڑي ہوئي اور خود بھي عيسائي بن کر اچھوت ہوگئي تھي،
ايملي اور اشاکا کي آپس ميں خوب گہري دوستي ہوگئي، جب بھي وقت ملتا وہ سر جوڑ کر بيٹھي رہتيں باتيں کرتي رہتيں تھيں، جب سے ايملي نے اوشاکا کو بتايا تھا کہ آج چھ سال سے نوکري کرکے وہ اپنے ماں باپ کا پيٹ پال رہي ہے، تو اوشاکا کے دل ميں اس کيلئے ہمدردي اور قدر پيدا ہوگئي، ليکن محلے والے ان کي دوستي سے جلنے لگے، وہ کہتے کہ آخر لڑکي کے ساتھ اتنا اٹھنا بيٹھنا کيوں؟ بات دراصل يہ تھي کہ ايملي اور کسي سے بھي بات نہ کرتي تھي۔ يوں ہي کچھ دن بيت گئےمحلے والے پہلے سے بھي زيادہ ايملي سے جلنے لگے، طرح طرح کي بے تکي باتيں کر کرے اسے بدنام کرتے پھرتے خاص کرکے ساتھ کي کوٹھي کے جج صاحب تو بہت ہي باتيں بناتے، کيونکہ ان کو بڑا دکھ تھا کہ ايملي ان کي طرف نگاہ اٹھا کر کيوں نہيں، انہوں نے کتني بار ايملي کو پھولوں ميں لپيٹ کر تحفے بھيجے ليکن ايمليي نے ہميشہ واپس کر دئيے اس پر ان باتوں کا قطعي اثر نہ پڑتا تھا، اسے وہ اپني سخت توہين سمجھتے اور اپنے غصہ کو ايملي کو گندي گندي گالياں بک کر ٹھنڈا کرتے پھر انہوں نے سوچ بچار کر ايک اور راستہ سوچا وہ ايملي کے والدين سے تعلقات بڑھانے اس کے گھر جا کے اٹھنے بيٹھنے لگے، اس طرح وہ آنکھيں بھي سينک ليا کرتے تھے اور اپني اسکيم بھي سوچتے رہتے، ليکن ايملي کو تو جج صاحب کي شکل تک سے گھن آتي تھي، چھوٹا سا قد چيچک کے بد نما داغوں سے بھرا ہوا چہرہ اور چياں سي آنکھيں جنہيں ديکھتے ہي نفرت سے منہ پھر ليتي، اس کے دل ميں تو احمد رضا کے سوا کسي کا دھيان بھي نہ آتا تھا، احمد رضا جو مردانہ حسن کي منہ بولتي تصوير لگتا تھا وہ اس کا نکلتا ہوا قد چہرے کے جميل خدو خال اور شجاوت اور حوصلے سے معمور دل موہ لينے والي آنکھيں، يکا يک کچھ دن بيمار رہ کے ايملي کے والد کا انتقال ہوگيا، يوں محلے والوں کے دم رہا سہا لحاظ بھي جاتا رہا، اب وہ کھلم کھلا ايملي کا مذاق کرتے اور جب انہيں معلوم ہوا کہ احمد سے محبت کرتي ہے تو جيسے ان کي مردانگي کو ٹھيس پہنچي، جج صاحب سے سے زيادہ تلملائے ہندو محلے ميں رہنے والي چھوکري اور ايک غير محلے کے آدمي سے عشق لڑائے اور وہ بھي مسلمان ہے، پوچھو کہ بھئي تمہارے محلے ميں کيا مردوں کي کال پڑگئي ہے، جج صاحب نے اسکيم کو اب عملي جامہ پہنانے کي ٹھان لي۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
آخر شہر کے جج تھے بڑے اثر و رسوخ والے آدمي تھے، بھلا يہ کون سي بڑي بات تھي، ايملي اسکول سے نکال دي گئي، اس کا محبوب احمد کچھ دنوں کيلئے اپنے وطن پاکستان گيا ہوا تھا، اور اس کي ماں سخت بيمار تھي، ايملي نے اوشا سے 20 روپے ادھار لئے ماں کيلئے دو اور گھر کا راشن لائي ليکن يہ سب کتنے چلتا، جج صاحب کي عنايت اس کے شامل حال تھي، اس لئے کسي دوسري جگہ نوکري ملنے کي اميد نہ تھي مکان کا کرايہ اور ڈاکڑ کا بل اس کي جواني کي طرح قابو سے باہر ہوتا جارہا تھا، ايملي کا سر چکرا رہا تھا، اس نے اپنے آويزے بيچ ڈالے پھر ساريا بچپن اور آخر ميں رکھي ہوئي دو کرسياں بھي بيچ ديں، ليکن حالات نہ سدھرے نہ ماں کي بيماري نے چھوڑ اور نہ فکروں نے ايملي کو۔
اور آج دو وقت سے ايملي نے کچھ کھايا بھي نہيں تھا، ماں الگ صاحب فراش تھي اتنے ميں جج صاحب آن پہنچے، ايملي رو پڑي جج صاحب۔ چند نوٹ چھوڑ گئے اور يہ کہہ گئے ميں پھر آئوگا، ايملي بيٹھي ان نوٹوں کو تکتي رہي۔۔۔۔۔دوا محبت۔۔۔۔محبت دوا اور بھوک۔ پھر رات آگئي، گہري اور ايملي کي نصب کي طرہ تاريک اور اس ميں احمد کي محبت کي کرن اور ايملي کي ماں کا آخري سانس دونوں ڈوب گئے، اوشا کے روپے ايملي نے واپس کردئيے وہ اوشا سے کھڑے کھڑے بھي بات نہيں کرتي بلکہ کہيں نظر بھي آجائے تو ايملي اس سے نگاہيں چراليتي ہے، اوشا اس کي برہمي کي وجہ سمجھنے سے قاصر ہے اور يہ تھي اور بھي الجھ جاتي جب اوشا ديکھتي کہ اب محلے کا کوئي نوجوان بھي ايملي کے راستے ميں کھڑا نہيں ہوتا، کوئي اس پر آواز نہيں کستا کوئي اسے ديکھ کر سينے پر ہاتھ نہيں رکھتا، برعکس اس کے اب تمام محلے والے اسے اسي قدر عزت کي نظر سے ديکھتے ہيں جس طرح جج صاحب کو۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر بہت معیاری شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, گانے, پاکستان, پسند, لوگ, نفرت, نظر, ماں, محبت, معلوم, انمول, بچوں, جواب, حسن, خدا, دل, رات, راستہ, زندگی, سال, شہر, علاج, عشق, صاف, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|