واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




ایک محبت ایک افسانہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-09-09, 10:38 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,621
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایک محبت ایک افسانہ

ایک محبت ایک افسانہ

اکثر ایسے بھی ہوا کہ تم نے اپنی پسند پر میری مرضی کو قربان کردیا اور میں نے پتہ نہیں کیوں قربان ہونے دیا۔ میں بالوں میں ٹیڑھی مانگ نکالتا تھا لیکن تم نے کہا "مجھے درمیان میں پسند ہے"۔ میں نے کنگھی تمہارے آگے بڑھادی تو تم نے کہا "میں خود نہیں نکالوں گی۔" پھر میری مانگ خودبخود سیدھی نکلنے لگی۔ پر ان بالوں کو حسرت ہی رہی کہ کبھی تمہارے ہاتھوں سے منت پزیر شانہ ہوتے۔ ایک بار جب میں کرائے کی سائیکل لے کر سارا دن ادھر ادھر گھومتا رہا تھا اور شام کو دکان بند ہوگئی تھی اور میں سائیکل لے کر گھر آگیا تھا تو رات کو کھلی ہوئی چاندنی دیکھ کر تمہارا جی چرایا۔ تم سائیکل برآمدے سے باہر گلی میں نکال لے گئیں لیکن چلاتا کون! اس وقت اگر میں نہ ہوتا تو پتہ نہیں تم کتنی دیر ایسے ہی کھڑی رہتیں۔ پھر میں نے ہی تمہیں آگے بٹھا کر گلی کے اس سرے تک سیر کروائی لیکن اونچے نیچے گڑھوں والی زمین پر سائیکل اچھلتی رہی اور میری ٹھوڑی تمہارے سر سے ٹکراتی رہی اور واپسی پر جب میں نے یہ رائے دی کہ دکانوں کی قطار کا چکر کاٹ کر اپنے گھر کے پچھواڑے جا اتریں گے کیونکہ وہ راستہ ہموار تھا تو تم نے خود میری تجویز رد کردی تھی۔ اگر اس طرح ایک بار پھر میری ٹھوڑی تمہاری مانگ کو چھو رہی تھی تو میرا قصور؟ جب تم کالج سے دوپہر کو گھر آتی تھیں تو میں اپنی کھڑکی کھولے ہوئے بیٹھا ہوتا۔ ہمارے گھر کے عین سامنے ایک چھوٹی سی کھائی تھی جسے تم ہمیشہ پھلانگ کر گزرا کرتی تھیں۔ تمہارے ساتھ اور دو تین لڑکیاں بھی ہوتیں مگر وہ کھبی اس طرح نہ گزری تھیں یا تو اس سے کترا جاتیں یا ایک پاؤں اس میں اتار کر دوسرا اگلے کنارے پر رکھ دیتیں۔ میں یہی نظارہ کرنے کے لئیے کھڑکی کے پٹ کھولے رکھتا تھا۔ تھوڑے عرصے بعد وہ کھائی پر ہوگئی لیکن تم نے اپنا انداز نہ بدلا۔ تم اس تازہ ڈھلی ہوئی مٹی پر سے اسی طرح گزرتی رہیں جیسے کھائی پر سے گزرتی تھیں اور وہ نشیب پر ہونے کے باوجود میری کھڑکی بند نہ ہوئی۔ جب میں نےخدا کو ماننا چھوڑ دیا تو اوروں کے ساتھ تمہیں بھی رنج ہوا بھائی جان سے میری لمبی لمبی بحثیں سن کر تم نے مجھ سے پوچھا تھا۔ "آخر آپ خدا کو مانتے کیوں نہیں؟" تو میں نے کہا تھا کہ "اس کے ماننے یہ نہ ماننے سے انسانی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔" تو تم نے جواب دیا تھا کہ "میں تو سمجھتی تھی فلسفہ پڑھنے سے تمہارا دماغ روشن ہوجائے گا۔ پر…" "روشن ہی تو ہوا ہے۔" میں نے کہا تھا "جب وقت…" "وقت اور فاصلہ میں کچھ نہیں سمجھتی۔" تم نے بات کاٹ کر کہا۔ "آج سے خدا کو مانا کرو۔" "لیکن… " "لیکن کچھ نہیں۔ میں جو کہتی ہوں خدا ہے۔" "پر…" "اچھا تو جاکر اپنی کھڑکی بند کرلو۔ سمجھ لو آج سے وہ کھائی پر ہوچکی۔" میں تم سے تو شاید نہ ڈرتا لیکن تمہاری دھمکی سے ڈر گیا اور اس دن سے مجھے ہر شے میں خدا کا ظہور نظر آنے لگا۔

اشفاق احمد مرحوم کے افسانے 'رات بیت رہی ہے' سے اقتباس۔ یہ افسانہ ان کے مجموعے 'ایک محبت سو افسانے' میں شائع ہوا تھا۔
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
عامرشہزاد (09-10-09)
پرانا 09-10-09, 01:26 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


شابا بئی شابا
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 09-10-09, 01:26 AM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


شابا بئی شابا
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 09-10-09, 05:23 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھا ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،
عامرشہزاد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, ٹھوڑی, پسند, نظر, محبت, آج, بھائی, جواب, رات, راستہ, زندگی, سیر, شام


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger