|
|
#16 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیا جی، کتابیں آپکو نیٹ سے تو نہیں ملیں گی لیکن کسی ایسے بک شاپ جو ایم اے اردو کی نصابی کتب سیل کر رھا ھو ضرور مل جائیں گی۔ میرا مقصد ھرگز آپکی دل شکنی کرنا نہیں ھے اور نہ ھی اپنی علمیت جاڑنا بلکہ آپکو درست دوستانہ مشورہ دینا ھے۔ آپ جب بھی کہانی لکھیں پہلی بات یہ ضرور ذھن میں رکھیں کہ آپ نے پڑھنے والے کو ضرور متاثر کرنا ھے کبھی اپنے لئے نہ لکھیں بلکہ دوسروں کو ھنسانے یا رولانے کے لئے لکھیں۔ جو مواد کہانی کا آپکے ذھن میں ھے اس پر سوچیں، آغاز کیسا ھوگا اور انجام کیسا ھوسکتا ھے، الفاظ کی سلیکشن پر بھر پور توجہ دیں اور کہانی کے واقعات کا انتخاب بھی علیحدہ سے کاپی پر لکھ لیں، پھر جس سپیڈ سے کہانی شروع کریں اسی سپیڈ پر اسے ختم کریں کچھ لوگ آغاز سلو کرتے ھیں اور پھر آخر میں تیزی سے انجام کر دیتے ھیں جس سے کہانی کا ردھم متاثر ھوتا ھے، بعض اوقات آپکے ذھن میں انجام کچھ اور ھوتا ھے لیکن کہانی کے مطابق کچھ اور بنتا ھے تو ھمیشہ کہانی کے مطابق انجام کریں اور جو آپ کے ذھن میں ھے اسے کسی دوسری کہانی کے لئے سنبھال دین۔ سعادت حسن منٹو کہتا ھے کہ کہانی کا انجام مصنف کے بس میں نہیں ھوتا کہانی اپنا انجام خود تلاش کرتی ھے۔ انشااللہ آپ کی تحریر آفاقی ھو جائے گی۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام سدید مسعود جی
میں پاکستان میں نہیں ھوں یہاں ویسے بھی اردو کی کتابیں ملنا مشکل ھے کچھ ڈائجست مل جاتے ھیں ادب اور شاعری سے متعلق کتابیں ملنا بہت مشکل ھے ۔۔۔ میں تنقید کو دل پہ نہیں لیتی انسان ساری عمر سیکھتا ھے ساری عمرطالبعلم رھتا ھے جب اس کے دل میں خیال آتا ھے وہ عالم بن گیا اسے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں وہی سے اس کا زوال شروع ھو جاتا ھے میری ایک نئ کہانی شروع ھوئ ھے پاک نیٹ پہ ۔۔۔ کھلے آسمان کے تلے ۔۔۔۔۔۔۔ اس پہ بھی تبصرہ کریں کیسی لگی |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک جامع تبصرہ کروں گا انشااللہ مکمل تحریر پڑھنے کے بعد
|
|
|
|
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام شاہ جی
دیکھتے ھیں آپ کب پوری تحریر پڑھتے ھیں آپ کے تبصرے کا انتظار رھے گا شکریہ |
|
|
|
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیا بہنا شاباش ، زبردست ، کیا بات ہے ، میرے پاس تعریف کے لئیے الفاظ نہیں ، اتنی اچھی کہانی کم ہی نظروں سے گزرتی ہے ،
اس کہانی میں ایک بنیادی نفسیاتی نکتہ پوشیدہ ہے ’’’ جو کچھہ دوسروں کے ساتھہ ہو رہا ہے ہمارے ساتھہ نہیں ہو سکتا ، محلے میں ڈکیتی ہوتی ہے لیکن دل میں چکھہ خوف ہونے کے باوجود ہمیں نہ جانے کیوں یہ یقین ہوتا ہے کہ ایسا ہمارے ساتھہ نہیں ہو سکتا ، یہ اکثریت کی سوچ ہے اور شاید ہم اسے فطری بات بھی کہ سکتے ہیں‘‘‘‘ اب آتے ہیں کہانی کیا جانب ، اس کہانی کا آغاز ہی المیہ ہے اور یاسیت زدہ ماحول میں ایک لڑکی امامہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اس نے ڈاکٹر بننا ہے ، پھر اس کے ارادے کی پختگی کو دکھایا گیا ہے ، اور اسی بات پر شاید سدید بھائی نے کہا کہ انجام کہانی سے مطابقت نہیں رکھتا ، لیکن انتہائی معزرت کے ساتھہ شاید انہوں نے اس پر نہیں سوچا کہ جب کوئی انتہائی انہونا اور سنگین واقع ایک دم سے سامنے آتا ہے تو کچھہ وقت کے لیے تو ہر انسان کی ہمت جواب دے جاتی ہے اس فیز سے نکلنے میں مختلف لوگ مختلف دورانیہ کا وقت لیتے ہیں ، اب کہانی میں بیان کئیے گئے ماحول کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ امامہ جس معاشرے میں رہتی ہے وہاں لڑکی کا پڑھنا ہی ناممکن کی حد تک مشکل ہے ، ایسی صورت میں اس کے سامنے امید کی ایک کرن اس کا سکول ہے ، اور وہ یہ بھی توقع رکھتی ہے کہ اسی سکول سے پڑھ کر اور لڑکیاں بھی ڈاکٹر بنیں گی ، لیکن جب وہ سکول کو تباہ حالت میں دیکھتی ہے تو ایسے میں اسے اپنی ساری میدیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ، میرا جہاں تک مطالعہ ہے ، میرے خیال میں تو اس کہانی کا فطری انجام ہی کچھہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ، ہمیں دیکھنا تو یہ پڑتا ہے نا کہ لکھاری کہنا کیا چاہتا ہے ، اس کہانی میں طالبان کی جانب سے سکول دھماکے سے اڑائے جانے کے فعل کی بابت ایک سوچ ابھارنا ہی تو ہماری بہن کا مقصد تھا اور سدید بھائی میرے خیال میں یہ کہانی اپنے مقصد کو بہترین انداز میںپورا کرتی ہے ، معزرت کے ساتھہ مجھے اس میں کوئی فنی سقم نظر نہیں آیا ، شاباش حیا بہت ہی اچھی کہانی ہے ، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (03-08-09) |
|
|
#22 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ھابیل اور قابیل کے تناظر میں ایک افسانہ لکھا گیا فرق صرف اتنا تھا کہ لکھاری نے قاتل کو مقتول اور مقتول کو قاتل بنا دیا پاک ٹی ھاوس لاھور کبھی ادبی تنقید اور تشریح کا مرکز ھوا کرتا تھا اور حبیب جالب اور دیگر ادبی اقابرین وھاں روز بیٹھا کرتے تھے جب مزکورہ افسانے پر بحث شروع ھوئی تو افسانے کی ھر ایک نے تعریف کی لیکن تاریخی سقم اپنی جگہ قائم رھا اور اسکی کوئی تعریف نہ کر سکا۔ میں ان دنوں ایم اے کا طالب علم تھا چونکہ وہ افسانہ ھمارے کالج کی ایک محترمہ نے لکھا تھا میں نے بحث میں حصہ لیتے ھوئے تاریخی سقم کو افسانے کی خوبی قرار دینے کی کوشش کی تو سارا ھال مجھ پر ھنس دیا اور ڈاکڑ سجاد باقر رضوی نے کہا جو ان دنوں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ادبی تنقید کے ھیڈ تھے بیٹا پہلے تنقید کی کچھ کتا بیں پڑھ لو پھر پاک ٹی ھاوس آنا ۔ تو شاہ جی، اصل میں آپ نے بات اور حوالے سے کی ھے اور میں نے اور آپ کی تعریف جائز ھے اور اس حوالے سے میں بھی آپکا ھم نوا ھوں ۔
|
|
|
|
| سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (03-08-09) |
|
|
#23 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (24-08-09) |
|
|
#24 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی شاہ جی،
پاک ٹی ھاوس کی تاریخ بہت پرانی ھے اب تو ختم کر دیا گیا یہاں پطرس بخاری، حبیب جالب۔ ڈاکٹر تاثیر ، وزیر آغا اور اسی قسم کے دیگر ادبی اقابرین بیٹھا کرتے تھا۔ میں ان لوگوں کی زندگی میں وھاں نہیں گیا 1990سے لے کر کچھ سالوں بعد تک وھاں جانا رھا اور اس دور میں لاھور کے جید ادبی لوگ وھاں آیا کرتے تھے جن میں سجاد باقر رضوی۔ ڈاکڑ سلیم اختر، پروین شاکر، احمد ندیم قاسمی وغیرہ ۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ھمیں سینیر مانا۔ باقی جناب رائے رائے ھوتی ھے حرف آخر نہیں آپ نے ھمیں 90 سال کا بار ریش ادبی محقق بنا دیا تو یہ آپ کی رائے ھے اور ھمیں بہت پسند آئی۔ اللہ آپکو خوش رکھے۔ سد ید |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہا ہا ہا ، سدید بھائی ایسا بھی نہیں کہ ہم نے آپ کو بوڑھا بنا دیا ہو
ویسے سچ بتائوں تو اپنے مراسلے کو دوبارہ پڑھا تاثر کچھہ ایسا ہی دیتا ہے |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | ماورا شاہ (25-08-09) |
|
|
#26 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ شاہ جی، بات وہ سچی ھوتی ھے جو دل کہے میرا خیال ھےکہ ھمیں آپ کے دل کی بات مان لینی چاہیے
مضمحل ھو گئے قوا ء غالب اب عناصر میں وہ عتادال کہاں |
|
|
|
| سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (25-08-09) |
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے ارے سدید بھائی مرزا جی نے تو یہ شعر انتہائے بڑھاپہ پر کہا ہو گا اور آپ تو ابھی ماشااللہ جوان ہیں کیوں ناشکری کرتے ہیں ،
|
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | سد ید مسعو د (31-08-09) |
![]() |
| Tags |
| کالج, کتابوں, پہچان, پسند, ورڈ, قید, قرآن, نفرت, نماز, مکمل, موت, ماں, بچوں, تعلیم, جلد, دھماکہ, دیکھو, درخواست, دعا, طالبان, عورت, عبادت, غزل, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|