| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاعری، گلوکاری کی طرح عشق کرنا بھی فنونٍ لطیفہ میں سے ہے۔ دنیا میں تین قسم کے عاشق ہیں۔ ایک وہ جو خود کو عاشق کہتے ہیں۔ دوسرے وہ جنہیں لوگ عاشق کہتے ہیں اور تیسرے وہ جو عاشق ہوتے ہیں۔ میرا دوست "ف" کہتا ہے۔ عاشق دراصل آشک ہے کہ وہ اتنا محبوب سے پیار نہیں کرتا جتنا شک کرتا ہے۔
ہمارے ہاں جتنے بھی اچھے عاشق ملتے ہیں وہ کتابوں میں ہیں یا قبرستانوں میں۔ کسی عاشق کے بارے میں جاننے کے لئے کہ وہ سچا عاشق ہے یا نہیں۔ اس سے یہ پوچھو کہ کیا تم سچے عاشق ہو۔ اگر وہ اپنے منہ سے خود کو سچا کہے تو سمجھ لیں وہ جھوٹا ہے اور اگر وہ کہتا ہے نہیں تو بات واضح ہے۔ کامیاب عاشق وہ ہوتا ہے جو عشق میں ناکام ہو کیونکہ جو کامیاب ہو جائے وہ عاشق نہیں خاوند ہوتا ہے۔ شادی سے پہلے وہ بڑھ کر محبوبہ کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنی محبت کے لیے۔ جبکہ شادی کے بعد وہ بڑھ کر بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لئے۔ جو شخص یہ کہے کہ اس کی بیوی نے کبھی حکم عدولی نہیں کی، یہ وہی شخص ہے جس نے کبھی اپنی بیوی کو حکم ہی نہیں دیا۔ ویسے بھی محبوبہ میں سب سے بڑی خوبی یہی ہوتی ہے کہ بندے کو اسے طلاق نہیں دینی پڑتی۔ میرا دوست "ف" کہتا ہے عاشق ہونا اور بات ہے اور عاشق لگنا اور بات۔ حالانکہ عاشق لگنا کون سا مشکل ہے۔ ایک ہفتہ پانی بند رہے اور نائی دھوبی سے بندہ پرہیز کرے تو بڑے سے بڑے عاشق کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ سچا عاشق وہ ہوتا ہے جو جتنی بار عشق کرتا ہے، سچا کرتا ہے۔ کہتے ہیں عاشق خوبصورت نہیں ہوتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ عاشق نہیں ہوتے، لوگ ان پر عاشق ہوتے ہیں۔ دوسرے کو پریشان کرنے کے دو ہی طریقے ہیں یا تو اس کی ان خامیوں کا ذکر کرو جو اس میں ہیں یا اس کی خوبیوں کا ذکر کرو جو اس میں نہیں ہیں اور یہی عاشق کرتا ہے وہ محبوب کا نقشہ کھینچ رہا ہو تو لگتا ہے محبوب کی کھینچائی کر رہا ہے۔ جیسے ناگن زلفیں یعنی بالوں کی جگہ لٹکے ہوئے سانپ، سرو قد یعنی جوں جوں اوپر سے نیچے آتا پھیلتا جاتا ہے، چاند چہرہ یعنی چاند کی طرح گڑھوں اور داغ دھبوں والا، پھر ہرنی جیسی چال یعنی چارپایوں کی طرح چلنا۔ شاید وہ اسی لیے کہتا ہے کہ اس جیسا محبوب پوری دنیا میں نہیں۔ عاشق نے ہمیشہ محبوب کو ملزم سمجھا اس پر اپنے اسپیئر پارٹس کی چوری کا الزام لگایا۔ دل جگر نیند وغیرہ کی گمشدگی کا پرچہ بھی محبوب کے نام کٹوایا۔ یہاں تک کہ اس کو سرِعام قاتل کہا۔ اس دنیا میں جلسے جلوسوں کا بانی بھی عاشق ہی ہے کہ اس نے سب سے پہلے محبوبہ کا جلوس نکالا۔ عاشق، شاعر اور پاگل تینوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ خود کسی پر اعتبار نہیں کرتے۔ اس دنیا میں جس شخص کی بدولت عاشق کی تھوڑی بہت عزت ہے وہ رقیب ہے۔ جب رقیب نہیں رہتا تو اچھے خاصے عاشق اور محبوب میاں بیوی بن جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ رقیب اور عاشق کی بھی نہیں بنتی حالانکہ رقیب ہی تو دنیا کا واحد شخص ہوتا ہے جس سے اس کا اتفاق رائے ہوتا ہے جسے عاشق پسند کرتا ہے وہ بھی اسے پسند کرتا ہے جسے یہ منتخب کرتا ہے وہی اس کا انتخاب ہوتا ہے یہی نہیں وہ بھی اس جان پر دیتا ہے جس پر عاشق۔ بلکہ سچا اور حقیقی عشق تو ہوتا ہی وہ ہے جس میں رقیب ہو۔ اس دنیا کا پہلا جرم ایک عاشق نے اپنے بھائی کا قتل کر کے گیا۔ یوں عشق اور جرم جڑواں بھائی ہیں۔ اس دنیا کے آدھے جھوٹ ناکام عاشقوں اور کامیاب عاشقوں یعنی خاوندوں نے بولے ہیں۔ عاشق وہ واحد فرد ہے جو محبوب کی ترقی نہیں چاہتا کہ کہیں یہ اس کی پہنچ سے دور نہ ہوجائے ایک دوست عاشق بن سکتا ہے لیکن جو ایک بار عاشق بن جائے وہ پھر کبھی دوست نہیں بن سکتا۔ عشق اور لڑائی میں سب جائز ہے اس سے اندازہ لگا لیں کہ عشق کتنا جائز ہے۔ عشق وہ مرض ہے جس کا جوانی لیوا حملہ پہلی عمر میں ہوتا ہے جوں جوں عمر بڑھتی ہے یہ مرض گھٹتا جاتا ہے یوں بھی بوڑھا عاشق جوان عاشق سے زیادہ اچھا ہوتا ہے کہ بوڑھا عاشق صرف آپ کا حال خراب کرتا ہے اور جوان عاشق تو مستقبل بھی خراب کر دیتا ہے۔ اس مرض سے نئی نسل کو بیزار کرنے کے لیے میری مرضی یہ ہے کہ اسے نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ مرد یہ کہہ کر عورت کا دل جیت سکتا ہے کہ میں تم سے عشق کرتا ہوں۔ بشرطیکہ وہ واقعی اس سے عشق نہ کرتا ہو۔ محبوبہ اس عاشق کو تو معاف کر دیتی ہے جو موقع سے غلط فائدہ اٹھائے مگر اس کو معاف نہیں کرتی جو موقع سے فائدہ نہ اٹھائے۔ دولت سے محبت نہیں ملتی اور غربت میں محبوبہ نہیں ملتی۔ تحریر ڈاکٹر یونس بٹ
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
منتظمین بھائی کی تجویز پر
موہن جوداڑو،حروف کو پڑھنےکی کوشش |
|
|
|
| عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (21-10-10) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
منتظمین بھائی کی تجویز پر
موہن جوداڑو،حروف کو پڑھنےکی کوشش |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی
اپنے آپ پر ہنسی آرہی ہے |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,842
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,012 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ڈاکٹر یونس بٹ کمال لکھاری ہیں
اچھی شئرنگ کا شکریہ دانی بھائی |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,281
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شئیرنگ ہے ۔
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکر یہ
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کتابوں, پاگل, پسند, لوگ, لطیفہ, نیند, موقع, مقابلہ, محبت, الزام, بھائی, جیت, جرم, حکم, دوست, دل, شخص, طلاق, عورت, عزت, عشق, غلط, غربت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|