| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ذکر جمیل' 96 بزرگان دین کے احوال و اقوال
عبیداللہ ممتاز میرے پیش نظر کتاب ''ذکر جمیل'' آٹھ سو سال قبل شیخ فرید الدین عطار نے جو خود بھی اللہ کے بہت مقرب بندے تھے' فارسی زبان میں ترتیب دی تھی۔انہوں نے چھیانوے (96 ) نامور اولیائے کرام کے احوال و اقوال اپنی کتاب میں یکجا کر دیئے تھے۔ اس شہرہ آفاق کتاب کا دنیا کی بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے ۔جب کہ اب سے سوا سو سال پہلے محمد مرزا جان دہلوی نے اردو ترجمہ بھی کیا تھا۔ ''ذکر جمیل'' 756۔صفحات پر محیط اور خوبصورت نیلے مضبوط کارڈ کوور پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کو دوست پبلی کیشنز نے اسلام آباد' لاہور اور کراچی سے بیک وقت شائع کیا ہے ۔زیر نظر کتاب پر پانچ سو تیس روپے کی رقم بطور قیمت درج ہے ۔ذکر جمیل میں شامل چھیانوے (96) اولیائے کرام میں حضرت امام جعفر صادق حضرت اویس قرنی 'حضرت حسن بصری 'حضرت مالک بن دینار 'حضرت رابعہ بصری ' حضرت ابراہیم ادہم ' حضرت ذوالنون مصری 'حضرت بایزید بسطامی ' حضرت امام ابو حنیفہ 'حضرت امام شافعی ' حضرت امام احمد بن حنبل ' حضرت دائود طائی ' حضرت جید بغدادی اور حضرت حسین منصور حلاّج بھی شامل ہیں۔ ''ذکر جمیل'' میں شامل 96 ۔اولیائے کرام میں سے ہر ایک کے تذکرے میں ایسے ایسے حالات و واقعات درج ہیں جن کے بارے میں عام شخص جو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو' شاید تصور بھی نہ کرسکتا ہو' اور یہ تمام واقعات کسی نہ کسی طور ہر طبقہ زندگی کے مردو زن کے لئے لازماً باعث نصیحت اور ذریعہ تربیت بنتے ہیں۔''ذکر جمیل'' میں شامل اولیائے کرام کے بہت سے دل دہلا دینے والے واقعات قلم سے نکل کر زینت قرطاس بننے کے لئے بے چین ہوا چاہتے ہیں لیکن یہ عاجز بہت ضبط کرتے ہوئے ایک بھی واقعہ شامل تحریر نہیں کر رہا کہ ایسا کرنا مجھ پر دیگر اولیاء اللہ اور ان کے واقعات کے عدم تذکرے کے الزام کا باعث نہ بن جائے ۔ایک نمایاں خوبی ''ذکر جمیل'' کی یہ بھی ہے کہ ہر ولی اللہ کے واقعات و حالات کے بعد ان کے اہم اقوال بھی شامل اشاعت ہیں۔صرف توجہ سے اور اس نیت سے پڑھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے ''ذکر جمیل'' سے کچھ حاصل کرنا ہے تو مجھے یقین واثق ہے کہ اس کتاب کا کوئی بھی قاری اس سے روحانی فیض حاصل کئے بغیر اور خود میں مثبت تبدیلی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہمارے ملک کے بے بدل مصنف اور مولف ڈاکٹر محمود الرحمن جو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بطور صدر شعبہ دفتری اردو خدمات انجام دے رہے ہیں اور درجنوں نہایت اہم نثری اور منظوم کتب تحریر و ترتیب دے چکے اور تراجم کرچکے ہیں۔ڈاکٹر محمود الرحمن سے ''ذکر جمیل'' کو سلیس اردو میں منتقل کرنے کی خواہش اس لئے کی گئی کہ اب سے سوا سوسال پہلے کی اردو کو سمجھنے والا آج کے دور میں لاکھوں میں ایک بھی ملنا مشکل تھا۔کتاب پڑھ کر بلا خوف تردید یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ الحمداللہ! ڈاکٹر محمود الرحمن نے جس اہم کام کا بیڑہ اٹھایا تھا اسے بطریق احسن اس طرح پائیہ تکمیل کو پہنچایا کہ اب ''ذکر جمیل'' اردو زبان کے ہر اس قاری کی دسترس میں آچکی ہے جو اسے پڑھنے کی خواہش رکھتا ہو۔۔ زیر نظر کتاب ''ذکر جمیل'' کا مطالعہ کیوں کیا جائے ؟اس ضمن میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔مالک کائنات نے بابا آدم اور اماں حوا کو اس روئے زمین پر بھیجنے کے بعد جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی وہ تھی مثالی انسانی معاشرے کا قیام۔ایسا معاشرہ جہاں سکھ اور چین ہو' انسان ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سے صرف آگاہ ہی نہ ہوں صدق دل سے عمل پیرا بھی ہوں لیکن ایسے معاشرے کا قیام خوابوں اور کتابوں میں تو ممکن ہے ۔جیتی جاگتی' حقیقی زندگی میں ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے اور مشکل بھی اس لئے کہ اگر انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ جب کبھی جسمانی' مالی یا اختیارات کی طاقت دوسرے انسان یا گروہ سے زیادہ رکھتا ہے تو اس کے اندر کا حیوان اس پر غلبہ پانے کے لئے تگ و دو میں لگ جاتا ہے اور انسان کے اس ''مینو فیکچرل فالٹ'' سے اس کا ازلی دشمن ابلیس بھی بروقت اور بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے تاک میں لگ جاتا ہے تاکہ خود کو اپنے موقف میں سچا ثابت کرسکے کہ حضرت آدم کی تخلیق کے وقت میں نہ کہتا تھا کہ ''یہ زمین میں فساد پیداکرے گا''۔ اس حقیقت سے ہر کس و ناکس بخوبی آگاہ ہے کہ سائنسدان جو بھی مشینری (اس میں فرج سے لے کر خلائی شٹل تک سبھی شامل ہیں) بناتا ہے۔ اسے اپنی تیار کردہ چیز کی تمام تر خوبیاں اور خامیاں ' جو اس میں پائی جاتی ہیں ' اچھی طرح معلوم ہوتی ہیں اسی لئے ہر چیز کی پیکنگ میں ہمیں اس چیز کے ڈائیاگرام' اس چیز کے محفوظ استعمال کا طریقہ کار اور وہ اگر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگے تو اس کی درستگی کے لئے رہنمائی پر مشتمل لٹریچر ضرور ملتا ہے۔کُل کائنات اورخود حضرت آدم کے خالق کو بھی اپنی اس تخلیق کی تمام تر کمزوریوں کا علم تھا یہی بنیادی وجہ بنی اس دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث کئے جانے کی ' آسمانی صحیفے اور کتابیں نازل کرنے کی۔ حتیٰ کہ آخری نبیۖ سرور کائنات رحمت العالمینۖ کو مبعوث کرکے اور قرآن مجید نازل کرکے اس سلسلے کی انتہا کردی گئی۔ اس طرح ثابت ہوا کہ قرآن و حدیث ہی حضرت ا نسان(یہاں صرف مسلمان مراد نہیں ہیں) کی اصلاح کے لئے خالق کا تیار کردہ بنیادی لیکن حتمی لٹریچر ہے۔کسی بھی روز شائع ہونے والا کسی بھی زبان اور علاقے کا کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لیجئے۔اس میں ہمیں دو چار ایسے واقعات ضرور رپورٹ ہوئے ملتے ہیں 'جو ثابت کرتے ہیں کہ کفار مکہ ہی نہیں ان سے بدر جہا مزید بدتر مخلوق( کیونکہ کفار مکہ انکار توحید اور انکار نبوتۖ کے باوجود حضورۖ کے بطور ایک کے صادق و امین ہونے کے منکر کبھی نہ ہوتے تھے )۔شکل انسانی میں آج بھی ہم میں موجود ہے اور شاید اعلان اور آغاز قیامت تک موجود رہے گی۔ انسان اعلیٰ معاشرتی و مذہبی اقدار سے کیوں اور کب گرتا ہے۔ اس کے لئے اس قدر جواب ہی کافی ہے کہ جب ہم اپنے وجود کی حقیقت اور اس دنیا میں بھیجے جانے کے جواز سے آگاہ ہوں گے۔جب اللہ تعالیٰ کی اصل طاقت اور اختیار و وسائل کا اندازہ کریں گے۔(اگرچہ جس کا حقیقی احاطہ عقل انسانی کے بس کی بات قطعاً نہیں ہے) آئے دن اس دنیا سے روانہ ہوکر سفر آخرت اختیار کرنے والے انسانوں کو اپنے ہاتھوں سے قبروں میں اتارتے اور مٹی کے حوالے کرتے ہوئے خودکے بارے میں بھی یقین کریںگے کہ یہی وقت ہم سے بھی تیزی کے ساتھ قریب تر ہوا چاہتا ہے۔تب تو مسئلہ ہی حل ہوجائے گا۔انسان اپنے عزیز و اقارب' پڑوسیوں' دوست احباب' افسر و ماتحت ہر کسی کے ساتھ نہایت خلوص دل اور تواضع کے ساتھ پیش آئے گا اور یوں ہمارا معاشرہ جنت ارضی بن جائے گا۔ حضرت انسان کو درج بالا حقیقتوں کا یقین دلانے اور اس کے دل و دماغ میں خوف خدا پیدا کرنے کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے شروع کیا جانے والا کئی ہزار سال پر مشتمل سلسلہ 'ختم نبوتۖ کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوگیا لیکن اصلاح احوال کی ضرورت جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں' قیام تک جوں کی توں بلکہ روز افزوں رہے گی۔اسی ضرورت کے پیش نظر اللہ تبارک و تعالیٰ نے علمائے کرام 'مشائخ اولیاء ابدال اور قطب بھیجے جو تعمیر کردار' تصوف ' محبت اور انسان دوستی کا درس دیتے اور صرف عوام کی اصلاح نہ فرماتے بلکہ ظالم اور جابر بادشاہوںکی تطہیر بھی فرماتے تھے۔ ''ذکر جمیل'' کی بنیادی خوبی چند الفاظ میں یہ بیان کی جاسکتی ہے کہ ہر ولی اللہ کا احوال اور ان کے اقوال دیگر سے مختلف لیکن منطقی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اس کتاب کو سمجھنے کی حیثیت سے جو بھی پڑھے گا' ''ذکر جمیل'' اس کی روح میں سرائیت کر جائے گی اور اس کا طرز زندگی ہی بدل کر رکھ دے گی اگر یہ عمل جاری رہا اور معاشرے کے دس فیصد لوگ بھی ذکر جمیل کے متاثرین میں شامل ہوگئے تو مثالی اور انسان دوست معاشرے کے قیام کی تحریک کو کوئی روک نہ سکے گا۔یقیناً یہ کتاب ہر عام و خاص کی بنیادی روحانی ضرورت ہے۔اسے ہر گھر اور ہر لائبریری کی زینت بننا ہی چاہئے کیونکہ انسان کے اجزائے ترکیبی دو ہی ہیں ایک مٹی یعنی جسم جس کی غذا مٹی ہی سے حاصل ہوتی ہے۔دوسری روح جو آسمان سے آتی ہے اور اس کو صحتمند اور توانا رکھنا بھی ازحد ضروری ہے اور روح کی غذا ذکراللہ ' ذکر رسول اللہ اور تذکرة الاولیا ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,444
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کارڈ, کتابوں, کراچی, واقعات, قرآن, لوگ, چین, نظر, مکہ, منتقل, ممکن, مجید, محبت, معلوم, معاشرہ, آج, الزام, اردو, اسلام, اعلیٰ, توحید, حدیث, خدا, دوست, عقل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|