| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اکتوبر 1947 کو ریاست کشمیر کے ہندو مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ ریارست کے الحاق کا اعلان کردیا اور دوسرے ہی دن ہندوستان کی فوجیں کشمیر میں داخل ہوگئیں۔ اس بات کی اطلاع ملتے ہی گلگت کے عوام نے پرچم آزادی بلند کیا اور ان کی درخواست پر حکومت پاکستان نے علاقے کے نظم و نسق کے لیے ایک پولیٹیکل ایجنٹ بھیج دیا۔ اس کے ساتھ ہی پونچھ اور میر پور کے علاقے میں آزاد کشمیر کی ریاست قائم ہوگئی۔
بری فوج کے ساتھ ہندوستان کی فضائیہ نے بھی آزاد کشمیر کے مجاہدین پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا اور گلگت کا محاصرہ کرلیا گیا تاکہ یہ لوگ اپنےآپکو ہندوستان کے حوالے کردیں۔ اس وقت تک پاکستان کے حصے میں آنے والا سامان زیادہ تر ہندوستان میں ہی پھنسا ہوا تھا۔ پاک فضائیہ کے پاس اس وقت صرف 16 لڑاکا طیارے تھے جبکہ ہندوستان کے پاس کل 68 لڑاکا طیارے تھے۔ گلگت کے تمام علاقے اور آزاد کشمیر کے مجاہدین کے پاس رسد کی بے حد کمی تھی اور ان کو رسد پہنچانے کا فقط یہی ایک طریقہ تھا کہ ان کی ضرورت کی اشیاء کو ہوائی جہاز سے ان کے علاقے میں گرایا جائے۔ ان دنوں پاک فضائیہ کے پاس صرف دو ڈکوٹا جہاز پرواز کے قابل تھے۔ مدد کی درخواست ملتے ہی ان میں سے ایک ڈکوٹا جہاز کو رسالپور روانہ کردیا گیا۔ سپلائی گرانے کا جو کام اس جہاز کے عملے کو سونپا گیا وہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ جہاز دس ہزار فٹ کی بلندی سے اونچا پرواز نہیں کرسکتا تھا، اس لیے یہ مجاہدین کے علاقے میں واقع بلند و بالا پہاڑوں کے اوپر پرواز کرنے سے قاصر تھا لیکن 250،000 مجاہدین کو بے یار و مدد گار چھوڑا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ ڈکوٹا جہاز کے لیے چلاس، بنجی، گلگت اور سکردو سپلائی گرانے کا صرف یہی راستہ تھا کہ جہاز 17000 فٹ پہاڑوں کے درمیان وادی انڈس میں دریائے سندھ کے اوپر پرواز کرے۔ اس راستے پر جہاز کے لیے راستہ اتنا تنگ تھا کہ موسم خراب ہونے کی صورت میں جہاز کے لیے اس محدود اور تنگ جگہ میں مڑنا اور واپس آنا قطعی محال تھا اور خدانخوستہ کسی ہنگامی حالت میں لینڈ کرنے کے لیے اس جگہ ہموار زمین کا ایک چپہ بھی میسر نہ تھا۔ ان جغرافیائی اور موسمیاتی خطرات کے ساتھ ساتھ ہندوستانی لڑاکا جہازوں سے مدبھیڑ کا بھی امکان موجود تھا۔ سپلائی گرانے کے لیے پہلی پرواز رسالپور سے دسمبر 1947 میں بھیجی گئی۔ جہاز میں چاول، گندم اور چینی کی ایک ایک من کی بوریاں رکھی تھیں۔ یہ جہاز کشمیری مجاہدین کے مورچوں کے قریب سامان رسد گرا کر کامیابی سے بہ خیریت واپس آگیا۔ اس کے بعد تو ایسی پروازوں کا تانتا لگ گیا۔ سپلائی گرانے کا عمل تمام موسم سرما جاری رہا اور 15 اپریل 1948 کو ختم ہوا۔ اس کے بعد اکتوبر 1948 سے یہ سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔ 4 نومبر 1948 کو فلائنگ افسر مختار احمد ڈوگر سکردو کے قریب سپلائی گرا کر ڈکوٹا جہاز میں واپس آرہے تھے کہ چلاس کے قریب ان کا آمنا سامنا ہندوستانی فضائیہ کے دو (Tempest) لڑاکا جہازوں سے ہوگیا۔ مختار ڈوگر کے ساتھ جہاز میں فلائنگ افسر الفرڈ جگ جیون، پائلٹ افسر منیر، سارجنٹ محسن اور آرمی کے نائک محمد دین تھے۔ چلاس کے قریب وادی انڈس کوئی 4 یا 5 میل چوڑی ہے اور یہاں پر ہندوستانی جہازوں کے لیے حملہ کرنے کے لیے پینترا بدلنا بہت آسان تھا۔ شکار کو قابو میں دیکھ کر ایک لڑاکا جہاز کے پائلٹ نے مختار ڈوگر کو نزدیک ترین ہندوستانی ایئر فیلڈ پر اترنے کا حکم وائر لیس پر دیا۔ مختار ڈوگر کوئی جواب دیے بغیر جہاز کو نیچے اڑاتا ہوا ، دونوں انجنوں کی پوری طاقت استعمال کرتے ہوئے وادی کے تنگ حصے کی طرف پرواز کرتا رہا۔ دشمن نے تین دفعہ حملہ کرنے کی وارننگ دی اور اس کے بعد ایک لڑاکا جہاز ہوا میں بلند ہوا اور 20 ملی میٹر کی گولیوں سے ڈکوٹا جہاز کو چھلنی کردیا۔ اس حملے کے نتیجے میں نائک محمد دین ہلاک اور جگ جیون کا بازو زخمی ہوگیا۔ اب مختار ڈوگر نے سارجنٹ محسن سے کہا کہ وہ دشمن کے دونوں جہازوں پر نظر رکھے اور جونہی ان میں سے کوئی پیچھے سے حملہ کرنے کے لیے آئے تو وہ ان کو پاؤں سے ٹھڈا ماردیے۔ اس کے بعد دشمن نے تین بار اور حملہ کردیا اور ہر بار مختار ڈوگر نے بڑی پھرتی سے جہاز کا رخ بدل کر دشمن کے ہر وار کو خالی کرگیا۔ اب ڈکوٹا جہاز وادی انڈس کے انتہائی تنگ حصے میں پہنچ چکا تھا جہاں دشمن کے جہاز کا گھسنا محال تھا۔ یہاں پہنچ کر مختار ڈوگر نے وائر لیس پر پہلی بار حملہ آوروں کو مخاطب کرکے (غالباً پنجابی میں) کہا۔ "لالہ جی وہ وقت گذر گیا جب تم میرا کچھ بگاڑ سکتے تھے۔" اس کے جواب میں ہندوستانی حملہ آوروں نے جہاز کے ونگ کی اسمارٹ جنبش سےمختار ڈوگر کو سیلوٹ کیا اور اپنے اڈے کا رخ کرکے واپس چلے گئے۔ دشمن کا اس بہادری اور جرات سے مقابلہ کرنے پر فلائنگ افسر مختار احمد ڈوگر کو ستارہ جرات کا اعزاز دیا گیا |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بہت خوب
![]() اے وطن کے سجیلے جوانوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت خوب دانی بھائی، بہت اچھی تحریر ہے۔
اس مشن پر حسینی نے ایک خوبصورت پینٹنگ بنائی ہے۔ گروپ کیپٹن سید مسعود اختر حسینی، پاک فضائیہ میں کام کرنے کے علاوہ پاک فضائیہ کے لیے پینٹنگز بھی بناتے ہیں۔ A PIONEER PROVES HIS METTLE |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا | shafresha (23-01-10), عدنان دانی (23-01-10) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
دانی بھائی بہت عمدہ شئیرنگ ہے
|
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | عدنان دانی (23-01-10) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پسند کرنے کا شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 511
کمائي: 32,458
شکریہ: 313
413 مراسلہ میں 1,193 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ما شا اللہ ۔۔۔۔۔ بہت اچھی شیٕئرنگ ہے
اس واقعہ سے پاک فضائیہ کے شاہینوں کی دھاک روزِ اول سے ہی ہندوستانی پائلٹوں کے دلوں پر بیٹھ گئی اور پھر وہ کبھی بھی مکمل خود اعتمادی کے ساتھ پاک فضائیہ کا سامنا نہ کر پائے ۔۔۔۔۔ لیکن جناب یہ جو تصویر آپ نے ساتھ لگا رکھی ہے ۔۔۔۔۔ سرِ ورق پر ۔۔۔۔۔ یہ ڈوگر کی تو نہیں ہے ذرا درستی فرما لیں ۔۔۔۔۔ تاکہ تاریخ کا ریکارڈ درست رہے ۔۔۔۔۔ شکریہ |
|
|
|
| Ajmal Anjum کا شکریہ ادا کیا گیا | عدنان دانی (23-03-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عدنان بھائی بہت اچھی شئیرنگ ہے
|
|
|
|
| عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا گیا | عدنان دانی (23-03-10) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پسند کرنے کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| 1947, ہندو, کرے۔, پہلی, پنجابی, پاک, پاکستان, وقت, لوگ, نظر, مقابلہ, آزادی, احمد, استعمال, بے, جواب, حکم, دیکھ, درخواست, راستہ, شروع, عوام, علاقے, عملے, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد | کنعان | دیس ہوئے پردیس | 4 | 13-12-09 12:55 AM |
| جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو | ابن جلال | خبریں | 0 | 12-10-08 12:03 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 09:45 PM |
| ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: | پاکستانی | خبریں | 0 | 19-08-07 02:17 PM |
| السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے | Zullu230 | تعارف | 9 | 21-07-07 10:59 PM |